View RSS Feed

اسی کو "وصل" کہتے ھیں

محبت زہر کھا کر آئی تھی کیا

Rate this Entry
یہ پیہم تلخ کامی سی رہی کیا
محبت زہر کھا کر آئی تھی کیا


مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا



شکستِ اعتمادِ ذات کے وقت
قیامت آ رہی تھی، آ گئی کیا

مجھے شکوہ نہیں بس پوچھنا ہے
یہ تم ہنستی ہو، اپنی ہی ہنسی کیا

ہمیں شکوہ نہیں، ایک دوسرے سے
منانا چاہیے اس پر خوشی کیا

پڑے ہیں ایک گوشے میں گماں کے
بھلا ہم کیا، ہماری زندگی کیا

میں رخصت ہو رہا ہوں، پر تمہاری
اداسی ہوگئی ہے ملتوی کیا

میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں
فقط کچھ دوست ہیں، اور دوست بھی کیا

محبت میں ہمیں پاسِ انا تھا
بدن کی اشتہا صادق نہ تھی کیا

نہیں رشتہ سموچا زندگی سے
نجانے ہم میں ہے اپنی کمی کیا

ابھی ہونے کی باتیں ہیں، سو کر لو
ابھی تو کچھ نہیں ہونا، ابھی کیا

یہی پوچھا کِیا میں آج دن بھر
ہر اک انسان کو روٹی ملی کیا

یہ ربطِ بےشکایت اور یہ میں
جو شے سینے میں تھی، وہ بجھ گئی کیا

(جون ایلیاء)

Submit "محبت زہر کھا کر آئی تھی کیا" to Digg Submit "محبت زہر کھا کر آئی تھی کیا" to del.icio.us Submit "محبت زہر کھا کر آئی تھی کیا" to StumbleUpon Submit "محبت زہر کھا کر آئی تھی کیا" to Google

Comments

  1. Rose's Avatar
    عمدہ انتخاب ہے عمران بھائی ۔۔۔
  2. Trueman's Avatar
    یہی پوچھا کِیا میں آج دن بھر
    ہر اک انسان کو روٹی ملی کیا

    عمدہ انتخاب