بے تکی باتیں

ساتھ برسوں رہ کے بھی وہ مجھ سے انجانے رہے

Rate this Entry

دل رہے سالم ، نہ اہلِ دل کے خُم خانے رہے
آنسوؤں سے خالی آنکھوں کے یہ پیمانے رہے

کر تو لِیں آباد ہم نے سجدہ گاہیں بے شمار
اب تلک پنہاں دلوں میں کچھ صنم خانے رہے

چند لمحے کو رکا تھا کاروانِ اہلِ شوق
مدتوں لیکن زباں زد ان کے افسانے رہے

غم پروئے ہیں زمانے بھر کے دل میں اِس طرح
جس طرح یکجا کسی تسبیح کے دانے رہے

کیوں نہ ہم قربان جائیں اس تغافل پر فرید
ساتھ برسوں رہ کے بھی وہ مجھ سے انجانے رہے

فرید ندوی

Submit "ساتھ برسوں رہ کے بھی وہ مجھ سے انجانے رہے" to Digg Submit "ساتھ برسوں رہ کے بھی وہ مجھ سے انجانے رہے" to del.icio.us Submit "ساتھ برسوں رہ کے بھی وہ مجھ سے انجانے رہے" to StumbleUpon Submit "ساتھ برسوں رہ کے بھی وہ مجھ سے انجانے رہے" to Google

Categories
کلام فرید

Comments

  1. Kainat's Avatar
    کر تو لِیں آباد ہم نے سجدہ گاہیں بے شمار
    اب تلک پنہاں دلوں میں کچھ صنم خانے رہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    واہ ۔۔۔ بہت خوب،
    ۔۔۔۔۔۔

  2. Rose's Avatar
    عمدہ انتخاب ہے۔
  3. Sabih's Avatar
    Quote Originally Posted by Rose
    عمدہ انتخاب ہے۔
    السلام علیکم
    توبہ کریں روز سس
    اس غزل نے ہی تو مجھے خسرو بھائی کا پیڈسٹل فین بنا دیا تھا۔
    فرید ندوی ان کا قلمی نیم رہا تھا شاید۔
  4. Rubab's Avatar
    چند لمحے کو رکا تھا کاروانِ اہلِ شوق
    مدتوں لیکن زباں زد ان کے افسانے رہے

    بہت خوب خسرو بھائی