View RSS Feed

Trueman

اب پھول بھی زخموں کی دہائی نہیں دیتا

Rate this Entry
اب پھول بھی زخموں کی دہائی نہیں دیتا
اب نالۂ بلبل بھی سنائی نہیں دیتا

اب تو یہ اندھیرے مری جاں میں اتر آئے
اب تو مجھے سورج بھی دکھائی نہیں دیتا

شیشے میں اتاری گئیں سورج کی شعاعیں
اب ہاتھ کو بھی ہاتھ سجائی نہیں دیتا

کیسے ہو ! مری تو انا اب تک ہے سلامت
میں تو بتوں کو شرفِ خدائی نہیں دیتا

وہ مسندِ گل پر تنے بیٹھے ہیں، انہیں تو
نقش سرِ دیوار دکھائی نہیں دیتا

ہر عہد کا فرعون نیا ہوتا ہے لیکن
ہر عہد کا موسیٰ تو دکھائی نہیں دیتا

لگتا ہے سرِ عام کہیں سچ ہی کہہ بیٹھا
عرصہ ہوا توقیر سنائی نہیں دیتا

توقیر علی زئی

Submit "اب پھول بھی زخموں کی دہائی نہیں دیتا" to Digg Submit "اب پھول بھی زخموں کی دہائی نہیں دیتا" to del.icio.us Submit "اب پھول بھی زخموں کی دہائی نہیں دیتا" to StumbleUpon Submit "اب پھول بھی زخموں کی دہائی نہیں دیتا" to Google

Categories
راستے میں شام

Comments

  1. Rose's Avatar
    شاندار شاعری ہے۔خوب
  2. Kainat's Avatar
    بہت اچھی شاعری
  3. 1UM-TeamUrdu's Avatar
    واہ توقیر بھائی۔ بہت خوب ۔ رواں اور منفرد غزل ۔ سلامت ر ھیے
  4. ابو لبابہ's Avatar
    بہت خوب۔
    عمدہ غزل ہے۔