View RSS Feed

Ahmed Lone

پیاسی مرے خیال کی رعنائی رہ گئی

Rate this Entry
پیاسی مرے خیال کی رعنائی رہ گئی
کیا جانئیے گھٹا وہ کہاں چھائی رہ گئی

ایک ایک کر کے اُڑ گئیں پرچھائیاں تمام
اب صرف آہٹوں کی مسیحائی رہ گئی


ایسا نہیں کوئی کہ ہم اپنا کہیں جسے
اب چند پتھروں سے شناسائی رہ گئی
جاتے ہیں سب کوئی نہ کوئی یاد چھوڑ کر
رخصت ہوا جو عشق تو رُسوائی رہ گئی

دیکھا کسی کی یاد کو جب مجھ سے ہمکلام
حیراں مری طرح مری تنہائی رہ گئی

لایا قتیلؔ وقت ہمیں کس مقام پر
سب ولولے چلے گئے دانائی رہ گئی

Submit "پیاسی مرے خیال کی رعنائی رہ گئی" to Digg Submit "پیاسی مرے خیال کی رعنائی رہ گئی" to del.icio.us Submit "پیاسی مرے خیال کی رعنائی رہ گئی" to StumbleUpon Submit "پیاسی مرے خیال کی رعنائی رہ گئی" to Google

Categories
Uncategorized

Comments