View RSS Feed

Barvi

فحش اشتہارات

Rate this Entry
السلام علیکم
محترم قارئین!
جیسا کہ آپ جانتے ہیں دنیا آج کل ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے، دنیا میں کہاں کیا کچھ ہورہا ہے ہمیں اس کے متعلق پرنٹ میڈیا کے ذریعے کچھ گھنٹوں میں اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے چند لمحوں میں صرف ایک بٹن دبانے سے معلوم ہوجاتا ہے، چاہے وہ بٹن ریڈیو کا ہو، ٹی وی کا یا کمپیوٹر کا۔
یہ میڈیا ہی ہے جس کی وجہ سے عالمی طاقتوں کا تیسری دنیا پر سامراجی نظام کی وجہ سے ظلم و ستم اور تیسری دنیا کے ڈکٹیٹروں کا اپنی عوام پر جبر دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔ دنیا میں "صحافت" کا پیشہ "استاد" کی طرح مقدس اور معتبر مانا جاتا ہے۔ جس طرح ایک استاد کا فرض ہے کہ وہ اپنے شاگرد کو برائی اور اچھائی کے متعلق معلومات دے اور اچھائی کی خصوصیات واضح کرکے اس پر چلنے کی تلقین کرے، اسی طرح ایک صحافی کا مقصد بھی یہی ہونا چاہئیے کہ وہ ہر قسمی حالات و واقعات سے عوام کو باخبر رکھنے کے ساتھ ساتھ اچھائی اور برائی کی تفریق بھی کرے، اور اچھائی کی خصوصیات واضح کرے۔ ان میں میڈیا گروپس کے مالکان کو بھی تعاون کرنا چاہئیے، لیکن آج کل ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔
پیسوں کے لالچ، شہرت کی بھوک جیسے عوامل نے کچھ صحافی حضرات اور میڈیا گروپس کو اپنے قلم سے ناانصافی پر مجبور کردیا ہے، اور وہ لوگ اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے بعض خبروں کو توڑ مروڑ کر اپنے انداز سے پیش کرتے ہیں اور حسب منشاء نتائج حاصل کرتے ہیں۔
میں یہاں صرف دو پوائنٹس پر گفتگو کرنے کی کوشش کروں گا، ایک تو بعض اخبارات میں غیراخلاقی اور فحش فلموں کے اشتہارات اور دوسرا بعض ڈائجسٹوں میں چھپنے والی کہانیاں۔
وطن عزیز میں کئی اخبارات ملک گیر سطح پر چھپتے ہیں، اور ہزاروں لاکھوں لوگ انہیں پڑھتے ہیں، ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ اشتہارات ہیں۔ ویسے تو کوئی بھی اشتہار ہو اس کے متعلق اخبار میں لکھا ہی ہوتا ہے کہ اس کے سچا یا جھوٹا ہونے کی ذمہ داری اخبار پر نہیں۔ لیکن ان میں بعض فلموں کے اشتہار اس قسم کے ہوتے ہیں۔
"ایک ٹکٹ میں دو مزے"
"گناہوں کی دلدل"
"جوانی کا مزہ"
وغیرہ وغیرہ
ان ناموں سے ہی آدمی سمجھ جاتا ہے کہ ایک ٹکٹ میں دو مزے کا مطلب ایک عام فلم اور دوسری "فحش" فلم۔
اور یہ نام عام فلموں کے ہو ہی نہیں سکتے۔
کیا ایڈیٹر حضرات کو اس قسم کے اشتہارات دیکھ کر اندازہ نہیں ہوتا کہ ہم اپنی نسلوں کو کھلے عام "برائی کی دعوت" دے کر گناہِ جاریہ کا موجب بن رہے ہیں۔ اگرچہ اس قسم کا فحش لٹریچر ویڈیو شاپس اور بک شاپس پر بھی مل جاتا ہے لیکن وہ خفیہ اور اپنے ذاتی اخلاق و کردارکی خرابی سے حاصل کیا جاتا ہے اور یہاں باقاعدہ دعوت دی جاتی ہے۔ چند ٹکوں کی خاطر اپنے اخبار کی شہرت کو داغ لگانا سراسر بے وقوفی ہی ہے۔
دوسرا پوائنٹ بعض اس قسم کے"رنگارنگ" پاکستانی ڈائجسٹ بھی ہیں جن کا نام بھی اسی طرح کا ہے اور اس میں کہانیوں کے اکثر کردار ہندؤانہ ہیں اور ان کے پلاٹ عریانی و فحاشی سے بھر پور ہیں۔ جن میں پاکستانی ثقافت کے بجائے دوسرے ملک کی ثقافت اور عریانی کو بھر پور انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے انہیں اس کام کےلیے وہاں سے کچھ نذرانہ بھی ملتا ہو۔
بہرحال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو اخبارات و رسائل اس قسم کے اشتہارات اور کہانیاں چھاپتے ہیں ، کاش ان کے ارباب اختیار یہ سوچ لیں کہ یہ دنیا چند روزہ ہے۔ دوسرے چاہے جو بھی کرتے رہیں، ہمیں اپنے حصے کا کام پورا کرنا چاہئیے اور برائی کو پھیلانے میں شامل ہوکر اپنی آخرت برباد نہیں کرنی چاہئیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سوچ اور صحیح عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

Submit "فحش اشتہارات" to Digg Submit "فحش اشتہارات" to del.icio.us Submit "فحش اشتہارات" to StumbleUpon Submit "فحش اشتہارات" to Google

Categories
مضامین

Comments

  1. Rose's Avatar
    باروی بھائی جس بات کا روکنا ناممکن ہو اس پر بحث لاحاصل ہے،،،،،،،معاشرے اگر کسی بنیاد پر قائم ہوں تو وہاں ایسی برائیاں نہیں پیدا ہوتیں یا اگر ہوتی بھی ہیں تو کسی شمار میں نہیں آتیں،،،،،،،،ہمارے ہاں کردارسازی کا عمل رک گیا ہے ہم نے بہت سی برائیوں کو برائیاں سمجھنا چھوڑ دیا ہے،،،،،،بچوں اور بڑوں کے موضوع گفتگو ایک جیسے ہو گئے ہیں،،،،،،دوسرے لفظوں میں تمیز کا فقدان ہے،،،،،،،،ایسے معاشرے میں مثبت سوچ دم توڑ جاتی ہے،،،،،،ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم اپنے ماضی میں زندہ رہتے ہیں حال کو تبدیل کرنے کی رتی بھر کوشش نہیں کرتے پھر اس کا نتیجہ تو ایسا ہی نکلتا ہے۔
    ہمیں میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ فی زمانہ یہ ناممکنات میں سے ہے ہاں بچوں کی کردار سازی پر توجہ دینی چاہیے تا کہ اچھے برے کی پہچان ہو جائے اور فیصلہ کرتے ہوئے بچوں کی ذہن میں برائی اور اچھائی کی پہچان موجود ہو ۔
  2. Ahmed Lone's Avatar
    بہت اچھا لکھا ہے بھائی
  3. 1UM-TeamUrdu's Avatar
    بہت اچھے خیالات ھیں۔ ھر کسی کو اپنی کوشش کرتے رھنا چاھیے۔ اللہ تعالے سب کو اپنی اقدار کے تحفظ کا شعور عطا فرمائیں۔آمین
  4. talha2c's Avatar
    میں نے دو تین دن پہلے ہی ایک رسالے میں پڑھا ہے کہ میڈیا کا اس وقت یہ حال ہے کہ اگر آج دجال کانا آجائے تو یہ اسے انسانیت کا نجات دہندہ بنا کر پیش کرے گا۔
    ہیں جی!
  5. Armaans's Avatar
    بہت ہی خوبصورت تحریر ہے محترم اور اس کے رپلائی میں روز سس نے بھی بہترین الفاظ میں وضاحت کر دی ہے۔
    اور میں روز سس سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔