Saima

مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں

Rate this Entry


مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں
سائے بھی راہ کی دیوار ہُوا کرتے ہیں

وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں
وہ عدالت میں گُنہگار ہُوا کرتے ہیں

صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خودار ہُوا کرتے ہیں

وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں
اُن کے سینے میں بھی شہکار ہُوا کرتے ہیں

صبح کی پہلی کرن جن کو رُلا دیتی ہے
وہ ستاروں کے عزادار ہُوا کرتے ہیں

جن کی آنکھوں میں سدا پیاس کے صحرا چمکیں
در حقیقت وہی فنکار ہُوا کرتے ہیں

شرم آتی ہے کہ دُشمن کِسے سمجھیں محسن
دُشمنی کے بھی تو معیار ہُوا کرتے ہیں

Submit "مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں" to Digg Submit "مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں" to del.icio.us Submit "مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں" to StumbleUpon Submit "مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں" to Google

Updated 18-08-2016 at 09:35 PM by Saima

Categories
Uncategorized

Comments

  1. Swan's Avatar
    Well i don't understand all of poetry but I know ur choice is always special:o
  2. Saima's Avatar
    Quote Originally Posted by Swan
    Well i don't understand all of poetry but I know ur choice is always special
    ahhh so sweet of you Swan