Pardaisi

  1. پروین شاکر کی ایک خوبصورت غزل


    پُھول آئے ، نہ برگِ تر ہی ٹھہرے

    دُکھ پیڑ کے بے ثمر ہی ٹھہرے



    ہیں تیز بہت ہَوا کے ناخن،

    خوشبو سے کہو کہ گھر ہی ٹھہرے



    کوئی تو بنے
    ...
    Categories
    Uncategorized
  2. میں تمہیں فون سے پھر خط کی طرف لاؤں گی

    آئینہ آنکھ کی وحشت کی طرف لاؤں گی
    ایک مرتد کو تلاوت کی طرف لاؤں گی


    پہلے قسمت کو دعاوں کی طرف لانا ہے
    پھر ہر اک فیصلہ قسمت کی طرف لاؤں گی


    لان میں
    ...
    Categories
    Uncategorized
  3. سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے

    جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے
    سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے


    اس کے دل پر بھی کڑی عشق میں گزری ہو گی
    نام جس نے بھی محبت کا سزا رکھا ہے

    ...
    Categories
    Uncategorized
  4. چُپ چُپ کیوں رہتے ہو ناصرؔ

    دِل میں اور کیا رکھّا ہے
    تیرا درد چھپّا رکھّا ہے


    اتنے دُکھوں کی تیز ہَوا میں
    دِل کا دِیپ جلا رکھّا ہے


    دُھوپ سے چہروں نے دُنیا میں
    کیا اندھیر
    ...
    Categories
    Uncategorized
  5. جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی



    جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
    کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
    ...
    Categories
    Uncategorized
Page 5 of 5 FirstFirst ... 345