چھلک جاتی ہیں آنکھیں بے ارادہ کیا کِیا جائے

خواب خواہش واہمہ ہے زندگی
اک بھیانک حادثہ ہے زندگی
آج تک یہ مسئلہ سلجھا نہیں
میں خفا ہوں کہ خفا ہے زندگی

  1. ایک بے سماعت بچہ

    by , 03-10-2016 at 06:24 PM (چھلک جاتی ہیں آنکھیں بے ارادہ کیا کِیا جائے)

    خوشی آنکھوں میں بھرے
    ہنسی ہونٹوں پہ لئے
    اپنی ہی دُھن میں مگن
    چہرے آنکھوں سے پڑھتا تھا
    نہ کہتا کچھ،
    ...
    Categories
    Uncategorized
  2. ******مشن امپاسیبل ون اُر ۔۔ ۔دُو*****

    by , 30-09-2016 at 06:36 PM (چھلک جاتی ہیں آنکھیں بے ارادہ کیا کِیا جائے)
    محل کے وسع و عریض میدان میں بجائے جانے والے نقّارے کی تیز آواز پُورے
    Urdualli Wood میں گُونج رہی تھی۔ سوئے ہوئے ...
    Categories
    Uncategorized