Blog Comments

  1. Rose's Avatar
    پسندیدگی کا شکریہ بھائی
    Quote Originally Posted by ابو لبابہ
    جگر مراد آبادی کی بہت عمدہ نعت۔
    شیئر کرنے کا شکریہ
  2. Rose's Avatar
    شکریہ صبیح بھائی
    Quote Originally Posted by Sabih
    بہت عمدہ.....
  3. ابو لبابہ's Avatar
    جگر مراد آبادی کی بہت عمدہ نعت۔
    شیئر کرنے کا شکریہ
  4. Sabih's Avatar
    بہت عمدہ.....
  5. Sabih's Avatar
    اللھم صلی علی سیدنا محمد و علی آل سیدنا محمد و بارک وسلم
  6. rja_eman's Avatar
    Very Nice بہت خوب
  7. rja_eman's Avatar
    Very Motivational.. جزاک اللہ خیرا بہن
  8. Aleesha's Avatar
    Subhaan Allah
  9. Rose's Avatar
    حصہ دوئم
    پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
    اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
    فرماتی ہیں:
    " آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
    أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
    "پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
    حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
    پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
    دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
    سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ
    پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
    "فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
    جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
    جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
    "فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
    جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
    سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
    پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
    "عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
    مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
    صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
    "میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
    جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
    "یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
    آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
    "جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
    ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
    "السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
    فرمایا:
    "مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
    ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
    "اے پاکیزہ روح۔۔۔!
    اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
    الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
    راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
    سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
    پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
    "رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
    مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔
    ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
    ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
    اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
    "خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
    اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
    کہہ رہے تھے:
    وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
    (ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
    پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
    "یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
    سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
    "جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
    سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
    عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
    پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
    سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
    "تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
    پھر کہنے لگیں:
    "يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
    (ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
    اللھم صل علی محمد کما تحب وترضی
  10. Aleesha's Avatar
    Asalam u Alaikum
    hum iss qabil kaha ji jo iss tarah kay rozay rakh sakain ye duniya iss qabil chorti kahan hai kay uss jaisa rozaa rakh sakain waisay bhi roza Allah kay liye hai aur woh he behtar jaanta hai hum aur app kon hotay hain ajar o swaab ka faisla kernay walay Ya Allah bass tou humaray ghunaho ko muaaf farmaa hum per apni rehmat ker . Ameen
  11. Rose's Avatar
    آپ دونوں کا شکریہ
  12. Aleesha's Avatar
    SubhaanAllah
  13. Rubab's Avatar
    جزاک اللہ۔
  14. Kauser Baig's Avatar
    عمدہ تاریخی معلومات ۔شیئر کرنے کا شکریہ
  15. Rubab's Avatar
    بہت عمدہ انتخاب ہے۔ شئر کرنے کے لیے شکریہ سسٹر
  16. 1UM-TeamUrdu's Avatar
    سبحان اللہ ۔ ایمان افروز واقعہ شیئر کرنے کا شکریہ ۔ سدا شاد و آباد رھیے
  17. Sajidcompk's Avatar
    so true,
    when there is will there is a way
  18. Kainat's Avatar
    نائس شیئرنگ
  19. Sabih's Avatar
    جزاک اللہ خیرا روز سس
  20. Salman Sallo's Avatar
    الحمدللہ ہمارا ایسا یقین نہیں ۔۔۔ویسے اس طرح کے صورت حال سے آجکل نواز شریف صاحب دوچار ہے اپوزیشن سمیت قوم کا ہر فرد رسی کاٹنے کا مشورہ دہ رہے ہیں مگر نوازشریف کو سردی سے ٹھٹر کر مرنا منظور ہے مگر یہ ''رسی'' وہ ہرگز کاٹنے کی ہمت نہیں کرسکتے۔۔۔۔ہاہا۔۔
Page 1 of 6 123 ... LastLast