PDA

View Full Version : ذہنی دباؤ کیا ہے اور اس سے کیسے نکلا جائے؟



rja_eman
08-02-2019, 07:07 PM
ذہنی دباؤ کیا ہے اور اس سے کیسے نکلا جائے؟

جس طرح جسمانی بیماریاں ہوتی ہیں اس طرح کچھ ذہنی بیماریاں بھی ہوتی ہیں۔جسمانی بیماریوں کی علامات کا تو پتا چل جاتا ہے لیکن ذہنی بیماریوں کی علامات کا پتا نہیں چلتا۔ذہنی بیماریوں میں ایک بیماری بڑی ذہنی دباؤ ہے۔ایک تحقیق کے مطابق کہا جاتا ہے کہ 80فیصد بیماریوں کی وجہ ذہنی دباؤ ہے۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کو کسی قسم کی کوئی فکرمندی نہیں ہوتی ، کوئی ٹینشن نہیں ہوتی،وہ کسی قسم کے دباؤکا شکار نہیں ہوتالیکن جیسے جیسے اس کو عقل آتی جاتی ہے وہ ذہنی دباؤکا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جس میں پیدائش اور موت تک کوئی نہ کوئی مسئلہ اور چیلنج ضرور رہتا ہے۔

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جوعصابی طور پر مضبوط ہوتے ہیں اور وہ مسائل کو حل کرنا جانتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر مسائل حاوی ہوجاتے ہیں اور وہ ان سے نکل نہیں پاتے ۔جن لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے وہ ذہنی دباؤکا شکار ہو جاتے ہیں۔جو شخص بلاوجہ نااُمیداور اداس رہنا شروع کر دے وہ ذہنی دباؤ کا شکارہو جاتا ہے۔نااُمید شخص سب میں رہتے ہوئے بھی سب میں نہیں ہوتا کیونکہ اس کا باہر کی دنیا سے تعلق کم جبکہ اندر کی دنیا سے تعلق زیادہ ہوتا ہے اور اندر کی دنیا میں جو ذات کا بھنور ہے وہ اس کو کھینچنے لگ پڑتا ہے۔جوذہنی دباؤ رہنے والا شخص ہوتا ہے اگر اس کو سن لیاجائے تواس کا کتھارسس ہوجاتا ہے۔ ہر شخص اپنی نظروں میں معتبر ہوتا ہے جبکہ ذہنی دباؤ کا شکار شخص اپنی ہی نظروں میں گرنے لگ پڑتا ہے اور اس کی کارکردگی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔بعض لوگوں میں بہت زیادہ انا پائی جاتی ہے ۔ ایسے لوگ چاہ رہے ہوتے ہیں ہمیں مانا جائے ۔یہ ممکن نہیں ہے کہ انہیں ہر جگہ مانا جائے ۔جب ایسا نہیں ہوتا توایسے لوگوں کا ذہنی دباؤ کی طرف جانے کا چانس بڑھ جاتا ہے اورمیڈیکل طور پر بھی ان میں مسائل پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق انسان کا دماغ جو کچھ سوچتا ہے اس کا جسم کے ایک ایک خلیے پر اثر ہوتا ہے۔ بعض اوقات کچھ ایسی حقیقتیں ہوتی ہیں جس سے انسان بچ رہا ہوتا ہے اور وہ چاہ رہا ہوتا ہے کہ یہ میرے سامنے نہ آئیں۔اگر وہ حقیقتیں اس کے سامنے آجائیں تو وہ ذہنی دباؤکا شکار ہوجاتا ہے۔وہ لوگ جن کے اندر ذہنی دباؤ میں جانے کا زیادہ رجحان پایا جاتا ہے جب ان کو اس چیز کے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ غصے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ لاعلمی کی وجہ سے وقت پر ایسے لوگوں کو مینج نہیں کیا جاتا۔عام طور پر اللہ تعالیٰ پر توکل اور یقین کرنے والے لوگ ذہنی دباؤکا شکار نہیں ہوتے۔

ایک تحقیق کے مطابق ہمارا آج کے نوجوانوں میں جو ذہنی دباؤ پایا جاتا ہے اس کی چار وجوہات ہیں ہیں :

-1 ہمارانوجوان اعداد و شمار کے حوالے سے لاعلم ہے۔لاعلمی جب بھی ہوگی دباؤ کا لیول زیادہ ہوگا، کیونکہ لاعلمی غیریقینی پیدا کرتی ہے اور غیر یقینی ہمیشہ دباؤ کی طرف لے کر جاتی ہے۔ فرض کیجیے، آپ بزنس کر رہے ہیں اورآپ کو مارکیٹ کا پتا ہی نہیں ہے کہ اس کا دائرۂ کار کیا ہے، اس کی صورتِ حال کیا ہے۔ یہ لاعلمی آپ کو غیریقینی کی طرف لے جائے گی اور جیسے ہی غیر یقینی پیدا ہو گی، ساتھ ہی ذہنی دباؤ پیدا ہو جائے گا۔

-2 جب بھی شخصیت میں خلاہوگا، یہ خلاذہنی دباؤ بن جائے گا۔ اس خلا کی وجہ سے یہ احساس بڑھنے لگتا ہے کہ ہمیں کوئی سمجھتا نہیں۔ جو آد می اندر سے بنا ہوا ہوتا ہے، اسے یہ قلق نہیں ہوتا کہ مجھے کسی نے سمجھا ہے یا نہیں۔ اصل میں یہ گلہ ہی غلط ہے کہ مجھے کسی نے نہیں سمجھا۔ صحیح سوا ل یہ ہے کہ میں نے کبھی خود کو کتنا سمجھا ہے۔

-3 ہمیں شروع سے ملنا ملانا، جڑنا، محبت، اخلاص وغیرہ سکھائی نہیں جاتیں۔ یہ معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے۔ جن گھر وں ہر وقت لڑائی جھگڑے رہتے ہیں ان کے بچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ والدین کا حال بچے کا ماضی ہے۔ اگر آپ نے اپنے حال کو ٹھیک نہیں بنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنے بچے کا ماضی خراب کردیا اور ماضی کا خراب ہونابچے کو دباؤ کی طرف لے جاتا ہے ۔

-4 ہمارے نوجوان جوکچھ کرناچاہتے ہیں وہ کچھ اورہوتا ہے جبکہ والدین کی خواہش کچھ اور ہوتی ہے ۔ نتیجہ یہ کہ اگر ان کا دل رکھنے کیلئے ان کی مرضی کا کام کر بھی لیں تودباؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ نہ کریں تو بھی دباؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا آسان سا حل یہ ہے کہ آپ اپنی جرأت کو دیکھیں۔ جب آپ کو واقعی یقین ہو تو اپنے شوق کو پروفیشن بنائیں۔ آپ کا سکون والا فیصلہ، شوق اور پروفیشن کو ایک کرنے کا فیصلہ ہے۔ خوش نصیبی یہ ہے کہ زندگی میں وہی کر رہے ہوں جس کیلئے پیداکیاگیا ہو۔

ذہنی دباؤ سے نکلنا کیسے ہے آج اس کو سیکھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔بچوں کو شروع سے عادت ڈالنی چاہیے کہ وہ اپنے مسائل شیئر کریں۔ہمیں اپنے اردگرد لوگوں کو تلاش کرنا چاہیے کہ کس کو سہارے کی ،کس کو کندھے کی ضرورت ہے۔ساٹھ فیصد مسئلے صرف سننے سے حل ہو جاتے ہیں۔عام طور پر ماہرنفسیات ادویات تجویز کرتے ہیں لیکن اس کے حل کے لیے ادویات کی طرف نہیں جانا چاہیے کیونکہ یہ چانس ہوتا ہے کہ یہ عادت نہ بن جائے۔ اس کا بہتر حل تھراپی اور کونسلنگ ہے۔ہمارے دماغ کی اپنی ترتیب کوئی نہیں ہوتی ہمیں اپنے دماغ کوسوچنا سیکھانا ہوتا ہے اس کا بہترین حل یہ ہے جو کام کیا جائے پورے فوکس کے ساتھ کیا جائے۔ زندگی کے کچھ بنیادی اصول واضح ہونے چاہییں۔زندگی تین حصوں پر مشتمل ہے ایک ماضی،دوسرا حال اور تیسرا مستقبل ۔ماضی گزر چکا ہے اس نے دوبارہ نہیں آنا۔ جو ہوگیاسو ہوگیا اس کو بھول کر آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ماضی کو چھوڑ کر آگے دیکھنے کی عادت انسان کو نارمل بناتی ہے۔

ہمیں ذہنی طور پر کچھ چیزوں کے بارے میں تیار ہونا چاہیے اگر ایک واقعہ ، ایک چیزہم پر اثر انداز ہوتی ہے اور ہم اس اثر سے نہیں نکل پاتے تو پھرہم اچھی زندگی نہیں گزارسکتے۔جو یہ کہتا ہے کہ میر ا کوئی بھی نہیں ہے وہ کیوں بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہے۔ جب اللہ تعالیٰ ہے تو پھر پریشانی اور واقعات کا اثر لینا کس بات کا۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے وہ ہمار اخالق ہے اس خالق نے ہمارے نصیب کو پیدا کیا ہے۔اپنے نصیب پر یقین اطمینان بھی دیتا ہے اور سکون بھی۔اگرمعاملات اچھے طریقے سے نہیں چل رہے اور کچھ مشکلیں تو کل کو آسانی بھی آجائے گی۔

ابو لبابہ
08-02-2019, 11:03 PM
بہترین تحریر ہے۔

شیئرنگ کا شکریہ۔

rja_eman
10-02-2019, 05:16 PM
Aapka bhi shukriya
JazakAllah Khair