PDA

View Full Version : *غلطیاں کیا ہیں اور ان سے کیسے سیکھا جائے؟*



rja_eman
29-01-2019, 12:01 AM
*غلطیاں کیا ہیں اور ان سے کیسے سیکھا جائے؟*

انسان اتنا کتابوں سے نہیں سیکھتا جتناانسان انسان سے سیکھتا ہے۔ انسان جو کام کرتا ہے، اس کے پیچھے پوری نفسیات ہوتی ہے۔ اس کی ایک ایک حرکت کے پیچھے پوری نفسیات ہوتی ہے۔ اگربات چیت میں مہارت (کمیونیکیشن اسکلز) کو ہی لے لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ بات کے ساتھ ہاتھ ہلانے سے بات کا مطلب بدل جاتا ہے۔ آواز کے زیر و بم سے گفتگو کا مفہوم بدل جاتا ہے۔ انسان کے ایک کام کے پیچھے بہت سی نیتیں ہوتی ہیں، وہ ایک ہی کام کو کئی طریقوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ہم جب بولتے، بتاتے یا کوئی کام کر رہے ہوتے ہیں تو درحقیقت ہم پوری سائنس بتا رہے ہوتے ہیں۔انسان واحد مخلوق ہے جو شعور رکھتی ہے۔ جس طرح ایک لکڑی کو دیمک اندر ہی اندر ختم کردیتی ہے، اسی طرح انسان کی زندگی کو جو چیز اندر ہی اندرجو چیز کھا جاتی ہے وہ غلطی ہے۔غلطیاں نظر نہیں آتیں، لیکن اندر ہی اندر کھا جاتی ہیں۔ یہ کئی طرح کی ہو سکتی ہیں جیسے:


*-1 #مذہبی غلطیاں*

دنیا میں موت کی سب سے بڑی وجہ پریشانی بتائی جاتی ہے اور پریشانی کی سب سے بڑی وجہ غلطی ہوتی ہے۔ پہلی غلطی عموماً مذہبی ہوتی ہے۔ مذہبی غلطی سے مراد یہ سوچنا کہ میں نے گناہ کیا ہے۔ بسااوقات وہ گناہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا بندہ سمجھ رہا ہوتا ہے۔ فرض کیجیے، آپ نماز پڑھنے جارہے ہیں اور راستے میں آپ نے دس لوگوں کو دھکا دیا۔ جب آپ مسجد پہنچتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ نماز ہوچکی ہے۔ آپ کی نماز چھوٹنا بڑا نقصان نہیں ہے،مگر بڑا نقصان یہ ہے کہ آپ نے دس لوگوں کو دھکا دیا۔ جب ہم قرآن و حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ دل دکھانا کتنا بڑا گناہ ہے۔ رسول اکرمﷺنے فرمایا، ’’بخشش کا بہترین ذریعہ استغفار ہے۔‘‘ ہم روز کتنی غلطیاں کر دیتے ہیں اور ہمیں پتا ہی نہیں ہوتا، اس لیے حکم ہے کہ سونے سے پہلے استغفار کیا جائے۔


*-2 #تعلقات کی غلطیاں*

غلطیوں کی دوسری قسم ہمارے تعلقات ہیں۔ جب ہم کسی کا دل دکھاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ہمارے دل میں بار بار خیال آتا ہے کہ ہم نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ جب یہ خیال بار بار آتا ہے تو ہمارے اندر گناہ کا ایک احساس پیدا ہو جاتا ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم اس کے مجرم ہیں۔ اگر غلطی کرتے وقت شرم نہیں آتی تو معافی مانگنے میں بھی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اس لیے غلطی کرنے کے بعد فوری طور پر معافی مانگ لینی چاہیے۔ مسئلہ ختم ہوجائے گا۔ معافی مانگ لینے سے تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ غلطی وہ رسی ہے جو پاؤں سے بندھی ہوتی ہے۔ ہمیں اس کو کھول کر چلنا ہوتا ہے۔


*-3 #معاشرتی غلطیاں*

ہم نے معاشرے کے حوالے سے کچھ ایسے انداز اپنائے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ہم غلطیاں کرتے ہیں۔ جب ہمیں ان غلطیوں کے متعلق خیال آتا ہے تو ہمیں شرم اور ندامت ہونا شروع ہو جاتی ہے اورپھر اندر ہی اندر گھٹن ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اسے ختم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ زندگی میں وہ یادیں جو لاحاصل ہیں، انھیں بھلادیا جائے ۔ چلنے کیلئے ٹانگوں کا آزاد ہونا بہت ضروری ہے اور یہ آزاد تب ہی ہو سکتی ہیں جب ماضی سے چھٹکارا پایا جائے۔ جب بھی کوئی ایسا خیال آئے، اس کو فوری طور پر ختم کر دیں کیونکہ خیال فلم کی طرح ہوتا ہے۔ جب یہ چل پڑتا ہے تو پھر چلتا ہی رہتا ہے، جب تک یہ آپ کو پریشان نہ کر دے، یہ چلتا چلا جاتا ہے۔


*-4 #ذاتی اصولوں کی غلطیاں*

بعض اوقات اپنے ہی بنائے ہوئے نام نہاد اصولوں کی وجہ سے ہم سے غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہم اپنی سوچ سے دوسرے کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ ہمیں دوسروں کو جانچنے کا حق کسی نے نہیں دیا۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سا بندہ کیسا ہے۔ واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں، ’’خدا کو راضی کرنے سے پہلے پوچھ لینا کہ وہ ناراض بھی ہے کہ نہیں ہے۔‘‘ بعض اوقات بندہ ناراض نہیں ہوتا لیکن ہم اسے بار بار کہتے ہیں کہ مجھے معاف کردے۔ سنجیدہ بات اگر بار بار کہنا شروع کر دیں تو وہ بات مذاق بن جاتی ہے اور اپنا اثر کھو دیتی ہے۔

غلطیوں کو اگر کچھ نہ سمجھیں تو یہ رائی کے برابر ہوتی ہیں اور اگر کچھ سمجھیں تو یہ پہاڑ بن جاتی ہیں۔ ہمیں ان کو سمجھنا، منظم کرنا اور اس سے باہرنکلنا ہوتا ہے۔ دوسروں کی غلطیوں کو ختم کرنے میں مدد دیں۔ واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں، ’’جسے اپنے مستقبل سے اچھی امید ہے اسے خدا سے امید ہے۔‘‘خدا سے امید کی بڑی علامت یہ ہے کہ اچھا مستقبل نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ جس چیز کے شکر گزار نہیں ہوتے، اس چیز کی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔کمال یہ ہوتا ہے کہ آپ کا علم، آپ کی زندگی میں آنے والے لوگ، آپ کی زندگی میں آنے والے واقعات آپ کو فائدہ دیں۔

ایک تاجرنے ایک سیلز مین رکھا، سیلز مین سے لاکھوں کا نقصان ہوگیا۔سیلزمین پریشان ہوگیا کہ مالک مجھے نکال دے گا۔جب مالک کو پتا چلاتو اس نے اسے بلایا اور کہا ، میں نے تجھے معاف کیا۔ اس نے پوچھا، کیوں؟ مالک نے کہا کہ تجھے سکھانے کیلئے کہ غلطی نہیں کرنی، لاکھوں روپے لگ گئے۔ اب تو نے سیکھ لیا۔ مگر میں تجھے نکال کر دوسرا سیلز مین رکھوں گا تو کیا اسے بھی اسی طرح غلطی کرکے سیکھنے کا موقع دوں؟ہم زندگی میں بے شمار غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھتے ہیں اور جو غلطیوں سے نہیں سیکھتا، اس کیلئے آگے بڑھنامشکل ہو جاتا ہے۔

جرم یہ ہے کہ توبہ کا خیال ہی نہ آئے، لیکن اگر یہ خیال آتا ہے کہ میں نے غلط کیا ہے اور اس پر پشیمانی اور پریشانی بھی ہو اور یہ پشیمانی اور پریشانی توبہ تک لے جائے تو یہ احساسِ ندامت ہے۔ یہ قبول ہونے والی چیز ہے۔ غلطی کے بعد پریشانی اگر توبہ تک نہ لے کر جائے تو وہ ’’جرم‘‘ بن جاتا ہے۔ ہر وہ نقصان جو خدا سے دور کرے، وہ ہماری غلطی ہوتی ہے اور ہر وہ نقصان ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کر دے تو وہ انعام ہے۔جو نقصان یا پریشانی جو تہجد پڑھنے، ہاتھ اٹھانے اور رونے پر مجبور کر دے وہ باعث رحمت ہے۔

جب ہمیں کوئی اہم شخصیت یا د کرتی ہے تو ہم لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہمیں فلاں شخصیت نے یاد کیا۔کہاں یہ مقام کہ ہم اللہ تعالیٰ کو یاد کریں اور کہاں وہ مقام کہ اللہ تعالیٰ ہمیں یاد کرے۔ ہم اپنی اوقات دیکھیں اور ذرا سوچیں کہ ہم جرم لے کر اس کی طرف چلتے ہیں اور وہ فرماتا ہے، اس کو چھوڑو اورآگے چلو۔ آگے زندگی پڑی ہے، ایک مستقبل ہے جو تمہار ا انتظار کر رہا ہے۔ ہمیں اپنی غلطیوں کی فہرست بنانی چائیے اور ان کا ازالہ کرتے رہنا چاہیے۔ اگر والدین کے ساتھ گستاخی کی ہے تو ان سے معافی مانگیں اور اگر وہ حیات نہیں ہیں تو ان کی قبر پر جا کر معافی مانگیں۔ اگر کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو اس سے معافی مانگیں۔ غلطیاں انسانوں ہی سے ہوتی ہیں۔ اگر کوئی چھوٹی سی غلطی ہوئی ہو تو اس سے تین گنا اچھائی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایک وقت آئے گا کہ غلطیاں کم ہونا شروع ہو جائیں گی اور اچھائیاں زیادہ ہونا شروع ہو جائیں گی۔