PDA

View Full Version : ذات پات



Rose
30-05-2017, 11:30 AM
آج سے کچھ سال پہلے میں یہ کہانی کسی جگہ پڑھی تھی،ابھی ایک پوسٹ "چوڑا" (http://oneurdu.com/forums/urdu-articles/87340-a.html#post1867295) کے ٹائٹل سے کی ہے تو زہن میں آ گئی،اسے اپنے لفظوں میں یہاں اس لیے بتا رہی ہوں کہ کیا واقعی ہم اسلام پر عمل پیرا ہیں یا ابھی بھی ہم میں تقسیم ہند
سے پہلے والے وہی ہندوؤں والی طور طریقے موجود ہیں۔

نوٹ!! میں کوئی باقاعدہ لکھاری نہیں ہوں،،،،،،اس لیے کہانی کے تسلسل اور عبارت میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو پیشگی معذرت۔
.................................................. .........


سارا گاؤں حویلی کے بڑے سے احاطے میں جمع ہے۔
وڈیرہ کھڑا ہوا اور بولا ہاں تو کرن لال تو کہتا ہے کہ تم نے اپنی خوشی سے سلام قبول کیا؟
جی وڈیرہ سائیں،میں نے اور میرے پورے خاندان نے اپنی خوش سے سلام قبول کیا ہے۔
یہ جھوٹ کہتا ہے سائیں! اس سے پوچھیں کیا اپنا دھرم چھوڑ کے اسے دوسرے دھرم میں عزت ملے گی؟
پنڈت نے کسی قدر خفگی سے چلا کر کہا۔
پیشتر اس کے کہ وڈیرہ کچھ کہتا وڈیرے کا بیٹا بولا ! پنڈٹ تو کہنا کیا چاہتا ہے؟
یہی کہ اس کے مسلمان ہو جانے کے بعد کیا تم لوگ اس کو اپنا لو گے؟
پنڈت نے پینترا بدلتے ہوئے پوچھا۔
کیوں نہیں،آخر تمہیں کس بات کا شک ہے؟
وڈیرے کا بیٹا تھوڑا جذباتی ہو گیا۔
تو پھر مجھے کرن لال سے کچھ پوچھنے کی اجازت دی جائے؟
پنڈت نے مکاری سے کرن لال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
جواب میں وڈیرے نے ہاں کے انداز میں گردن ہلائی۔
کرن لال تم کہتے ہو کہ تمہیں اپنے دھرم میں اونچ نیچ اور زات پات کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا؟جب کہ اسلام میں زات پات اور اونچ نیچ کا کوئی تصور نہیں ہے؟
پنڈٹ کے اس سوال پر کرن لال نے صرف ہاں کہنے پر اکتفا کیا۔
بالکل ٹھیک،میرے علم کے مطابق بھی اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں ہے،اچھا تو پھر بتاؤ کہ کیا وڈیرے کا لڑکا تمہاری بہن سے شادی کر سکتا ہے؟
پنڈت کے اس سوال پر گاؤں کے سبھی لوگ عجیب سی نظروں سے پنڈت کو دیکھے لگے۔
کرن لال نے ایک لمحہ کو وڈیرے کو دیکھا اور پھر وڈیرے کے بیٹے پر نظریں گاڑ دیں۔
وڈیرے کا بیٹا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آگے بڑھا اور مجمع میں اونچی آواز سے بولا مجھے کرن لال کی بہن سے شادی پر کوئی عتراض نہیں ہے۔
ایک دم سے لوگوں نے نعرے لگانے اور تالیاں بجانا شروع کر دیں،کرن لال جو تھوڑی دیر پہلے تک بالکل چپ کھڑا تھا آگے بڑھا اور پنڈت کے مقابل آ کر بولا ! دیکھ پنڈت یہ ہے اسلام کا پیغام اور اسی لیے میں نے اپنا دھرم چھوڑ کر اسلام قبول کیا ہے۔
پنڈت تھوڑی دیر تک مجمع کے خاموش ہونے کا انتظار کرتا رہا اور پھر بولا کرن لال ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی۔
تو پوچھ پنڈت ، میں تمہاری ہر بات سننے کو تیار ہوں۔
کرن لال میں جیسے بجلی بھر گئی تھی۔
ہاں تو اب میں صرف ایک بات اور پوچھوں گا،پنڈت نے تھورا توقف کیا اور پھر وڈیرے کے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ! کرن لال تمہاری بہن سے وڈیرے کا بیٹا شادی کرے گا لیکن کیا تم اس کی بہن سے شادی کر سکتے ہو؟
پنڈت زبان کو لگام دو ،میں تمہارا خون پی جاؤں گا،کہاں یہ نیچ زات کا کرن لال اور کہاں ہماری آن بان،تمہیں یہ بات سوچنے کی بھی ہمت کیسے ہوئی؟
وڈیرے کا بیٹا جیسے پاگل ہی ہو گیا تھا۔اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔
دوسری طرف پنڈت مکاری سے پانی پانی ہوتے ہوئے کرن لال کی طرف دیکھ رہ تھا۔


ماخوز

Abdullah
30-05-2017, 02:54 PM
خوب تر است!!

Rose
30-05-2017, 06:35 PM
شکریہ بھائی۔۔

خوب تر است!!

Ahsan_Yaz
30-05-2017, 09:15 PM
زبردست۔
حاصلِ کلام یہی ہوا کہ اسلام کا نام بھی بس اپنے کرتوتوں کو جسٹی فائی کرنے کی حد تک ہی مستعمل ہے۔

Rose
31-05-2017, 11:40 AM
جی ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو،،،،،،،پتا نہیں پرانے وقتوں کے مورخین اگر آج ہوتے تو اسے کس طرح دیکھتے،،،،،ہاں آنے والے وقتوں کے مورخین کو ہمیں ڈسکس کرنے کے لیے شاید سنہری حروف ڈھونڈنے کی ضرورت نہ رہے۔