PDA

View Full Version : Ramzan یا Ramdan



HumairaCh
21-05-2017, 06:37 PM
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


Ramzan یا Ramdan


صحیح لفظ رمضان ہے رمڈان نہیں
اسی طرح
صحیح لفظ ماہ رمضان ہے ماہ رمضانوں نہیں

اس بات کو سمجھنے کے لئے اس آیت میں لفظ رَاعِنَا کا ترجمہ اور تشرئح پیش کی جاتی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ

اے ایمان والو "راعنا " نہ کہو اور " انظرنا " کہو اور سنتے رہو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔
رسول اکرم ﷺسے بغص رکھنے والے بعض یہودی اور منافین آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ظاہری احترام کو برقرار رکھتے ہوئے بھی ان کی یہ کوشش ہوا کرتی کہ آپﷺ کی شان میں بےادبی کر سکیں۔
مدینہ میں رہنے والے بعض یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ وہ جب حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم سے ملتے تو آپ سے کہتے تھے رَاعِنَا
رَاعِنَا ذو معنی لفظ ہے۔
عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری رعایت فرمائیے ، ہمارا لحاظ اور خیال کیجئے۔ بات سمجھ میں نہ آئے تو سامع اس لفظ کا استعمال کر کے متکلم کو اپنی طرف متوجہ کرتا تھا اس لحاظ سے یہ لفظ ٹھیک تھا اور اس میں گستاخی کے کوئی معنی نہیں تھے۔
یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بارگاہ رسالت میں جب حاضر ہوتے اور حضور کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے کسی ارشاد گرامی کو اچھی طرح سمجھ نہ سکتے تو عرض کرتے راعنا اے حبیب الہ! ہم پوری طرح سمجھ نہیں سکے۔ ہماری رعایت فرماتے ہوئے دوبارہ سمجھا دیجئے۔

لیکن عبرانی زبان میں جو یہودیوں کی مذہبی زبان تھی۔ یہودی اپنے بغض و عناد کی وجہ سے اس لفظ کو تھوڑا سا بگاڑ کر استعمال کرتے تھے جس سے اس کے معنی میں تبدیلی اور ان کے جذبہ عناد کی تسلی ہو جاتی، مثلاً اس سے ملتا جلتا ایک لفظ بد دعا اور گالی کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
نیز اگر اسی لفظ میں عین کو ذرا کھنیچ کر بولا جائے تو وہ رَاعِینَا بن جاتا ہے۔جس کے معنی ہیں ہمارے چرواہے
اور یہود کی زبان میں لفظ رَاعِنَا احمق کو بھی کہتے ہیں ۔
جیسے وہ السلامُ علیکم کی بجائے السامُ علیکم (تم پر موت آئے ) کہا کرتے تھے۔

غرض یہودیوں کی اصل نیت اس لفظ کو خراب معنی میں استعمال کرنے کی تھی،لیکن چونکہ عربی میں بظاہر اس کا مطلب ٹھیک تھا،اس لئےبعض مخلص مسلمانوں نے بھی یہ لفظ بولنا شروع کردیا۔ یہودی اس بات سے بڑے خوش ہوتےاور اندر اندر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
اس لئے اس آیت نے مسلمانوں کواس شرارت پر متنبہ بھی کردیا، آئندہ اس لفظ پر پابندی لگادی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم رَاعِنَا کے بجائے اُنظُرنَا کا لفظ کہا کرو کیونکہ اس کے معنی ہیں ہم پر شفقت کی نظر فرمائےاس میں کسی اور معنی کا احتمال نہیں۔
اور یہ سبق بھی دیا کہ ایسے الفاظ کا استعمال مناسب نہیں ہے جن میں کسی غلط مفہوم کا احتمال ہو، یا ان سے کوئی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہو۔
نیز اگلی آیت میں سارے عناد کی اصل وجہ بھی بتادی کہ درحقیقت ان کو یہ حسد ہےکہ اللّٰہ تعالٰی نے نبوّت کی نعمت آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو کیوں عطا فرمادی ہے۔
اس سے ایک تو یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ ایسے الفاظ جن میں تنقیص و اہانت کا شائبہ ہو، ادب و احترام کے پیش نظر انکا استعمال صحیح نہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ کفار کے اقوال و افعال میں مشابہت اختیار کرنے سے بچا جائے۔ مسلمان جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، وہ انہی میں شمار ہوگا۔

ابو لبابہ
22-05-2017, 05:47 PM
بہت شکریہ تفصیل سے بتانے کا۔
جزاک اللہ خیرا

Abdullah
22-05-2017, 06:48 PM
ہمارے مسائل!!

Sabih
22-05-2017, 11:58 PM
جزاک اللہ خیرا

Ahmed Lone
23-05-2017, 02:58 AM
عرب میں ض کو دا کے جیسےبھی بولا جاتا ہے
جیسے والضالین کو والدالین بولا جاتا ہے
اس مسئلے پر تھوڑی روشنی ڈالیے
جزاک اللہ

HumairaCh
23-05-2017, 05:09 PM
بہت شکریہ تفصیل سے بتانے کا۔
جزاک اللہ خیرا


جزاک اللہ خیرا



جزاک اللہ

بہت شکریہ آپ سب بھائیوں کا

ایسا میں نے کہیں پڑھا تو نہیں ایسے ہی دماغ میں آیا تو سوچا یہاں بھی شیئر کردوں ہو سکتا ہے کہ اس سے معنی میں کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔
ویسے بھی جس میں شک ہو تو اس بات سے احتراز ہی کرنا چاہئے۔ کچھ عرصہ پہلے تک لفظ رمڈان سننے میں اتنا نہیں آیا تھا۔ جتنا تیزی سے یہ اس وقت پھیل رہا ہے۔ اگرمیں غلطی پر ہوں تو آپ کسی امام مسجد یا کسی سکالر سے پوچھ کر بتا دیں آپ ضرور کسی نہ کسی کو جانتے ہوں گے۔

HumairaCh
23-05-2017, 05:14 PM
ہمارے مسائل!!

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

HumairaCh
23-05-2017, 05:28 PM
عرب میں ض کو دا کے جیسےبھی بولا جاتا ہے
جیسے والضالین کو والدالین بولا جاتا ہے
اس مسئلے پر تھوڑی روشنی ڈالیے
جزاک اللہ



مجھے افسوس ہے کہ میں اپنے دین کو اتنا نہیں جانتی جتنا کی بحیثیت ایک مسلمان مجھے جاننا چاہئے یہ مجھے نیٹ پر سرچ کرنے سے ملا ہے۔

حرف ضاد کودال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اور یہ کہ وہ ظا کے ساتھ اپنی اکثر صفات میں مشابہ ہے۔ مگر ظا سے بھی وہ جداگانہ حقیقت رکھتا ہے پس جو شخص اس کو خالی ظا پڑھے۔ وہ اور جو شخص خالی دال پڑھے وہ دونوں تبدیل حرف کے مرتکب ہیں۔ اور جو شخص ضاد کے ادا کرنے کے قصد سے پڑھے۔ اور اس کی آواز دال کی پُر کی نکلے۔ یا ظا کے مشابہت نکلے ان دونوں کی نماز صحیح ہوگی۔ اور ظا کے مشابہ پڑھنے والا اقرب الی الصحہ ہوگا۔ اور خالص دال کی آواز سے ادا کرنا غلط ہے۔ دال پر جس آواز کو ہم نے کہا ہے۔ وہ ضاد کی بگڑی ہوئی آواز ہے۔


ہ مسئلہ فن تجوید کے اعتبار سے تو بہت اہم ہے۔ لیکن فساد صلواۃ یا عدم فساد صلواۃ کے لحاظ سے اس قدر اہم نہیں ہے۔ جس قدر کے آجکل لے لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ پس نماز کے ہونے نہ ہونے کو اس مسئلہ پر موقوف کرنا تجوید کے مسئلہ کو فقہی بحث میں لاڈالنے کے مترادف ہے۔ اس لئے اتنا ہی سمجھ لینا کافی ہے۔ کہ ضاد اصل حقیقت کے اعتبار سے تو آواز ظا کے مشابہ ہے۔ دال کے مشابہ نہیں۔ لیکن جو شخص سعی اور کوشش کے باوجود اس حرف کو صحیح ادا کرنے پر قادر نہ ہوسکے۔ نماز اس کی بہرحال ہوجائےگی۔


علماء تجوید کے کلام اور فقہائے عظام کے فتاوے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ضآد کو مشتبہ الصوت بالظوئے پڑھ سکتے ہیں۔ اور ضاد وظوئے کے درمیان تفریق کرنے کے ہم مکلف نہیں۔ (کما قال الرازی) اس لئے الضالین کو اظالین پڑھنا جائز ہے۔

چونکہ حرف ضاد اور دال میں من حیث الصفات اور بااعتبار مخرج تضاد اور تبائن ہے۔ اس لئے ضاد کو مشتبہ الصوت بالدال نہیں پرھ سکتے۔ اوراگر کسی نے والضالین کو دالین پڑھا۔ تو خود فقہائے حنفیہ کے اقوال کی رو سے اس کی نماز فاسد ہوجائےگی۔ نیز اہل عرب کے کلام سے بھی ضاد کودال سے بدلنے کا ثبوت نہیں۔

فقط واللہ اعلم۔

لنک یہ ہے
http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/6759/401