PDA

View Full Version : ون اردو ٹرین



Kainat
07-04-2017, 06:09 PM
(خلاصہ تحریر)
کہا جاتا ہے کہ پاکستانی تاریخ میں ایوب خاں کا دور سب سے اچھا تھا۔لیکن اب یہ کیا کم ہے کہ ہم بھی فخر سے کہہ سکیں گے کہ سیزن ون اردو کا پہلادور بہت اچھا تھا اور ہم نے اسے خوب انجوائے کیا۔ اس نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا جس کا سوچا بھی نہ تھا۔ ورنہ پہلا لفظ گھر والوں نے سکھایا ۔۔قلم استاد نے ہاتھ میں پکڑا یا ۔ لیکن منزل ہنوز دور است۔ والا معاملہ تھا۔ ابھی ون اردو پلیٹ فورم بننا تھا اور رائٹر سوسائیٹی نے دم پخت کرنا تھا۔ شہزاد قیس جیسے شاعر، عظیم انسان نے رہبر بننا تھا۔مسافروں نے جمع ہونا تھا۔ اس خاص گاڑی نے آنا تھا۔۔ ابھی تک تو اک بےنام منزل کا سفر جاری تھا۔ مسافر کسی بھی گاڑی میں چڑھتے تھےاور کسی بھی سٹیشن پر اتر جاتے تھے۔ اللہ نے کرم کیااور وہ وقت آ گیا۔ اور سب انٹرنیٹ کی دنیا میں چلے آئے۔ کوئی زاد راہ ساتھ نہ تھا۔ نہ مائنڈ میک اپ کیا گیاتھا۔ نئی کھوج کا جہاں تھا۔ کوئی ناول ڈھونڈتے چلا آیا تو کوئی ٹائم پاس کرنے۔۔ کوئی کچھ نیا سیکھنے کے لیے، نئی دنیا کے بوکھلائے گھبرائےمسافر۔ ۔یہ توآج اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت ہماری قسمت کے ستارے عروج پر تھے جو ہم سب یہاں پر چلے آئے۔٭



ون اردو ٹرین

صبح کا وقت گزرنے کو تھا۔ شفق کی لالی مدہم ہو چکی تھی۔ آسمان پہ آوارہ گھومتے بادلوں کی گلابیاں اب ختم ہو چکی تھیں۔ حد نظر تک ہریالی اور ان کے بیچ سرخ سرخ اینٹوں سے بنے گھر نظر آ رہے تھے۔ دنیا ابھی دنیا ہی تھی۔۔گھر ، گھر نظر آ رہے تھے ابھی ولا نہیں بنے تھے۔ وہ کافی دیر سے کھڑی تھی اور منظر پہ منظر کھل رہے تھے۔ ٹرین کی پٹری سامنے تھی۔اسی پٹری پہ نظریں جمائے دائیں طرف نظر ڈالو تو دور تک امید بھرا سماں تھا۔ وہ رہگزر جسے تکتے تکتے آنکھیں ہمیشہ انتظار میں رہتی ہیں۔ اس انتظار میں بھی اک لذت تھی۔ البتہ اس رستے پرگاڑی کا سگنل شرمسار سا جھکا ہوا نظر آ رہا تھا۔اس نے کروفر سے سر تبھی اٹھانا تھا جب اسے سٹیشن ماسٹر کاحکم ملتا۔ پٹر ی سے نگاہ ہٹائے بغیربائیں طرف دیکھنا ذرا دلگیر کرتا تھا۔ انتظار کے بعد ابھی آئے اور ابھی چل دئیے کے بعد کسی کو رخصت کرنا کتناکٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔اس لیے اس سے گریز بہتر تھا۔ اور گھوم کر پیچھے دیکھنے کی ضرورت نہ تھی۔ پیچھے کا منظر بغیر دیکھےہی جانا پہچانا تھا۔ پیچھے دور ایک چھوٹا سا ائرپورٹ تھا۔جو صرف آرمی ٹریننگ کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہاں کبھی کبھی فضائی مشقیں ہوتی تھیں۔ ورنہ آگے پیچھے بے حس و حرکت اپنے نام کا اعزاز سجائےائرپورٹ اپنی جگہ پرکھڑا اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔
وہ گھومتے ہوئے کافی دیر پہلے آ گئی تھی اور پلیٹ فارم پہ کھڑی تھی۔ پاؤں کے نیچے سرخ منظم اینٹیں تھیں۔ جبکہ اس سٹیشن کی بڑی عمارت گاڑی کی دو لائنیں پار کرنے کے بعد سامنے تھے۔گو یاوہ پہلی مسافر تھی لیکن کسی نے ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ کے ساتھ اس منظر میں مداخلت کی۔ دیکھا تو کوئی مسافر اپنی گن پکڑےنمودار ہوا تھا۔
احمد لون۔۔جی ہاں انھوں نے کچھ اسی طرح ہی انٹری دی تھی۔ لگتا تھا بننے تو یہ شکاری چلے تھے اور جنگل کی تلاش میں نکلے تھے۔ ہمتِ مرداں ساتھ تھی۔ چڑیوں کے شکار کے بعد شیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا ارادہ تھا۔جنگل تک تو ابھی پہنچ نہیں پائے تھے کہ یہ رستہ بیچ میں چلا آیا۔ اس جگہ کی زمین نے ان کے قدم جکڑ لیے۔ تھوڑی دیر سستانے کو جو ٹھہرے تو ان کی منزل کا نام و نشان ہی بدل گیا۔ورنہ یہ پکے شکاری ہوتےاور کسی ڈائجسٹ میں ان کی شکاری داستانیں لوگ مزے مزے لے کر پڑھتے۔
اب ایک سے بھلے دو مسافر کھڑے تھے۔۔منظر میں واقعی تبدیلی آ چکی تھی۔
عمران نیّر۔۔ اچانک دور سے آتے دکھائی پڑے۔ان کے ہاتھ میں شاعری کی کتاب تھی اور ہونٹوں پہ فیض احمد فیض کی غزل
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ
اللہ جانے اس پلیٹ فارم پر ان کا محبوب آنے والا تھا کہ جانے والا تھا۔ یہ کافی باادب، با نصیب قسم کے پڑھے لکھے انسان لگے۔ بار بار اپنے نفاست سے سنورے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے تھے۔ اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنی جیب سے خوبصورت سا رومال نکالتے تھے۔ اسے دیکھتے تھے اور پھر چار تہہ لگا کر جیب میں واپس ڈال لیتے تھے۔ رومال چٹھی سجناں دی کی طرح انہیں محبوب نظر آرہا تھا۔گنگنانے کے ساتھ ساتھ کتاب کے اوراق پلٹنے لگتے اور پہلی غزل ادھوری چھوڑ کر اگلی ترنم سے پڑھنے لگتے۔
یہ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ انھیں کسی دوسراہٹ کی ضرورت نہ تھی۔ اس لیے انھوں نے کسی کو لفٹ نہیں کرائی اور تھوڑی دور پڑے ایک بینچ کو اپنا عارضی مکیں بنا کر اس پہ نیم دراز ہو گئے۔( محترم کافی خود پسند لگتے ہیں)
ساحرہ۔۔فضا موسیقی سے رنگین ہو چکی تھی۔ ماحول پہ سحر طاری ہونا شروع ہو چکا تھا دیکھا توایک ساحرہ نمودار ہوئی۔ گلابی سوٹ، گلابی جوتے، کارڈیگن،بیگ،چھتری، لمبے سیاہ بالوں میں گلابی پھول ۔۔ اس کے آنے سے پلیٹ فورم کا ماحول رنگ بدلنا شروع ہو گیا تھا۔ فضا گلابی ہونے لگی تھی۔اس میں کچھ تو تھا کہ احمد لون کی گن سرنگوں ہو گئی اور عمران نیّر اٹھ کر بیٹھ گئے۔یہ محترمہ مخلوط یونیورسٹی کی پیداوار نظر آتی تھیں اس لیے کافی فرینڈلی ثابت ہوئیں۔ خودآگے بڑھ کر سب کا حال احوال پوچھا، احمد لون کو سلام کیا اور عمران نیّر کے پاس جا کر انھیں آداب کیا اور یوں باتیں کرنے لگیں جیسے کئی سالوں سے جانتی ہوں۔ موضوعات کی ان کے پاس کمی نہ تھی۔ اپنے بیگ سے سینڈوچ نکال کر سب کو کھلائے۔ اور خود سینڈوچ کھانے کے بعد پرس سے گلابی لپ اسٹک نکال کر ہونٹوں پہ دوبارہ تہہ جمائی۔ یہ محترمہ کہاں جا رہی تھیں، کیوں جا رہی تھیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ البتہ سینڈوچ نکالنے کے دوران سب اس کے بیگ میں قلم ، ڈائری ، کھانے کی تراکیب کی کتاب اور حیران کن بات سوئی دھاگہ تک دیکھ چکے تھے۔
یاز غل۔۔ ایک بار پھر ہلچل ہوئی۔ ایک اور صاحب نے داخلہ دیا۔ ان کا حلیہ قابل غور تھا۔ جینز کی ہری پتلون، ہری جیکٹ، سر پہ کیپ، کمر پہ رک سیک(بیگ)، آنکھوں پہ چشمہ، ہاتھوں میں کوہ نوردی اسٹک، اللہ جانے پہاڑ سے اتر کے آئے تھے یا چڑھنے جا رہے تھے۔ یا مستنصر حسین کی سیاح پارٹی جوائن کرنے جا رہے تھے۔ لیکن ساحرہ کی مزے مزے کی باتیں سننے کے لیے رک گئے۔ اور جاسوسی ناول شکاری پر ان کی بحث چھڑ گئی جس پر یہ اپنی اچھی خاصی علمیت ظاہر کرنے لگے۔بحث میں اتنا وقت گزر گیا کہ اسی پڑاؤ پر رات گزارنے کے لیے رک گئے۔پَر انھیں خبر نہ تھی کہ ان کی منزل کا رخ بدل چکا ہے۔عمران نیّر کو یہ بہت پسند آئے اور انھوں نے کھسک کر بینچ پر انھیں اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ انجانے میں ہی دونوں کی لطیف حس بھی مل گئی۔ کیونکہ تھوڑی دیر بعد یہ بھی آہستہ آہستہ گنگنا رہے تھے۔
تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے
جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے
عمران نیّر نے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور دونوں نے مشترکہ شوق پہ ہاتھ ملا لیا۔اتنی دیر میں خسرو نمودار ہوئے۔ انھوں نے ایک نظر سب مسافروں پہ ڈالی اورفیصلہ کن انداز میں آگے بڑھ کر ان دونوں کی رفاقت قبول کر لی۔ انھوں نے بھی فورا اسکے لیے جگہ بنا دی۔ تینوں کا بھائی چارہ آج تک جاری ہے۔تینوں بنجمن سسٹر کی طرح مل کر کورس نغمہ گاتے ہیں۔۔ ،
یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے
(پوسٹ جاری ہے)

Kainat
07-04-2017, 06:18 PM
سمارا۔۔اب کی بارایک استانی چلی آ رہی تھیں۔ بڑے نپے تلے قدم اٹھاتے، سفید یونیفارم جیسا لباس، آنکھوں پہ نظر والا چشمہ، کالا بیگ۔ اس نے آ کر سب کو سلام کیا۔ ایک نظر دو کھڑی خواتین کو دیکھا اور پھر بینچ پہ براجمان افراد کو، وہ بے انصافی کہاں برداشت کر سکتی تھی۔ فورابینچ کے قریب چلی گئی اور جا کربولنے سے پہلے ایک گھوری ان پہ ڈالی۔نظر میں وہ تاثیر تھی کہ تینوں بوکھلا کر کھڑے ہو گئے اور اسے بیٹھنے کا کہنے لگے۔ وہ خود بھی بیٹھی اور دونوں خواتین کو بھی بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا۔ یوں لیڈیز فرسٹ کا بول بالا کیا۔
اب منظر اچھا خاصا جم چکا تھا۔
آہستہ آہستہ بھانت بھانت کے مسافر جمع ہونے لگے۔سخنور، مینا، حرف دعا، فراز،گل رعنا، رفعت، لبنی،ساحل،ماہ نور خان،آمنہ، دانیہ اور ڈھیروں مسافر جمع ہونے لگے۔اور اپنی اپنی بولی بولنے لگے۔ یہ سب منزل کی تلاش میں نکلے تھے۔انھیں تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ گاڑی انھیں لے جانے کے لیے آئے گی بھی کہ نہیں۔۔ یا وہ خود ہی انفرادی طور پر پٹری کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیں گے۔ فی الوقت وہ سب ایک پڑاؤ پہ جمع تھے۔ جب ایک بڑی باوقار مشفق ہستی کی آمد ہوئی۔ سب ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔
کوثر بیگ۔۔ بنارسی ساڑھی پہنے ہوئے، بالوں کا جوڑا، جوڑے میں پھول، کلائی میں گجرا، گجرے میں پھول،منہ میں پان ، ہاتھ میں پاندان۔۔ لیے نمودار ہوئیں،دور سے ہنگامہ برپا دیکھ کرخود سے گویا ہوئیں۔
: ایّو، یہاں تو ویلے، ناکارہ سب لوکاں جمع ہیں۔۔ کیا چھوارے بٹ رہا ہے یا کسی دیگ کا منہ کھلا ہے۔اللہ حیدرآبادی متنجن ہو اور ساتھ چار مینار اںکا اچار ہووے تو میرے کو بوت مزہ آ جاوے ۔۔ میرے کو پتہ ہوتا تو میٹھا شیٹھا میں گھر سے لے آتی۔۔اللہ،میں ای کائے کو لیٹ ہوا۔ بہو کو کب سےبولا ساڑھی پریس کا۔ مجال ہے جو۔۔۔! (پان کی پچکاری مارتے ہوئے)چلو یہ بھی اچھا کہ بیٹا مجھے موٹر بائیک پہ چھوڑ گیا۔کم سے کم ان لوکاں کا ساتھ تو مل جاوے گا نا!۔۔
کوثر بیگ کو دیکھ کر سب خواتین ان کے گرد جمع ہو گئیں۔لڑکے مرد حضرات بھی ان سے مرعوب نظر آنے لگے۔ دوچار باتوں کے بعد ہی کوثر بیگ کی دعاؤں سے سب مستفید ہونے لگے۔ آپی، باجی، آنٹی بن کر انھوں نے سب کے درمیاں فورا اپنی جگہ بنا لی۔
نیت کھری ہو تو اسباب بھی میسر آ جاتے ہیں۔بہت سے مسافر جمع ہو چکےتھے لیکن ابھی ایک خاص الخاص ہستی کا نزول ہونا تھا۔ جو آیا تو مسافر کی صورت تھا لیکن خود اسے بھی پتہ نہ تھا کہ وہ مسافر ہے یا رہبر۔۔جسے بعد میں اس بے ہنگم، بے سُرے ہجوم کو اپنے منطقی طریقوں سے سنبھالنا ہو گا۔ اور بہت سوں کو ان کی منزل کی اور روانہ کرنا ہو گا۔
شہزاد قیس٭
انھوں نے بچپن میں چلنے کا آغاز تتلی کے پیچھے بھاگ کر کیا تھا۔ جوں جوں بڑے ہوتے تھے۔رنگ برنگی تتلیاں انھیں متاثر کرنے لگیں۔یہ شوق ایک مدت کے بعد ختم ہو گیا۔ بچپن گزرا تو قیس بن گئے اور لیلی ، لیلی۔۔لیلی ، اخترخوباں لیلی گنگنانے لگے۔ اوراب یہ لیلی کے فراق میں نکلے تھے۔ کسی صحرا کی طرف نکلنے کا ارداہ تھا۔ بڑے شہر کو تیاگ آئے تھے۔ اپنا سوٹڈ ووٹڈ حلیہ بھی وہیں چھوڑ آئے تھے۔ اس وقت ان کا حلیہ کسی لکھنو میں رہنے والے کا تھا۔ سفیدبراق کرتا پاجامہ، جو صحرا میں پہنچ کر چاک گریباں ہونے والا تھا۔ ان کی شخصیت میں وہ سحر تھا کہ انھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے اپنا مقصد بھول کر سب کو منظم کیا۔ زندگی کی حققیت سمجھائی۔۔
بلھے شاہ اسی مرنا ناہیں۔ گور پیا کوئی ہور
اور آنے والے وقت کے لیے سب کو تیار کیا۔ تبھی سب نے انھیں اپنا خضر راہ مان لیا۔ انھوں نے سب کو یقین دلایا کہ سب کی زندگی با مقصد ہے۔ اس مقصد کو ڈھونڈیں اور پورا کریں۔ کئی مسافروں کے سامان سے کھانے پینے کی اشیاء نکل آئیں۔ احمد لون دھاندلی کے ڈر سے گن لے کر کھڑے ہو گئے۔ یاز غل نے خسرو کے ساتھ مل کر انصاف کا تقاضا پورا کرتے ہوئے مساوی انداز میں چیزیں سب تک بانٹ دیں۔۔انتظار ایک بار پھر شروع ہو گیا۔ بے ہنگم شور پھر شروع ہونے لگا تو شہزاد قیس نے مسافروں کو اپنی شاعری سنانی شروع کر دی۔
تتلیاں
آنکھوں میں کل کے خواب ہیں ، خوش خواب تتلیاں
چندا سے پیار کرتی ہیں ، مہتاب تتلیاں

جب حُسن کے صحیفے میں لکھا تمہارا نام
پھول اُس پہ نقطے بن گئے ، اِعراب تتلیاں

رمزِ چمن سمجھنی ہو ، آنکھوں پہ آنکھ رکھ
پلکیں جھکا کے کرتی ہیں ، آداب تتلیاں

مٹھی میں نہ جکڑنا اِنہیں کھیل کھیل میں
ٹوٹے پروں کی لاتی نہیں تاب تتلیاں

سو منزلہ گھروں سے یہ نقصان بھی ہُوا
جگنو بھی خواب ہو گئے ، نایاب تتلیاں

سودا چمن کا جب ہُوا ، گُل ہی گنے گئے
خود کو سمجھتی تھیں یونہی سرخاب تتلیاں

لکھی ہے قیسؔ نے کسی معصوم پر کتاب
پڑھ پڑھ کے جھومنے لگیں ہر باب تتلیاں

مقطع بروقت چل رہا تھا ۔ جب اچانک ٹرین کی وسل سنائی دی۔ احمد لون نے فورا ٹرین کو ٹھاہ ٹھاہ ٹھاہ کی سلامی دی۔گاڑی پلیٹ فارم پہ آ گئی۔ شہزاد قیس نے یازغل کے ساتھ مل کر مسافروں کو ان کے ڈبوں تک پہنچایا۔ اور خود انجن ڈرائیور سے اس کے ساتھ بیٹھنے اور سفر کرنے کی اجازت چاہی اس وعدے کے ساتھ کہ وہ راستے میں اسے کبھی تتلیاں سے انتخاب سنائیں گے اور کبھی لیلی سے۔۔،
ٹرین نے الواداعی وسل دی اور چلنے لگی اور اک لمبی مسافت کے بعد خوبصورت لوگوں کی سر زمین ۔۔ ون اردو فورم۔۔ پہ پہنچ گئی۔ آگے اس سفر کا کیا بنا ، خضر راہ نے کتنی رہنمائی کی، مسافروں کے سفر اور ان کی منزل کا حال جاننے کے لیے ون اردو فورم کا پہلا دور انجوائے کیجئے۔ جو ون اردو فورم کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور مدتوں دلوں پہ راج کرے گا۔


٭٭٭٭٭

Ahmed Lone
07-04-2017, 06:30 PM
بہت خوب بہت اچھا لکھا
ایسی منظر کشی کی ایسا لگتا جیسے خود آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں
ماشاء اللہ

ابو لبابہ
09-04-2017, 04:39 AM
بہترین تحریر ہے کائنات جی
ماشاء اللہ بہت خوب نقشہ کھینچا آپ نے۔
یہ تحریر پڑھی ہوئی لگتی ہے یا شاید نئی تحریر ہے لیکن لاجواب تحریر ہے۔
شکریہ

Kainat
09-04-2017, 01:04 PM
بہترین تحریر ہے کائنات جی
ماشاء اللہ بہت خوب نقشہ کھینچا آپ نے۔
یہ تحریر پڑھی ہوئی لگتی ہے یا شاید نئی تحریر ہے لیکن لاجواب تحریر ہے۔
شکریہ
شکریہ خسرو بھائی
یہ بالکل نئی ایک دن پہلے کی لکھی ہوئی تحریر ہے ون اردو سالگرہ کے لیے۔

بنت احمد
13-04-2017, 01:58 AM
بہت خوب سس،

Ahsan_Yaz
15-04-2017, 02:58 AM
واہ واہ۔
بہت ہی عمدہ تحریر ہے کائنات جی۔ بہت خوب وغیرہ

Hina Rizwan
15-04-2017, 06:58 AM
زبردست بہت ہی اچھی تحریر

Sajidcompk
16-04-2017, 11:39 PM
thanks for such great sharing and your efforts