PDA

View Full Version : پرانی سالگرہوں کی یادیں



Ahsan_Yaz
06-04-2017, 07:26 PM
السلام علیکم
نئی تحاریر یا موضوعات کے لئےکوشش تو چلتی ہی رہے گی۔ ایسے میں سابقہ سالگرہوں کے آرکائیوز میں سے کچھ نوادرات کی یادیں بھی تازہ کرتے چلتے ہیں۔
سب احباب اپنی یا کسی بھی اور ممبر کی دلچسپ تحریر یہاں شیئر کر سکتے ہیں۔

HumairaCh
07-04-2017, 08:49 AM
چلیں پھر سب سے پہلے آپ کی تحریر سے آغاز کرتے ہیں۔

ون اردو والوں کی گڈ مارننگ سیریز میں کچھ احوال لکھا تھا۔ سب سے پہلے ٹیم بھائی کی گڈ مارننگ۔ ان دنوں پراسرار والا بورڈ کافی "اِن" تھا، تو اسی کے بیک گراؤنڈ میں ہے۔



شہزاد بھائی کی گڈ مارننگ


بھابی: اجی سنتے ہیں، اٹھ جائیے
شہزاد بھائی: پہلے جلدی اٹھنے پہ ایک ٹاپک بنائیے، پھر اٹھنے کا سوچوں گا

بھابی: آپ نے اٹھنا ہے یا نہیں۔
شہزاد بھائی: اچھا پھر پول ہی کروا لیں گے اٹھوں یا نہ اٹھوں

بھابی: میں کہہ رہی ہوں کہ جلدی سے اٹھ جائیں، انڈے بھی ختم ہو چکے ہیں، بازار سے لے کر آئیں گے تو ناشتہ ملے گا۔
شہزاد بھائی: انڈے ختم ہو گئے، ابھی پچھلے ہفتے ہی تو لایا تھا۔ یہ تو پر اسرار واقعہ ہے۔ ابھی اس کا ماورائی سوال پوچھتا ہوں۔

بھابی: کیا ہو گیا ہے آپ کو، طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی آپ کی باتوں سے
شہزاد بھائی: کیا واقعی، ذرا ٹھہریں، ابھی طبی ماہرین سے پوچھتا ہوں

بھابی: طبی ماہرین سے نہیں، بلکہ نفسیاتی ماہرین سے پوچھئے۔ اب اٹھ بھی جائیں، دوپہر ہونے کو ہے
شہزاد بھائی: لیکن شاعر نے تو کہا تھا کہ سحر ہونے کو ہے۔ اب آپ کہہ رہی ہیں کہ دوپہر ہونے کو ہے۔ یہ بھی پراسرار واقعہ ہی لگتا ہے۔ ابھی فورم پہ سوال پوچھتا ہوں۔

بھابی: آپ نے نہیں اٹھنا تو نہ اٹھیں، میں جا رہی ہوں ناشتہ کرنے
شہزاد بھائی: لو جی یہ کیوں ناراض ہو گئیں۔ ایسی کیا بات ہوئی۔ لگتا ہے یہ بھی پراسرار واقعہ ہے۔ ابھی ٹاپک بناتا ہوں۔



- - - Updated - - -




امان بھائی کی گڈ مارننگ


بیٹا امان، دیکھو صبح ہو گئی ہے
امان: صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے
عمر یونہی تمام ہوتی ہے

امان بیٹے اٹھنا ہے کہ نہیں
امان: اس بزمِ جہاں سے ہر ایک کو ایک دن اٹھ ہی جانا ہے۔
لوگ رخصت ہوئے کب، یاد نہیں

جلدی سے تیار ہو جاؤ، پھر آفس بھی جانا ہے
امان: جہاں جانا ہے، وہیں سے واپس بھی آنا ہے۔ زندگی ہے یا کوئی دائرہ ہے۔

رات کو دیر سے کیوں سوئے تھے آپ؟
امان: ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں۔ (پچاس صفحے پورے کرنے تھے کل)

کس بات میں ہمیشہ دیر کر دیتے ہیں؟
امان: کچھ نہیں امی جان۔ (کمپوزنگ کرنے کا بتایا تو شامت آنے کا احتمال ہے)


ناشتے میں کیا کھائیں گے آپ؟
امان: اس دنیا میں کسی کا پیٹ کبھی بھرا ہے جو میرا بھر جائے گا۔ اسی لئے تو شاعر نے کہا تھا کہ
یہ دنیا، یہ محفل مرے کام کی نہیں

(لگتا ہے، اس لڑکے پہ پھر سے دورہ پڑا ہے)
آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں بیٹا۔ جلدی سے اٹھ جائیں، میں چولہا جلا لوں ناشتہ بنانے کو
امان : چولہے کے جلنے سے اٹھتا دھواں تو سب کو نظر آتا ہے۔ لیکن کیوں دلوں سے اٹھتا دھواں کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ بقولِ شاعر
دھواں دھواں، ہو رہا ہے سماں
کہیں تو ہے آگ لگی

(اس کے بعد آگ تو لگی نہ لگی، امان بھائی کو جوتیاں ضرور لگنے کا امکان ہے)

HumairaCh
07-04-2017, 08:50 AM
میری گڈ مارننگ کا احوال اشتباہِ نظر جی نے لکھ ڈالا تھا۔ وہ بھی دیکھئے


داروغہ جی عرف یازغل کی صبح


آنٹی ۔(منہ سے چادر کھینچتے ہوئے)
اٹھ جاؤ شاباش آٹھ بج رہے ہیں ۔

یازغل ۔ اوہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی ابھی تو ٹک سویا تھا ۔

آنٹی ۔ کیا سویا تھا ؟

یازغل ۔ امی ٹک سویا تھا ناں ، یاد نہیں ‘
ریختہ کے تم ہی استاد نہیں غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

آنٹی ۔ اچھا اچھا صبح صبح یہ میر کہاں سے نازل ہو گیا ، رات کو وقت پہ سو جایا کرواور یہ کیا بلا ہر وقت لے کے بیٹھے رہتے ہو ؟

یازغل ۔ ‘ شوق خواب کا ھے تو نیند آئے نہ
میں تو کہتا ہوں کوئی مجھے ستائے نہ

آنٹی ۔ یا خدا اس لڑکے کا دماغ چل گیا ھے اٹھو جلدی آفس کیلئے دیر ہو جائے گی ، یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ھے کمرے کا ، میں آج یہ کتابیں کاغز اٹھوا کے سٹور میں رکھواتی ہوں ۔

یازغل ۔ (اچھل کے بستر سے باہر آتے ہوئے )

یہ کیا غضب کرنے جا رہی ہیں امی جان ! کیوں میرا کوئز سینٹر بکھیرنے پہ تلی ہوئی ہیں ، اتنی مشکل سے تو آسان سوال کا مشکل جواب ڈھونڈتا ہوں بلکہ چھوٹی کی بھی تین گھنٹے کی پارٹ ٹائم جاب ھے ۔ (خود کلامی)

آنٹی ۔ کیا آفس میں کوئی کوئز سنٹر بھی بنا ہوا ھے ؟

یازغل ۔ جی جی وہی تو !

آنٹی ۔ کیا جی جی ، آٹھ جاؤ، میں ناشتہ بناتی ہوں ، کیا کھاؤگے ؟

یازغل ۔ چکن خوابیدہ اور بغیر آلو کے پراٹھا ۔

آنٹی ۔ کونسا پراٹھا ؟

یازغل ۔ میرا مطلب ھے پراٹھا اور ابلا ہوا آمیٹ ، یعنی کہ پوائنٹی انڈہ !

آنٹی ۔ آملیٹ ؟

یازغل ۔ جی جی وہی آملیٹ ، تڑکا لگا کے ۔

آنٹی ۔ اچھا اچھا میں بناتی ہوں ، اتنی دیر میں تم یہ کپڑے اٹھاؤ اور نہاؤجا کے ، کتنے دن پہلے نہائے تھے کچھ یاد بھی ھے ؟

یازغل ۔ (سوچتے ہوئے)
اس پہ تو کسوٹی کھیلی جا سکتی ھے ، اگر آج یہی پوچھ لوں تو کوئی نہ بوجھ سکے ۔ (خود کلامی )


(گنگناتے ہوئے ) نئے کپڑے بدل کے جاؤں کہاں
اور بال بناؤں کس کے لیے

آنٹی ۔ بالوں سے یاد آیا کبھی حجام کے درشن بھی کر لیا کرو ، ملا عمر کے شاگرد لگنے لگے ہو ۔


یازغل ۔ ابھی کچھ ماہ پہلے تو مقراض کشی کروائی تھی ، اب کیا علی عظمت کے سیلون سے بال کٹوا لوں ؟ اگلی بار فورم پہ ہفتہءصفائی منائیں گے تو دیکھی جائے گی ۔

آنٹی ۔ یہ تم کیا اول فول بولتے رہتے ہو ، منع کرتی تھی کہ جاسوسی ناول کم پڑھا کرو ۔


یازغل ۔ امی جان، پیاری امی جان ، تسی گریٹ ہو ، بھلا ہو کیا خوب یاد دلایا ، آج " آخری چیخ " کے آخری چھ صٍحے کمپوز کر کے جان چھڑانی ھے ، کل رات تو موقع ہی نہیں ملا ۔ (خود کلامی )


آنٹی ۔ (گھورتے ہوئے )
" کس کی چیخ ؟"


یازغل ۔ کسی کی نہیں وہ فلم کا نام ھے ناں ، اچھا یہ میرا لیپ ٹاپ تو سائیڈٹیبل سے پکڑا دیجئے ۔


آنٹی ۔ خبردار جو لیپ ٹاپ کا نام بھی لیا ، اٹھو ابھی جا کے پہلے نہاؤ اور یہ کمرے میں تاروں کا کیا جال بچھایا ہوا ھے ؟


یازغل ۔ یہ جو تاروں کے تمہیں جال نظر آتے ہیں
ان میں دو چار ہی بیکار نظر آتے ہیں
ون اردو پہ ھے شاعری کا مقابلہ اور
صاحبِ ذوق بیمار شیمار نظر آتے ہیں

آنٹی ۔ (سر پکڑتے ہوئے )


یازغل ۔ اوہو نو ٹینشن ! آپ جائیے میں دو منٹمیں نہا کے آیا ، ویسے امی جان ایک بات تو بتائیے ؟

آنٹی ۔ کیا ؟

یازغل ۔ چچا غالب کو سب سے پہلے کس نے چچا کہا تھا ، کچھ معلومات ہیں اس بارے میں ؟


آنٹی ۔ (غصے سے گھورتے ہوئے )


یازغل ۔ اچھا اچھا ٹھیک ھے میں تو یونہی جنرل نالج کیلئے پوچھ رہا تھا ، ابا جی سے پوچھ لوں گا ۔ (خود کلامی )

آپ جائیے آپ کیلئے کچھ پوائنٹس کا نذرانہ ۔


تھوڑی دیر بعد چھوٹی کی آواز آتی ھے ۔ بھائی تیار ہیں مجھے بھی راستے میں چھوڑنا ھے یونیورسٹی ۔


یازغل ۔ کیا مصیبت ھے کوئی مجھے شاعری بھی کرنے دیگا ، ابھی فرخ بھائی کا انٹرویو بھی مکمل کرنا ھے ، یہ فیروزالغات بھی نہیں مل رہی ، ضرور چھوٹی کا ہی کام ھے ۔

چھوٹی بہن ۔ بھائی اٹھ جائیں ، امی غصے میں تپی ہوئی آرہی ہیں ۔


یازغل ۔ کیا واقعی ؟

اچھا تم یہ بتاؤ کہ شکاری (دسواں حصہ ) کے کتنے صفحے سکین کیے ، کچھ کیے بھی یا نہیں ؟

بہن ۔ بھائی کس مصیبت میں پھنسا دیا ، ابھی پچیس صفحے ہی سکین کیے تھے کہ سکینر کی " آخری چیخ " نکل گئی ۔


یازغل ۔ نہیںننننننننننننننننننننن ننن ، کیا یہ واقعی ہو گیا ھے ؟

اس حقیقت کا فسانہ بن نہ جائے کہیں
میری سیلری کا جنازہ نکل نہ جائے کہیں
ابھی تو شکاری بھی مکمل نہیں ہوا
ایک ہزار ایک مشن راستے میں بکھر نہ جائے کہیں


آنٹی بیلن لے کے کمرے میں داخل ہوتی ہیں ۔

یازغل لیپ ٹاپ سمیت باتھ روم میں چھلانگ لگاتے ہیں ۔


ڈیڑھ گھنٹہ بعد


آنٹی ۔ یہ لڑکا ابھی باتھ روم سے برآمد نہیں ہوا ھے ؟ کیا دو مہینے کا اکٹھا نہاؤگے ؟



یازغل باتھ روم سے

۔ کیوں مجھے نکالا تھا کمرے سے نہانے کے واسطے
پانی کا یہاں کال ھے اب میرا انتظار کر

HumairaCh
07-04-2017, 08:56 AM
ایک دن سمارا جی کے ساتھ


ایک دن مہتمم خاص (ٹیم بھائی) کا میسج آیا کہ آپ نے آج ون اردو کی ایک اور داروغیء خاصی (داروغہء خاص کی اس سے بہتر مؤنث بتا کر شکریہ کا موقع لیں) سمارا جی کا انٹرویو لینا ہے۔ اور اتوار تک یہ انٹرویو چھپ جانا چاہئے۔
ہم نے سمارا جی سے رابطہ کر کے ملاقات کا وقت مانگا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ اب کیا کیا جائے یاخدا۔ یہ تو مسئلہ ہی ہو گیا ہے(ٹیم بھائی تو ہمیں بلیک لسٹ کر دیں گے)۔ پھر سے فون کیا اور بہت منتیں کیں تو انہوں نے اس شرط پر حامی بھر لی کہ باقی دونوں داروغیوں کا انٹرویو بھی ہم ہی لیں گے۔ ہماری (جھوٹی) حامی کے بعد انہوں نے کمال مہربانی کا مظاہرہ کیا اور اپنے مصروف شیڈول (ون اردو پہ گپ شپ بھی تو ایک مصروفیت ہی ہے نا) میں سے کچھ وقت ہمیں بھی دے دیا۔
ہم نے تیزی دکھائی اور مقررہ وقت سے پہلے ہی ان کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں جا کے کیا دیکھتے ہیں کہ سمارا جی کے سامنے بہت سے چھوٹے بچے کھڑے ہیں اور سمارا جی اپنے ہاتھ میں پکڑے بہت سے صفحات میں سے ان کو تھوڑے تھوڑے پکڑا رہی ہیں۔

یہ دیکھ کر ہم حیران ہوئے۔ کچھ سمجھ نہ آیا کہ ماجرا کیا ہے۔

ان سے پوچھا کہ یہ کیا چکر ہے تو کہنے لگیں کہ
"دراصل یہ میری کورس کی کتاب تھی، لیکن میرے خیال سے اس کو اس طرح پڑھنے کا مزہ نہیں آتا، اس لئے سوچا کہ اس کو کمپوز کر لیا جائے، تو یہ محلے کے بچے تھے، سب کو کچھ کچھ صفحے بانٹ دئیے ہیں کمپوز کرنے کے لئے"
ہماری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
(کمپوزنگ کی بات ویسے بھی ہمیں سمجھ نہیں آتی)

سمارا جی نے کہا کہ آپ چائے تو ضرور پئیں گے اور میں نے کیک بھی بنایا ہے آج، وہ بھی آپ کو کھلاتی ہوں۔
یہ سن کر ہم بہت خوش ہوئے کیونکہ بھوک بھی لگی تھی۔
سمارا جی کہنے لگیں کہ آپ یہ "کچھ صفحات" ذرا کمپوز کر دیں۔ میں اتنی دیر تک چائے بنا کے لاتی ہوں۔
یہ کہہ کر ہمیں کچھ صفحات پکڑا دئیے جن کا سائز شہاب نامہ سے کچھ ہی کم تھا۔
ہم بیٹھ گئے کمپیوٹر پہ اور لگے ٹائپنگ کرنے۔
اتنی دیر میں چائے بھی آ گئی۔ سمارا جی کہنے لگیں کہ آپ ٹائپ کر لیں پھر چائے بھی کمپوز کر دوں گی۔

یہ سن کر ہماری سٹی گم ہو گئی۔
ہم: چائے اور کمپوزنگ۔،،، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے
سمارا: اوہ سوری میرا مطلب تھا کہ چائے کمپوزنگ کے بعد سرو کی جائے گی۔

یہ سن کر جان میں جان آئی۔ آخر بڑی مشکل سے صفحات مکمل کئے ہی تھے کہ ایک میسج آیا کہ "سوال پوچھا جائے"۔ اسے پڑھ کر یاد آیا کہ ہم تو یہاں انٹرویو لینے آئے تھے
(ورنہ اب تو ہمیں یہی لگنے لگا تھا کہ شاید ہم یہاں کاتب بھرتی ہو گئے ہیں)۔

اس کے بعد انٹرویو کا باقاعدہ آغاز ہوا

ہم: آپ کو کس طرح کے لوگ پسند ہیں
وہ: جی مجھے "کمپوزڈ" قسم کے لوگ زیادہ پسند ہیں۔ (اس کے ساتھ ہی ان کے ہاتھ میں کچھ مزید "شہاب نامچے" نظر آئے)۔

یہ دیکھ کر ہم بھاگنے ہی لگے تھے کہ یک دم کہنے لگیں کہ ارے آپ نے چائے نہیں پی ابھی تک اور کیک بھی نہیں لیا۔
کیک کو دیکھا تو دل خوش ہو گیا (کیونکہ ہمیں بلیک فارسٹ کافی پسند تھا)۔

ہم: ہوں،،،،،،،،، بلیک فارسٹ،،،،،،،، بہت خوب
وہ: نہیں یہ تو پائن ایپل کیک ہے (بس آنچ ذرا تیز ہو گئی تھی)

انہوں نے کیک کا ایک بڑا سا ٹکڑا کاٹا اور ہماری جانب کھسکایا۔
پہلا لقمہ لیتے ہی ڈرائنگ روم منور ہو گیا (روشن ہونے والے طبقات کی تعداد کافی زیادہ تھی)

ہم: فوڈ سٹریٹ پہ کھانوں اور اس کیک کے ذائقے میں اتنا فرق،،،،،،،، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔
وہ: (شاید بات کو الٹا سمجھتے ہوئے) وہ جی بات یہ ہے کہ کھانے کا اصل ذائقہ الفاظ یا تراکیب سے تو نہیں بتایا جا سکتا نا۔ ،،،،،،،، اور کیک لیجئے نا
(ہماری نظریں دروازے کی طرف) اس کے ساتھ ہی پلیٹ میں کیک (اور ہماری پریشانی) میں مزید اضافہ ہو گیا۔
ہم: جی صحیح کہا آپ نے۔ کھانے کی ترکیبیں تو سب ہی بتاتے رہتے ہیں۔ اصل ہنر تو حقیقی زندگی میں ہی نظر آتا ہے (پائن ایپل سے بلیک فارسٹ بنا کے دکھائے کوئی)

ایس ایم ایس: سوال پوچھا جائے

ہم: خاکم بدہن کس کی کتاب ہے؟
(ایس ایم ایس: جاگ جاؤ،،،،،،، یہ کوئز بورڈ نہیں ہے)

وہ: جی کتاب جس کی بھی ہے، لیکن اس کو کمپوز میں ہی کروں گی (یعنی کہ کرواؤں گی)
(شہاب نامچوں کی پھر سے جھلک،،، ہماری نظر دروازے پہ)
ہم: جی جی صحیح کہا آپ نے
ہم: زندگی کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں۔ ایک جملے میں بتائیے
وہ: جی زندگی ایک ایسی چیز ہے جس کو خود ہی کمپوز کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک ایک صفحہ ایسا ہے کہ آپ کو نئی سے نئی چیزیں پتا چلتی ہیں۔ اب اگر پہلے صفحے پر آپ کو ایک حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اگلے صفحے پر دوسری حقیقت کا۔ یہ بھی عجیب صورتحال ہے کہ ہر شخص یہ جانتے ہوئے بھی کہ ،،،،،،،
،،،
،،،،
،،،،،،
،،،،،،،،
گھڑی کی بڑی سوئی کا ایک پورا چکر (ہم پر غشی کا عالم طاری ہے۔ ایس ایم ایس پہ ایس ایم ایس، مگر پڑھنے کا حوصلہ نہیں ہے)
،،،
،،،،،
،،،،،،،
(ایک جملے پر مشتمل بیان جاری ہے) جب ہم اپنی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے علاقے کے رہنے والوں کا رہن سہن باقی دنیا سے الگ تھلگ تھا۔ اس فرق کو محمد بن قاسم بھی دور نہ کر سکا اور سر سید احمد خان بھی.مجھے بس اتنا پتا ہے کہ ،،،،،،،
،،،
،،،،
گھڑی کی بڑی سوئی کا ایک اور پورا چکر
(ہم پر اب نزع کا عالم ہے۔ موبائل کی بیٹری ڈاؤن ہو چکی ہے)
،،،،
(بیان ابھی بھی جاری ہے) آج کی دنیا میں چیزیں بہت بدل گئی ہیں (ہاں، شاید گول کی جگہ چوکور پہئے آ گئے ہیں)۔ اب انٹرنیٹ کو ہی لے لیجئے، پہلے یہاں سب کچھ انگلش میں ملتا تھا لیکن اب اردو میں بھی ملا کرے گا جیسا کہ آپ بھی جانتے ہوں گے اس کے لئے کمپوز کرنا پڑے گا۔ میں بھی کمپوز کروں گی۔ آپ بھی کمپوز کریں گے۔ ہم سب ہی کمپوز کریں گے۔ کمپوزنگ کے بغیر یہ دنیا ایسے ہی ہے جیسے چڑیا گھر بغیر چڑیا کے۔ سینما بغیر فلم کے اور سورج بغیر روشنی کے۔ کپموزنگ کے لئے سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ کے کچھ صفحات کمپوز کئے جائیں تاکہ اکٹھے کام نہ کرنا پڑے۔ اس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ جب بھی کمپیوٹر کو آن کریں تو ایک صفحہ کمپوز کر لیا کریں۔

(بیان جاری تھا کہ ہم نے سارا "بلیک فارسٹ" کھا کے آتما ہتیا کر لی)

بنت احمد
07-04-2017, 10:20 AM
میری گڈ مارننگ کا احوال اشتباہِ نظر جی نے لکھ ڈالا تھا۔ وہ بھی دیکھئے


داروغہ جی عرف یازغل کی صبح




یازغل باتھ روم سے

۔ کیوں مجھے نکالا تھا کمرے سے نہانے کے واسطے
پانی کا یہاں کال ھے اب میرا انتظار کر


ہاہاہا بہت برجستہ
بہت خوب

بنت احمد
07-04-2017, 10:22 AM
ایک دن سمارا جی کے ساتھ


ایک دن مہتمم خاص (ٹیم بھائی) کا میسج آیا کہ آپ نے آج ون اردو کی ایک اور داروغیء خاصی (داروغہء خاص کی اس سے بہتر مؤنث بتا کر شکریہ کا موقع لیں) سمارا جی کا انٹرویو لینا ہے۔ اور اتوار تک یہ انٹرویو چھپ جانا چاہئے۔
ہم نے سمارا جی سے رابطہ کر کے ملاقات کا وقت مانگا تو انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ اب کیا کیا جائے یاخدا۔ یہ تو مسئلہ ہی ہو گیا ہے(ٹیم بھائی تو ہمیں بلیک لسٹ کر دیں گے)۔ پھر سے فون کیا اور بہت منتیں کیں تو انہوں نے اس شرط پر حامی بھر لی کہ باقی دونوں داروغیوں کا انٹرویو بھی ہم ہی لیں گے۔ ہماری (جھوٹی) حامی کے بعد انہوں نے کمال مہربانی کا مظاہرہ کیا اور اپنے مصروف شیڈول (ون اردو پہ گپ شپ بھی تو ایک مصروفیت ہی ہے نا) میں سے کچھ وقت ہمیں بھی دے دیا۔
ہم نے تیزی دکھائی اور مقررہ وقت سے پہلے ہی ان کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں جا کے کیا دیکھتے ہیں کہ سمارا جی کے سامنے بہت سے چھوٹے بچے کھڑے ہیں اور سمارا جی اپنے ہاتھ میں پکڑے بہت سے صفحات میں سے ان کو تھوڑے تھوڑے پکڑا رہی ہیں۔

یہ دیکھ کر ہم حیران ہوئے۔ کچھ سمجھ نہ آیا کہ ماجرا کیا ہے۔

ان سے پوچھا کہ یہ کیا چکر ہے تو کہنے لگیں کہ
"دراصل یہ میری کورس کی کتاب تھی، لیکن میرے خیال سے اس کو اس طرح پڑھنے کا مزہ نہیں آتا، اس لئے سوچا کہ اس کو کمپوز کر لیا جائے، تو یہ محلے کے بچے تھے، سب کو کچھ کچھ صفحے بانٹ دئیے ہیں کمپوز کرنے کے لئے"
ہماری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
(کمپوزنگ کی بات ویسے بھی ہمیں سمجھ نہیں آتی)

سمارا جی نے کہا کہ آپ چائے تو ضرور پئیں گے اور میں نے کیک بھی بنایا ہے آج، وہ بھی آپ کو کھلاتی ہوں۔
یہ سن کر ہم بہت خوش ہوئے کیونکہ بھوک بھی لگی تھی۔
سمارا جی کہنے لگیں کہ آپ یہ "کچھ صفحات" ذرا کمپوز کر دیں۔ میں اتنی دیر تک چائے بنا کے لاتی ہوں۔
یہ کہہ کر ہمیں کچھ صفحات پکڑا دئیے جن کا سائز شہاب نامہ سے کچھ ہی کم تھا۔
ہم بیٹھ گئے کمپیوٹر پہ اور لگے ٹائپنگ کرنے۔
اتنی دیر میں چائے بھی آ گئی۔ سمارا جی کہنے لگیں کہ آپ ٹائپ کر لیں پھر چائے بھی کمپوز کر دوں گی۔

یہ سن کر ہماری سٹی گم ہو گئی۔
ہم: چائے اور کمپوزنگ۔،،، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے
سمارا: اوہ سوری میرا مطلب تھا کہ چائے کمپوزنگ کے بعد سرو کی جائے گی۔

یہ سن کر جان میں جان آئی۔ آخر بڑی مشکل سے صفحات مکمل کئے ہی تھے کہ ایک میسج آیا کہ "سوال پوچھا جائے"۔ اسے پڑھ کر یاد آیا کہ ہم تو یہاں انٹرویو لینے آئے تھے
(ورنہ اب تو ہمیں یہی لگنے لگا تھا کہ شاید ہم یہاں کاتب بھرتی ہو گئے ہیں)۔

اس کے بعد انٹرویو کا باقاعدہ آغاز ہوا

ہم: آپ کو کس طرح کے لوگ پسند ہیں
وہ: جی مجھے "کمپوزڈ" قسم کے لوگ زیادہ پسند ہیں۔ (اس کے ساتھ ہی ان کے ہاتھ میں کچھ مزید "شہاب نامچے" نظر آئے)۔

یہ دیکھ کر ہم بھاگنے ہی لگے تھے کہ یک دم کہنے لگیں کہ ارے آپ نے چائے نہیں پی ابھی تک اور کیک بھی نہیں لیا۔
کیک کو دیکھا تو دل خوش ہو گیا (کیونکہ ہمیں بلیک فارسٹ کافی پسند تھا)۔

ہم: ہوں،،،،،،،،، بلیک فارسٹ،،،،،،،، بہت خوب
وہ: نہیں یہ تو پائن ایپل کیک ہے (بس آنچ ذرا تیز ہو گئی تھی)

انہوں نے کیک کا ایک بڑا سا ٹکڑا کاٹا اور ہماری جانب کھسکایا۔
پہلا لقمہ لیتے ہی ڈرائنگ روم منور ہو گیا (روشن ہونے والے طبقات کی تعداد کافی زیادہ تھی)

ہم: فوڈ سٹریٹ پہ کھانوں اور اس کیک کے ذائقے میں اتنا فرق،،،،،،،، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔
وہ: (شاید بات کو الٹا سمجھتے ہوئے) وہ جی بات یہ ہے کہ کھانے کا اصل ذائقہ الفاظ یا تراکیب سے تو نہیں بتایا جا سکتا نا۔ ،،،،،،،، اور کیک لیجئے نا
(ہماری نظریں دروازے کی طرف) اس کے ساتھ ہی پلیٹ میں کیک (اور ہماری پریشانی) میں مزید اضافہ ہو گیا۔
ہم: جی صحیح کہا آپ نے۔ کھانے کی ترکیبیں تو سب ہی بتاتے رہتے ہیں۔ اصل ہنر تو حقیقی زندگی میں ہی نظر آتا ہے (پائن ایپل سے بلیک فارسٹ بنا کے دکھائے کوئی)

ایس ایم ایس: سوال پوچھا جائے

ہم: خاکم بدہن کس کی کتاب ہے؟
(ایس ایم ایس: جاگ جاؤ،،،،،،، یہ کوئز بورڈ نہیں ہے)

وہ: جی کتاب جس کی بھی ہے، لیکن اس کو کمپوز میں ہی کروں گی (یعنی کہ کرواؤں گی)
(شہاب نامچوں کی پھر سے جھلک،،، ہماری نظر دروازے پہ)
ہم: جی جی صحیح کہا آپ نے
ہم: زندگی کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں۔ ایک جملے میں بتائیے
وہ: جی زندگی ایک ایسی چیز ہے جس کو خود ہی کمپوز کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ایک ایک صفحہ ایسا ہے کہ آپ کو نئی سے نئی چیزیں پتا چلتی ہیں۔ اب اگر پہلے صفحے پر آپ کو ایک حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اگلے صفحے پر دوسری حقیقت کا۔ یہ بھی عجیب صورتحال ہے کہ ہر شخص یہ جانتے ہوئے بھی کہ ،،،،،،،
،،،
،،،،
،،،،،،
،،،،،،،،
گھڑی کی بڑی سوئی کا ایک پورا چکر (ہم پر غشی کا عالم طاری ہے۔ ایس ایم ایس پہ ایس ایم ایس، مگر پڑھنے کا حوصلہ نہیں ہے)
،،،
،،،،،
،،،،،،،
(ایک جملے پر مشتمل بیان جاری ہے) جب ہم اپنی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے علاقے کے رہنے والوں کا رہن سہن باقی دنیا سے الگ تھلگ تھا۔ اس فرق کو محمد بن قاسم بھی دور نہ کر سکا اور سر سید احمد خان بھی.مجھے بس اتنا پتا ہے کہ ،،،،،،،
،،،
،،،،
گھڑی کی بڑی سوئی کا ایک اور پورا چکر
(ہم پر اب نزع کا عالم ہے۔ موبائل کی بیٹری ڈاؤن ہو چکی ہے)
،،،،
(بیان ابھی بھی جاری ہے) آج کی دنیا میں چیزیں بہت بدل گئی ہیں (ہاں، شاید گول کی جگہ چوکور پہئے آ گئے ہیں)۔ اب انٹرنیٹ کو ہی لے لیجئے، پہلے یہاں سب کچھ انگلش میں ملتا تھا لیکن اب اردو میں بھی ملا کرے گا جیسا کہ آپ بھی جانتے ہوں گے اس کے لئے کمپوز کرنا پڑے گا۔ میں بھی کمپوز کروں گی۔ آپ بھی کمپوز کریں گے۔ ہم سب ہی کمپوز کریں گے۔ کمپوزنگ کے بغیر یہ دنیا ایسے ہی ہے جیسے چڑیا گھر بغیر چڑیا کے۔ سینما بغیر فلم کے اور سورج بغیر روشنی کے۔ کپموزنگ کے لئے سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ روزانہ کے کچھ صفحات کمپوز کئے جائیں تاکہ اکٹھے کام نہ کرنا پڑے۔ اس کی یہ صورت بھی ہو سکتی ہے کہ جب بھی کمپیوٹر کو آن کریں تو ایک صفحہ کمپوز کر لیا کریں۔

(بیان جاری تھا کہ ہم نے سارا "بلیک فارسٹ" کھا کے آتما ہتیا کر لی)


ایس ایم ایس،،
یہ کتنی پرانی تحریر ہے؟ اسے ون اردو میوزیم میں رکھوانا چاہیے،