PDA

View Full Version : سی پیک کیا ہے اور گریٹ گیم کیا ہے



Fridon
06-10-2016, 01:10 PM
سی پیک کیا ہے اور گریٹ گیم کیا ہے؟
*


ظفر اللہ خان
Humsub.com.pk


دنیا کے سیاسی اور معاشی نظام کو سمجھنے کے لئے جغرافیہ کے معاملات سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ جغرافیے پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ مستقبل میں ہونے والی معاشی کشمکش کی صورت حال واضح ہو سکے۔ یہ معلوم ہے کہ آج کی دنیا روایتی جنگ کی بجائے معاشی برتری کی جنگ لڑ رہی ہے۔ معاشی برتری کی اس جنگ میں اس وقت امریکہ، چین اور یورپی یونین مضبوط فریقین کے طور پر کھڑے ہیں۔ فری مارکیٹ اکانومی میں معاشی منڈیوں کی تلاش اس معاشی جنگ کی بنیاد ہے۔ ایک جانب امریکہ ، یورپ اور جاپان کھڑے ہیں جبکہ دوسری جانب چائنا اور روس کھڑے ہیں۔ معاشی منڈیوں کی تلاش کے ساتھ سینٹرل ایشیا کے ذخائر بھی اپنی جگہ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ سینٹرل ایشیا تک رسائی بھی دونوں بلاکوں کی ترجیحات میں شامل ہے۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ دو بلاک کون سے ہیں۔

*چائنا نے سینٹرل ایشیا میں اپنے مضبوط اثر و رسوخ کے لئے 1996 میں ’ شنگھائی فائیو ‘ (Shanghai Five) کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس میں چین، روس، قازکستان،کرغستان اور تاجکستان شامل تھے۔ اس تنظیم کے بنیادی مقصد کا تعین وہ پہلا معاہدہ (Deepening Military Trust in Border Regions) کرتا ہے جس پر ان ممالک نے 26اپریل 1996کو شنگھائی میں دستخط کئے۔ اس معاہدے کا مقصد ایک ایسی تنظیم کا قیام تھا جو آپس کے سرحدی علاقوں میں دفاعی تعاون پر مشتمل تھا۔ 24اپریل 1997کو انہوں نے ماسکو میں ایک اور معاہدے ( Treaty on Reduction of Military Forces in Border Regions) پر دستخط کئے جو سرحدی علاقوں میں افواج کی کمی سے متعلق تھا۔ شنگھائی فائیو کے اگلے دو سمٹ بالترتیب 1998 الماتے (قازکستان )، 1999بشکک (کرغزستان) میں کوئی قابل ذکر معاہدہ نہیں ہوا۔ 2000 کے سمٹ دوشنبے (تاجکستان) میں (oppose intervention in other countries) دوسرے ممالک میں مداخلت کی مخالفت اور انسانی حقوق(protecting human rights) کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

http://i1.wp.com/www.humsub.com.pk/wp-content/uploads/2016/10/OBOR.jpg

2001 *میں ازبکستان کی شمولیت کے ساتھ اس تنظیم کا نام بدل کر ’شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن‘ ( Shanghai Cooperation Organisation) *رکھا گیا اور اس کے مقاصد کو پھیلا کر یوریشین (Eurasian) ممالک میں سیاسی، معاشی اور دفاعی تعاون جیسے شعبوں میں مدد اور تعاون کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اس کے علاوہ چین اور روس میں ایک معاہدہ (2001 Sino-Russian Treaty of Friendship) کا بیس سالہ معاہدہ ہوا۔ یہ معاہدہ بنیادی طورچین اور روس کے سیاسی اور معاشی مفادات کے تحفظ کا معاہدہ تھا۔ چین نے اپنی معاشی برتری اور سینٹرل ایشیا تک آسان ترسیل جبکہ روس نے معیشت میں بہتری کی خاطر SCO کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔ جولائی 2015 میں *SCOنے فیصلہ کیا کہ پاکستان اور بھارت کو *SCOکا باقاعدہ ممبر بنایا جائے۔ جون میں 2016 تاشقند میں پاکستان اور ہندوستان نے الحاق کے دستاویز(Memorandum on Accession)پر دستخط کئے۔ اس وقت SCO میں چار ممالک، افغانستان، بیلا روس، ایران اور منگولیا کو مبصر ممالک (Observer States) کی حیثیت حاصل ہے۔ چھ ممالک، آرمینیا، آزربائی جان، ترکی، سری لنکا،نیپال اور کمبوڈیا کو ڈائیلاگ پارٹنر (Dialogue Partners) کی حیثیت حاصل ہے۔ جبکہ تین ممالک، ترکمانستان، آسیان(ASEAN) اور سی آئی ایس (Commonwealth of Independent States) کو شریک مہمان(Guest Attendances)کی حیثیت حاصل ہے۔ آنے والے وقتوں میں ان تمام ممالک کو SCO کے باقاعدہ رکن ممالک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان ممالک اورباقی یورشین ممالک کی شرکت سے آنے والے دور میں ماہرین SCO کو ایک مضبوط معاشی بلاک کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ ان کے مقابل میں امریکہ اور یورپ کی مضبوط معاشی قوتیں کھڑی ہیں۔ مستقبل کے معاشی برتری کی جنگ میں برسرپیکار قوتیں یہی ہوں گی۔

*دوسری طرف چین نے حالیہ کچھ برسوں میں دنیا کی معاشی سرگرمیوں میں کم و بیش اپنا سکہ جما لیا ہے۔ اس معاشی جنگ میں منڈیوں کے حصول کے لئے چین کے صدر زی جین پنگ نے ایک خواب دیکھا ۔ معاملہ یوں ہے کہ ترقی یافتہ اقوام صرف خواب نہیں دیکھتے بلکہ اس کو عملی جامہ پہنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ چینی صدر کے اس خواب کو اوبار ( One Belt, One Road)کا نام دیا گیا۔ اوبار دراصل (The Silk Road Economic Belt and the 21st-century Maritime Silk Road) کا نام ہے۔ یہ ٹریلین ڈالرز کا منصوبہ ہے جس میں کم و بیش ساٹھ ممالک شامل ہوں گے۔ 116 بڑے منصوبے ہیں۔ دس سالہ منصوبہ ہے اور چائنا کے مطابق اس کی تکمیل پر چین سالانہ ٹریلین ڈالرز کا بزنس کرے گا۔ اوبار کے دو حصے ہیں۔ بری راستوں کے حصے کو (Silk Road Economic Belt) کہا جاتا ہے جبکہ بحری راستوں کے حصے کو (Maritime Silk Road) کا نام دیا گیا ہے۔ SREB *میں چھ بڑے اکنامک کاریڈورز( انہی میں سے ایک سی پیک ہے)، ریلوے لائنز اور معاشی زون شامل ہیں۔ اس میں ایک تو پرانے سلک روٹ کو ،جو مشرقی چائنا سے لے کر سنٹرل ایشیا سے گزرتے ہوئے یورپ تک جاتا تھا، کو دوبارہ سے بنانے کا منصوبہ ہے۔ اس میں ایک روٹ سی پیک ہے۔ ایک روٹ نیپال، بنگلہ دیش اور انڈیا تک جاتا ہے۔ ایک سنیٹرل ایشیا سے ہوتے ہوئے یوریشیا(Eurasia) *تک جا رہا ہے۔ ایک منگولیا تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک روٹ ایران سے ہوتے ہوئے ترکی اور یورپ کے دروازے سے ہوتا ہوا روس تک جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ریلوے لائن کو ( New Eurasian Land Bridge) کہا جا رہا ہے جو چین کو سنٹرل ایشیا سے گزار کر سنٹرل یورپ کے تک اور مشرقی افریقہ سے ملا رہا ہے۔ چائنیز رپورٹوں کے مطابق اس منصوبے میں چین کے صوبہ (Lianyungang) سے یورپی ملک نیدر لینڈ کے شہر (Rotterdam) تک 11,870 کلومیٹر کی ریلوے لائن شامل ہے۔

https://www.google.com.pk/search?q=silk+road+economic+belt&prmd=niv&source=lnms&tbm=isch&sa=X&ved=0ahUKEwiLurOe28XPAhUCbhQKHWHWA90Q_AUICCgC&biw=360&bih=567#imgrc=HPEdlTRyx1fzQM%3A

*اس منصوبے کا دوسرا حصہ MSR ہے جو بحری راستوں پر مشتمل ہے ۔ یہ چین کے جنوبی ساحلوں سے لے کر ملائیشیا کے ساتھ ملاکا کے ساحل تک، ملاکا سے انڈونیشیا کے نیم خود مختار صوبے (ACEH) تک، اچے سے لے کر سری لنکا تک، سری لنکاسے یہ انڈین اوشین میں داخل ہوں گے۔ انڈین اوشین سے ایک طرف تو افریقہ میں کینیا تک جائیں گے، جبکہ اسی روٹ کے دائیں جانب خلیج عدن *(Gulf of Aden)سے ہوتے ہوئے بحیرہ احمر( Red Sea) *میں داخل ہوں گے اور وہاں سے بحیرہ روم(Mediterranean Sea) *میں جائیں گے۔

سی پیک دراصل چین کے اس *OBORکا بنیادی جزو ہے۔ دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ چین جنوبی کے ساحلوں سے مالاکا تک 1807 ناٹیکل میل کا فاصلہ ہے جو قریباَ 3346 کلومیٹر بنتا ہے۔ ملاکا سے سری لنکا تک 1332 ناٹیکل میل کا فاصلہ بنتا ہے جو 2466 کلومیٹر بنتا ہے۔ سری لنکا سے خلیج عدن میں اترنے کے لئے 2380 ناٹیکل میل کا فاصلہ ہے جو4400 کلومیٹر بنتا ہے جبکہ سری لنکا ہی سے خلیج اومان میں اترنے کے لئے 1895 ناٹیکل میل کا فاصلہ بنتا ہے جو3509 کلومیٹر بنتا ہے۔ اس کے برعکس گوادر سے اومان تک قریباَ 208 ناٹیکل میل کا فاصلہ ہے جو 385 کلومیٹر بنتا ہے۔ گوادر سے خلیج عدن میں اترنے کے لئے1371 ناٹیکل میل کا فاصلہ ہے جو 2539 کلومیٹر بنتا ہے۔ آسانی کے لئے یوں سمجھ لیجیے کہ چین کے ایک بحری جہاز کوشنگھائی پورٹ سے نیدر لینڈ کے شہر روٹرڈیم تک پورٹ پہنچنے کے لئے 11999 ناٹیکل میل کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا جو22222 کلومیٹر بنتا ہے جبکہ گودار سے روٹرڈیم تک یہی فاصلہ 6785 ناٹیکل میل بنتا ہے جو12565 کلومیٹر بنتا ہے۔ اس پس منظر میں گوادر کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ رہی ہے۔

(اگر آپ جدول نمبر2 پر غور کریں تو اوبار(OBOR) کی بری سڑک(SREB) سینٹرل چائنا کے صوبے شانچی(Shaanxi) سے شروع ہو کر شمال مغربی صوبوں اورمچی(Urumqi) اور قورغاس( Khorgas) تک جا کر سینٹرل ایشیا کے شمالی حصے میں داخل ہوتی ہے۔ یہاں سے یہ سڑک سنیٹرل ایشیا *میں قازکستان، کرغستان، ازبکستان اور تاجکستان سے ہوتے ہوئے مغربی ایشیا میں ایران سے ہوتی ہوئی ترکی جاتی ہے۔ ترکی جغرافیہ کے لحاظ سے جنوب مشرقی یورپ اور جنوب مغربی ایشیا *میں بحیرہ روم (MediterraneanSea) کے شمال مشرقی آخر پر واقع ہے۔ یہاں سے یہ روس میں داخل ہوتی ہے۔ روس جغرافیائی حوالے سے شمالی یورشین(Northern Eurasian) ملک ہے جو مشرق میں یورپ تک پھیلا ہوا اور شمال میں ایشیا تک آتا ہے۔ روس سے یہ شمال مغربی یورپ (North Western Europe)میں داخل ہو کر نیدرلینڈ(Nederland) تک جاتی ہے۔ پھر یہ جنوبی یورپ (Southern Europe) کی طرف اٹلی تک آتی ہے۔ اوبار(OBOR) کا بحری راستہ(MSR) جنوبی چین کے ساحلوں سے شروع ہو کر جنوب مشرقی ایشیا میں ملائشیاءاور انڈونیشیاءسے ہوتے ہوئے انڈین اوشین میں سری لنکا تک، اور افریقہ کے بحری دروازے کینیا تک جاتا ہے۔ گوادر سے اس کا راستہ ہزاروں ناٹیکل میل کم ہو کر اس کو ایک جانب خلیج فارس(Persian Gulf) کے دروازے تک لے جاتا ہے۔ اور دوسری جانب خلیج عدن(Gulf of Aden) میں لے جا کر بحیرہ احمر(Red Sea) تک پہنچاتا ہے جس کے ایک جانب پورا عرب اور دوسری جانب افریقہ پڑا ہے۔ بحیرہ احمر سے یہ راستہ بحیرہ روم (Mediterranean Sea) میں یونان اور اٹلی تک جاتا ہے۔ )

یوں اس پورے نقشے پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چین اوبار کے بری راستے کے ذریعے کم و بیش پورے ایشیا سے ہوتے ہوئے *یورپ تک پہنچتا ہے۔ اور دوسری جانب بحری راستے سے جنوب مشرقی ایشیا سے ہوتے ہوئے افریقہ اور عرب کے بیچ سے گزر کر بری اور بحری راستے کو آپس میں ملا رہا ہے۔ اوبار معاشی دنیا کے گرد ایک لکیر ہے جو چین کھینچ رہا ہے۔ یہ ایک گریٹ گیم ہے اور اس گریٹ میں گوادر کا کردار بہت اہم ہے

ابو لبابہ
08-10-2016, 04:56 AM
بہت ہی معلوماتی تحریر ہے
شیئر کرنے کا شکریہ

Sajda Sehr
08-10-2016, 06:02 PM
Thanks for sharing .