PDA

View Full Version : اللہ کے دوستوں کے ساتھ ایک دن - (سحر آزاد).



Sehar Azad
30-08-2016, 04:02 PM
اللہ کے دوستوں کے ساتھ ایک دن
(سحر آزاد)



اس وقت صبح کے ساڑھے پانچ بجے رہے ہیں اور سیالکوٹ شہر کے مشہور بس اسٹینڈ ’’لاری اڈا‘‘ پر دور دراز کے قصبوں اور دیہاتوں سے پرانی کھٹارا بسیں اس طرح بھر بھر کر آ رہی ہیں کہ ان کی چھتوں پر بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں اور کچھ لوگ بسوں کے عقب میں لٹکے ہوئے ہیں۔

یہ بسیں جب اپنی مخصوص جگہ پر پہنچ کر اپنی رفتار آہستہ کرتی ہیں تو رکنے سے پہلے ہی محنت کش جلدی جلدی بس سے اترنا شروع ہو جاتے ہیں اور جب بس رک جاتی ہے تو اس میں صرف ایسے محنت کش ہی موجود ہوتے ہیں جو کہ اپنے ساتھ مٹی اٹھانے والی ٹوکریاں، بیلچے اور کسیاں وغیرہ لے کر آتے ہیں۔ تمام محنت کشوں کے اتر جانے کے بعد اندر سے صاف ستھری استری شدہ پتلونیں اور قمیضیں پہنئے دفاتر میں کام کرنے والے ’’بابو‘‘ حضرات نکل کر قریبی موجود چائے فرشوں کے بچھائے بنچوں پر بیٹھ کر چائے اور رس کا ناشتہ کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔

وہ محنت کش جو کہ کسی ٹھیکیدار کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں یا کسی کمپنی میں ’’ان رولڈ یا ڈیلی ویجیز‘‘ پر ہوتے ہیں وہ اور ’’بابو صاحبان ‘‘ قریبی موجود اسٹینڈ سے ویگنیں پکڑ کر اپنی اپنی کمپنی کی راہ پکڑتے ہیں۔ جہاں پر بڑی بڑی توندوں والے ٹھیکیدار اور سیٹھ صاحبان ان کا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔

جب کہ ایسے محنت کش جو کہ ’’ڈیہاڑی‘‘ پر کام کرتے ہیں۔ بس اسٹینڈ سے پیدل ہی کچہری چوک سے ہوتے ہوئے مین بازار کے سب سے مشہور چوراہے شاھین چوک جسے عرف عام میں ’’ڈرماں والا چوک‘‘ بھی کہتے ہیں میں جا کر اپنے اپنے اوزاروں سمیت اکٹھے ہو جاتے ہیں اور کسی بھی ایسے شخص کا انتظار کرنے لگتے ہیں جو کہ ان کے روزی کا وسیلہ ثابت ہو۔

جب بھی کوئی شخص موٹر سائیکل یا گاڑی پر سوار ان کے قریب آ کر رکتا ہے تو یہ مزدور ایک جتھہ بنا کر اس کے گھیر لیتے ہیں۔ جتنے اشخاص کی ضرورت ہوتی ہے اتنے لوگوں کو وہ شخص ساتھ بٹھا کر یا جگہ بتا کر چلا جاتا ہے اور باقی لوگ پھر سے کسی نئے شخص کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔

عموماً ساڑھے آٹھ بجے تک تمام صحت مند اور ہنر مند مزدوروں لے جائے جا چکے ہوتے ہیں اور باقی صرف کمزور اور ضعیف مزدور رہ جاتے ہیں جنہوں کوئی بھی ساتھ لیجانا پسند نہیں کرتا۔ پھر یہ لوگ وہاں سے اٹھ کر فیکٹری ایریاء میں چلے جاتے ہیں جہاں کے سیٹھ ایسے ’’ریجیکٹیڈ ‘‘ مزدوروں انتہائی کم اجرت میں ’’نان ٹیکنیکل‘‘ کاموں میں لگا دیتے ہیں۔ جہاں محنت تو بہت زیادہ ہوتی ہے مگر اجرت کچھ نہیں۔

دوسری طرف جو محنت کش کمپنیوں میں کام کرتے ہیں وہ وقت مقررہ پر کمپنیوں میں پہنچ کر اپنے اپنے حاضری کارڈ پر بذریعہ مشینی حاضری لگاکر اپنی اپنی سیٹ پر پہنچ کر کاموں میں جت جاتے ہیں۔ اور اپنے روم میں بیٹھے سیٹھ صاحب ہر پل بذریعہ سی سی ٹی وی ان کو چیک کرتے رہتے ہیں۔

دوپہر کو ٹھیک ایک بجے گھنٹی بجتی ہے اور تمام مزدور کمپنی کے احاطے میں پہنچ کر اپنی اپنی حاضری لگانے کے بعد کمپنی میں بنی ہوئی کنٹین میں کھانے کے لیے پہنچ جاتےہیں۔ کیونکہ عموماً کنٹین کا کھانا انسانوں کے کھانے کے قابل نہیں ہوتا اس لیے مزدور گھروں سے کھانے کی پوٹلیاں باندھ کر ساتھ لاتے ہیں اور اسی ٹھنڈے کھانے کو دوپہر میں تناول کرتے ہیں۔

ٹھیک پچاس منٹ بعد جونہی سوئی ایک پچاس پر پہنچتی ہے اکثر کمپنیوں کے سیٹھ جو اپنے کیبنوں میں شاندار لنچ کر چکے ہوتے ہیں۔ آ کر حاضری مشین کے پاس کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان ہی پندرہ سے بیس منٹ میں کارکنان کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مسائل ’ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ‘ میں بیان کر سکیں۔ اور اگر یہ ڈیپارٹمنٹ اچھا ہے اور کمپنی سوشل سیکیورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹ فیس جمع کرواتی ہے تو ایسے کارکن جن کے پاس سوشل سیکیورٹی کارڈ اور اولڈ ایج بینیفٹ کارڈ کا اجراء کرتے ہیں وہاں پر جو محنت کش پانچ سال تک ٹک جاتا ہے وہ خوش قمست ہوتا ہے۔ کیونکہ پانچ سال تک مسلسل کام کرنے اور سوشل سکیورٹی اور اولڈ ایج بینفٹ فیس جمع کروانے سے اسے کچھ سہولتیں مل جاتی ہیں۔

اسے خوشی غمی میں شریک ہوتے اس بات کا ڈر نہیں رہتا کہ غیر حاضری کی وجہ سے اس کی تنخواہ میں کٹوتی نہیں ہو گی کیونکہ وہ 12(پوری تنخواہ) عمومی 16 بیماری کی(آدھی تنخواہ) اور 14 (تنخواہ) سالانہ چھٹیوں کا حق دار ہوتا ہے۔ اور نہ ہی حاملہ خاتون کارکن ان خاص دنوں میں اپنے گھر کا چولہا ٹھںڈا پڑھنے کی فکر ہوتی ہے کیونکہ وہ 90دن (پوری تنخواہ) کی چھٹیوں کی حقدار ہوتی ہے۔ بیماری، حادثات اور ڈلیوری کے لیے سوشل سکیورٹی اسپتال ان کی خدمت کے لیے موجود ہوتا ہے۔

اور صرف یہ ہی نہیں بلکہ جتنے دن کوئی شخص بیمار یا ایڈمٹ رہتا ہے سوشل سکیورٹی اسے اتنے دنوں کی نصف تنخواہ کے برابر رقم ادا کرتی ہے۔اور ایڈمٹ ہونے پر ناشتہ اور کھانا بھی دیتی ہے۔

اور کسی بھی مرد یا خاتون کارکن کی بیٹی کی شادی کی صورت میں اسے دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی کیونکہ سوشل سکیورٹی اس شخص کو بیٹی کی شادی کے بعد 75،000روپے فراہم کرتی ہے۔

اور کارکن کی خوش قسمتی سے اس کی ریٹائرمنٹ سے پہلے کسی بھی کمپنی میں پانچ سال تک مسلسل اولڈ ایج بینیفٹ فیس جمع ہوتی رہی ہے تو اسے ساٹھ سال کی عمر کے بعد 2,785.00/=روپے ماہانہ پینشن ادا کی جاتی ہے جو اسے قریبی ڈاکخانے سے مل جاتی ہے۔ اور ہر بجٹ میں اس رقم پر اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔

مگر بہت کم لوگ ان سہولیات کو جانتے اور سمجھتے ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں ورنہ بہت سے کارکنان کو ’ڈیلی ویجز ‘ پر شو کر کے نا ہی ان کی سوشل سکیورٹی فیس جمع کروائی جاتی ہے اور ناہی اولڈ ایج بینفٹ فیس جو کہ کمپنی کی زمہ دار ی ہوتی ہے۔


اس پندرہ منٹ کے وقفے کے بعد تمام مزدوروں کو پھر سے ’’ورکنگ ہالوں‘‘ میں بھیجا جاتا ہے۔ جہاں شام پانچ بجے تک مختلف مشینوں کے ساتھ سخت محنت کر کے وہ سیالکوٹ اور پاکستان کی ترقی میں اکلیدی کردار ادا کرتے ہوئے سخت تھک جاتے ہیں۔

پانچ بجے سیٹھ صاحب پھر مشین کے پاس آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پانچ بج کر پانج منٹ پر گھنٹی کو بجایا جاتا ہے۔ لوگ سیٹھ کے خوف سے پانچ ، دس منٹ بعد ڈرتے ڈرتے باہر نکلتے ہیں۔ کمپنی کی عمارت سے باہر نکل کر قریبی ویگن اسٹاپ کا رخ کرتے ہیں جہاں پر ویگنیں انہی کے جیسے مزدوروں سے لبالب بھری ان کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں وہ وہاں سے بس اسٹاپ اور بس اسٹاپ سے اپنے اپنے دیہات کو نکل جاتے ہیں۔

اگر کسی کو بیٹھنے کے لیے سیٹ مل جائے تو اس کی خوش قسمتی ورنہ بارہ گھنٹوں کی شدید محنت کے بعد پھر سے ایک دو گھنٹے کے لیے کھڑے رہ کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ سفر ہر نئے دن دہرایا جاتا ہے پھر چاہے اندھی ہو یا طوفان، بارش ہو یا سخت گرمی ہو، ہڑتال ہو یا کوئی جلوس، یہ سفر ہمیشہ چلتا ہی رہتا ہے۔ اور یہ سفر ہی محنت کش کے گھر کا چولہا اور کنبے کا بوجھ سنھبالے رکھتا ہے۔

اس وقت تک جب تک کہ محنت کش کے بیٹے اس کے بازو نہ بن جائیں یا بڑھاپا اس سے ہلنے جلنے کی طاقت نہ چھین لے۔
محنت کش کا یہ سفر بہت دشوار اور مصیبتوں بھرا ہوتا ہے مگر اگر اس پر مشقت سفر کے دوران کوئی محنت کش اپنے رتبے اور عظمت کو جان جائے تو وہ کبھی بھی افسوس کا کوئی ایک لفظ اس کے منہ تک نہ لائے

Sabih
30-08-2016, 04:15 PM
اللہ کریم سب مسلمانوں کی مشکلات اور پریشانیاں دور فرمائے۔ آمین
لاہور میں یہ مزدوروں والا سین دیکھ چکا ہوں جو بے چارے دیہاڑی کی آرزو میں سڑک کنارے سارا دن منتظر رہتے ہیں۔
بہت کٹھن زندگی ہے ان کی بھی لیکن شاید وہ ہم ناز و نعم میں پلے ہوؤں سے زیادہ صابر و شاکر ہوتے ہیں۔

Amir Shahzad
30-08-2016, 04:33 PM
اللہ تعالی ہر ایک پر اپنا کرم فرمائے آمین

بہت اچھی تحریر ہے آزاد بھائی

Sehar Azad
30-08-2016, 04:41 PM
اللہ تعالی ہم سب پر اپنا کرم فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی مسئلہ ہے ان لوگوں کو اپنے حقوق کے بارے میں ذرا برابر آگاہی نہیں۔ نا ہی ان کی کوئی تنظیم ہے۔ اس چھوٹے سے شہر میں کام کے لیے آنے والے لاکھوں مزدور اگر صرف اپنے حقوق جان جائیں تو ان کی اور ان کے علاقوں کی زندگیاں سنور جائیں گی

اللہ کریم سب مسلمانوں کی
مشکلات اور پریشانیاں دور فرمائے۔ آمین
لاہور میں یہ مزدوروں والا سین دیکھ چکا ہوں جو بے چارے دیہاڑی کی آرزو میں سڑک کنارے سارا دن منتظر رہتے ہیں۔
بہت کٹھن زندگی ہے ان کی بھی لیکن شاید وہ ہم ناز و نعم میں پلے ہوؤں سے زیادہ صابر و شاکر ہوتے ہیں۔

- - - Updated - - -

بہت بہت شکریہ بھائی

اللہ تعالی ہر ایک پر اپنا کرم فرمائے آمین

بہت اچھی تحریر ہے آزاد بھائی

- - - Updated - - -

بہت بہت شکریہ بھائی

اللہ تعالی ہر ایک پر اپنا کرم فرمائے آمین

بہت اچھی تحریر ہے آزاد بھائی