PDA

View Full Version : فارس بھائی اور ان کا روزہ



Shaista Zia
23-07-2014, 10:17 PM
فارس بھائی کے روزے کا احوال

اف اس بار کس قدر سخت روزے ہیں نا اللہ میاں جی، ایک تو گرمی کے لمبے روزے اور اوپر سے لوڈشیڈنگ نے مار ہی ڈالا ہے، فارس بھائی نے دل ہی دل میں اللہ میاں سے شکایت کر ڈالی۔ کیا کرتے بیچارے پہلے روزے سے ہی مشکل میں پڑے تھے اور اب پچیسواں روزہ آن لگا تھا۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے تو فارس بھائی کی بس ہی ہو گئی تھی۔ ارے ارے یہ کوئی میٹرو بس نہیں ہے، نہ ہی کوئی شٹل بس ہے، ارے ارے ایک تو آپ لوگ نتائج اخذ کرنے میں بڑی جلدی کرتے ہیں بھئی میں نے کب کہا کہ یہ پاکستان کی وہ ہارسنگھار والی بس ہے جس کے پیچھے لکھا ہوتا ہے، پاس کر یا برداشت کر۔ اور اس طرح کی بسیں اتنی آسانی سے تھوڑی کسی کی ہوتی ہیں، لاکھوں لگتے ہیں تب جا کے ہوتی ہیں کسی کی، فارس بھائی کی تو وہ والی بس ہوئی تھی جس کا مطلب ہوتا ہے بکری بہہ جانا۔ اب جن کو اس کا مطلب نہیں پتا وہ فارس بھائی سے پوچھ لیں۔

آج جانے کیوں فارس بھائی کو روزہ کچھ زیادہ ہی لگ رہا تھا۔ صبح سے دل بہلانے کی ہر ممکن کوشش کر چکے تھے مگر روزہ تھا کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آج کلینک سے بھی جلدی واپس آنا پڑ گیا تھا اس لئے دن اور بھی مشکل سے کٹ رہا تھا۔ اور تو کلینک سے جلدی آنے کی وجہ بھی روزہ ہی تھا حالانکہ کلینک میں ٹائم پھر کچھ جلدی گزر جاتا۔ لیکن یہ بھی ایک دل گداز داستان تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ فارس بھائی کلینک میں بیٹھے تھے کہ ان کے باوا آدم کے زمانے کے نایاب و کمیاب دماغ میں ایک اچھوتا آئیڈیا آیا۔ ایک دم سے اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور کلینک میں موجود سب مریضوں کو بھی کہا،۔
چلو سب کے سب کھڑے ہو جاؤ۔
مریض بیچارے گھبرا گئے لیکن دل ہی دل میں سوچا شاید یہ بھی کوئی نیا طریقہِ علاج ہے تو ہو جاتے ہیں کھڑے۔ بیچارے ابھی مشکل سے ہی کھڑے ہوئے تھے کہ فارس بھائی بولے،۔
چلو قومی ترانہ پڑھو،۔
کیا؟؟؟ سب مریضوں کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔
منہ بند کرو اور ترانہ پڑھو جیسے صبح صبح اسکول کی اسمبلی میں پڑھتے ہیں۔ فارس بھائی غصے سے بولے۔
لیکن ڈاکٹر جی اگر ہم نے منہ بند کر لیا تو ترانہ کیسے پڑھیں گے؟ ایک مریض بیچارہ ڈرتے ڈرتے بولا کہ کہیں ڈاکٹر صاحب اس کی بولتی ہمیشہ کے لئے ہی بند نہ کر دیں۔
لیکن فارس بھائی نے آگے سے کچھ نہ کہا بلکہ غصیلی نظر سے دیکھا کہ مریضوں کے منہ سے قومی ترانہ خودبخود ایسے روانی سے نکلنے لگا جیسے غلطی سے کسی مریض کی ڈرپ تیز ہو جائے اور اس کے قطرے تیزی سے بہنے لگیں۔ خیر مریض بیچارے ترانہ ایک بار پڑھ چکے تو فارس بھائی بولے اف اتنا بے سُرا ترانہ، سارے کے سارے سُر ہی خراب لگائے پھر سے پڑھو، مریض بیچارے ڈر کے مارے پھر سے پڑھنے لگے۔ اس بار پھر فارس بھائی کو سُروں میں بے شمار غلطیاں دکھائی دیں جو وہ مریضوں کو ایسے بتا رہے تھے جیسے بہت بڑے میوزک ڈائریکٹر ہوں۔ سروں میں سے غلطیاں نکالتے فارس بھائی پاکستان آئیڈل کی بشریٰ انصاری سے شدید متاثر نظر آرہے تھے۔ خیر جب ایسا دو تین بار ہوا تو آخر ایک مریض تپ کر بولا،۔
ڈاکٹر صاحب سانوں کس جرم دی سزا دے رئے او؟
تو فارس بھائی پوری ڈھٹائی سے آگے سے بولے، وہ چودہ اگست نزدیک ہے نا تو میں سب کے دل میں جذبہَ حب الوطنی جگا رہا تھا۔ اب بے چارے مریضوں کو کیا پتا کہ اس جذبہ حب الوطنی کے پیچھے تو دراصل جذبہِ روزہ دھکیل پیش فرما تھا۔ وہ تو شکر ہے کہ مریضوں کی بھی تیسری بار کے ترانے کے بعد بس ہو گئی ورنہ ان کا ارادہ تو ان کے بیچ ملی نغموں کا مقابلہ کروانے کا اور پھر اس کے بعد خٹک ڈانس جیسے روایتی رقص پیش کروانے کا بھی تھا۔ اور تو اور ون اردو پر پاکستان کوئز کا تھریڈ بھی کھول کر احتیاطاََ پہلے ہی رکھ لیا تھا کہ اگر مقابلہ شقابلہ کروانا پڑ جاتا تو کام آتا۔ لیکن ہائے افسوس مریضوں نے ان کے سارے پلانز پر پانی پھیر دیا تھا۔ اب زور زور سے ترانہ پڑھنے کی وجہ سے کوئی مریض کہیں اور کوئی کہیں پڑا کھانس رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ مریضوں کی اس حالت کی ذمہ داری ان پر آتی اور سینئیر ڈاکٹر آکر ان کو بے بھاؤ کی سناتے یہ اپنا ڈاکٹری کا بستہ اٹھا کر گھر کو چل دئیے۔ حالانکہ آج کلینک میں ایک پرتکلف افطاری کا اہتمام تھا اور کیا مزے مزے کے آئٹمز تھے۔ یہ تب سے مریضوں کو کوسے جا رہے تھے کہ کمبختوں میں وطن کی محبت نام کو نہیں ہے لوگوں کی غیبتیں کرتے گلے درد نہیں کرتے تین چار مرتبہ ترانہ کیا پڑھ لیا ان کی حالتیں خراب ہو گئیں۔ کام چور کہیں کے۔ یقیناََ اس کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ ہونہہ دل تو چاہ رہا تھا سب کے سب کو اٹھا کر سرد خانے کے ایک ایک باکس میں بند کر کے تالا ڈال دوں اور چابی سمندر میں پھینک دوں لیکن چابی پھینکنے کے لئے کراچی جانا پڑتا جو ناممکن تھا اس لئے یہ ارادہ ترک کرتے ہوئے گھر کو ہو لئے۔

گھر کے راستے میں چاچے نوازے کا گھر پڑتا تھا جو ان کا مزارعہ بھی تھا۔ سوچا چلو اسی سے سلام دعا ہو جائے شاید تھوڑا اور روزہ کٹ جائے۔ جیسے ہی ان کے گھر پہنچے ان کے گدھے نے فارس بھائی کو دیکھتے ہیں ڈھینچوں ڈھینچوں شروع کر دی۔ فارس بھائی اور گدھا ایک ساتھ کھیل کر جوان ہوئے تھے اب معلوم نہیں گدھے کی یادوں کی پٹاری میں خوشگوار یادیں تھیں یا پھر تلخ، معلوم نہیں فارس بھائی کی شکل میں اس کو لنگوٹیا یار نظر آتا تھا یا جانی دشمن یا پھر کوئی اور ہی مخلوق۔ لیکن جو بھی ہے وہ آج تک جب بھی فارس بھائی کو دیکھتا ڈھینچوں ڈھینچوں کرنا ہرگز نہ بھولتا۔

فارس بھائی نے گدھے کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کا کان کھینچ ڈالا جس سے اس کی ڈھینچوں ڈھینچوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہو گیا۔ بس اس کے ساتھ ہی ان کی رگِ شرارت پھڑک اٹھی اور لگے سب جانوروں کو تنگ کرنے۔ بھینس کے کٹے کے گلے میں سے رسی کھول کر اپنی اسٹیتھ اسکوپ ڈال دی۔ جس پر کٹے نے خود کو ڈاکٹر ڈاکٹر محسوس کرنا ابھی شروع ہی کیا تھا کہ اس کو احساس ہوا کہ وہ آزاد ہے، اس نے ڈاکٹر پن کو کسی اور وقت پر موقوف کرتے ہوئے اس چارے کی جانب دوڑ لگا دی جو چاچے نوازے نے سب جانوروں کے لئے تیار کر رکھا تھا لیکن اب کٹا اس پر ایسے ٹوٹ پڑا تھا جیسے پاکستانی عوام شادی کے کھانے پر ٹوٹ پڑتی ہے۔ اس دوران فارس بھائی چاچے نوازے کے کتے کی دم کے ساتھ کنویں سے پانی نکالنے والا خالی ڈول باندھ چکے تھے جس سے پیچھا چھڑانے کے لئے وہ بیچارہ ایک کونے سے دوسرے کونے میں بھاگ رہا تھا۔ خالی ڈول زمین پر لگنے سے عجیب و غریب آوازیں پیدا ہوتیں جس سے کتا خوفزہ ہو کر بھونکنے کا عمل شروع کر دیتا۔ اس کے ساتھ ہی فارس بھائی نے بکری کو جانے کس چیز کا انجکشن لگا دیا کہ وہ بیچاری عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگ گئی، کبھی گول گول گھومتی، کبھی اچھلنے لگتی اور پھر زور زور سے میں میں کرنے لگتی۔ ان عجیب و غریب آوازوں سے حواس باختہ، حیران و پشیمان چاچا نوازا لنگی اور بنیان میں اپنے کمرے سے برآمد ہوا۔ اسکی آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ بیچارہ نیند سے جاگا ہے اور اس ہڑبونگ میں اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر کونسی قیامت ٹوٹ پڑی ہے جانوروں پر۔ جب حواس بحال ہوئے تو اس کو سمجھ ہی نہ آئے کہ وہ کس جانور کو پہلے قابو میں کرے۔ اسی چکر میں کٹا، کتا، بکری اور چاچا نوازا ایک دوسرے کے پیچھے دیوانہ وار بھاگ رہے تھے۔ محلے کی عورتیں اور بچے بھی یہ چیخ و پکار سن کر چاچے نوازے کے دروازے سے اندر جھانک رہے تھے اور ہنس رہے تھے اور فارس بھائی اس صورتِ حال کا مزہ لیتے ہوئے ہنس ہنس کر بے حال ہوئے جا رہے تھے۔ مزا تو تب آیا جب ان کی نظر چاچے نوازے کے پالتو بندر پر پڑی جو فارس بھائی کے ساتھ ساتھ اس صورتِ حال کو خوب انجوائے کر رہا تھا۔ فارس بھائی نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کے سر پر زوردار چپت رسید کی، اب بندر چونکہ لگی لپٹی رکھنے کے قائل نہی ہوتے سو اس نے آن کی آن میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے کھینچ کے جھانپڑ رسید کر ڈالا جس کی وجہ سے فارس بھائی کو جو بھوک اور پیاس کی وجہ سے تارے نظر آرہے تھے وہ تاریکی کی نظر ہو گئے اور مکمل اندھیرا چھا گیا اور فارس بھائی کے کانوں میں حاظرین و ناظرین کا ایک دل شگاف قہقہ گونج اٹھا جو شاید بندر کی اس حرکت سے محظوظ ہونے کے نتیجے کے طور پر تھا۔

آنکھوں کے آگے سے اندھیرا چھٹنے کے بعد انہوں نے فوراََ گھر کا رُخ کیا اور اب اس وقت سے گھر میں بیٹھے مکھیاں مارے جا رہے تھے۔ ون اردو پر بھی لاگ ان ہوئے لیکن آج تو ون اردو پر بھی کوئی ایکٹیویٹی نہیں تھی۔ فارس بھائی نے ایک ایک کر کے سب کے لتے لینے شروع کئے۔ پتا نہیں کہاں سارے کے سارے گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہے ہیں۔ کوئی میچ بھی تو نہیں ہورہا ورنہ عبداللہ اور یاز بھائی رونق لگائے رکھتے ہیں۔ میچ نہ بھی ہو تب بھی عبداللہ ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے لیکن لگتا ہے بھینس کے اوپر بیٹھ کر ڈسکو سنگھ دیکھنے کے چکر میں بھینس بھی تھوڑی ڈسکو ہو گئی اور اس کا پاؤں پڑنے کی وجہ سے یا تو عبداللہ کا لیپ ٹاپ ٹوٹ گیا یا اس کی کوئی ہڈی۔

عمران بھائی کے اندر کے شاعر کو بھی روزہ لگنے لگا ہے تبھی تو آجکل شاعری کے تھریڈز ویران پڑے ہیں۔ یا پھر پیارے افضل کی آخری قسط کا سراغ لگانے چلے گئے ہیں۔

حامد میر اوہ سوری مطلب کشتاج ہوتی تو کم سے کم کسی کا انٹرویو ہی کر لیتی۔ ہے تو بورنگ ترین کام کسی کی پسند ناپسند پڑھنا لیکن کر ہی لیتا مارے باندھے۔ اور جتنا لمبا انٹرویو وہ لیتی ہے تب تک روزہ کیا کھلنا تھا عید ہی آ جاتی۔

فیصل بھائی کی بھی لگتا ہے آجکل گھر میں پٹائی کم کم ہو رہی ہے اسی لئے بیویوں کے ظلم و ستم لطیفوں کی شکل میں عوام الناس تک پہنچانے میں کوئی سرعت نہیں دکھا رہے۔

آج تو پردیسی بھائی بھی نہیں آئے ورنہ طرح طرح کی تصاویر دیکھ کر ہی دل بہلا لیتا۔

ہاشمی بھائی بھی کسی کی سیاست پر کوئی کالم پوسٹ نہیں کر رہے۔ لگتا ہے بھاگاں جی
نے عید کے سامان کی لمبی سی لسٹ پکڑا دی ہے جس کو لینے ابھی سے ہی روانہ ہو گئے۔

اور ارمان کو تو دیکھو ابا کیا بنا فورم پر آنا ہی چھوڑ دیا۔ ایک تو پولیس والوں کے نخرے ہیں، عہدے میں پروموشن ہو جائے تو ویسے ہی کسی کو لفٹ نہیں کرواتے۔

اور حمیدی بھائی نے لگتا ہے دیگچہ پھر جلا ڈالا اور اب اس کی سزا میں روز جلے ہوئے دیگچے مانجھنے پڑتے ہیں۔

کائنات اور کوثر آپی نے بھی اتنے دن سے کوئی نئی ریسیپی نہیں پوسٹ کی ورنہ آج اماں سے فرمائش کر کے پکوا لیتا۔

شائستہ اور صائمہ آپا کے اسٹاک میں بھی لطیفے کم پڑ گئے ہیں تبھی تو دونوں آ ہی نہیں رہیں۔ سوچ رہی ہوں گی نئے لطیفے ملیں تو ہی جائیں اور بابوں کو مزا چکھائیں۔ چلو ایک آدھ لطیفہ ہی پوسٹ دیتیں پھر جوابی کارروائی کے طور پر عامر شہزاد جیسے فورم کے بابے بھی حرکت میں آ ہی جاتے۔

شائستہ آپا ویسے تو کتوں بلیوں کی تصویریں لگاتی رہتی ہیں اب وہ بھی نہیں لگا رہیں چلو وہ ہی دیکھ لیتا کتوں بلیوں کے ذکر کے ساتھ ہی چاچے نوازے کا گھر، وہ ہڑبونگ اور بندر کا جھانپڑ یاد آ گیا۔ تو فوراََ سوچوں کے دھارے کا رخ تبدیل کیا اور سوچا ارے جانے کب سے نون لیگ اور پی ٹی آئی والوں کی لڑائی بھی نہیں ہوئی۔ وہ دن ہی اچھے تھے جب وقار یہاں تھا ہر تھریڈ میں رستم پہلوان کی طرح اکھاڑہ سمجھ کر اتر آتا تھا۔ فائزہ سس کو بھی آجکل ہیلپپپپپپپ کی ضرورت نہیں پڑ رہی۔ ہائے ماظق بھائی بھی تو تھے بہت خوب بہت خوب کہہ کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے تھے۔ کیا کیا نام دئیے تھے نا سب نے انہیں کفگیر، فراک، مذاق، کنڈا، قذاق وغیرہ لیکن شاید انہیں کسی اچھے نک کی تلاش تھی تبھی لینے اٹلی چلے گئے۔

کاظمی انکل نے بھی نیلی، پیلی کالی کیا ہے کا کوئی تھریڈ نہیں بنایا کب سے۔ اور تو اور آج کل اس لم ڈھینگ عامر جہان کی بھی کوئی ٹانگ نہیں کھینچ رہا۔ خدایا کیا زمانہ آ گیا ہے۔ عجیب لوگ ہیں یہ۔ ان لوگوں کو مجھ جیسے کسی معصوم کی بوریت کا احساس ہی نہیں۔ اچھا جو مرضی کریں میں کیا کروں۔

ون اردو سے بھی بور ہوئے تو صحن میں آ بیٹھے۔ ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے بڑی سی جمائی لی تو ایک مکھی جو شدید گرمی سے گھبرائی ہوئی تھی اس کو یہ ٹھنڈی آہوں اور جمائی والا منہ کسی ائیر کنڈیشند کمرے کی مانند معلوم ہوا اور وہ دیوانہ وار اس کھلے منہ کی جانب روانہ ہوئی۔ وہ تو اتفاقیہ طور پر جمائی کے دوران فارس بھائی کی چھٹی حس نے خطرے کی گھنٹی ہی نہیں بلکہ طبل بجا دیا جس کی وجہ سے انہوں نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں اور مکھی کو اپنے منہ کی جانب زور و شور سے بڑھتے دیکھا تو فورا منہ بند کر لیا۔ اس دوران مکھی بھی منہ کے پاس پہنچ چکی تھی لیکن اس متوقع حملے کے لئے تیار نہیں تھی سو ان کے بند منہ سے ٹکرا کر زمین پر بیٹھے ان کے ننھے منے بھانجے کی ٹنڈ پر جا گری جو کہ گرمی سے بچنے کے لئے اس کے امی ابو نے حال ہی میں کروائی تھی۔ اس کو اپنے سر پر کسی وجود کا احساس ہوا تو اس نے ہلکا سا سر کو جھٹکا دیا اور مکھی چونکہ ٹکر کے اثرات سے سنبھلی نہ تھی اس لئے اس کے سر سے پھسل کر اس دودھ سوڈے میں جا گری جو آنٹی جی (فارس کی امی) افطاری کے لئے بنا رہی تھیں۔ آنٹی جی نے ایک شاک کے عالم میں پہلے دودھ سوڈے کو دیکھا اور اس کے بعد انکی مشکوک نظریں فارس بھائی کی جانب اٹھیں کیوں کہ صبح سے مکھیاں مارنے کا فریضہ یہی تو سر انجام دے رہے تھے۔ اور اوپر سے ہاتھ میں مکھیاں مارنے والا ہتھیار بھی تھام رکھا تھا۔ بس پھر کیا تھا، وہ مکھیاں مارنے والا ہتھیار پہلے تو فارس بھائی کے ہاتھ سے آنٹی جی کے ہاتھ میں منتقل ہوا اور اسے کے بعد اس کے نشان فارس بھائی کی کمر پر۔ آگے کی کہانی فارس بھائی کی کمر کو ہی پتا ہے۔

فارس بھائی ابھی پیٹھ سہلا ہی رہے تھے کہ خبر ملی کہ فارس بھائی کی افطاری ہماری بھابھی جی کے گھر ہے۔ آہ خبر تھی کہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا۔ سارے درد پل بھر میں اڑن چھو ہو گئے۔ چلو ہاسپٹل کی افطاری مس ہوئی اچھا ہی ہوا واہ رے اللہ تیری شانِ بے نیازی۔ تیرے ہر کام میں بہتری ہی ہوتی ہے۔ فوراََ اٹھے اور نہا دھو کر تیاری کرنے لگے۔ ابھی افطاری میں دو تین گھنٹے باقی تھے کہ یہ بھابھی کے گھر کے دروازے کے آگے کسی مجسمے کی طرح ایستادہ تھے۔ سسر نے دروازہ کھولا اور یہ مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہو گئے۔ جیسے ہی گھر کے اندر پہنچے آگے بھابھی افطاری کی اب تک کی تیار شدہ چیزیں ٹیبل پر سجا رہی تھیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ڈش دیکھ کر ان کے پیٹ میں چوہے فیفا ورلڈ کپ سے متاثر ہو کر فٹ بال کا میچ کھیلنے لگے۔ لیکن جیسے ہی بھابھی کی ان پر نظر پڑی پہلے تو وہ ٹھٹکیں، پھر غور سے کچھ دیکھا، پھر حیران ہوئیں اور پھر غصے سے لال پیلی ہوتی ہوئی پاؤں پٹختی کمرے میں چلی گئیں۔

ہائیں ان کو کیا ہوا، فارس بھائی اسی پریشانی کے عالم میں کھڑے تھے کہ اچانک ان کو یاد آیا کہ وہ اپنے سر پر پہنی نون لیگ والی ٹوپی کی سائیڈ تبدیل کرنا بھول گئے تھے۔ جی ہاں وہ کچھ ایسی ٹوپی تھی جس کی اوپر والی سائیڈ نون لیگ کے جھنڈے سے بنی تھی جبکہ اندرونی حصے کے لئے پی ٹی آئی کا جھنڈا استعمال میں لایا گیا تھا۔ بھابھی کے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے یا ان کے گھر آتے ہوئے وہ اندر والی سائیڈ اوپر کر لیتے تھے لیکن آج روزے نے ایسی مت ماری تھی کہ وہ بالکل بھول گئے تھے اور نون لیگ والی سائیڈ ہی اوپر رہ گئی تھی۔ اتنے میں بھابھی دوبارہ واپس آئیں اور ان کے ہاتھ میں ایک بڑی سی ٹوکری تھی۔ وہ بولیں مجھے لگا تھا آپ نے پی ٹی آئی جوائن کر لی ہے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا اب آپکی افطاری کینسل اور سزا کے طور پر یہ سارے بلے آپ پورے گاؤں کے بچوں میں بانٹیں گے۔ خیر فارس بھائی بھابھی کو پہلے ہی ناراض کر چکے تھے مزید نہیں کرنا چاہتے تھے سو نکل پڑے مہم پر۔

جب فارس بھائی بلے تقسیم کر کے فارغ ہوئے تو ایک آخری بلا بچا تھا جس کو لے کر وہ گھر کی جانب روانہ ہو گئے کیونکہ اب افطاری کا پلان تو کینسل تھا۔ جب گھر پہنچے تو گھر میں کوئی نہیں تھا ان کو حیرت ہوئی سب کہاں چلے گئے۔ پوچھنے پر نوکر نے بتایا کہ وہ بھابھی (عنقریب مسز فارس ان شاء اللہ) کے گھر افطاری پر گئے ہیں اچانک ہی پیغام آیا تھا ان کے گھر سے کہ آج افطاری یہیں کریں۔ شاید یہ سزا کا دوسرا حصہ تھا۔ فارس بھائی پر غموں کا پہاڑ سا ٹوٹ پڑا۔ اب گھر پر بھی کوئی افطاری میں ڈش نہیں بنی ہوئی تھی تو بیچارے نے پانی پی کر ہی روزہ افطار کیا اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔

رات کو جب گھر والوں کی واپسی ہوئی تو آنٹی جی ان کے کمرے میں گئیں تو دیکھا بلا بستر پر پڑا ہے اور یہ کونے میں کھڑے ہیں۔ آنٹی جی ان کے پاس آئیں اور پوچھا۔
صبیح بیٹا یہاں کونے میں کیوں کھڑے ہو؟ تو آگے سے بولے۔
فارس صاحب تو بستر پر لیٹے ہیں میں تو بلا ہوں وہ بھی پی ٹی آئی کا۔ یہ کہتے ہی صبح کے بھوکے پیاسے فارس بھائی کو ایک چکر آیا اور دھم سے بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔

IN Khan
23-07-2014, 10:28 PM
واہ بھئی واہ

چھا گئی ہو چھوٹی بہنا۔:)۔

زبردست لکھا

Shaista Zia
23-07-2014, 10:31 PM
واہ بھئی واہ

چھا گئی ہو چھوٹی بہنا۔:)۔

زبردست لکھا


بہت شکریہ بڑے بھیا۔ جیتے رہیئے خوش رہیئے۔
:):)

اب لکھا تو ہے لگتا ہے فارس بھائی اب اسی مکھیاں مارنے والے ہتھیار کو لے کر مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے
;d۔

Saima
23-07-2014, 10:32 PM
ہاہاہاہاہا

کیا کمال لکھا ہے شائستہ - میرا تو ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا-
خاص طور سے فارس بھائی کو بشریٰ انصاری کے گیٹ اپ میں سوچ کر -
اور خٹک ڈانس کرتے ہوئے
;d;d
اور اب تم اپنی خیر مناؤ جن جن کا زکر خیر تم نے کیا ہے ان میں سے کسی نے بھی تمہیں نہیں بخشنا

Shaista Zia
24-07-2014, 09:12 AM
ہاہاہاہاہا

کیا کمال لکھا ہے شائستہ - میرا تو ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا-
خاص طور سے فارس بھائی کو بشریٰ انصاری کے گیٹ اپ میں سوچ کر -
اور خٹک ڈانس کرتے ہوئے
;d;d
اور اب تم اپنی خیر مناؤ جن جن کا زکر خیر تم نے کیا ہے ان میں سے کسی نے بھی تمہیں نہیں بخشنا


ہاہاہا تھینکس صائمہ

ارے میں ان بابوں سے ڈرتی تھوڑی ہوں ;);d۔

Armaans
24-07-2014, 10:15 AM
ھاھاھاھاھاھاھاھاھا
بہت مزے کی تحریر ہے
بالکل گول گپوں کے پانی جیسی
;d;d;d

Shaista Zia
24-07-2014, 10:57 AM
ھاھاھاھاھاھاھاھاھا
بہت مزے کی تحریر ہے
بالکل گول گپوں کے پانی جیسی
;d;d;d


نوازش ہے آپکی پاء جی۔
مگر یہ گول گپوں کا پانی سارا نہ پی جانا باقیوں کے لئے بھی رکھنا۔
:p:p

Amir Shahzad
24-07-2014, 11:02 AM
Amman bi buhat mazay ka likha hai Sirf maire wali line chhor kay:p
kai Jaghon per tu be sahta qahqaha buland hova
Khush rahein amman bi
Aur aisi tahreron say parhaiz karain is umer main khi khi kartay hovay koi pasli aap ki idher udher ho gaye tu;d

Shaista Zia
24-07-2014, 11:05 AM
Amman bi buhat mazay ka likha hai Sirf maire wali line chhor kay:p
kai Jaghon per tu be sahta qahqaha buland hova
Khush rahein amman bi
Aur aisi tahreron say parhaiz karain is umer main khi khi kartay hovay koi pasli aap ki idher udher ho gaye tu;d

مشورے کا شکریہ گریٹ گرینڈ پا۔
;d:p

Amir Shahzad
24-07-2014, 11:15 AM
مشورے کا شکریہ گریٹ گرینڈ پا۔
;d:p

حد ادب گستاخ چھوٹوں سے عزت سے پیش آتے ہیں
;d;d

Sabih
24-07-2014, 12:49 PM
:o:o
:p
>:(>:(

محمد فیصل
24-07-2014, 12:56 PM
[/QUOTE]


:o:o
:p
>:(>:(


افسوس بڑی بی نے اس عمر میں روزے رکھنے کے باوجود اتنا اچھا لکھا اور اور آپ نے صرف تپی ہوئی اسمائیلیز پر ہی ٹرخا دیا

Armaans
24-07-2014, 01:01 PM
نوازش ہے آپکی پاء جی۔
مگر یہ گول گپوں کا پانی سارا نہ پی جانا باقیوں کے لئے بھی رکھنا۔
:p:p

ٹھیک ہے سوائے آپ کے
:p
;d

Sabih
24-07-2014, 01:41 PM
افسوس بڑی بی نے اس عمر میں روزے رکھنے کے باوجود اتنا اچھا لکھا اور اور آپ نے صرف تپی ہوئی اسمائیلیز پر ہی ٹرخا دیا
[/QUOTE]
Hahaha
Paa ggg buzurg hony ka hi faida utha rahi hen bas nai to jawab aaty der nai lagni thi ::)

Kainat
24-07-2014, 02:16 PM
بہت خوب لکھا ۔۔۔۔ شائستہ سس
:)

اسامہ
24-07-2014, 03:29 PM
عمدہ لکھا کیپ اِٹ اپ :p;)۔

Shaista Zia
24-07-2014, 03:35 PM
:o:o

>:(


آ گئے مچھر مکھی مار ڈاکٹر
;d;d

Shaista Zia
24-07-2014, 03:36 PM
افسوس بڑی بی نے اس عمر میں روزے رکھنے کے باوجود اتنا اچھا لکھا اور اور آپ نے صرف تپی ہوئی اسمائیلیز پر ہی ٹرخا دیا
[/QUOTE]


افسوس بڈھے کھڑوس بابے روزہ رکھ کر بھی پھپھے کٹن حرکات سے باز نہیں آتے :p:p۔

Shaista Zia
24-07-2014, 03:37 PM
بہت خوب لکھا ۔۔۔۔ شائستہ سس
:)


شکریہ کائنات سس :)۔

Shaista Zia
24-07-2014, 03:38 PM
عمدہ لکھا کیپ اِٹ اپ :p;)۔


شکریہ اسامہ بھائی :p:p۔

محمد فیصل
24-07-2014, 03:42 PM
افسوس بڑی بی نے اس عمر میں روزے رکھنے کے باوجود اتنا اچھا لکھا اور اور آپ نے صرف تپی ہوئی اسمائیلیز پر ہی ٹرخا دیا




افسوس بڈھے کھڑوس بابے روزہ رکھ کر بھی پھپھے کٹن حرکات سے باز نہیں آتے ۔
[/QUOTE]


;d;d;d;dروزے میں مائی کو تو اور مرچیں لگیں

Shaista Zia
25-07-2014, 06:24 AM
روزے میں مائی کو تو اور مرچیں لگی

ناکام حسرتیں
:p:p:p:p

Aamir Jahan
25-07-2014, 06:26 AM
ہاہاہا تھینکس صائمہ




ارے میں ان بابوں سے ڈرتی تھوڑی ہوں ;);d۔



ویری نائس لیکن ذرا اس کے بارے میں کچھ تبصرہ ہو جائے

اور تو اور آج کل اس لم ڈھینگ عامر جہان کی بھی کوئی ٹانگ نہیں کھینچ رہا۔

ڈھونڈتا ہوں آپ کے لیے کوئی نام، :p;d

Shaista Zia
25-07-2014, 07:30 AM
ویری نائس لیکن ذرا اس کے بارے میں کچھ تبصرہ ہو جائے

اور تو اور آج کل اس لم ڈھینگ عامر جہان کی بھی کوئی ٹانگ نہیں کھینچ رہا۔

ڈھونڈتا ہوں آپ کے لیے کوئی نام،


ارے میں نے کیا کہا ہے یہ تو فارس بھائی نے کہا ہے ::):cool:;d؟

Aamir Jahan
25-07-2014, 07:32 AM
ارے میں نے کیا کہا ہے یہ تو فارس بھائی نے کہا ہے ::):cool:؟

Yeah, you put your words in his mouth, its the same :p ::) ;d