PDA

View Full Version : جنید اختر کی سحری



Kainat
18-07-2014, 02:00 PM
جنید اختر کی سحری

رات کاا ندھیرا ہر طرف پھیل چکا تھا ۔ دور دور تک خاموشی کا عالم تھا۔۔جنید اختر کے کمرے میں چہار سو ٹک ٹک ٹک کی اونچی، مدہم آوازیں خاموشی میں ارتعاش پیدا کر رہی تھیں۔۔رمضان کاچاند نکل آیا تھا۔۔ کل پہلا روزہ ہونے والا تھا۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جنید اختر تراویح پڑھ کر آئے تھے۔ پہلے روزے کی مناسبت سے مسجد میں کافی رش تھا۔جب واپس آ کر وہ سونے کے لیےلیٹے تو انھیں دو باتوں کا سامنا تھا۔۔ ایک تو یہ کہ،
سحری کے وقت ان کی آنکھ کھلے گی کیسے۔۔؟
دوسرا میں سحر ی میں کھاؤں گا کیا۔۔؟
افریقی کھانا، پاکستانی پکوان، میکیسکن فوڈ ،چائنیز، اطالوی یا یورپین کوزین۔۔یا اس گریٹ مینو کو افطاری کے لیے رکھ لوں ۔سحری کے لیے کچھ اوردال دلیا کر لوں اور روٹی ملائی سے کام چلا لوں۔۔؟ خیر ابھی تو اوّل الذکر بات کا سامنا ہے کہ خود کو جگایا کیسے جائے۔۔ ویسے بھی اللہ کے نیک بندے ، پہلے جاگوں گا تو پھر ہی سحری کروں گا ۔۔نا ؟
یہ سوچتے ہوئے وہ بستر سے اتر کر سامنے دیوار کے پاس جا پہنچے۔۔ جہاں رمضان کےشیڈول بمطابق اسلامی کیلنڈر آویزاں تھا۔یہ کیلنڈر ہنگامی حالات کی طرح تین دن پیشتر ہی اس دیوار کی زینت بنا تھا۔۔ انھوں نےسحری و افطاری کے اوقات بغور دیکھنا شروع کیےاور پہلے روزے کا وقت، دن، انگریزی تاریخ چیک کرتے کرتے تیسویں روزے پہ پہنچ گئے۔ پھرپہلے روزے کے سحری ٹائم کے ساتھ لال رنگ کی پنسل سے بڑا سا نشان گول دائرے کی صورت کھینچ دیا۔ ۔ اور اس کے اندر ۔۔ جونی۔۔ لکھ دیا۔ ۔اب یہ کیلنڈر ان کی ذاتی ملکیت بن چکا تھا۔۔ اب اگلا پورا ماہ انگریزی تاریخوں کی بجائے۔۔ اسلامی تاریخوں پہ گزرنے والا تھا۔ ۔
یاد داشت کے لیے بھی ایسا ضروری تھا ورنہ یہ نہ ہو کہ میں پندرہویں روزے کوسولہواں روزہ سمجھ کر رکھ لوں اور چھبیسویں روزے کی رات کوستائسویں کی رات سمجھ کر ساری رات سجدے میں پڑارہوں۔۔ ادھر اللہ میاں کو بھی کنفیوژن ہو۔۔کہ وہ مجھے 26 روزے کا ثواب دیں یا طاق رات کا۔۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوکہ، اصل طاق رات میں لمبی تان کر پڑا سویا رہ جاؤں۔۔ چلو،اب میں طاق رات کو کسی صورت اِدھر اُدھر نہیں ہونے دوں گا۔ وہ دانشمندانہ انداز میں بڑبڑائے۔۔
ان کی نظریں ابھی بھی کیلنڈر پہ جمی تھیں۔ ۔ویسےاتنا زیادہ تو وقت کا فرق نہیں پڑے گا پہلے اور تیسویں روزے کے دورانیے میں۔۔ زیادہ سے زیادہ آدھ پون گھنٹہ ۔۔چلو خیر ہے۔۔ شکر میرے مولا کا، افریقہ میں روزہ بارہ سوا، بارہ گھنٹے کا ہے۔۔ سب سے کم، اس سے زیادہ لمبا دورانیہ تو پاکستان میں پندرہ گھنٹے کے روزے کا ہے۔۔ پھر مَرے پہ سو دُرے بجلی کی لو ڈ شیڈنگ پلس سوئی گیس ، پلس پانی، پلس ہتھیلی پہ جان و مال اور پلس جانے کیا کیا۔۔ اللہ کی شان پہلے وہ افریقہ والوں پہ ترس کھایا کرتے تھے اور اب افریقہ والے ان پر۔۔ ہاں جی، کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں۔۔
۔۔ اوئی میرے مالک، میری توبہ، روس والوں کا روزہ بائیس گھنٹے کا۔۔ (کیلنڈر دیکھنے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار ان کی ایک اچٹتی نظر ہاتھ میں پکڑے آئی فون کے ذریعے گلوبل ولیج پہ تھی)اس کے بعد صرف دو گھنٹے چھٹی۔۔جیند اختر نے کچھ سوچتے ہوئے عینک آنکھوں سے اتار کر سر پہ ٹکا لی۔۔
بائیس گھنٹے کا وقت تو ان لوگوں سےکاٹے نہ کٹتا ہو گا۔۔نا؟
پتہ نہیں انھیں بھوک زیادہ لگتی ہو گی یا پیاس ؟
وہ وقت سو کے وقت گزارتے ہوں گے یا اللہ اللہ کرتے۔۔؟
ہر گھڑی سورج کو دیکھتے ہوں گے یا گھڑی کی سوئیوں کو ؟
افطاری کا اہتمام کرتے ہوں گے یا سحری کا ؟
چلو خیر اوپر والا مالک ہے، اللہ انھیں ڈھیروں ڈھیر صبر و ثواب دے۔آمین، ویسے سردیوں میں موجیں بھی تو وہی مارتے ہوں گے دو گھنٹے کا روزہ رکھ کر۔۔
اے لو، شاوا بھئی شاوا ۔۔ دنیا کے کئی کونے ایسے بھی ہیں جہاں جنگل راج ہے۔ وہاں سورج کو غروب ہونا یاد ہی نہیں رہتا۔۔ چڑھتا ہے تو چڑھا ہی رہتا ہے، باؤلا کہیں کا۔۔اور ڈوبتا ہے تو چھ چھ مہینے اپنے نام ڈبو ئے رکھتاہے اور وہ کیا سادہ سا نام ہے اس اطالوی سویٹ ڈش کا، ہاں ٹرامی سو ۔۔ وہ کنپٹی پہ پنسل رگڑنے لگے۔۔ وہ ناروے کا شمالی شہر ۔۔تر ومسو ۔۔ایسا ہی تو ہے۔۔ جہاں چھ مہینے دن ہے اور چھ مہینے رات۔۔ یعنی ہر چھ ماہ بعد،نیا دن نئی رات۔۔سنا ہے وہاں حکومت کا نہیں مفتیوں کا زور چلتا ہے۔۔ جو لوگوں کی سوئیوں کو اِدھر اُدھر گھماتے رہتے ہیں۔ اور وہ سویڈن کا قصبہ کیرونا جہاں نہ صبح ہوتی ہے نہ شام، دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے ۔انس ، چرندپرند اور جانور بے چارے جب تھک جاتے ہیں تو دن کو رات بنا لیتے ہیں اور جب آرام کر کے تھک جاتے ہیں تو رات کو دن میں بدل لیتے ہیں۔۔۔ بَلے بھئی بَلے،
یہ سب سوچتے ہوئے وہ دوبارہ بستر کی طرف آئے۔ اور بیڈ کے ساتھ پڑی تپائی سے چھوٹا کلاک اٹھایا۔۔ اور اس پہ سحری کا وقت سیٹ کر کے الارم لگا دیا۔۔ دو منٹ بعد خیال آیا کہ اگر یہ نہ بجا تو۔۔؟ تو سامنے شیشے کی الماری میں اس سے بڑا ٹائم پیس نظر آیا۔ ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔ آگے بڑھ کراس کی بھی الارم چابی مروڑ دی۔کچھ دیر بعد ان کی نظر دیوار گیر کلاک پہ آئی تو اچانک ان کے منہ سے نکلا۔۔ ارے لو بن گیا اپنا کام۔۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اس گھڑیال کی آواز سن کر میں پڑاسویا رہ جاؤں۔۔ بلکہ یہ تو ماء،کو بھی جگانے کے کام آئے گا۔۔اس پہ بھی الارم سیٹ کرنےکے بعد جنید اختر نے آئی فون پہ بھی سحری ٹائم آن کر دیا اورآرام سے روم لائٹ بند کر کے آنکھیں موند لیں۔۔ اب نہ جاگنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔۔ کافی دیر اِدھر اُدھر کروٹیں بدلنے کے بعد انھیں نیند آ ہی گئی۔۔
بمشکل تین گھنٹے سوئے ہوں گے کہ کمرے کی شمالی کھڑکی والی گلی سے زور زور سے ڈھول پیٹنے کی آواز آئی۔۔ گہری نیند میں سوئے جنید اختر کے کانوں میں یہ آواز بے وقت کی راگنی کی طرح گھسی۔ پہلے انھیں لگا وہ کسی کلب میں موجود ہیں اور زور و شور سےآرکسٹرا بج رہا ہے جس میں ڈرم کی آواز نمایاں ہے۔ پھرآوازآہستہ آہستہ ڈھول کی آواز میں بدلنے لگی۔۔ذرانیند سے بیداری میں آئے ۔۔آواز واضح ہوئی تو وہ اندھیرے میں چھلانگ لگا کر اٹھے۔۔ ون۔۔ٹو ۔۔ تھری، فورکہتے ہوئے ہاتھوں کو کڑکتی بجلیوں کی طرح لہراتے ہوئے پوزیشن میں لیا اورپاؤں سے سٹیپ لیتے ہوئے آگے پیچھے تھرکنے گے۔۔
ڈھول کی آواز سحری میں جگانے کے لیے تھی جسے بھول کر وہ ۔۔رمبا۔۔ شروع کر چکے تھے۔۔
ابھی دو چار ہی قدم لیے تھے کہ ان کے کمرے کا دروازہ دھڑ دھڑ بجنے لگا۔ ساتھ ہی ماء کی آواز سنائی دی۔۔،
پتر جونی، اٹھ جا۔۔پہلا روزہ ہے۔ مجال ہے جو بندہ فکر سے ذراپہلے اٹھ جائے اور آرام سکون سے سحری کر لے۔۔،
اوہو یہ تو بڑی گڑ بڑ ہوئی ۔۔ جونی کے قدم ساکت ہو گئے۔۔ انھیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ پہلے اللہ کے حضور معافی طلب کریں یا ماء کو جواب دیں۔۔پہلے روزے ہی وہ کیا کر بیٹھےتھے، خود ان کی سمجھ سے باہر تھا۔ نیکی کمانے سے پہلے ہی خطا کا کھاتہ کھل چکا تھا۔۔ ابھی وہ شش و پنچ میں تھے کہ یکدم سیٹ کیے گئےتمام الارم بیک وقت بجنے شروع ہو گئے۔۔جنہیں بند کرنے کے لیے وہ بوکھلا کر کمرے میں اِدھر اُدھربھاگ رہے تھے۔۔ کبھی دروازہ پیٹتی ماء کی طرف قدموں کا رُخ موڑتے اور کبھی گلی کی جانب کھلتی کھڑکی کی اور۔۔
ماء،دروازہ پیٹ پیٹ کر چلی گئی۔۔ ڈھول والا بھی دور جا چکا ۔۔ تب انھوں نے سب سے پہلے لائٹ جلا کر تمام الارم بند کیے۔۔ پھر کچن کا رخ کیا۔۔ جہاں ماءسحری کا اہتمام کرتے ہوئے بڑبڑا رہی تھیں۔۔
"یہ جونی کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے۔۔ ایسی لمبی تان کے سویا پڑا ہے۔۔ ستیاناس ہو کمپیوٹر کے ایک فارم پہ نیلا کُرتا پہن کے جاتا ہے ، سارا دن ساری رات وہیں بیٹھا رہتا ہے۔۔میں نے کتنی بار کہا ہے کہ لا تیرا کُرتا دھو ڈالوں، کچھ دن کےلیے اپنے افسر کی لال وردی ادھار مانگ کر پہن لے۔۔ وہاں تو بڑا عینکو، شینکو،پڑھاکو، عقل والا بنا رہتا ہے۔۔ لیکن افسر سے بات کرتے اس کی جان جاتی ہے جیسے وہ نامہ نیم افسر نہ ہو کوئی ریڈ بُل ہو۔۔ اوراس کے رنگ ڈھنگ تو کوئی گھر میں دیکھے، نچلا تو بیٹھتا ہی نہیں ہر وقت تھرکتا رہتا ہے اوریادداشت اتنی کمزور کہ کئی کئی گھڑیاں کمرے میں لگا رکھی ہیں۔۔ ان کی آواز سن کے بھی لَم لیٹ پڑا ہے۔۔"
"جونی، اب آ بھی جا میں نے روٹی پہ ملائی رکھ کے اوپر چینی چھڑک دی ہے۔۔ اچھا لَے آ گیا میرا سیئونی۔۔ "جونی کو دیکھتے ہی ماء۔۔ کی ٹون بدل گئی۔۔
"ما، صدقے جائے ۔۔چل جلدی سے سَرگی کھا لے۔۔ اور ہاں یہ بھی بتا دے کہ آج شام افطاری میں کیا کھائے گا۔۔؟
"موئی در، گڈ سحری مارننگ ۔۔بنا لینا کوئی اطالین پزا، امریکن، برگر، میکسیکن ٹیکوزشیکوز، بریٹوز( لپٹی ہوئی روٹیاں )، اور ڈرنک میں خود بنا لوں گا نمبوشمبو مار کے۔۔ "جونی نے اطمینان سے جواب دیا
"لے، تو نے ماء کو کوئی ہوٹل والی سمجھ رکھا ہے۔۔یہاں تو ڈھابے کا کھانا بنانا بھی مصیبت لگتا ہے۔۔جی چاہتا ہے کھجوراور روٹی پانی سے بندہ روزہ کھول لے اور دودھ پھینی کھا کر روزہ رکھ لے۔۔ ورنہ روزے میں بھی بندے کی بچت نہیں۔ تو نے دیکھا نہیں دبئی کے کتنے ہی لوگ زیادہ کھا کر ہسپتالوں میں جا بستر سمھالے ہیں۔ لوگوں کو بھوک سے مرتے تو سنا تھا۔ زیادہ کھا کر لاچار ہوتے تو پہلی بار دیکھا ہے۔۔ سوچے تو بندہ قیامت کے آثار ہیں۔۔ حساب کتاب کے دن بس آنے والے ہیں۔۔"
"موئی در، قیامت کا نام لے کر مت ڈراؤ، ابھی جونی نے اس دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے۔۔؟"
"ابھی تو ۔۔
جان، جانی، جنردھن، تارا رم پم پم پم
کے دن آنے ہیں۔۔
مجھےقیامت سے ڈرانے کی بجائے بہو ڈھونڈنے کی کوشش کرو۔۔ ابھی تو جونی کے سہرے کے پھول کھلنا باقی ہیں۔۔ ابھی تو فضاؤں نے مہکنا ہے۔۔ پھولوں پہ بہار آنی ہے۔ بلبل نے راگ چھیڑنے ہیں۔۔ چاندنی نے انگڑائی لینی ہے۔۔ ابھی تو جونی نے تمھاری بہو کا گھونگھٹ اٹھانا ہے۔۔ابھی تو۔۔۔!"
"بس کرجونی بس کر، کوئی کام میرے لیے بھی رہنے دے۔۔ "ما ءنے بات کاٹی۔۔
"فکر کیوں کرتی ہے ماء، ابھی تیرا پاور فل کردار باقی ہے۔۔ ساس بہو کے جھگڑے، طعنے تشنے اورساس بہو کے ڈرامے۔۔ ابھی پکچر باقی ہے پیارے۔۔"
"اچھا اگر باقی ہے تو پھر۔۔ انتظار فرمائیے۔۔ کا بورڈ لگا دے اور سحری کر لے۔۔ اے لو افطاری کا پکوان تو بیچ میں ہی رہ گیا۔۔"
"اچھا تو پھر ایسا کرتے ہیں ماء۔۔ اس رمضان میں تمھیں سرپرائز دیتا ہوں۔۔ "جونی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، سحری تم بنا لیا کرنا۔۔ روٹی ملائی، دودھ پھینی بھی چلے گی۔۔ صبح صبح ویسے بھی بھوک کس کم بخت کو لگتی ہے۔۔ پتھر کی طرح کھانا پیٹ پہ باندھنا پڑتا ہے۔۔ اور پانی کی مشک بھرنی پڑتی ہے۔ ویسے کتنا اچھا ہوتا اگر اللہ میاں بندے کے اندر بھی پانی سٹور کرنے کا سسٹم بنا دیتے تو میں پہلے روزے ہی پورے رمضان کا پانی اندر جمع کر لیتا۔۔"
"بس کر نا شکرے ، اللہ نے تجھے جس سانچے میں فٹ کر کے بنادیا اسی کے اندر رہ، الٹے پاسے زیادہ دماغ شماغ لگانے کی ضرورت نہیں۔۔"
"لَے موئی در، میں تو تیرے فائدے کی بات کر رہا تھا۔۔ یاد ہے پچھلے سال روزے میں پانی کی کمی سے تجھے ہیلتھ پرابلم ہو گئی تھی۔۔"
"ہاں تو، پھربعد میں اللہ نے شفا بھی تو دے دی تھی۔۔ تو بس اپنے آج کے دن کا پانی سٹور کرنے کا بندوبست کر۔۔ دودھ پیئے گا کہ لسّی ۔۔؟"
"میرا خیال ہے کہ میں پھینی کے ساتھ دودھ کی ٹنکی بھر لیتا ہوں۔۔
اور سرپرائز یہ ہےکہ اس رمضان افطاری میں بنایا کروں گا۔۔ اس طرح میرا روزہ بھی بآسانی کٹ جایا کرئے گا۔۔"
"ہا ہائےجونی تو، تو چولہا چوکا کرے گا۔۔تجھے ہوکیا گیا ہے۔۔ بہو آنے سے پہلے سے ہی تو۔۔ زن مرید بننےکی ٹریننگ شروع کرنے لگا ہے۔۔ویسے انڈا تو تجھے کچا پکا ہی ابالنا آتا ہے اور باتیں بڑی بڑی۔۔"
"موئی در، فکر ناٹ، میں جس فورم پہ جاتا ہوں۔۔ وہاں دنیا بھر کے لوگ وِد فوڈ موجود ہوتے ہیں۔۔رمضان کے پکوان اور سحری و افطاری کے مینو ایوری ڈے وِد سُندر سُندر پکس ۔۔ اور سکھانے کے لیے ملک ملک کے لوگ ۔۔ جونی نے ماں کا طعنہ سنا ان سنا کر دیا۔۔
ویسے بھی مجھے اپنی ماء کو پکا کر کھلانے کا ثواب ملے گا۔ سو میرا یہ حق چھیننا مت ۔۔ مجھے دودھ کا قرض تھوڑا بیباق کر ہی لینے دے۔۔ تو ماء،آج آپ کو افطاری مینو ملے گا۔۔
کھجور، پیاز کی پکوڑی، ٹماٹر کے پکوڑے،مینگو ٹینگو
اور کھانے میں ۔۔
کدو کا دالچہ،انڈے کے بونڈے، کچڑی قیمہ،گوکومولی،سعودی لوگوں کا فیورٹ شوربہ اینڈ پیٹا بریڈ
اوراچار پاپٹر بھی پورا رمضان دستر خوان کی شوبھابڑھائیں گے۔ سو ایز یو لائک۔۔
تواب کل ملتے ہیں اِسی جگہ (کچن میں ) اِسی وقت (سحری کے ٹائم ) تب کل کا افطاری مینو بتاؤں گا۔۔۔اب میں چلا ۔۔ مسجد مولوی صاحب کے پیچھے نماز پڑھنے۔۔۔"



۔۔۔ کائنات بشیر۔۔۔

کوثر بیگ
18-07-2014, 03:20 PM
ہاہاہاہا تو جناب جنید صاحب اتنے باتیں کر لیتے ہیں؟ پڑهکر اچها لگا نہیں تو مجهے ہر تهریڈ کے نیجے کهڑے اپنی موجودگی
کا اظہار کرواتے نظر آتے .یا پهر اپنے علم والی شیئرنگ سے احساس دلواتے

بہت ا چهے ممبر کا انتخاب کیا اور بہت ساری معلومات بهی پہچائی .تشکر

رفعت
18-07-2014, 10:43 PM
گڈ ہے جی

جنید اختر
19-07-2014, 02:00 AM
ہاہاہا۔۔۔واہ کائنات جی بہت اچھا لکھا اور پرمزاحیہ لکھا ۔۔ شکریہ۔۔۔ اپنے بارے میں پڑھ کر مزہ آگیا۔۔۔

میرے پاس آئی فون موبائل ہی نہیں ہے۔۔۔ ہی ہی ہی

میں اپنی امی جی کو امی جی ہی بلاتا ہوں نا کہ ما یا مائی در :p

کبھی کبھی میرا بھائی مجھے جونی بلاتا ہے ۔۔۔

ایک بار پھر سے شکریہ۔۔ ایسے ہی ہمشیہ لکھتی رہے اور مسکراہٹیں بکھرتیں رہیں اور سدا خوش رہیں ۔آمین :)

Kainat
19-07-2014, 01:01 PM
ہاہاہاہا تو جناب جنید صاحب اتنے باتیں کر لیتے ہیں؟ پڑهکر اچها لگا نہیں تو مجهے ہر تهریڈ کے نیجے کهڑے اپنی موجودگی
کا اظہار کرواتے نظر آتے .یا پهر اپنے علم والی شیئرنگ سے احساس دلواتے

بہت ا چهے ممبر کا انتخاب کیا اور بہت ساری معلومات بهی پہچائی .تشکر
شکریہ کوثر سس،
جنید اختر بھائی بہت اچھے اور عمدہ انسان ہیں۔۔۔ اتنے کہ میں نے ان سے پیشگی معذرت بھی طلب نہیں کی۔۔۔۔
:)

Kainat
19-07-2014, 01:10 PM
ہاہاہا۔۔۔واہ کائنات جی بہت اچھا لکھا اور پرمزاحیہ لکھا ۔۔ شکریہ۔۔۔ اپنے بارے میں پڑھ کر مزہ آگیا۔۔۔

میرے پاس آئی فون موبائل ہی نہیں ہے۔۔۔ ہی ہی ہی

میں اپنی امی جی کو امی جی ہی بلاتا ہوں نا کہ ما یا مائی در :p

کبھی کبھی میرا بھائی مجھے جونی بلاتا ہے ۔۔۔

ایک بار پھر سے شکریہ۔۔ ایسے ہی ہمشیہ لکھتی رہے اور مسکراہٹیں بکھرتیں رہیں اور سدا خوش رہیں ۔آمین :)
ہاہاہا، پکڑے گئے نا جونی ۔۔۔۔۔ ( آخر آپ کو جونی پکارا جاتا ہے
کوئی بات نہیں آئی فون آج نہیں ہے ان شاءاللہ اگلے رمضان اسی پہ سحری ٹائم فکس کیجئے گا۔۔۔
ماء ۔۔۔۔ اینڈ موئی در ۔۔۔ افریقہ میں رہ کر جانتے تو ہوں گے نا۔۔۔
تحریر پسند کرنے اور دعاؤں کے لیے بہت شکریہ
آپ سدا خوش رہیں۔۔۔ جونی بھائی
:)

IN Khan
19-07-2014, 06:51 PM
ہمیشہ کی طرح عمدہ لکھا سس۔

دعا ہے کہ آپ کے قلم کی روانی یونہی قائم رہے۔

Kainat
20-07-2014, 01:08 AM
بہت شکریہ عمران بھائی

Saima
20-07-2014, 02:00 AM
بہت مزے کا لکھا ہے کائنات سس
میرا تو ہنس ہنس کے برا حال ہوگیا

Kainat
20-07-2014, 12:49 PM
بہت شکریہ صائمہ سس
:)