PDA

View Full Version : اعتکاف



محمد فیصل
12-07-2014, 02:13 PM
اعتکاف کا لفظ ہیں عبادت کی نیت کے ساتھ مسجد میں رک کر عبادت کرنے، گناہ سے بچنے اور بغیر کسی سخت ضرورت کے اس جگہ سے نہ ہٹنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔

رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف نبی ﷺ کی ایک نفلی عبادت تھی۔ نفلی عبادتوں کے معاملہ میں نبی ﷺ نے کسی بھی چیز کو خود پر لازم نہیں کیا۔ کبھی کچھ کیا اورکبھی چھوڑ دیا۔ لیکن اعتکاف کا اتنا زیادہ اہتمام فرماتے کہ حضرت اُبَیْ ؓبن کعب بیان کرتے ہیں کہ ایک رمضان میں آپ ؐ اعتکاف نہ کر سکے، تو اگلے سال آپ ؐ نے بیس دن اعتکاف کیا۔ (ابوداؤد)۔

ایک اور دفعہ رمضان میں اعتکاف نہ کر سکے، تو شوال کے پہلے عشرہ میں فرمایا۔ (بخاری)۔

اعتکاف کا وقت، مہینہ اورتاریخیں

نبی ﷺ کا اعتکاف شب قدر کی تلاش کیلئے ہوا کرتا تھا۔ لہذا اسکی تاریخیں بھی وہی تھیں، جو شب قدرکی ہیں۔ شب قدر کے بارے میں سات الگ الگ احایث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو۔“ (بخاری،کتاب صلوٰۃ التراویح۔ ترمذی، کتاب الصوم)۔

طاق کہتے ہیں اس عدد کو جو دو سے تقسیم نہ ہو سکے۔ عشرہ یعنی دس۔ آخری عشرہ یعنی آخری دس تاریخوں کی طاق راتیں ہوئیں 21،23، 25، 27 اور29 ویں رات۔

اسلامی مہینوں میں تاریخوں کاحساب قمری سال سے چلتا ہے۔اور ہر تاریخ کی رات پہلے آتی ہے اور دن بعد میں۔اور سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی تاریخ بدل جاتی ہے۔اسلئے کسی بھی تاریخ کی رات کا مطلب ہوگا، اس دن سے فوراً پہلے آنے والی رات۔ 20ویں روزے کے افطار کے ساتھ ہی21ویں رات شروع ہو گئی، جوشب قدر کی پہلی رات ہے۔ اور اگلی صبح فجر کی اذان کے ساتھ ختم ہوجائیگی۔ پھر 22ویں روزے کے افطار کے بعد 23ویں رات اور اسی طرح بقیہ راتوں کاحساب ہوگا۔ 29 یا 30 روزوں کے بعد جب بھی نیا چاند نظر آجائے،رمضان ختم۔ وہ شوال کی پہلی یعنی عید کی رات ہوگی۔ چنانچہ متعدداحادیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں ہر سال اعتکاف فرماتے تھے۔ یہ عشرہ کبھی دس دن کا ہوتا اور کبھی نو دن کا، بشرط رؤیت ہلال۔ (مسلم)۔

اعتکاف کی جگہ، مقام اور آداب

نبی ﷺ اور آپؐ کی تمام ازواج اولاد، صحابہ، مرد اور عورت سب نے مشقت ہونے کے باوجود ہمیشہ مسجد میں ہی اعتکا ف کیا۔ اس کیلئے نبی ﷺ مسجد کے اندر ا پنا ایک خیمہ لگوالیا کرتے تھے۔

چنانچہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ جب حضورؐ نے رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کرنے کیلئے اپنا خیمہ مسجد نبوی میں لگوایا، تو آپؐ کی اتباع میں تمام امہات المومنین نے بھی اپنے خیمے مسجد نبوی میں لگوا کر اپنا اپنا اعتکاف آپؐ کے ساتھ ہی شروع کیا۔(بخاری، کتاب الاعتکاف)۔

مسجد نبوی کی عمارت کچی تھی۔ کھجور کے تنے کے ستون۔ چھت کی جگہ کھجور کے پتے بچھا کر ان پر آج کی مسجدوں میں دیواروں اورپکی چھت کی موجودگی میں خیمہ کی تو کوئی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن اس سنت کو کسی نہ کسی صورت میں باقی رکھنے اور تنہائی اور خلوت کیلئے اعتکاف کرنے والے اپنے علیحدہ علیحدہ پردے لگالیتے ہیں۔

ایک رمضان نبی ﷺ نے ترکی خیمہ میں اعتکاف فرمایا، جس کے دروازہ پر چٹائی کا پردہ تھا۔شب قدر کیلئے آخری عشرہ کے اعتکاف کا کہنے کیلئے آپ ؐ نے اپنے ہاتھ سے پردہ ہٹا کرسر باہر نکال کر لوگوں سے بات کی، تو لوگ آپ ؐ کے قریب آگئے۔ ( مسلم)۔

گویا سنت یہ ہوئی کہ معتکف مسجد میں جتنا زیادہ ممکن ہو،اپنی مقررہ جگہ پر ہی رہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺرمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے۔ اور آپ ؐفجر کی نماز پڑھ کر اعتکاف کیلئے اپنے خیمہ میں داخل ہو جاتے۔
بخاری، کتاب الاعتکاف، باب اعتکاف النساء،ح:۳۳۰۲

نبی ﷺ کے انتقال کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمر ؓنے حضرت نافع کو مسجد میں وہ جگہ دکھائی، جہاں آپ ؐ اعتکاف فرماتے تھے۔(ابو داؤد)۔

نبی ﷺ کے زمانہ میں امہات المومنین کے گھر، جو ایک ایک کمرے پر مشتمل تھے، مسجد نبوی کے ساتھ ہی لگے ہوئے تھے۔ چنانچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اعتکاف کی حالت میں کسی ضرورت کے علاوہ گھر میں داخل نہ ہوتی۔اور کوئی بیمار ہوتا، تو چلتے چلتے اسکی خیریت پوچھ لیتی۔ نبی ﷺ اعتکاف کی حالت میں مسجد میں سے ہی اپنا سر میری طرف حجرے کے اندربڑھادیتے اور میں آپکا سر دھو دیتی۔ اور جب آپؐ معتکف ہوتے تو کسی حاجت کے علاوہ کبھی گھر میں داخل نہ ہوتے۔ (بخاری، کتاب الاعتکاف۔مُسند احمد، مِن مُسند عائشہ، ح: ۶۲۰۵۲)۔

ایسی حدیثیں پڑھتے ہوئے یہ ذہن میں رکھیں کہ اس زمانے میں آج کی طرح ہرگھر اور مسجد میں بجلی،پانی اور گیزر لگے ہوئے نہ تھے۔ گرمی لگی، توکھجور کے پتوں کا بنا ہوا پنکھا ہاتھ میں لے کر جھل لیا۔ وضو کرنے اورنہانے کیلئے اس زمانے میں گھروں میں بڑے بڑے ٹب رکھے جاتے تھے۔ جس میں بیٹھ کر نہاتے، تو پانی باہر نہیں گرتا تھا۔ پردہ باندھ کراسکی اوٹ میں بالٹی میں پانی بھر کراس ٹب میں بیٹھ کر نہا لیتے تھے۔البتہ گندے پانی کی نکاسی کی لائنیں جب بھی گھروں میں ہوتی تھی۔(مُسند احمد، ح:۵۳۸۱۲)۔

چنانچہ نبی ﷺ کی وفات سے پانچ دن پہلے، جب بخار کی شدت سے آپ ؐ پربار بار غشی طاری ہو رہی تھی،توذرا افاقہ ہونے پرآپ ؐہی کے کہنے پر آپ ؐ کی ازواج نے آپ ؐ کو ایک نہانے کے ٹب میں بٹھا کرسات مشکیزے پانی آپؐ پر پانی بہایا تھا، تاکہ اسکی ٹھنڈک سے بخار اتر جائے۔(رحیق المختوم، ص ۴۲۶)۔

ام المومنین حضرت صفیہؓ کا حجرہ بھی مسجد سے متصل تھا۔وہ ایک دفعہ نبی ﷺ سے اعتکاف کے دوران ملنے آئیں اور بات کر کے واپسی کیلئے کھڑی ہوئیں، تو آپ ؐبھی انھیں پہنچانے کیلئے ان کے ساتھ مسجد کے آخری سرے تک گئے۔ (بخاری، کتاب الاعتکاف)۔

اسی طرح کوئی فوری اور سخت ضروری کام آن پڑے، تو نبی ﷺ نے اعتکاف میں اسے کرلینے پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ حضرت عمرؓ بن خطاب ایک دفعہ اعتکاف میں لوگوں کی تکبیر کی آواز سنی،تو وہاں موجود حضرت عبد اللہ ؓبن عمر بن محمد سے وجہ پوچھی۔ وہ کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے بنی ہوازن کے قیدیوں کو آزاد کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ ان کی آزادی کا اعلان سنکر حضرت عمرؓ نے بنی ہوازن کے قیدیوں میں سے انھیں دی گئی خادمہ (لونڈی) کو بھی آزاد کر کے اسے اسکے قبیلہ والوں کے ساتھ بھیجنے کا حکم دیدیا۔(ابوداؤد)۔

بنی ہوازن فتح مکہ کے ایک ماہ بعد غزوہئ حنین میں گرفتار ہو کر آئے تھے۔ اس کے ڈھائی سال بعد نبی ﷺ کا انتقال ہوگیا۔یعنی اعتکاف میں ضروری کام کر لینے کی اجازت نبی وﷺ کے آخری زمانہ کا عمل ہے۔ اجازت اسلئے کہ آپ ؐ نے حضرت عمر ؓ کو ٹوکا نہیں۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ معتکف کیلئے سنت یہ ہے کہ وہ کسی سخت ضرورت کے علاوہ نہ مریض کی عیادت کرے، نہ جنازہ میں جائے، نہ بیوی کوہاتھ لگائے یا اس سے کوئی قربت ہونے دے اور نہ ہی مسجد سے باہر نکلے۔ اور نہ تو روزہ کے بغیر کوئی اعتکاف ہوتا ہے اور نہ ہی جامع مسجد کے علاوہ کہیں اور ہوسکتا ہے۔(ابوداؤد)۔

ضرورت کے وقت نبی ﷺ نے رمضان کے بغیر بھی اعتکاف کی اجازت دیدی۔ حضرت عمر ؓنے جاہلیت کے زمانہ میں کعبہ کے پاس ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔ مدینہ میں انھوں نے نبی ﷺ سے اس کیلئے خاص طور پرمکہ جانے کی اجازت مانگی، تو آپ ؐ نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو۔“ (بخاری،کتاب الاعتکاف)۔

نذرچونکہ اللہ سے کیا ہوا وعدہ ہے، اور وہ بھی عبادت کا وعدہ۔ کسی گناہ کے کام کا نہیں، اسلئے نبی ﷺ اسے پورا کرنے کا حکم دیا تھا۔ قرآن کہتا ہے

وَاَوْفُوۡا بِالْعَہۡدِ ۚ اِنَّ الْعَہۡدَکَانَ مَسْـُٔوۡلًا ۔ (بنی اسرائیل)۔

اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے
۔

Sajidcompk
12-07-2014, 03:36 PM
جزاک اللہ

really nice sharing

IN Khan
18-07-2014, 10:36 AM
جزاک اللہ
خوش رہیئے فیصل