PDA

View Full Version : خصوصی افطاری مشن از فارس



عبداللہ
12-07-2014, 02:10 AM
بہت دنوں سے کچھ لکھنے کا سوچ رہا تھا لیکن کچھ لکھ نہیں سکا تو سوچا اسی دوران ایک کلاسیکل افطاری مشن کا تذکرہ ہو جائے تاکہ تمامی احباب کا آئندہ مشنز کے لئے ذہن بن جائے تو نئے اور تازہ افطاریوں کے احوال کے لئے سٹے ٹیونڈ;);)


رمضان کا اختتام آتے ہی ساحرہ آپا کو احساس ہوا کہ اس سال تو انہوں نے کوئی افطار پارٹی ہی نہیں ارینج کی۔ یہ صدمہ اتنا شدید تھا کہ فورم کے کچن سیکشن میں ہنگامی طور پر ایک عدد افطاری پارٹی کرانے کا اعلان کیا گیا جس کے لیے ہر خاص و عام کی مدد حاصل کی گئی۔
آئیے دیکھتے ہیں اس پارٹی کا احوال۔

پارٹی شام میں تھی اور ساحرہ آپا کے حکم کے تحت ہر شے کی نئے سرے سے جانچ کر کے آرائش کی گئی تھی۔ کھانا پکانے والا حصہ الگ کر کے مہمانوں کو بٹھانے والی جگہ پر کارپٹ وغیرہ بچھائے گئے تھے۔ اور ڈیزائننگ سیکشن سے ایک خوبصورت سا خوش آمدیدی نوٹ تیار کروایا گیا تھا۔ جس کو ماظق بھائی ہاتھ میں تھامے کیل تلاش رہے تھے۔ خدا خدا کر کے کیل ملے اور ماظق بھائی نے ایک کیل ہاتھ میں پکڑا جبکہ باقی کیل منہ میں ڈال لیے تاکہ فوراً حاصل کیے جا سکیں۔
دروازہ آدھا کھول کر باہر کی جانب کھڑے ہو کر دروازے پر بورڈ گاڑے کی تیاری کرنے لگے۔

ابھی بورڈ کو دروازے پر رکھ کر جگہ متعین کر ہی رہے تھے کہ دوسری جانب سے ساحرہ آپا برآمد ہوئیں۔ ماظق بھائی تو دروازے کی اوٹ میں تھے اس لیے دکھائی نہ دئیے۔ ادھ کھلے دروازے کو دیکھ کر ساحرہ آپا بڑبڑائیں۔
"اففف ۔ ۔ ۔ کب عقل آئے گی ان کو۔ ۔ ۔ دروازہ کھلا چھوڑ دیا جو مکھی ہے اندر گھسی آئے گی۔"
تیز قدموں سے آئیں۔ اور پٹاخ سے دروازہ بند کر دیا بے چارے ماظق بھائی اس کے لیے بالکل تیار نہ تھے اور ایک تیز آواز سے دروازہ ان کی ناک پر لگا۔ ان کے منہ سے اوغ کی آواز نکلی اور اس کے ہی ساتھ۔ ۔ ۔ ۔ تمام کیل اندر۔

تھوڑی دیر کے بعد ماظق بھائی پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہائے ہائے کرتے کرسی پر نیم دراز تھے جبکہ عائشہ سس ایک مقناطیس پکڑے ان کا منہ کھلوانے کی کوشش میں تھیں۔
"باتو بھلا۔ ۔ ۔ کس نے ٹولڈا تھا آپ کو کہ کیل منہ میں رکھو۔ ۔ ۔ ۔ چلو خیر آئرن کی کمی ہی پوری ہو جائے گی۔"

ساحرہ آپا ان کو چھوڑ کر اندر کچن میں آئیں۔
اچانک کسی کی ہائے ہائے پر ایک جانب نگاہ کی تو دیکھا کہ دیا آپی ایک ہانڈی پر جھکی کمر پکڑے ہائے ہائے کر رہی تھیں۔
ساحرہ آپا ٹھہریں سدا کی نرم دل فوراً پہنچیں ان کے پاس۔
اور بولیں۔
"دیا منا! کیا ہوا کیا کمر میں درد ہے؟ موو لگاؤ نا۔"
"ارے کمر میں درد نہییں تھا۔ پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے کھڑے رہ کر اور جھک کر ہانڈی ہلا ہلا کر ہو گیا۔"
"ارے تو چوکی پڑی ہے نا۔ بیٹھ کیوں نہیں گئیں۔"
دیا آپی نے منہ بسور کر کہا۔
"یہ آپ ان ظالموں سے پوچھیں مجھے کھڑے مصالحے کا چکن پکانے کو دے دیا۔ خود سب سکون سے بیٹھی پکا رہی ہیں۔"
"اور تم کھڑے مصالحے کا چکن پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے کھڑے ہو کر پکا رہی ہو؟"
ساحرہ آپا نے حیرت اور شاک کی ملی جلی کیفیت میں پوچھا۔
"تو اور۔ ۔ ۔"
ساحرہ آپا نے ان کو ان کے حال پر چھوڑا اور آگے چل دیں۔

جہاں مہرین اور روزبیہ کوفتے بنانے کی امید میں کھڑی تھیں۔
ساحرہ آپا نے ہانڈی میں جھانک کر کوفتوں کا جائزہ لیا۔ گول مٹول کوفتے کافی مزیدار لگ رہے تھے۔ ساحرہ آپا نے مطمئن سے انداز میں گردن ہلائی اور آگے جانے ہی والی تھیں کہ ایک عجیب سی شیشی پر نگاہ پڑی۔ اٹھا کر دیکھا تو حیران رہ گئیں۔
"ارے یہ کیا؟ یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟"
"ارررررر وہ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ نہیں آپی۔"
مہرین کی زبان لڑکھڑائی۔
ساحرہ آپا کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔
ڈپٹ کر پوچھا۔
"ارے یہ بوتل یہاں کیا کر رہی ہے؟"
مہرین نے ڈر سے آنکھیں بند کی لیکن زبان کا تالہ کھل گیا۔
"مرشد سئین۔ ۔ ۔ وہ کوفتے نہیں جڑ رہے تھے۔ تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
"تو۔ ۔ ۔ "
ساحرہ آپا کو یکم دم کسی انہونی کا احساس ہوا۔
"تم لوگوں نے قیمے میں گوند ڈال دی؟"
ساحرہ آپا نے شاک کی حالت میں پوچھا۔
مہرین اور روزبیہ دونوں نے ایسے سر ہلا کر اثبات میں جواب دیا جیسے اس کارنامے پر وکٹوریہ کراس ملنے کی توقع ہو۔
بے چاری ساحرہ آپا بے ہوش ہونے کی قریب تھیں کہ اچانک کوئی دروازہ دھڑام سے کھول کر اندر داخل ہوا اور شاپروں کے گچھے میں سے کائنات آپا کا سر برآمد ہوا۔ ان کے ساتھ ساتھ علشبہ سس اور کش سس بھی تھیں۔
"افففففففف اتنی گرمی میں مجھے باہر شاپنگ کرنے بھیج دیا۔
ہائے بھیجہ کسی کوفتے کے مانند بکھرتا محسوس ہو رہا ہے۔"
"ارے کوفتوں کا نام نہ لو۔"
ساحرہ آپا نے مردہ سی آواز میں کہا۔

"تمہیں انڈے لانے کا کہا تھا"
"لے آئے نا"
"کہاں ہیں؟"
ساحرہ آپا نے پوچھا۔
"کش انڈوں کا شاپر کہاں ہے؟"
"کرسی پر۔"
"کرسی کہاں ہے؟"
کش سس نے سر اٹھا کر جائزہ لیا اور بولیں۔
"علیشبہ کے نیچے۔"

ساحرہ آپا نے ایک لمحہ صورتحال کا جائزہ لیا اور پھر یک دم اٹھ کر ایک دوہتڑ رسید کیا کرسی ہر اینڈتی علیشبہ سس کو جو قلابازی کھا کر نیچے جا پڑیں۔
انڈوں کا جائزہ لیا گیا تو صرف تین عدد زندہ بچے تھے۔
"شکر ہے تین تو بچے ورنہ اس ہاتھی کے نیچے تو ایک بھی بچنا مشکل تھا۔"
ساحرہ آپا نے دانت کچکچا کر علیشبہ کو گھورتے ہوئے کہا جو ہاتھی کا ٹائٹل پا کر منہ بسور رہی تھیں۔
"ان کو پھینٹ کر فریج میں رکھ دو۔"
انڈے کش سس کے حوالے کیے گئے۔

"ندا تم کیوں مراقبے میں بیٹھی ہو۔ تم کو کریلوں میں قیمہ بھرنے کا کہا تھا نا۔"
"جی وہ تو گھنٹہ پہلے ہی بھر دیا تھا۔"
ندا آپی بولیں۔
"اب فارس بھائی کا انتظار ہے کہ آ کر ان کی سٹچنگ کریں۔"
ساحرہ آپا کا دل چاہا کہ سر پیٹ لیں۔
"ارے ان میں قیمہ بھرا ہے کوئی اپنڈکس کا آپریشن تھوڑی کیا ہے کہ فارس آ کر سٹیچنگ کرے گا۔
چلو سوئی دھاگہ پکڑو اور ان کو سئیو۔"
ندا آپا نے مری ہوئی آواز میں جی کہا اور سوئی دھاگہ لینے چل دیں۔

دوسری جانب پڈنگ کو ڈیزائن کرنے پر روز اور مہرین میں لڑائی چل رہی تھی۔ اور نوبت ہاتھا پائی تک آ چکی تھی، روز نے مہرین کی گردن بغل میں لے کر گھما ڈالا جبکہ مہرین نے آزاد ہوتے ہی بوکر ٹی کی مانند نعرہ لگایا اور پڈنگ کی ہی پلیٹ اٹھا کر روز کو مارنے کی کوشش کی۔ لیکن روز بھی تیار تھی۔ اس نے ہاتھ گھمایا اور عین وقت پر پلیٹ کا رخ چھت کی جانب ہو گیا اور پٹاخ سے پلیٹ چھت سے جا ٹکرائی اور پڈنگ کی وجہ سے وہیں چپک گئی۔
دونوں منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھیں کہ وارننگ سس کو کسی نے لڑائی کی خبر کر دی۔ وہ دوڑی آئیں اور دونوں کے کان پکڑ کر لڑائی کی تفصیل پوچھی۔
"ارررر ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ ۔ "
روز نے اوپر دیکھتے ہوئے کچھ کہنے کی کوشش کی۔ لیکن بات منہ میں ہی رہ گئی۔ پلیٹ آہستہ آہستہ چھت سے اکھڑ رہی تھی۔
مہیرین نے بھی اوپر نگاہ ڈالی اور پھر روز کو دیکھا۔
"میں آئی۔"
دونوں نے اکٹھے کہا اور بھاگ لیں۔
"ان دونوں کو کیا ہوا؟"
وارننگ سس نے سر کھجاتے ہوئے سوچا اور اوپر چھت پر نگاہ کی ہی تھی کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
پٹاخخخخخخخخخخخخ
تھوڑی دیر بعد پڈنگ صاف کر کے وارننگ آپا کو برآمد کیا جا رہا تھا اور مہرین اور روز دونوں واننگ وصول کر رہی تھیں۔

ساحرہ آپا کو لگ رہا تھا کہ آج بھائی لوگوں کو افطاری میں پاپے اور پانی ہی ملے گا۔ اور ان کا ڈر کچھ بے جا بھی نہ تھا۔ لیکن انہیں تجربہ کار آپیوں کی محنت پر کچھ بھروسہ تھا۔ وہ مڑ کر باہر جانے لگیں کچن سے تو ان کی نگاہ پچھلی دیوار پر پڑی جہاں پینٹ وغیرہ اکھڑ چکا تھا اور کافی پہلے انہوں نے یہاں وال پیپر لگانے کا کہا تھا۔ وال پیپر زمین پر پڑا تھا اور گوند بھی لیکن لگانے والے کہاں تھے۔

تھوڑی دیر بعد سندس سس اور کش سس کو پکڑ دھکڑ کر وال پیپر لگانے کا کہا گیا۔ دونوں نے نہائت دلجمعی سے کام شروع کیا۔ گوند لگانے کے بعد وال پیپر اٹھا کر دیوار پر رکھا اور ہاتھوں سے اسے ہموار کرنے لگیں۔۔ ایک جگہ لمبائی کے رخ میں ایک ابھار دکھا۔
سندس سس نے اسے دبا کر برابر کرنا چاہا۔ پر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔
ذرا زور سے دبایا تو وہ وہ ابھار آگے کھسک گیا۔
کش سس بھی آ گئیں۔
حیران ہوتے ہوئے دونوں نے وال پیپر اٹھایا تو نیچے ایک عدد موٹی تازی چھپکلی گوند میں لتھڑی ان کو دیکھ کر احتجاج کر رہی تھی۔

سندس سس اور کش سس کے منہ سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ سب حاضرین نے مڑ کر دیکھا اور پھر تو کورس میں چیخوں کا مقابلہ شروع ہو گیا۔
چھپکلی لپکی زمین کی جانب۔

سب بہنیں آپیاں کاؤنٹر پر چڑھی چیخ رہی تھیں۔

لبنیٰ آپا چیخ بھی رہی تھیں اور ساتھ ساتھ روٹی بھی ہلا رہی تھیں کیونکہ واحد گول شکل میں بننے والے روٹی کا جل کر تباہ ہونا ان کو گوارہ ہ تھا۔
کائنات آپا کو اور کچھ چھپنے کو نہیں ملا تو چھلانگ لگا کر فریزر پر چڑھ گئیں۔

جبکہ فریزر میں پہلے سے ہی چھپی فاطمہ خان سس سوچ رہی تھیں کہ یہ ڈھکن لاک ہو گیا کیا۔

چیخوں کی آواز سن کر عبداللہ بھائی دوڑے آئے۔ اندر داخل ہوتے ہی ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ ہر طرف آپیاں کاؤنٹر پر چڑھی چیخوں کے سر تال ملا رہی تھیں۔
پہلے تو ان کو سمجھ ہی کچھ نہ آیا۔ جب اندازہ ہوا کہ یہ سب ایک چھپکلی کی کارستانی ہے تو فوراً بہادر بن کر لگے چھپکلی تلاشنے۔ جو کہ اس دوران غائب ہو چکی تھی۔

اچانک دیا آپی کو چھپکلی چھت پر دکھی۔ انگلی اس کی جانب کی اور نئی تان اٹھائی۔
چھپکلی شاید اس کے لیے تیار نہ تھی اس لیے سروں کی تاب نہ لا کر نیچے آ پڑی اور لینڈ کیا سیدھا عبداللہ بھائی کے سر پر۔ ۔ ۔ ۔

عبداللہ بھائی کو سر پر کچھ جیتا جاگتا وجود محسوس ہوا پہلے تو سوچا کہ اتنی بڑی کوئی جوں تو ہو نہیں سکتی جیسے ہی احساس ہوا کہ اس جوں کی تو ایک عدد دم اور چار ٹانگیں بھی ہیں۔
آپیوں کی جانب دیکھ کر ان سے بھی بلند چیخ ماری۔ اور اندھا دھند دوڑے ایک جانب۔ چھپکلی کو شاید عبداللہ بھائی کی سواری پسند آ رہی تھی وہ جم کر سر پر بیٹھ گئی۔ عبداللہ بھائی اندھا دھند بھاگتے ہوئے ٹکرائے فریج کے کھلے ہوئے دروازے سے۔

دوسری جانب حنا رضوان آپا جو شاید فریج میں گھسنے کی کوشش میں تھیں ٹکر لگنے سے دور جا گریں۔
عبداللہ بھائی کو اور کوئی راہ فرار جب نہ دکھی تو دوڑے مونا آپا کی جانب جو ایک کاؤنٹر ھما آپی کے ساتھ کھڑی چیخوں میں ہاتھ بٹا رہی تھیں۔

مونا آپا نے عبداللہ بھائی کو آتے دیکھ کر یہاں وہاں مدد کی تلاش میں نگاہ دوڑائی تو مرچیں کوٹنے والا ڈنڈا دکھائی دیا۔
جلدی سے اٹھایا اتنے میں عبداللہ بھائی بھی پہینچ چکے تھے۔ مونا آپا نے ان کو سیدھا کھڑے ہونے کا کہا اور مولا جٹ کی طرح بڑھک لگا کر ایک ڈنڈا رسید کیا۔
پٹاخ کی آواز کے ساتھ ڈنڈا عبداللہ بھائی کے سر کی پچ سے ٹکرایا۔

لیکن چھپکلی ان سے تیز نکلی اور کسی ماہر جمناسٹ کی مانند چھلانگ لگا کر ھما آپی کے پیروں میں جا پڑی۔
ھما آپی نے چھپکلی سے معانقہ کرنے کی بجائے فرار کو ترجیح دی اور بروس لی کی مانند ایک عدد شاندار جمپ لگائی۔ لیکن عین وقت پر پیر رپٹ گیا اور کمر کے بل آلوؤں کے چھلکوں سے بھرے ٹب میں جا گریں۔

اسی ہڑبونگ میں چھپکلی پھر غائب ہو چکی تھی۔

حالات ذرا معمول پر آئے تو نقصانات کا جائزہ لیا گیا۔
ھما آپی ٹب میں پڑی چلا رہی تھیں۔ کافی مشکل سے ٹب کو ان سے نجات دلائی گئی۔ فاطمہ سس کو فریزر سے برآمد کیا جا رہا تھا۔
جبکہ نازیہ سس ابھی تک کاؤنٹر سے اترنے سے انکاری تھیں۔
ایک جانب بے ہوش پڑے عبداللہ بھائی کو ساحرہ آپا کا موزہ سنگھا کر ہوش میں لایا جا رہا تھا۔

سوائے روٹی کے کوئی بھی ڈش کھانے والی حالت میں نہیں بچی تھی۔ قیمہ بھرے کریلے کھیر بوس ہو چکے تھے۔ کھڑے مصالحے کا چکن اب پانی کے تالاب میں لیٹا ہوا تھا۔ باقی ڈشوں کا حال بھی ایسا ہی تھا۔

آپیوں کی ہنگامی میٹنگ بلائی گئی۔
کافی دیر سوچنے کے بعد ساحرہ آپا نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا۔
"اب ایک ہی صورت بچی ہے۔ افطاری کینسل کی جائے اور خود جو انڈے رکھوائے تھے ان کا آملیٹ بنا کر روٹی کے ساتھ کھا لیا جائے۔"

ساتھ ہی نازیہ ظفر آپا کو آواز دی۔
"نازیہ منا۔ ۔ ۔ ۔ ان انڈے جو پھینٹ کر رکھوائے تھے ان کا آملیٹ تو بنا دو۔"
نازیہ سس کے چہرے پر زلزلے کی سی کیفیت پیدا ہوئی۔
ساحرہ آپا کو بھی کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔
"وہ ۔ ۔ ۔ وہ۔ ۔ ۔ ۔ وہ انڈے تو۔ ۔ ۔ "
"ہاں ہاں ۔ ۔ ۔ بتاؤ بتاؤ۔ ۔ ۔ کہاں گئے وہ انڈے۔ ۔"

"وہ تو میں نے اور حرم آپا نے اپنے فیس ماسک میں ڈال دئیے۔"

Hina Rizwan
12-07-2014, 03:01 AM
بہت مزے کی تحریر ہے
یہ کب پوسٹ ہوئی تھی میں نے پہلی بار ہی پڑھی ہے

عبداللہ
12-07-2014, 06:30 AM
بہت مزے کی تحریر ہے
یہ کب پوسٹ ہوئی تھی میں نے پہلی بار ہی پڑھی ہے

faris bahi ne kch ramzan phly post ke thi.

somiamaqsood
12-07-2014, 06:42 AM
زبردست بہت مزے کی تحریر تھی

کوثر بیگ
12-07-2014, 09:21 AM
مجهے سب ہے یاد ذرا ذرا .........بہت اچهی یادیں

Sajidcompk
12-07-2014, 09:41 AM
its not fair to post such things





during Ramzan.












its too much pain in my stomach now, after laughing regularly for such long time
Allah sab ku hidait de,


aaaiieee
aaayeee


;d

Shaista Zia
12-07-2014, 02:47 PM
;d;d;d;d

Arain
12-07-2014, 11:34 PM
;d ;d lolzz nice post