PDA

View Full Version : بہترین چیزوں میں سے دینے کا حکم۔



محمد فیصل
11-07-2014, 11:48 AM
قرآن کا چوتھا پارہ شروع ہی اس سے ہوتا ہے


لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۔(آل عمران)۔

تم نیکی کو اسوقت تک پا ہی نہیں سکتے، جب تک کہ اپنی ان چیزوں میں سے (اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو)، جو تمہیں عزیز ہیں۔


نبی ﷺ کے زمانے میں مدینہ والوں کا عام پیشہ کھجور اور انگور کی زراعت تھی۔ انصار میں سب سے زیادہ مالدار حضرت ابو طلحہ ؓ تھے۔ ان کے کھجور کے باغات تھے۔ جن میں سے بئرحاء والا باغ ان کیلئے سب سے زیادہ پسندیدہ بھی تھا اور اہم بھی۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ مدینہ میں جہاں ہر طرف پانی کی تنگی تھی، اس باغ میں میٹھے پانی کاایک کنواں بھی تھا۔ نمی والی میٹھی زمین کی وجہ سے اس میں پیداوار بھی خوب ہوتی تھی۔عربی میں بئر کنویں کو کہتے ہیں۔

یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔ نبی ﷺ بھی وہاں جاتے اور اسکاٹھنڈا میٹھا پانی پیتے۔ یہ اتنا گھنا اور درختوں سے بھرا ہوا تھاکہ اگر ایک دفعہ اسمیں کوئی چڑیا آجاتی، تو کھجور کے پتوں کے جھنڈ میں باہر نکلنے کا راستہ بمشکل تلاش کر پاتی۔(مؤطا، کتاب الصلوٰۃ)
اس آیت کے نازل ہو نے پر حضرت ابو طلحہ ؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہؐ۔ میرا سب سے محبوب مال یہ باغ ہے۔اوریہ آج سے اللہ کی راہ میں صدقہ ہے۔اورمیں اللہ سے اسکے ثواب اورآخرت میں ذخیرہ ہوجا نے کا امیدوار ہوں۔ آپ اسے اللہ کے حکم کے مطابق استعمال میں لے آئیں۔ نبی ﷺ کہنے لگے:واہ بھئی واہ۔یہ تو واقعی بڑانفع دینے والامال ہے۔ جو کچھ تم نے کہا، وہ بھی میں نے سن لیا۔ اب میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ پھرحضرت ابوطلحہ ؓنے اسے اپنے چچا زاد بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں میں تقسیم کردیا۔ بخاری،کتاب الزکوٰۃ