PDA

View Full Version : روزہ اور صحت



Kainat
07-07-2014, 06:58 PM
http://i61.tinypic.com/1629mpc.jpg
روزہ اور صحت


کچھ چیزیں سارا سال ہمارے اردگرد روز مرہ کی روٹین میں ایسے شامل رہتی ہیں کہ ہم انھیں زندگی کا ایک جزو سمجھ کر چلتے رہتے ہیں لیکن ماہِ رمضان آتے ہی ان کی قدرو قیمت از خود بڑھ جاتی ہے۔ سب یوں متوجہ ہونے لگتے ہیں کہ صبح و شام تیرا ہی نام۔۔
دہی۔۔ پاکستان میں ہر گھرمیں صبح ناشتے کی میز یا دسترخوان پر ایک لازمی جزو ہے جسے ہر عمر کے لوگ بڑے شوق سے استعمال کرتے ہیں۔ دہی لایا تو بازار سے جاتا ہے لیکن پھر بھی خواتین کی اکثریت اسے گھر پر تیار کرنا جانتی ہیں۔ اس کا طریقہ بہت سادہ ہے کہ نیم گرم دودھ میں کھٹی دہی جسے ’’جاگ‘‘ کہاجاتا ہے ملا کر رات بھررکھ دیا جاتا ہے ۔صبح یہ دودھ مائع کی بجائے ٹھوس حالت میں آ جاتا ہے اور اس کے اوپر ملائی بھی آ جاتی ہے۔ ساری دنیا میں یہ بکثرت استعمال ہوتا ہے اور انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہے۔۔
دہی کی تاریخ بھی بڑی دلچسپ ہے۔۔
دودھ صدیوں سے انسانی خوراک کا حصہ رہا ہےکہ قبل از تاریخ کا انسان بھی گائے‘ بکری‘ بھینس‘ اونٹ اور بھیڑ کے دودھ کو بطور غذا استعمال کیا کرتا تھا۔ ان کے مویشیوں کے دودھ کی مقدار کم ہوتی تھی اس لیے وہ اسے جانوروں کی کھالوں یا کھردرے مٹی کے برتنوں میں جمع کرلیتے تھے تاکہ بہ وقت ضرورت آسانی سے استعمال میں آجائے۔شروع شروع میں اسے جانوروں سے حاصل کرنے کے بعد اسی طرح کچی حالت میں رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن کچے دودھ کو محفوظ حالت میں رکھنا‘ وہ بھی اس طرح کہ اس کی غذائیت بھی برقرار رہے ناممکن سی بات ثابت ہوئی۔ اس مسئلے کا حل اتفاقی طور پر ہی دریافت ہوا کہ جنوب مغربی ایشیا کے وسیع علاقوں میں سفر کرنے والے ”نوماد“ قبیلے والے دودھ کی شکل میں اپنی رَسد کو بھیڑ کی کھال سے بنے ہوئے تھیلے میں رکھا کرتے اور اسے اپنے جانوروں کی پیٹھ پر باندھ دیا کرتے تھے۔ ایام سفر میں وہ تھیلے مسلسل ہلتے رہتے اس پر سورج کی تپش بھی اپنا اثر دکھاتی رہتی۔ نتیجتاً ہ دودھ خمیر بن کر نیم ٹھوس شکل اختیار کرلیتا۔ وہ اس بات سے ناواقف تھے کہ بھیڑ کی کھال کے اندرونی حصے میں چھپے ہوئے بیکٹریا نے دودھ کو خمیر کرکے دہی کی شکل دے دی تھی۔ابتداءمیں دودھ کی اس شکل کو بہت کم مقدار میں استعمال کیا جاتا تھا کیوں کہ نوماد قبیلے والے اسے زہریلا سمجھتے تھے پھر آہستہ آہستہ تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ دودھ کی یہ نئی شکل مضر صحت نہیں بلکہ معجزاتی غذا ہے۔ جب اس کی افادیت سامنے آئی تو اسے بنانے کا طریقہ دریافت کیا گیا۔ دودھ کو جمانے کے لیے انہوں نے اس میں تھوڑا سا دہی ملالیا۔ اس تجربے نے کامیابی عطا کی اور پھر دھیرے دھیرے یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ کھٹا اور خمیر کیا ہوا دودھ تازہ دودھ سے زیادہ فائدہ مند ہے۔اسطرح یہ نہ صرف زیادہ عرصے تک اچھی حالت میں رہتا ہے بلکہ اس کا ذائقہ بھی مزیدار ہوجاتا ہے۔
بلغاریہ کے لوگوں کی طبعی عمر دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ سائنسدانوں نے مسلسل تجربوں اور تجزیہ کے بعد پتا چلایا کہ اس کی ایک وجہ دہی بھی ہے۔وہاں کے لوگ دہی کا استعمال بہت زیادہ کرتےہیں۔
فرانس میں اسے حیاتِ جاوداں کا نام دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ 1700 میں فرانس کا کنگ فرسٹ کسی بیماری میں ایسا مبتلا ہوا کہ کوئی علاج کارگر نہیں ہوتا تھا۔ بادشاہ سوکھ کا کانٹا ہوگیا تھا۔ نقاہت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہ بیٹھنے کی قوت بھی کھو چکا تھا۔ اس کے علاج کے لیے مشرق بعید کے ایک معالج کو بلایا گیا۔ اس نے بادشاہ کو صرف دہی کا استعمال کرایا اور کنگ فرسٹ صحت یاب ہوگیا۔۔اورفرانس ہی کے ایک ماہر جراثیم پروفیسر میچسنٹکو لکھتے ہیں کہ دہی درازی عمر کی چابی ہے۔ اس کے استعمال سے نہ صرف انسان بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے بلکہ عمر بھی طویل پاتا ہے۔
ڈائٹنگ کرنے اور وزن کرنے والوں کے لیے بھی دہی ایک آئیڈیل خوراک ہے کیوں کہ اس کے اندر حراروں کی تعداد انتہائی کم ہوتی ہے۔نظام ہضم کو قوت فراہم کرنے کے علاوہ یہ غذا کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وزن کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
دہی میں اچھی قسم کے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں ، جس سے جسم کو کئی طرح سے فائدہ ملتا ہے . آیور ویدک کے مطابق موسم گرما میں دودھ کے مقابلے دہی کھانے کے فوائد بہت زیادہ ہوتے ہیں . روزانہ ایک کٹوری دہی نہ صرف بیماریوں کو دور رکھتا ہے بلکہ جسم صحت مند بناتا ہے . دودھ میں ملنے والا موٹی اور چکنائی جسم کو ایک عمر کے بعد نقصان پہنچاتا ہے . اس کے مقابلے دہی سے ملنے والا فاسفورس اور وٹامن ڈی جسم کے فائدہ مند ہوتا ہے .دہی میں کیلسیم ایسڈ کے طور پر سما لینے کی بھی خوبی ہوتی ہے . انسانی صحت کے لئے یہ اتنا ہی زیادہ فائدہ مند ہےجتنا کہ دودھ۔۔
تو یہ دہی جس پہ ماہرین نے بھی اتنی نظر ڈالی، ہماری زندگی میں ایک لازمی عنصر ہے۔سحری و افطار ہو تو یہ ملزوم بن کر رہ جاتا ہے۔اگر کبھی سالن نہ ملے تو اس سے روٹی بھی کھا لی جاتی ہے۔۔اس کی ملائی پہ چینی چھڑک کر کھانے کا تو مزہ ہی بڑھ جاتا ہے۔ دہی کی ملائی بھی دودھ کی ملائی سے کم نہیں۔دودھ دہی والے کی دوکان پہ دہی جمائی ہوئی کنالیوں کے اوپر دہی کی پروفیشنل ملائی کیا خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔۔بچپن میں ایک بار ہماری گنہگار آنکھوں نے دیکھا تھا کہ ایک صاحب دوکان سے دہی خرید کر گھر لے جارہے تھے۔ لیکن راستے میں ہی اس پر موجود ملائی اتار کر ہڑپ کرگئے تھے۔یقینابے چارے گھر والوں کو انھوں نےبغیر ملائی کا دہی کھلایا ہو گا۔
سحری میں لوگ چائے کو پس پشت ڈال کر خود بخوددہی کی لسّی کے متوالے بن جاتے ہیں۔ افطاری میں کئی اقسام کی چاٹ بنتی ہے۔۔ جو یقینا دہی کی محتاج ہیں ،جن میں دہی ایک مین جزو کی حیثیت رکھتا ہےورنہ اس کے بغیر چنے سوکھے رہیں گے۔۔پاپڑی ناراض ہو جائے گی ۔اِملی اور ہری چٹنی کے پیرہن کو بہترین بیس نہیں ملے گی۔۔ اور چاٹ مصالحہ، سبز دھنیا کس پہ اپنا جلوہ بکھیرے گا۔ ۔؟چاٹ کے علاوہ یہ اب شیک میں بھی استعمال ہونے لگا ہے۔۔ پہلے صرف مینگو شیک ہی شہرتِ دوام پر تھا۔اب مینگو لسّی بننے لگی ہے۔ کئی اقسام کی پھلوں کی اسموتھی میں اس کا واضح رول ہے ۔ ڈاکٹر، حکیم کا بھی یہ پسندیدہ ہے۔پیٹ کے امراض میں اسبغول کے چھلکے کو دہی میں ملوا کر مریض کو کھلوانا حکماء کا پسندیدہ اور کامیاب نسخہ ہے۔ کیونکہ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ دہی میں پائے جانے والا کیلشیم، پروٹین ، رائیوفلیون، وٹامن بی، فولک ایسڈ انسانی صحت کیلئے بہت ہی کارآمد ہے۔
ایک اندازے کے مطابق دودھ کی مقدار میں اگر دہی استعمال کیا جائے تو اس میں کیلشیم کی مقدار دودھ کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ دودھ سے بیس فیصد زیادہ پروٹین کا حامل بھی ہوتا ہے۔ دہی بنتا تو دودھ سے ہی ہے اور دودھ میں پائے جانے والے کیلشیم کو ہضم کرنا آسان نہیں لیکن اگر دودھ کی بجائے دہی استعمال کیا جائے تو یہ کیلشیم بہت جلدی ہضم ہو جاتا ہے یعنی کہ الٹے بانس بریلی کو،پھر یہ لیسٹرول بھی کم کرتا ہے۔۔ ماہرین نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ دل کے دورے کی سب سے بڑی وجہ کولیسٹرول ہے جسے دہی کم کرتا ہے۔ اگر روزانہ دو پیالے دہی کھایا جائے تو حیران کن رفتار سے کولیسٹرول میں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ انسانی جسم میں رواں دواں خون میں ہونے والے انفیکشن کے تدارک کیلئے بھی اس سے بہتر کوئی دوسری غذا نہیں۔ -اوردہی کو اینٹی بائیوٹیک کا ذخیرہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ نہ صرف خطرناک بیکٹیریا کی ہلاکت کا موجب بنتا ہے بلکہ آنتوں میں پائے جانے والے انتہائی خطرناک بیکٹریا کو گردوں اورمثانے میں جانے سے قبل ہی ختم کر دیتا ہے۔ آنتوں کے زخموں کو مندمل کرنے میں دہی کا ثانی نہیں۔ مدافعتی نظام کو بہترکرنے میں اسکا کوئی ثانی نہیں۔۔کیونکہ انسانی جسم میں خون میں پائے جانے والے انفیکیشن کو کنٹرول کرکے اس کا تدارک کرتا ہے۔ یہ خطرناک بیکٹیریا کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔جو لوگ تین ماہ تک روزانہ دو سے تین پیالے دہی استعمال کرتے ہیں، ان کا مدافعتی نظام بہت تیزی سے بہتر ہوتا ہے۔
عام لوگوں کو اندازہ نہیں کہ کھانے کو مزیدار اور چٹپٹا کرنے کے چکر میں نمک کا زیادہ استعمال کس قدر خطرناک اور مہلک ہوتا ہے۔ اس لاعلمی کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ نمک استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے لوگ اگر دہی کا استعمال کرتے ہیں تو دہی ان کے جسم میں پائے جانے والے سوڈیم کی شدت کم کر کے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں کرتا ہے۔ روزانہ دو سے تین پیالے دہی کھانے والے عموماً ہائی بلڈ پریشر سے محفوظ رہتے ہیں۔ کمزور نظام ہضم والے افراد کودودھ کی بجائے دہی استعمال کرنا چاہیے۔
موٹے مرد و خواتین کے لیے یہ پتے کی بات ہے کہ دہی وزن بھی کم کرتا ہے۔۔ایک امریکی تحقیق کے مطابق دہی استعمال کرنے والے افراد 22 فیصد وزن کم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں جبکہ81 فیصد افراد اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دہی میں موجود کیلشیم پیٹ کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔دہی میں ایک لیکٹو بیکٹیریا پایا جاتا ہے ۔۔پھر یہ بڑی آنت کے کینسر سے بھی بچاتاہے۔ دہی میں چونکہ کیشیم کی ایک بھر پور مقدار موجود ہے سوبوڑھے لوگوں کیلئے بھی دہی صحت کی علامت ہے ،یہ ان کا معدہ اور نظام انہضام کو فعال اور بہتر رکھتا ہے۔
۔اور جب اتنے گنوں کی چیز ہو تو اسے اپنی بقاء کی بھی فکر نہیں رہتی۔۔ ان کا نام و کام جاوداں ہی رہتا ہے۔۔سو یہیں پر دہی نے اپنا مزید کمال کردکھایا۔۔لسّی کی صورت، اب لوگ دہی کو بے شک بھول جائیں لیکن لسّی کو کسی صورت نہیں بھولیں گے۔.


http://i57.tinypic.com/11hs012.jpg

لسّی، دہی سے بنایا جانے والا ایک روایتی پنجابی مشروب ہے۔ جو عام طور پر دہی میں پانی ملا کر مدھانی سے بلویا جاتا ہے ۔پھر اس میں سے مکھن علیحدہ کر لیا جاتا ہے۔ اور اس میں حسب منشا نمک اور مزید پانی ملایا جاتا ہے۔تو لیجئے گاڑھی گاڑھی لسّی تیار۔۔ کچھ لوگ اس میں چینی بھی ملاتے ہیں۔ لسّی پاکستان اور بھارت میں بالخصوص دونوں ملکوں کے دیہاتی علاقوں خصوصا پنجاب میں بہت مقبول ہے۔ سخت گرمی میں یہ ٹھنڈک، اطمینان اور نیند کا باعث ہے۔ زیادہ مقبولِ عام تو لسّی میں دہی، پانی اور نمک ہی شامل کیا جاتا ہےلیکن میٹھی لسّی اور ادھ رڑکا بھی پیاجاتا ہے۔ میٹھی لسّی میں دہی کے ساتھ دودھ اور چینی شامل کی جاتی ہے اور یہ عام لسّی سے زیادہ گاڑھی ہوتی ہے۔ عمومایہ عام طور پر ناشتے میں لی جاتی ہے حالانکہ اس میں نیند آور خصوصیات زیادہ ہوتی ہیں۔ پہلے وقتوں شہریوں کی صبح بیڈ ٹی کے بغیر نہیں ہوتی تھی اور گاؤں والوں کااَرلی مارننگ ناشتہ اس کے بغیر نہیں مکمل نہیں تھا۔ لیکن اب دونوں پارٹیوں نے کچھ ادلا بدلی کر لی ہے۔ لسی اب شہروں میں بھی پی جانے لگی ہے اور گاؤں والے چائے پینے لگے ہیں۔۔ اس کی افادیت کے سلسلے میں روزے میں بھی پیاس کی شدت سے گھبرانے والوں کو مختلف اقسام کی لسّی یاد آنے لگتی ہے۔ ۔ اس لیے سحری میں اسے ترجیح دی جانے لگی ہے۔



دلچسپ بات یہ کہ لسّی کو پہلے پہلوانوں کا مشروب خاص سمجھا جاتا تھا۔۔ویسے کہنے میں کوئی حرج تو نہیں۔۔لسّی کی بدنامی کرنے میں پہلوانوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔۔ پہلے تو لسّی کے لیے بڑے بڑے لمبے گلاس منتخب کیے گئے، کیونکہ آج بھی چھوٹے گلاسوں میں لسّی پینے کا تصور خال خال ہی ہے۔ پھر لسّی میں مکھن کی ڈلی اور کھوئے کے پیڑے ڈال کر اسے اتنا مقوی بنا دیا گیا کہ عام انسان کی پہنچ سے دور کر دیا گیا۔۔وہ تو بھلا ہو شائقین کا جنہوں نے اپنا مطلوبہ ڈرنک جلد ہی تیار کر لیا۔۔ بلکہ چاٹی سے نکلے ایک لسّی کے گلاس کا مقابلہ کسی بھی مشروب سے نہیں کیا جا سکتا۔۔ پاکستان میں لاہور، گوجرانوالہ،فیصل آباد اپنی روایتی لسّی کی وجہ سے بھی شہرت میں ہیں۔۔ ہمارے حساب سے تو قومی مشروب بھی گنے کے رس کی بجائے لسّی کو ہی ہونا چاہیئے تھا۔۔کیونکہ دہی تو تقریبا ہر گھر کے کسی فرج، کونے، ہانڈی، چاٹی یا دودھ دہی والے کی کنالیوںمیں مل ہی جائے گا۔۔ اور جھٹ پٹ لسّی کا گلاس تیار بھی ہو جائے گا۔ پَر گنے کا رس پینے کے لیے اول تو گھر سے باہر نکلنا محال ہو گا۔ پھرگنے کا رس نکالنے والی مشین کی تلاش میں طول و عرض میں نگاہیں دوڑانی پڑیں گی۔۔ دس بندوں سے اس کا جائے مقام پوچھنا ہو گا۔۔ اور گنے کی عدم دستیابی پہ یہ مشینیں غائب ہو جائیں گی۔۔ یوں گنے کے موسم کا انتظار کیا جائے گا۔۔ اور اگر آپ گھر سے نکل کر یہ جھنجھٹ نہیں کرنا چاہتے تو پھر بہتر ہے۔۔ جان مار کر گنے کا کھیت خود اگا لیں اور گھر بیٹھے گنے چوپ چوپ کر اس کارس نکال لیں اور قومی مشروب سے لطف اندوز ہوں۔۔
اب اتنے جھنجھٹ کے بعد تو یقینا کسی بھی محب وطن کا دل دہی اورلسّی کی طرف بخوبی مائل ہو جائے گا۔۔


۔۔۔۔۔۔ کائنات بشیر۔۔۔۔۔۔۔

Amir Shahzad
07-07-2014, 07:08 PM
واہ واہ دہی کی شان میں کیا زبردست لکھا ہے
سچ پوچھیں تو جب تک دسترخوان پر کھانے کے ساتھ دہی نا ہو
میری روٹی حلق سے نیچے نہیں اترتی
لیکن اس بار پاکستان میں بہت مشکل دیکھی اسے لے کے
بازار کے دہی سے بو آتی تھی
امی نے ایک دن گھر کا بنا کے دیا
وہ بھی میرے ناک سے نیچے نہیں اترا
نیسلے اور ایک دو اور کمپنیوں کا ٹرائی کیا
الو کے پٹھوں نے مفت میں شوگر ایڈ کی ہوتی ہے
جیسا دہی ادھر کویت میں پیکنگ میں ملتا ہے مزا آجاتا ہے کھانے کا
شکر ہے واپس آیا اور پھر سے دہی کھانے کا شوق پورا ہو جاتا ہے

IN Khan
07-07-2014, 09:51 PM
بہت عمدہ سس

Hameedi
07-07-2014, 10:29 PM
دہی اور گاڑھی لسّی کا ایک طبی فائدہ عرض کرنا چاہوں گا ۔جن حضرات کو بلڈ پریشر اور کلیسٹرول کی شکایت کی وجہ سے 75 ایم جی کی ایسپرین کی ایک گولی روزانہ کھانے کی ڈاکٹر ہدایت کرتے ہیں ۔ایسپرین لمبے عرصہ تک استعمال کرنے سے ۔پیٹ کے السر کی شکایت اکثر مریضوں میں دیکھنے میں آئی ہے ۔اس سے بچنے کے لئے روزانہ دہی یا گاڑھی لسی کا استعمال پیٹ کے السر سے بچاتا ہے ۔