PDA

View Full Version : رمضان پر مضامین



کوثر بیگ
05-07-2014, 08:18 AM
رمضان اس طرح گزاریں
تحریر
از
اے ۔ اے ۔ خان


٭ فرض روزوں کا اہتمام کریں، کیونکہ اگر سال بھر بھی روزہ رکھیں گے تو رمضان کے روزوں کا ثواب نہیں ملے گا۔




٭ شرعی عذر کے بغیر روزہ قضا ہرگز نہ کریں۔




٭ نماز تراویح بیس رکعات پابندی اور خشوع و خضوع سے ادا کریں۔




٭ ماہ رمضان کی راتیں لغویات میں ہرگز نہ گزاریں۔




٭ ماہ رمضان میں نماز تہجد کا اہتمام کریں۔




٭ سحر و افطار میں ضرورت سے زیادہ نہ کھائیں۔




٭ ماہ رمضان میں کم از کم ایک قرآن ضرور پڑھیں۔




٭ اشراق، چاشت، اوابین وغیرہ کی پابندی کریں۔




٭ قضا نمازیں ادا کریں۔




٭ درود شریف کا ورد کثرت سے کریں۔




٭ مسواک کا استعمال کریں۔




٭ رمضان میں صدقات و خیرات کی کثریں کریں۔




٭ نظر کی حفاظت کریں۔




٭ رمضان میں اپنے ملازمین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں۔




٭ آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھیں۔




٭ جب بھی مسجد میں داخل ہوں اعتکاف کی نیت ضرور کرلیں، تاکہ جتنی دیر تک آپ مسجد میں رہیں اعتکاف کا ثواب ملتا رہے۔




٭ اذان سے قبل مسجد پہنچ جائیں۔




٭ نماز باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا کریں۔




٭ آخری دَہے کی طاق راتوں میں شب بیداری کریں، یعنی ان راتوں میں زیادہ سے زیادہ عبادت کریں۔




٭ رمضان کی عبادتوں کو برباد ہونے سے بچائیں۔




٭ چاند رات کو عبادت میں گزاریں۔




٭ ستہ شوال کے روزے رکھیں۔ -

Barvi
05-07-2014, 10:55 AM
ان شاءاللہ

کوثر بیگ
05-07-2014, 10:53 PM
رمضان المبارک کے فیوض و برکات
تحریر
از
قاری محمد مبشر احمد رضوی القادری

قرآن مجید میں اللہ عز و جل ماہ رمضان المبارک کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ ’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں ، تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں ، اللہ عز و جل تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے تم گنتی پوری کرو اور اللہ عز و جل کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمھیں ہدایت دی ، تاکہ شکر گزار ہو جاؤ ‘‘ ۔ (سورہ بقرہ)

’’رمضان ‘‘رمض سے بنا ہے ، جس کے معنی ہے گرمی یا جلنا ۔ چوں کہ اس میں مسلمان بھوک و پیاس برداشت کرتے ہیں یا یہ گناہوں کو جلا ڈالتا ہے ، اس لئے اسے رمضان کہا جاتا ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور آخر رات تک بند نہیں ہوتے ۔ جو کوئی بندہ اس ماہ مبارک کی کسی بھی رات میں نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے ہر سجدہ کے عوض سترہ سو (۱۷۰۰) نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے لئے جنت میں سرخ یاقوت کا گھر بناتا ہے ، جس میں ستر ہزار دروازے ہوں گے ، جن میں یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے ۔ پس جو کوئی رمضان المبارک کا پہلا روزہ رکھتا ہے تو اللہ عز و جل مہینے کے آخر دن تک اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے ، جو دوسرے رمضان تک اس کے لئے کفارہ ہو جاتا ہے اور ہر روزہ کے بدلے اس کو ایک ہزار سونے کے دروازے والا محل جنت میں عطا ہوگا اور اس کے لئے صبح سے شام تک ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہیں گے ۔ روزہ دار کے سجدہ کے عوض جنت میں اسے ایک ایسا درخت عطا کیا جائے گا ، جس کا سایہ بہت زیادہ وسیع ہوگا ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ روزہ سپر (ڈھال) ہے یعنی روزہ جہنم کی آگ سے روزہ دار کو بچائے گا ۔ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگربندوں کو معلوم ہو جائے کہ رمضان کیا ہے ؟ تو میری امت تمنا کرتی رہے گی کہ پورا سال رمضان ہی ہو ۔ حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ شعبان کے آخری دن وعظ فرمایا کہ اے لوگو ! تمہارے پاس عظمت والا مہینہ آیا ۔ وہ مہینہ جس میں ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں سے بہتر ہے


۔ اس ماہ مبارک کے روزے اللہ عز و جل نے فرض کئے اور اس کی رات میں قیام سنت ہے ، جو اس میں نیک کام کرے تو ایسا ہے جیسے کسی اور مہینوں میں فرض ادا کیا اور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستر فرض ادا کئے ۔ یہ مہینہ صبر کا ہے جس کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مواسات (یعنی غمخواری اوربھلائی کا ہے) اوراس ماہ کریم میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ۔ جو اس مہینہ میں روزہ دار کو افطار کرائے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔ اس کی گردن آگ سے آزاد کردی جائے گی اورافطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا کہ روزہ رکھنے والے کو ملے گا اور اس کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔ ہم نے عرض کیا ’’یارسول اللہ ! ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے افطار کرائے‘‘ ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کو دے گا ، جو ایک گھونٹ دودھ یا پانی یا ایک کھجور سے افطار کرائے ۔ اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کھلایا تو اس کو اللہ تعالی میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی وہ پیاسا نہ ہوگا ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے ۔


یہ وہ مہینہ ہے جس کا پہلا عشرہ (دس دن) رحمت ہے ، دوسرا عشرہ مغفرت ہے اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی ہے ، جو اپنے غلام پر اس مہینہ میں تخفیف (یعنی کام کم لے) کرے ، اللہ عز و جل اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرمائے گا ۔( بیہقی شریف )


اس ماہ مبارک کے جملہ چار نام ہیں (۱) ماہ رمضان (۲) ماہ صبر (۳) ماہ مواسات (۴) ماہ وسعت رزق ۔ (مشکوۃ ، کتاب الصوم) روزہ صبر ہے ، جس کی جزاء رب ہے ۔ مواسات کے معنی ہیں بھلائی کرنا ، چوں کہ اس ماہ میں سارے مسلمانوں سے خاص کر اہل قرابت سے بھلائی کرنا زیادہ ثواب ہے ، اس لئے اسے ماہ مواسات بھی کہتے ہیں ۔ اس ماہ کریم میں رزق میں فراخی بھی ہوتی ہے کہ غریب بھی نعمتیں کھاتے ہیں ، اس لئے اس ماہ کو ماہ وسعت رزق بھی کہتے ہیں۔ -

Barvi
05-07-2014, 11:21 PM
بہت عمدہ اور معلوماتی شئرنگ
جزاک اللہ خیرا کوثر بہن

کوثر بیگ
06-07-2014, 01:05 AM
مشکور ہوں محمد اکبر بھائی

Sajidcompk
06-07-2014, 09:09 AM
جزاک اللہ آپی

کوثر بیگ
06-07-2014, 05:44 PM
روزہ کے مقاصد


روزہ کو عربی میں صوم کہتے ہیں اور صوم کے معنی کسی چیز سے رکنا اور اسے چھوڑ دینا ہے (لسان العرب) اصطلاح شریعت میں اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کا جو احکام شریعت کا مکلف ہو، صبح صادق سے غروب آفتاب تک روزہ کی نیت اور اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے ارادتاً کھانے پینے اور جماع سے مجتنب رہنا ہے۔

روزہ اسلام کا چوتھا رکن ہے۔ روزہ کے مقاصد میں یہ بھی ہے کہ انسان اپنے نفس پر حاکم ہوکر پاکیزگی کے اعلی مقام تک پہنچ جائے۔ روزے کی فرضیت کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ ارشاد الہی ہے: ’’اے ایمان والو! تم پر روزہ اسی طرح فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا، تاکہ تم پرہیزگار و متقی بن جاؤ۔ وہ بھی گنتی کے چند روز ہیں، اس پر بھی جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی کو پوری کرے اور جو روزہ کی طاقت نہیں رکھتے ان پر ایک روزہ کے بدلے ایک محتاج کو کھانا کھلادینا ہے۔ اس پر بھی جو شخص اپنی خوشی سے (روزہ رکھنا چاہے) رکھے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور سمجھو تو روزہ رکھنا (بہرحال) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ رمضان کا مہینہ تو ایسا بابرکت ہے کہ اس میں قرآن نازل ہوا ہے، جو لوگوں کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور فرقان کے کھلے احکام موجود ہیں تو تم میں سے جو شخص اس ماہ کو پائے تو وہ ضرور اس مہینہ کے روزہ رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرلے۔ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ سختی نہیں چاہتا اور چاہئے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ نے جو تم کو راہ راست دکھائی ہے اس کے لئے اس کی بڑائی کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو‘‘۔ (سورۃ البقرہ)


اس آیت سے معلوم ہوا کہ روزہ کے تین اہم مقاصد ہیں: (۱) تقویٰ (۲) خدا کی تکبیر و تعظیم کا جذبہ پیدا کرنا (۳) خدا کا شکر ادا کرنا۔ پس روزے کی ساری حکمتیں اور فضیلتیں اسی کے گرد گھومتی ہیں۔

اس سلسلے میں احادیث شریفہ کے علاوہ فقہاء اور علمائے کبار نے روزہ کے اسرار پر بہت کچھ لکھا ہے۔ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ روزہ سابقہ امتوں پر بھی فرض تھا اور اس کی تائید تورات اور انجیل سے بھی ہوتی ہے۔ احادیث شریفہ میں روزے کے بہت سے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جب رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت (بروایت دیگر جنت) کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ جس شخص نے ایمان اور حصول ثواب کے لئے رمضان کے روزے رکھے، اس کے گزشتہ کے سارے گناہ معاف ہو گئے۔ انسان کی ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے سات سو گنا تک ہے، مگر اللہ تعالی نے روزہ کو اہمیت دیتے ہوئے فرمایا ’’بندہ روزہ میرے لئے رہتا ہے اور اس کا اجر میں ہی عطا کروں گا‘‘۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ماہ شعبان کے آخری دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’اے لوگو! ایک عظمت والا اور برکت والا مہینہ تم پر سایہ فگن ہے، اس مہینہ میں قیام اللیل نفل ہے، یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ ہمدردی اور غمگساری کا مہینہ ہے، اس مہینہ میں مؤمن کا رزق زیادہ ہو جاتا ہے۔ جس نے روزہ دار کا روزہ افطار کرایا، اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور اسے جہنم سے نجات ملتی ہے… اس مہینہ کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے، دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے اور تیسرا دوزخ سے نجات کا۔ جس نے اپنے خادم سے اس مہینہ میں کام کم لیا، اللہ اس کے گناہ معاف
کردے گا اور اسے دوزخ سے بچالے گا‘‘۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے مشکوۃ المصابیح، کتاب الصوم)


غرض اس طرح کی بہت سی فضیلتیں احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔ روزہ کے ترک کرنے پر بہت وعیدیں آئی ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص رمضان میں (بے عذر شرعی) ایک دن بھی روزہ نہ رکھا تو اس روزہ کے بدلے اگر تمام عمر روزہ رکھے تو کافی نہ ہوگا‘‘ (الترمذی) ایک حدیث میں فرمایا ’’جو شخص ماہ رمضان میں گناہوں کی معافی حاصل نہ کرسکے ، وہ اس کی رحمت سے محروم اور دور ہو گیا‘‘۔
قبولیت دعا کا بھی روزہ سے گہرا تعلق ہے، اس لئے قرآن میں رمضان کا ذکر کرتے ہوئے خاص طورپر قرب الہی اور دعاؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے ’’جب میرے بندے تم سے میرے متعلق دریافت کریں تو انھیں بتادو کہ میں قریب ہوں، میں دعا کرنے والے کی دعا کو جب وہ مجھے پکارتا ہے قبول کرتا ہوں، پس لوگوں کو چاہئے کہ میری فرماں برداری کریں اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ ہدایت پائیں‘‘۔ (سورۃ البقرہ۔۱۸۶)

شاہ ولی اللہ دہلوی نے صوم کی حقیقت پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے ’’چوں کہ شدید بہیمیت احکام پر عمل پیرا ہونے سے مانع ہے، اس کے مقہور اور مغلوب کرنے پر زیادہ سے زیادہ توجہ کرنا لازم ہے۔ ظاہر ہے کہ بہیمیت کو تقویت دینے اور اس کی ظلمت بڑھانے کے لئے خوش ترین اسباب کھانا پینا اور شہوت نفسانیہ میں منہمک ہونا ہے۔ بہیمیت کو مقہور و مغلوب کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسباب کی تقلیل میں آدمی کوشاں ہو، اس لئے وہ تمام خدا پرست جو اپنے نفس امارہ کی مغلوبیت اور آثار ملکیت کے ظہور کے خواہاں ہوتے ہیں، چاہے وہ کسی ملک کے رہنے والے ہوں، ان سب کا اس پر اتفاق ہے کہ اس کی بہترین تدبیر انھیں کی تقلیل ہے، نیز اصل مقصود یہ ہے کہ آدمی کی بہیمیت اس کی مَلکیت کی تابع ہو جائے، تاکہ وہ اس میں اپنا تصرف کرسکے اور اول الذکر اس کے رنگ میں رنگ جائے‘‘۔ (حجۃ اللہ البالغہ، ابواب الصوم)


اسلام میں روزے ماہ شعبان سنہ ۲ھ میں مدینہ منورہ میں فرض ہوئے اور ان کے لئے رمضان کا مہینہ مخصوص کیا گیا۔ اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے طورپر مختلف دنوں میں نفلی روزے رکھا کرتے تھے۔ اس مہینہ کو اس خاص ریاضت کے لئے منتخب کیا گیا ہے کہ اس مہینہ میں قرآن مجید کا نزول شروع ہوا اور یہ رمضان ہی کا مہینہ ہے، جس میں انوار الہیہ کی پہلی تجلی (وحی) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر جلوہ ریز ہوئی۔ اللہ تعالی ہم سب کو رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے سرفراز فرمائے۔ (آمین) -

کوثر بیگ
07-07-2014, 08:13 PM
روزے کا مقصد اعلیٰ


اے ایمان والو! فرض کئے گئے تم پر روزے، جیسے فرض کئے گئے تھے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے کہ کہیں تم پرہیزگار بن جاؤ۔ (سورۃ البقرہ۔۱۸۳)

روزے کا مقصد اعلی اور اس سخت ریاضت کا پھل یہ ہے کہ تم متقی اور پاکباز بن جاؤ۔ روزے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ان تینوں باتوں سے پرہیز کرو، بلکہ مقصد یہ ہے کہ تمام اخلاق رذیلہ اور اعمال بد سے انسان مکمل طورپر دستکش ہو جائے۔ تم پیاس سے تڑپ رہے ہو، تم بھوک سے بیتاب ہو رہے ہو، تمھیں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا، ٹھنڈے پانی کی صراحی اور لذیذ کھانا پاس رکھا ہے، لیکن تم ہاتھ بڑھانا تو کجا، آنکھ اُٹھاکر اُدھر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے نا کہ تمہارے رب کا یہ حکم ہے۔ اب جب حلال چیزیں اپنے رب کے حکم سے تم نے ترک کردیں تو وہ چیزیں جن کو تمہارے رب نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حرام کردیا ہے (چوری، رشوت، بددیانتی وغیرہ) اگر یہ مراقبہ پختہ ہو جائے تو کیا تم ان کا ارتکاب کرسکتے ہو؟ ہرگز نہیں۔ مہینہ بھر کی اس مشق کا مقصد یہی ہے کہ تم سال کے باقی گیارہ ماہ بھی اللہ سے ڈرتے ہوئے یونہی گزاردو۔ جو لوگ روزہ تو رکھ لیتے ہیں، لیکن جھوٹ، غیبت، نظربازی وغیرہ سے باز نہیں آتے، ان کے متعلق حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح الفاظ میں فرمادیا، یعنی ’’جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا، اگر اس نے کھانا پینا ترک کردیا تو اللہ تعالی کے نزدیک اس کی کوئی قدر نہیں‘‘ -

Saima
07-07-2014, 08:17 PM
بہت اچھی معلومات ہیں

جزاک اللہ کوثر آپا