PDA

View Full Version : دو یادگار واقعات



وقار عظیم
12-08-2012, 01:46 AM
آٹھویں منزل سے چابی کی خود کشی

میرا اپارٹمنٹ آٹھویں منزل پر ہے اور میرے اپارٹمنٹ سے میری کلاسسز کا پیدل فاصلہ بیس منٹ کا ہے اور میری کوشش ہوتی ہے گاڑی استعمال نہ کروں پیدل ہی کلاسسز جاؤں لہذا اگر جلدی نہ ہو تو میں کلاسسز پیدل ہی جاتا ہوں۔۔ایسے ہی ایک دن بہت زیادہ گرمی تھی میں دوپہر ایک سے تین بجے والی کلاس لے کر آ رہا تھا گرمی زیادہ تھی اس لیے یونیورسٹی سے ایک عدد ٹین پیک ماؤنٹین ڈیو خرید لی اور مزے سے پیتا ہوا اپنی بلڈنگ تک آیا۔۔سخت پسینے پسینے کندھے پر میرے بیگ اور ہاتھ میں ٹین پیک۔۔۔بلڈنگ میں پہنچا تو پتا چلا دونوں لفٹ خراب ہیں ان کو درست کیا جا رہا ہے۔۔۔ایک تو گرمی سے برا حال اوپر سے یہ خوش خبری ملی کہ آٹھویں منزل تک سیڑھیوں سے جانا ہو گا
خیر اللہ کا نام لیا اور سیڑھیاں چڑھتا گیا اپنی منزل پر پہنچ کر میں نے جیب سے چابی نکالی کہ اپارٹمنٹ کا دروازہ کھول سکوں۔۔میں گیلری میں چل رہا تھا بائیں جانب ریلنگ تھی جس پر اکثر کہنیاں رکھ کر میں نیچے کمپاؤنڈ میں دیکھتا رہتا تھا۔دائیں ہاتھ میں ٹین پیک اور بائیں میں چابی۔۔گرمی سے برا حال۔۔۔
ٹین پیک نیچے پھینکنا تھا ۔۔۔۔آہ۔۔۔سمجھ تو گئے ہوں گے
ٹین پیک ہاتھ میں رہا اور چابی آٹھویں منزل سے نیچے پھینک دی۔۔پہلے تو چار یا پانچ سیکنڈ سمجھ ہی نہیں آیا کہ میں نے کیا کیا۔۔جب سمجھ آیا تو ہوش اڑ گئے
ریلنگ سے لٹک لٹک کر نیچے جھانکا کہ کوئی بندہ آ جائے اوپر چابی پھینک مگر دوپہر کا وقت وہاں بندہ نہ بندے کی ذات
کوئی آ بھی جاتا تو میرا نہیں خیال کسی کی اتنی پاورفل تھرو ہوتی کہ چابی آٹھویں منزل تک پہنچا دیتا
سکون سے د ومنٹ خود کو کوس کر نیچے گیا وہاں سے چابی اٹھائی
وہاں بیٹھ کر پانچ منٹ ریسٹ کیا پھر اوپر آیااور گیلری سے گزرتے وقت چابی کو مٹھی میں دبا کے رکھا کہ یہ نا ہو میں پھینکوں بھی نا اور یہ خود ہی چھلانگ لگا دے

وقار عظیم
12-08-2012, 01:46 AM
الفاظ کا ہمیشہ درست استعمال کریں
ملائشیا میں میرا سب سے عزیز دوست کاشف ہے جو کہ میرا سینیئر بھی ہے کاشف یونیورسٹی کے ہاسٹل میں رہتا تھا اس کا روم میٹ عثمان تھا وہ بھی میرا دوست تھا
میں اکثر کاشف کے کمرے میں جاتا تھا وہاں خوب گپ شپ ہوتی تھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کا سلسلہ چلتا رہتا تھا
کاشف ہم سب میں سب سے زیادہ شرارتی مانا جاتا ہے
کاشف اور عثمان کا کمرہ ہاسٹل کی پانچویں منزل ہے اور ہاسٹل میں لفٹ نہیں ہے
ایسے ہی ایک دن میں کاشف سے ملنے گیا میں اور کاشف بیٹھے باتیں کر رہے تھے
عثمان لیپ ٹاپ پر بزی تھا عثمان کا والٹ کاشف کی کمپویٹر ٹیبل پر پڑا تھا کمپیوٹر ٹیبل کے بالکل پیچھے کھڑکی تھی جو باہر پارکنگ کی جانب کھلتی تھی
کاشف میرا والٹ پھینکنا ذرا ۔۔۔۔عثمان نے اچانک کہا
کاشف نے اس کا والٹ اٹھایا اور سیدھا کھڑکی سے باہر پھینک دیا
عثمان تڑپ کر اٹھا پہلے تو کاشف کے بال کھینچے اور پھر باہر کی جانب دوڑ لگائی تا کہ جا کر والٹ اٹھا سکے
ادھر کمرے میں میرا اور کاشف کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا
عثمان قریبا پانچ منٹ بعد والٹ ہاتھ میں لیے ہانپتا ہوا کمرے میں آیا اور بس اللہ جانتا ہے کہ اس دن میں نے میں نے کاشف کو کیسے بچایا