PDA

View Full Version : مقابلہ لطائف!



عبداللہ
04-06-2011, 12:04 PM
السلام علیکم!
لطیفوں اس مقابلے میں عبداللہ آپ کو خوش آمدید کہتا ہے۔
آپ نے اس لطیفے میں ماظق، ساحل اور یازغل بھائییوں کے لطیفے پوسٹ کرنے ہیں۔ اور ساتھ سساتھ مجھ پر بھی طبع آزمائی کر سکتے ہیں۔;)
شکریہ جی..
اُمید ہے زیادہ سے زیادہ ممبران حصہ لینگے۔


انعامات
پہلا انعام 10000 پوائنٹس
دوسرا انعام 5000 پوائنٹس
تیسرا انعام 2500 پوائنٹس
چوتھا انعام 1500 پوائنٹس
علاوہ ازیں ہر لطیفہ پوسٹ کرنے کے 500 پوائنٹس ملینگے




قوانین
ایک ممبر 3 لطیفے
ایڈیٹ کی اجازت نہیں
لطیفوں والی پوسٹ میں صرف لطیفے پوسٹ کریں
لطیفے صرف اردو میں ہی قبول کئے جائیں گے
سگنیچر آف کردیں


لطیفے پوسٹ کرنےکی آخری تاریخ 30 جون رات 12 بجے تک پاکستانی وقت

Trueman
04-06-2011, 05:29 PM
وعلیکم السلام جی ۔
چلیں پھر سب سے پہلے طبع آزمائی ہی کرتے ہیں ۔


عبداللہ بھائی ماظق پاء جی کے ساتھ کشتی پر سوار تھے ۔پاء جی نے کہا۔
۔"یار ، کشتی ڈگمگا رہی ہے ۔ایسا نہ ہو کہ ڈوب ہی جائے "۔
عبداللہ بھائِی غصے سے بولے ۔
۔"ڈوب جانے دو یار ، کمبخت نے کرایہ بھی تو بہت لیا ہے "۔

Pardaisi
04-06-2011, 05:41 PM
استاد (عبداللہ سے): کوئی سے پانچ پھلوں کے نام بتاؤ۔

عبداللہ: تین مالٹے دو سیب





.

Pardaisi
04-06-2011, 05:44 PM
ساحل رکشے والے سے
داتا صاحب کے مزار جاؤ گے.؟
رکشے والا، جی ہاں جاؤں گا
ساحل: یہ لو پھول جاکے ڈال دینا


.

Pardaisi
04-06-2011, 05:59 PM
ریلوے پولیس میں بھرتی کیے جانے والوں سے انٹرویو لیا جا رہا تھا۔
ان میں ساحل بھی شامل تھے
“فرض کرو دو ٹرینیں برق رفتاری سے آمنے سامنے سے آرہی ہیں ۔تو ایسے میں آپ کیا کرینگے؟“
پہلا سوال پوچھا گیا۔
“میں خطرے کا سگنل دونگا۔“ساحل نے اعتماد سے جواب دیا۔
“اگر سگنل کام نہ کرے تو ؟“ اگلا سوال آیا۔
“میں لالٹین سے کام لوں گا جناب!“ساحل نے اسی اعتماد سے جواب دیا۔
“اگر لالٹین میسر نہ ہو تو؟“ ایک اور حجت بھرا سوال ہوا۔
“تو پھر جناب میں اپنے چھوٹے بھائی کو بلا لاؤں گا۔“اساحل نے چند لمحے سوچنے کے بعد کہا۔
“لیکن وہ کیا کرے گا؟“اب کے حیرت بھرا سوال ہوا۔
“اس نے کبھی ٹرین کی ٹکر نہیں دیکھی نا۔“ساحل نے سادگی سے جواب دیا۔


.

Sabih
05-06-2011, 11:03 PM
ماظق بھائی اور یاز بھائی جنگل میں ہائیکنگ پر جا رہے تھے۔ کہ سامنے سے ایک ریچھ آتا دکھائی دیا۔
دونوں ڈر گئے۔ ماظق بھائی بھاگنے لگے لیکن یاز بھائی نے اطمینان سے بیٹھ کر بیگ میں جاگرز نکالے اور پہننے لگے۔
ماظق بھائی جھلا کر بولے۔

" یاز بھائی آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ جاگرز پہن کر ریچھ کو پیچھے چھوڑ دیں گے؟"

یاز بھائی نے اطمینان سے جواب دیا۔

"ریچھ کی کس کو پروا ہے۔ مجھے صرف تم کو پیچھے چھوڑنا ہے باقی تم جانو اور تمہارا ریچھ جانے۔"

Sabih
05-06-2011, 11:30 PM
یاز بھائی نے نیا نیا بزنس سٹارٹ کیا۔
آفس کے لیے جگہ لی اور اسے بہت ہی نفیس اور خوبصورت اشیا سے سجایا۔
ایک دن وہ آفس میں بیٹھے گلاس وال کے پار دیکھ رہے تھے کہ ایک کسٹمر آتا دکھائی دیا۔
یاز بھائی نے بزی نظر آنے کی کوشش کی ایک فائل کھینچی اور فون اٹھا کر اونچی اونچی آواز سے بولنے لگے یوں جیسے لاکھوں کی کسی ڈیل کا معاملہ طے پا رہا ہو۔ اس دوران وہ کسٹمر بھی دروازہ کھول کر اندر آ گیا یاز بھائی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے رکنے کا کہا اور فون پر بات کرتے رہے۔ چند منٹ فون پر بڑی بڑی فگرز بولنے اور میٹنگ کا وقت طے کرنے بعد فون رکھا اور مڑ کر کسٹمر سے عجلت بھرے لہجے میں بولے۔

"جی فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟"

کسٹمر مسکین سی صورت بنا کر بولا۔

"سر میں آپ کے آفس میں ٹیلی فون کا کنکشن لگانے آیا ہوں۔"

Sabih
05-06-2011, 11:54 PM
یاز بھائی، ماظق بھائی، ساحل بھائی اور عبداللہ بھائی ایک ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ یاز بھائی اور ماظق بھائی نے اپنے اپنے ٹکٹ خریدے جبکہ عبداللہ بھائی اور ساحل بھائی نے ایک ہی ٹکٹ خریدا۔
یاز بھائی حیران ہو کر بولے تم دونوں ایک ہی ٹکٹ پر کیسے سفر کرو گے۔ ساحل بھائی شرارتی مسکراہٹ سے بولے
"آپ دیکھ لینا خود ہی۔"
جب ٹکٹ چکر آتا دکھائی دیا تو ساحل بھائی اور عبداللہ بھائی دونوں اٹھ کر واش روم میں گھس گئے اور اندر اڑ جڑ کر دروازہ بند کر لیا۔
ٹکٹ چیکر نے آ کر دروازہ ناک کیا

"ٹکٹ پلیز؟"

دروازہ تھوڑا سا کھلا اندر سے ایک ٹکٹ نکلا۔ ٹکٹ چیکر نے ٹکٹ لیا اور چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد ساحل بھائی اور عبداللہ بھائی مسکراتے ہوئے باہر نکل آئے۔
یاز بھائی اور ماظق بھائی کو یہ طریقہ بہت پسند آیا اور پکا ارادہ کیا کہ واپسی پر ایسا ہی کیا جائے گا۔

واپسی کے سفر میں یاز بھائی اور ماظق بھائی نے بھی ایک ہی ٹکٹ خریدی جبکہ عبداللہ بھائی اور ساحل بھائی نے ایک ٹکٹ بھی نہ خریدی۔
یاز بھائی اور ماظق بھائی بہت حیران ہوئے۔ عبداللہ بھائی مسکراتے ہوئے بولے خود ہی دیکھ لینا آج بھی۔
جب ٹکٹ چیکر کے آنے کا وقت ہوا تو یاز بھائی اور ماظق بھائی اٹھ کر ایک واش روم میں گھس گئے جبکہ ساحل بھائی اور عبداللہ بھائی دوسرے واش روم میں۔

تھوڑی دیر بعد عبداللہ بھائی نے سر نکال کر جھانکا۔
باہر نکلے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور یاز بھائی والے واش روم پر ناک کر کے بھاری آواز میں بولے۔

"ٹکٹ پلیز؟"

HJaved
11-06-2011, 12:26 AM
ساحل رکشے والے سے
داتا صاحب کے مزار جاؤ گے.؟
رکشے والا، جی ہاں جاؤں گا
ساحل: یہ لو پھول جاکے ڈال دینا


.

;d;d..

HJaved
11-06-2011, 12:28 AM
ناک کر کے بھاری آواز میں بولے۔

"ٹکٹ پلیز؟"

;d;d..

KashifNomi
11-06-2011, 07:01 PM
ایک دفعہ عبداللہ بھائی کے شہر میں ہنگامی صورتحال ھو گئی ہسپتالوں میں مریض زیادہ ھو گئے اور وہاں پے خون کی ضرورت پڑ گئ اعلان ھوا کے سب اس نیک کام میں حصہ ڈالیں اور اپنے بھائی پہنوں کو خون کی امداد دیں

عبداللہ بھائی کو بھی جوش آیاکہ میں بھی خون دیتا ھوں وہ ہسپتال خون دینے گئے ابھی نرس نے ڈرپ لگائی ھی تھی کی عبداللہ بھائی بے ھوش

انھوں نے اپنے پاس سے 3 خون کی بوتلیں لگائی تو عبداللہ بھائی کو ھوش آیا

ھوش میں آتے ھی کہنے لگے کہ لے لو لے اور خون لے لو جتنا چاہے لے لو

نرس نے نے زور سے ایک تھپڑ لگایا اور کہا کہ پہلے جو تین بوتلیں لھائی ھیں ان کا تو حساب دو ;d;d;d;d

:)

KashifNomi
12-06-2011, 02:49 AM
ایک دفعہ ساحل بھائی کے پیر صاحب ان سے ملنے کے لیئے آئے
شام کو جب پیر صاحب جانے لگے تو سواری کا کوئی انتظام نا تھا

ساحل بھائی کو جوش آ گیا انھوں نے کہا کہ پیر صاحب کو سائیکل پے چھوڑ آتا ھوں پیر صاحب چونکہ کافی دور رھتے تھے اس لیئے کچھ بعد ساحل بھائی تھک گئے

ساحل بھائی نے کچھ دور جا کر سائیکل روکا اور پیر صاحب سے کہا


پیر صاحب سائیکل آپ چلائیں آپ کو کمر ھو رھی ھے;d;d;d;d

:)

KashifNomi
12-06-2011, 03:29 AM
ایک دفعہ ایک فقیر ماظق بھائی کے گھے آیا اور کہا کہ اللہ کے نام پے کچھ دو

ماظق بھائی کی طبعیت تھوڑی شیخوں جیسی تھی انھوں نے فقیر کو کیا دیا








انھوں نے سایئکل نکال کر فقیر کو جھولے دینے شروع کر دیئے ;d;d;d;d

:)

Tahir Javed
12-06-2011, 04:50 AM
یاز بھائی، ماظق بھائی، ساحل بھائی اور عبداللہ بھائی ایک ٹرین میں سفر کر رہے تھے۔ یاز بھائی اور ماظق بھائی نے اپنے اپنے ٹکٹ خریدے جبکہ عبداللہ بھائی اور ساحل بھائی نے ایک ہی ٹکٹ خریدا۔
یاز بھائی حیران ہو کر بولے تم دونوں ایک ہی ٹکٹ پر کیسے سفر کرو گے۔ ساحل بھائی شرارتی مسکراہٹ سے بولے
"آپ دیکھ لینا خود ہی۔"
جب ٹکٹ چکر آتا دکھائی دیا تو ساحل بھائی اور عبداللہ بھائی دونوں اٹھ کر واش روم میں گھس گئے اور اندر اڑ جڑ کر دروازہ بند کر لیا۔
ٹکٹ چیکر نے آ کر دروازہ ناک کیا

"ٹکٹ پلیز؟"

دروازہ تھوڑا سا کھلا اندر سے ایک ٹکٹ نکلا۔ ٹکٹ چیکر نے ٹکٹ لیا اور چلا گیا۔
اس کے جانے کے بعد ساحل بھائی اور عبداللہ بھائی مسکراتے ہوئے باہر نکل آئے۔
یاز بھائی اور ماظق بھائی کو یہ طریقہ بہت پسند آیا اور پکا ارادہ کیا کہ واپسی پر ایسا ہی کیا جائے گا۔

واپسی کے سفر میں یاز بھائی اور ماظق بھائی نے بھی ایک ہی ٹکٹ خریدی جبکہ عبداللہ بھائی اور ساحل بھائی نے ایک ٹکٹ بھی نہ خریدی۔
یاز بھائی اور ماظق بھائی بہت حیران ہوئے۔ عبداللہ بھائی مسکراتے ہوئے بولے خود ہی دیکھ لینا آج بھی۔
جب ٹکٹ چیکر کے آنے کا وقت ہوا تو یاز بھائی اور ماظق بھائی اٹھ کر ایک واش روم میں گھس گئے جبکہ ساحل بھائی اور عبداللہ بھائی دوسرے واش روم میں۔

تھوڑی دیر بعد عبداللہ بھائی نے سر نکال کر جھانکا۔
باہر نکلے کھنکھار کر گلا صاف کیا اور یاز بھائی والے واش روم پر ناک کر کے بھاری آواز میں بولے۔

"ٹکٹ پلیز؟"


;d;d;d

عبداللہ
06-07-2011, 11:24 PM
السلام علیکم!
نتیجے کیساتھ حاضر ہوں۔
چونکہ مقابلے میں بہت زیادہ ممبران نے حصہ نہ لیا تھا۔اسلئے نتیجہ میں نے خود ہی بنایا ہے۔ ہو سکتا بہت سے ممبران کو اس سے اختلاف ہو لیکن میری اُن سے درخواست ہے کہ صبر شکر کر جائیں۔

پہلے تو اُن تمام ممبران کا شکریہ جنہوں نے مقابلے میں حصہ لیا۔اور جیتنے والوں کو مبارک۔

چوتھی پوزیشن!
میرے مطابق چوتھے نمبر پر ہیں ٹرومین پائی جی۔
اپنے واحد لطیفے کی وجہ سے۔
تیسری پوزیشن!
تیسرے نمبر پر ہیں۔ کاشف بھائی اپنی رپلائی نمبر 11 کی وجہ سے۔
دوسری پوزیشن!
دوسری پوزیشن حاصل کی ہے پردیسی بھائی نے رپلائی نمبر 5 کی بدولت
اول پوزیشن!
اول انعام کے حقدار ہیں جی فارس بھائی۔ رپلائی نمبر 8 کے سبب۔

ایک دفعہ پھر سے اانعام حاصل کرنے والوں کو مبارک۔اور جنکو نتیجہ پسند نہ ٓئے اُن سے معذرت

شکریہ۔