PDA

View Full Version : ناسمجھ از فارس



1US-Writers
24-03-2011, 05:43 AM
ناسمجھ

از فارس

’’تم نہیں سمجھو گے۔‘‘
باجی نے جواب دیا اور اپنے کام میں مشغول ہو گئیں۔اور وہ اپنا سوال بھول کر جواب پر غور کرنے لگا۔ واقعی ! شاید وہ ہی نہیں سمجھ سکا تھا۔ اور سمجھتا بھی کیسے۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھا۔صرف تیرہ سال۔ابھی اسے بہت کچھ سیکھنا تھا۔وہ سر جھٹک کر دوبارہ کتاب میں محو ہو گیا۔
***
امتیاز صاحب محلے کی کافی جانی مانی شخصیت تھے۔اپنی شرافت اور دینداری کے باعث محلے میں کافی عزت تھی۔پانچوں وقت کی نماز باقاعدگی سے مسجد میں پڑھنے کے عادی تھے ۔عمرہ کا فریضہ سر انجام دے چکے تھے اور امام صاحب کی غیر موجودگی میں اکثر انہیں ہی امامت کی ذمہ داری دی جاتی۔آبائی زمینیں اور کپڑے کے پھلتے پھولتے کاروبار کے باعث معاشی طور پربھی آسودہ حال تھے۔ان کی بیگم، جو پورے محلے میں آپا بیگم کے نام سے جانی جاتی تھیں، انہی کی طرح نماز روزے کی نہایت پابنداور انتہائی سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔نہ صرف خود علم کے جوہر سے آراستہ تھیں بلکہ یہ روشنی اوروں تک بکھیرنے کے لیے گھر میں ہی ایک چھوٹا سا درس بھی کھول رکھا تھا جہاں محلے کی لڑکیوں کو فی سبیل اللہ دینی تعلیم دی جاتی تھی۔

امتیاز صاحب کو خدا نے اولاد بھی انتہائی نیک صفت اور سعادتمند دی تھی۔ بڑا بیٹا بی ایس سی کرنے کے بعد اب نوکری کی تلاش میں تھا۔ جبکہ بڑی بیٹی بھی تعلیم مکمل کر چکی تھی۔اور ان دونوں کے بعد نمبر آتا تھا اس کا۔ وہ امتیاز صاحب کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا تھا۔ اور صرف امتیاز صاحب کا ہی نہیں بلکہ گھر بھر کی آنکھ کا تارہ تھا۔لاڈ تو ان سب کے بہت اٹھائے جاتے لیکن مذہبی فرائض کی ادائیگی میں امتیاز صاحب کسی رعائت کے قائل نہیں تھے۔ خود بھی پانچ وقت کے نمازی تھے اورگھر میں بھی کسی کی سستی برداشت نہ کرتے۔وہ خود سات سال کی عمر سے ان کے ساتھ باقاعدگی سے مسجد جایا کرتا ۔اور اب تو اس کی بھی عادت پختہ ہو چکی تھی۔ اسے اچھا لگتا تھا گھر سے تیار ہو کر ابو اوربھائی کے ساتھ مسجد جانا۔یہ امتیاز صاحب اور آپا بیگم کی عمدہ تربیت کا ہی اثر تھا کہ پورے محلے میں تینوں کی مثالیں دی جاتی تھیں۔اپنے بچوں کو انہوں نے دنیاوی کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم دلوانے کی بھی مکمل سعی کی تھی۔ اور ان کے تینوں بچے ان کی کامرانی کا منہ بولتا ثبوت تھے۔

وہ اپنے علاقے کے ایک مشہور سکول میں ساتویں کا طالبعلم تھا۔اور ساتھ ساتھ قرآن کریم بھی ترجمہ کے ساتھ پڑھ رہا تھا۔ پڑھائی میں وہ بلا کا ذہین تھا اور اکثر کلاس کی پہلی تین پوزیشنوں میں سے ایک نہ ایک اس کی ہی ہوتی۔اس کی زندگی کسی جھیل کے پانی کی مانند پرسکون تھی لیکن بعض اوقات اس کے ذہن میں کوئی ایسا سوال اٹھتا جو اس پانی میں گرے کنکر کی طرح ہلچل پیدا کر دیتا۔امی ابو سے وہ لاکھ قریب سہی لیکن ان سے ڈرتا بھی تھا اور بھائی کم ہی گھر میں فارغ ملتا تو لے دے کر ایک باجی ہی رہ جاتی تھیں اس کے سوالات سننے کے لیے۔
اس لیے وہ بھاگا بھاگا ان کے پاس جاتا ۔لیکن زیادہ تر سوالات کا باجی کے پاس ایک ہی جواب ہوتا تھا۔
’’منے ! تم ابھی بچے ہو۔ یہ بات نہیں سمجھو گے۔جاؤ جا کر کھیلو۔‘‘
اس جواب سے اس تشفی تو نہ ہوتی لیکن وہ چپ ہو جایا کرتا۔اسے لگتا کہ واقعی جب باجی اور بھائی جتنا بڑا ہو گا اسے بھی سب سمجھ آ جایا کرے گا۔
لیکن کچھ دن بعد کوئی اور سوال اسے تنگ کرتا ۔ اور وہ پھر باجی کے سر پر جا کھڑ اہوتا۔


آج اس کو سکول سے آتے ہوئے تھوڑی دیر ہو گئی تھی اور وہ گھر میں داخل ہوتے ڈر رہا تھا کہ کہیں امی اسے ڈانٹ نہ پلا دیں۔ اس نے دعائیں مانگتے ہوئے ہولے سے دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔سامنے ہی برآمدے میں امی بیٹھی خالہ شگفتہ سے باتیں کر رہی تھیں۔اس نے سکون کی سانس لی اور دل ہی دل میں خالہ شگفتہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کو ڈانٹ سے بچا لیا تھا۔
خالہ شگفتہ ان کی پڑوسن تھیں اور امی سے ان کی اچھی سلام دعا تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر ان کو سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔ جیتے رہو بیٹا۔‘‘
خالہ شگفتہ نے سلام کا جواب دیتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔اور امی سے مخاطب ہوتے ہوئے بولیں۔
’’آپا جی! اللہ کا آپ پر خاص کرم ہے جو تینوں ہی بچے اتنے سعادتمند اور فرمانبردار ملے۔اب یہ اظہر کو ہی لیں۔جب بھی ملتا ہے اتنے ادب سے سلام کرتا ہے کہ بے ساختہ دعا دینے کو دل چاہتا ہے۔‘‘
خالہ اس کی طرف اشارہ کر کے بولیں۔وہ اپنی تعریف سن کا ہلکا سا جھینپ ساگیا۔
اس کی امی کے چہرے پر ہلکا سا فخر کا تاثر ابھرااور بولیں۔
’’بس بہن ۔ اللہ کا ہی کرم ہے نہیں تو بگڑتے کونسا دیر لگتی ہے۔‘‘
اور پھر اس کی جانب متوجہ ہوکر بولیں۔
’’اظہر! جاؤ اندر جا کر منہ ہاتھ دھولو اور باجی سے کہو کہ کھانا نکال دے۔‘‘
وہ سر ہلاتا ہوا اٹھ گیا۔
’’ارے میں تو باتوں میں بھول ہی گئی تھی کہ کس کام سے آئی تھی۔‘‘
شگفتہ خالہ سر پر ہاتھ مار کر بولیں۔
’’آپا جی! ذرا اپنا جوسر تو دینا۔بچے ضد کر رہے تھے جوس بنانے کی تو میں نے سوچا کہ آپ کا ہی لے آؤں ذرا کی ذرا۔‘‘
وہ کچن میں بیٹھا تھا لیکن آوازیں اسے صاف سنائی دے رہی تھیں۔
’’ارے بہن ہمارا جوسر تو کب کا خراب پڑا ہے۔ کئی بار کہا اظہر کے ابا سے کہ ٹھیک کروا دیں لیکن سنتے ہی نہیں۔‘‘
اسے امی کی آواز سنائی دی۔ وہ لقمہ لیتے ہوئے رک سا گیا۔
ایک اور کنکر۔ ۔ ۔
چند لمحے سوچنے کے بعد پھر سے کھانے میں مصروف ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد امی کچن میں آئیں تو اس سے رہا نہ گیا۔
’’امی ! ہمارا جوسر تو ٹھیک تھا بالکل۔ کل ہی تو جوس بنایا تھا نا؟‘‘
’’ہاں ۔ لیکن کیا ضرورت ہے دینے کی۔ ایویں مفت میں خراب کر کے دے جائیں تو نقصان تو ہمارا ہی ہوا نا۔‘‘
امی نے جواب دیا۔ وہ سر ہلا تا ہوا خاموش ہو گیا۔
کھانا کھا کر نماز پڑھی اور سونے لیٹ گیا۔
سو کر اٹھا تو عصر کی نماز کا وقت ہو رہا تھا۔ امتیاز صاحب بھی گھر آ چکے تھے۔ اس نے انہیں سلام کیا۔ نماز پڑھی اور کتابیں لے کر باجی کے پاس پڑھنے بیٹھ گیا۔ابھی بیٹھے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔وہ اٹھ ہی رہا تھا کہ اندر سے امتیاز صاحب کی آواز سنائی دی۔
’’اظہر ! جو بھی ہوا اسے کہہ دینا کہ میں گھر پر نہیں ہوں۔اب تو لوگ دو گھڑی آرام بھی نہیں کرنے دیتے۔‘‘
اس نے دروازہ کھولا تو سامنے امتیاز صاحب کا ایک جاننے والا کھڑا تھا۔اسے نپٹا کر واپس آیا تو اس کی سوچ کی جھیل میں ایک اور کنکر گر چکا تھا۔
وہ دوبارہ کتابیں لے کر بیٹھ گیا لیکن اب اسے کتاب پر دھیان رکھنا مشکل لگ رہا تھا۔ اس نے باجی کو دیکھا جو اپنی کتا ب میں گم تھیں اور انہیں پکارا۔
’’باجی!‘‘
’’ہاں کیا بات ہے؟‘‘ انہوں نے کتاب سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’یہ جو ابھی ابھی میں نے باہر بندے کو کہا یہ بھی تو جھوٹ ہی تھا نا؟‘‘
باجی نے کچھ کہنے کو منہ کھولا لیکن پھر چپ کر گئیں۔چند لمحے سوچ کر بولیں۔
’’تم نہیں سمجھو گے ابھی منے۔ اپنی کتاب پر دھیان دو۔‘‘
وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے کتاب پر جھک گیا۔
***
شا م کا دھندلکا پھیل رہا تھا۔امی کچن میں تھیں ۔ باجی اور بھائی ٹی وی دیکھ رہے تھے ۔ اس کا کل اسلامیا ت کا ٹیسٹ تھا اس لیے وہ کتاب کھولے بیٹھا تھا۔ کہ باہر کا دروازہ کھلا اور امتیاز صاحب مٹھائی کا ڈبہ اٹھائے اندر داخل ہوئے۔’’واہ مٹھائی۔ ضرور برفی ہو گی‘‘ اس نے سوچا۔
اسے برفی بہت پسند تھی اور اسی لیے امتیاز صاحب جب بھی مٹھائی لاتے برفی کی خاطر خواہ مقدار اس میں ضرور شامل ہوتی۔
ذرا سی دیر میں لاؤنج میں سب اکٹھے ہو گئے۔امتیاز صاحب خوشی سے بولے۔
’’ارے بھئی مبارک ہو تم سب کو۔تمہارا بھائی افسر بن گیا۔‘‘
وہ اظہر کے بڑے بھائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولے۔سب کے چہرے خوشی سے دمک اٹھے۔امتیاز صاحب بات جاری رکھتے ہوئے بولے۔
’’وہ جو انکم ٹیکس کئے محکمے میں درخواست دی تھی نا وہاں کام بن گیا۔ابھی ابھی ملک صاحب کے گھر سے آ رہا ہوں۔ ان کے بیٹے نے انکم ٹیکس کے ایک آفیسر سے بات کی تھی۔اس نے کل اپنے دفتر آ کر آرڈر وصول کرنے کا کہا ہے۔‘‘
سب کے چہروں پر خوشی کروٹیں لینے لگی۔
’’بہت مبارک ہو بھائی۔‘‘
اس نے بھائی کو مبارکباد دی۔
’’یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ اس کی امی کا چہر ہ بھی خوشی سے دمک رہا تھا۔
امتیاز صاحب نے مٹھائی کا ڈبہ کھولا جو اس کی توقع کے عین مطابق برفی سے ہی بھرا تھا۔ سب لاؤنج میں بیٹھ کر منہ میٹھا کرنے لگے۔
تھوڑی دیر کے بعد اس کی امی امتیاز صاحب کی مخاطب کر کے بولیں۔
’’ملک صاحب کے بیٹے نے اس افسر سے پیسوں کی بات کی تھی؟‘‘
’’ ہاں کی تھی۔ اسی کی سفارش سے تو معاملہ حل ہوا۔نہیں تو وہ تو کسی صورت پچاس ہزار سے کم پر آمادہ نہیں تھا۔‘‘
امتیاز صاحب نے جواب دیا۔
وہ برفی کا ٹکڑا منہ تک لے جاتے جاتے رک گیا۔
پیسے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیسے پیسے۔ ۔ ۔ ایک اور کنکر۔ ۔ ۔ ایک اور ہل چل۔۔ ۔ ۔ ۔
تھوڑی دیر قبل پڑھے ہوئے الفاظ اس کی نگاہوں کے سامنے ناچنے لگے جن میں رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا گیا تھا۔
تو کیا یہ رشوت نہیں تھی۔ ۔ ۔ ۔؟
شاید نہیں۔ ۔ ۔ ورنہ بھلا اس کے ابو جی کیوں دیتے رشوت۔ ۔
تو پھر رشوت کیا ہو تی ہے۔ ۔ ۔ ؟؟
ایک اور سوال پیدا ہوا۔ اس نے باجی کی جانب دیکھ کر پوچھنا چاہا۔ لیکن پھر رک گیا۔ جواب تو اسے پہلے ہی معلوم تھا۔
’’تم نہیں سمجھو گے۔‘‘
امتیاز صاحب اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
’’میں ذرا شکرانے کے نوافل ادا کر لوں۔‘‘
اس نے مایوسی سے کندھے اچکائے اور برفی کا ٹکڑا اپنے منہ میں رکھ لیا۔

روزبیہ خواجہ
24-03-2011, 05:57 AM
بہت ہی عمدہ تحریر ہے۔ ۔ ۔ صبیح بھائی آپ تو افسانہ بھی بہت ہی زبردست لکھتے ہیں۔

واقعی ایسا ہی ہوتا ہے بہت بڑی حقیقت دکھائی ہے آپ نے۔ ایک طرف تو کھلے عام غلط کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں یا شاید خود کو مطمئن کرنے کی۔

پر غلط کام کر کے شکرانے کے نوافل یہ تو کھلی جہالت ہے۔:(

Smiling Eyes
24-03-2011, 08:02 AM
السلام علیکم۔۔

ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا ہے فارس بھائی۔۔۔ایک بہت اچھے ٹوپک پر لکھا ہے۔۔۔ جو کہ آج کل ایک فیشن سا بن گیا ہے۔۔
واقعی ہم لوگوں میں بہت دوغلا پن ہے۔۔۔ ہاتھ میں دنیا دکھاوے تو تسبیح اور جائے نماز۔۔۔۔ واہ واہ کے شوقین اور منافقت اتنی کہ اللہ معاف کرے۔۔۔
جانے لوگ ایسے کیسے کر لیتے ہیں۔۔ ۔انہیں خوف نہیں آتا۔۔ جو غلط کام دھڑلےسے کرتے ہیں انہی پر قرآن حدیث سے باتیں کوٹ کر کے لوگوں کو فر فر سناتے اور ان کے ایکشنز پر فتوے لگاتے ہیں۔۔۔ اور پھر وہی قرآنی آیت اور احادیث پڑھتے اوپر سے روتے جاتے ہیں۔۔۔ بندہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ہم نہیں سمجھتے۔۔۔کیوں۔۔۔اور کب سمجھیں گے۔۔۔

اللہ ہدایت دے سب کو۔۔آمین ثم آمین۔۔۔

*Maham*
29-03-2011, 05:33 PM
السلام علیکم
فارس بھائی بہت اچھا افسانہ لکھا۔۔۔ اور بہت ہی عمدہ ٹاپک پر۔۔ بندہ خود کو افسانے میں رکھ کے سوچتا ہے۔۔

ایسے پتا نہیں کتنے بچے ہوں گے جن کو ناسمجھ کہہ دیتے ہیں والدین۔۔۔ اگر وہ ناسمجھ ہوتے تو سوال ہی نہیں کرتے۔۔

یہ دوغلا پن شاید اس لئے ہمارے بیچ آگیا ہے کہ انسان کو آخرت بھولتی جارہی ہے اور دنیا میں رہنا ہی یاد ہے۔۔

اللہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت دے آمین اور صحیح غلط کی تمیز دکھائے