PDA

View Full Version : کچی مٹی کا کھلونا



1US-Writers
15-03-2011, 07:20 PM
کچی مٹی کا کھلونا

از رافعہ خان

بیس بیس کے نوٹ گن کر وہ سامنے بکھرے لفافوں میں عیدی ڈالتی جارہی تھی۔پنسل سے ناموں کے ابتدائیے نشان کرتے کرتے اسے احساس ہوا۔ وہ کتنے سالوں سے یہ سب کر رہی تھی۔ اورکرتی چلی جا رہی تھی۔ مونی چند پل پہلے گھر سے نکلا تھا۔

"داور کی طرف گروپ سٹڈیز کے لیے جا رہا ہوں۔

آپ پھر روپے بانٹنے لگی ہیں ساری دنیا میں۔

عید کے لیے پھر حلیم بنا لیا ہے۔۔ کچھ اور نہیں بن سکتا اس مرتبہ۔۔"

ایک ہی فقرے میں اس نے اپنے جانے کی اطلاع بھی دی تھی اور کچھ کہنے کی گنجائش چھوڑے بنا اس کے لیے سوالنامہ تیار کر دیا تھا۔ اور جواب میں وہ تنبیہی نگاہ سے اسے دیکھتی نہ چاہتے بھی سخت ہو گئی۔

"دس بجے گھر ہونا۔ صبح عید بھی ہے۔ اور دروازہ بند کر جانا۔"

اسکا منہ بنا کر کہا لمبا سا بےزار "فائین" دیر تک اس کے کانوں میں گونجتا رہا۔ تبھی وہ جانتی تھی وہ نہ دروازہ بند کرے گا، اور نہ ہی گروپ میں جائے گا۔ اور دس بجے تک واپس نہ آنے کے لیے وجہ بھی سوچ چکا ہوگا۔


مونی نہ اب اس کی سننا چاہتا تھا، نہ ماننا لیکن وہ اسے بہت آگے لےجانا چاہتی تھی۔وہ دروازہ بند کرنے کے لیے اٹھتے بھی وہ اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اک عجب بے زاری نے اسے گھیر لیا تھا۔ کھلے گلے کی ٹشو ٹی شرٹ پیچھے سرکا کر اسنے ٹھنڈک محسوس کرنے کی کوشش کی۔ مگر گلا بیٹھا بیٹھا سا تھا۔ اور سینے میں نامعلوم سی انی چبھے ہی جا رہی تھی۔ جیسے وہ کوئی خاص دن بھول رہی ہو۔ جیسے دھوپ میں بند گاڑی میں بیٹھنے سے سانس رکتی ہوئی لگے۔ فل پر چلتا اے سی بھی ٹھنڈک اس کے اندر اتارنے سے ہار رہا تھا۔ بار بار اسے مونی کی کلاس فیلو کا کل کا فون یاد آرہا تھا۔


ایک لحظہ رک کر اس نے چولہے پر کھڑبھڑ پکتے حلیم میں چمچ ہلایا۔ بےدھیانی میں ہی کافی کا پانی ڈالا اور اپنا کپ فلٹر کے نیچے رکھا۔ وہ کلاس فیلو کچھ کہنا چاہ رہی تھی۔ مگر کہ نہ پائی تھی۔ جیسے جھجک رہی ہو۔ یا جیسے اسے خود معلوم نہ کہ وہ کیا کہے۔ ۔ مونی کو جاننے والے کسی بھی انسان کو ایسا ہی لگتا۔ مگروہ تبسم تھی۔ اسنے مونی کو جنم دیا تھا۔ پھر اس کو پالا تھا۔ اور اس کو ایسا بنایا تھا کہ ہر اک کہتا تھا ،" مونی بہت ویل بی ہیوڈ اور ڈسپلنڈ ہے۔مونی بہت خاص ہے۔" ہاں اس نے مونی کو خاص بنانے کے لیے کام کیا تھا۔ منہ اندھیرے اٹھ کر رات گئے تک۔ گرمی اور سردی میں۔ گھنٹوں کھڑے رہ کر اور پہروں بیٹھ بیٹھ کر، اچھا، برا ہر طرح کا کام۔ جو اس کے اور راشد کے بیٹے کو خاص بنا سکتا تھا۔ پھر کیا تھا جو وہ کہنا چاہتی تھی۔ پہلی بار کسی نے اسکے بارے میں کچھ پریشانی ظاہر کی تھی۔


"مونی بہت ڈسٹربڈ لگ رہا ہے آجکل۔ کیا اسے کوئی گھریلو پریشانی ہے"

"نہیں تو۔۔ " تبسم چپ سی رہ گئی تھی۔

"لیکن اس کی باتیں ، اسکے دوست۔۔"

لڑکی کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی۔

"کون دوست۔۔۔"

"وہ ۔۔۔۔قا۔سم"

"اچھا وہ۔۔"


قاسم کا نام سن کر وہ حیران ہوئی تھی۔ لیکن مونی کےبدلتے انداز تو وہ اس کا سولہواں سال شروع ہونے سےہی دیکھ رہی تھی۔ اور آج اسے ایسی بیزاری ہو رہی تھی جو پچھلے اٹھارہ سالوں میں نہیں ہوئی تھی۔ اور ان اٹھارہ سالوں میں اس نے کیا نہیں کیا تھا۔آج تک اس نے اپنےبیٹے کو، اپنے گھر کو، اور اپنے خود ساختہ معیار کو کبھی سمجھوتے کی آنچ نہیں لگنے دی تھی۔


وہ دروازہ بند کرتی کرتی راہداری میں لگے آئینے کے سامنے رک گئی۔ نازک دھاتی سٹینڈ میں چھوٹے چھوٹے کٹوروں اور پیالوں کو اس نے کچھ اس خوبصورتی سے سجایا تھا کہ ان کی کجی بھی خوبصورت لگتی تھی۔ نیلے، پیلے اور سرخ چھوٹے بڑے وہ پیالے مونی نے آرٹ کلاسز میں اس کے لیے بنائے تھے۔ بھٹی میں پکنے سے چکنی مٹی چمک گئی تھی۔ اس کے برانڈ نیم چیزوں سے بھرے سجے گھر میں صرف یہی ایک چیز تھی جو کسی بڑے ڈیزائینر کے نام سے مشہور نہیں تھی۔ ایک ہی چیز تھی جو اسکو اس پرانی گلی کی یاد دلاتی تھی۔


وہ گلی جو بہت دور رہ گئی تھی۔ کچی چکنی مٹی، جس میں لپالپ پاؤں ڈال کر وہ گارا بناتے۔ پھر اسکو سخت کرتے، پھر اس سے کیلا، سیب ،آم اور سنگترہ بنا کر رنگریز سے لیے رنگوں سے خوب رنگتے۔ گھنٹوں وہ اس کام میں لگے رہتے۔ اور دوسرے دن وہ سارے کھلونے ٹوٹ جاتے۔ پر پیروں کے نیچے پانی اور مٹی کی سنسناہٹ جاگتی رہتی۔ نرمی، ٹھنڈک اور نمی۔ اور کبھی کبھی جب وہ سب بہت انہماک سے کام میں لگے ہوتے، گلی کے بڑے بچے اپنے ڈنڈوں پر گھوڑے دوڑاتے آتے۔ ادھ بنے کھلونوں پر پاؤں رکھتےبھاگتے جاتے۔وہ اپنے مٹی بھرے ہاتھ کمر پر رکھ کر، گردن آگے نکال کر چیخ چیخ کرانکو جانے کیا کیا نام پکارتے۔ وہ کبھی مڑ کر نہیں دیکھتے تھے۔ مگر پھر نہ جانے کیسے صحیح وقت پر دوبارہ آ جاتے۔


اسنے اس گلی اور ان بچوں کا نام یاد کرنے کی کوشش کی۔ تو ہنسی اس کے لبوں پر لمحہ بھر کو اتری۔ اسے وہ نام یاد ہی نہیں آئے۔ پر مٹی کی نرمی اس کے پاؤں کے نیچے جلی۔ تب وہ ہمیشہ سوچتی تھی ایکدن وہ بہت پکا اور رنگدار کھلونا بنائے گی جو کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ سب سے خاص، سب سے الگ۔ مونی اس کا وہی کھلونا تھا شائد۔ اس نے کتنے سال اس پر لگائے تھے۔ اس کوامریکی ڈے کیئر میں رکھا تھا کہ اس کا تلفظ مقامی ہو۔ اس کو گلے کی صحیح کھرج والے عربی تلفظ کے لیے سنڈے سکول کا ایک ناغہ بھی مشکل سے کرنے دیا تھا۔ اس کے سپوڑٹس اور سویمنگ کلب کی فیسیں بھری تھیں۔ اسے لیے لیے پھری تھی۔اور اب جب اس کی گاڑی کا ماڈل لیٹیسٹ تھا۔ اسکے جوتوں سے لیکر اس کی پی کیپ تک، اسکے فلور کشن سے لیکر اسکے ناک پوچھنے کے کاغذ تک ہر چیز برانڈ نیم معیار کی تھی۔ نہ جانے کب اور کیسے قاسم اور مونی کا نام ساتھ ساتھ بندھ گیا۔۔ قاسم انہی کھلونا توڑنے والوں جیسا ایک غنڈہ تھا۔ وہ اسے مونی سے دور رکھنا چاہتی تھی۔


اسے یاد تھا ان غنڈوں سے آگے نکل جانے کے لیے اس نے کتنی محنت کی تھی۔ اس کی محنت تب وصول نہیں ہوئی تھی جب راشد معیز نے اسے بتایا تھا وہ بہت خاص تھی۔ ہاں وہ پہلا قدم تھا اسکا۔حلانکہ راشد معیز کو یقین تھا وہ دنیا کے سبھی لوگوں سے بڑھ کر تھی۔ سٹیٹ، میتھ کی ڈرلز کرتے وہ اسکی ذہانت کی داد بارہا دے چکا تھا۔ پر اپنے چھوٹے سے صحن کو شراپ شراپ دھونے کے بعد، اڑتے رنگ والے کپڑوں کے اڑسے پائینچے برابر کرکے جب وہ اپنے گھر کی دیوار سے ملی اکیڈیمی کی تیں سیڑھیاں چڑھتی تھی تو حقیقت اس کے روم روم میں بس رہی ہوتی۔ اور پھر راشد معیز کی دنیا تین گلیوں کے اڑتیس بچے ہی تو تھے۔


پر بیاہ کر اپنے سات بہن بھائیوں بھری دنیا چھوڑ کر، راشد معیز کےگھر اور اسکی اکیڈمی آنے تک، اس سے وہ سب سیکھنے تک جو وہ پڑھ چکا تھا، اور راشد کی ایکسیڈنٹ میں جواں مرگی تک کا سفراس نے قدم بھر میں ہی طے کیاتھا۔نہ اس نے راشد کے بے جان جسم کو گواہ بنا کر کوئی قسم کھائی تھی۔ نہ سال بھر کا مونی اس کا کوئی سہارا تھا۔ بنا زادراہ سمندر پار کا سفر بھی کچھ اتنا خوشگوار نہیں تھا۔ لیکن اسے یقین تھا زندگی کے پاس اس کے لیے اور مواقع ہیں۔ اسنے ان مواقع کو ڈھونڈ بھی لیا تھا۔ وہ مسلم کمیونٹی کی روح رواں بھی تھی۔ سکول کمیٹی کی ممبر بھی۔ بنک کی ملازمت، لوگ اس پر رشک کرتے تھے اور وہ اسی کی عادی ہو چکی تھی۔


پر آج سوالوں کا دن تھا۔ دل خالی تھا۔ جیسے اسکا پسندیدہ کھلونا چھینا جانے والا ہو۔ جیسے وہ پھر سے ہار جانے والی ہو۔ وہ قاسم کو مونی سے دور کرنے کا سوچتے دور ہی نکل گئی تھی جب اچانک شدید درد کے احساس سے اس کی چیخ نکلی۔ قاسم نے اپنا تیز پھل والا چاقو اس کی کمر میں اتار دیا تھا۔ کھلے دروازے سے وہ کب اندر آیا تھا اور کیوں ۔تبسم سمجھ نہ سکی پر اس کی قوت ارادی ابھی میدان نہ چھوڑنا چاہتی تھی۔ قاسم کو قابو میں کرکے چاقو لینے کی خواہش اور بچنے کی خواہش اور مونی کی خاطر اور جینے کی خواہش میں وہ زخم کھاتی گئی۔میز پر ترتیب سے سجے کٹورے اور پیالے ایک اک کرکے گرتے رہے۔پھر دروازے کے پیچھے چھپے مونی کی اک جھلک اس کو ہرا گئی۔وہ قاسم نہیں مونی تھا۔ مسکراہٹ اور چیخ ساتھ ساتھ اس کے لب پر ٹوٹی۔ اسے لگا گیلی مٹی اسکے پیروں تلے بھیگ رہی تھی۔ اوراسےوہ نرمی اور ٹھنڈک اچھی لگنے لگی۔ قاسم میز سے روپے اٹھا رہا تھا۔ اور وہ ٹوٹا کھلونا بنی گہری اترتی جا رہی تھی۔

مہرین
16-03-2011, 03:20 AM
بے حد عمدہ تالیاں رافعہ سس۔۔بہت خوب

Fozan
16-03-2011, 05:29 AM
بہت خوب سس۔۔۔۔۔ہماری زندگیوں میں کب کوئی ایسی کہانی سچ بن جائے ہم نہیں جانتے۔۔۔۔۔ننھے ہاتھ جنہیں انگلی پکڑ کر چلنا سیکھایا ہو، جب وہ ہاتھ جھٹکتے ہیں تو کبھی صرف درد کا احساس ہوتا ہے اور کبھی کبھی درد ہی آخری احساس ہوتا ہے۔۔۔۔۔ بہت ہی خوب!

HarfeDua
16-03-2011, 07:52 AM
:o
اففف۔ بہت سیڈ رافعہ جی لیکن اچھا ہے۔
آج تو تینوں افسانے پڑھ کر رونا آرہا ہے۔ سمارا کے افسانے کی دلہن اللہ کو پیاری ہوگئی۔ آمنہ جی کے افسانے کی ہیروئن نے بھی دنیا سے تنگ آکر دنیا چھوڑ دی اور آپ کے افسانے کا بتمیز مونی۔ ویری بیڈ۔۔ آئے ھوپ ہی وینٹ ٹو جیل فور اِٹ۔:mad:

کوثر بیگ
16-03-2011, 09:49 AM
بہت خوب لکھا بہنا جی ،بالکل ویسے ہی کہانی میں تبدیلی آئی جس رفتار سے زمانے میں تغییر آرہا ہے ۔ بہت اچھے سے کوزے میں سمندر سمایا ہے ۔

IN Khan
16-03-2011, 10:34 AM
بہت خوب رافعہ جی

بہت تفصیل اور پیار سے آپ نے کہانی کا تسلسل قائم کیا۔۔۔
اندازِ بیاں تو شاعرانہ ہے ہی آپ کا۔۔ اس پر اور کیا تعریف کروں کہ ماشاء اللہ آپ کی نثر بھی آپ کی شاعری کی طرح متاثر کن ہے۔۔

لیکن ایک بات ذرا ہضم ہونے میں دشواری ہو رہی ہے۔۔ سوچا آپ سے ذکر کر دوں۔۔
وہ کیا؟؟
جی وہ یہ کہ اتنی اچھی تربیت کے باوجود مونی کا بغیر کسی وجہ کے ایسا قدم اٹھانا۔۔۔۔ صرف بری سوسائٹی کے زیر اثر۔۔
ویسے تو اچھوں کے گھر برے اور بروں کے گھر اچھے پیدا ہو جاتے ہیں۔۔ لیکن یہ ایکسیپشن ز ہوتے ہیں۔۔ جنریلی یا ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔۔۔
ایک ایسا بچہ جس کو بن باپ کے۔۔ اس کی ماں نے زمانے کے سرد و گرم سے بچا کر پالا ہو ۔۔ (جبکہ بچے ماں سے باپ کی موجودگی میں بھی زیادہ قربت محسوس کرتے ہیں۔۔) اور بیان کردہ حالات میں پروان چڑھنے والے بچے نسبتآ زیادہ حساس ہوتے ہیں۔۔ اور ماں کا بہت خیال رکھنے والے بھی۔۔ وہ ماں جیسے رشتے سے ایسا کر ڈالیں۔۔؟؟؟

یا پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ماں کی تربیت میں ہی کوئی خامی رہ گئی۔۔ کوئی کمی اس مٹی کے کھلونے کو ڈھالنے میں۔۔۔ جو وہ بری سوسائٹی کے ہتھے چڑھ کے ایسا حیوان بن گیا۔۔۔؟؟
ویسے تو ہمیشہ سے بڑے بزرگوں سے یہی سننے کو ملتا رہا ہے کہ اچھے خون اور اچھی تربیت کا برا معاشرہ بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔۔ کنول کا پھول کیچڑ میں کِھل کر بھی کنول ہی رہتا ہے۔۔

خیر مجھے جو لگا وہ آپ سے شیئر کر دیا۔۔ ضروری نہیں کہ آپ اس سے متفق بھی ہوں۔۔۔ لیکن چونکہ کہانی کے بنیادی کردار یہی دونوں ہیں۔۔ اس لیے زیادہ فوکس بھی انہی پر ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔ مزید ایک دو واقعات سے ظاہر ہونا چاہیے تھا کہ بچے کی تربیت میں کوئی کمی یا جھول رہ گیا تھا۔۔۔۔ اپنی پوری کوشش اور نہ چاہتے ہوئے بھی۔۔

Hina Rizwan
16-03-2011, 11:45 AM
بہت سیڈ لکھا ہے آپ رافعہ سس
لیکن اچھا لکھا ہے

Abeer
16-03-2011, 03:06 PM
بہت ھی اچھا لکھا ھے آپ نے سس، کافی عمدہ انداز بیاں ھے تحریر میں بھی روانی ھےِ:):)
سٹوری بہت ھی سیڈ تھی:( کہ تبصرے کا بھی دل نہیں کر رھاِ ھاں مگر یہ دیکھانا چاھئے تھا کہ مونی نے ایسا کیوں کیا، کیا وجہ ھوئی؟~ باقی سب زبردست تھاِ خوش رھئےِ اینڈ کیپ رائٹینگ:)

Fozan
17-03-2011, 07:57 AM
کل آپ کی لکھی کہانی پڑھی اور سوچا اولاد تو ایسا ہر دور میں ہی کرتی آئی ہے۔۔۔۔۔

آج کی خبریں پڑھ کر سوچا واقعی ہم اکیسویں صدی میں آ گءے ہیں۔۔۔۔۔ کہتے ہیں نہ قیامت جب برپا ہو گی تو ماں کو اولاد کا ہوش نہیں ہو گا۔۔۔۔۔ شاید قیامت آ بھی چکی اولاد کے عوض کروڑوں روپے۔۔۔۔۔۔!!!

IN Khan
17-03-2011, 09:22 AM
کل آپ کی لکھی کہانی پڑھی اور سوچا اولاد تو ایسا ہر دور میں ہی کرتی آئی ہے۔۔۔۔۔

آج کی خبریں پڑھ کر سوچا واقعی ہم اکیسویں صدی میں آ گءے ہیں۔۔۔۔۔ کہتے ہیں نہ قیامت جب برپا ہو گی تو ماں کو اولاد کا ہوش نہیں ہو گا۔۔۔۔۔ شاید قیامت آ بھی چکی اولاد کے عوض کروڑوں روپے۔۔۔۔۔۔!!!



اب پتا نہیں یہ کروڑوں روپے کا چارم تھا یا سر پر بندوق تان کر ان سے یہ کام کروایا گیا۔۔۔ خدا بہتر جانتا ہے۔۔ ظاہری حقائق کبھی کبھی وہ نہیں ہوتے جو ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

Fozan
17-03-2011, 09:52 AM
ہاں تو معاف تو پیسے کے بغیر بھی کیا جا سکتا تھا نا۔۔کہہ دیتی نا ماں کہ ہاں معاف کیا تجھے پیسے کے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

IN Khan
17-03-2011, 10:09 AM
ہاں تو معاف تو پیسے کے بغیر بھی کیا جا سکتا تھا نا۔۔کہہ دیتی نا ماں کہ ہاں معاف کیا تجھے پیسے کے بغیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اب ان لوگوں کو پیسہ ملا بھی یا صرف بتایا ہی گیا۔۔ یہ کون جانے۔۔
لیکن ماں کی ممتا اتنی ارزاں نہیں ہو سکتی۔۔ میرا ماننا تو یہی ہے۔
ہاں دیگر اولاد کی جان کو خطرہ نظر آ رہا ہو تو ایسے ہزار کاغذات پر سائن ہو سکتے ہیں

Rubab
17-03-2011, 07:28 PM
بہت سیڈ اسٹوری ہے رافعہ سس۔ لیکن بہت اچھی طرح لکھی ہے آپ نے۔ گڈ جاب۔

Aqsa
18-03-2011, 10:51 PM
بہت شکریہ سب ساتھیوں کی پسندیدگی اور رائے کا۔

---

فوزان آپ کی لائن بہت اچھی لگی۔ اور حقیقت کے قریب۔
---
اور ہاں ماووں والی بات بھی آپکی صحیح ہے۔ ویب پر ویسے بہت خیال افروز تبصرے دیکھنے کو ملے ہیں اس ہفتے ۔ آنکھیں اور دماغ دونوں روشن روشن
exceptions are everywhere.

----
عمران بھائی تعریف کا شکریہ۔ اور آپکے پوائینٹ بہت اہم ہیں۔
لیکن میرا جواب بہت سادہ ہوگا ۔۔ سادہ بیانی میری مجبوری ہے۔
اگر آپکو لگ رہا ہے کہ کہانی کرداروں کے عمل کو جسٹیفائی نہیں کر رہی تو ایک لحاظ سے صحیح ہے۔ اس عمل کو جسٹیفائی کرنا میرے قلم، دماغ دل نے نہیں چاہا۔ گو میں نے سال بھر قتل کے بہت سے موٹیویشنز پر ریسرچ کی۔

ویسے یہ پلانڈ قتل ہے۔

باقی ایک ہلکا سا اشارہ کھلونے۔ مٹی اور بلی کے ضمن میں دیا تو ہے۔ کیا آپ نے کبھی رنگ اتری پرانی گڑیا دیکھی ہے۔۔ رنگ کے پیچھے کیا ملتا ہے ?