PDA

View Full Version : بیٹی از سعدیہ محمد



1US-Writers
15-03-2011, 07:20 PM
بیٹی


از سعدیہ محمد



دفتر سے نکلتے ہوئے ڈاکٹر عمر حیات کو یاد آیا کہ کل ان کے بیٹے کا کالج میں پہلا دن ہے۔ اور انہیں اس کے لیے تحفہ خریدنا ہے۔ آفس سے پارکنگ تک کا سفر انہوں نے اسی سوچ میں گزار دیا کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے کیا خریدیں۔
"کپڑے۔۔۔ ہونہہ نہیں وہ تو میں نے اسے کچھ دن پہلے ہی بہت سارے دلوائے ہیں۔۔
رسٹ واچ۔۔۔ نہیں وہ تو اس کے پاس پہلے ہی بہت ہیں اور ابھی کچھ دن پہلے ہی تو اس کے اکلوتے ماموں نے اسے میٹرک میں پوزیشن لینے پہ نئی گھڑی دبئی سے بھیجی تھی۔
موبائل، کوئی نفیس سا پین، ہممممم نہیں یہ سب تو اس کے پاس ڈھیروں ڈھیر ہے۔ پھر کیا لوں۔۔۔۔؟"
بہت سوچنے اور بہت سی چیزوں کو ریجیکٹ کرنے کے بعد سوچ کی سوئی وہیں اٹک گئی کہ کیا لوں۔۔۔۔۔۔؟
پھر گارڈن ٹاون کی ایک بڑی سی مارکیٹ کے سامنے سے گزرتے ہوئے انہیں کچھ خیال آیا اور وہ مسکرا دیے ان کی مسکراہٹ سے واضح تھا کہ انہوں نے سوچ لیا ہے کہ وہ بیٹے کے لیے کیا تحفہ لیں گے۔۔۔۔
----------------------------------------------------------
----------------------------------------------------------


ڈاکٹر عمر حیات، جنہیں پاکستان کی اس لیڈنگ یونیورسٹی میں ملازمت کرتے ہوئے دس سال گزر چکے تھے، اس وقت اسسٹنٹ پروفیسر کی سیٹ پہ تھے۔ قرآن پاک کے حافظ تھے اور دس سال پہلے انہوں نے ایک غیر ملکی یونیورسٹی سے فزکس میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری لی تھی وہ وہیں جاب بھی کرنا چاہ رہے تھے لیکن اس یونیورسٹی کی طرف سے اچھی اور پُر کشش آفر کو وہ رد نہ کر سکے اور پاکستان میں ہی جاب کرنے لگے۔
ڈاکٹر عمر حیات کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔
بیٹا تین بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا تھا اور بہت سی دعاوں کا ثمر تھا۔ ان کی بیوی جو کہ ان کی خالہ زاد تھی، صرف قرآن پاک پڑھنا جانتی تھی اس نے اسکول کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ بڑی تینوں بیٹیوں نے محض گھر پہ ہی قرآن کی تعلیم اپنی والدہ سے لی تھی۔ انہیں کبھی بھی اسکول جانے کی اجازت نہیں ملی اسی طرح چھوٹی بیٹی بھی گھر پہ ہی قرآن پاک کی تعلیم لیتی تھی۔ سب سے چھوٹی بیٹی کی عمر اس وقت نو سال تھی۔ ڈاکٹر عمر حیات کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں بیٹیوں کی پیدائش کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا اور یہاں تو ایک ساتھ چار بیٹیاں تھیں۔ انہوں نے کبھی اپنی بیٹیوں کو پیار کرنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی کجا یہ کہ وہ اپنی بیٹیوں سے پوچھیں کہ انہیں کسی چیز کی ضرورت ہے یا نہیں کیونکہ بقول ان کے انہوں نے گھر میں ہی رہنا ہے کہیں باہر تو جانا نہیں تو کس چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے جبکہ بیٹے کے معاملے میں ان کی سوچ بالکل بر عکس تھی وہ اپنے بیٹے کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے، اسے اچھے سے اچھی چیزیں لے کر دیتے، اس کی ہر خواہش کو حرفِ آخر سمجھ کر پورا کیا جاتا۔ ماں باپ کے سلوک کو دیکھ دیکھ کر اس کا سلوک بھی اپنی بہنوں کے ساتھ امتیازانہ تھا۔
--------------------------------------
--------------------------------------
"راحیل۔۔۔۔۔ راحیل۔۔۔۔"
گھر میں داخل ہوتے ہیں انہوں نے سب سے پہلے اپنے بیٹے کو آواز دی۔ راحیل جو بے چینی سے اپنے باپ کے انتظار میں تھا فوراً اپنے کمرے سے باہر نکلا۔
"جی بابا جانی۔"


"دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا۔۔۔؟"
انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک ڈبہ اس کی طرف بڑھایا۔
"کیا ہے بابا اس میں؟" راحیل نے ڈبہ پکڑتے ہوئے کہا۔
"تم خود کھول کے دیکھو۔۔؟" انہوں نے کہا۔
"واو۔۔۔۔۔۔۔۔ نیا لیپ ٹاپ۔۔۔ تھینک یو بابا تھینک یو سو مچ۔۔۔۔"
وہ اس کے لیے نیا لیپ ٹاپ لائے تھے، اس کے لیے تحفہ خریدنے کا سوچتے ہوئے انہیں خیال آیا تھا کہ راحیل کو پچھلے مہینے جب انہوں نے نیا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر دلوایا تھا تو اس نے لیپ ٹاپ لینے کی خواہش کی تھی۔
------------------------------------------
------------------------------------------
فاطمہ، ڈاکٹر عمر حیات کی بڑی بیٹی تھی۔ اسے اسکول جانے اور تعلیم حاصل کرنے سے بہت محبت تھی۔ وہ یہ سب منظر اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھ رہی تھی اور اپنے باپ کی اپنے بیٹے کے لیے محبت کو دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ کیا بیٹیاں اس محبت کی حقدار نہیں ہوتی؟ اس نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ اس والدین ہمیشہ اس کے بھائی کو محبت کرتے، اس کی تمام خواہشات کو پورا کرتے۔ اس کو چیزوں کی خواہش نہیں تھی، خواہش تھی تو صرف اس بات کی کہ اس کے والد ایک مرتبہ اس کا ماتھا چوم کے اسے بھی کہیں۔ "میری پیاری بیٹی کیسی ہے۔۔؟" بیٹیاں تو محبت کے چند لفظوں سے سیراب ہو جاتی ہیں۔ اسے اپنے والد سے بہت محبت بھی تھی اور وہ ہمیشہ اپنے والد کو محبت کی نظر سے دیکھتی کہ اس نے کہیں پڑھا تھا کہ والد کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھنا ایک مقبول حج جتنا ثواب رکھتا ہے۔ اس کی چھوٹی بہنیں بھی اب سمجھدار ہوتی جا رہی تھیں۔ ان کو بھی اپنے والد کا یہ رویہ تکلیف دیتا تھا لیکن جس طرح ان کی پرورش کی جا رہی تھی ان کو بولنے کی اجازت نہیں تھی صرف سہنے اور زندگی گزارنے کی اجازت تھی۔
جب سے ان کا بھائی پیدا ہوا تھا وہ بھی بہت خوش تھیں۔ اس کے لیے ہمیشہ دعا گو رہیں، اس کے کام کرنے میں، اس کا خیال رکھنے میں پیش پیش رہیں۔ لیکن ان کے بھائی کا رویہ بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا نہیں تھا۔ ان کی ماں کا بس چلتا تو ان کے منہ سے لقمہ چھین کر بھی ان کے بھائی کے منہ میں ڈال دیتی۔ فاطمہ کو یاد تھا کہ جب ابھی اس کے والد پی۔ایچ۔ڈی اسٹودنٹ تھے تو گھر میں کھانا ہمیشہ ناپ تول کر پکایا جاتا تھا۔ چار بچوں کے ساتھ اس وظیفے میں گزارا کرنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ کئی مرتبہ کھانا کھاتے ہوئے ان کی ماں نے اس کے بھائی کی فرمائش پہ ان کے ہاتھ سے بوٹی چھین کر بھائی کو دی تھی۔ بچپن سے ہی ان کے ذہن میں یہ بٹھا دیا گیا تھا کہ کاغذ، قلم پہ صرف ان کے بھائی کا حق ہے۔
ڈاکٹر عمر حیات کے ہمسائے میں پروفیسر عثمانی کی فیملی رہتی تھی۔ ان کی بیوی بھی تعلیم یافتہ تھیں اور اپنے بچوں کی تعلیم پہ بھی بہت توجہ دیتی تھیں۔ فاطمہ اور اس کی بہنوں کو صرف ان کے گھر جانےکی اجازت تھی۔ مسز عثمانی نے جب ان بچیوں کے ساتھ ہوتے اس امتیازانہ سلوک کو دیکھا تو کڑھ کر رہ گئی۔ ان کے شوہر نے بہت مرتبہ ڈاکٹر عمر حیات کو بچیوں کی تعلیم کے حق میں کرنے کے لیے سمجھایا حتی کے قرآن و احادیث سے بھی مثالیں دیں لیکن ڈاکٹر عمر حیات کا کہنا تھا کہ بیٹیوں کی پڑھائی کا مذہب میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ اور جہاں احادیث میں تعلیم حاصل کرنے کا ذکر ہے وہاں صرف اور صرف دینی تعلیم مقصود ہے۔ ڈاکٹر عمر حیات کا کہنا تھا کہ ویسے بھی مرد کو عورت پہ فضیلت دی گئی ہے تو ہم کیسے اپنی بیٹیوں کو اپنے بیٹے پر ترجیح دے سکتے ہیں۔ اور اس کی دلیل میں وہ مندرجہ ذیل آیت کا حوالہ دیتے۔


الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّـهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ﴿٣٤﴾


مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں نصیحت کرو اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو اور (اگر پھر بھی اصلاح پذیر نہ ہوں تو) انہیں (تادیباً ہلکا سا) مارو، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے،


اور دوسری طرف مسز عمر حیات کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔ مسز عثمانی نے جب مسز عمر سے اس سلسلے میں بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ نہ تو میں نے اسکولوں میں پڑھائی کی، نہ ان کی پھوپھی نے، نہ خالہ نے تو ان بچیوں نے پڑھ کے کیا کرنا ہے۔ جیسے مجھے ان کے والد جیسے پڑھے لکھے انسان مل گئے ہیں ان کو بھی مل ہی جائیں گے۔ ان کا یہ جواب مسز عثمانی کو حیران کر گیا۔
بہت کوششوں کے بعد آخر تھک ہار کر مسز عثمانی خاموش ہو گئیں لیکن انہوں نے دل میں ٹھان لی کہ کسی بھی طرح ان بچیوں کو اتنا ضرور پڑھا لکھا دیں گی کہ وہ دنیا کو سمجھنا سیکھ جائیں۔ ان کی ان کی چھپی ہوئی کوششوں کی وجہ سے فاطمہ نے اس سال ایف۔ ایس سی کا امتحان دیا تھا اور اس سے چھوٹی حرا نے اپنے بھائی کے ساتھ ہی میٹرک کا امتحان دیا تھا۔ اس کے نمبر بھی اپنے بھائی سے زیادہ آئے تھے لیکن وہ اس بات کا کسی سے ذکر نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ اگر ذکر کرتیں تو وہ آگے نہ پڑھ پاتیں۔ مسز عثمانی، جو کہ خود بھی ایک اسکینڈری اسکول میں استاد تھیں، نے روٹین بنا لی کہ جب وہ اپنے بچوں کو ہوم ورک کرواتیں تو فاطمہ اور حرا کو بھی بلا لیتیں۔ اور انہیں پڑھاتیں لیکن انہوں نے ان سے وعدہ لیا تھا کہ وہ اس کا ذکر کبھی کسی سے نہیں کریں گی۔ انہیں جب بھی کوئی امتحان دینا ہوتا مسز عثمانی اس قدر راز داری سے پرچے دلواتیں کہ کسی کو شک تک نہ پڑتا۔
------------------------------------------------
------------------------------------------------
زندگی اسی طرح گزر رہی تھی مسز عثمانی کی محنت اور کوشش سے فاطمہ کا ایڈمیشن بی ایس سی کے لیے ایک کالج میں ہو گیا۔ پرنسپل چونکہ مسز عثمانی کی جاننے والی تھیں اس لیے فاطمہ کو صرف پریکٹیکل کے لیے کالج جانا پڑتا تھا جو مسز عثمانی اسے اپنی مدد کے لیے بلانے کے بہانے لے جاتی تھیں۔ مگر ایک دن ان کا یہ پول کھل گیا اور ساتھ ہی ڈاکٹر عمر کی آنکھیں بھی کھول گیا۔ ایک دن جب فاطمہ کی والدہ سیڑھیوں سے گر پڑیں تو گھر میں ان بہنوں کے سوا کوئی بھی نہیں تھا۔ مسز عثمانی بھی بچوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے اپنے میکے گئی ہوئی تھیں۔ فاطمہ نے اپنی والدہ کی حالت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے فوراً ان کا پرس اٹھایا، یونیورسٹی کی ٹیکسی سروس کو فون کیا اور حرا کو سمجھایا کہ وہ گھر میں رہے، چھوٹی بہنوں کا خیال رکھے۔ وہ اپنی والدہ کو لے کر فوراً قریبی پرائیویٹ اسپتال پہنچی۔ اسپتال والوں نے اس کی والدہ کو فوری طبی امداد دی اور ضروری کارروائیوں اور فیس جمع کرنے کے بعد انہیں داخل کر لیا۔ اسی دوران وہ اپنے والد کو فون کر چکی تھی۔
اسپتال کے پرائیویٹ وارڈ کے باہر کھڑے ڈاکٹر عمر حیات کسی گہری سوچ میں گم تھے۔ وہ اس وقت احتساب کے مرحلے سے گزر رہے تھے۔ جب انہیں فاطمہ نے فون کر کے اسپتال آنے کو کہا تھا اس وقت وہ اپنے بیٹے کے کالج میں کالج کے پرنسپل سے ملاقات کر رہے تھے جنہوں نے شکایت کی تھی کہ ان کا بیٹا غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہے کافی عرصے سے اسے وارننگز دی جا رہی تھیں لیکن آج تو اس نے حد ہی کر دی اس نے اپنی کلاس فیلوز کی ان کی اجازت کے بغیر کلاس روم میں کچھ تصاویر موبائل میں بنائیں اور انٹرنیٹ پہ ڈال دی تھیں۔ آج یہ سارا معاملہ ان لڑکیوں کے والدین کے ذریعے پرنسپل تک پہنچا تھا۔ انہوں نے راحیل کو کالج سے نکال دیا تھا اور ساتھ ہی ایک سرٹیفیکیٹ دے دیا تھا جس کے مطابق وہ اپنے غلط کیریکٹر کی وجہ سے تین سال تک کسی بھی اچھے کالج میں داخلہ نہ لے پاتا۔ وہاں سے جب ڈاکٹر عمر حیات اسپتال پہنچے تو کاریڈور میں جانی پہچانی سی آواز سن کر رک گئے۔ یہ آواز ان کی بیٹی فاطمہ کی تھی جو نہایت تفصیل سے ڈاکٹر سے اپنی والدہ کی حالت کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ ڈاکٹر اسے بتا رہا تھا کہ اس کی والدہ کا خون بہت زیادہ ضائع ہو گیا تھا اگر وہ بر وقت انہیں لے کر اسپتال نہ پہچنتی تو شاید ہو بچ نہ پاتیں۔ ڈاکٹر نے فاطمہ کے حوصلے کی تعریف کی۔ ڈاکٹر کے استفسار پہ فاطمہ نے اسے بتایا کہ اس کے والد پروفیسر ہیں اور یہ ان کی تربیت اور محبت ہے کہ آج میں اتنی با حوصلہ ہوں۔ فاطمہ کے بولنے کے انداز، الفاظ کے استعمال اور بار بار انگریزی زبان کے استعمال نے ڈاکٹر عمر حیات کو حیران کر دیا۔ وہ چند لمحات کے لیے ششدر رہ گئے۔ وہ کمرے میں داخل ہوئے تو فاطمہ ایک دم ڈر گئی انہوں نے فوراً آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ شاید وہ جان چکے تھے کہ بیٹیاں، بیٹیوں سے کم نہیں ہوتیں۔ آج انہیں سمجھ میں آیا کہ اس آیت مبارکہ میں مردوں کو عورتوں پہ ترجیح کیوں دی گئی۔ مردوں کا درجہ بڑھا کر اللہ تبارک و تعالٰی نے ان کے فرائض میں بھی اضافہ کیا۔ عورتوں کا خیال رکھنا، ان کی ضروریات پوری کرنا، ان کے حقوق ادا کرنا جن میں سے ایک حق تعلیم حاصل کرنا بھی ہے، یہ سب مرد کی ذمہ داریاں ہیں۔ مرد کی فضیلت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عورتوں سے ان کے بنیادی حقوق چھین لے۔ اور اس آیت میں تو بالعموم عام مرد و عورت جبکہ بالخصوص خاوند اور بیوی کے بارے میں کہا گیا۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ والدین کی بیٹے کو بیٹی پہ ترجیح دینے والی روش سے انہیں جو نقصان اٹھانا پڑا ہو قابلِ تلافی تو ہے مگر بہت تکلیف دہ بھی۔ وہ جان چکے تھے کہ والدین کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی اولاد میں اتنا فرق کریں کہ اس فرق کے نتیجے میں ہونے والے نقصان سے اتنے بے خوف ہو جائیں کہ وہ اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو بھول جائیں۔ انہیں اس موقع پہ وہ تمام احادیث بھی یاد آ رہی تھیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اولاد میں امتیاز اور فرق کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ڈاکٹر عمر حیات کو آگہی کا در دیر سے کھلنے پہ افسوس اور دکھ تو بہت تھا لیکن وہ خوش تھے کہ یہ آگہی کا در کھلا تو سہی۔ اور اب وہ اس سب کی تلافی کے لیے تیار تھے۔

جیا آپی
16-03-2011, 05:36 AM
بہت ہی اچھا لکھا سعدیہ سس

کوثر بیگ
16-03-2011, 10:11 AM
بہت طریقہ اور سلیقہ سے ایک حقیقت کو اجاگر کیا ہے ۔ پڑھنے والوں کی رہنمائی کرکے آنکھیں کھولی ہیں ۔بہت اچھی تحریر ہے

IN Khan
16-03-2011, 11:03 AM
ارے آج تو برے بیٹے کا دوسرا افسانہ ایک تسلسل سے پڑھنے کو مل گیا۔۔ رافعہ جی کے افسانے میں بھی بیٹا حیوان نکلا۔۔۔ اچھی تربیت کے باوجود۔۔
لیکن یہاں تو خیر اس کے بگاڑ کی وجہ دکھائی گئی ہے کہ بےجا لاڈ پیار اور ناز نخرے اٹھانا۔۔۔

خیر سعدیہ سس پورا افسانہ پڑھا۔۔
کچھ باتیں غیر حقیقی لگیں۔۔ بتاؤں گا تو امید ہے کہ معاف کر دیں گی۔۔۔:)
اول تو آج کل کے دور میں ایک پی ایچ ڈی کسی بھی چٹی ان پڑھ سے شادی نہیں کرتا۔۔۔ اور اگر خاندانی دباؤ کی وجہ سے ایسا ممکن ہو گیا ہو تو پھر ایسی سوچ کہ بیٹیوں کو سکول کا منہ بھی نہ دیکھنے دیا جائے۔۔ یہ ذرا نہیں بہت زیادہ عجیب لگی۔۔۔
سونے پہ سہاگہ۔۔۔
ہمسائی آنٹی نے جیسے چپ چپیتے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور ایک، دو یا پانچ نہیں۔۔ ایف ایس سی اور میٹرک تک لڑکیوں کو تعلیم دلوا دی۔۔ میں تو حیران رہ گیا جی۔۔۔

خیر یہ تو کہانی کے بنیادی جھول تھے۔۔۔

اب آتے ہیں انداز تحریر کی طرف۔۔۔ جو صرف اور صرف بیانیہ تھا۔۔ جیسے کہانی سنائی جا رہی ہو۔۔ ڈائیلاگ اور سچوئشنز نہ ہونے کے برابر تھے۔۔۔ اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔۔
سچی کہانی، آپ بیتی، افسانہ، ناول۔۔ سب اصناف کی بنیادی اشکال الگ الگ ہیں۔۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ آپ کی پہلی تحریر ہے۔۔
لکھتی رہیے ۔۔۔ اسی طرح نکھار پیدا ہوتا رہے گا۔۔
سیکھ کر لکھیں گی تو جلد ترقی کر پائیں گی۔۔

Hina Rizwan
16-03-2011, 11:36 AM
بہت اچھا لکھا آپ نے سعدیہ سس
آپ کا پہلا افسانہ ہے نا تو اس لحاظ سے تو آپ نے بہت اچھا لکھا ہے

SadiaMuhammad
16-03-2011, 11:38 AM
بہت ہی اچھا لکھا سعدیہ سس


پذیرائی کے لیے بہر شکریہ سس

SadiaMuhammad
16-03-2011, 11:39 AM
بہت طریقہ اور سلیقہ سے ایک حقیقت کو اجاگر کیا ہے ۔ پڑھنے والوں کی رہنمائی کرکے آنکھیں کھولی ہیں ۔بہت اچھی تحریر ہے



پذیرائی کے لیے بہت شکریہ آپا۔۔۔ آپ نے پڑھا اور کمنٹ کیا ۔۔۔ مجھے بہت اچھا لگا

SadiaMuhammad
16-03-2011, 11:40 AM
بہت اچھا لکھا آپ نے سعدیہ سس
آپ کا پہلا افسانہ ہے نا تو اس لحاظ سے تو آپ نے بہت اچھا لکھا ہے

بہت شکریہ حنا سس۔۔ ہمممم پہلی ہی تحریر ہے اچھا ریسپانس مل رہا ہے نا۔۔۔ اس لیے ان شاءاللہ آگے بھی کوشش کرتی رہوں گی

SadiaMuhammad
16-03-2011, 11:53 AM
ارے آج تو برے بیٹے کا دوسرا افسانہ ایک تسلسل سے پڑھنے کو مل گیا۔۔ رافعہ جی کے افسانے میں بھی بیٹا حیوان نکلا۔۔۔ اچھی تربیت کے باوجود۔۔
لیکن یہاں تو خیر اس کے بگاڑ کی وجہ دکھائی گئی ہے کہ بےجا لاڈ پیار اور ناز نخرے اٹھانا۔۔۔

خیر سعدیہ سس پورا افسانہ پڑھا۔۔
کچھ باتیں غیر حقیقی لگیں۔۔ بتاؤں گا تو امید ہے کہ معاف کر دیں گی۔۔۔:)
اول تو آج کل کے دور میں ایک پی ایچ ڈی کسی بھی چٹی ان پڑھ سے شادی نہیں کرتا۔۔۔ اور اگر خاندانی دباؤ کی وجہ سے ایسا ممکن ہو گیا ہو تو پھر ایسی سوچ کہ بیٹیوں کو سکول کا منہ بھی نہ دیکھنے دیا جائے۔۔ یہ ذرا نہیں بہت زیادہ عجیب لگی۔۔۔


عمران لالہ جی آپ کا کمنٹ پڑھ کے بہت اچھا لگا۔۔۔ کوئی بھی پڑھا لکھا شخص جو ایسی کمیونٹی میں موو کرتا ہو اسے ایسی باتیں غیر حقیقی لگیں گی۔ لیکن میں نے یہ سب یہاں دیکھا ہے۔۔۔ بھیا جی آپ کہاں اور کس دور کی باتیں کر رہے ہیں۔۔۔ میرے سامنے بہت سی ایسی مثالیں ہیں کہ لڑکا پی ایچ ڈی یا ایم ایس اور لڑکی بہت کم پڑھی لکھی کوئی ایف اے کوئی بی اے اور اور کسی نے چار جماعتیں پڑھی ہوئی ہیں۔۔۔ اور یہ شادیاں نہ تو خاندان کے دباو میں آ کے ہوئیں ہیں اور نہ ہی کسی اور مجبوری کی وجہ سے۔۔۔۔ کیونکہ ایسا ہوتا تو کوئی بھی خوش نہ ہوتا سب خوش ہیں اپنے اپنے ماحول میں اپنے اپنے گھر میں۔۔۔
اور آپ یہ سن کر اور بھی حیران ہوں گے کہ ایک شخص تو پی ایچ ڈی وہنے کے ساتھ ساتھ حافظِ قرآن بھی ہے اور اس کے نزدیک لڑکیوں کی ایجوکیشن کا چونکہ قران و حدیث میں کوئی بیان نہیں اس لیے وہ اپنی بیٹی کو پڑھانا نہیں چاہتا ہے۔۔۔


سونے پہ سہاگہ۔۔۔
ہمسائی آنٹی نے جیسے چپ چپیتے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور ایک، دو یا پانچ نہیں۔۔ ایف ایس سی اور میٹرک تک لڑکیوں کو تعلیم دلوا دی۔۔ میں تو حیران رہ گیا جی۔۔۔



نہ جی نہ اس میں حیران رہنے کی کوئی بات نہیں۔۔۔ چونکہ کہانی تھی اس لیے ذرا کہانی والا ٹچ دیا ہے ورنہ میں ایسی ہمسائی آنٹی کی بھی نفسِ نفیس گواہ ہوں جو یہ کام شروع کر چکی تھیں اور شاید میرے تخیل کی پرواز کے مطابق وہ اس کام کا بیڑا لے ہی لیتی۔۔۔ لیکن ان کے میاں اور چند اور لوگوں کے سمجھانے پہ اس شخص نے اپنی بیٹی کو ابھی چند روز پہلے ہی اسکول میں داخل کروا دیا ہے۔۔



خیر یہ تو کہانی کے بنیادی جھول تھے۔۔۔

اب آتے ہیں انداز تحریر کی طرف۔۔۔ جو صرف اور صرف بیانیہ تھا۔۔ جیسے کہانی سنائی جا رہی ہو۔۔ ڈائیلاگ اور سچوئشنز نہ ہونے کے برابر تھے۔۔۔ اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔۔
سچی کہانی، آپ بیتی، افسانہ، ناول۔۔ سب اصناف کی بنیادی اشکال الگ الگ ہیں۔۔
مجھے لگتا ہے کہ یہ آپ کی پہلی تحریر ہے۔۔
لکھتی رہیے ۔۔۔ اسی طرح نکھار پیدا ہوتا رہے گا۔۔
سیکھ کر لکھیں گی تو جلد ترقی کر پائیں گی۔۔



بالکل بھیا جی یہ میری پہلی ہی تحریر ہے۔۔۔ ایک حقیقی واقعے سے متاثر ہو کر لکھی ہے تا کہ لوگوں کو اس بات سے اگاہی ہو سکے کہ تعلیم مرد اور عورت دونوں پہ فرض ہے۔۔۔۔ صرف عورت کے لیے نہیں۔۔۔ آپ بیتی کہہ لیں کیونکہ کہیں نہ کہیں اس کہانی میں، میں خود بھی انوالو رہی ہوں۔۔۔ ان شاءاللہ لکھتی رہوں گی بس آپ لوگوں کی رہنمائی مجھے کمنٹس کی صورت میں ملتی رہی۔۔۔۔

Pardaisi
16-03-2011, 12:02 PM
بہت اچھا لکھا آپ نے سعدیہ


اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

IN Khan
16-03-2011, 12:09 PM
بالکل بھیا جی یہ میری پہلی ہی تحریر ہے۔۔۔ ایک حقیقی واقعے سے متاثر ہو کر لکھی ہے تا کہ لوگوں کو اس بات سے اگاہی ہو سکے کہ تعلیم مرد اور عورت دونوں پہ فرض ہے۔۔۔۔ صرف عورت کے لیے نہیں۔۔۔ آپ بیتی کہہ لیں کیونکہ کہیں نہ کہیں اس کہانی میں، میں خود بھی انوالو رہی ہوں۔۔۔ ان شاءاللہ لکھتی رہوں گی بس آپ لوگوں کی رہنمائی مجھے کمنٹس کی صورت میں ملتی رہی۔۔۔۔



سدا خوش رہو چھوٹی بہنا جی
اور لکھتی رہو کہ اس کے لیے تمہارا مشاہدہ اور تجربہ مزید گہرا ہوگا۔۔
لوگوں کو دیکھنے، پرکھنے کا ڈھنگ مزید وسعت اختیار کرئے گا۔۔

باقی ظاہر ہے کہ کسی نہ کسی مشاہدے کی بنیاد پر ہی آپ نے لکھا ہوگا۔۔۔
میرے کمنٹس کا مطلب بالکل یہ نہ لینا کہ یہ تمہاری حوصلہ شکنی کے لیے تھے۔۔ کسی کی بھی تحریر کے لیے وقت نکال کر پڑھنا اور اس کی خامی و خوبی سے مصنف کو آگاہ کرنا ایک قاری کا اولین فرض ہوتا ہے۔۔ جو ادا نہ کیا جائے تو ناانصافی ہوتی ہے لکھنے والے کے ساتھ۔۔
اب یہ تو رائٹر پر منحصر ہے کہ وہ اس تنقید و تعریف کو مثبت لیتا ہے یا منفی۔۔۔
بہرحال پہلی تحریر ہونے کے ناتے بہت اچھی کوشش ہے۔۔
سدا مسکراؤ:)

Kainat
16-03-2011, 01:39 PM
سعدیہ بہن ۔۔۔پہلی بار کے حساب سے تو آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔
اور پہلی تحریر تو طفل مکتب، اک نیا قدم اور ہمت والی بات ہوتی ہے۔ ان میں آپ کامیاب رہی ہیں تو آگے کا سفر بھی آہستہ آہستہ سہل ہو جائے گا۔
اور عمران بھائی کے نکتے بڑے کام کے ہوتے ہیں۔ جو آپ کو ادب کی اس صنف کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔

Abeer
16-03-2011, 02:07 PM
سعدیہ سسٹر آپ نے کافی اچھا لکھا ھے اور اگر پہلی تحریر ھے تو واقعی بہت زبردست کوشش ھےِ:):)
موضوع بہت ھی نازک ھےِ گو کہ اب تھوڑا چینج آ رھا ھے مگر پھر بھی ایسے بہت سے لوگ ھمارے اردگرد موجود ھیں، اور یہ پی ایچ ڈی لڑکا اور کم پڑھی لکھی لڑکی، ایسے کپلز میں نے بہت دیکھے ھیںِ لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک تو ظاہر ھے موجود ھےِ کچھ گھروں میں، اور اس طرح کے لوگوں کو دیکھ کر کافی دکھ ھوتا ھےِ
آپ کی تحریر میں تو بیٹیاں اچھا ھی سوچتی ھے مگر بہت سے کیسز میں ایسے لوگ اندر ھی اندر عدم اعتماد، محرومیوں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ھو جاتے ھیں:( اور اس طرح سے کوئی لڑکی کیسے کل کو معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کر سکے گیِ اور بیٹا بھی باپ کی روش پر چلتے ھوئے کل کو ایسی ھی سوچ کا مالک ھوگاِ، سو سیڈ
اچھا جس طرح کی ماں آپ نے دیکھائی ھے تحریر میں، مجھے لگتا ھے وہ بہت زیادہ قصوروار ھوتی ھے ایسی سچوئچن کے لئے~، ظاہر ھے وہ بھی پڑھ لکھ نا پائی اور اس کے دماغ میں یہی چیز بیٹھائی گئی کہ لڑکے برتر ھیں اور کچھ چیزوں پر صرف انہی کا حق ھے اور اسی سوچ کو اس نے آگے اپنی بیٹیوں میں ٹرانسفر کیا، اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رھے اگر کسی ایک نسل کی سوچ نہ بدلےِ
میں ڈیٹیل تبصرہ کئے بغیر رہ نہیں پائی کیونکہ میں نے بھی بہت سے پڑھے لکھے اچھے لوگوں کے درمیان، چند ایسے کیسز دیکھے ھیں
،
آپ نے کافی اچھا ھےِ، خوش رھیں:) اور مزید بھی لکھتی لکھاتی رھیںِ

SadiaMuhammad
17-03-2011, 10:23 AM
سدا خوش رہو چھوٹی بہنا جی
اور لکھتی رہو کہ اس کے لیے تمہارا مشاہدہ اور تجربہ مزید گہرا ہوگا۔۔
لوگوں کو دیکھنے، پرکھنے کا ڈھنگ مزید وسعت اختیار کرئے گا۔۔

باقی ظاہر ہے کہ کسی نہ کسی مشاہدے کی بنیاد پر ہی آپ نے لکھا ہوگا۔۔۔
میرے کمنٹس کا مطلب بالکل یہ نہ لینا کہ یہ تمہاری حوصلہ شکنی کے لیے تھے۔۔ کسی کی بھی تحریر کے لیے وقت نکال کر پڑھنا اور اس کی خامی و خوبی سے مصنف کو آگاہ کرنا ایک قاری کا اولین فرض ہوتا ہے۔۔ جو ادا نہ کیا جائے تو ناانصافی ہوتی ہے لکھنے والے کے ساتھ۔۔
اب یہ تو رائٹر پر منحصر ہے کہ وہ اس تنقید و تعریف کو مثبت لیتا ہے یا منفی۔۔۔
بہرحال پہلی تحریر ہونے کے ناتے بہت اچھی کوشش ہے۔۔
سدا مسکراؤ:)

پیارے سے لالہ جی۔۔۔
کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ نے میری کسی بات کا برا منا لیا ہے تو۔۔۔۔۔ بہتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتت ت ساری معذرت۔۔۔
آپ کی کسی بات کو غلط لے کر میں نے خود اپنا نقصان کرنا ہے کیا۔۔۔ اور رائٹر تو نہ کہیں ابھی مجھے ابھی تو قلم پکڑنا سیکھ رہی ہوں۔۔ اور آپ جیسے لوگوں سے ہی سیکھوں گی نا۔۔۔
میں نے تو بس آپ کے چند سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔۔۔ یقین کریں میں جب بھی اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو دیکھتی ہوں تو جی بہت دُکھتا ہے۔۔۔
مشاہدہ تو گہرا ہوتا ہی ہے لیکن جی خفا بھی ہو جاتا ہے۔۔۔۔

دعاوں میں یاد رکھیں
رہنمائی کرتے رہیں
اور خوش رہیں

اللہ پاک آپ کو خوشیاں دیں آمین ثم آمین

SadiaMuhammad
17-03-2011, 10:25 AM
بہت اچھا لکھا آپ نے سعدیہ


اللہ کرے زور قلم اور زیادہ


بہت شکریہ کہانی پڑھنے اور پذیرائی کا
آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی مجھے آگے بڑھائے گی ان شاءاللہ

SadiaMuhammad
17-03-2011, 10:27 AM
سعدیہ بہن ۔۔۔پہلی بار کے حساب سے تو آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔
اور پہلی تحریر تو طفل مکتب، اک نیا قدم اور ہمت والی بات ہوتی ہے۔ ان میں آپ کامیاب رہی ہیں تو آگے کا سفر بھی آہستہ آہستہ سہل ہو جائے گا۔
اور عمران بھائی کے نکتے بڑے کام کے ہوتے ہیں۔ جو آپ کو ادب کی اس صنف کو سمجھنے میں مدد دیں گے۔


کائنات بہنا جی شکریہ کمنٹس کے لیے۔۔۔

بالکل ایسا ہی ہے میں بہت عرصے سے اس موضوع پر لکھنے کا سوچ رہی تھی لیکن اینڈ کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔ آپ سب لوگوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی سے یہ لکھ پائی ہوں۔۔۔۔

جی بالکل بہنا جی عمران لالہ تو میرے بہت اچھے والے لالہ جی ہیں فورم پہ ہر جگہ مجھے الحمد للہ ان کی رہنمائی حاصل رہی ہے اور ان شاءاللہ آئندہ بھی حاصل رہے گی

SadiaMuhammad
17-03-2011, 10:33 AM
سعدیہ سسٹر آپ نے کافی اچھا لکھا ھے اور اگر پہلی تحریر ھے تو واقعی بہت زبردست کوشش ھےِ:):)
موضوع بہت ھی نازک ھےِ گو کہ اب تھوڑا چینج آ رھا ھے مگر پھر بھی ایسے بہت سے لوگ ھمارے اردگرد موجود ھیں، اور یہ پی ایچ ڈی لڑکا اور کم پڑھی لکھی لڑکی، ایسے کپلز میں نے بہت دیکھے ھیںِ لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک تو ظاہر ھے موجود ھےِ کچھ گھروں میں، اور اس طرح کے لوگوں کو دیکھ کر کافی دکھ ھوتا ھےِ
آپ کی تحریر میں تو بیٹیاں اچھا ھی سوچتی ھے مگر بہت سے کیسز میں ایسے لوگ اندر ھی اندر عدم اعتماد، محرومیوں اور نفسیاتی مسائل کا شکار ھو جاتے ھیں:( اور اس طرح سے کوئی لڑکی کیسے کل کو معاشرے میں اپنا فعال کردار ادا کر سکے گیِ اور بیٹا بھی باپ کی روش پر چلتے ھوئے کل کو ایسی ھی سوچ کا مالک ھوگاِ، سو سیڈ
اچھا جس طرح کی ماں آپ نے دیکھائی ھے تحریر میں، مجھے لگتا ھے وہ بہت زیادہ قصوروار ھوتی ھے ایسی سچوئچن کے لئے~، ظاہر ھے وہ بھی پڑھ لکھ نا پائی اور اس کے دماغ میں یہی چیز بیٹھائی گئی کہ لڑکے برتر ھیں اور کچھ چیزوں پر صرف انہی کا حق ھے اور اسی سوچ کو اس نے آگے اپنی بیٹیوں میں ٹرانسفر کیا، اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رھے اگر کسی ایک نسل کی سوچ نہ بدلےِ
میں ڈیٹیل تبصرہ کئے بغیر رہ نہیں پائی کیونکہ میں نے بھی بہت سے پڑھے لکھے اچھے لوگوں کے درمیان، چند ایسے کیسز دیکھے ھیں
،
آپ نے کافی اچھا ھےِ، خوش رھیں:) اور مزید بھی لکھتی لکھاتی رھیںِ

بہت شکریہ عبیر بہنا جی
بالکل پہلی ہی تحریر ہے اور ایک سچے واقعے سے متاثر ہو کر لکھی ہے۔۔۔

تبدیلی تو آ رہی ہے مگر رینگ رینگ کے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ کم از کم کچھ تو بدلے نا۔۔۔ آپ نے صحیح کہا اگر ہم اپنے ارد گرد غور کریں تو ایسے بہت سے کپلز ہمیں نظر آتے ہیں۔۔۔ بلکہ بہت سارے کپلز میں تو میں نے دیکھا ہے کہ ماشاءاللہ کم پڑھا لکھا ہونے کے باوجود بیویاں سمجھ داری سے کام لیتی ہیں اور بچوں اور گھر پہ بہت توجہ دیتی ہیں لیکن ایسی ریشو بہت کم ہے۔۔۔

بالکل جس واقعے کی بنیاد پہ یہ کہانی میں نے لکھی ہے اس میں بھی سمجھیں کہ بچی میں کمپلیکسز ڈیویلپ ہو رہے تھے لیکن اب اسکول کے ماحول اور اساتذہ کی وجہ سے اس میں کافی تبدیلی آ رہی ہے۔۔۔ اچھی سوچ صرف تعلیم کی مرہونِ منت نہیں ہوتی لیکن اچھی سوچوں کو نکھار ہمیشہ تعلیم ہی دیتی ہے۔۔۔ بہت سے لوگ ان پڑھ مگر اچھی سوچ والے ہوتے ہیں اور بہت سے پڑھے لکھے جاہل۔۔۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ سب کو ہدایت کی راہ چلائیں آمین۔۔۔

آپ کی تبصرہ بہت اچھا لگا
ڈیٹیلڈ تبصرہ لکھاری کو یا کم از کم مجھ جیسے لکھاری کو بہت اچھا لگتا ہے۔۔۔
بہت شکریہ
خوش رہیں
دعاوں میں یاد رکھیں

اللہ پاک آپ کو خوشیاں دیں آمین

IN Khan
17-03-2011, 10:39 AM
پیارے سے لالہ جی۔۔۔

کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ نے میری کسی بات کا برا منا لیا ہے تو۔۔۔۔۔ بہتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتتت ت ساری معذرت۔۔۔
آپ کی کسی بات کو غلط لے کر میں نے خود اپنا نقصان کرنا ہے کیا۔۔۔ اور رائٹر تو نہ کہیں ابھی مجھے ابھی تو قلم پکڑنا سیکھ رہی ہوں۔۔ اور آپ جیسے لوگوں سے ہی سیکھوں گی نا۔۔۔
میں نے تو بس آپ کے چند سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔۔۔ یقین کریں میں جب بھی اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو دیکھتی ہوں تو جی بہت دُکھتا ہے۔۔۔
مشاہدہ تو گہرا ہوتا ہی ہے لیکن جی خفا بھی ہو جاتا ہے۔۔۔۔


دعاوں میں یاد رکھیں
رہنمائی کرتے رہیں
اور خوش رہیں



اللہ پاک آپ کو خوشیاں دیں آمین ثم آمین


ارے ارے میں اور سعدیہ سس کی بات کا برا مناؤں۔۔
یہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ سوچنا بھی مت سس۔۔
وہ تو مجھے اپنا لگا کہ شاید میری وجہ سے تمہیں برا نہ لگا ہو۔۔۔۔۔:)

میں بہت کم کم ہی تبصرے کرتا ہوں۔۔ صرف اس وجہ سے کہ کسی کو بھی برا نہ لگے۔۔ پہلے پہل فورم کی جگ ماتا کے افسانوں پر تبصرہ کر دیا کرتا تھا۔۔ اب اس سے بھی ڈر لگتا ہے۔۔ حالانکہ وہ ہمیشہ کہتیں ہیں کہ برا نہیں منایا۔۔ لیکن میں جانتا ہوں نا کہ منایا ہوتا ہے۔۔ ھاھاھا

لیکن یہ چونکہ ہماری بہنا جی کی تحریر تھی تو بتانا بھی لازم تھا۔۔۔
اور دعاؤں میں تم اور ہمارے بھیا جی ہمیشہ ہی رہتے ہیں سوئٹ سس۔۔
اللہ پاک سے تم دونوں کی سلامتی اور خوشیوں کے لیے ڈھیروں پرخلوص دعائیں۔۔۔:)

Ahmed Lone
17-03-2011, 10:48 AM
سعدیہ بہن

بہت اچھا افسانہ ہے

اس کے لیے شکریہ

Kazmi
17-03-2011, 10:52 AM
بہت اچھا لکھا ہے، شاباش۔

عمران بھائی کی باتیں اہم ہیں، ان سے فائدہ اٹھائیں۔

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

۔

Rubab
17-03-2011, 07:03 PM
نپے تلے انداز میں بہت اچھی کہانی لکھی ہے۔ گڈ جاب سعدیہ سس۔

Noor-ul-Ain Sahira
18-03-2011, 01:45 AM
پہلی کوشش کے حساب سے بہت اچھا لکھا:) سعدیہ
گڈ جاب خوش رہو۔

Zainab
18-03-2011, 03:23 AM
بہت اچھا لکھا ہے سعدیہ آپ نے

Aamir Jahan
18-03-2011, 06:23 AM
ارے واہ ماشآء اللہ۔ سعدیہ آپی آپ نے بھی افسانہ لکھا۔ اچھا لگا۔ اور پلاٹ بھی اچھا ہے کہانی کا۔ اسی طرح لکھتے رہیے گا۔ وش یو آل دا بیسٹ آپی۔ :)