PDA

View Full Version : امن کا گہوارہ از سمیر



1US-Writers
15-03-2011, 07:20 PM
امن کا گہوارہاز سمیر


"سارے گھر میں شور سنائی دے رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔"

"آوازوں کا شور۔ ۔ ۔ ۔"

"گالی گلوچ کا شور۔ ۔ ۔ "

"برتن ٹوٹنے کا شور۔ ۔ ۔"

"تھپڑوں کا شور۔ ۔ ۔ ۔"

"رونے کا شور۔ ۔ ۔ ۔ "

"دوسرے کمرے میں وُہ کانوں میں ہیڈ فون "ٹھونسے"گانے سُن رہا تھا اور اِس بات سے قطاً بے خبر تھا کہ کیا کچھ ٹوٹا اور کب تک لڑائی جاری رہی۔ ۔ ۔ ۔کیونکہ یہ ڈرامہ اُس کے لیے کوئی نیا نہیں تھا ۔ ۔ ۔وُہ عادی ہو چکا تھا"

٭٭٭٭٭



"ناشے کی ٹیبل پر سرمد اور اُسکے والد آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ جامد اخبار پڑھ رہا تھا جبکہ سرمد اخبار کی دوسری طرف خبروں کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ۔ ۔"

میرا نے ناشتہ لا کر دونوں کے سامنے رکھ دیا ۔

سرمد کو ہدایت کی کہ ناشتہ جلدی کرے ،وُہ کالج سے لیٹ ہو رہا ہے جبکہ اپنے شوہر سے کوئی بھی بات نہ کی۔

"سرمد نے ماں کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے ناشتہ کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ جامد بھی اب ناشتہ کر رہا تھا"۔

"پاپا ایک بات تو بتائیں؟ سرمداِس وقت شرارت کے موڈ میں تھا۔۔۔"

ہاں پوچھو بیٹا کیا بات ہے؟

"آپ کا ممی کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے؟"

چُپ کر کے ناشتہ کرو ورنہ لیٹ ہو جاﺅ گے اور ممی سے ڈانٹ پڑے گی۔"جامد نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے جواب دیا "

پاپا بات کو نہ بدلیں "بتائیں ناں آپ دونوں کی لڑائی ہوئی ہے؟"

نہیں۔۔۔۔۔!!!"جامد مسکراتے ہوئے بولا"۔

"تو پھر ممی نے آپ کو کیوں نہیں کہا کہ ناشتہ جلدی کریں آفس سے دیر ہو رہی ہے؟"

"بہت شرارتی ہو گئے ہو۔۔۔میں گاڑی کی چابی لے کر آتا ہوں تب تک ناشتہ ختم کر لو"

سرمد نے ممی کو سلام کیا اور پاپا کے ساتھ کالج چلا گیا۔

٭٭٭٭٭



سرمد بستر پر لیٹا دل ہی دل میں اللہ سے دُعا کر رہا تھا کہ اُس کے ممی اور پاپا میں صلح ہو جائے۔

"اچانک اُس کے دل میں ایک خیال آیا۔۔۔ وُہ اُٹھا اور الماری میں سے ایک چھوٹا سا باکس نکال کر پھر بستر پر آ کر بیٹھ گیا"

"باکس کو کھول کر اُس نے بستر پر اُلٹا دیا ۔۔۔"

"بہت سارے کاغذ کے نوٹ اور سکے بستر پر بکھر گئے۔۔۔"

سرمد نے اُن کو اکٹھا کر کے گِنا تو پورے چار ہزار روپے تھے۔ یہ وُہ پیسے تھے جو وُہ پچھلے ایک سال سے اپنی پاکٹ منی سے بچا کر یہاں رکھ رہا تھا۔اُس نے سوچا تھا کہ اِن پیسوں سے موبائل خریدے گا لیکن اب وُہ ان کو ایک مقصد کے لیے خرچ کرنے والا تھا۔



اگلے روز کالج سے آنے کے بعد وُہ پیسے لے کر ٹیویشن سنٹرچلا گیا۔ ٹیویشن والے ٹیچر کو اُس نے کہا کہ اُسے اپنے ممی اور پاپا کے لیے کچھ گفٹ خریدنے ہیں جو وُہ اُن کو سرپرائز دینا چاہتا ہے۔

"ٹیویشن سنٹر سے چھٹی لے کر وُہ بازار آ گیا۔۔۔۔"

"اُس نے اپنے پاپا کے لیے گھڑی اورممی کے لیے سوٹ خریدا۔ اس کے علاوہ دو شادی کی سالگرہ والے کارڈ بھی خریدے۔ گھڑی کو پیک کروا کر اُس کے اُوپر لکھا"پیارے جامد کے لیے"اور نیچے اپنی ممی کا نام لکھ دیا ۔جبکہ سوٹ کو پیک کروا کر اُس کے اوپر "پیاری میرا کے لیے"لکھا اور نیچے پاپا کا نام لکھ دیا۔۔۔"

"گفٹ اور کارڈ لے کر وُہ سیدھا اپنے کمرے میں آ گیا ۔ گفٹ الماری میں چھپا دئیے اور کارڈ اپنے تکیے کے نیچے رکھ دیے تا کہ رات کو اُن پر لکھ سکے"



"رات کو جب اُس کے ممی اور پاپا سو گئے تو اُس نے کارڈ تکیے کے نیچے سے نکالے اور ان پر لکھنا شروع کر دیا"

پیارے جامد!

شادی کی سالگرہ بہت مبارک ہو۔

اِس دن ہم نے ایک دوسرے کوہر خوبی اور خامی کے ساتھ قبول کیا تھا۔ ہم دونوں کی عادات مختلف ہیں جن کی وجہ سے لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی بھی ایک دوسرے کی طرف نہیں جھکے۔ کبھی معافی مانگ کر صلح کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کبھی ایک دوسرے کے لیے اپنی عادات کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ہم نے کبھی یہ سوچا کہ ہمارے جھگڑوں کی وجہ سے ہمارا بیٹا بھی متاثر ہوتا ہو گا۔ میں پچھلی ساری باتوں کو بھولاکر تم سے معافی مانگتی ہوں اور یہ عہد بھی کرتی ہوں کہ میں اپنے فرائض کو پورا کرنے میں کوتاہی نہیں کروں گی۔ اپنی عادات کو تمہاری عادات کے مطابق تبدیل کروں گی۔ اورکبھی تمھیں شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔

میراجامد

اسی طرح سرمد نے دوسرے کارڈ پر بھی یہی تحریر جامد کی طرف سے میرا کو لکھی۔

"رات کے اندھیرے میں ممی کی طرف سے گفٹ اور کارڈ پاپا کے کمرے میں رکھ آیا اور پاپا کی طرف سے گفٹ اور کارڈممی کے کمرے میں رکھ دئیے۔۔۔"

٭٭٭٭٭



"سرمد صبح اس امید سے اٹھا کہ آج گھر میں خوشی کا سماں ہو گا۔ آج اُس کی کوشش کی وجہ سے اُس کے ممی اور پاپا میں صلح ہو گئی ہو گی ۔" لیکن وُہ غلط سوچ رہا تھا۔۔۔۔ گھر میں اب بھی شور سُنائی دے رہا تھا۔ فرق اتنا تھا کہ آواز صرف جامد کی آ رہی تھی۔ میرا خلاف معمول رونے اور چلانے کی بجائے مسکرا رہی تھی۔ جامد میرا کے مسکرانے پر اور بھی تپا ہوا تھا۔"

"جامد کو چلاتا، شور کرتا چھوڑ کر میرا اپنے کمرے میں چلی گئی اور جب واپس آئی تو اُس کے ہاتھ میں ایک کارڈ اور گفٹ تھا جو اُس نے جامد کی طرف بڑھا دیا"۔

"گفٹ پر اپنا نام دیکھ کرجامد خاموش ہو گیا۔پھر کارڈ کو کھول کر پڑھا۔۔۔۔"

کارڈ کو پڑھنے کے بعد جامد نے میرا کی طرف دیکھا تو وُہ مسکرا رہی تھی۔ جامد بھی مسکرانے لگا۔

میرا نے جامد کو وُہ کارڈ اور گفٹ بھی دیکھایا جواُس کی طرف سے میرا کو لکھا گیا تھا۔

"جامد بھی اب ساری بات سمجھ چکا تھا۔ ۔ ۔ "

"دونوں مسکراتے ہوئے سرمد کی طرف بھاگے۔۔۔۔۔۔۔"

٭٭٭٭٭

کوثر بیگ
16-03-2011, 12:35 PM
بہت اچھی تحریر ہے ۔ بہت سادے سیدھے انداز میں ایک اچھا سبق مل رہاہے ۔

Ahmed Lone
16-03-2011, 03:00 PM
بہت زبردست

اچھا افسانہ ہے

Abeer
16-03-2011, 03:13 PM
ھا ھا بہت اچھی تحریر ھے اور موضوع بھی اچھا ھے:):) بعض اوقات واقعی پیرینٹس اپنی لڑائی میں بچوں کو بھول جاتے ھیںِ، کافی عمدہ لکھا ھےِ پڑھ کےِ مزا آیا:)

Sohail Ahmad
17-03-2011, 01:30 PM
السلام علیکم،

تمام دوستوں کی پسندیدگی کا بہت شکریہ۔ ۔ ۔ ۔

Sohail Ahmad
17-03-2011, 01:33 PM
ھا ھا بہت اچھی تحریر ھے اور موضوع بھی اچھا ھے:):) بعض اوقات واقعی پیرینٹس اپنی لڑائی میں بچوں کو بھول جاتے ھیںِ، کافی عمدہ لکھا ھےِ پڑھ کےِ مزا آیا:)
شکریہ۔ ۔ ۔ ۔
ان لڑائیوں میں بچے پر بہت پرا اثر پڑھتا ہے۔ ۔ ۔ ۔پڑھائی سے دور ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔وغیرہ

Kainat
17-03-2011, 01:36 PM
بہت اچھا لکھا ہے سمیر بھائی،
ہلکا پھلکا لائٹ افسانہ ۔۔۔۔۔ یہ تو خواتین اور شعاع ڈائجسٹ میں بھی چھپ سکتا ہے۔ کوشش کر کے دیکھ لیجیے۔۔۔۔

Sohail Ahmad
17-03-2011, 01:41 PM
بہت اچھا لکھا ہے سمیر بھائی،
ہلکا پھلکا لائٹ افسانہ ۔۔۔۔۔ یہ تو خواتین اور شعاع ڈائجسٹ میں بھی چھپ سکتا ہے۔ کوشش کر کے دیکھ لیجیے۔۔۔۔
السلام علیکم،
حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔ ۔ ۔ ۔
پر وُہ تو صرف خواتین کا شائع کرتے ہیں؟

Kainat
17-03-2011, 01:48 PM
اس بارے معلومات تو نہیں البتہ اک کوشش کی جا سکتی ہے۔:)

Sohail Ahmad
17-03-2011, 01:51 PM
اس بارے معلومات تو نہیں البتہ اک کوشش کی جا سکتی ہے۔:)
میں نے آج تک تو کسی میل کا نہیں پڑھا۔ ۔ ۔ ۔ خیر کوشش کرتا ہوں۔ ۔ ۔
اُن کو ہاتھ سے لکھ کر بھیجوں یا کوئی ای میل ایڈریس۔ ۔ ۔ ؟

Kainat
17-03-2011, 02:21 PM
ہاتھ سے لکھ کر بھیج دیں ۔۔۔ کہتے ہیں ایک سطر چھوڑ کر ۔۔۔۔ اور ان کو نارمل پوسٹ کے ذریعے بھیج دیں۔ رجسٹری کرنے کی ضرورت نہیں۔ ویسے اس بارے میں رائیٹر سوسائیٹی میں انفارمیشن اور کچھ ساتھیوں کا تجربہ بھی موجود ہے۔
افسانے کا فارمیٹ دوبارہ چیک کر لیں۔ اور تصور کو بروئے کار لا کر نوٹ کرتے جائیں کہ یہ ڈائجسٹ میں پبلش ہوا کیسا ہونا چائیے۔
اور میرا ناقص مشورہ یہ ہے کہ جہاں ڈائیلاگ ہیں وہ تو لائنوں میں ہی ہونا چاہیئے اور باقی مواد کو پیرا گراف میں سمیٹ لینا چاہیئے۔ ویسے آپ رافعہ سس سے اس بارے میں انفارمیشن لے لیں۔ اور انکی تحریر کی فارمیٹنگ بھی عمدہ ہوتی ہے۔:)

IN Khan
17-03-2011, 03:02 PM
اچھی اور سادہ سی تحریر۔۔
نہ بہت گھماؤ پھیراؤ۔۔ اور نہ کوئی مشکل الفاظ کا چناؤ۔۔۔
سادہ سے انداز میں ایک اہم بات کہ والدین کا اپنے بچوں کے سامنے لڑنا جھگڑنا کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔
ناموں کو بار بار دہرانا کچھ اچھا نہیں لگا بس

Rubab
17-03-2011, 06:56 PM
سادہ سے انداز میں بہت اچھی کہانی لکھی ہے سمیر بھائی۔ موضوع بھی توجہ دلانے والا ہے کہ والدین کے اختلافات کو بچے کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ کیپ اٹ اپ۔ اسمائل

Sohail Ahmad
18-03-2011, 06:11 PM
اچھی اور سادہ سی تحریر۔۔
نہ بہت گھماؤ پھیراؤ۔۔ اور نہ کوئی مشکل الفاظ کا چناؤ۔۔۔
سادہ سے انداز میں ایک اہم بات کہ والدین کا اپنے بچوں کے سامنے لڑنا جھگڑنا کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔
ناموں کو بار بار دہرانا کچھ اچھا نہیں لگا بس

آُپ کی محبت کا بہت شکریہ عمران بھائی۔ ۔ ۔ ۔

Sohail Ahmad
18-03-2011, 06:12 PM
سادہ سے انداز میں بہت اچھی کہانی لکھی ہے سمیر بھائی۔ موضوع بھی توجہ دلانے والا ہے کہ والدین کے اختلافات کو بچے کس طرح سے دیکھتے ہیں۔ کیپ اٹ اپ۔ اسمائل
بہت شکریہ۔ ۔ ۔

udaas
26-08-2011, 07:37 PM
بہت آسان اور مختصر الفاظ میں ہر گھر کی سیاست کو بیان کردیا آپ نے

Soha Rafiq
26-01-2012, 11:35 AM
thanks for sharing :)