PDA

View Full Version : لغزش پا از آمنہ احمد



1US-Writers
15-03-2011, 07:19 PM
لغزش پا
از آمنہ احمد



ابھی شازیہ نے چھت پر قدم رکھ کر کھلی ہوا میں سانس ہی لیا تھا کہ اس کی نظر اپنے سے تین سال بڑے بھائی پر پڑی جو پچھلی دیوار کے ساتھ بیٹھا سیگریٹ پی رہا تھا اور ساتھ میں کسی سے آ ہستہ آہستہ باتیں بھی کر رہا تھا۔


"بھائی کس سے باتیں کر رہا ہے؟" ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ دیوار کے اوپر ساتھ والوں کی نسرین کا چہرہ نمودار ہوا۔ اس نے بہت پیار سے اسکے بھائی جنید کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔ اس کے بھائی نے نسرین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں سے لگا لیا تھا۔ اس سے پہلے کہ شازیہ کوئی ردعمل ظاہر کرتی کہ جنید کی نظر اس پر پڑ گئی۔


"تم یہاں کیا کر رہی ہو، دفع ہو جاؤ!" وہ چنگھاڑا۔۔۔۔


"وہ الٹے قدموں نیچے بھاگی تھی۔ نیچے صحن میں امی اپنی امریکہ سے آئی ہوئی بہن سے باتوں میں مصروف تھیں۔


"باجی اللہ کا فضل ہے آپ پر۔۔۔۔اس گھر کو بیچ کر اچھی جگہ گھر کیوں نہیں لے لیتیں۔" عذرا خالہ چاروں طرف سے کمروں میں گھرے اس چھوٹے سے صحن پر ناگوار سی نظر ڈال کر بولی تھیں۔


"اے کیا ہے اس گھر کو ، اچھا بھلا تو ہے۔۔۔۔" انیسہ نے سبزی چھیلتے ہوئے کہا۔ عذرا اسے فرش پر سبزی کے چھلکے پھینکتے ہوئے ناگواری سے دیکھ رہی تھی۔


"ارے شازیہ بیٹی کچن سے ایک ٹرے تو لانا۔۔۔۔" خالہ نے اسے دیکھ کر آواز دے ڈالی۔ شازیہ جھٹ سے ٹرے لے آئی اور خالہ کے کہنے پر چھلکے ٹرے میں ڈالنے لگی۔


"باجی اب گلی محلوں کا پہلے جیسا ماحول نہیں رہا۔۔۔۔ارد گرد دیکھیں تو کیسے لوگ آ بسے ہیں۔آپکی بچیاں جوان ہو رہی ہیں۔۔۔۔۔کچھ آگے کی سوچیں۔"



"ایک تو خالدہ کے جانے سے کام بہت بڑھ گیا ہے۔۔۔۔" انیسہ نے سنی ان سنی کرتے ہوئے نند کا ذکر چھیڑ دیا جس کی ابھی حال ہی میں شادی ہوئی تھی۔ "عذرا تجھے بتاؤں خالدہ کے بڑے چکر چل رہے تھے یہاں۔۔۔۔" وہ رازدارانہ انداز میں چھوٹی بہن کی جانب جھکی۔ شازیہ نے چونک کر ماں کا چہرہ دیکھا۔


"باجی آپ کے ہوتے ہوئے۔۔۔۔" عذرا حیران ہو کر بولی۔


"لو میں کس گنتی میں ہوں۔۔۔۔بھابھی تو ویسے بھی ہر حال میں بری بنتی ہے۔۔۔۔" شگفتہ نے باقی کے چھلکے بھی فرش پر پھینک دیئے اس بات کا خیال کیے بغیر کہ شازیہ نے ابھی سب گند سمیٹا تھا۔


"مگر پھر بھی باجی۔۔۔۔آپ کی اپنی بچیاں بھی تو ہیں۔۔۔۔وہ بھی تو اثر۔۔۔۔"



"ارے واہ میری بچیاں کیوں اثر لینے لگیں۔۔۔۔" انیسہ چمک کر بولی تھی۔ شازیہ ماں کو پر سوچ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔


"باجی اسی لئے تو کہہ رہی ہوں اس محلے کو چھوڑ دیں۔۔۔۔"




"لو آج اس گھر کو چھوڑنے کی بات کروں تو ڈاکٹر الطاف کے سب بہنوئی حصہ بٹانے آ جائیں گے۔۔۔۔پتا ہے یہ جگہ مارکیٹ بنتی جا رہی ہے۔۔۔۔کل کو یہی جگہ لاکھوں کروڑوں کی بکے گی۔۔۔۔" انیسہ نے میاں کا نام لیا تھا۔


"اچھا چھوڑیں باجی۔۔۔۔یہ بتائیں فوزیہ کب سکول سے آئے گی۔" عذرا نے موضوع بدل دیا تھا۔ شازیہ بھی پھپھی کا ذکر ختم ہو جانے پر مطمئن ہو گئی اور خاموشی سے بیٹھک کی جانب کھسک لی جو سامنے کی گلی کی طرف تھی۔ اس کا دم اس چھوٹے سے صحن میں گھٹتا تھا جہاں سے آسمان کا نیلا چکور ٹکڑا دیکھنے کیلئے گردن کو اتنا پیچھے کرنا پڑتا تھا کہ قدم ڈگمگا جاتے تھے۔ ویسے بھی صحن میں اکثر دھونے والے کپڑوں، سبزی کے چھلکوں، اور گندے برتنوں کا انبار ماسی سکینہ کے آنے کے انتظار میں مکھیوں کی جم غفیر میں دبا رہتا تھا۔


٭٭٭٭


بیٹھیک آج بھی نیم تاریک تھی۔ شازیہ نے حسب سابق ایک کھڑکی کو ذرا کے ذرا کھولا تھا۔ وہ صوفے کی پشت سے لگی بیٹھی تھی اور کھڑکی کا پردہ اس پر ایسے تنا ہوا تھا کہ باہر سے آنے والا پہلی نظر میں اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اب وہ اپنے پسندیدہ مشغلے میں مصروف تھی۔ گلی میں سے گزرنے والے خوانچہ فروش، آوارہ لڑکے، لڑتی ہوئی ہمسائیاں، شٹاپو کھیلتی ہوئی لڑکیاں۔۔۔۔سب اس کی آنکھوں کے سامنے تھا مگر اسکے خیال میں کوئی اسے دیکھ نہیں پا رہا تھا۔



وہ اپنے آپ میں اتنی مگن تھی کہ دیکھ نہ پائی کہ سامنے والے گھر کی دوسری منزل سے اسے کوئی بغور دیکھ رہا ہے۔ احساس تو تب ہوا جب ایک کنکر کھڑکی کی جالی سے آن ٹکرایا۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے والے چاچے بشیر کا بیٹا آصف بڑی ادا سے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے سلام کر رہا تھا۔ وہ ایک دم گھبرا گئی اور دوڑ کر اندر کی جانب بھاگی۔ صحن میں ایک لمحے کو رک کر اس نے خالہ اور ماں کی طرف دیکھا۔ دونوں اب بھی باتوں میں مشغول تھیں۔ وہ چپکے سے اپنے کمرے میں کھسک لی۔۔۔۔"اف اگر کوئی دیکھ لیتا تو۔۔۔۔" وہ خوف سے کانپ رہی تھی۔ "مگر پھپھو تو کبھی پکڑی نہیں گئی تھیں۔۔۔۔اور ایک بار پکڑی بھی گئیں تو امی نے کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔۔مجھے بھی شاید کوئی کچھ نہ کہے۔۔۔۔ وہ بستر پر لیٹی ہانپ رہی تھی۔ تیرہ سالہ بچی کی سوچیں الجھ رہی تھیں۔۔۔۔ذہن میں نئے سوالوں کی ڈوریاں تانہ بانا بن رہی تھیں۔۔۔۔ہر سوال کا جواب ایک نئی الجھن تھا۔۔۔۔۔انیسہ بیگم کے پاس ان الجھنوں کو سلجھانے کا وقت نہ تھا۔۔۔۔


٭٭٭٭٭


شازیہ کی آنکھ کسی آواز سے کھلی تھی۔ اندھیرے میں اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور ذہن بھی ابھی نیند کے زیر اثر تھا۔ جب سب احساس بیدار ہوئے تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ آوازیں اسکی بہن کی رضائی میں سے آ رہی ہیں، جس میں اسکی بہن فوزیہ اور اسکی ماموں زاد کشور سو رہی تھیں۔ اس نے آوازوں کو سمجھنے کی کوشش کی مگر ذہن پر نیند کا غلبہ چھا گیا۔۔۔۔


"باجی رات تم اور کشور باجی کیا کر رہی تھیں۔۔۔۔" اس نے صبح فوزیہ سے پہلی بات یہی پوچھی۔


"بکواس بند کر۔۔۔۔" فوزیہ نے اسے تھپڑ کھینچ مارا تھا اور یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا۔


شازیہ آنکھوں میں آنسو لئے سکول کیلئے تیار ہونے چل دی۔ وہ فوزیہ اور جنید سے چھوٹی تھی اور اس سے چھوٹے تین بھائی تھے۔ ان تینوں کے آنے سے اس کا وجود کہیں درمیان ہی میں گم ہو گیا تھا۔



جب وہ تیار ہو کر ناشتے کیلئے کچن میں پہنچی تو اس کی اپنے آپ سے اوازار ماں سب سے چھوٹے بیٹےکو زبردستی ناشتہ کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔ شازیہ نے پلیٹ میں پڑا آدھا پراٹھا اور بچا ہوا آملیٹ اٹھا کر رول بنایا اور باقی بہن بھائیوں کے پیچھے باہر کو لپکی۔ گلی خالی تھی۔ شاید وہ سب ٹانگے میں بیٹھ چکے تھے جو گلی کی نکڑ پر کھڑا ہوتا تھا۔ اس نے جلدی جلدی قدم بڑھائے ہی تھے کہ ایک آواز نے اسے روک لیا۔۔۔۔


"کیا بات ہے آج بہت اداس لگ رہی ہو۔۔۔۔کیا فوزیہ سے پھر لڑائی ہوئی ہے؟" وہ بڑی ادا سے دیوار کے ساتھ لگا کھڑا تھا۔ شازیہ ایک لمحے کو ٹھٹھکی مگر پھر تیزی سے ٹانگے کی جانب بڑھی۔ ٹانگے میں بیٹھ کر اس نے باقی بہن بھائیوں پر نظر ڈالی۔ "کسی نے دیکھا تو نہیں۔۔۔۔" مگر وہ سب خود میں مگن تھے۔ اس نے شکر کا سانس لیا اور پلٹ کر گلی کی طرف دیکھا۔ وہ اب بھی وہیں موجود تھا اور اسی کی جانب دیکھ رہا تھا۔


٭٭٭٭٭


شازیہ کانپتے ہاتھوں سے کتاب کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔اسی کوشش میں ایک تہہ کیا ہوا کاغذ نیچے گرا۔ اس نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا۔ گرمیوں کی یہ تپتی دوپہر بالکل خاموش تھی۔۔۔۔ اسکی ماں اور سب بہن بھائی کولر لگے ٹھنڈے کمرے میں مزے سے سو رہے تھے، مگر وہ اس بھری دوپہر میں چھت پر موجود تھی۔ آج کچھ ایسا ہوا تھا کہ اس کی دوپہر کی نیند اڑ چکی تھی۔ حسب عادت وہ ٹانگے سے سب سے آخر میں اتری تھی۔ شازیہ اپنا بھاری بھرکم بستہ بمشکل اٹھائے گلی میں چلی آ رہی تھی جب اچانک کوئی اس سے آ ٹکرایا۔ کچھ کتابیں بستے سے پھسل کر باہر گر گئیں۔ وہ جلدی سے کتابیں اٹھانے جھکی جب دو ہاتھوں نے بڑی سرعت سے اسکی کتابیں اٹھائیں اور اسی دوران بہت پھرتی سے ایک کاغذ انگریزی کی کتاب میں رکھ دیا۔ شازیہ گبھرا کر کھڑی ہو گئی تھی۔ سامنے آصف کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ اس کے ہاتھوں سے کتابیں جھپٹ کر گھر میں داخل ہو گئی تھی۔ اور اب وہ چھت پر بیٹھی آصف کے لکھے محبت نامے کو پڑھ رہی تھی۔۔۔۔ اس کی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا تھا۔


٭٭٭٭٭


آصف کے ساتھ بس میں بیٹھے اسے ایک لمحے کو اپنی ماں کا خیال آیا تھا مگر آصف کے ہاتھ کی حدت نے اسکی سوچ کی ہر لہر کو اپنی جانب موڑ دیا۔ آصف سے پچھلے ایک سال کی خط و خطابت کا نتیجہ آج رات کی تاریکی میں اس بس کے سفر کی صورت میں نکلا تھا، جو بقول آصف انہیں انکی نامعلوم جنت کی جانب لیجا رہی تھی۔


"گرمی بہت ہے، یہ لو بوتل پی لو۔۔۔۔" آصف نے ایک سٹاپ پر اتر کر اسے پیپسی کی بوتل لا دی تھی۔ اس نے مسکرا کر بوتل پکڑ لی اور چادر کے اندر سٹرا ڈال کر پینے لگی۔


"آصف کو میرا کتنا خیال ہے!" یہی سوچتے سوچتے وہ اونگھنے لگی۔ جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ ایک ہچکولے کھاتی جیپ میں تھی اور اس کا سر آصف کے کندھے سے ٹکا ہوا تھا۔


"بس سفر ختم ہونے والا ہے۔" آصف اسے اٹھتا دیکھ کر مسکرا کر بولا۔


"سفر ختم ہونے والا ہے یا پھر ایک نیا نہ ختم ہونے والا سفر شروع ہونے والا ہے۔" شازیہ جیپ میں کسی اور کی موجودگی کا احساس کر کے یک دم سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا مرد پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا۔ اس نے چادر کھینچ کر صحیح کرنے کی کوشش کی مگر وہ کسی چیز میں الجھ چکی تھی اور کوشش کے باوجود بھی اس کے وجود کو ڈھانپنے میں ناکام تھی۔


آصف غصے میں غرایا تھا مگر شازیہ کے لئے اس کے الفاظ انجان تھے۔ "ارے پریشان کیوں ہوتی ہو۔۔۔۔تیرا دیور ہے۔۔۔۔"



"دیور۔۔۔۔۔ ہاہاہا''۔۔۔۔۔۔۔پھر شازیہ کو باقی کے الفاظ سمجھ نہیں آئے تھے۔



٭٭٭٭


وہ فرش پر گھٹنوں پر سر نیہواڑے بیٹھی تھی۔اسے ایسے بیٹھے گھنٹوں گزر چکے تھے۔ پاس ہی چارپائی پر نشے میں مدہوش آصف پڑا تھا۔ لالٹین کی مدہم روشنی میں ہر چیز گدلی ہو چکی تھی۔ دروازے سے باہر ہر کچھ دیر بعد ایک اور نشے میں ڈوبی آواز اس کی سماعت سے ٹکراتی۔۔۔۔ اس کوٹھری میں پہلی رات گزارنے کے بعد زندہ سلامت رہ جانے پر اس کی ہر حس ختم ہو چکی تھی۔ دن میں کئی بار آصف کا اور جیپ چلانے والے کا جھگڑا ہوتا تھا۔۔۔۔مگر آصف کا دل ابھی اس سے بھرا نہیں تھا۔۔۔۔ ابھی فیصلے کی گھڑی نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ ابھی برزخ طویل تھا،جبکہ قیامت تو کب کی گزر چکی تھی۔۔۔۔



وہ شاید چند لمحوں کے لئے اونگھ گئی تھی جب شور سے اسکی آنکھ کھل گئی۔۔۔۔ باہر ایک بے ہنگم شور تھا اور پھر گولیاں چلنے کی بھی آواز آئی۔۔۔۔ آصف کا بھی نشہ ہرن ہو چکا تھا اور وہ بھی چوکنا ہو چکا تھا۔۔۔۔ باہر کی آوازوں سے اندازہ لگا کر اس نے کونے میں بنے طاقچے میں پڑی چیزوں کے نیچے سے پستول نکال لیا تھا۔۔۔۔



شازیہ کے ذہن مین پہلا خیال یہی آیا تھا۔۔۔۔" کاش مجھے پتا ہوتا یہاں آصف نے پستول چھپایا ہوا ہے۔۔۔۔کاش میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کرتی۔۔۔۔کاش۔۔۔۔" اسے ایک دم احساس ہوا کہ اب اس کی زندگی اس ایک لفظ کے گرد ہی گھومے گی۔ جب دروازہ توڑ کر پولیس اندر آئی تو وہ چادر سے اپنا وجود پھر سے ڈھانپنے کی کوشش کر رہی تھی۔


٭٭٭٭٭


"کاش تو پیدا ہوتے ہی مر گئی ہوتی۔۔۔۔" بہت سی بددعاؤں کے بعد اس کی ماں نے حسب معمول اختتامیہ اس کے وجود سے انکار پر کیا۔


"کیوں میں کیوں مر گئی ہوتی ۔۔۔۔ جنید ، شاہد کیوں ناں مر گئے ہوتے۔۔۔۔" اس نے آرام سے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ پچھلے دس سالوں نے اسے اور کچھ تو نہیں دیا تھا مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ضرورآ گئی تھی ۔۔۔۔ ایسی چمک جو دیوانگی کی آخری حد پر کسی پاگل کی آنکھوں میں ہوتی ہے۔۔۔۔


"شازیہ۔۔۔۔" انیسہ بیگم کے منہ سے غصے کی شدت میں اور کچھ نہ نکل سکا۔


"لو میں گھر سے بھاگی تھی نا۔۔۔۔ تو جنید تو روز کسی نا کسی کو گھر سے بھگاتا ہے۔۔۔۔ روز کسی گھٹیا ہوٹل میں رات گزار کر صبح گھر آ جاتا ہے ۔۔۔۔ کبھی اس سے پوچھا کہ کس خاندان کی عزت کو چار چاند لگا کر آیا ہے۔ ۔۔۔۔ اور شاہد۔۔۔۔" وہ تمسخر سے ہنسی۔۔۔۔ " کیا وہ افشاں کو بھگا کر نہیں لایا۔۔۔۔ شادی فروری میں ہوئی اور آپکی پوتی جون ۔۔۔۔"



"بدبخت منہ بند کر۔۔۔۔ کوئی سنے گا تو کیا کہے گا۔"


" کہنا کیا ہے! یہی کہے گا کہ سارا خاندان ایک جیسا ہے۔" وہ استہزائیہ انداز میں ہنسی۔ انیسہ بیگم کو کوئی جواب نہ سوجھا تو وہ اٹھ کر اندر چلی گئیں۔


"لو بھلا میرا کیا قصور۔۔۔۔ فوزیہ نے عشق لڑا کورٹ میرج کی اصفر کو ڈاکٹر سمجھ کر۔۔۔۔ وہ کمپاؤڈر نکلا، شاہد نے افشاں کو گھر سے بھگایا اور کئی مہینے چھپا رہا۔۔۔۔ پھر لڑکی کے بھائیوں کے خوف سے نکاح کر لیا۔۔۔۔ ساجد اور، طاہر دونوں جیل کی کئی بار ہوا کھا چکے۔۔۔۔ مگر بری صرف میں۔۔۔۔ واہ یہ کیا انصاف۔۔۔۔ مجھے بھی آصف کے پاس رہنے دیا ہوتا تو وہ بھی مجھ سے شادی کر لیتا۔۔۔۔ بلکہ شادی ہی تو کی تھی اس نے۔۔۔۔ہم نے۔۔۔۔" اس نے خود ہی سر جھٹک کر تصحیح کی۔ وہ سیڑھیوں پر بیٹھی تنکے سے لکیریں کھینچ رہی تھی اور خود سے بولے جارہی تھی۔


کمرے کی کھڑکی سے افشاں نے دیکھا تو نفرت سے منہ پھیر لیا، "اسے پاگل خانے کیوں نہیں بھیج دیتے بھلا۔۔۔۔"



٭٭٭٭٭


"فوزیہ وہ جو اصفر رشتہ بتا رہا تھا شازیہ کیلئے اس کا کیا بنا۔۔۔۔" انیسہ بیگم نے بڑی لگاوٹ سے گھر آئی بیٹی کو مخاطب کیا۔


"امی بننا کیا تھا۔۔۔۔ کیا ہمارے شہر بدل لینے سے اس کے کرتوت چھپ جانے تھے۔۔۔۔ سب جانتا تھا ناصر۔۔۔ صاف جواب دے دیا۔" فوزیہ نے اپنی سونے کی چوڑیوں بھری کلائی بڑے تفاخر سے شازیہ کے سامنے لہرائی۔


"کیا ہیروئن کا نیا ٹھیکہ ملا تمھارے خاوند کو جو یہ چوڑیاں خریدی ہیں۔۔۔۔" شازیہ نے بہن پر چوٹ کی۔۔۔۔


"امی اسے سمجھا لیں۔۔۔۔ کس منہ سے بات کرتی ہے یہ۔۔۔۔ " غصے کی شدت سے اس کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔


" ویسے ہی منہ سے جیسا تمھیں اللہ نے دیا ہے ۔۔۔۔ کیوں کیا میں نہیں جانتی تمھارے کرتوت۔۔۔۔" شازیہ پھر سے فرش پر لکیریں کھینچنے میں مصروف ہو گئی اور ساتھ ہی خود کلامی میں۔۔۔۔۔


" ہائے برکت بھائی نے کتنی کوشش کی کہ خالد شازیہ سے شادی کر لے مگر۔۔۔۔یاد ہے تجھے کتنے پیار سے اسے اپنے ساتھ لیجاتے تھے۔۔۔۔ کئی کئی دن رکھتے تھے۔۔۔۔"



"اور میں کہتی ہوں کہ نہ برکت ماموں اسے برآمد کروانے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ، نہ ہی یہ آج ہمیں ذلیل کرنے کیلئے زندہ ہوتی۔۔۔۔"


"حق ہا ڈاکٹر الطاف اس کے غم میں دنیا سے چلے گئے، اور ایک اسے دیکھو کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔" انیسہ بیگم کو اپنے شدت غم سے رونے لگی تھیں۔



"ہاں میں تو جیسے خالد سے شادی کر لیتی ۔۔۔۔ اسی کی وجہ سے تو سب ہوا تھا۔۔۔۔ اسی کی وجہ سے تو میں گھر چھوڑ کر بھاگی تھی ۔۔۔۔ ماموں برکت نے بھی تو اپنے سپوت کے کرتوت چھپانے کیلئے مجھ سے اسکی شادی کا لارا لگایا تھا۔۔۔۔" وہ خود کلامی میں کئی سال پیچھے چلی گئی تھی مگر انیسہ بیگم اور فوزیہ کا خیال تھا کہ وہ بالکل پاگل ہو چکی ہے۔


" اب تو قصے کہانیاں بنانا بند کر دو ۔۔۔۔۔ بچپن سے تم ہم بات میں سے اپنا مطلب نکالتی تھیں اور ہم سب ہنس کر ٹال دیتے تھے کہ بچی ہو ۔۔۔۔۔ آصف کو خط تم نے لکھنے شروع کیے، گھر سے بھاگنے کا تم نے کہا ۔۔۔۔ سارے خط نکل آئے تھے تمھارے اس کے گھر سے ۔۔۔۔ جب خالد نے شادی سے انکار کیا تو تم نے اس پر الزام لگانے شروع کر دیئے ۔۔۔۔ شاہد نے صرف تماھاری وجہ سے چھپ کر شادی کی کیونکہ امی اسے تمھاری شادی سے پہلے شادی کی اجازت نہیں دے رہی تھیں ۔۔۔۔ تمھاری وجہ سے مجھ سے کوئی شادی نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔ اصفر کے ماں باپ بھی نہیں مانتے تھے تو امی کی اجازت سے ہم نے کورٹ میں شادی کر لی۔۔۔۔ طاہر اور ساجد کو یونیورسٹی کے ہنگاموں کی وجہ سے پولیس پکڑ کر لے گئی تو تم نے سارے جہاں میں دھوما دیا کہ وہ ڈاکے ڈالتے ہیں ۔۔۔۔ اور جنید بیچارا سیلز مین کی جاب کی وجہ سے راتوں کو باہر رہتا ہے تو تم نے اس کی کردار کشی شروع کر دی ۔۔۔۔ تمھاری آنکھوں پر تو گندگی کی پٹی بندھی ہے۔۔۔۔۔ تمھین سب کچھ اپنی طرح غلیظ لگتا ہے۔۔۔۔ تم ہماری جان چھوڑ کیوں نہیں دیتی۔۔۔۔۔" فوزیہ آج اپنی برداشت کھو بیتھی تھی۔


شازیہ حیران ہو کر کبھی ماں اور کبھی بہن کی شکل دیکھ رہی تھی " کمال ہے میں قصے کہانیاں بناتی تھی ۔۔۔۔ کسی نے مجھے بتایا ہی نہیں اتنے سال" وہ خود سے بڑ بڑائی۔۔۔۔ " مگر امی آپ کہاں تھیں ، اتنے سال جب میں نے پہلی بار یہ سب کرنا شروع کیا۔۔۔۔" شاید بہت سالوں بعد وہ اپنی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا میں واپس آئی تھی۔ " آپ نے مجھے کیوں نہیں روکا۔۔۔۔ آپ کہاں تھیں جب میں پھپھو کے خط آگے پہنچاتی تھی ۔۔۔۔ آپ کہاں تھیں جب اپنی ملاقاتوں پر مجھے بھی ساتھ لے جاتی تھیں ۔۔۔۔ یا پھر شاید وہ بھی جھوٹ ہے ۔۔۔۔ شاید وہ قصے بھی میں نے ہی گھڑے ہیں۔۔۔۔" اس نے خود کلامی کرتے ہوئے آخری بار ماں پر ایک گہری نظر ڈالی۔ انیسہ بیگم نے نظریں چرا لیں۔



٭٭٭٭٭


"ویسے اصفر مال تو اچھا ہے۔۔۔۔ سال دو تو نکال ہی جائے گی۔۔۔۔" ناصر نے سیگریٹ کا لمبا کش لگایا اور ساتھ ہی گلاس اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔


" ہاں یار کب سے فوزیہ بھی پیچھے لگی ہے۔۔۔۔ اور میں تو تجھے کب سے کہہ رہا ہوں کہ بس ایک نکاح کا خرچہ ہے، بعد میں تو اسے کسی نے پوچھنا بھی نہیں۔۔۔۔ پھر تو اسے چاہے تو مڈل ایسٹ پہنچا دے یا یورپ۔۔۔۔ ویسے بھی اگر کچھ ہو گیا تو گھر والے تو اسے پہلے ہی پاگل سمجھتے ہیں۔۔۔۔ یہ کہہ کر تو بھی جان چھڑا لینا۔۔۔۔"



" ارے مجھے تو لگتا ہے تیری اپنی بھی نیت خراب ہے۔۔۔۔" ناصر نے بڑے لوفرانہ انداز میں قہقہہ لگایا تھا۔ ساتھ میں اصفر کا قہقہہ بھی شامل ہو گیا تھا۔


اندر داخل ہوتی شازیہ دروازے میں ہی رک گئی تھی۔ حقیقت اور افسانہ سب گڈ مڈ ہو چکے تھے۔ پھر وہ اسی خاموشی سے واپس کار میں آکر بیٹھ گئی تھی۔ کچھ دیر وہ سوچتی رہی، پھر کار سڑک پر ڈال دی۔ اب اس کا رخ شہر سے باہر تھا۔ اور وہ آہستہ آہستہ بڑبڑا رہی تھی۔۔۔۔


" ماموں مجھے بیٹی بیٹی کہتے تھے ۔۔۔۔اپنے گھر لے جاتے تھے ۔۔۔۔اور ، اور وہ خالد مجھ سے گندی گندی باتیں کرتا تھا۔۔۔۔میں نے نہیں جانا امی ، میں نے نہیں جانا ماموں کے ساتھ۔۔۔۔" وہ حال سے ماضی میں جا چکی تھی اور کسی بچی کی طرح ہچکیاں لیکر بول رہی تھی۔


"امی مجھے نہیں جانا نا۔۔۔۔ امی آپ سنتی کیوں نہیں۔۔۔۔ یہ دیکھیں مجھے چاچے بشیر کے بیٹے نے یہ خط لکھا ہے۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا اس نے کیا لکھا ہے۔۔۔۔ امی یہ گندی باتیں ہیں نا۔۔۔۔ امی آپ یہ دیکھیں نا۔۔۔۔سوری امی میں نے آپکو نیند سے جگا دیا، مگر یہ خط ۔۔۔۔ اچھا میں تنگ نہیں کرتی مگر۔۔۔۔ فوزیہ باجی آپ میری بات سن لیں ۔۔۔۔ نہیں میں آپکی اور کشور کی باتیں نہیں سن رہی مگر پلیز آپ تو میری بات سن لیں۔۔۔۔" اس کی خود کلامی جاری تھی۔ کبھی اس کی آواز آٹھ دس سالہ بچی جیسی ہو جاتی اور کبھی وہ نوعمری کے دور میں چلی جاتی۔۔۔۔ آج وہ آخری بار اپنا دفاع کر رہی تھی۔۔۔۔ گاڑی اب شہر سے باہر آ چکی تھی۔۔۔۔۔۔


" پہلے خالد، پھر آصف۔۔۔۔ اور اب یہ ناصر اور اصفر۔۔۔۔ نہیں امی ، اب نہیں۔۔۔۔ اب میں آپکو تنگ نہیں کروں گی مگرآپ میری بات تو سن لیں نا۔۔۔۔ بس اب میں چلی گئی تو واپس نہیں آؤں گی ۔۔۔۔ امی میں آصف کے ساتھ بھی اسی لئے گئی تھی کیونکہ ماموں مجھے لینے آ رہے تھے۔۔۔۔ مجھے نہیں جانا تھا ان کے ساتھ ۔۔۔۔ مجھے نہیں جانا ناصر کے ساتھ ۔۔۔۔ مجھے نہیں جانا کہیں بھی ۔۔۔۔ بس امی آپ مجھے چھپا لو۔۔۔۔" اس کی خود کلامی میں تیزی آ گئی تھی اور گاڑی کی رفتار میں بھی۔۔۔۔ سامنے سے آتے ٹرک اور اسکی گاڑی میں فاصلہ بتدریج کم ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔


"نہیں امی شازیہ ابھی نہیں پہنچی۔۔۔۔ہاں میں گھر میں اکیلی ہی ہوں، اسی لئے تو اسے بلایا تھا۔ پتا نہیں کہاں رہ گئی ہے۔۔۔۔" فوزیہ نے جھنجھلا کر فون رکھ دیا۔

مہرین
16-03-2011, 03:42 AM
:(:(:(:(:(

جیا آپی
16-03-2011, 03:58 AM
اچھا لکھا ہے بس اداس سا ہے

Fozan
16-03-2011, 05:16 AM
اچھا کیا زیادہ سیڈ ہو گیا۔۔۔۔۔چلیں اگلے والا کم سیڈ لکھوں گی۔۔۔۔۔ان شاء اللہ

جیا آپی
16-03-2011, 05:38 AM
نہین سبق آموز ہے مگر تھوڑا اب جو لکھین وہ ہلکا پھلکا لکھیے گا پلیز۔۔

HarfeDua
16-03-2011, 07:39 AM
بہت اچھا لکھا ہے آمنہ جی۔ اور اس افسانے کی اچھی بات یہ ہے کہ معاشرے کی ایک غلط بات کی طرف توجہ دلانے کے علاوہ اس کا ریزن بھی دیا ہے۔ جن بچوں کو گھر میں انف اٹینشن نہ ملے پھر وہ باہر اٹینشن لینے کے لیے دوسروں پر ڈپینڈ کرنے لگتے ہیں۔
ویری نائس بس سیڈ اینڈنگ پر سیڈڈڈڈ ہوگئی۔ :(

کوثر بیگ
16-03-2011, 11:10 AM
ام فوزان بہن پڑھتے پڑھتے دل بھاری ہو چلا ہے ۔عورتوں کی بے بسی اور خود دوسری عورت کو نا سمجھنا اور بچوں کا ماحول کا اثر لینا سب ہی اچھے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ بہت اچھی تحریر ہے ۔

Abeer
16-03-2011, 02:41 PM
بہت اچھا لکھا ھے آمنہ آپی:) اور موضوع بہت ھی زبردست اور توجہ طلب ھےِ:)
کافی ڈیٹیل سے آپ نے سارے عوامل کا ذکر کیا ھے، واقعی ھم یہ تو سمجھ لیتے ھیں کہ کوئی بندہ برائی میں مبتلا ھو گیا یا بھٹک گیا:( مگر اس کے پیچھے کیا ریزن تھے یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتےِ
پر بہت زیادہ سیڈ اور دکھی سا تھا، دل عجیب سا ھو رھا ھے:(، مزید تبصرے کا بھی دل تھا مگر لکھا نہیں جا رھا لیکن یہ ھمارے معاشرے کی ھی حقیقتیں ھیںِ:(

IN Khan
17-03-2011, 10:02 AM
بہت خوب

انداز تحریر میں ہمیشہ کی طرح ایک بھرپور کاٹ تھی۔۔
معاشرے کے برے پہلو پر بہت اچھی طرح نشتر چلایا گیا۔۔

جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہو تو پھر ایسے حالات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔۔۔۔ بچے بڑوں سے ہی سیکھ لیتے ہیں۔۔۔
اسی لیے تو کہتے ہیں کہ خاندانی لوگ دنیا میں بہت کم کم رہ گئے ہیں۔۔۔

بہترین لیکن موضوع کی اعتبار سے بولڈ تحریر۔۔۔
لڑکیوں کی رضائیوں والی بات سے ایک اور پہلو سامنے لانے کی کوشش جو دیگر معاشروں میں تو عام ہی ہے۔۔۔ لیکن مشرقی معاشرے میں ابھی کامن نہیں۔۔
کچھ حقیقتیں پردہ اٹھانے سے اور زیادہ رسوا ہی ہوتی ہیں۔

Fozan
17-03-2011, 10:07 AM
بہت شکریہ عمران نیئر بھائی۔۔۔۔۔

بولڈ ہونا پڑا کہ مائیں اپنی گرہستی کے چکر میں بہت کچھ نظر انداز کرنے لگ گئی ہیں۔۔۔۔میڈیا بے حجاب ہو چکا ہے اور باہر کی دنیا کے رنگ ڈھنگ بھی بدل چکے ہیں۔۔۔۔ معصوم بچے لاعلمی میں بھی مار کھا جاتے ہیں۔۔۔۔ ماں باپ کو چوبیس گھنٹےآٓنکھیں کھلی رکھنی چاہئیں تاکہ بعد کے پچھتاوے نہ رہ جائیں۔۔۔۔۔

Hina Rizwan
17-03-2011, 10:55 AM
:(:(:(

اچھا لکھا ہے آپیا ہمیشہ کی طرح

Rubab
17-03-2011, 07:23 PM
اففففففففف۔۔ ۔۔۔۔ آمنہ سس!

اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ آمین۔

Noor-ul-Ain Sahira
18-03-2011, 01:52 AM
واللہ آمنــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــہ
حیرت کے سمندر میں میں غوطہ زن بلکہ ڈوبی ہوئی اسمائیلی
کیا یہ لکھنے کے لئے حوصلہ میم سے ادھار مانگا ھے ساتھ ساتھ~;d؟ ایک اکیلے بندے کے بس کی بات نہیں ہے نا;)۔

اتنا بھی سچ بولنا ٹھیک نہیں جی مگر باتیں ساری بڑی سچی اور کھری ہیں ان سے انکار نہیں اور لکھنے کا انداز اس سے بھی پرفیکٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویسے کان میں بتا دیجئے پلیز کون سے محلے کی کہانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں آوے کا آوا بگڑا ہے بلکہ چھوٹے سے بڑے تک سب ایک ہی راستے پر چل رہے ہیں:(۔

iram.dar
18-03-2011, 02:35 AM
buhat acha likha hai baji...yahain ka mahool itna karab hai ka mujhe sun kar shock lagta hai...:o Allah login ko hadaayat day...Ameen..