PDA

View Full Version : انسان ہونا ضروری نہیں از رضوان



1US-Writers
15-03-2011, 07:19 PM
انسان ہونا ضروری نہیں
از رضوان



دونوں اڑتے اڑتے تھک چکے تھے۔ جس گھر بھی جاتے وہاں سے اڑا دیئے جاتے۔ بہت پریشان تھے۔
"کیسا شہر ہے کہ کوئی اپنی کھڑکی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دے رہا۔" اڑتی ہوئی کبوتری نے اپنے کبوتر سے کہا۔


جون کی گرمی میں پیاس کی شدت سے دونوں بہت لاغر لگ رہے تھے۔ ان کو ایک جگہ کی تلاش تھی جہاں پر وہ اپنا چھوٹا سا گھونسلہ بنا سکیں۔ جہاں سے وہ اپنی اگلی نسل کو پیدا کر سکیں۔ باوجود کوشش کے اس شہر میں کوئی ایسی جگہ نہیں ملی تھی۔ لگتا تھا پورے شہر میں کوئی پرندوں سے پیار نہیں کرتا تھا۔


آخر اڑتے اڑتے وہ ایک بڑی سی عمارت کے پاس سے گزرے۔ پرانی اور بڑی عمارت جس کے اندر بہت سی ایسی جہگیں تھی جہاں وہ اپنا گھونسلہ بنا سکتے تھے ۔ پھر ایک کمرے کی کھڑکی کے پاس جس کی دو انٹیں اسطرح اکھڑی ہوئی تھی کہ اک کبوتر جوڑے کے لیے گھونسلہ بنانے کے لیے بہتریں تھی انہیں پسند آ گئی۔ لیکن دونوں کو ڈر تھا کہ یہ جگہ کھڑکی کے پاس ہے اگر یہاں پر گھونسلہ بنانے کی کوشش کی تھی پھر سے اڑا دیئے جائیں گے ۔ لیکن اب وقت نہیں تھا۔ کیونکہ کبوتری انڈے دینے اور سینے کے لئے بالکل تیار تھی۔


دونوں نے ایک دوسرے کو امید کی نظروں سے دیکھا اور اس جگہ جا بیٹھے ۔ ان کے پروں کی پھڑپھڑانے آواز سے ساتھ کی کھڑکی کھلی اور ایک خوبصورت سی لڑکی سر باہر نکال کر انکو دیکھنا شروع ہو گئ۔ وہ ڈر گئے کہ وہ بھی انہیں یہاں سے اڑا دے گی۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور وہ ان دونوں کو چند لمحے دیکھتی رہی اور چلی گئی۔ دونوں نے سکھ کا سانس لیا اور مسکراتے ہوئے ایک دوجے کو دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں یہ جگہ تو واقعی بہت اچھی ہے ۔


آج اس شہر میں ان کا پہلا دن تھا کچھ پتہ نہیں تھا کہاں سے جا کر پانی پئیں کہاں سے دانہ کھائیں ۔ اس لیے دونوں اپنی جگہ بیٹھے رہے۔ اب انکو کچھ دیر اور انتظار کرنا تھا اور دیکھنا تھا کہ اس کھڑکی والی لڑکی کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔ اگر کھڑکی والی لڑکی ان کو یہاں سے نہیں اڑاتی تو اسکا مطلب ہوا کہ اس کو وہاں گھونسلہ بنانے سے کوئی اعتراض نہیں۔


ایک بات جو اہم تھی وہاں وہ محفوظ تھے۔۔ چیلوں سے، بلیوں سے۔ اس لیے وہ مطمن تھے۔ دونوں کی دوپہر اور شام بھوکے پیاسے اسی امید پر گزری کہ کھڑکی والی لڑکی ان پر رحم کھائے گی اور یہاں سے نہیں اڑائے گی اسی کشمکش میں اندھیرا چھا گیا اور رات ہو گئی۔


اگلی صبح جب وہ اٹھے تو وہ بہت حیران ہوئے کہ وہی پیاری سی لڑکی انکے گھونسلہ بنانے والی جگہ کے قریب دو مٹی کے پیالے رکھ کر ایک میں پانی اور دوسرے میں گندم ڈال رہی تھی۔ اور پھر انکو مسکراہتی ہوئی نظروں سے دیکھتی ہوئی کھڑکی سے غائب ہو گئی۔ انکی بہت ڈھارس بندھی۔


اب تھا اصل کام۔۔ باغ سے خشک تنکے اٹھا کر انکا ایک گھونسلہ بنانا۔ کافی مشکل کام تھا۔ مگر دونوں ہی پرجوش تھے۔ دانہ کھانے اور پانی پینے کے بعد وہ تنکے ڈھونڈنے چلے گئے اور ایک ایک کر کے تنکے لاتے رہے اور رات تک ایک گھونسلہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔


شام کے کچھ دیر پہلے پھر کھڑکی والی لڑکی باہر آئی اور ان پیالوں میں تازہ پانی اور دانہ ڈال کر چلی گئی۔ کبوتر اور کبوتری بہت خوش تھے۔ کل جب وہ اس شہر میں داخل ہوئے تھے تو ان لگا تھا کہ شہر میں کوئی پرندوں سے پیار نہیں کرتا مگر اس لڑکی کے ردعمل کے بعد انکا ذہن بالکل تبدیل ہو چکا تھا۔


یوں وہ جوڑا اس عمارت میں رہائش پزیر ہو گیا۔بے شک یہ ایک آئیڈیل جگہ تھی ساتھ ہی بجلی کی تاریں تھی جہاں پر وہ جا کر بیٹھ سکتے تھے ۔


اک دن صبح کبوتری نے شرماتے ہوئے کبوتر کو بتایا کہ اس نے ایک عدد انڈہ دے دیا ہے۔ اور اب وہ کہیں باہر نہیں جائے گی بلکہ وہ اس انڈے کو سئیے گی۔ پھر ایک دن کے بعد دوبارہ کبوتری نے کبوتر کو بتایا کہ میں نے دوسرا انڈہ بھی دے دیا۔


دونوں کو باری باری ان کو سینا تھا 21 دن تک۔ وہ بہت خوش تھے انکی اگلی نسل دنیا میں آنے کو تیار تھی۔ کھڑکی والی خوبصورت لڑکی باقاعدگی سے انکو دانہ اور پانی دیتی کبھی کبھی انکو کافی دیر دیکھتی رہتی۔ اب اس جوڑے کو اس لڑکی سے ڈر نہیں لگتا تھا کبھی وہ اڑ کر کھڑکی کی منڈیر پر بھی بیٹھ جاتے اور وہ برا نہیں مناتی تھی۔


پھر اکیس دن کے بعد انکے انڈوں سے دو چھوٹے چھوٹے سے بچے نکلے وہ دونوں بہت خوش ہوئے۔ ان کو دانے ڈھونڈنے اور پانی پینے کے لیے کہیں جانا نہیں پڑتا تھا۔ خاص کر اب جب ان پر دو بچوں کی ذمہ داری بھی تھی ۔


اور اس سے زیادہ وہ اس کھڑکی والی لڑکی کے احسان مند تھے کہ جس نے انکا بہت خیال رکھا۔ انکے بچے اب خود سے دانہ کھانے کے قابل ہو گئے تھے۔


ساون شروع ہو تو بارشوں میں پرندوں کے گھونسلے ویسے ہی بہہ جاتے ہیں ۔ مگر ساون شروع ہونے سے پہلے لڑکی نے پلاسٹک کا ایک بڑا ٹکڑا لا کر انکے گھونسلے کے اوپر لگا دیا جہاں سے ساون کی بارشں انکو نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔ وہ بہت خوش تھے ۔


کبھی وہ سوچنے کہ کیسے اس لڑکی کا احسان اتاریں گئے اس جوڑے کو لڑکی سے اتنی انسیت ہو گئی تھی کہ جس دن لڑکی کھڑکی پر نظر نہیں آتی دونوں کو فکر ہوتی۔ دونوں اسکی سلامتی کے لیے دعا کرتے۔



اک صبح تیز بارش اور آندھی چلنے سے بجلی کی تار ٹوٹ کر عین کھڑکی پر آ گری جہاں سے لڑکی انکو دیکھا کرتی تھی ۔اور کھڑکی میں کرنٹ آگیا۔ دونوں نے جب دیکھا تو وہ بہت پریشان ہوئے کہیں لڑکی کھڑکی کے پاس نہ آجائے۔ اور اسکو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے ۔


پھر اچانک لڑکی کھڑکی کی طرف آتی دیکھائی دی ۔دونوں بے بس تھے اسکو روک نہیں سکتے تھے۔لڑکی کو کھڑکی کی طرف آتا دیکھ کر کبوتری کے ذہن میں نجانے کیا آیا وہ اڑی اور لڑکی کی طرف گئی جیسے اسکو کھڑکی کی طرف جانے سے روک رہی ہو۔


لڑکی کی سمجھ نہیں آئی اور کبوتری کو جھٹک دیا ۔ کبوتری پھر اڑتی ہوئی دوبارہ اس کی طرف آئی اس دفعہ لڑکی نے کبوتری کو زور سے جھٹکا اور کبوتری اڑتی ہوئی چلتے ہوئے پنکھے میں لگی اور لہو لہان ہو گئی اور تڑپ تڑپ کر اپنی جان دے دی ۔


لڑکی کچھ دیر دیکھتی رہی جیسے اسکو کبوتری کے اسطرح مرنے پر افسوس ہوا ہو۔ اور دوبارہ پھر وہ کھڑکی کی طرف بڑھ گئی ۔ اب کبوتر کی باری تھی کہ وہ کیسے لڑکی کو کھڑکی تک پہنچے سے روکے جس میں کرنٹ تھا۔ اسکو کچھ اور نہیں سوجا تو وہ اڑتا ہوا کھڑکی پر بیٹھ گیا اور منٹوں میں کرنٹ سے جل کر راکھ ہو گیا ۔


یہ دیکھ کر لڑکی ایک لمحے کو روک گئی اور اب اسکو احساس ہوا کہ کیوں یہ جوڑا ا سکو کھڑکی تک پہنچے سے روک رہا تھا۔ بے اختیار اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ محبت کرنے کے لیے انسان ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر وہ آج زندہ تھی تو اسی جوڑے کی بدولت تھی جن کو روزانہ دانہ اور پانی ڈالتی تھی اور آج انہوں نے اس کا حق ادا کردیا تھا۔


اب کمرے میں دو لاشے تھے اک خون سے لہولہان اور دوسرا جل کر راکھ ۔دونوں نے اس لڑکی کی محبت اور ان پر کیے گئے احسان کو اتارنے کے لیے اپنی جان دے کر ثابت کر دیا تھا کہ محبت کرنا اور اس کی خاطر جان دینا صرف انسانوں کی خاصیت نہیں ہے۔

کوثر بیگ
16-03-2011, 11:57 AM
بہت ہی اعلٰی انداز و خیال ا ور نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہوتا ہے بہت اچھا مسیج ۔ شروع کی آدھی کہانی تو مجھے اپنی بیٹی پر لکھی گئی لگی کیونکہ ُاس کو آج کل یہ ہی ایک مشغلہ لگا ہوا ہے ۔مجھے بیڈ روم کی کھڑکی کھولنے اور دیکھنے تک نہیں دیتی کہتی ہے آپ کو دیکھکر چڑیا اڑ جایگی ۔ خیر بہت اچھا لکھا رضوان بھائی

Rizwan
16-03-2011, 01:48 PM
بہت شکریہ کوثر آپی آپ کے کمنٹس میرے لیے اعزاز کی طرح ہیں۔

جیتی رہیں

Abeer
16-03-2011, 02:27 PM
بہت اچھا لکھا ھے اور موضوع بھی کافی ڈیفرینٹ ھےِ:):)
ایسی سچوئیشن ھمارے گھر میں بہت ھوتی ھے، ہر گرمیوں میں اس طرح کے چڑیوں اور کبوتروں کے کپلز باہر ٹیوب لائٹ کے پاس اور اے-سی والی جگہ پر گھونسلہ بنا لیتے ھیں اور میں بھی انہیں یوں ھی دیکھتی ھوںِ;)

ویسے یہ بات صحیح ھے کہ جانوروں کو بھی پہچان ھو جاتی ھے انسان کی اور وہ بھی کافی پیار کرتے ھیںِ:)

Ahmed Lone
16-03-2011, 02:57 PM
ارے واہ

رضوان بھائی

پڑھ کر اندازہ ہوا کہ افسانہ کسے کہتے ہیں

بہت زبردست

Rizwan
16-03-2011, 06:10 PM
بہت اچھا لکھا ھے اور موضوع بھی کافی ڈیفرینٹ ھےِ:):)
ایسی سچوئیشن ھمارے گھر میں بہت ھوتی ھے، ہر گرمیوں میں اس طرح کے چڑیوں اور کبوتروں کے کپلز باہر ٹیوب لائٹ کے پاس اور اے-سی والی جگہ پر گھونسلہ بنا لیتے ھیں اور میں بھی انہیں یوں ھی دیکھتی ھوںِ;)

ویسے یہ بات صحیح ھے کہ جانوروں کو بھی پہچان ھو جاتی ھے انسان کی اور وہ بھی کافی پیار کرتے ھیںِ:)


پسندیدگی کا بہت شکریہ عبیر

آپ نے درست فرمایا میں نے بھی بالکل ایسے ہی ان پرندوں کو گھروں میں گھونسلہ بناتے دیکھ کر آئیڈیا لیا اور پھر یہ افسانہ لکھا ہے۔

Rizwan
16-03-2011, 06:11 PM
ارے واہ

رضوان بھائی
پڑھ کر اندازہ ہوا کہ افسانہ کسے کہتے ہیں
بہت زبردست




پسند کرنے کا بہت شکریہ احمد بھائی

Arain
16-03-2011, 06:59 PM
:) بہت ہی عمدہ رضوان بھائی ۔

پڑھ تو موبائل سے ہی لیا تھا لیکن کمنٹ ابھی کیا کہ صرف اس افسانے پر بہت اچھا سا لکھ کر چلے جانا صحیح نہیں تھا۔

پڑھ کر بہت ہی اچھا لگا۔ اگر سمجھا جائے تو بہت ہی اچھا میسج دیا آپ نے اس افسانے سے۔ بہت ہی اچھوتا ٹاپک اور بہت ہی زبردست لکھا۔

لکھتے رہیے

شکریہ

Rizwan
16-03-2011, 10:04 PM
:) بہت ہی عمدہ رضوان بھائی ۔

پڑھ تو موبائل سے ہی لیا تھا لیکن کمنٹ ابھی کیا کہ صرف اس افسانے پر بہت اچھا سا لکھ کر چلے جانا صحیح نہیں تھا۔

پڑھ کر بہت ہی اچھا لگا۔ اگر سمجھا جائے تو بہت ہی اچھا میسج دیا آپ نے اس افسانے سے۔ بہت ہی اچھوتا ٹاپک اور بہت ہی زبردست لکھا۔

لکھتے رہیے

شکریہ


بہت شکریہ اشرف بھائی

Sajjad_Sarwar
17-03-2011, 12:57 AM
رضوان بھائی بہت اچھا لگا ۔ اس سے ایک آئیڈیا ذہن میں آتا ھے کہ کیوں نا ہم بھی اپنے گھر باھری دیوار کے ساتھ ایک اچھا سا لکڑی گھونسلا ٹائپ گھر بنائیں کوئی پرندہ اسے اپنا گھر بنائے یوں خوبصورتی بھی لگے گی۔

Hina Rizwan
17-03-2011, 11:03 AM
بہت ہی اچھا لکھا ہے آپ نے رضوان بھائی
ایک دم زبردست
لیکن مجھے کبوتر اور کبوتری کے مرنے پر بہت افسوس ہوا:(

Rizwan
17-03-2011, 01:12 PM
رضوان بھائی بہت اچھا لگا ۔ اس سے ایک آئیڈیا ذہن میں آتا ھے کہ کیوں نا ہم بھی اپنے گھر باھری دیوار کے ساتھ ایک اچھا سا لکڑی گھونسلا ٹائپ گھر بنائیں کوئی پرندہ اسے اپنا گھر بنائے یوں خوبصورتی بھی لگے گی۔


بہت شکریہ پسندیدگی کا سجاد بھائی آئیڈیا تو برا نہیں ہے ۔

مگر پرندوں کی اک اپنی فطرت ہوتی ہے ۔ بہت کم پرندے ایسے ہوتے ہیں جو انسانوں کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے گھونسلوں میں رہتے ہیں ۔

خاص کر آزاد فضاؤں میں اڑنے والے پرندے تو اپنے گھونسلے اور جگہ کا انتخاب خود کرتے ہیں۔

Rizwan
17-03-2011, 01:15 PM
بہت ہی اچھا لکھا ہے آپ نے رضوان بھائی
ایک دم زبردست
لیکن مجھے کبوتر اور کبوتری کے مرنے پر بہت افسوس ہوا:(


بہت شکریہ پسندیدگی کا حنا سسڑ

اس کے علاوہ اور کیا اینڈ کرتا ~:(۔

ایک چیز جو افسانے میں پہلے لکھی تھی پھر بعد میں حذف کر لی کہ جوڑا تو اپنی جان دے کر احسان کا حق اتار گیا۔

مگر ان کا گھونسلہ ویسے ہی تھا جس میں اک نئ نسل اس قابل ہو چکی تھی کہ وہ دوبارہ اس گھونسلہ کو آباد رکھ سکے اور یہ سلسہ روکا نہیں تھا۔

Aamir Jahan
17-03-2011, 01:17 PM
بہت عمدہ رضوان بھائی ۔

Aamir Jahan
17-03-2011, 01:20 PM
بہت شکریہ پسندیدگی کا حنا سسڑ

اس کے علاوہ اور کیا اینڈ کرتا ~:(۔

ایک چیز جو افسانے میں پہلے لکھی تھی پھر بعد میں حذف کر لی کہ جوڑا تو اپنی جان دے کر احسان کا حق اتار گیا۔

مگر ان کا گھونسلہ ویسے ہی تھا جس میں اک نئ نسل اس قابل ہو چکی تھی کہ وہ دوبارہ اس گھونسلہ کو آباد رکھ سکے اور یہ سلسہ روکا نہیں تھا۔

رضی بھائی۔ یہ لاسٹ لائنز بھی ایڈ کر لیتے آپ۔ یہ بھی اچھی لگی تھیں مجھے

Rizwan
17-03-2011, 01:24 PM
رضی بھائی۔ یہ لاسٹ لائنز بھی ایڈ کر لیتے آپ۔ یہ بھی اچھی لگی تھیں مجھے



بہت شکریہ عامر بھائی پسندیدگی کا۔

الفاظ تو مجھے بھی پسند تھے ۔

مگر چونکہ یہ اک افسانہ تھا اور اس نے اسی کرداروں کے بیچ میں رہ کر ہی ختم ہونا تھا اس لیے اگلا سلسہ ایڈ نہیں کیا۔

Ghazala Karamat
17-03-2011, 01:26 PM
بہت عمدہ رضوان بھائی

Fatima Noor
17-03-2011, 02:20 PM
بہت ہی عمدہ کہانی اور بہت ہی عمدہ میسج۔۔۔۔۔۔۔
کہانی پڑھ کر رونا آگیا۔۔۔۔
لیکن بہت ہی اچھی کہانی لکھی ہے رضوان بھائی۔۔
لکھتے رہیے

IN Khan
17-03-2011, 02:46 PM
بہت عمدہ رضی
انسانوں کے علاوہ کسی اور کو موضوع بنا کر لکھنا تو بہت ہی منفرد بات ہے۔۔ اور پھر کبوتروں کے احساسات کو جس طرح بیان کیا۔۔ لگتا ہے کہ بچپن میں ضرور کبوتر بازی کی ہو گی۔;)۔۔
اچھا لگا پڑھ کر۔۔ خاص طور پر جب کبوتری نے شرماتے ہوئے کبوتر کو انڈہ دینے کی بات کی تو پتا چلا کہ پرندوں میں ابھی یہ صفت باقی ہے جو انسانوں میں سے رخصت ہوتی جا رہی ہے۔۔
پیار کا بدلہ پیار ہی ہے۔۔
بہت پیارا مسیج ملا۔

Amir Shahzad
17-03-2011, 02:49 PM
buhat hi khubsurat tahreer hai

MASHALLAH

Rizwan
17-03-2011, 03:03 PM
بہت عمدہ رضوان بھائی

بہت شکریہ پسندیدگی کا غزالہ سسڑ



بہت ہی عمدہ کہانی اور بہت ہی عمدہ میسج۔۔۔۔۔۔۔
کہانی پڑھ کر رونا آگیا۔۔۔۔
لیکن بہت ہی اچھی کہانی لکھی ہے رضوان بھائی۔۔
لکھتے رہیے



تحریر پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ اجالا سسڑ

Rizwan
17-03-2011, 03:08 PM
بہت عمدہ رضی
انسانوں کے علاوہ کسی اور کو موضوع بنا کر لکھنا تو بہت ہی منفرد بات ہے۔۔ اور پھر کبوتروں کے احساسات کو جس طرح بیان کیا۔۔ لگتا ہے کہ بچپن میں ضرور کبوتر بازی کی ہو گی۔;)۔۔
اچھا لگا پڑھ کر۔۔ خاص طور پر جب کبوتری نے شرماتے ہوئے کبوتر کو انڈہ دینے کی بات کی تو پتا چلا کہ پرندوں میں ابھی یہ صفت باقی ہے جو انسانوں میں سے رخصت ہوتی جا رہی ہے۔۔
پیار کا بدلہ پیار ہی ہے۔۔
بہت پیارا مسیج ملا۔



ارے عمران بھائی صرف تحریر پڑھ کر آپ نے میرے شوق کا پتہ چلا لیا بہت خوب۔

کہانی میں خاص کر کبوتروں کو چننا صرف ایسے لیے تھا کہ میں نے بچپن میں گھر میں بہت کبوتر رکھے ہوئے تھے ۔ اڑنے والے نہیں دوسرے جو موٹے موٹے اور بڑے خوبصورت رنگوں میں ہوتے ہیں۔(لکے)

اور ان سے مجھے خاص لگاؤ ہے کیونکہ وہ مجھے بہت محبت کرتے تھے ۔ کبھی میرے کندھے پر آ کر بیٹھ جاتے تھے کبھی ہاتھوں پہ آ کر دانہ کھاتے تھے ۔

پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ بھائی آپ کے کمنٹ ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں:) ۔

جیتے رہیں

Rizwan
17-03-2011, 03:09 PM
buhat hi khubsurat tahreer hai

MASHALLAH

تحریر پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ عامر بھائی

روزبیہ خواجہ
17-03-2011, 03:12 PM
بہت عمدہ لکھا ہے رضوان بھائی۔

Rizwan
17-03-2011, 03:59 PM
بہت عمدہ لکھا ہے رضوان بھائی۔


پسندیدگی کا بہت شکریہ روز سسڑ

Parishay
17-03-2011, 04:59 PM
veeeeeeeeeery nice sharing. Rizwan bhai itna payara likha hai k explain nai kr sakti. realy bht zbrdst.

NaimaAsif
17-03-2011, 05:35 PM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے رضوان بھائی۔ بہت خوب۔
محبت، ایثار، قربانی،اور احسان جیسی صفات صرف انسانیت کی جاگیر نہیں۔ اچھے انداز میں ایک بہت خوبصورت میسج دیا گیا افسانے میں۔
البتہ اگر آپ افسانے کے عنوان پر تھوڑی محنت کرتے تو اس سے کہیں بہترین عنوان منتخب کر سکتے تھے۔ اگلی مرتبہ اس پہلو پر بھی غور کیجیے گا۔
کیپ رائٹنگ۔:)

Rubab
17-03-2011, 07:07 PM
ویری نائس رضوان بھائی۔

بہت عمدہ خیال پیش کیا ہے آپ نے۔ آپ کی مقابلے میں لکھی ہوئی کہانی بھی بہت اچھی تھی۔

Noor-ul-Ain Sahira
17-03-2011, 07:15 PM
بہت اچھا خیال اور خوبصورت انداز تحریر

Rizwan
20-03-2011, 12:17 AM
veeeeeeeeeery nice sharing. Rizwan bhai itna payara likha hai k explain nai kr sakti. realy bht zbrdst.


بہت اچھا افسانہ لکھا ہے رضوان بھائی۔ بہت خوب۔
محبت، ایثار، قربانی،اور احسان جیسی صفات صرف انسانیت کی جاگیر نہیں۔ اچھے انداز میں ایک بہت خوبصورت میسج دیا گیا افسانے میں۔
البتہ اگر آپ افسانے کے عنوان پر تھوڑی محنت کرتے تو اس سے کہیں بہترین عنوان منتخب کر سکتے تھے۔ اگلی مرتبہ اس پہلو پر بھی غور کیجیے گا۔
کیپ رائٹنگ۔:)


ویری نائس رضوان بھائی۔

بہت عمدہ خیال پیش کیا ہے آپ نے۔ آپ کی مقابلے میں لکھی ہوئی کہانی بھی بہت اچھی تھی۔


بہت اچھا خیال اور خوبصورت انداز تحریر


آپ سب کا تحریر پسند کا بہت شکریہ