PDA

View Full Version : قصہ مختصر از سحرآزاد



1US-Writers
15-03-2011, 07:19 PM
قصہ مختصر
از سحرآزاد

وسط جون کی سخت گرمی کے دنوں میں سیاہ تارکول والی لمبی سی سڑک پر دو موٹر سائیکلوں پر بیٹھے چار نوجوان سرعت سے بڑھے چلے جار ہے تھے۔ سڑک کی اطراف میں سفیدے، کیکر اور ٹاہلی کے لمبے اور گھنے درخت ہونے کی وجہ سے دھوپ براہ راست سڑک پر حملہ آور نہیں ہو سکتی تھی اس لیے درختوں کے درمیان موجود چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے چھن چھن کر سڑک کو کافی حد تک روشن کر رہی تھی۔


’’زیادہ درد تو نہیں ہو رہا شہزاد۔‘‘ عامر نے گردن موڑ کر پیچھے بیٹھے اپنے دوست کو پوچھا جس کے پاؤں میں پٹی بندھی ہوئی تھی۔


’’نہیں ہو رہا یار۔ بس جہاں سے کھڈے شروع ہو جائیں ہوں وہاں سے موٹرسائیکل آہستہ کر لینا۔ جھٹکا لگنے سے درد ہوتا ہے۔


ویسے یار۔ تم لوگوں کا بہت بہت شکریہ جو مجھے چھوڑنے اتنے دور تک آرہے ہو۔‘‘ شہزاد نے ممنون سی آواز میں کہا۔


’’کوئی بات نہیں یار۔ حادثہ کسی کے بھی ساتھ ہو سکتا ہے اور ایک دوسرے کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے۔ ویسے بھی یہ شاہد اور باسط تمہیں چھوڑنے تھوڑا ہی جا رہے ہیں یہ تو گاؤں دیکھنے کے شوق میں جا رہے ہیں۔‘‘ عامر نے جواب دیا۔
’’اگر ہم خوش ہیں تو تم کیوں سڑیل طوطے جیسا منہ بنا رہے ہو۔‘‘ باسط نے قہقہ لگا کر میری بات کا جواب دیا تھا۔


’’یہاں سے دائیں لے لو‘‘ عامر نے باسط کی بات کا جواب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ شہزاد کی آواز سنائی دی۔ ’’بس اب تھوڑا سا ہی راستہ باقی ہے۔ گاؤں پہنچے میں۔‘‘


تقریباً پانچ منٹ تک ٹوٹی پھوٹی سڑک کے بعد ایک وسیع اور ہموار مگر کچا راستہ شروع ہو گیا۔ اس راستے کے ساتھ ہی گاؤں کے کھلے، کشادہ مگر کچے اور بے ترتیب سے مکان شروع ہو گئے۔ جن کے باہر بنے ہوئے چھوٹے سے برآمدے ٹائپ ایریا میں جانور بندھے ہوئے تھے اور اکثر مکانوں کی بیرونی دیواروں پر بھینس کے گوبر کے اپلے لگے ہوئے تھے۔ کہیں کہیں کسی مکان پر سفیدی کرکے کسی نامی گرامی حکیم کے دعوے دار اشتہار بھی پینٹ کیے گئے تھے۔ چند گلیاں گھومنے کے بعد وہ لوگ شہزاد کے اسی طرز پر بنے دیہاتی مکان کے سامنے تھے۔
یہاں شاید شہر کی طرح دروازوں پر تالے لگانے اور دستک دینے کا رواج نہیں تھا اس لیے دروازہ کھلا ہوا ملا۔ شہزاد نے سہارے سے اتر کر ہمیں موٹر سائیکلیں گھر کے اندر لانے کے لیے کہا۔


دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے ایک وسیع وعریض صحن دیکھا۔ جس کے ایک حصے میں کیاریاں بنا کر پودینہ، لہسن اور پیاز لگائے گئے تھے۔ اس سے تھوڑا پرے بنا چھت کے چھوٹی سی چاردیواری بنا کر تندور نصب کیا ہو اتھا اس چار دیواری پر ایک پتلا سا کپڑا ڈال کر دھوپ روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت تندور کو لوہے کی ایک ٹوکری سے بند کر کے اس سے اوپر اینٹ (پتہ نہیں کیوں) رکھی ہوئی تھی۔


ابھی وہ صحن کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ اندر سے اپنے ہاتھوں میں بڑی سی ٹرائے اٹھائے جس میں تابنے کے بڑے بڑے گلاس اور لسی کا ایک بڑا سا جگ تھا شہزاد کی امی آتی دیکھائی دی۔ اندر آتے ہی انہوں نے بڑے پیارے سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرے۔ لسی پیش کی اور شہزاد کو گاؤں تک پہنچانے کا شکریہ ادا کیا۔ اور پھر ان کی ڈیٹلیز طلب کر لی کہ کہاں سے ہیں، والدین کیا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔


تقریباً آدھا گھنٹہ بیٹھنے کے بعد انہوں نے اجازت طلب کی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ شہزاد کی امی نے کھانے کے لیے اصرار کیا لیکن انہوں نے راستے کی خرابی اورامن عامہ کا مسئلہ بتا کر اجازت لی اور وہاں سے نکل پڑے۔ شہزاد نے اپنے چھوٹے بھائی ریحان کو ہمارے ساتھ کر دیا کہ گاؤں سے باہر پہنچا آئے۔


انہوں نے گاؤں سے باہر جانے کے لیے ریحان سے دوسرے راستے کی فرمائش کی تاکہ نئی جگہوں کے بارے میں جاننے کی کھوجی طبیعت کو بھی خوش کیا جا سکے تو ریحان انہیں گاؤں کے دوسری طرف والے راستے کی طرف لے گیا۔


گاؤں سے نکلتے ہی ایک قبرستان تھا جو کہ گاؤں کی چار، پانچ ہزار کی آبادی کے لیے کافی وسیع معلوم ہوتا تھا۔ اس قبرستان کے ساتھ ایک جنازہ گاہ کم مسجد تھی۔ جس میں اس وقت کسی کا جنازہ پڑھنے کے لیے کافی زیادہ لوگ جمع تھے۔ وہ بھی وضو کر کے جنازے کی نماز کے لیے انتظار کرنے لگے۔


میت رکھی جا چکی تھی۔ کافی لوگ بھی جمع تھے۔ پھر بھی پتہ نہیں کیوں جنازے میں تاخیر ہو رہی تھی۔ عامر نے ریحان سے کہا کہ جا کر معاملہ معلوم کرو ہم نے واپس بھی جانا ہے۔ اگر زیادہ وقت لگے گا تو ہم چلے جائیں گے۔ ورنہ جنازہ پڑھ کر ہی جائیں گے۔


ریحان مجمع میں موجود اپنی عمر کے چند لڑکوں کی طرف بڑھ گیا۔ اور تھوڑی دیر تیز تیز قدموں سے چلتا واپس آگیا۔


’’بھائی جی! آپ چلے جائیں یہاں دیر لگنے والی ہے۔ دراصل ہمارے مولوی صاحب کی وفات ہو گئی ہے۔ اور پہلے گاؤں کے سارے جنازے وہی پڑھایا کرتے تھے۔ اور ان کا بیٹا بھی ابھی بہت چھوٹا ہے۔ اس لیے وہ بھی نماز جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔ اب یہاں سے چند کلومیٹر پر واقع ایک اور گاؤں میں بندے بھیجے ہیں جو وہاں کی مسجد سے مولوی صاحب کو جنازہ پڑھنے کے لیے لا رہے ہیں۔ان کے آنے میں کافی دیر لگے گی۔ اور آپ کو جاتے ہوئے اندھیرا ہو جائے گا۔ اس لیے آپ چلے جائیں۔‘‘ ریحان نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا۔اور ان لوگوں کا منہ حیرت سے کھل گیا۔


‘‘یار! ایک بات تو بتاؤ۔‘‘ باسط نے پوچھا۔’’کیا تمہارے پورے گاؤں میں دوسرا کوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو کہ نماز جنازہ پڑھا سکے۔ یعنی مولوی صاحب کے بیمار ہو جانے پر یا کہیں شادی بیاہ پر جانے کے بعد آپ لوگ کیا کرتے تھے۔‘‘


’‘ بھائی جی! کیسی باتیں کرتے ہیں۔ جنازہ پڑھانا، امامت کروانا، ختم دلوانا، نومولود کے کان میں آزان دینا یہ سب مولوی صاحب کے کام ہیں۔ کوئی دوسرا کیسے کر سکتا ہے۔ مولوی صاحب جب کسی تقریب وغیرہ میں جاتے تھے تو شہر میں بڑے مدرسے سے کسی نہ کسی کو یہاں پر متعین کر ہی جاتے تھے۔ لیکن اب جس سفر پر مولودی صاحب گئے ہیں ایسا سفر ہے کہ کسی کو پیشگی خبر نہیں ہوتی۔‘‘ ریحان بہت حیران و پریشان تھا۔اور شاید اکتایا ہوا بھی اسی لیے بولا کہ۔


’’بھائی جی! دوسرے مولوی صاحب کے آنے میں ایک دو گھنٹہ باقی ہے۔ بعد میں راستے کا آپ کو پتہ ہی ہے کہ اندھیرا پھیلتے ہی کتنا خطرناک ہو جاتا ہے‘‘


’’کیا ہم میں سے کوئی جنازہ پڑھوا دے۔؟‘‘باسط نے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کیا۔


اب منہ کھلنے کی بارے ریحان کی تھی۔


’’اوہ نہیں بھائی جی۔ یہاں کوئی اجازت نہیں دے گا۔‘‘


’’لیکن ایک بار پوچھ تو لیتے ہیں۔‘‘ اس بار شاہد نے بھی اصرار کیا۔


‘‘نہیں بھائی جان! اب تو مولوی صاحب کو فون کیا جا چکا ہے اور ویسے اگر انہیں نہ بھی بلایا جاتا تو مجھے نہیں یقین کہ کوئی بھی مولودی صاحب کے علاوہ کسی کو جنازہ پڑھانے کی اجازت دیتا۔‘‘


ہم نے اس کو سلام کر کے اجازت لی۔
اور ایک کفن میں لپٹی لاش کو اپنے جنازہ گر کے انتظار میں چھوڑ کر وہاں سے چلے آئے

Lubna Khan
16-03-2011, 03:03 AM
achi tahreer hy

جیا آپی
16-03-2011, 05:40 AM
اچھا لکھا ہے۔

Fozan
16-03-2011, 05:51 AM
ہمیشہ کی طرح ہمارے رسم و رواج کی تلخی لئے ہوئے ایک بہترین تحریر۔۔۔۔ خوش رہیں

Saima
16-03-2011, 09:37 AM
very nice

IN Khan
17-03-2011, 03:11 PM
تحریر تو بہت اچھی ہے احسان میاں ۔۔
لیکن۔۔۔۔
اففففففففففففففففففف۔۔۔
پھر سے وہی مولوی کی گردان؟؟؟
اب اس میں قصور مولوی کا ہے یا گاؤں کے دوسرے افراد کا۔۔
مولوی بےچارہ تو پہلے ہی مار دیا احسان میاں نے۔۔۔

Amir Shahzad
17-03-2011, 03:40 PM
تحریر تو بہت اچھی ہے احسان میاں ۔۔
لیکن۔۔۔۔
اففففففففففففففففففف۔۔۔
پھر سے وہی مولوی کی گردان؟؟؟
اب اس میں قصور مولوی کا ہے یا گاؤں کے دوسرے افراد کا۔۔
مولوی بےچارہ تو پہلے ہی مار دیا احسان میاں نے۔۔۔
LOLZZ

mujhe tu lagta hai kay Ehsan nay bachpan main kisi molvi say bari mar khaye hai jo bhool nahi pa raha

Frasool
17-03-2011, 05:40 PM
bohat acha likha hai, gaon ko dikhia bi bilkul waisa hi hai jaisa gaon hota hai.

aur gaon kay loge waqi molwi par aisa hi depend karty hai.

*Maham*
17-03-2011, 06:43 PM
مین تھیم اچھا تھا۔۔ پر لکھنے کا انداز تھوڑا عجیب سا
پہلے مجھے لگ رہا تھا کہ آپ قاری کی صورت کہانی کیطرح بتا رہے ہو۔۔ بعد میں ایسا لگاکہ آپ بھی ان چاروں میں موجود ہیں۔۔
اینی ویز
اچھا لکھا ہے۔۔

Noor-ul-Ain Sahira
17-03-2011, 07:09 PM
السلام علیکم
مجھے عموماً آزاد سحر کی تحاریر اچھی لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔شاید پہلی بار کچھ کنفیوز سی ہو گئی ہوں۔۔۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا کیا لکھا ہے؟
کہانی یا افسانہ۔ کالم یا مضمون:o؟
چاروں کا مکسچر معلوم ہوتا ہے۔




قصہ مختصر

از سحرآزاد

دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے ایک وسیع وعریض صحن دیکھا۔ جس کے ایک حصے میں کیاریاں بنا کر پودینہ، لہسن اور پیاز لگائے گئے تھے۔ اس سے تھوڑا پرے بنا چھت کے چھوٹی سی چاردیواری بنا کر تندور نصب کیا ہو اتھا اس چار دیواری پر ایک پتلا سا کپڑا ڈال کر دھوپ روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت تندور کو لوہے کی ایک ٹوکری سے بند کر کے اس سے اوپر اینٹ (پتہ نہیں کیوں) (یہ بہت ہی زیادہ عجیب لگ رہا ہے ایسے لکھنا۔ اسکی بجائے فیلینگز کے ساتھ لکھا جا سکتا تھا کہ کسی کی سمجھ نہیں آرہا تھا وہاں اینٹ کیوں رکھی ہے وغیرہ وغیرہ)رکھی ہوئی تھی۔





ابھی وہ صحن کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ اندر سے اپنے ہاتھوں میں بڑی سی ٹرائے اٹھائے جس میں تابنے کے بڑے بڑے گلاس اور لسی کا ایک بڑا سا جگ تھا شہزاد کی امی آتی دیکھائی دی۔ اندر آتے ہی انہوں نے بڑے پیارے سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرے۔ لسی پیش کی اور شہزاد کو گاؤں تک پہنچانے کا شکریہ ادا کیا۔ اور پھر ان کی ڈیٹلیز طلب کر لی( گاؤں کی عورت نے طلب کی ؟وہ بھی ڈیٹیلز:o۔۔۔ ہممممم یقین نہیں آ رہا بالکل بھی اور نا ہی سچوئیشین سے میچ ہو رہا ہے) کہ کہاں سے ہیں، والدین کیا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

میت رکھی جا چکی تھی۔ کافی لوگ بھی جمع تھے۔ پھر بھی پتہ نہیں کیوں جنازے میں تاخیر ہو رہی تھی۔ عامر نے ریحان سے کہا کہ جا کر معاملہ معلوم کرو ہم نے واپس بھی جانا ہے۔ اگر زیادہ وقت لگے گا تو ہم چلے جائیں گے۔ ورنہ جنازہ پڑھ کر ہی جائیں گے۔





ریحان مجمع میں موجود اپنی عمر کے چند لڑکوں کی طرف بڑھ گیا۔ اور تھوڑی دیر تیز تیز قدموں سے چلتا واپس آگیا۔




’’بھائی جی! آپ چلے جائیں یہاں دیر لگنے والی ہے۔ دراصل ہمارے مولوی صاحب کی وفات ہو گئی ہے۔ اور پہلے گاؤں کے سارے جنازے وہی پڑھایا کرتے تھے۔ اور ان کا بیٹا بھی ابھی بہت چھوٹا ہے۔ اس لیے وہ بھی نماز جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔ اب یہاں سے چند کلومیٹر پر واقع ایک اور گاؤں میں بندے بھیجے ہیں جو وہاں کی مسجد سے مولوی صاحب کو جنازہ پڑھنے کے لیے لا رہے ہیں۔ان کے آنے میں کافی دیر لگے گی۔ اور آپ کو جاتے ہوئے اندھیرا ہو جائے گا۔ اس لیے آپ چلے جائیں۔‘‘ ریحان نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا۔اور ان لوگوں کا منہ حیرت سے کھل گیا۔




‘‘‘‘نہیں بھائی جان! اب تو مولوی صاحب کو فون کیا جا چکا ہے ( پہلے کہا کہ مولوی صاحب کو لے جانے کو بندے جا چکے ہیں۔۔۔ اب کہا کہ مولوی صاحب کو فون کیا جا چکا ہے۔۔۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں~;d۔) اور ویسے اگر انہیں نہ بھی بلایا جاتا تو مجھے نہیں یقین کہ کوئی بھی مولودی صاحب کے علاوہ کسی کو جنازہ پڑھانے کی اجازت دیتا۔‘‘




ہم نے اس کو سلام کر کے اجازت لی۔

اور ایک کفن میں لپٹی لاش کو اپنے جنازہ گر کے انتظار میں چھوڑ کر وہاں سے چلے آئے۔
ابتداء میں جیسے دوسروں کی کہانی سنا رہے تھے اور بعد میں خود اچانک سے اسکا کریکٹر ہو گئےکوئی بھی ہنٹ نہیں دیا اس بارے میں، تو یہ بھی عجیب لگ رہا ہے۔


------------------------------------------------------------------------------------

قطع نظر اسکے کہ لکھنے میں جو بھی جھول آ گئے کسی وجہ سے مگر اس میں جو پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے وہ بہت خوبصورت اور اعلی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہم سب کے لئے سوالیہ نشان بھی ہے۔ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے مگر ہونا نہیں چاہیئے۔ بہت سی اور باتوں کے علاوہ اس پہلو کی طرف بھی دھیان دلانے کے لئے بے حد شکریہ احسان

Rubab
17-03-2011, 07:12 PM
احسان بھائی نے اپنے جانے پہچانے موضوع پر ہی قلم اٹھایا ہے۔ بہت اچھی کوشش ہے۔ مزید تحاریر کا انتظار رہے گا۔

Amir Shahzad
17-03-2011, 08:11 PM
السلام علیکم
مجھے عموماً آزاد سحر کی تحاریر اچھی لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔شاید پہلی بار کچھ کنفیوز سی ہو گئی ہوں۔۔۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا کیا لکھا ہے؟
کہانی یا افسانہ۔ کالم یا مضمون:o؟
چاروں کا مکسچر معلوم ہوتا ہے۔




قصہ مختصر


از سحرآزاد

دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے ایک وسیع وعریض صحن دیکھا۔ جس کے ایک حصے میں کیاریاں بنا کر پودینہ، لہسن اور پیاز لگائے گئے تھے۔ اس سے تھوڑا پرے بنا چھت کے چھوٹی سی چاردیواری بنا کر تندور نصب کیا ہو اتھا اس چار دیواری پر ایک پتلا سا کپڑا ڈال کر دھوپ روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت تندور کو لوہے کی ایک ٹوکری سے بند کر کے اس سے اوپر اینٹ (پتہ نہیں کیوں) (یہ بہت ہی زیادہ عجیب لگ رہا ہے ایسے لکھنا۔ اسکی بجائے فیلینگز کے ساتھ لکھا جا سکتا تھا کہ کسی کی سمجھ نہیں آرہا تھا وہاں اینٹ کیوں رکھی ہے وغیرہ وغیرہ)رکھی ہوئی تھی۔






ابھی وہ صحن کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ اندر سے اپنے ہاتھوں میں بڑی سی ٹرائے اٹھائے جس میں تابنے کے بڑے بڑے گلاس اور لسی کا ایک بڑا سا جگ تھا شہزاد کی امی آتی دیکھائی دی۔ اندر آتے ہی انہوں نے بڑے پیارے سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرے۔ لسی پیش کی اور شہزاد کو گاؤں تک پہنچانے کا شکریہ ادا کیا۔ اور پھر ان کی ڈیٹلیز طلب کر لی( گاؤں کی عورت نے طلب کی ؟وہ بھی ڈیٹیلز:o۔۔۔ ہممممم یقین نہیں آ رہا بالکل بھی اور نا ہی سچوئیشین سے میچ ہو رہا ہے) کہ کہاں سے ہیں، والدین کیا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

میت رکھی جا چکی تھی۔ کافی لوگ بھی جمع تھے۔ پھر بھی پتہ نہیں کیوں جنازے میں تاخیر ہو رہی تھی۔ عامر نے ریحان سے کہا کہ جا کر معاملہ معلوم کرو ہم نے واپس بھی جانا ہے۔ اگر زیادہ وقت لگے گا تو ہم چلے جائیں گے۔ ورنہ جنازہ پڑھ کر ہی جائیں گے۔






ریحان مجمع میں موجود اپنی عمر کے چند لڑکوں کی طرف بڑھ گیا۔ اور تھوڑی دیر تیز تیز قدموں سے چلتا واپس آگیا۔




’’بھائی جی! آپ چلے جائیں یہاں دیر لگنے والی ہے۔ دراصل ہمارے مولوی صاحب کی وفات ہو گئی ہے۔ اور پہلے گاؤں کے سارے جنازے وہی پڑھایا کرتے تھے۔ اور ان کا بیٹا بھی ابھی بہت چھوٹا ہے۔ اس لیے وہ بھی نماز جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔ اب یہاں سے چند کلومیٹر پر واقع ایک اور گاؤں میں بندے بھیجے ہیں جو وہاں کی مسجد سے مولوی صاحب کو جنازہ پڑھنے کے لیے لا رہے ہیں۔ان کے آنے میں کافی دیر لگے گی۔ اور آپ کو جاتے ہوئے اندھیرا ہو جائے گا۔ اس لیے آپ چلے جائیں۔‘‘ ریحان نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا۔اور ان لوگوں کا منہ حیرت سے کھل گیا۔




‘‘‘‘نہیں بھائی جان! اب تو مولوی صاحب کو فون کیا جا چکا ہے ( پہلے کہا کہ مولوی صاحب کو لے جانے کو بندے جا چکے ہیں۔۔۔ اب کہا کہ مولوی صاحب کو فون کیا جا چکا ہے۔۔۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں~;d۔) اور ویسے اگر انہیں نہ بھی بلایا جاتا تو مجھے نہیں یقین کہ کوئی بھی مولودی صاحب کے علاوہ کسی کو جنازہ پڑھانے کی اجازت دیتا۔‘‘




ہم نے اس کو سلام کر کے اجازت لی۔

اور ایک کفن میں لپٹی لاش کو اپنے جنازہ گر کے انتظار میں چھوڑ کر وہاں سے چلے آئے۔

ابتداء میں جیسے دوسروں کی کہانی سنا رہے تھے اور بعد میں خود اچانک سے اسکا کریکٹر ہو گئےکوئی بھی ہنٹ نہیں دیا اس بارے میں، تو یہ بھی عجیب لگ رہا ہے۔





------------------------------------------------------------------------------------



قطع نظر اسکے کہ لکھنے میں جو بھی جھول آ گئے کسی وجہ سے مگر اس میں جو پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے وہ بہت خوبصورت اور اعلی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہم سب کے لئے سوالیہ نشان بھی ہے۔ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے مگر ہونا نہیں چاہیئے۔ بہت سی اور باتوں کے علاوہ اس پہلو کی طرف بھی دھیان دلانے کے لئے بے حد شکریہ احسان


Aray wah buhat hi achay nuqtay uthaye hain aap nay

lagta hai aap bi likhti hain jo itni bareek beeni say read kia aur tahreer main fault pakray

hum jaisay tu bus parh laitay hain ;d

عبداللہ
17-03-2011, 10:27 PM
لو جی کر لو گل۔:o
آپکو نہیں پتا ہماری جادوگرنی باجی کا افسانہ ایک رسالے میں بھی چھپ چکا ہے۔ اور آپ لکھنے کی بات کر رہے ہو۔???
دل جلانے کی بات کرتے ہو۔
پڑھنے والے آپ اکیلے نہیں ہمارا نام بھی اُن میں شامل ہے۔;)


Aray wah buhat hi achay nuqtay uthaye hain aap nay

lagta hai aap bi likhti hain jo itni bareek beeni say read kia aur tahreer main fault pakray

hum jaisay tu bus parh laitay hain ;d

Amir Shahzad
17-03-2011, 10:42 PM
لو جی کر لو گل۔:o
آپکو نہیں پتا ہماری جادوگرنی باجی کا افسانہ ایک رسالے میں بھی چھپ چکا ہے۔ اور آپ لکھنے کی بات کر رہے ہو۔???
دل جلانے کی بات کرتے ہو۔
پڑھنے والے آپ اکیلے نہیں ہمارا نام بھی اُن میں شامل ہے۔;)
hmm good isi liye tu itni bareek beeni say parha unhon nay tahreer ko

idher forum main maira kaam bus awara gardi tuk mahdood hai :)

isi liye buhat kam members say jan pehchan hai tu pata nahi tha kay
sister itni talented hain

Noor-ul-Ain Sahira
17-03-2011, 11:06 PM
Aray wah buhat hi achay nuqtay uthaye hain aap nay

lagta hai aap bi likhti hain jo itni bareek beeni say read kia aur tahreer main fault pakray

hum jaisay tu bus parh laitay hain ;d


حیرت کے مارے بالترتیب دنگ ہونے کے بعد وہیں فٹک کے گرنے اور بے ہوش ہونے والی اسمائیلی

پلیز کال 911

Amir Shahzad
17-03-2011, 11:27 PM
حیرت کے مارے بالترتیب دنگ ہونے کے بعد وہیں فٹک کے گرنے اور بے ہوش ہونے والی اسمائیلی

پلیز کال 911
???
kya sister kuch galt kah dia mainay kya ???

Noor-ul-Ain Sahira
17-03-2011, 11:50 PM
???
kya sister kuch galt kah dia mainay kya ???

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا:o:(;d؟

دانیہ
17-03-2011, 11:57 PM
???
kya sister kuch galt kah dia mainay kya ???
http://www.oneurdu.com/forums/showthread.php?t=86903:)

Amir Shahzad
18-03-2011, 12:01 AM
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا:o:(;d؟


http://www.oneurdu.com/forums/showthread.php?t=86903:)
;d;d gustahi maaf hazoor

aap tu sach main writer hain

Noor-ul-Ain Sahira
18-03-2011, 12:10 AM
بہت بہت شکریہ دانیہ ڈئیر میری مشکل حل کرنے کے لئے;)۔

کوئی بات نہیں عامر شہزاد جی ، کبھی کبھی ایسا ہونا کسی انسان کو اچھا سبق سکھاتا ہے;d۔

Amir Shahzad
18-03-2011, 12:13 AM
بہت بہت شکریہ دانیہ ڈئیر میری مشکل حل کرنے کے لئے;)۔

کوئی بات نہیں عامر شہزاد جی ، کبھی کبھی ایسا ہونا کسی انسان کو اچھا سبق سکھاتا ہے;d۔
thanks ji :)

ager bura laga ho tu really sorry

Noor-ul-Ain Sahira
18-03-2011, 12:15 AM
جی نہیں بالکل برا نہیں لگا:)۔ فکر ناٹ میں بھی یونہی بس شرارت سے جان بوجھ کر بات کو بڑھا رہی تھی ورنہ ایسی کوئی بات ہرگز دل میں نہیں ہے بھیا

Sehar Azad
18-03-2011, 12:41 AM
Aray wah buhat hi achay nuqtay uthaye hain aap nay

lagta hai aap bi likhti hain jo itni bareek beeni say read kia aur tahreer main fault pakray

hum jaisay tu bus parh laitay hain ;d
;dہا ہاہا۔ یہ تو اس صدی کا جوک ہو گیا

Kashfeen
18-03-2011, 12:43 AM
>:(ہا ہاہا۔ یہ تو اس صدی کا جوک ہو گیا


ویلکم بیک احسان بھائی

ویسے آپکی تحریر ابھی نیہں پڑھی
آئی تو ڈانٹنے کے لیے تھی
لیکن چلیں معاف کیا۔
آجکل میرا موڈ اچھا ہے
سمجھیں بچت ہو گئی آپکی
:)

Ahmed Lone
18-03-2011, 12:44 AM
>:(ہا ہاہا۔ یہ تو اس صدی کا جوک ہو گیا


ویلکم بیک احسان سحر آزاد بھائی


:):):):)

Sehar Azad
18-03-2011, 12:45 AM
ویلکم بیک احسان بھائی

ویسے آپکی تحریر ابھی نیہں پڑھی
آئی تو ڈانٹنے کے لیے تھی
لیکن چلیں معاف کیا۔
آجکل میرا موڈ اچھا ہے
سمجھیں بچت ہو گئی آپکی
:)
~ڈانٹ موخر کرنے کے بہت بہت شکریہ۔ آپاں۔ اور ان کا بھی شکریہ جنہوں نے آپ کے مزاج میں ہریالی بکھیری ہوئی ہے۔

Sehar Azad
18-03-2011, 12:48 AM
ویلکم بیک احسان سحر آزاد بھائی


:):):):)
آپ کا بہت بہت شکریہ احمد بھائی۔ میرے واپس آنے میں آپ کا بہت ہی بڑا ہاتھ ہے۔

Noor-ul-Ain Sahira
18-03-2011, 12:49 AM
وعیلکم بیک احسان
میں نے جانے کے تھریڈ میں کچھ نہیں لکھا تھا اسی لئے کہ صرف واپسی والے میں خوش آمدید کروں:) گی

Sehar Azad
18-03-2011, 12:53 AM
وعیلکم بیک احسان
میں نے جانے کے تھریڈ میں کچھ نہیں لکھا تھا اسی لئے کہ صرف واپسی والے میں خوش آمدید کروں:) گی
شکریہ آپاں جی۔ ویسے بھی مجھے پیغامات میں زیادہ جھاڑیں ہی پڑی تھی کہ گئے کیوں۔ اور آپ کو تو شاید سچ مچ کی جھاڑیں مارنا آتا ہی نہیں۔ اس لیے وہ میں خود سے محسوس کر لی تھی:)

ابھی رات کے ۱۱:۰۰ بج رہے ہیں انشا ء اللہ صبح سب سے باری باری جھاڑیں کھاؤں گا۔ تب تک کے اللہ حافظ والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

Amir Shahzad
18-03-2011, 12:54 AM
kya bat hai hogaye wapsi

Welcome Ahsan Mian :)

Ahmed Lone
18-03-2011, 12:54 AM
آپ کا بہت بہت شکریہ احمد بھائی۔ میرے واپس آنے میں آپ کا بہت ہی بڑا ہاتھ ہے۔





پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

Sehar Azad
18-03-2011, 12:55 AM
kya bat hai hogaye wapsi

Welcome Ahsan Mian :)
جی ہاں۔ اللہ کے کرم سے۔

اور بہت بہت شکریہ۔

*Maham*
18-03-2011, 01:08 AM
احسان بھائی بہت بہت خوشی ہوئی واپس فورم پر دیکھ کر۔۔
خوش رہیں ہمیشہ۔۔ آمین

Rubab
18-03-2011, 05:31 AM
جی ہاں۔ اللہ کے کرم سے۔

اور بہت بہت شکریہ۔
آنکھیں مل مل کر دیکھنے والی سمائلی۔

خوش آمدید احسان بھائی۔۔۔

میرا کسی کی پٹائی کرنے کا شدید دل کر رہا ہے۔۔۔ کس کی کروں۔۔ٹارگٹ ڈھونڈنے والی سمائلی۔

کوثر بیگ
18-03-2011, 08:56 AM
خوش آمدید احسان میاں

بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے ۔چلو اب آپ آگئے تو لگتا ہے کہ پھر سے محفلوں میں ہنگامے گہما گہمی اور تھریڈ کے خوب دور چلیں گے ۔ خوش کردیا آج آپ نے اللہ سدا سکھی رکھے آپکو۔

محمد احمد بھائی کا بھی شکریہ اپنے بھائی کو راہ دیکھانے کا ۔

Kainat
18-03-2011, 12:51 PM
ویلکم بیک احسان بھیا۔۔۔:)

Abeer
18-03-2011, 04:36 PM
السلام علیکم،
پہلے تو ویلکم بیک احسان بھائی:)
اچھی تحریر ھے اور کافی اھم موضوع کی جانب نشاندھی کی ھےِ:)، کچھ پوانٹس کی ساحرہ آپی نے نشاندھی کی ھےِ ان پر توجہ دیں~ اور مزید بھی لکھتے رھیں

Sehar Azad
23-03-2011, 09:43 AM
تحریر پسند کرنے اور آپ کی بہترین آراء کا بہت بہت شکریہ۔ انشاء اللہ میں کوشش کروں گا کہ آئندہ اپنی کمیوں پر قابو پا سکوں۔

Sehar Azad
27-03-2011, 07:36 PM
تحریر تو بہت اچھی ہے احسان میاں ۔۔
لیکن۔۔۔۔
اففففففففففففففففففف۔۔۔
پھر سے وہی مولوی کی گردان؟؟؟
اب اس میں قصور مولوی کا ہے یا گاؤں کے دوسرے افراد کا۔۔
مولوی بےچارہ تو پہلے ہی مار دیا احسان میاں نے۔۔۔
السلام علیکم عمران بھائی۔

کیا میں نے کوئی غلط بات کی ہے یا ایسی بات کی ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں عام نہیں ہے۔؟؟؟؟؟؟؟

ویسے یہ ایک سچا واقعہ ہے۔

Sehar Azad
27-03-2011, 07:39 PM
مین تھیم اچھا تھا۔۔ پر لکھنے کا انداز تھوڑا عجیب سا
پہلے مجھے لگ رہا تھا کہ آپ قاری کی صورت کہانی کیطرح بتا رہے ہو۔۔ بعد میں ایسا لگاکہ آپ بھی ان چاروں میں موجود ہیں۔۔
اینی ویز
اچھا لکھا ہے۔۔
جی ہاں پہلے اسی طرز پر لکھا تھا۔ بعد مین اسے تبدیل کیا تو جلدی جلدی میں مکمل طور پر نہیں کر سکا؟ آپ کی رہنمائی کا بہت بہت شکریہ

Sehar Azad
27-03-2011, 07:43 PM
السلام علیکم
مجھے عموماً آزاد سحر کی تحاریر اچھی لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔شاید پہلی بار کچھ کنفیوز سی ہو گئی ہوں۔۔۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہا کیا لکھا ہے؟
کہانی یا افسانہ۔ کالم یا مضمون:o؟
چاروں کا مکسچر معلوم ہوتا ہے۔




قصہ مختصر

از سحرآزاد

دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے ایک وسیع وعریض صحن دیکھا۔ جس کے ایک حصے میں کیاریاں بنا کر پودینہ، لہسن اور پیاز لگائے گئے تھے۔ اس سے تھوڑا پرے بنا چھت کے چھوٹی سی چاردیواری بنا کر تندور نصب کیا ہو اتھا اس چار دیواری پر ایک پتلا سا کپڑا ڈال کر دھوپ روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس وقت تندور کو لوہے کی ایک ٹوکری سے بند کر کے اس سے اوپر اینٹ (پتہ نہیں کیوں) (یہ بہت ہی زیادہ عجیب لگ رہا ہے ایسے لکھنا۔ اسکی بجائے فیلینگز کے ساتھ لکھا جا سکتا تھا کہ کسی کی سمجھ نہیں آرہا تھا وہاں اینٹ کیوں رکھی ہے وغیرہ وغیرہ)رکھی ہوئی تھی۔





ابھی وہ صحن کا جائزہ لے ہی رہے تھے کہ اندر سے اپنے ہاتھوں میں بڑی سی ٹرائے اٹھائے جس میں تابنے کے بڑے بڑے گلاس اور لسی کا ایک بڑا سا جگ تھا شہزاد کی امی آتی دیکھائی دی۔ اندر آتے ہی انہوں نے بڑے پیارے سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرے۔ لسی پیش کی اور شہزاد کو گاؤں تک پہنچانے کا شکریہ ادا کیا۔ اور پھر ان کی ڈیٹلیز طلب کر لی( گاؤں کی عورت نے طلب کی ؟وہ بھی ڈیٹیلز:o۔۔۔ ہممممم یقین نہیں آ رہا بالکل بھی اور نا ہی سچوئیشین سے میچ ہو رہا ہے) کہ کہاں سے ہیں، والدین کیا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

میت رکھی جا چکی تھی۔ کافی لوگ بھی جمع تھے۔ پھر بھی پتہ نہیں کیوں جنازے میں تاخیر ہو رہی تھی۔ عامر نے ریحان سے کہا کہ جا کر معاملہ معلوم کرو ہم نے واپس بھی جانا ہے۔ اگر زیادہ وقت لگے گا تو ہم چلے جائیں گے۔ ورنہ جنازہ پڑھ کر ہی جائیں گے۔





ریحان مجمع میں موجود اپنی عمر کے چند لڑکوں کی طرف بڑھ گیا۔ اور تھوڑی دیر تیز تیز قدموں سے چلتا واپس آگیا۔




’’بھائی جی! آپ چلے جائیں یہاں دیر لگنے والی ہے۔ دراصل ہمارے مولوی صاحب کی وفات ہو گئی ہے۔ اور پہلے گاؤں کے سارے جنازے وہی پڑھایا کرتے تھے۔ اور ان کا بیٹا بھی ابھی بہت چھوٹا ہے۔ اس لیے وہ بھی نماز جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔ اب یہاں سے چند کلومیٹر پر واقع ایک اور گاؤں میں بندے بھیجے ہیں جو وہاں کی مسجد سے مولوی صاحب کو جنازہ پڑھنے کے لیے لا رہے ہیں۔ان کے آنے میں کافی دیر لگے گی۔ اور آپ کو جاتے ہوئے اندھیرا ہو جائے گا۔ اس لیے آپ چلے جائیں۔‘‘ ریحان نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے کہا۔اور ان لوگوں کا منہ حیرت سے کھل گیا۔




‘‘‘‘نہیں بھائی جان! اب تو مولوی صاحب کو فون کیا جا چکا ہے ( پہلے کہا کہ مولوی صاحب کو لے جانے کو بندے جا چکے ہیں۔۔۔ اب کہا کہ مولوی صاحب کو فون کیا جا چکا ہے۔۔۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں~;d۔) اور ویسے اگر انہیں نہ بھی بلایا جاتا تو مجھے نہیں یقین کہ کوئی بھی مولودی صاحب کے علاوہ کسی کو جنازہ پڑھانے کی اجازت دیتا۔‘‘




ہم نے اس کو سلام کر کے اجازت لی۔

اور ایک کفن میں لپٹی لاش کو اپنے جنازہ گر کے انتظار میں چھوڑ کر وہاں سے چلے آئے۔
ابتداء میں جیسے دوسروں کی کہانی سنا رہے تھے اور بعد میں خود اچانک سے اسکا کریکٹر ہو گئےکوئی بھی ہنٹ نہیں دیا اس بارے میں، تو یہ بھی عجیب لگ رہا ہے۔


------------------------------------------------------------------------------------

قطع نظر اسکے کہ لکھنے میں جو بھی جھول آ گئے کسی وجہ سے مگر اس میں جو پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے وہ بہت خوبصورت اور اعلی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور ہم سب کے لئے سوالیہ نشان بھی ہے۔ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے مگر ہونا نہیں چاہیئے۔ بہت سی اور باتوں کے علاوہ اس پہلو کی طرف بھی دھیان دلانے کے لئے بے حد شکریہ احسان
آپاں اگر آپ سوسائٹی میں ریو کریں تو کتنا کا بھلا ہو گا۔

Sehar Azad
27-03-2011, 07:45 PM
احسان بھائی نے اپنے جانے پہچانے موضوع پر ہی قلم اٹھایا ہے۔ بہت اچھی کوشش ہے۔ مزید تحاریر کا انتظار رہے گا۔
بہت بہت شکریہ آپاں۔