PDA

View Full Version : dost ka beta



sasu
14-03-2011, 09:45 PM
assalam aloikum,main ap se apne dost ke bete ke baarey mein puchna chahti hoon.woh 3saal ka hai,mager behadd ziddi hai,jaisae ke meri dost batati hai ke ak din uska husband bahir jaaney ke liye jootey pehan raha tha to baap se zidd kerne laga ke ye jootey na pehno,ab wo batati hai ke woh itna rota chillata or ro ro ke apna mun laal ker leta hai,kehti hai meri dost ke maine apne husband ko kaha ke thori der ke liye chor do na pehno jootey,to wo batati hai ke kuch der ke baad khud hi la ker baap ko wohi jootey deta hai ke pehan lo.aysi hi or b bohat si zidden wo kerta hai.jahan per uski merzi ke khilaf koi kaam ho to wo ayse rota or zid kerta hai jaise kisi ne bohat mara ho.is ke baarey mein kuch bataye ga ke aysa kyoon ho sakta hai.or doosri baat mera beta jo saarey 4saal ka hai doctor ne kaha hai ke wo apni umer ke mutabiq development mein pichey hai .main ap se ye poochna chahti hoon ke is ka kya koi khaas reason ho sakta hai ?plz bataye ga main jawab ki muntazir rahoon gi.

Nosheen Qureshi
17-03-2011, 11:18 AM
اس عمر میں اکثر بچوں میں بے جا ضد پائی جاتی ہے، ان کی ضد کے جواب میں ضد نہ کریں بلکہ اگر وقتی طور پر اس کام کو چھوڑا جاسکتا ہے تو چھوڑ دیں، کچھ بچوں کی ضروریات(نفسیاتی/جذباتی) زیادہ ہوتی ہیں، وہ بہت حساس ہوتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو محسوس کرتے ہیں، اپنے جذبات کا ٹھیک سے اظہار نہیں کر پاتے، شخصیت میں توازن کی کمی ہوتی ہے اور جذبات پر قابو نہیں ہوتا ان میں اس طرح کی بے جا ضد اکثر پائی جاتی ہے۔

بڑے تو بول کر اپنے مسائل کا اظہار کردیتے ہیں لیکن بہت سے چھوٹے بچے خاص طور سے 4 سال تک کے بچے بہت سی باتوں کی سمجھ نہیں رکھتے اور اپنے ہی انداز میں رو پیٹ کر ضد کرکے ماحول کو اپنے بس میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی تو یہ توجہ کے حصول کیلیے ہوتا ہے اور کبھی اندر کے دبائو اور مشکل سے نمٹنے کا ان کے مطابق مناسب حل۔

بچوں کو پیار اور توجہ کا مثبت انداز میں ملنا ضروری ہے نہ تو بہت زیادہ حاوی ہوں اور نہ ہی اسے بالکل اکیلا چھوڑ دیں، اس کی عمر کے مطابق اسے ڈیل کریں وہ بڑا اور انتہائی سمجھدار نہیں ہے وہ آپ کی بہت سی باتیں نہیں سمجھ سکتا، اسے نہیں پتا کہ گھر میں مہمان آئے ہوں، شاپنگ کرنے یا سیر کرنے جائیں تو کس طرح پیش آنا چاہیے وہ تو ان سب چیزوں سے انجان ہے یہ سب تو ہم ہی اسے مثبت طریقے سے سکھائیں گے، گھر میں مثبت ماحول رکھیں، بچے کو اس کی عمر کے مطابق مینرز سکھائیں اور اسی کے مطابق اس سے توقع رکھیں، جو مثال بتائی ہے اس میں یہی سب سے مناسب رویہ ہے کہ فی الحال اس کام کو چھوڑ دیا تو آپ نے دیکھا کہ کتنی جلدی بچہ نارمل ہوگیا ، اس کے برعکس کیا جاتا تو وہ اور زیادہ روتا چلاتا اور اسے لگتا کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے، بچے کی ایسی حالت دیکھ کر عموماً والدین انتہائی گھبرا جاتے ہیں اور انھیں سامنے کے حل بھی نہیں سوجھتے۔

جب بچہ اس قدر بے جا ضد کرے تو خود پر قابو رکھیں اور ان محرکات کا جائزہ لیں جو اس رویہ کی وجہ ہیں، اس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہ ایسا کیوں اور کب کرتا ہے تو اس کا حل بھی آسان ہو گا۔ اس کی توانائی کو مثبت کاموں میں استعمال کریں، اس کے سامنے اچھے رویے اپنائیں، جو بات نہیں ماننے والی وہ ضد پر بھی نہ مانیں تاکہ بچہ یہ برا رویہ نہ سیکھے کہ بات منوانے کا شارٹکٹ تو ہے ہی۔ اس کے اچھے رویہ کی تعریف کریں اور ہر ایسی بات کی حوصلہ افزائی کریں جو اچھی ہے جب کہ برے رویہ پر فوراً سزا کا سوچنے کی بجائے سرد رویہ اپنائیں جس سے بچہ کو احساس ہو کہ کچھ غلط ہے، جس وقت وہ بے جا ضد کرتا ہے اس وقت اس کو سمجھانے کا فائدہ نہیں اسے کسی اچھے موڈ میں اس کی عمر کے مطابق سمجھائیں۔

آپ کے بچے کے ڈویلپمینٹ میں پیچھے ہونے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، کبھی کبھار ایسا پیدائش سے متعلقہ مسائل یا کمپلیکیشنز کی وجہ سے ہوتا ہے، کبھی ایسا ماحول ملتا ہے جہاں اسکی شخصیت کے کچھ خاص پہلوئوں پر توجہ نہیں دی جارہی ہوتی، کبھی ایسا پیدائش کے بعد کسی دوا یا اعصابی مسئلہ کی وجہ سے ہوتا ہے وجہ جو بھی ہو پریشان ہونا اس کا حل نہیں، ہمیں سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہے کہ یہ کس درجہ پر ہے اور اس کی شدت کیا ہے اس کے بعد جو اس کی ڈویلپمینٹل ایج ہے اس کے مطابق اسے ڈیل کیا جائے تو مسائل کم پیدا ہوتے ہیں۔