PDA

View Full Version : mera beta



sasu
13-01-2011, 12:22 AM
assalam alikum ,maine ap se pehle b ak sawal poocha tha double personality ke baare mein mager jawab nahi aya.ab mere ap se kuch or sawaal b hain.mera beta saare char saal ka hai wo yahan per play group mein jata hai,mera beta wahan per baki bachon ko marta hai or tang kerta hai,ghar mein bi apni behan ko marta b hai or tang b kerta hai.ap meri is sisley mein help kare plz .....ap ki kya raaye hai .plz jald jawaab dijiye ga .main intzaar karoon gi .allah hafiz

Kazmi
13-01-2011, 01:23 AM
بچے کو ایسی مصروفیات فراہم کریں جس سے وہ تھک جایا کرے اور گہری نیند لے۔

فٹبال یا کراٹے وغیرہ جائن کروا دیں اور ڈانٹنا بالکل نہیں۔ کچھ عرصہ اس کی زیادتیوں کو مکمل نظر انداز کریں، ان شاء اللہ ٹھیک ہو جائے گا۔

Nosheen Qureshi
20-01-2011, 09:51 AM
assalam alikum ,maine ap se pehle b ak sawal poocha tha double personality ke baare mein mager jawab nahi aya.ab mere ap se kuch or sawaal b hain.mera beta saare char saal ka hai wo yahan per play group mein jata hai,mera beta wahan per baki bachon ko marta hai or tang kerta hai,ghar mein bi apni behan ko marta b hai or tang b kerta hai.ap meri is sisley mein help kare plz .....ap ki kya raaye hai .plz jald jawaab dijiye ga .main intzaar karoon gi .allah hafiz


وعلیکم السلام!
دیر کیلئے معذرت چاھتی ہوں۔ آپ نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا یہ رویہ کب سے ہے جب سے اس نے پلے گروپ میں جانا شروع کیا ہے یا شروع سے ہی کیونکہ دونوں صورتوں میں وجوھات مختلف ہو سکتی ہیں۔
بچہ ہر عمر میں توجہ چاہتا ہے اس توجہ میں کمی یا شراکت بہت سے بچوں سے برداشت نہیں ہوتی اور وہ اپنا ھدف اس کو بنا لیتے ہیں جس کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہو، ہم اسے ویسے توجہ دیں نہ دیں اس منفی ردعمل پر انتہائی ردعمل دکھا کر اسے یہ یقین ضرور بخشتے ہیں کہ آپ کو توجہ مل رہی ہے ۔ چاہے ہو ماں کی ہو چاہے استاد کی۔

ہمارے اندر توانائی کا ایک زخیرہ موجود ہوتا ہے جب یہ توانائی کسی بھی مثبت عمل میں استعمال نہیں ہوتی تو یہ ہمیں بے چین کر دیتی ہے اور کسی منفی عمل(لڑائی، مارپیٹ) کی شکل میں نکلتی ہے، اپنے بچہ پر توجہ دیں اور مشاھدہ کریں کہ اس کے اس عمل کے پیچھے کیا وجوھات ہیں، اس کیلئے اس کے رحجان کے مطابق مثبت ایکٹیوٹی پلان کریں جس میں اس کی تخلیقی صلاحیتیں استعمال ہوں اور اس کی توانائی کسی فالتو کام میں ضائع نہ ہو۔

بعض اوقات جب بچہ کو بار بار کسی کام سے روکا جاتا ہے تو وہ چڑ کر وہی کام ضد سے کرتا ہے اور جتنا شدید ہمارا ردعمل ہوتا ہے اتنی ہی شدت بچہ میں بھی آتی جاتی ہے، کوشش کریں کہ بچہ کو ضد نہ دلائیں کیونکہ اس سے وہ سنورنے کی بجائے بگڑ جائے گا، اس کی خوبیوں کو سب کے سامنے اجاگر کریں لیکن اس کی خامیوں سے متعلق اس سے اکیلے میں بات کریں کیونکہ ہر بچہ کی ایک عزت نفس ہے اس کے متاثر ہونے پر وہ بہت ہرٹ ہوتا ہے اور ضد میں ہمیں زچ کرتا ہے۔

بہت سے کارٹون اور بچوں کی فلمیں ایسی ہیں جس میں چھوٹی عمر کے بچے یہی سمجھتے ہیں کہ ھیرو وہ ہوتا ہے جو سب کی پٹائی کرتا ہے اور اسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ ھیرو ہے یہ بھی اس رویہ کی وجہ ہو سکتا ہے۔

اپنے بچے پر توجہ دیں اور اس کے ساتھ وقت گزاریں اس سے آُپ کو جلد ہی اندازہ ہو جائے گا کہ غلطی کہاں ہے ۔ مزید تسلی کیلئے اس سے زیادہ معلومات درکار ہوں گی۔
اللہ خافظ

sasu
23-01-2011, 12:50 AM
bohat bohat shukriya,ap ka jawab tassali bakhsh tha.