PDA

View Full Version : بہاریں تیرے نام کی از وش



1US-Writers
21-10-2010, 07:11 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/b.gif
http://i254.photobucket.com/albums/hh103/hosharba/hosh/1-6.jpg

1US-Writers
21-10-2010, 07:29 PM
http://i254.photobucket.com/albums/hh103/hosharba/hosh/2-4.jpg
http://i254.photobucket.com/albums/hh103/hosharba/hosh/3-3.jpg
]http://i254.photobucket.com/albums/hh103/hosharba/hosh/4-3.jpg
http://i254.photobucket.com/albums/hh103/hosharba/hosh/5-2.jpg
http://i254.photobucket.com/albums/hh103/hosharba/hosh/6-2.jpg

Wish
30-10-2010, 02:05 AM
بہاریں تیرے نام کیں
وش





"ہاں۔۔! بس طے ہو گیا کہ اب مجھے کیا کرنا ہے، اپنے سواد کی خاطر میں اپنے ہی ساتھ بُرا کیسے کر سکتا ہوں؟ کیسے فراموش کر سکتا ہوں کہ میری خوشی درحقیقت میری ذات سے وابستہ نہیں، کیسے بھول سکتا ہوں کہ چار دن کی خوشی کسی کے لیے زندگی بھر کا عذاب بن سکتی ہے، کیسے اس کی زندگی کو جہنم بنا سکتا ہوں جس کے لیے میں نے قدم قدم پر خوشیوں کی تمنا کی ہے۔۔ نہیں۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔۔ دل کتنا بھی چاہے۔۔ میں کتنا بھی چاہوں۔۔ میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دوں گا۔" خود کلامی کا سلسلہ منقطع ہوا تو میں نے ہاتھ میں پکڑی فائل کو میز پر رکھا اور بائیک کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا۔

*****

شام کا اندھیرا پھیلنے کو تھا جب میں نے بائیک کو اس کے گھر کے باہر روکا۔ اندھیرا پھیلنے سے پہلے ہی گھر کی لائٹیں روشن کر دی گئی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر دوڑ بیل دبانی چاہی تو میری نظر گھر کے باہر لگی نیم پلیٹ پر پڑی جس پر لکھا تھا "محمد حسین صابر" کتنا گہرا رشتہ تھا اس نام سے میرا، کتنی دیر تک خاموش نگاہیں اس نام کو پڑھتی رہیں، گہرے رشتے بھی کبھی کبھی کیسے پلوں میں ٹوٹ جاتے ہیں۔۔ میں نے سر جھٹک کر بیل بجائی۔

اندر سے آواز آئی "کون۔۔؟"

"رحمت بابا دروازہ کھولیے میں ہوں۔" آواز جانی پہچانی تھی اس لیے دروازہ کھول دیا گیا۔

"السلام علیکم اسجد میاں، کیسے ہیں آپ؟" رحمت بابا نے شفقت سے پوچھا۔

"جی۔۔۔ میں۔۔۔ گھر والے گھر پر ہیں؟" معلوم نہیں میرے پاس جواب تھا نہیں یا میں دے ہی نہیں پایا، جواب دیتا بھی تو کیا؟ میں کیسا ہوں یہ تو خود میں بھی نہیں جانتا تھا۔

"جی بڑے صاحب اور بیگم صاحبہ تو باہر گئے ہیں البتہ باقی سب افراد خانہ اندر موجود ہیں۔" انہوں نے کہا تو میں ان سے "جی بہتر" کہہ کر آگے بڑھ گیا۔

اٹھتے ہوئے ہر قدم کے ساتھ میرے دل میں یہ احساس مضبوط ہوتا چلا گیا کہ یہ میرے قدم کوئی فاصلہ سمیٹ نہیں رہے بلکہ الٹا فاصلہ پیدا کر رہے ہیں۔ ذہن میں ان باتوں کی ایک فلم سی چل رہی تھی جو میں گھر سے آتے ہوئے طے کر کے آیا تھا۔

*****

محمد حسین صابر۔۔۔ رشتے میں میرے چچا تھے، ایک بزنس مین اچھے بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھنے والے۔ معاشرے میں، خاندان میں بہت با عزت تھے۔ حسین چچا اور نگہت چاچی کے چار بچے تھے۔ سب سے بڑی زیست پھر علی اور اس کے بعد دو چھوٹی بیٹیاں۔

قریب سال بھر پہلے میری نسبت زیست سے طے کی گئی تھی خالصتاً میری پسند پر۔ جبکہ چچی جان ایسا نہیں چاہتیں تھیں ان کے خیال میں ان کے اپنے خاندان میں مجھ سے زیادہ اور قابل لڑکے زیست کے لیے موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ محبت کچھ نہیں ہوتی اور زیست کا مجھے چاہنا اس کی زندگی کی بہت بڑی بےوقوفی ہے۔ میں نے زیست کے حوالے سے زندگی کو بہت خوبصورت آئینے میں دیکھا تھا۔ ہر آنے والا دن بہت بھرپور طریقے سے منایا تھا۔

مگر آج میں جس سوچ کے ساتھ اُس سے ملنے آیا تھا اس کے بعد کوئی خوشگوار احساس میری زندگی میں باقی رہ جائے ایسا کوئی امکان نہیں تھا۔

*****

میں نے اندر داخل ہو کر زیست کے کمرے کا رخ کیا۔ دروازہ کھٹکھٹانے پر اندر آنے کی اجازت ملی۔ میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔ مجھے دیکھ کر اُس کے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ پھیل گئی۔

"ارے تم۔۔ آؤ بھئی کب سے تمہارا فون ٹرائی کر رہی ہوں مل کر ہی نہیں دیتا، بیٹری ختم گئی ہے۔۔؟ یا جان بوجھ کر بند کر رکھا ہے۔۔؟ کل ہی تو تم ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوئے ہو، ذرا آرام کر لیتے ویسے بھی آج رات کو پاپا کے ساتھ ہم سب نے ملنے آنا ہی تھا۔ کیسے ہو اب۔۔؟ تم نے کہا تھا کہ آج بھی ہاسپٹل جانا ہے، آج کیوں گئے تھے۔۔۔؟ کیا بنا۔۔۔ کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔۔؟" وہ ہمیشہ ایسے ہی بہت سارے سوال ایک ہی سانس میں کرنے کی عادی تھی۔

"تم اس امتحانی پرچے میں کہیں فُل اسٹاپ لگاؤ تو میں بھی کچھ کہنے والا بنوں۔" میں نے اس کے سوالات کی برسات سے گھبرا کر کہا۔

"اچھا لو ہو گئی چُپ اب ایک ایک کر کے میرے سب سوالوں کا جواب دو۔"

"یوں ہی کھڑے کھڑے؟"

"اوہ سوری، آؤ بیٹھو۔" اس نے کمرے میں موجود صوفے کی طرف اشارہ کیا۔

"نہیں یہاں نہیں، کمرے کی فضا میں میرا دل گھبرا رہا ہے۔"

"تو پھر۔۔؟"

"باہر چلو گارڈن میں، وہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔"

"ہممم چلو۔" میں اس کے ہمراہ گھر کے پورچ سے منسلک چھوٹے سے گارڈن میں آ گیا۔

"بیٹھیں یا پھرنا چاہو گے؟" میں نے کہا "نہیں آؤ سائیڈ پر بیٹھ جائیں، میری طبیعت کچھ اچھی نہیں ہے۔"

"ہممم۔۔۔ اچھا آؤ" بیٹھنے کے بعد وہ پھر سے ہم کلام ہوئی۔

"اب کہو کیسی طبیعت ہے اور چہرے پر یہ کیسی پریشانی ہے؟"

"زیست۔۔۔ !" میں نے زمین پر اُگی گھاس کو دیکھتے ہوئے اسے پکارا۔

"ہمممم۔۔ کہو" اس نے سرگوشی کی۔

"زیست۔۔۔ جہاں چچی جان چاہتی ہیں تم وہاں ان کی پسند سے شادی کر لو۔" میں نے اس کی طرف دیکھے بن کہا۔

"واٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟" اس کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی۔ "تم جانتے ہو اسجد تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟ تم ہوش میں ہو۔۔۔؟"

"ہاں۔۔۔ ابھی تو آیا ہوں ہوش میں۔ تم سے شادی کر کے میں تمہاری زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتا۔"

"آخر اس سب کے پیچھے وجہ کیا ہے اسجد۔۔۔؟ آخر ایسا کون سا محرک ہے کہ تم اس انتہائی فیصلے پر پہنچ گئے۔ تم نے اکیلے اتنا بڑا فیصلہ لے لیا۔۔۔ زندگی ساتھ گزارنے کا فیصلہ ہم نے مل کر کیا تھا تو اب تم کون ہوتے ہو اکیلے یہ فیصلہ کرنے والے؟"

"زیست! تم صرف نام ہی سے نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں میری زیست ہو، میری زندگی ہو۔ مگر آج اپنے لیے لکھا کاتب تقدیر کا فیصلہ جو میں سُن کر آیا ہوں اس کے بعد میں اس رشتے کو نہیں نبھا سکتا۔" میں نے اپنا ہاتھ اس کےسامنے پھیلایا اور کہا۔ "دیکھو، اس ہاتھ میں کوئی لکیر نہیں ہے نہ محبت کی، نہ زندگی کی، اس ہاتھ کو تھام کر تم کیا کرو گی؟"

"اسجد! مجھے لکیروں سے زیادہ تقدیروں پر بھروسہ ہے۔" اس نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ "میں تم سے الگ ہو کر نہیں جی سکتی، کیسے میں کسی اور کی زندگی میں چلی جاؤں، میں نے صرف اور صرف تمہیں چاہا ہے۔" اس نے اپنا حنائی ہاتھ میرے سامنے پھیلایا۔ "دیکھو، کل تمہارے ٹھیک ہو کر آنے کی خوشی میں، میں نے اپنے ہاتھوں کو تمہارے نام کی مہندی سے سجایا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں اسجد دیکھو یہاں تمہارا نام بھی میرے نام کے ساتھ موجود ہے۔ اور تم چاہتے ہو کہ چاہت کے اس رنگ کو میں اپنے ہاتھوں سے رگڑ رگڑ کر مٹا دوں؟"

"زیست، جذبات سوچ کے سب دروازے مقفل کر دیتے ہیں۔ پلیز، حقیقت پسند ہو کر سوچو۔ میرا تمہارا ساتھ بس کچھ ماہ تک کا ہے اس کے بعد۔۔۔ !"

"اسجد کچھ ماہ ہی مجھے منظور ہیں۔ میں ہر حال میں تم سنگ رہنے کو تیار ہوں۔ مجھے اپنے سے دور مت کرو۔" اس کی آواز بھر آئی۔

"کیا حاصل ہے ایسی زندگی کا؟ میرے ساتھ ہسپتالوں میں رُلو گی؟ یا لوگوں کی ہمدردانہ نگاہوں کو سہو گی؟ میں تمہیں کیا دے سکتا ہوں زیست؟ زندگی کے یہ چند ماہ جو ہم نے ایک دوسرے کے سنگ بتائے ہیں بس یہی حاصل حیات ہیں۔"

"تم نے اپنی طرف تو دیکھ لیا اسجد۔۔۔ اور میں۔۔۔؟ کیسے سونپوں گی میں اپنے خواب کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں جسے میں نے کبھی چاہا ہی نہیں ہو گا؟ روح کا مسکن جسم ہوتا ہے میں تم بن کیسے رہو گی؟"

"اور اگر جسم ہی باقی نہ رہے؟ تب بھی تو روح کو بھٹکنا ہے نا۔ تو کیوں نہ بھٹکنے کے بجائے وہ اپنا مسکن بدل لے؟"

"نہیں اسجد روح اور جسم خدا بناتا ہے۔ میں اور تم کیسے بدل سکتے ہیں؟ یہ روح بھی اسی جسم کی ہے فنا ہوں گے تو دونوں فنا ہو جائیں گے۔"

"نہیں زیست! روح کو موت ابھی نہیں آنی۔ اسے تو روز محشر تک جینا ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ تم جیو۔ ایک بھرپور زندگی جیو۔"

"میں تمہارے ساتھ کسی بھی حال میں رہنے کو تیار ہوں اسجد، چاہے تھوڑے سے دن ہی سہی"

"اور ان تھوڑے سے دنوں کے بعد۔۔۔؟"

"بعد کی مجھے پرواہ نہیں۔۔۔ سب جیتے ہیں، بہت سے لوگ ہیں دنیا میں جو تنہا رہتے ہیں شادی نہیں کرتے۔ میں بھی رہ لوں گی۔"

"نہیں زیست! تم ایسا کچھ نہیں کرو گی، تمہیں جینا ہے میرے حصے کا بھی جینا ہے، وہ خوشیاں وہ لمحے جو میں زندگی سے حاصل نہیں کر پایا تمہیں وہ سب لمحے زندگی سے چھیننے ہیں ان سب لمحوں کو پھرپور جینا ہے۔"

"تمہارے بغیر۔۔۔؟" بے یقینی اس کے لہجے سے عیاں تھی "اسجد تمہارے بغیر میں ایک بھرپور زندگی جیوں۔۔۔؟ کسی اور کو کیا دوں گی میں؟ اپنا ادھورا، بے دل۔۔۔ بے روح وجود؟"

لفظ کبھی کبھی کیسے ختم ہو جاتے ہیں مجھ پر آج پہلی بار یہ کیفیت طاری ہوئی تھی۔ میرے پاس الفاظ کی قلت ہو گئی تھی جو سب سے زیادہ بولا کرتا تھا۔

"نظام قدرت ہے زیست پُرانے پتے جب جھڑ جاتے ہیں تو ان کی جگہ نئے پتے لے لیتے ہیں۔ میرے بعد بھی کسی نہ کسی کو تو تمہاری زندگی میں آنا ہی ہے، تو پھر میرے نام سے وابستگی اختیار کر کے تمہیں کیا ملے گا؟ محض چند دن کی جھوٹی خوشی؟ اور تنہا ہو جانے کا سرٹیفیکیٹ؟"

"تمہاری ذات سے مجھے کچھ بھی ملے مجھے منظور ہے اسجد مگر یہ نہیں منظور کہ میں تمہیں چھوڑ کر کسی اور کو اپنا لوں۔"

"زیست! محبت میں طلب ناجائز نہیں ہوتی، تم مجھ سے محبت کرتی ہو تو میری بات کا مان رکھو۔ اسے میری التجا سمجھو یا حکم، تم وہیں شادی کرو گی جہاں تمہارے بابا اور امی چاہیں گے۔" یہ کہہ کر میں اس کے پاس سے اٹھا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا گھر کی دہلیز پار کر گیا۔

میں جانتا تھا کہ میرا اٹھتا ہر قدم مجھے اس سے کوسوں دور لیے جا رہا ہے۔ مگر مجھے یہ فاصلہ طے کرنا تھا کیونکہ یہی میری محبت کا تقاضا تھا۔ وہ وہیں ساکت بیٹھی رہ گئی، میں نہیں جانتا وہ کب تک اسی کیفیت میں، اسی حالت میں بیٹھی رہی۔ پیچھے مُڑ کر دیکھنے والے پتھر ہو جایا کرتے ہیں، سو میں نے خود پر پلٹ کر دیکھنا کفر قرار دے دیا اور اُس کے گھر سے نکل آیا۔۔۔

*****

گھر آ کر مجھے کسی طور چین نہیں آیا۔ جو بے کلی میں اُسے دے آیا تھا وہی کہیں میرے وجود کا بھی احاطہ کیے ہوئی تھی۔ کسی بات میں دل نہ لگا کسی کام کو طبیعت نہ چاہی۔ ذہن، دل، خیال، اور زبان پر بس ایک ہی نام تھا بس ایک ہی خیال تھا کہ وہ مجھے کیسے معاف کرے گی۔ میں اسے جس مشکل میں ڈال آیا ہوں اس مشکل سے وہ کیسے نمٹے گی۔

 

میں اپنے کمرے میں دیوار پر لگی اس پینٹنگ کے نزدیک آ کر کھڑا ہو گیا جس میں رات کے وقت میں بارشوں میں گھری ایک کشتی سمندر کی بے رحم موجوں کے سپُرد تھی۔ کبھی کبھی انسان کی زندگی بھی تو یونہی حالات کے بھنور کا شکار ہو جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کی زندگی کی ناؤ بھی کچھ عرصہ سطح آب پر ڈولنے کے بعد پھر سے اپنا سفر ایک نئے عزم کے ساتھ شروع کر دے گی۔

ہر رات کے بعد ایک سویرا آتا ہے، اس کی زندگی کی اس رات کے بعد بھی سویرا آ جائے گا۔ ہاں رات کے یہ خوفناک سائےاور اندھیرے کا خوف کہیں اس کے اندر چھُپ کے ضرور بیٹھ جائے گا۔ مگر برسات کے بعد آسمان شفاف ہو ہی جاتا ہے میں امید تو کر سکتا ہوں کہ وہ بھی بالکل ٹھیک اور نارمل ہو جائے گی، مجھ بن جینا سیکھ جائے گی۔۔۔

*****

اس سے میری اگلی ملاقات اس کی شادی کے دن ہوئی۔ اُس نے کیسے اس فیصلے کے لیے دل کو منایا، کیسے خود کو تیار کیا میں نہیں جانتا، ہاں مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میں نے اسے کسی اور کو سونپنے کے لیے خود کو تیار کرنے میں مجھے سات سمندر اور سات صحراؤں کی خاک چھاننی پڑی۔۔۔ اپنی روح کو اُنہی صحراؤں کی طرح بنجر کرنا پڑا۔۔۔ تاکہ طلب اور حصول کے تمام پھول خار ہو جائیں۔ 

*****

شادی کا گھر برقی قمقموں سے سجا ہوا تھا باہر سے دیکھنے پر یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے یہ روشنیاں چیخ چیخ کر اس کی زندگی میں آنے والے اجالوں کی نوید دے رہی ہوں۔ کتنا خوش کُن احساس تھا مگر مردہ دل کہاں خوش ہوا کرتے ہیں۔

سب خوش فہمیوں کے ساتھ ایک وہم بھی دل میں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا کہ یہ روشنیاں اس کی زندگی کو بھی اجالے بخشیں گی یا نہیں۔۔ ؟ کیا وہ ان روشنیوں کو اپنی روح سیراب کرنے دے گی یا نہیں۔۔؟

میں ان سوالوں کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا کہ دل کو کچھ اور وہموں نے آن گھیرا، وہ مجھے دیکھنا تک گوارا کرے گی یا نہیں۔۔؟ میں چلا تو آیا ہوں مگر مجھ جیسے خود غرض انسان سے وہ بات بھی کرنا چاہے گی یا کہ نہیں۔۔؟

انہی سوچوں میں تھا کہ آواز آئی "ارے اسجد! اب آ رہے ہو؟ بارات تو آ بھی چکی ہے اور تم۔۔۔۔۔ یہ کس حال میں ہو۔۔؟ یوں لگتا ہے سوتے سے اٹھے ہو اور سیدھے یہیں چلے آئے ہو۔" انہیں کیا معلوم کہ آنکھوں کے سوج جانے کی وجہ نیند کا لینا تھا یا کتنی راتوں سے کی گئی شب بیداری۔

"جی۔۔۔۔ میں۔۔۔"

"اچھا اب جلدی سے چینج کر کے آؤ ،نکاح کے لیے مولوی صاحب بھی آ چکے ہیں، نکاح کے فوراً بعد کھانا کھول دیا جائے گا تو ایک نظر مار لو۔"

"جی۔۔۔۔ اچھا۔۔۔"

چچی جان کے جانے کے بعد میں نے دوبارہ سفر وہیں سے آگے جاری رکھا جہاں قدم روکے تھے۔ زیست کے کمرے میں داخل ہوا تو وہ وہاں اکیلی تھی۔ اس نے میرے اندر آنے پر پلٹ کر مجھے دیکھا۔۔۔

وہ جتنی خوبصورت لگ سکتی تھی اس سے کہیں زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
میں نے ایک کے بعد دوسری نظر اس کے سراپے پر نہیں ڈالی کیونکہ اس پر میرا کوئی حق نہیں تھا۔

"اسجد۔۔۔! تم اب آئے ہو۔۔۔ اب۔۔؟ لیکن اب تو تم خوش ہو نا۔۔۔؟" یہ سوال تھا کہ طنز میں سمجھ نہیں سکا۔

"کیوں آئے ہو اب یہاں۔۔۔؟ میری بے بسی کا تماشا دیکھنے؟ یا یہ دیکھنے کہ تمہارے خوابوں کو اپنی آنکھوں سے نوچ پھینکنے کے بعد میری بے خواب آنکھیں کیسی لگتی ہیں۔۔؟ یا پھر یہ کہ بے جسم روح بھٹکتی کیسی لگتی ہے۔۔؟ کیا دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہارے نام کے علاوہ کسی اور کے نام کی مہندی کتنا رنگ لاتی ہے میرے ہاتھوں پر۔۔؟" یہ کہتے ہی اُس نے اپنے حنائی ہاتھ میرے آگے پھیلا دیئے۔۔

"زیست۔۔۔ !"

"اب کہنے کو کیا بچا ہے اسجد۔۔؟ تم بے فکر رہو میں خوش رہوں گی۔۔" اُس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔

"سمجھوتہ کرنے کی عادت اب ڈالنی ہی ہے تو ابتداء تمہارے نام سے ہی سہی۔۔ تم یہی چاہتے ہو نا کہ میں ایک بھرپور زندگی جیئوں۔۔؟ میں تمہیں ایسا ہی کر کے دکھاؤں گی اب۔۔ کسی رشتے کی عزت میں کمی نہیں آنے دوں گی۔۔ مگر تم یہاں کیوں آئے ہو اسجد۔۔۔ اب کیوں آئے ہو۔۔" اس کی بے خواب آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

"تمہیں۔۔۔ حکم، اپنا فیصلہ تو سُنا گیا تھا مگر۔۔۔ دعائیں دینا تو باقی تھیں۔ ایک آخری بار تمہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ اس روپ میں جس میں تمہیں ہمیشہ اپنے لیے دیکھنا چاہا ہے۔۔ یہ مہندی میرے نام کی نہیں، یہ شادی کا جوڑا میرے نام کا نہیں، یہ ہار سنگھار کچھ بھی میرے نام کا نہیں، پھر بھی اس جسم سے اس روح کو جُدا ہونے سے پہلے ایک آخری بار اپنے ہونے کے حق سے دیکھنا چاہتا تھا، اسی لیے چلا آیا۔۔۔۔ زیست۔۔۔۔۔! کیا تم مجھے معاف کر سکتی ہو۔۔؟"

میں نے اس پوری بات چیت میں دوسری بار اس کی جانب دیکھا براہ راست اس کی آنکھوں میں۔۔

"اسجد۔۔۔!" اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ایک شور و غل اٹھا۔ "مولوی صاحب نکاح کے لیے آ رہے ہیں۔" دھڑکتے دل سے میں نے اس کی جانب دیکھا، وہ میری ہی طرف دیکھ رہی تھی اور اُس کا چہرہ یک دم پیلا پڑ گیا۔۔۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے کمرے میں لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ مولوی صاحب نے اپنی کاغذی کارروائی شروع کی۔ زیست نے ایک نظر اٹھا کر اس جانب دیکھا جہاں میں کھڑا ہوا تھا۔۔ مگر مجھے وہاں نہ پا کر اس نے نگاہیں جھکا لیں۔ اورکچھ توقف کے بعد ان کاغذات پر دستخط کر دئیے جو اس کے سامنے رکھے گئے تھے۔

*****

اس کی زندگی کے اس نئے سفر میں میرے وجود کہیں بھی نہیں تھا۔ میں نے خود کو اس کے وجود سے الگ کر ڈالا تھا۔ ٹھیک بھی تھا جب جسم کا کوئی حصہ ٹھیک سے کام کرنے کے قابل نہیں رہتا تو پورے جسم کی موت سے اچھا ہوتا ہے کہ اس حصے کو جسم سے الگ کر دیا جائے کاٹ کر پھینک دیا جائے۔ میں نے بھی تو یہی کیا تھا۔

اور پھر سچ ہی تو ہے نئے پتوں کے آنے کےلیے پُرانے پتوں کا جھڑنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ میں اس کی زندگی کی وہ خزاں تھا کہ جس کا جانا اس کی حیات میں بہار آنے کا ضامن تھا اور میں نے تو اپنے نصیب کی سب بہاریں دعاؤں سمیت اس کے نام کر دی تھیں۔یہ الگ بات تھی جس سے کوئی واقف نہ تھا کہ مجھے زندگی کی خاطر،زندگی کو چھوڑنا پڑا۔



*****