PDA

View Full Version : تم ہی تو مان ہو از رمیصا



1US-Writers
21-10-2010, 07:10 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/b.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/AFSANE/T1.gif
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/AFSANE/T2.gif
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/AFSANE/T3.gif

رمیصا
28-10-2010, 10:14 PM
تم ہی تو مان ہو

’’میرے ساتھ ہمیشہ زیادتی ہوتی ہے۔۔۔!!‘‘ایک آواز میرے ارد گرد گونجی ۔میں نے چونک کر دیکھا۔میرے آس پاس کوئی نہ تھا۔لیکن آواز۔۔؟آواز موجود تھی۔مختلف رشتوں سے ابھرتی۔۔۔۔درحقیقت ایک ہی انسان کی آواز۔

’’کیسے ؟تمہارے ساتھ کیسے زیادتی ہوتی ہے۔۔۔؟‘‘کسی کو نہ پا کر میں نے بے چینی سے آواز دوبارہ سننے کی چاہ میں سوال کیا۔جواباً ایک لمبی خاموشی۔میں منتظر تھی کہ جواب آئے اور اس سے پہلے کہ میں اس پہلی آواز کو اپنا وہم کہ کر ٹالتی کہ آواز دوبارہ گونجی۔

’’میری اہمیت کو کبھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ہر بات جو میں کرتا ہوں غلط ہے ،اور وہی بات اگر آپ کرو گی تو صحیح ہے۔‘‘مجھے یوں لگا جیسے کوئی روٹھا ہوا بچہ بول رہا ہو۔پر کہاں تھا وہ بچہ۔۔۔؟

’’تمہارا نام کیا ہے۔۔۔؟‘‘اسکی تلاش جاری رکھتے ہوئے میں نے اسے مخاطب کیا۔میرے ارد گرد چار سو اندھیرا تھا اور اس اندھیرے میں آواز کے مالک کو دھونڈنا تقریباً نا ممکن تھا۔

’’آپ جانتی ہیں میرا نام۔‘‘تبھی ناراض بچہ دوبارہ بولا۔

’’آخر تم ہو کہاں۔۔۔‘‘میں جھنجھلا گئی کہ اسے نہ دیکھ پانے کی جھنجھلاہٹ سوا ہو گئی تھی۔

’’میں تو آپ کے ساتھ ہوں ہمیشہ سے۔‘‘

’’اور میں بھی۔‘‘

’’اور میں بھی۔‘‘

’’ہاں اور میں بھی۔‘‘

اس ایک ناراض لہجے میں ایک دم کتنی ہی آوازیں ایک ساتھ گونجیں ۔
میں نے اب آوازاوں پر غور کیا اور اگلے ہی لمحے ایک آواز کو پہچان لیا۔وہ تو اس چھوٹے بھائی کی تھی جسے ہمیشہ شکوہ رہا تھا کہ اسے بہن کا بستہ اٹھا کر کیوں لے جانا پڑتا ہے۔۔۔؟جسے ہمیشہ شکوہ رہا تھا کہ کبھی اسکی بات کو وہ اہمیت کیوں نہیں ملتی جو اسکی بہن کو ملتی ہے۔۔۔؟

’’اوو تو تم ہو یہ۔۔۔!!‘‘ میرے لبوں پر ایک شفقت بھری مسکراہٹ آ گئی۔

’’ہاں میں ہی ہوں اور آج بتانا ہی ہو گا کہ آخر میری بہن کو ہمیشہ مجھ پر فوقیت کیوں دی جاتی ہے۔میرے ضروری کام بھی اسکے غیر ضروری کاموں کے سامنے صفر کیوں مانے جاتے ہیں؟‘‘

میں کھلکھلا کر ہنس دی۔

’’یہ بالکل صحیح کہ رہا ہے۔۔۔‘‘میری ہنسی شاید کسی اور آواز کو بری لگی تھی۔

’’کون۔۔۔؟کون ہے۔۔۔؟‘‘میں نے چونکتے ہوئے پوچھا۔

’’میں ہوں ۔۔۔باپ۔!!‘‘

’’اور یہ بھائی صحیح کہ رہا ہے۔بہن ،بھائی کے ساتھ زیادتی کرتی ہے تو بیٹی باپ کے ساتھ۔فادرز ڈے کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے جبکہ مدرز ڈے کو اتنے ہی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے آخر کیوں؟میں سارا دن تھک ہار کے گھر آئوں تو بھی میری اہمیت ماں جتنی نہیں ہوتی؟کیا میرا اپنے بچوں پہ کوئی حق نہیں ہوتا؟ کیا میں ڈیزرو نہیں کرتا کہ میری بیٹی جس طرح ماں کا خیال کرتی ہے ویسے ہی میرا بھی کرے؟‘‘

’’وہ تو۔۔۔‘‘میں سوچ میں پڑ گئی۔بھلا ایسی بات کا کیا جواب ہو سکتا تھا ؟بھلا ایسی محبتوں کو ناپا جاتا تھا؟مجھے سمجھ نہیں آئی یہ بات باپ کو کیسے سمجھائوں۔

’’اور میں بھی انکے ساتھ ہوں۔۔۔!!‘‘میری سوچ کو ایک اور آواز نے توڑ ڈالا ۔اور اس آواز کو میں پہچان گئی تھی۔یہ بیٹا تھا۔

’’تم۔۔۔تم کیوں۔۔۔؟‘‘میں حیران ہوئی کہ بیٹوں کو ملنے والی غیر معمولی توجہ سے تو سب واقف تھے تو اس بیٹے کو کیونکر شکوہ ہو گیا؟

’’اسلیے کہ میری ذات ہی متنازعہ ہے‘‘۔وہ بیٹا بدگمانی کی انتہائوں پر کھڑا بولا۔میں ساکت رہ گئی۔اتنی خفگی۔۔۔؟اتنی ناراضگی۔۔۔۔؟بیٹے تو۔۔۔مائوں کا سرمایہ ہوتے ہیں۔۔یہ اتنا خفا بیٹا۔۔۔؟

’’ساری زندگی مجھے پال پوس کر بڑا کیا جاتا ہے۔میری ہر خواہش پوری کی جاتی ہے۔اور جب میں اپنی مرضی سے شادی کی بات کر لوں تو میری ہی ماں میرے آگے کیوں کھڑی ہو جاتی ہے۔۔۔؟اور اگر ایسا نہ ہو تو اپنی ہی پسند کی ہوئی بہو کو تب ناپسند کرنا شروع کر دیتی ہے جب میں اظہار پسندیدگی کروں۔۔۔؟آخر کیوں۔۔۔؟ماں کا نا فرمان بیٹا بھی میں ہی کہلائوں بات نہ مان کر اور ماں کی مان کر اپنے دل کو منا لوں تو زن مرید بھی میں ہی ۔۔۔؟آخر کیوں۔۔۔!!‘‘یہ سوال ذرا مشکل تھا۔میرے پاس حقیقتاً اسکا جواب نہیں تھا۔

’’مجھے پتا ہے کیوں۔۔۔!!‘‘انہی آوازاوں کا لہجہ بولا۔

’’تم۔۔۔‘‘میں اور تینوں آوازیں بیک وقت بولے۔

’’ہاں میں۔۔۔ شوہر۔۔۔!!اصل میں ماں ،بیٹی،بیوی،بہن سب رشتوں میں حاکمیت ہوتی ہے۔ہمیں اپنی مرضی سے چلا کر انہیں خوشی ملتی ہے۔اس لیے اس لیے۔۔ہمارے ساتھ اتنی زیادتی ہوتی ہے۔
ہر دفعہ ہماری ذات کی نفی،ہر دفعہ ہمی پر ظلم اور مزید یہ کہ ہمیں دہائی دینے کی بھی اجازت نہیں۔۔۔!!‘‘

’’اور نہیں تو کیا۔۔۔‘‘

’’بالکل صحیح کہ رہے ہو۔۔۔‘‘
سبھی آوازیں اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگیں۔تبھی شوہر کی باتوں کو دہراتے ہوئے مجھے ایک احساس ہوا۔

’’وجہ یہ تو نہیں ہے۔۔۔!!‘‘ میں نے شاید بلند آواز سے خود کلامی بھی کی تھی کہ چاروں آوازیں خاموش ہو گئیں۔مجھے لگا شاید وہ منتظر ہیں میرا جواب سننے کو۔

’’عورت کی فطرت میں حاکمیت ہے وہ اس لیے تمہارے ساتھ زیادتی نہیں کرتی بلکہ وہ بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔‘‘

’’یہ کیا بات ہوئی۔‘‘۔میری بات کی پر زور تردید ہوئی۔

’’سنو۔۔۔تم باپ ہو۔تم جب تک ساتھ رہتے ہو تب تک بیٹی ہر جگہ سر اٹھا کر چلتی ہے۔وہ لوگوں سے نظر ملا کر بات کرتی ہے۔وہ بھلے ماں کو زیادہ وقت دیتی ہو مگر وہ اسلیے دیتی ہے کیونکہ اسے علم ہوتا ہے ماں کمزور ہے۔بالکل بیٹی کی اپنی ذات کی طرح۔وہ تو بس ماں کو پیغام دیتی ہے کہ ذات کی کمزوری کا دکھ ذرا بانٹ لے۔بس ماں کو احساس دلاتی ہے کہ ماں کے پاس وہ ہے ماں کی حفاظت کرنے کو اور تمہیں نہیں بتاتی کہ تم سے تو اسے خود حفاظت چاہیے ہوتی ہے۔۔۔اور تم۔۔تم بھائی ہو۔اور جب تمہاری بات کو رد کر کے بہن کی بات کو ترجیح دی جاتی ہے تو وہ بھی بہن کو احساس دینے کے لیے۔مضبوطی کا۔غرور دینے کے لیے بھائی کا۔تمہیں پتا ہے تم سے لڑنے والی بہن لوگوں سے کیا کہتی ہے؟وہ کہتی ہے میرا بھائی میری ہر بات مانتا ہے۔اور اس وقت اسکے لہجے میں اپنے حاکم ہونے کا غرور نہیں ہوتا ،بلکہ اپنے محفوظ ہونے کا غرور ہوتا ہے۔اور تم بیٹے ہو۔جب تم کسی اور کی بات کرتے ہو تو ماں ڈر جاتی ہے۔اسے لگتا ہے تم اسے چھوڑ دو گے۔وہ تو بس تمہیں اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔تمہیں کھونا نہیں چاہتی کہ تم اسکا سرمایہ ہو۔اور تم ۔۔۔‘‘میں نے شوہر کو پکارا۔

’’تم سے بیوی لڑتی ہے جھگڑتی روٹھتی ہے تو اس مان کے ساتھ کہ تم اسکے اپنے ہو۔بھلا وہ کسی اور سے جھگڑے گی؟تم اسے مضبوطی کاحساس دیتے ہو۔وہ جانتی ہے کہ تم سے جتنا جھگڑ لے تم اسی کے رہو گے۔اسے چھوڑ کر نہیں جائو گے۔۔۔!!‘‘
میں خاموش ہوئی۔تاریکی میں مجھے کوئی وجود ابھی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔لیکن مجھے لگ رہا تھا شاید آوازیں ابھی بھی وہیں ہوں۔

’’سنو۔۔۔تم بھائی ہو۔۔۔باپ ہو۔۔۔بیٹے ہو ۔۔۔شوہر ہو۔۔۔!!‘‘

’’تم مان ہو۔۔۔تم مضبوطی ہو۔۔۔سرمایہ ہو۔۔۔اپنے ہو۔۔۔!!‘‘

’’سنو تم ان کمزور مائوں،بہنوں،بیٹیوں، بیویوں کا تحفظ ہو۔۔۔!!‘‘

Hira Qureshi
28-10-2010, 10:50 PM
بہت اچھی تحریر ہے رمیصا اگر ہم سمجھنا چاہیں تو۔

Sony
29-10-2010, 12:57 PM
a very good afsana

Ifzaan
29-10-2010, 06:33 PM
aoa thanks for good story:)

Ayeshah
29-10-2010, 06:37 PM
bahaat hi acha laga .
pata nahi tum sub itna acha kaisay likh leetay hoo,???
well done shabash:)

فائزہ صدف
29-10-2010, 06:40 PM
بہت ہی اچھا لکھاا

Madiha
30-10-2010, 10:35 PM
great story:)