PDA

View Full Version : کیا میں ظالم ہوں از صبیح الحسن



1US-Writers
21-10-2010, 07:07 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/b.gif

http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/zalimmainfinished.jpg

http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/zalimfinal1.jpg

1US-Writers
26-10-2010, 05:53 PM
http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/zalimfinal2.jpg

http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/zalimfinal3.jpg

http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/zalimfinal4.jpg

http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/zalimfinal5.jpg

http://i1025.photobucket.com/albums/y313/Sabih_UlHassan/zalimfinal6.jpg





کیا میں ظالم ہوں۔۔۔۔؟


یہ سردیوں کی ایک ٹھنڈی صبح تھی۔ چاروں طرف گھنا کہرہ تھا۔ گھاس پر گرے اوس کے قطرے جم کر برف بن چکے تھے۔ ایسے میں لکڑی کی بنچ پر بیٹھا وہ شخص پہلی نظر میں کوئی سنگی مجسمہ معلوم ہوتاتھا۔ اس کی نظریں سامنے عمارت پر جمی تھیں۔ ٹھنڈ خون جمائے دے رہی تھی لیکن شاید اس کے احساسات بھی منجمد ہو چکے تھے۔ جو بھی گزرتا ایک لمحے کو رک کر اس کی جانب حیرت بھری نظروں سے ضرور دیکھتا۔ پر اسے لوگوں کی نظروں کی پروا نہیں تھی۔ اس کو تو بس ایک سوال کا جواب چاہئے تھا جو اس کے ذہن میں گھومے جا رہا تھا۔ اس نے سامنے عمارت پر ایک اور نظر ڈالی اور دوبارہ دل میں سوال دہرایا۔ ’’کیا میں ظالم ہوں۔۔۔۔؟‘‘

۔۔۔٭٭٭۔۔۔

یہ شہر کے ایک بڑے ہاسپٹل کا آئی سی یو تھا۔اور وہ یہیں ڈاکٹر کی حیثیت میں جاب کرتا تھا۔شور کی سختی سے ممانعت کے باعث فضا پر ایک بوجھل سی خاموشی طاری تھی۔ چاروں طرف مشینوں اور پٹیوں میں جکڑے لوگ بستر پر پڑے تھے۔ ہاسپٹل سٹاف کے لوگ اور نرسیں ان کی دیکھ بھال میں مشغول تھے۔
اس نے تھکے ہوئے قدم اٹھاتے ہوئے اپنے آس پاس نگاہ دوڑائی۔ امیدویاس کی کیفیات میں ڈوبے چہرے۔ کہیں مسکراہٹ تو کہیں اشکوں کی برسات۔ کہیں دعا میں اٹھے ہاتھ تو کہیں تسبیح کے دانے گھماتی انگلیاں۔ یہ مناظر اس کے لیے نا آشنا نہ تھے لیکن آج سے قبل اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ بھی انہی لوگوں کی صف میں کھڑا خدا سے کسی کی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہو گا۔ امیدویاس کے درمیان لٹکے رہنے کی یہ کیفیت اسے ان لوگوں کی تکالیف سے روشناس کرا رہی تھی جن کے پیارے یہاں موجود تھے۔
وہ ایک دروازے پر پہنچ کر رکا۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر شیشے کے دروازے کے پار بیڈ پر پڑے بے ہوش وجود کو دیکھااور دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو گیا۔ بیڈ پر پڑا وجود اس کی دادی کا تھا جو اس کے لیے ماں سے بڑھ کر تھیں۔ اس نے دادی کی جانب دیکھا جو چند دن قبل ہی ایک صحت مند اور بھرپور زندگی گزار رہی تھیں لیکن اچانک ہونے والے ہارٹ اٹیک نے انہیں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا کر کے یہاں لا پھینکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وقت ہاتھ سے پھسلتا جا رہا ہے لیکن سوائے صبر اور امید کے کر بھی کیا سکتا تھا۔ اس نے بیڈ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھے اپنے پاپا پر نگاہ ڈالی۔ چند ہی دنوں میں وہ نچڑ کر رہ گئے تھے۔ اس نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں متوجہ کیا۔
’’پاپا آپ ساری رات سے یہاں ہیں۔۔۔۔ تھک گئے ہوں گے نا۔ کچھ دیر گھر جا کر آرام کر لیجیے۔‘‘
پاپا نے ایک تھکی تھکی نگاہ اس پر ڈالی اور بولے۔
’’ارے نہیں بیٹے۔۔۔۔۔ تھکاوٹ کیسی؟ میں یہاں بیٹھا ہی تو رہا ہوں۔‘‘
وہ ہلکے سے مسکرایا۔’’پاپا آپ جانتے ہیں کہ آپ مجھ سے کچھ چھپا نہیں سکتے۔‘‘
وہ بھی مسکرا دئیے۔ ’’میں کچھ نہیں چھپا رہا۔ بس یہ پروفیسر صاحب کا راؤنڈ ہو لے تو گھر کا چکر لگا آتا ہوں۔‘‘ انہوں نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
’’پاپا راؤنڈ کے لیے میں ہوں نایہاں۔ اور ویسے بھی میں یہ بالکل نہیں چاہتا کہ آپ بھی بیمار پڑ جائیں۔ ذرا سوچیے لوگ کیا کہیں گے کہ ابھی چند ماہ ہوئے نہیں برخوردار کو ڈاکٹر بنے اور پوری فیملی چل دی ہسپتال کے مزے لوٹنے۔‘‘ اس نے مصنوعی خفگی کا اظہار کیا۔
پاپا ہلکے سے ہنس پڑے۔’’بہت ضدی ہو تم۔ اچھا بابا چلا جاتا ہوں۔ لیکن دوپہر کے بعد آ جاؤں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ٹھیک۔ ۔ ۔ ۔؟
’’اوکے ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ایک شرط پر کہ آپ گھر جا کر آرام کریں گے اور پریشان بالکل نہیں ہوں گے۔‘‘ اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
’’اچھا بھئی۔ تمہیں کچھ چاہئیے تو لیتا آؤں۔‘‘ پاپا جانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔
’’نہیں پاپا۔ شام کو جب آپ آئیں گے تو میں گھر کا چکر لگا آؤں گا۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
پاپا نے اثبات میں سر ہلایا اور خداحافظ کہہ کر باہر نکل گئے۔ وہ چند لمحے انہیں جاتا دیکھتا رہا اور پھر کرسی پر بیٹھ کر آنکھیں موند لیں۔
وہ ماضی کی یادوں میں کھونا نہیں چاہتا تھا لیکن یادوں کے سیلاب پر بند نہ باندھ سکا۔

۔۔۔۔٭٭٭۔۔۔۔

وہ چند ماہ کا تھا جب اس کی امی ایک ایکسیڈنٹ میں دار فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔ ہوش سنبھالنے کے بعد اس نے جس وجود کو ہمیشہ ماں کے روپ میں دیکھاوہ اس کی دادی کا ہی تھا۔ اس کے والد نے کبھی دوسری شادی نہ کی اور نہ کبھی دادی نے اسے ماں کی کمی محسوس ہونے دی۔ اس نے ان کی انگلی کے سہارے ہی چلنا سیکھا۔ انہی ہاتھوں نے پہلی دفعہ اسے تیار کر کے سکول بھیجا۔اس کی پرورش اور پڑھائی کی تمام ذمہ داری دادی نے اٹھائی ۔ پھر ایک دن ان کی محنت رنگ لے آئی۔ جب اسے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ملا تو دادی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اور جب وہ ڈاکٹر بن گیا تو دادی نے ہنستے ہوئے کہا تھاکہ چلو اب کم ازکم ہمارا علاج تو مفت ہو جایا کرے گا۔اس وقت تو سب ہنس کر اس بات کو بھول گئے تھے، لیکن کون جانتا تھاکہ چند دن بعد ہی ان کے الفاظ سچائی کا روپ دھار کر ان کے سامنے آ کھڑے ہوں گے۔
اس کا بچپن سے لے کر جوانی تک کا سفر چند لمحوں میں اس کے ذہن میں گھوم گیا۔
اچانک کسی کی آواز اسے دوبارہ عالم حال میں کھینچ لائی۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ایک نرس وہاں کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔’’ڈاکٹر ان کے کل جو ٹیسٹ ہوئے تھے ان کی رپورٹس آگئی ہیں۔‘‘
اس نے کچھ کاغذات اس کی طرف بڑھائے۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر وہ کاغذات پکڑ لیے اور ان پر نگاہ دوڑائی۔ پھر ایک ٹھنڈی سانس بھر کر ان کو فائل میں رکھ دیا۔ ان رپورٹس میں بھی کوئی حوصلہ افزا نوید نہ تھی۔

۔۔۔۔۔٭٭٭۔۔۔۔۔

کچھ دیر کے بعد آئی سی یو کے انچارج پروفیسر حامد رضا چند دوسرے ڈاکٹرز کے ساتھ روم میں داخل ہوئے۔ وہ انہیں آتے دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد انہوں نے فائل کھولی اور رپورٹس پڑھنے لگے۔ پڑھنے کے بعد ساتھی ڈاکٹروں سے ان پر تھوڑی ڈسکشن کی اور اس سے مخاطب ہوئے۔ ’’بیٹا ! آپ یہ راؤنڈ ختم ہونے کے بعد ذرا میرے آفس میں آکر مجھ سے مل لیجیے۔‘‘
اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔ وہ جانتا تھا کہ حالات کس جانب جا رہے ہیں۔
راؤنڈ کے بعد جب نرس نے اسے آکر بتایا کہ پروفیسر صاحب اپنے آفس میں جا چکے ہیں تو وہ اٹھ کران کے کمرے کی جانب چلا۔ دروازے پر ہلکا سا ناک کیااور اجازت طلب کر کے اند ر داخل ہو گیا۔
اندر پروفیسر صاحب اپنی کرسی پر بیٹھے کچھ رپورٹس کا مطالعہ کر رہے تھے۔ اسے دیکھ کر انہوں نے رپورٹس ٹیبل پر رکھ دیں اور اسے اپنے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ آگے بڑھ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔
پروفیسر صاحب چند لمحے اسے دیکھنے کے بعد آہستہ سے بولے ۔’’بیٹا میں جو آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ بہت صبر اور حوصلے سے سننے کی ضرورت ہے۔‘‘
اس نے جواب دینا چاہالیکن الفاظ حلق میں گھٹ کر رہ گئے۔ اور وہ صرف ان کو دیکھے گیا۔
پروفیسر صاحب بولے۔ ’’آپ کی دادی کی رپورٹس میں نے دیکھیںاور آپ نے بھی دیکھی ہوں گی۔ آپ خود ڈاکٹر ہیں اور یقینا یہ جان چکے ہوں گے کہ ان کی برین ڈیتھ ہو چکی ہے۔‘‘
اسے اپنے دل پر کچھ بوجھ سا محسوس ہوا۔ اس نے کہنا چاہا کہ وہ یہ سب جانتا تھا لیکن وہ ان کے پاس کسی معجزے کی امید لیے آیا تھا۔ لیکن اس کی زبان نے ساتھ نہ دیا۔
پروفیسر صاحب اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھے۔’’بھی ان کا دل اور سانس مشینوں کے سہارے چل رہے ہیں لیکن یہ مشینیں بھی انہیں مزید چند گھنٹے ہی زندہ رکھ پائیں گی۔‘‘
چند گھنٹے۔۔۔۔۔ اسے اپنے حلق میں آنسوؤں کا گولا سا پھنستا محسوس ہوا۔ لیکن وہ یہاں رونا نہیں چاہتا تھا۔
’’اس کے بعد ان کو زندہ رکھنے کے لیے وینٹی لیٹر پر شفٹ کرنا ضروری ہو جائے گا۔‘‘ پروفیسر صاحب نے اس پر ایک تاسف بھری نگاہ ڈالی۔’’تم تو خود ہسپتال کے حالات سے واقف ہو۔ وینٹی لیٹر گنتی کے چند اور مریضوں کی ایک لمبی قطار ہے۔ اور ابھی تو کوئی وینٹی لیٹر بھی فارغ نہیں۔ اگر شام تک کوئی فارغ ہوا تو ان کو شفٹ کرنے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔‘‘
’’وینٹی لیٹر کے لیے اپلائی تو کیا ہوا ہے لیکن اگر ارینج نہ ہو سکا تو۔۔۔۔؟‘‘ اس نے بمشکل ہمت جتا کر کہا۔
پروفیسر صاحب نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور ایک کاغذ اس کی جانب بڑھایا۔’’تو مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ کو ڈی این آر سرٹیفیکیٹ سائن کرنا پڑے گا۔ کیونکہ تب ہم مشینوں کے ذریعے بھی ان کا تنفس اور دھڑکن برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔‘‘
وہ ڈی این آر کے مطلب سے بخوبی واقف تھا کہ اگر اب ہمارے مریض کی سانس یا دھڑکن بند ہوتی ہے تو اسے مصنوعی طریقہ سے چلانے کی کوشش نہ کی جائے۔
وہ چند لمحے پتھرائی ہوئی نظروں سے کاغذ کے ٹکڑے کی طرف دیکھتا رہا پھر ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑ لیا۔
پروفیسر صاحب نے اس کا کندھا تھپ تھپا کر کہا۔ ’’میں جانتا ہوں کہ کہنا آسان ہے جبکہ کرنا بہت ہی مشکل۔ لیکن آپ کو حوصلہ کرنا ہوگا۔ اپنے لیے بھی اور اپنے گھر والوں کے لیے بھی۔‘‘
انتہائی ضبط کے باوجود دو آنسو اس کی پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر پھیل گئے۔ اس نے اثبات میں سر کو خفیف سی جنبش دی اور خاموشی سے اٹھ کر باہر آ گیا۔

۔۔۔۔ ٭٭٭۔۔۔۔

وہ سرٹیفیکیٹ پکڑے دادی کے روم کے باہر پہنچا۔ سامنے سے آئی سی یو کا سٹاف انچارج آتا دکھائی دیااور قریب پہنچنے پر بولا۔
’’سرجی ! آپ کے مریض کے لیے وینٹی لیٹر کا بندوبست ہو گیا ہے۔‘‘
اس کے دل میں امید کی ایک کرن سی پیدا ہوئی۔ ’’کیسے؟‘‘
’’سر ایک مریض ابھی کچھ دیر قبل ایکسپایٔر ہو گیامیں نے اس کا وینٹی لیٹر آپ کے لیے بک کر دیا ہے۔‘‘ سٹاف انچارج نے جواب دیتے ہوئے کہا۔
’’لیکن سر جی۔۔۔۔۔‘‘ سٹاف انچارج کچھ کہتا رک گیا۔
’’کیا بات ہے۔۔۔؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’سر بات بہت بڑی ہے سمجھ نہیں آتا کہ کیسے کہوں۔‘‘ وہ استفہامیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھنے لگا۔
سٹاف انچارج نے ہچکچاتے ہویٔے کہا۔ ’’سر میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کی دادی کو وینٹی لیٹر نہ ملا تو وہ زندہ نہیں رہ سکیں گی۔ ۔۔ ۔ ۔لیکن سر۔ ۔۔ ۔۔‘‘ وہ دوبارہ رک گیا۔
اس نے الجھی ہوئی نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور کہا۔ ’’جھجھکو مت کھل کر کہو کیا مسئلہ ہے۔‘‘
’’سر ابھی کچھ دیر پہلے ایک پیشنٹ آیا ہے۔ وہ تئیس سال کا نوجوان ہے اور تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔۔۔۔۔ اگر اسے وینٹی لیٹر نہ ملا تو وہ مر جائے گا۔۔۔۔۔۔ سر مجھ سے اس کے بوڑھے ماں باپ کا رونا دیکھا نہیں جا رہا۔‘‘ سٹاف انچارج نے اٹکتے ہوئے بات پوری کی۔
’’تو تم کیا چاہتے ہو کہ میں۔۔۔۔‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
اس کے ذہن میں اشتعال کی ایک لہر اٹھی اور اس نے انکار کے لیے منہ کھولا۔ لیکن ساتھ ہی اس کے ذہن کی سکرین پر ان بوڑھے ماں باپ کے چہرے ابھرے جن کی امیدوں کا واحد سہارا کھوجانے والا تھا۔وہ اس کے سامنے نہیں تھے لیکن ان کی سسکیاں اورفریادیں اسے اپنے کانوں میں گونجتی محسوس ہو رہی تھیں۔اگر وہ وینٹی لیٹر نہیں دیتا تو کیا کبھی ان آوازوں سے پیچھا چھڑا پائے گا۔ ۔ ۔اس کا ذہن کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قاصر معلوم ہو رہا تھا۔
سٹاف انچارج نے اس کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
’’سر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ ‘‘
وہ اپنی جگہ سن رہ گیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ خدا اسے ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے گا جہاں اسے دو زندگیوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ ایک لمحے کو اس کا دل چاہا کہ خود غرض بن جائے لیکن۔۔۔۔ اس نے چند لمحے سوچا۔سر اٹھا کر خدا سے صبرو استقامت کی دعا کی۔ ایک نظر شیشے کے دروازے کے پار بیڈ پر بے ہوش پڑی دادی کو دیکھا پھر ایک نگاہ ہاتھ میں پکڑے کاغذ پر ڈالی اور آنسوؤں سے تر آواز میں بولا۔
’’جاؤ وینٹی لیٹر اسے دے دو۔‘‘

۔۔۔۔٭٭٭۔۔۔۔

وہ ایمرجنسی میں اپنی ڈیوٹی پر تھا۔ اس کی دادی کی وفات کو ایک ماہ سے زیادہ ہو چلا تھا۔ اگرچہ زخم بہت بڑا تھا لیکن وقت کا مرہم اپنا کام بخوبی کر رہا تھا۔ اسے اپنے فیصلے پر کئی رشتہ داروں کی طرف سے ملامت کا نشانہ بنایا گیا لیکن وہ اپنے کیے پر نادم نہیں تھا۔
وہ نوجوان جسے وینٹی لیٹر دیا گیا تھا چند دن قبل ڈسچارج ہو کر اپنے گھر جا چکا تھا۔ وہ اپنی کرسی پر بیٹھا سوچوں میں گم تھا کہ نرس نے آ کرہولے سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ’’سر ایک نیا پیشنٹ آیا ہے ایڈمٹ ہونے کے لیے۔‘‘
اس نے سر اٹھا کر نرس کی جانب دیکھا اور بولا۔’’اوکے آپ جا کر فارم فل کریں میں آ رہا ہوں۔‘‘
وہ اٹھ کر وارڈ میں آیاتو نرس نے کچھ دور بیڈ پر لیٹے ایک بوڑھے شخص کی جانب اشارہ کیا۔ وہ چلتا ہوا ان کے پاس پہنچااور ساتھ کھڑی نرس سے پوچھا۔ ’’جی سسٹر کیا کنڈیشن ہے؟‘‘
نرس نے جواب دیا۔’’سران کی ہسٹری میں لکھا ہے کہ یہ بلڈ کینسر کے پیشنٹ ہیں اور وہ بھی ٹرمینل سٹیج پر ہے۔ بی پی ڈاؤن ہے۔ ہیموگلوبن بھی کم ہے۔ دل پوری ایفیشنسی سے کام نہیں کر رہا اور رینل فیلئیر کا بھی خدشہ ہے۔‘‘
اس کے خیال میں اس شخص کا ابھی زندہ ہونا بھی ایک معجزہ تھا۔ لیکن اس نے سر جھٹک کر پوچھا۔ ’’کیا یہ لوگ سیدھے یہاں آئے ہیں ؟‘‘
’’نہیں سر۔ یہ پہلے شیخ زاید ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھے لیکن انہوں نے ہوپ لیس کیس قرار دے کر ڈسچارج کر دیا۔‘‘ نرس نے جواب دیا۔
اس نے سوچا کہ وہ تو اس سے بھی بڑا ہاسپٹل ہے اگر انہوںنے ہوپ لیس قرار دے دیا تو ہم کیا کر سکتے ہیں ۔ لیکن وہ ان لوگوں کو مایوس بھی نہیں کرنا چاہتا تھا سواس نے نرس کو انہیں ایڈمٹ کرنے کا کہا اور چند ضروری انجیکشنز اور ڈرپس لگانے کا کہہ کر واپس آ گیا۔
ابھی اسے آفس میں بیٹھے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک نرس بھاگی آئی ۔’’سر جلدی آئیے ایک ایکسیڈنٹ کیس آیا ہے۔‘‘ وہ اٹھ کر نرس کے ساتھ چلتا ہوا وارڈ میں آیا۔ ایک نوجوان موٹر سائیکل سے ویلنگ کرتا گر گیا تھا۔اور اب س کی ٹانگ سے کافی زیادہ بلیڈنگ ہو رہی تھی۔
’’بلڈ پریشر کیسا ہے؟‘‘ اس نے نرس سے پوچھا۔
’’لو ہو رہا ہے۔‘‘
’’کوئی شریان کٹی لگ رہی ہے۔ خون زیادہ بہتا جا رہا ہے ۔ پہلے خون کو روکنا ہو گا ورنہ یہ شاک میں بھی جا سکتا ہے۔‘‘ اس نے فورا ً سٹاف کو مطلوبہ سامان لانے کا کہااور دستانے پہن کر کام میں لگ گیا۔ ابھی اس نے کام شروع ہی کیا تھا کہ ایک نرس تیز قدموں سے چلتی ہوئی آئی۔
’’سر وہ نیا پیشنٹ، اس کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ والے آپ کو بلانے کا کہہ رہے ہیں۔‘‘
اس نے ایک لمحے کو سوچ کر نرس کو اس پیشنٹ کو چند انجیکشنز لگانے کا کہااور پھر نوجوان کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اس نے جلد ہی کٹی ہوئی شریان ڈھونڈ کر اس سے خون کا بہاؤ روک دیااور باقی سٹاف کو اس کی سٹیچنگ اور مرہم پٹی کا کہہ کر تیزی سے بلڈ کینسر والے پیشنٹ کے بیڈ کی جانب قدم بڑھا دئیے۔وہاں پہنچا تو ایک اور ڈاکٹر اس کی ٹریٹمنٹ کر رہا تھا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے استفسار کیا۔
’’سانس اور دل کی دھڑکن بند ہو گئی ہے۔‘‘ دوسرے ڈاکٹر نے جواب دیا جو اسے مصنوعی سانس دینے کے علاوہ دل کو دوبارہ چلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ بھی اس کی مدد کرنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد دوسرے ڈاکٹر نے ای سی جی کی سیدھی لائن پر ایک نگاہ ڈالی اور مایوسی سے سرہلا دیا۔ وہ بھی سمجھ چکا تھا کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ اور نے ایک تاسف بھری نگاہ مریض پر ڈالی اور آفس کی جانب چل پڑا۔

۔۔۔۔٭٭٭۔۔۔۔

ڈیڈ باڈی کو لواحقین کے حوالے کرنے کے بعد دوسرا ڈاکٹر بھی اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور وہ دونوں ایک مریض کی رپورٹس ڈسکس کرنے لگے۔ابھی انہیں بیٹھے کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ باہر سے کوئی شور سا سنائی دیا۔وہ دونوں باہر کی جانب لپکے۔ وہ ایمرجنسی سے باہر نکلا تو فلیش لائٹس کی روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ اسے صورتحال سمجھنے میں تھوڑی دیر لگی۔ ابھی ابھی جس مریض کی ڈیتھ ہوئی تھی اس کے لواحقین اس کی ڈیڈ باڈی سامنے فرش پر رکھے دھرنا دئیے بیٹھے تھے اور شاید کسی چیز پر احتجاج کر رہے تھے۔ کچھ میڈیا والے کیمرے سنبھالے ان کے گرد کھڑے تھے۔ لیکن وہ احتجاج کس چیز پر کر رہے تھے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ان میں سے ایک شخص اسے دیکھ کر چلایا۔
’’یہی ہے۔۔۔‘‘
’’یہی ہے وہ ظالم ڈاکٹر جس نے ہمیں یہاں داخل کیا اور جب ہمارا مریض مر رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ تو خود غائب ہو گیا۔‘‘
وہ ساکت رہ گیا ۔ اسے ایک لمحے کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔
دوسری طرف وہ آدمی چلائے جا رہا تھا۔
’’یہ ظالم ڈاکٹر انسانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے۔ ان کا کوئی اپنا مر رہا ہوتب ان کو پتہ چلے۔‘‘
اتنی دیر میں سب میڈیا والے اپنے اپنے کیمرے اور مائیک سنبھالیاس کے گرد آجمع ہوئے۔ ایک رپورٹر نے اس کی جانب مائیک بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’ڈاکٹر صاحب یہ لوگ آپ کو اپنے مریض کی موت کا ذمہ دار کہہ رہے ہیں ۔ آپ اس کا جواب کیسے دیں گے؟‘‘
اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن زبان نے ساتھ نہ دیا۔وہ خاموشی سے ان کی جانب دیکھے گیا۔
اسے خاموش پا کر ایک اور رپورٹر لوگوں کے ہجوم میں سے آگے بڑھا۔’’آپ کی خاموشی سے لگ رہا ہے کہ یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں۔ کیا آپ اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہیں گے؟‘‘
سب اس کا موقف جاننا چاہتے تھے لیکن اس کے ذہن میں تو بس چند الفاظ ہی گونج رہے تھے۔۔۔ ’’یہ ظالم ڈاکٹر۔۔۔۔ یہ ظالم ڈاکٹر۔۔۔۔ یہ ظالم ڈاکٹر۔‘‘

۔۔۔۔٭٭٭٭۔۔۔۔


”کیا میں ظالم ہوں۔۔۔۔؟“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

sadaf00
27-10-2010, 07:57 AM
انتہائی خوفناک کہانی ہے لیکن جہاں تک تجربہ ہے حقیقت اس کے بر عکس ہی ہے بہت کم ہی ڈاکٹر ہیں جن میں اب خوف خدا باقی ہے ورنہ اب تو جس طرح سے ہم بریکنگ نیوز دیکھ کر بم دھماکوں اور لاشوں کی گنتی سے بےنیاز ہو گئے ہیں ایسے ہی ڈاکٹر بھی مریض کو پیسے فراہم کرنے والی اے۔ٹی۔ایم مشین سمجھتے ہیں

روشنی
27-10-2010, 10:10 AM
تصویر کا دوسرا رخ بہت خوبصورتی سے بیان کیا ۔۔۔۔۔۔۔ ویری ویلڈن۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزاح کے ساتھ سنجیدہ افسانے میں بھی آپ بہت اچھا لکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

ضحٰی
27-10-2010, 01:33 PM
بہت خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی تحریر۔
پرفیکٹ۔۔۔

یہ وینٹی لیٹرز کی کمی۔۔:( کتنے ہی لوگوں کے پیارے ہمارے ہاں صرف وینٹی لیٹر کی عم دستیابی کی وجہ سے جان سے چلے جاتے ہیں ہماری آنکھوں کے سامنے اور کوئی کچھ نہیں کرپاتا۔ کتنے افسوس کی بات ہے نا۔ بہت خوبصورتی سے اس کی طرف اشارہ کیا آپ نے, ویری ویل رٹن صبیح بھائی۔

اور واقعی ڈاکٹر بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ ہر موت ڈاکٹر ہی کی غفلت کا نتیجہ ہو۔۔ حالانکہ ہمارے آس پاس اکثر ہی ایسا ہوتا ہے پر یہ بھی درست ہے کہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہیے۔
بہت خوب بھائی, بہت ہی اچھا اور مکمل لکھا۔۔

Sabih
27-10-2010, 01:56 PM
انتہائی خوفناک کہانی ہے لیکن جہاں تک تجربہ ہے حقیقت اس کے بر عکس ہی ہے بہت کم ہی ڈاکٹر ہیں جن میں اب خوف خدا باقی ہے ورنہ اب تو جس طرح سے ہم بریکنگ نیوز دیکھ کر بم دھماکوں اور لاشوں کی گنتی سے بےنیاز ہو گئے ہیں ایسے ہی ڈاکٹر بھی مریض کو پیسے فراہم کرنے والی اے۔ٹی۔ایم مشین سمجھتے ہیں
خوفناک۔ ۔ ۔ ۔ ۔؟؟???
درست فرمایا کہ ایسے ڈاکٹرز کم ہیں اور اگر ایسا سلوک جاری رہا تو جو باقی بچے ہیں وہ بھی جلد ہی معدوم ہو جائیں گے۔ ۔ ۔

Sabih
27-10-2010, 01:56 PM
تصویر کا دوسرا رخ بہت خوبصورتی سے بیان کیا ۔۔۔۔۔۔۔ ویری ویلڈن۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزاح کے ساتھ سنجیدہ افسانے میں بھی آپ بہت اچھا لکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ روشنی سس

Sabih
27-10-2010, 01:59 PM
بہت خوبصورت اور دل کو چھو لینے والی تحریر۔
پرفیکٹ۔۔۔
یہ وینٹی لیٹرز کی کمی۔۔:( کتنے ہی لوگوں کے پیارے ہمارے ہاں صرف وینٹی لیٹر کی عم دستیابی کی وجہ سے جان سے چلے جاتے ہیں ہماری آنکھوں کے سامنے اور کوئی کچھ نہیں کرپاتا۔ کتنے افسوس کی بات ہے نا۔ بہت خوبصورتی سے اس کی طرف اشارہ کیا آپ نے, ویری ویل رٹن صبیح بھائی۔
اور واقعی ڈاکٹر بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں، یہ ضروری نہیں کہ ہر موت ڈاکٹر ہی کی غفلت کا نتیجہ ہو۔۔ حالانکہ ہمارے آس پاس اکثر ہی ایسا ہوتا ہے پر یہ بھی درست ہے کہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہیے۔
بہت خوب بھائی, بہت ہی اچھا اور مکمل لکھا۔۔

بہت شکریہ ضحیٰ سس
وینٹی لیٹرز کی کمی تو بہت فیل ہوتی ہے۔ ۔ ۔ اور ایک ڈاکٹر کو بعض اوقات بہت سخت فیصلے لینے پڑ جاتے ہیں۔ ۔ ۔ اسی سوچ کو سامنے رکھ کر کچھ لکھنےکی کوشش کی۔ ۔

Samia Ali
27-10-2010, 02:11 PM
بہت اچھا لکھا ہے ڈاکٹر صاحب
آپ تو سنجیدہ تحریر بھی بہت اچھی لکھ رہے ہیں
ویل ڈن

اسماء
27-10-2010, 06:18 PM
اوہ۔۔۔۔۔:(
واقعی میں جب سے ڈاکٹر کی لاپرواہی سے ہونے والی اموات کو میڈیا نے ہائی لائٹ کیا ہے تب سے اکثر اوقات مریض کی حالت کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، اس کے لواحقین ڈاکٹر کو الزام دینے لگ جاتے ہیں۔۔۔
آپ نے بہتت اچھا لکھا صبیح بھائی۔۔
اور شروع میں دادی والا سین اور وینٹیلیٹر دینے دینا بہتتت اچھا لگا مجھے۔۔اس نے کتنی بڑی قربانی دے ڈالی۔۔:(


صبیح بھائی ! ائرفورس والی کہانیاں بھی لکھیں۔۔~

Meem
27-10-2010, 06:31 PM
آپ کا نام دیکھتے ہی ایک مزاحیہ تحریر کی گونج سنائی دی۔۔ مگر یہ تو ایک بہت ہی حساس اور دل کو چھولینے والی تحریر نکلی۔ بہت عمدگی سے آپ نے ایک ڈاکٹر کے احساسات تو مجبوریوں کو بیان کیا۔۔ ایک الگ پہلو دکھایا۔
اتنا اچھا لکھنے کے لیے شکریہ۔

Trueman
27-10-2010, 06:38 PM
پاء جی بہت اچھا لکھا ۔ ۔خوب