PDA

View Full Version : تجھے پا کر از وش



Aqsa
15-10-2010, 09:00 PM
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/wishcopy-1.jpg

Aqsa
15-10-2010, 09:02 PM
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/w1.jpg
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/w2.jpg
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/w3.jpg
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/w4.jpg
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/w5.jpg

Aqsa
21-10-2010, 08:40 PM
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/w6.jpg
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/w7.jpg
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/w8.jpg
http://i684.photobucket.com/albums/vv210/Kishtaj/w9.jpg




”تجھے پا کر“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Wish
22-10-2010, 02:23 AM
تجھے پا کر ۔ ۔
وش



تجھے پا کر میں نے یہ جانا ہے جاناں
تیرے بن ادھورا ، مرا آشیانہ




''ماہی جلدی کرو نا، کتنا وقت ہو گیا۔۔ '' اس نے کمرے کے دروازے سے اندر جھانکتے ہوئے کہا اور گھڑی پر ایک نگاہ ڈالی۔
'' ایک تو مجھے یہ خواتین کی تیاریوں کی سمجھ نہیں آتی۔ مہینہ پہلے سے بھی پتہ ہو کہ کہیں جانا ہے پھر بھی عین وقت تک تیاری نہیں ہو پاتی۔'' اس نے جھلائے ہوئے انداز میں کہا۔
''کیا ہو گیا ہے علی۔ آپ کو تو میرے تیار ہونے سے پہلے تو کبھی چڑ نہیں ہوئی۔ آج کیا بات ہے؟'' ماہی نے اپنی مسکارا لگی بڑی بڑی آنکھوں کو مزید پھیلائے اسے حیرانی سے دیکھا۔
''ہاں لیکن یہ بھی تو دیکھو نا آج کتنا اہم دن ہے اور اس دن میں ذرا دیر برداشت نہیں کر سکتا۔ بس جلدی چلو۔'' علی نے ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی ماہی کے پاس جا کر اس کے کندھے تھامتے ہوئے کہا۔
''اوہو بس آ گئی۔ ۔آگئی۔ ۔ ۔ آپ دونوں جا کر گاڑی میں بیٹھیں۔ میں بس دو منٹ میں آئی۔'' وہ لپ گلوس کا برش ہونٹوں پر پھیرنے لگی۔
''نہیں تم نہیں آؤ گی۔ میں جانتا ہوں۔ بس ابھی چلو ہمارے ساتھ ہی۔''
''چچ۔ ۔ آپ بھی نا بچے ہی بن جاتے ہیں۔ اچھا چلیں بس۔'' اس نے جلدی سے اپنی لپ اسٹک کو فنشنگ ٹچ دیا۔ ایک آخری بار اپنے میک اپ کا جائزہ لے کر ڈریسنگ کی سائیڈ پر پڑا اپنا بیگ اٹھایا اور علی کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
''چلیں۔'' اس نے علی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
''نہیں۔'' علی جب بھی اس کی آنکھوں میں دیکھا کرتا تھا سب کچھ بھولنے لگتا تھا۔۔ آج بھی یہی ہونے کا امکان تھا جب ماہی نے اپنی ان گہری نیلی آنکھوں کو سُکیڑ کر اسے گھورا اور ایک طرف سے ہو کر یہ کہتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔۔ ''میں اور شیری نیچے گاڑی میں آپ کاانتظار کر رہے ہیں۔۔ ''اس کے لبوں پر ایک شریر مسکراہٹ تھی۔۔ علی نے آنکھیں بند کر کے ایک گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا اور پلٹ کر ماہی کو آواز دی۔
''ماہی!۔'' آواز پر اس نے مسکراتے ہوئے پلٹ کر دیکھا۔
''جی۔''
''اچھی لگ رہی ہو۔'' علی نے تعریفی نظروں سے دیکھتے ہوئے اسے کہا۔
''اچھا جی۔'' اس نے شوخی سے مسکراتے ہوئے کہا اور دونوں ایک ساتھ گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔

٭٭٭

''بابا۔ ۔ بابا۔۔'' ان کا چار سال کا بیٹا حسین جسے پیار سے وہ سونُو بلاتے تھے، بلک بلک کر رو رہا تھا۔
"دیکھو بیٹا بی بریو۔ یہاں کتنے سارے بچے اور بھی ہیں۔ دیکھو ۔ ۔ ۔وہ بچی کتنی چھوٹی سی ہے۔ ۔ ۔آپ سے بھی چھوٹی لیکن وہ تو نہیں رو رہی۔ اب تو آپ بڑے ہو گئے ہو۔ چلو شاباش۔ چپ ہو جاؤ۔ ۔'' علی اپنے پیر پر وزن ڈالے سونُو کے سامنے زمین پر بیٹھے ہوئے اسے خود سے جدا کرنے کی کوشش کر رہاتھا لیکن وہ کسی طور مان کر نہ دے رہا تھا۔۔
''ماہین اب کیا کریں۔ یہ تو بالکل نہیں مان رہا۔ ایسے کیسے چھوڑ جائیں اسے۔'' علی نے سونُو کو سینے سے لگا کر واپس کھڑے ہوتے ہوئے ماہی سے کہا۔ ماہی خود بھی پریشان تھی۔۔
''لیکن علی چھوڑ کر تو جانا ہو گا نا۔ سب کو ہی اس اسٹیج سے گزرنا پڑتا ہے۔'' وہ ماں تھی لیکن علی کے مقابلے میں تھوڑی کم جذباتی تھی۔۔ سونُو کے معاملے میں علی بہت ہی زیادہ حساس تھا۔۔ اسے اپنے بیٹے سے بے حد محبت تھی۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں ایک آنسو تک نہ دیکھ سکتا تھا کُجا اس کو یوں روتا چلاتا چھوڑ کر جانا۔
''لیکن یہ نہیں جا رہا۔ یہ کبھی دور نہیں ہوا ہم سے۔۔'' علی نے بیچارگی سے کہا۔
''جو بھی ہے علی۔ اب یہ تو کرنا ہی پڑے گا۔'' ماہی کبھی کبھی علی کی جذباتیت پر بھڑک جایا کرتی تھی کہ وہ ان دونوں کے لیے ضرورت سے زیادہ ہی حساس تھا۔
''کم بے بی۔ آؤ کلاس میں چلیں۔'' کانونٹ اسکول کی مس میری نے بہت پیار سے سونُو کو علی سے لینا چاہا تو وہ پلٹ کر باپ کے سینے سے جا لگا۔
''نہیں مس۔ یہ نہیں جائے گا۔ ہم کل آ جائیں گے۔'' علی نے اسے اپنے سینے میں بھینچتے ہوئے کہا۔
''اور کل بھی یہ یونہی روئے گا سر۔ کچھ بچوں کو شروع شروع میں مسئلہ ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ آج اسے گھر لے جائیں گے تو پھر یہ روز یونہی ضد کرے گا۔ اور آپ اسے کبھی اسکول نہیں بھیج پائیں گے۔'' مس میری نے مسکرا کر سمجھانا چاہا۔
''لیکن میرا خیال ہے کہ یہ ابھی ہے بھی چھوٹا۔'' علی نے کہا جس پر مس میری بے ساختہ ہنس دیں۔
''اس کی عمر بالکل ٹھیک ہے۔ یہاں کچھ بچے تو اس سے بھی چھوٹے ہیں۔ آپ اس بچے کو مجھے دیں اور آرام سے گھر جائیں۔'' یہ کہتے ہوئے مس میری نے سونُو کو اٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے تو ماہی نے اپنا ہاتھ علی کے کندھے پر رکھ دیا۔۔ اس نے ایک نظر ماہی کو دیکھا تو اس نے اپنی پلکوں کو جھپک کر اپنے ساتھ ہونے کا احساس دلایا۔۔ علی نے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے مس میری کے حوالے کر دیا۔ وہ روتے ہوئے سونُو کو اٹھا کر اس سے باتیں کرتے ہوئے کلاس کی طرف بڑھ گئیں۔اس کی آواز علی کے کانوں میں گونجی
''مجھے میرے بابا کے پاس جانا ہے۔ چھوڑو مجھے۔ ۔ ۔بابا ۔۔ بابا۔۔'' اس کا توتلا لہجہ اور برستی آنکھیں۔۔ علی کا کلیجہ کٹنے لگا۔۔ وہ آگے بڑھنے لگا تو ماہی نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
''تھوڑی دیر رک جائیں علی۔ مس میری ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ اگر آج ہم اسے لے بھی جائیں تو کل بھی وہ یہی کرے گا۔ کب تک ہم اسے کلاس کے باہر سے ہی واپس لے جاتے رہیں گے۔ ہمیں ہمارے بچے کو مضبوط بنانا ہے ڈر کر بھاگنے والا نہیں۔'' ماہی نے ہمیشہ کی طرح اس کی ہمت بندھائی تھی۔
''ہممم ۔'' اس نے کہا اور تائید میں سر ہلا دیا۔
''آئیں کچھ دیر وہاں بنچ پر بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں۔'' وہ دونوں ہی اسے بھیجنے کے بعد بھی وہاں سے جانے کا ارادہ نہ رکھتے تھے۔
''صحیح کہتے ہیں نا ماہی۔ اولاد بھی کتنی بڑی آزمائش ہوتی ہے انسان کی۔'' علی نے بینچ پر بیٹھے ہوئے کہا تو ماہی مسکرا دی۔
''ہاں ہوتی ہے۔ اور ہمیں کہیں بھی کمزور نہیں پڑنا علی۔ یہ تو ابھی ایک شروعات ہے۔ کل کو زندگی میں کئی ایسے موقعے آئیں گے جب ہمارا بچہ ہمارے سامنے آزمائش بن کر کھڑا ہو گا۔ ایک طرف وہ چیز ہو گی جو اس کے حق میں بہتر لیکن کچھ تکلیف دہ ہو گی، جبکہ دوسری طرف اس کی ظاہری خوشی لیکن نقصان دہ چیز ۔۔ تب بھی ہمیں کمزور نہیں پڑنا۔۔ ہمیں وقتی فائدہ نہیں بلکہ صحیح چیز کا انتخاب کرنا ہو گا۔'' وہ علی کو سمجھانے لگی جو شاید اس کی بات سنتے ہوئے بھی سن نہیں رہاتھا۔۔
بمشکل دس منٹ ہی گزرے ہوں گے جب وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کہیں جانے لگا۔
''رکیں علی۔ کہاں جا رہے ہیں؟''
''میں ذرا اسے ایک نظر دیکھ کر تو آؤں کہ وہ چپ ہوا یا نہیں۔'' وہ ازحد فکر مند تھا۔
''علی تھوڑا حوصلہ کر لیں۔ آپ کی حالت تو اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ ہو گیا ہو گا وہ چپ اور آپ کو دیکھ کر پھر سے رونے لگے گا۔'' ماہی نے سنجیدگی سے کہا۔
''اچھا بابا میں اندر نہیں جاؤں گا، بس دروازے میں لگے اس شیشے سے ہی اند جھانک لوں گا۔'' اس نے بیچارگی سے کہا تو ماہی نے مسکرا کر سر ہلایا۔
''پلیز نا۔ آؤ تم بھی چلو ساتھ ہی۔'' اس نے ماہی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ بھی اس کا ہاتھ تھامے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
وہ دونوں ایک بار پھر سونُو کی کلاس کے سامنے تھے۔۔ علی دروازے پر لگے شیشے سے اندر جھانکنے لگا۔۔
اندر مس میری کی کرسی سے لگا انھیں پکڑ کر کھڑا رویا رویا سا اس کا سونُو۔ علی کے دل میں جیسے ایک کانٹا سا چبھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ دونوں کسی قید میں مقید ہوں۔۔ نہ وہ اس پار آ سکتا تھا اور نہ ہی علی اس پار اس کے پاس جا سکتا تھا۔ وقت نے باپ بیٹے کے درمیان کیسی دیوار حائل کر دی تھی۔ ماہی کو لگ رہا تھا علی ابھی رو پڑے گا۔
''علی آپ یوں کریں کہ دفتر جائیں۔ میں یہیں ہوں۔ ۔ ۔ اس کے پاس ہی رہوں گی۔'' ماہی جانتی تھی وہ جتنی دیر یہاں رہے گا ایک مسلسل کرب کی سی کیفیت میں رہے گا۔
''نہیں۔ میں نہیں جاؤں گا۔'' علی نے صاف منع کیا۔
''علی پلیز۔ آپ جائیں۔ میں نہیں چاہتی کہ اسے یوں دیکھ دیکھ کر آپ مسلسل اپ سیٹ رہیں۔ وہاں کام میں مصروف ہوں گے تو دھیان بٹے گا۔'' ماہی نے اسے سمجھانا چاہا۔
''میں نے کہا ناماہی ۔ ۔ ۔ میں نہیں جا رہا۔'' علی بھی بضد ہوا۔
''آپ نہیں جا رہے تو ٹھیک ہے۔ میں ابھی لاتی ہوں اسے اور لے جاتے ہیں واپس۔ نہیں پڑھانا ہمیں اس کو۔ ٹھیک؟'' ماہی کا صبر اب جوابدے گیا۔ وہ کب سے علی کو یوں ذرا سی بات پر اس قدر اپ سیٹ ہوتا دیکھ رہی تھی۔
''اوہو۔ تم تو غصہ ہی کر گئی۔ اچھا چلو میں چلا جاتا ہوں۔ لیکن تم یہاں ہی رہنا۔ اس کے پاس ہی۔'' اس نے اندر کلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو ماہی نے مشکل سے اپنی ہنسی دبائی۔
''ہاں میں یہیں ہوں۔ آپ جائیں اور اپنا دھیان کسی کام میں لگائیں۔''ماہی نے زبردستی اسے وہاں سے بھیجا اور علی نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے بچے کی بھلائی کے لیے اسے خود سے دور کر دیا۔

٭٭٭

وہ سڑک پر گاڑی چلا رہاتھا لیکن اس کا دھیان اب بھی وہیں اٹکا ہوا تھا۔کبھی کبھی کوئی منظر آنکھوں کے سامنے ٹھہر جایا کرتے ہیں جیسے اس وقت علی کی آنکھوں میں حُسین کو اس سے دور لے جانے کا منظر ٹھہر گیا تھا۔۔ وہ ایک پل جو گزر چکا تھا۔ ۔ ۔ وہی ایک پل اس کے ارد گرد بکھرا پڑا تھا۔ سگنل پر گاڑی چڑچڑاتے ہوئے ٹائروں سے رکی تو اسے خیال آیا کہ وہ ڈرائیوگ کی طرف متوجہ ہی نہیں تھا۔ سگنل کھلنے کے بعد اس نے گاڑی سڑک پر ایک طرف لگائی اور اپنا موبائل فون اٹھا کر نمبر ملانے لگا۔
''آہ! نہیں رہ سکے دو منٹ بھی۔'' ماہی نے اس کی کال رسیو کر کے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔
''ہممم۔''
''اب کیا؟''
''ونڈو سے دیکھ کے بتاؤ نا کہ وہ کیا کر رہا ہے؟''
''اچھا رکیں۔ جا کر دیکھتی ہوں۔'' ماہی نے کہا اور بینچ سے اٹھ کر سونُو کی کلاس کی طرف جانے لگی۔
''تھینکس۔'' علی نے کہا تو ماہی نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔
''ہممم۔۔'' اس نے کہا اور دروازے پر لگے شیشے سے اندر دیکھنے لگی۔
'' علی! دیکھیں تو۔ وہ تو بالکل ٹھیک ہے، خوش باش۔۔بچوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا ہے۔ اور یہ دیکھیں۔ ۔ ۔ اب وہ کچھ ہاتھ میں لیے دوڑا دوڑا مس میری کے پاس جا رہا ہے۔۔'' ماہی بھی سونو کو یوں دیکھ کر خوش ہوئی جو اس کی آواز سے چھلک رہی تھی۔
''ماہی۔۔ ماہی۔۔ سنو!'' علی نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
''ہاں کہیں۔'' وہ اب کافی خوشگوار موڈ میں تھی۔
''تم نے مجھ سے کہا دیکھو۔۔ کیسے دیکھوں؟'' علی نے اس کی بات پکڑتے ہوئے کہا۔
''اوہ! ہاں وہ ایسے ہی منہ سے نکل گیا۔''
''اچھا کیا جو نکل گیا۔ چلو شاباش اب اپنے موبائل میں اس کی ایک اچھی سی تصویر لو اور مجھے ایم ایم ایس کرو۔'' علی کو ایک دم آ جانے والی اس خیال نے متبسم کر دیا۔
''علی!۔''
''پلیز نا۔ پلیز پلیز پلیز۔'' وہ ہمیشہ اپنی الٹی سیدھی بات منوانے کے لیے یونہی بچوں سی ضد کرتا تھا اور ماہی کی اس ضد کے آگے ایک نہ چلتی۔
''اچھا اچھا۔ آپ بھی نا بس۔ بند کریں فون۔ ۔ ۔بھیجتی ہوں۔'' ماہی نے اس کی بات مانتے ہوئے کہا۔
''اوکے میں منتظر ہوں۔ اور سنو۔ نو تھینکس۔''علی نے مسکراتے ہوئے کہا تو ماہی کی مسکراہٹ بھی مزید گہری ہو گئی۔۔

٭٭٭

علی ابھی وہیں سڑک کے کنارے گاڑی کھڑے کیے منتظر تھاکہ کچھ ہی لمحوں میں اس کے موبائل کی اسکرین ایک نئے میسج کے نوٹیفیکیشن سے جگمگا اُٹھی۔۔ ایسی ہی ایک جگمگاہٹ اس کی آنکھوں میں بھی تھی۔ اس نے جلدی سے میسج کھولا اور تصویر لوڈ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔ وہ بے چینی سے موبائل کی اسکرین کو گھورتا ہوا ذرا ذرا سی کھلتی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔۔ تصویر مکمل ہوتے ہی اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔۔
وہ بہت پیار سے مس میری کو ہاتھ میں پکڑا بے بی ٹوائے دکھا رہا تھا۔ علی نے اس کی تصویر کو چُوم لیا اور میسج کا جواب دینے لگا۔
Thanks. He is my life, so you are.
اس نے میسج بھیجا اورایک بار پھر گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ ۔ ۔
دفتر پہنچ کر اپنے کیبن میں جاتے ہی اس نے فون اٹھایا۔۔
''ہیلو! مس مارٹینا۔ آج کوئی میٹنگ تو نہیں نا۔''
''نہیں سر۔ آج کی تمام میٹنگز تو آپ مہینہ پہلے سے ہی کینسل کروا چکے ۔۔ کہ اس دن کوئی میٹنگ نہ رکھی جائے۔'' مس مارٹینا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ اس کی وجہ سے بخوبی واقف تھیں۔
''اور کوئی کال بھی مجھے ٹرانسفر مت کیجیئے گا۔ میں کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔''
''بہت بہتر سر۔'' انہوں نے جواب دیا تو علی نے فون ڈس کنیکٹ کر دیا۔
وہ کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور خود کو سمجھانے لگا۔۔
''کوئی زیادہ بڑی بات تو نہیں تھی۔ ۔ سب والدین کے بچے ہی اسکول جاتے ہیں۔ میں بھی تو گیا تھا۔۔ میرے بابا تو۔ ۔ ۔
میرے بابا۔ ۔ ۔''
ایک دم سے بہت سے مناظر آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔۔ کانوں میں کئی آوازیں گونجنے لگیں۔ ۔ گھڑی کے کانٹے جیسے پیچھے کو دوڑنے لگے۔۔ وہ کہیں دور ماضی میں سفر کرنے لگا تھا۔۔

٭٭٭

''اچھا پتر۔۔ جاؤ اللہ کے حوالے ۔۔'' بابا نے علی کے سر پر پیار یتے ہوئے دعا دی اور پھر بولے ۔ '' بڑے ارمانوں سے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ جی نہیں مانتا لیکن تیری خوشی بھی عزیز ہے۔۔ اپنی خیر خبر دیتے رہنا۔'' انھوں نے تیسری بار اس کی پیشانی چومتے ہوئے کانپتی آواز سے کہا۔
"ابا جی! میں مزید ایسے گھٹ گھٹ کر زندگی نہیں گزارنا چاہتا۔ میں ایسی زندگی کے خواب نہیں دیکھتا۔۔ اور جیسے خواب میں نے دیکھے ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے میرا جانا بہت ضروری ہے۔'' وہ نہ جانے کتنی بار کہی ہوئی بات پھر سے انہیں بتا رہا تھا۔۔
''ٹھیک ہے پتر۔ میں کوئی روک تھوڑا ہی رہا ہوں۔۔ جا اللہ سائیں تجھے کامیاب کرے گا۔۔'' انہوں نے دکھ سے کہا۔
''اچھا ابا جی اب فلائٹ کا وقت ہو رہا ہے۔ ماں کو میرا پیار دیجیئے گا اور انھیں کہنا کہ زیادہ روئیں مت، تاکہ میں وہاں سکون سے رہ سکوں۔ ورنہ پریشان ہی رہوں گا۔ اور میں جلد ہی آپ دونوں کو بھی وہاں بُلا لوں گا۔'' اس نے کہہ کر اپنا سامان اٹھایا۔
''نہ نہ بیٹا جی۔ پریشانی کیسی۔ تجھے اپنی ماں کا پتہ تو ہے۔ جھلی ہے۔ رو دھو کے ابھی تک چپ ہو کے گھر کے کام دھندوں میں لگی ہو گی۔ وہ کہاں بیٹھ سکتی ہے دو منٹ بھی۔ تو نے بس پیچھے کی کوئی فکر نہیں کرنی۔ آگے کا دھیان کر۔ رب سوہنا چاہے گا تو سب اچھا ہو گا۔'' انہوں نے علی کے انہیں وہاں بلانے کے وعدے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔
علی آگے بڑھ کر آخری بار اپنے باپ سے گلے ملا۔ وہ کچھ کمزور پڑنے لگا تھا کہ اناؤنسر کی آواز نے اسے آگے بڑھنے پر مجبور کیا۔ بابا نے مشکلوں سے اسے خود سے جدا کر کے سفر پر روانہ کیا۔ وہ بھی بار بار پلٹ کر انھیں دیکھتا رہا۔۔ اور پھر وہ دونوں ایک دوسرے کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔۔
علی کو آج بھی یاد تھا، ان کی چہرے پر چھائی وہ پژمردگی علی کی یاد کے پردے پر ایک بار پھر پھیل گئی۔۔ وہ بوڑھا باپ اس وقت اور بھی بوڑھا لگ رہا تھا لیکن بیٹے کو پریشان نہ کرنے کی غرض سے آنکھوں میں آنسو چھپائے مسکرا کر ہاتھ ہلاتا رہا۔۔ اس کے موڑ مُڑ جانے کے بعد بھی۔۔ جانے کتنی دیر تک۔۔
اور پھر علی یہاں آ گیا۔۔ خوابوں کو تعبیر دینے والی اس کی دنیا۔۔ جرمنی آ کر علی نے سر توڑ محنت کی۔۔ رات دن ایک کیا۔۔ کام کیا۔۔وہ والدین کو باقاعدگی سے پیسے بھیجتا اور فون کرتا رہا۔۔ پانچ سال کا عرصہ یونہی گزر گیا۔۔ اس نے وہیں ایک ملٹی نیشنل پاکستانی لڑکی سے ماں باپ کی اجازت سے شادی کر لی تھی۔۔ وہ والدین کو کبھی بھولا تھا اور نہ ہی انہیں اپنے پاس بلانے کا وعدہ۔ علی نے کئی بار انہیں جرمنی آنے کے لیے کہا تھا لیکن ان کے والدین اپنا ملک چھوڑنے پر راضی نہ تھے۔۔ اس کے بابا نے تو جیسے تیسے بیٹے کی خوشی پر حالات سے سمجھوتہ کر لیا تھا لیکن ماں کو کسی کل چین نہ ملتا۔ وہ اکثر فون پر آبدیدہ ہو جاتیں۔۔
''بس بیٹا۔ بڑا وقت گزر گیا ہے۔ اب تو تو بڑا آدمی ہو گیا ہے ۔ اس گھر میں نہ آ۔ شہر میں کوئی بڑا مکان لے لے۔ ہم روز تجھے دیکھنے آ جایا کریں گے۔ اتنی دور تو تیری شکل کو ہی ترس جاتے ہیں۔ ایسا نہ ہو پتر کے تجھے دیکھے بن ہی جانا پڑ جائے۔''
ان کا ضبط جب ٹوٹ جاتا تو وہ فون پر علی سے کہتیں۔۔ اور جب ان کی ایسی باتیں شروع ہو جاتیں تو علی زیادہ دیر بات نہ کر پاتا اور فون بند کر دیتا۔۔وہ انہیں کیسے سمجھاتا کہ یہاں اس کی ایک زندگی تھی۔۔ ایک کیریئر ۔۔ جسے اس نے سالہا سال محنت کر کے بنایا تھا۔۔ اس کی بیوی بھی یہاں ہی پلی بڑھی۔۔ یہیں سیٹل تھی۔۔ وہ کیسے ایک دم سے اپنا سب چھوڑ چھاڑ کر واپس چلے جاتے۔۔
موبائل کی رنگ ٹون بجنے پر وہ اپنی دنیا میں واپس لوٹا۔ ۔ ۔یا۔ ۔ اپنی دنیا میں واپس آیا؟ اس نے سر جھٹکا اور کال یس کی۔
''ہیلو۔''
''میں تو پریشان ہی ہو گئی کہ ایک گھنٹہ ہو گیا جناب نے کال کیسے نہیں کی؟ تو سوچا خیریت پوچھ لوں۔ اب کیسا ہے موڈ؟'' ماہی نے خوشگواری سے پوچھا۔
''اچھا ہے۔'' اس کی آواز سنتے جیسے اس کے اعصاب پرسکون ہونے لگے۔
''اچھا ہے نا۔ دیکھا وقت کتنا بڑا استاد ہوتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں اس نے باپ اور بیٹے کو کتنا کچھ سکھا دیا۔'' وہ اپنی ترنگ میں بولے گئی۔
''ٹھیک کہہ رہی ہو ماہی۔ واقعی وقت بہت بڑا استاد ہوتا ہے۔ چند لمحوں میں بہت کچھ سکھا جاتا ہے۔'' اس پر اب بھی کچھ دیر پہلی والے کیفیت کے اثرات مرتب تھے۔
''اچھا چلیں میں رکھتی ہوں۔ بس آپ کی خبر ہی لینی تھی۔ اللہ حافظ۔'' ماہی نے اس کی کیفیت سے بے خبر ، اپنی بات کہی اور فون رکھ دیا۔
انسان کبھی کبھی اپنی خواہشوں کے حصول کے لیے اتنا خود غرض ہو جاتا ہے کہ اسے اپنی ذات اور اپنے مفاد کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں دکھتا۔ میرا بچہ کچھ گھنٹوں کے لیے میری نظروں سے یوں دور ہوا اور مجھ سے سہا نہیں جا رہا۔ میرے ماں بابا۔ ۔ ان کی کیا حالت ہوئی ہو گی جب میں اپنے بوڑھے ماں باپ کو یوں بے آسرا چھوڑ آیا تھا۔
''بابا۔ ۔ آج اس درد سے گزرنے کے بعد میں آپ کا درد سمجھ سکتا ہوں۔ مجھے معاف کر دو بابا۔ ۔ ۔ مجھے معاف کر دو۔'' وہ کرسی کی پشت پر سر ٹکائے بیٹھا اپنے ماں بابا سے بات کر رہا تھا۔۔ اس کی آنکھوں سے دو قطرے نکلے اور اس کی قمیض میں جذب ہو گئے۔
پھر جیسے اس نے خود سے ایک فیصلہ کیا ۔۔

٭٭٭

''آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ۔۔ یہ زندگی اب صرف آپ ہی کی تو نہیں۔۔ میں بھی اس کی برابر کی حصہ دار ہوں۔'' ماہی نے اس کے ہاتھوں میں سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا تو علی اس کو دیکھتے رہ گیا۔۔ اتنا سنجیدہ چہرہ اور سفاک لہجہ۔۔ کیا یہ اسی کی ماہی تھی؟
''ماہی مجھے سمجھنے کی۔۔'' وہ کہہ رہاتھا جب ماہی اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی
''کیا سمجھنے کی کوشش کروں علی کہ شادی کے وقت آپ نے جو وعدے کیے تھے ان کے ٹوٹنے کا وقت آ گیا ہے؟'' اس نے علی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
''میں خود غرض ہو گیا تھا ماہی۔۔'' علی سمجھ نہ پا رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔
''مجھے نہیں معلوم تھا علی کہ آپ اتنے خودغرض انسان ہیں۔۔ کہ پہلے ایک خودغرضی دکھانے کے بعد ایک بار پھر وہی سب دوہرائیں گے۔'' ماہی اس کے پاس سے اٹھ کر کھڑکی میں آ کھڑی ہوئی۔۔
''ٹھیک ہے ماہی۔۔ میں تمہیں فیصلہ کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہوں۔۔ تمہارا جو بھی فیصلہ ہو گا مجھے منظور ہے۔۔ تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے اچھی طرح سوچ لو۔۔'' علی نے شکستہ لہجے میں کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ ماہی اس کی پشت کو گھورتی رہ گئی۔۔
''کیا یہ وہی علی ہیں جو مجھ پر جان دیتے تھے۔۔ جو میری بات کو حرفِ آخر سمجھا کرتے تھے۔۔؟'' اس نے دکھ سے سوچا اور واپس اپنے بستر پر آ کر بیٹھ گئی۔۔

٭٭٭

ایک ہفتہ یوں پلک جھپکنے میں گزر گیا۔۔ علی نے اپنا سارا بزنس وائینڈ اپ کر لیا تھا، ہر چیز میں ماہی کو اس کا پورا حق دیا۔۔ اور تو اور ۔۔ اپنا حق بھی چھوڑ دیا۔۔ اپنی جان سے پیارا حُسین۔۔
ماہی نے علی کا سارا سامان پیک کر دیا۔۔ دونوں کے مابین آخری گفتگو اسی دن ہوئی تھی جب علی نے ماہی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے سوچنے کے لیے وقت دیا تھا۔۔ ماہی کی خاموشی اس کا انکار تھا۔۔ علی نے بھی اس پر دباؤ نہ ڈالا تھا۔۔ محبتوں کے رشتے مجبور کرنے سے نہیں نبھتے۔۔ علی نے بھی اسے مجبور کرنے کی کوئی کوشش نہ کی تھی۔
اور پھر وہ وقت بھی آ گیا جو علی کے لیے مشکل ترین تھا۔۔ جتنا خوش وہ یہاں آتے ہوئے تھا جاتے وقت اس سے دگنا ملال اور منوں بوجھ اس کے دل پر تھا۔۔
''اچھا پھر میں چلتا ہوں۔۔'' اس نے صوفے پر بیٹھی ماہی پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا۔ ماہی کا دل پوری شدت سے دھڑکا تھا۔۔ اس نے نظریں اٹھا کر علی کی آنکھوں میں دیکھا۔۔ علی کے حوصلے ایک لمحے کو پست ہوئے۔۔ کیا نہ تھا اس کی آنکھوں میں۔۔ التجا، بے یقینی، گزارش۔۔ لیکن اب وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا۔۔ اس نے نظریں پھیر لیں اور اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا۔ باقی کا سامان گاڑی میں رکھا جا چکا تھا۔۔
''میرے سونُو کا بہت خیال رکھنا ماہین۔۔'' اس نے اسے ماہی کی بجائے ماہین پکارا تو ماہی کو بھی یقین ہو گیا کہ اب ان دونوں کے بیچ بہت سے فاصلے حائل ہو چکے تھے۔۔ علی نے جھک کر اپنا بیگ اٹھایا تو ماہی بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
''میں یہاں سے جاتے ہوئے عمرہ کر کے جاؤں گا۔۔ سوچا تو کسی اور طرح سے کرنے کا تھا لیکن قسمت میں شاید یونہی تھا۔۔'' علی نے بے مقصد بات کی تھی۔۔ وہ جانتا تھا کہ اسے کوئی دلچسپی نہیں کہ وہ کہاں کہاں سے ہو کر جا رہا ہے۔۔ اس کے لیے یہی بہت تھا کہ اس کا علی اس سے دور جا رہا تھا۔۔بہت دور۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے سنتی رہی۔۔
''میں سونُو کو دور سے ہی ایک نظر دیکھوں گا۔۔ ورنہ میں جا نہیں پاؤں گا۔۔'' اس نے کہا اور سامان اٹھائے کمرے سے باہر نکل آیا۔ علی کے پیچھے پیچھے ماہی بھی کمرے سے باہر نکل آئی۔ اس کا رخ سونُو کے کمرے کی طرف تھا جہاں وہ اپنی نینی کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا۔۔ ماہی نے علی کی آنکھوں سے آنسو گرتا دیکھا۔۔ اس کے دل کو جیسے کسی نے مسل دیا ہو۔۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ آگے بڑھ کر علی کو تھام لے۔۔ اس کے سینے پر سر رکھ کر خوب روئے اور لڑے کہ اس نے کیسے یوں سب چھوڑ جانے کا فیصلہ کر لیا۔۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہ کیا۔۔ چھوڑے جانے کا احساس باقی ہر احساس پر غالب آ گیا اور اس نے اپنے موم ہوتے دل کو ایک بار پھر سخت کر لیا۔۔ کسی پتھر کی طرح۔۔ اور اسی پتھر سے ٹکرا کر ان کا رشتہ پاش پاش ہونے جا رہا تھا لیکن وہ ان جان بنی رہی۔۔

٭٭٭

خدا کے گھر کھڑا، ہاتھ اٹھائے ہوئے وہ خاموشی سے آنسو بہا رہا تھا۔۔ اس کے آنسوؤں میں التجا لیکن لب پر کوئی دعا نہ تھی۔۔ وہ ایک ایسا مسافر تھا جو اپنی کشتیاں جلا کر نکلا تھا۔۔اس کا دل بہت کچھ مانگنا چاہتا تھا لیکن اس کے لب اس کا ساتھ نہ دے رہے تھے۔۔ وہ صرف اس پاک گھر کی طرف دیکھے ہاتھ اٹھائے آنسو بہا رہا تھا۔۔ آج یہاں اس کی آخری رات تھی۔۔ پچھلے دو دنوں اور تین راتوں سے اس نے یہاں اپنے رب کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔۔اپنے تمام کردہ گناہوں اور ناانصافیوں کی معافی مانگی تھی۔۔ اپنے بیوی اور بچے کے لیے خوشیاں اور والدین کے لیے صحت مانگی۔۔ یہ دن اس کی زندگی کے سب سے اہم دن تھے۔۔ لیکن وہ بہت شکستہ تھا۔۔ بہت ٹوٹا بکھرا۔۔
اقبال کہتے ہیں۔
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں
اگر وہاں کھڑے علی یہ جان لیتے تو شاید اس قدر بکھرتے نہیں۔۔ لیکن ابھی ان پر آگہی کے در وا نہیں ہوئے تھے۔۔ ابھی کچھ وقت باقی تھا۔

٭٭٭

آج سات سال بعد اس نے اپنے ملک کی مٹی کو چھوا۔۔ اس کی خوشبو کو محسوس کیا تھا۔۔وہ ایئر پورٹ سے باہر نکلا تو سامنے کئی گاڑیاں کھڑی تھیں جن کو وہ آسانی سے کرائے پر لے سکتا تھا لیکن وہ گاڑی اسٹینڈ کی بجائے تانگے والوں کی طرف بڑھ گیا اور اسے اپنے گھر کا پتہ سمجھانے لگا۔۔ تانگے پر بیٹھ کر اس کے ذہن میں اس کے ماضی کی فلم سی چلنے لگی۔۔ پرانا وقت، پرانی زندگی۔۔
ہر انسان کو بالآخر اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہوتا ہے۔۔ علی بھی لوٹ رہا تھا۔۔وہ اپنے اصل کی طرف اپنا سب کچھ کھو کر لوٹا تھا۔۔ جب خود باپ بنا تو اپنے ماں باپ کی تکلیف کا احساس ہوا۔۔ لیکن وقت نے اسے مہلت دی تھی۔۔ کہ وہ اپنی کی گئی حق تلفیوں کا ازالہ کر سکے۔۔ اور اس کے لیے اس نے اپنی خوشیوں اور اولاد کی قربانی تک دے دی تھی۔۔ تانگہ لاہور کے اندرون شہر میں داخل ہو رہا تھا۔۔ وہی گلیاں وہی لوگ۔۔ سب کچھ ویسا ہی تو تھا۔ ا ور پھر وہ تانگہ ایک تنگ سی گلی کے باہر رک گیا ۔۔ علی نے اسے پیسے دے کر کچھ سامان اس سے اٹھوایا اور ایک بیگ اٹھائے گلی میں اس کے آگے آگے چلنے لگا۔۔ آج گلی میں چھٹی نہ ہونے کی وجہ سے رش کافی کم تھا لیکن پھر بھی اسے دیکھ کر وہاں کھڑے چند ایک لوگوں کے بیچ سرگوشیاں شروع ہو چکی تھیں۔۔ کھڑکی سے جھانکتی کچھ عورتیں بھی متجسس ہو کر اندر کو لپکی تھیں کہ دیگر اہلِ خانہ کو بھی اپنی تازہ ترین دریافت شدہ خبر سنا سکیں۔۔ علی کا گھر اس کے سامنے تھے۔۔ وہ کچھ لمحے کھڑا اس گھر کے کھلے دروازے کو دیکھتا رہا، جسے شاید کسی کے انتظار میں ہی کُھلا رکھا گیا تھا۔۔ اس دروازے کے آگے لگے پردے نے اسے اندر تک دیکھنے سے محروم رکھنا چاہا تو اس نے آگے بڑھ کر وہ پردہ ایک طرف کیا اور اندر قدم رکھ دیا۔۔
اندر داخل ہوتے ہی اسے مانوسیت کے احساس نے اپنے گھیرے میں لے لیا۔۔ یہاں سب ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔۔ وہی در و دیوار، وہی گھر کی سیٹنگ۔۔ چھوٹا مگر صاف ستھرا گھر۔۔ اس نے آنکھیں بند کر کے اپنے گھر کی خوشبو اور ٹھنڈک کو اپنے اندر اتارا۔ پھر ایک دم اس نے آنکھیں کھول دیں۔۔ سب وہی تھا، پھر بھی کسی نئے پن کا احساس اسے آنکھیں بند کرتے ہی ہوا تھا۔۔ کچھ تو تھا یہاں ایسا جو اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں تھا لیکن موجود تھا۔۔ اس نے کسی کو آواز دینے کی بجائے آگے بڑھ کر سامنے موجود دو کمروں میں سے ایک کا دروازہ کھول دیا۔
سامنے کے منظر نے اسے اپنی جگہ پر ساکت کر دیا۔۔ ا س کی آنکھیں جو دیکھ رہی تھیں اس کا دماغ اسے قبول کرنے سے انکاری تھا۔۔ اور اس کا دل کہتا تھا یہی سچ ہو۔۔ اسے لگا اس کے دماغ پر شدید اثر ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی دلی خواہشات کو مجسم اپنے سامنے دیکھنے لگا ہے۔۔ اس نے ایک دو بار پلکیں چھپکیں۔۔ سامنے کھڑا وہ مٹی کا بت اب مسکرانے لگا تھا۔۔ علی کو لگا اس کے چاروں طرف زندگی دوڑ گئی ہے۔۔ اتنی دیر میں ننھے سونُو نے مڑ کر دروازے میں کھڑے انسان کو دیکھا تو دوڑ کر اس کی طرف آیا۔
''بابا۔'' اس نے کہا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔۔ علی اب کھوئی کھوئی نظروں سے سونُو کو دیکھ رہا تھا۔۔ خواب کسی کے ہونے کا احساس دے سکتے ہیں لیکن کسی کے لمس کی گرماہٹ نہیں۔۔اسے سونو کے چھونے پر ایسی ہی گرماہٹ کا احساس ہوا تھا۔
اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے ہاتھ اس کی طرف بڑھائے۔۔ اس کا دل اس خوف سے اپنی پوری شدت سے دھڑک رہا تھا کہ کہیں یہ سب خواب نہ ہو۔۔اور چھونے کی کوشش میں یہ ہوا میں تحلیل ہو جائے۔۔ لیکن یہ خواب نا تھا۔۔ ایک حقیقت تھی۔۔ ایک خوبصورت حقیقت۔۔ اس نے سونُو کو اپنے ہاتھوں سے تھام کر اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔۔ اسے اپنے سینے سے لگا کر خوب پیار کیا۔۔ ماہی بھی چلتے ہوئے اس کے پاس آئی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
''ماہی۔۔'' وہ اتنا ہی کہہ سکا تھا۔۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔۔
''آئی ایم سوری علی۔۔ آپ کے جانے کے بعد مجھے بچھڑنے کی تکلیف کا احساس ہوا اور آپ کا یہ فیصلہ بالکل ٹھیک لگا۔۔ جیسا کہ ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہماری اولاد کل کو بڑھاپے کے وقت ہمیں یوں بے آسرا چھوڑ جائے تو ہمیں بھی پہلے اپنا عمل دیکھنا ہو گا۔ مجھے آپ پر فخر ہے کہ آپ نے بروقت درست فیصلہ کیا۔۔'' ماہی نے محبت سے ڈوبے لہجے میں کہا تو علی نے اس کے گرد اپنا بازو حائل کر کے خود سے قریب کیا۔۔ اب وہ مکمل تھے۔۔ خوش تھے۔۔
''پُتر!'' اس کی ماں نے باہر دروازے سے داخل ہوتے ہی علی کی خوشبو کو محسوس کرتے ہوئے آواز دی۔
تھوڑا آگے بڑھتی ہی ان کی نظر صحن میں پڑے ہوئے سامان پر پڑی تو انہیں یقین ہو گیا۔
''میرا پُتر آ گیا۔۔ میں کہتی تھی نا وہ آئے گا۔'' وہ اپنے پیچھے پیچھے آتے اپنے شوہر کی طرف دیکھ کر کہنے لگیں۔۔ خوشی سے ان کی آواز کانپ رہی تھیں۔۔ علی بھی ان کی آواز سن کر باہر نکلا۔۔ اس کے ماں بابا اپنی بہو کی خاطر مدارت کے لیے سامان لینے گئے تھے۔۔
اس کی ماں نے گوشت اور سبزیوں سے بھرے شاپر بیگ یونہی زمین پر پھینکے اور تیزی سے آگے بڑھ کر بیٹے کے سینے سے جا لگیں۔۔ مائیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔۔ کبھی اپنی اولاد کو اپنے سینے میں چھپا کر ہر دکھ اور تکلیف سے نا آشنا کر دیتی ہیں اور پھر کبھی انہی کے سینوں میں اپنی خوشی و سکون تلاشتی ہیں۔۔ وہ بھی اپنے بیٹے کے سینے سے لگ کر خوب روئیں۔۔ سات سالوں کا بوجھ ہلکا کیا۔۔ اس کے بعد جا کر کہیں اس کے بابا کو ملنے کی مہلت دی۔۔سب کی آنکھیں نم تھیں لیکن ہونٹوں پر مسکراہٹیں تھیں۔۔ اور پھر وہ لوگ کتنی ہی دیر تک ایک دوسرے کے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے۔۔ آئیندہ زندگی کے پلانز بنائے گئے جس میں اپنوںکے لیے قربانیاں تھیں۔۔ خوشیاں اور ایک دوسرے کا ساتھ تھا۔۔ آج اولاد کو پا کر علی نے اولاد سے والدین کی محبت کو سمجھا تھا۔۔ اسے اپنا بیٹا پہلے سے کہیں زیادہ عزیز لگ رہا تھا۔۔ جسے پا کر اس نے اپنی کھوئی ہوئی دنیا کو پا لیا تھا۔۔ اپنی خوشیوں کو پا لیا تھا۔۔ اور اب انہیں ہمیشہ یونہی رہنا تھا۔۔



٭٭٭

Wish
22-10-2010, 10:25 PM
السلام علیکم حاضرین و ناظرین و قارئین۔

تجھے پا کر ایک مختلف انجام اور کہانی کے ساتھ یہاں موجود ہے۔ یہ لکھتے ہوئے ہی اس رشتے کو میں نے دو طرح سے دیکھا تھا۔ ۔ ایک تو پہلے ہی ’’گھاؤ‘‘ (http://www.oneurdu.com/forums/blog.php?b=4370#comments) کے نام سے پیش کر چکی ہوں۔ ۔ ۔ ایک دوسرا انجام یہاں آپ کے سامنے حاضر ہے۔ ۔ ۔

آپ سب پڑھ کر اپنی رائے سے ضرور مطلع کریں نیز یہ بھی کہ کون سا والا نسبتاً بہتر رہا؟

آپ سب کی آرأ کا انتظار رہے گا۔ ۔
:):)

جیا آپی
22-10-2010, 10:39 PM
مجھے یہ والا زیادہ اچھا لگا مش ،ویری گڈ،،،،،،

Wish
22-10-2010, 10:41 PM
مجھے یہ والا زیادہ اچھا لگا مش ،ویری گڈ،،،،،،


آہا۔ ۔ ۔ آپ بھی مش کے راز سے واقف ہیں۔ ۔ ۔
:)

تھینکسسس سس ۔ ۔ ہممم اس کا مطلب ہے کہ خوش کُن کہانیاں پڑھنا زیادہ پسند کرتے ہیں ہمارے قاری۔ ۔ ۔
چلیں دیکھیں باقی کیا رائے دیتے ہیں۔ ۔ ۔
:)

NaimaAsif
22-10-2010, 11:14 PM
بہت ہی خوب بھئی۔ پہلے والا واقعی کافی سیڈ سیڈ سا تھا۔ بہت اچھا کیا جو اس کا اینڈ بدل دیا۔ اور اب بہت اچھا لگ رہا ہے۔ ٹائٹل بھی خوب رہا۔ اور ڈیزائننگ بھی۔

مجھے بھی اب والا زیادہ پسند آیا ہے ہیپی اینڈنگ۔ اب اوور آل افسانے کا امپریشن بہت خوشگوار ہے۔ گھاؤ میں افسانہ شروع میں بہت خوشگوار مگر اینڈ سے بہت دکھی سا تھا۔

مگر یہ والا پورا ہی بہت اچھا سا ہے۔ ویری ویل ڈن۔:)

Kazmi
22-10-2010, 11:40 PM
بہت اچھا لکھا ہے، زندہ باد

موضوع اور انداز اچھا ہے۔ زبان پر کنٹرول ابھی پختہ نہیں، توجہ کریں۔

حضرتِ اقبال کے شعر کا حوالہ خوب ہے۔


کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں


تُو بچا بچا کے نہ رکھ اِسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں


نہ جہاں میں کہیں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو، ترے عفوِ بندہ نواز میں


نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں


جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں۔


علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
---


انگریزی میسج کے الفاظ یوں ہونے چاہئیں
!Thanks, he is my life and so are you

Wish
22-10-2010, 11:50 PM
بہت ہی خوب بھئی۔ پہلے والا واقعی کافی سیڈ سیڈ سا تھا۔ بہت اچھا کیا جو اس کا اینڈ بدل دیا۔ اور اب بہت اچھا لگ رہا ہے۔ ٹائٹل بھی خوب رہا۔ اور ڈیزائننگ بھی۔

مجھے بھی اب والا زیادہ پسند آیا ہے ہیپی اینڈنگ۔ اب اوور آل افسانے کا امپریشن بہت خوشگوار ہے۔ گھاؤ میں افسانہ شروع میں بہت خوشگوار مگر اینڈ سے بہت دکھی سا تھا۔

مگر یہ والا پورا ہی بہت اچھا سا ہے۔ ویری ویل ڈن۔:)


بہتتتت شکریہ ناعمہ سس۔ ۔ ۔مجھے بھی یہ کہانی اسی روپ میں زیادہ مزا آیا لکھنے کا۔ ۔ ۔
چلیں آہستہ آہستہ اداس تحریروں کا چولا اتار رہی ہوں۔ ۔ ۔ امید ہے آئندہ بھی خوش کن تحریں پڑھنے کو دوں گی اپنے قارئین کو۔ ۔ ۔
:)

پسندیدگی کا شکریہ۔ ۔ ۔

Wish
22-10-2010, 11:53 PM
بہت اچھا لکھا ہے، زندہ باد

موضوع اور انداز اچھا ہے۔ زبان پر کنٹرول ابھی پختہ نہیں، توجہ کریں۔

حضرتِ اقبال کے شعر کا حوالہ خوب ہے۔


کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں


تُو بچا بچا کے نہ رکھ اِسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں


نہ جہاں میں کہیں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو، ترے عفوِ بندہ نواز میں


نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں، نہ وہ حُسن میں رہیں شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خم ہے زلفِ ایاز میں


جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں۔


علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
---


انگریزی میسج کے الفاظ یوں ہونے چاہئیں
!Thanks, he is my life and so are you



بہت شکریہ۔ ۔ ۔
بالکل جناب، گرفت آتے آتے بھی تو وقت لگتا ہے۔ ۔ ۔ابھی تو میں ایک اسٹارٹ لینے کی کوشش کر رہی ہوں نا۔ ۔ ۔
:)
تصحیح اور کمنٹ کا شکریہ۔ ۔ ۔
جزاک اللہ۔ ۔ ۔

ضحٰی
23-10-2010, 12:07 AM
ہمممم ویری نائس۔۔ بہت ہی اچھا موضوع اور بہت اچھا لکھا ہے ویل ڈن وش۔۔
کہانی کا وہ حصہ جب علی کو اپنی فیملی کو چھوڑ کے ہی آنا پڑ جاتا ہے مجھے تھوڑا عجیب لگا تھا کیونکہ جس طرح کی ماہی کی نیچر دکھائی آپ نے اس کے بعد ایسا خود غرضانہ فیصلہ۔۔۔۔ لیکن بہر حال بعد میں اسے احساس ہو گیا۔۔ تو اچھا لگا۔۔۔۔
( ویسے یہ تنقید نہیں بس دلچسپی سے پڑھا تب۔۔;))

Wish
23-10-2010, 12:12 AM
ہمممم ویری نائس۔۔ بہت ہی اچھا موضوع اور بہت اچھا لکھا ہے ویل ڈن وش۔۔
کہانی کا وہ حصہ جب علی کو اپنی فیملی کو چھوڑ کے ہی آنا پڑ جاتا ہے مجھے تھوڑا عجیب لگا تھا کیونکہ جس طرح کی ماہی کی نیچر دکھائی آپ نے اس کے بعد ایسا خود غرضانہ فیصلہ۔۔۔۔ لیکن بہر حال بعد میں اسے احساس ہو گیا۔۔ تو اچھا لگا۔۔۔۔
( ویسے یہ تنقید نہیں بس دلچسپی سے پڑھا تب۔۔;))




آہا۔ ۔ پھر تو یہ کمپلیمنٹ ہوا۔ ۔ ۔
بہتتت شکریہ سس۔ ۔ ۔
دراصل اتنا آسان نہیں ہوتا نا وہ جگہ چھوڑنا جہاں آپ نے ایک زندگی گزاری ہو۔ ۔ ۔ مانا لڑکیوں کو چھوڑنا پڑتا ہے، لیکن کیونکہ علی نے اس سے وہیں بسنے کا کہہ رکھا تھا، تو وہ ایک دم دوسرے فیصلے کو قبول نہیں کر پائی۔ ۔ ۔

اچھا لگا آپ کا تفصیلی کمنٹ۔ ۔ ۔ بہت شکریہ۔ ۔
خوش رہیں۔
:)

فائزہ صدف
23-10-2010, 12:32 AM
اور میں پڑھتے ہوئے یہ سوچتی رہی کہ پہلے پڑھا ہوا ہے وش نے دوبارہ پوسٹ کیوں کیا ہے ؟؟

اچھا لگا زندگی کا ہر رخ مختلف ہے کبھی خوشی کبھی غم دونوں طرح سے ہی ایک اچھی تحریر پڑھنے کے لیے ملی

angel-wish
23-10-2010, 12:50 AM
بہت خوب ، خوشی اور دکھ سب شامل تھا یس ناول میں۔ الفاظ کا چنائو بھی بہت خوب ۔ لکھنے کا انداز کوئی شک نہیں بھت زبردست
سونو کا جسطرح سے اپنے والدین سے بچھڑنا ، ریلی ھارٹ ٹچنگ۔ -

Zainab
23-10-2010, 12:59 AM
وش بہت اچھا لکھا ہے
پڑھتے ہوئے لگ رہا تھا کہ پہلے پڑھا ہوا ہے ، پھر پتا لگا کہ کیوں لگ رہا تھا
مجھے پچلھلے والے کا اینڈ تو یاد ہی نہں ، مگر یہ والا تو بہت اچھا رہا ، ہیپی اینڈنگ

Star
23-10-2010, 01:32 AM
بہت اچھا افسانہ ہے وش سس۔۔ہیپی اینڈنگ۔

Wish
23-10-2010, 01:59 AM
اور میں پڑھتے ہوئے یہ سوچتی رہی کہ پہلے پڑھا ہوا ہے وش نے دوبارہ پوسٹ کیوں کیا ہے ؟؟

اچھا لگا زندگی کا ہر رخ مختلف ہے کبھی خوشی کبھی غم دونوں طرح سے ہی ایک اچھی تحریر پڑھنے کے لیے ملی


ہاہا شکر ہے اس چکر میں تم نے سکپ نہیں کر دیا۔ ۔ ۔
اس لیے آخر میں ایک نوٹ بھی لکھ دیا۔ ۔ ۔
پسند کرنے کا شکریہ۔ ۔ ۔
:)

Wish
23-10-2010, 02:02 AM
بہت خوب ، خوشی اور دکھ سب شامل تھا یس ناول میں۔ الفاظ کا چنائو بھی بہت خوب ۔ لکھنے کا انداز کوئی شک نہیں بھت زبردست
سونو کا جسطرح سے اپنے والدین سے بچھڑنا ، ریلی ھارٹ ٹچنگ۔ -


بہت شکریہ اینجل
دراصل یہ افسانہ میں نے اسکول میں ایک فادر کو اپنے بیٹے کو کے جی کلاس میں چھوڑ کر اس کے رونے پر پریشان ہوتے دیکھ کر لکھا تھا۔ ۔ ۔ اس منظر نے میرے دل کو بھی چھو لیا ایسا کہ مجھے یہ لکھنے پر مجبور کر دیا۔ ۔ ۔ تبھی شاید میں ان احساسات کو الفاظ دے سکی۔ ۔ ۔
پڑھنے اور پسند کرنے کا بہت شکریہ سس۔ ۔ ۔
:)

Wish
23-10-2010, 02:03 AM
وش بہت اچھا لکھا ہے
پڑھتے ہوئے لگ رہا تھا کہ پہلے پڑھا ہوا ہے ، پھر پتا لگا کہ کیوں لگ رہا تھا
مجھے پچلھلے والے کا اینڈ تو یاد ہی نہں ، مگر یہ والا تو بہت اچھا رہا ، ہیپی اینڈنگ


بہت شکریہ زینب سس۔ ۔ ۔ اچھا شکر ہے آپ نے بھی کہیں آدھ راستے میں نہیں چھوڑ دیا۔ ۔ ۔
اینڈ پسند کرنے کا بہت شکریہ۔ ۔ ۔
:)

Wish
23-10-2010, 02:04 AM
بہت اچھا افسانہ ہے وش سس۔۔ہیپی اینڈنگ۔


بہت شکریہ سس۔ ۔ ۔
آپ کو بھی ہیپی اینڈنگ اچھی لگی۔ ۔ ۔
ہمممم مطلب زیادہ تر لوگ خوش کُن کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔
:)
بہت شکریہ ۔ ۔ خوش رہیں۔

Hina Rizwan
23-10-2010, 07:46 AM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے وش سس
میں نے آپ کا پہلا ناول گھاؤ نہیں پڑھا ہوا تھا اسی بہانے وہ بھی پڑھ لیا
لیکن یہ افسانہ مجھے زیادہ اچھا لگا ہیپی اینڈنگ تھی نا اس لیے
اچھا لگا کہ آپ نے ایک ہی افسانہ میں زندگی کے دو رخ دکھائے خوشی بھی اور غم بھی۔
بچے کے اسکول کے پہلے دن اور اس کے باپ کی فیلنگز کو بہت اچھے سے بیان کیا آپ نے، مجھے وہ حصہ بہت اچھا لگا۔
ویل ڈن اینڈ کیپ رائٹنگ:)

Ahmed Lone
23-10-2010, 08:51 AM
بہت خوب

بہت ہی اچھا افسانہ ہے

اس اچھے افسانہ کے لیے بہت بہت شکریہ

M.Ahmad
23-10-2010, 09:12 AM
اپیا بہت اچھی کہانی تھی۔۔
اور اینڈ تو بہت اچھا ہے۔ مجَھے بہت مزہ آیا پڑھ کر۔ اچھی مثبت سوچ دی ہے آپ نے ۔

واقعی اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ اپنی خوشی حاصل کرنے کے لیے جو غلط رویہ ہم اپنے بزرگوں سے رکھتے ہیں کل کو اگلی نسل نے اس سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر ہمیں جواب دینا ہے تو پھر شاید ہم اپنے بڑوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے سے نہ ہچکچائیں۔
:):)

Arain
23-10-2010, 09:21 AM
:) بہت ہی اچھا افسانہ لکھا وش سس ۔

بس میرے آنکھوں میں آنسووں لے آیا زیادہ تو کچھ نہیں کر سکا یہ ۔

پڑھ کر اچھا لگا۔

لکھتی رہیے ۔

Wish
23-10-2010, 01:38 PM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے وش سس
میں نے آپ کا پہلا ناول گھاؤ نہیں پڑھا ہوا تھا اسی بہانے وہ بھی پڑھ لیا
لیکن یہ افسانہ مجھے زیادہ اچھا لگا ہیپی اینڈنگ تھی نا اس لیے
اچھا لگا کہ آپ نے ایک ہی افسانہ میں زندگی کے دو رخ دکھائے خوشی بھی اور غم بھی۔
بچے کے اسکول کے پہلے دن اور اس کے باپ کی فیلنگز کو بہت اچھے سے بیان کیا آپ نے، مجھے وہ حصہ بہت اچھا لگا۔
ویل ڈن اینڈ کیپ رائٹنگ:)



بہت شکریہ حنا۔ ۔ ۔ اچھا چلو یہ بھی ایک نیا تجربہ ہی رہا ایک ہی بات کے دو طریقوں سے دکھانے کا۔ ۔ ۔ اور یوں قارئین کی رائے بھی معلوم ہو گئی۔
بہت شکریہ حنا پڑھنے اور پسند کرنے کے لیے ۔ ۔ خوش رہو۔
:)

Wish
23-10-2010, 01:41 PM
بہت خوب

بہت ہی اچھا افسانہ ہے

اس اچھے افسانہ کے لیے بہت بہت شکریہ





بہت شکریہ تو آپ کا جناب تشریف لانے اور حوصلہ افزائی کا۔
خوش رہیں۔ آمین۔

Wish
23-10-2010, 01:44 PM
اپیا بہت اچھی کہانی تھی۔۔
اور اینڈ تو بہت اچھا ہے۔ مجَھے بہت مزہ آیا پڑھ کر۔ اچھی مثبت سوچ دی ہے آپ نے ۔

واقعی اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ اپنی خوشی حاصل کرنے کے لیے جو غلط رویہ ہم اپنے بزرگوں سے رکھتے ہیں کل کو اگلی نسل نے اس سے دو ہاتھ آگے بڑھ کر ہمیں جواب دینا ہے تو پھر شاید ہم اپنے بڑوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے سے نہ ہچکچائیں۔
:):)


آہا ویلکم جناب۔ ۔ ۔
بہت شکریہ کہ آپ نے پڑھا اور حوصلہ افزائی کی۔ ۔ ۔
بالکل جناب، انسان اب تھوڑا ڈھیٹ ہو گیا ہے، جب تک خود پر نہ پڑے نا اسے احساس نہیں ہوتا۔
پسندیدگی کا بہت شکریہ۔ ۔ ۔
خوش رہیں
:)

Meem
23-10-2010, 01:46 PM
مجھے بھی یہ والا زیادہ اچھا لگا وش، خوش امیدی کے ساتھ اچھا تاثر چھوڑ رہا ہے۔۔ لکھتی رہو ہمیشہ ایسے ہی شاباش۔

fiza_chillimilli
23-10-2010, 03:54 PM
السلام علیکم:
اچھا افسانہ ہے جس میں ماں باپ خاص طور پہ ایک باپ کی فیلینگز بیان کی گئیں ہیں۔ اور اینڈ بھی اچھا لگا۔ یعنی کسی پچھتاوے کا سامنا نا کرنا پڑا۔
جبکہ افسانہ پڑھ کے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر وہ واپس جاتا اور اپنے ماں یا باپ میں سے کسی سے مل نا پاتا تو؟؟؟؟
مگر پھر جب سارا تھریڈ پڑھا تو "گھاو" کا ذکر سامنے آیا۔ سو وہ بھی پڑھا اور اس کا اینڈ بھی اچھا لگا۔ یعنی ایک ہی کہانی اور دو دو اینڈ
ایک جگہ ذرا برا فیل ہوا ماہی کے لیے مگر اس کا فیصلہ بہت اچھا لگا۔
سب سے اچھا مجھے اس کا ٹائٹل پیج لگا۔ سادہ اور کہانی سے میچ کرتا ہوا۔
سو ڈئیر بس یہی دعا کہ یونہی لکھتی رہو۔ تمہارا قلم رکے نہیں۔ آمین

Sajda Sehr
23-10-2010, 04:18 PM
ایک اچھے اینڈ کے ساتھ اس کو پڑھ کر زیادہ اچھا لگا وش

Nazia Bilal
23-10-2010, 04:47 PM
بہت اچھا لکھا ہے مش جی۔ اور مجھے ہمیشہ ہیپی اینڈنگ پسند ہوتی ہے۔ اس لیے زیادہ اچھا لگا۔
باپ اور بیٹے کی فیلنگز کو بہت اچھے سے بیان کیا ہے۔
سکول جانے والا سین بہت اچھا تھااس طرح مجھے یقین ہے میں نے بھی دیکھنا رئیل لائف میں۔ کیونکہ میرے وہ بھی بیٹے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اس لیے یہ سین تو ایک سال میں میرے گھر میں دہرایا جائے گا۔

Sabih
23-10-2010, 05:01 PM
بہت عمدہ افسانہ لکھا وش سس۔ ۔ ۔ ۔
اچھا لگا پڑھ کر۔ ۔ ۔ ایک اچھا امپریشن رہا اس افسانے کا۔
کیپ رائٹنگ۔ ۔ ۔

fatima201
23-10-2010, 05:36 PM
bohat acha laga wish perh ker :) nice story

Wish
23-10-2010, 05:58 PM
:) بہت ہی اچھا افسانہ لکھا وش سس ۔

بس میرے آنکھوں میں آنسووں لے آیا زیادہ تو کچھ نہیں کر سکا یہ ۔

پڑھ کر اچھا لگا۔

لکھتی رہیے ۔




بہت شکریہ بھائی۔ ۔
بڑی بات ہے کہ آپ کے دل پر اتنا اثر ہوا میرے لفظوں کا۔ ۔
بہت شکریہ۔

Wish
23-10-2010, 06:00 PM
مجھے بھی یہ والا زیادہ اچھا لگا وش، خوش امیدی کے ساتھ اچھا تاثر چھوڑ رہا ہے۔۔ لکھتی رہو ہمیشہ ایسے ہی شاباش۔



آہا۔ ۔
تھینکس جناب۔ ۔ ۔
ان شأ اللہ ضرور۔ ۔ ۔ خوش رہو۔
:)

Trueman
23-10-2010, 06:06 PM
بہت زبردست تحریر تھی آپی جی ۔ ۔ ۔ پختہ انداز تحریر کی بنا پر پڑھنے میں روانی رہی جس نے مزا دوبالا کردیا ۔

Wish
23-10-2010, 06:06 PM
السلام علیکم:
اچھا افسانہ ہے جس میں ماں باپ خاص طور پہ ایک باپ کی فیلینگز بیان کی گئیں ہیں۔ اور اینڈ بھی اچھا لگا۔ یعنی کسی پچھتاوے کا سامنا نا کرنا پڑا۔
جبکہ افسانہ پڑھ کے میرے دل میں یہ خیال آیا کہ اگر وہ واپس جاتا اور اپنے ماں یا باپ میں سے کسی سے مل نا پاتا تو؟؟؟؟
مگر پھر جب سارا تھریڈ پڑھا تو "گھاو" کا ذکر سامنے آیا۔ سو وہ بھی پڑھا اور اس کا اینڈ بھی اچھا لگا۔ یعنی ایک ہی کہانی اور دو دو اینڈ
ایک جگہ ذرا برا فیل ہوا ماہی کے لیے مگر اس کا فیصلہ بہت اچھا لگا۔
سب سے اچھا مجھے اس کا ٹائٹل پیج لگا۔ سادہ اور کہانی سے میچ کرتا ہوا۔
سو ڈئیر بس یہی دعا کہ یونہی لکھتی رہو۔ تمہارا قلم رکے نہیں۔ آمین



وعلیکم السلام۔ ۔ ۔
بہت شکریہ فضہ سس۔ ۔ ۔
ہاں ایک ہی بات کو یوں الگ الگ زاویوں سے بھی دیکھنا چاہیئے۔ ۔ ۔ آپ کو پڑھ کر اچھا لگا تو مجھے لکھنے پر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ ۔ ۔

تھینکس۔ خوش رہیں۔

Wish
23-10-2010, 06:08 PM
ایک اچھے اینڈ کے ساتھ اس کو پڑھ کر زیادہ اچھا لگا وش


آہا۔ ۔ اس کا مطلب خوش کن اینڈ کامیاب رہا۔ ۔ ۔
بہت شکریہ سس۔ ۔
:)

Wish
23-10-2010, 06:10 PM
بہت اچھا لکھا ہے مش جی۔ اور مجھے ہمیشہ ہیپی اینڈنگ پسند ہوتی ہے۔ اس لیے زیادہ اچھا لگا۔
باپ اور بیٹے کی فیلنگز کو بہت اچھے سے بیان کیا ہے۔
سکول جانے والا سین بہت اچھا تھااس طرح مجھے یقین ہے میں نے بھی دیکھنا رئیل لائف میں۔ کیونکہ میرے وہ بھی بیٹے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اس لیے یہ سین تو ایک سال میں میرے گھر میں دہرایا جائے گا۔



آہا۔ ۔ ماشا ٔ اللہ۔ ۔ ۔
اچھا پھر اپنے ان کو بھی پڑھانا یہ افسانہ۔ ۔ ۔
آئی ہوپ انہیں اچھا لگے گا، کیونکہ اس میں بچے کا ذکر کچھ اس طرح کیا ہے نا۔ ۔ ۔
اور میری دعا ہے کہ وہ مرحلہ آپ دونوں اچھے سے پار کر جائیں۔ آمین

پسندیدگی کے لیے شکریہ سس۔ ۔ ۔

Wish
23-10-2010, 06:11 PM
بہت عمدہ افسانہ لکھا وش سس۔ ۔ ۔ ۔
اچھا لگا پڑھ کر۔ ۔ ۔ ایک اچھا امپریشن رہا اس افسانے کا۔
کیپ رائٹنگ۔ ۔ ۔



بہت شکریہ وینسنٹ جی۔ ۔ ۔
خوشی ہوئی یہ جان کر کے ایک اچھا امپریشن پڑا آپ پر۔ ۔ ۔
حوصلہ افزائی کا شکریہ۔ ۔ ۔

خوش رہیں۔

Wish
23-10-2010, 06:14 PM
bohat acha laga wish perh ker :) nice story


بہت شکریہ فاطمہ سس۔ ۔ ۔ آپ جیسے قارئین کی رائے ہمارے حوصلے بڑھانے کا کام کرتی ہے۔
شکریہ۔

Wish
23-10-2010, 06:15 PM
بہت زبردست تحریر تھی آپی جی ۔ ۔ ۔ پختہ انداز تحریر کی بنا پر پڑھنے میں روانی رہی جس نے مزا دوبالا کردیا ۔



آہا بہت شکریہ حفیظ بھائی۔ ۔ ۔
آپ کو پڑھ کر اچھا لگا۔ ۔ میرے لیے باعثِ مسرت ہے یہ بات۔ ۔
خوش رہیں ہمیشہ۔ آمین۔

Madiha
24-10-2010, 10:26 PM
میں بالکل ٹھیک ہوں وش اور امید کرتی ہوں آپ بھی ٹھیک ہوں گی
ہممم افسانہ پڑھ لیا یہ زیادہ اچھا لگا ہیپی اینڈنگ تھی نا نہیں جناب پہلا والا بھی اچھا تھا مجھے بھی ایسا لگ رہا تھا ماہی واپس آجائے گی ہر انسان کو اپنے اصل کی طرف لوٹنا پڑتا ہے وہ سین جس میں علی پاکستان آتا ہے ایئر پورٹ سے باہر والا منظر بہت اچھے طریقے سے بیان کیا ہے گریٹ جاب ایسا ہی لکھتی رہیں

Hira Qureshi
26-10-2010, 08:38 PM
ہمیشہ کی طرح بہت اچھا لکھا ہے وش۔ مجھے بھی یہ والا گھاؤ سے زیادہ پسند آیا۔ اس کی اینڈنگ زیادہ اچھی ہے۔

روشنی
27-10-2010, 10:29 AM
بہت اچھا لکھا ہے وش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Wish
30-10-2010, 02:15 AM
میں بالکل ٹھیک ہوں وش اور امید کرتی ہوں آپ بھی ٹھیک ہوں گی
ہممم افسانہ پڑھ لیا یہ زیادہ اچھا لگا ہیپی اینڈنگ تھی نا نہیں جناب پہلا والا بھی اچھا تھا مجھے بھی ایسا لگ رہا تھا ماہی واپس آجائے گی ہر انسان کو اپنے اصل کی طرف لوٹنا پڑتا ہے وہ سین جس میں علی پاکستان آتا ہے ایئر پورٹ سے باہر والا منظر بہت اچھے طریقے سے بیان کیا ہے گریٹ جاب ایسا ہی لکھتی رہیں


بہت شکریہ مدیحہ سس۔ ۔ ۔
بالکل بہت اچھی بات کہی آپ نے کہ ہر چیز کو اپنے اصل کی طرف لوٹنا ہوتا ہے۔ ۔۔
پڑھنے اور اتنا تفصیلی کمنٹ کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ ۔ ۔
خوش رہیں۔

Wish
30-10-2010, 02:25 AM
ہمیشہ کی طرح بہت اچھا لکھا ہے وش۔ مجھے بھی یہ والا گھاؤ سے زیادہ پسند آیا۔ اس کی اینڈنگ زیادہ اچھی ہے۔

بہت شکریہ حرا ۔ ۔ ۔
اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ لوگ ہیپی اینڈنگ پڑھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

بہت شکریہ:)

Wish
30-10-2010, 02:26 AM
بہت اچھا لکھا ہے وش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بہت شکریہ روشنی سس۔ ۔ ۔