PDA

View Full Version : سب سے اچھا بچہ از رافعہ خان



Aqsa
15-10-2010, 08:45 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/sab%20se%20acha%20bacha/9.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/sab%20se%20acha%20bacha/10.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/sab%20se%20acha%20bacha/11.gif



سب سے اچھا بچہ




اسے سب سے اچھا بچہ بننا تھا۔ اسکے بابا نے اسے بتایا تھا۔ اسے بہت زیادہ پڑھنا تھا۔ اوروہ سمجھتا تھا کیوں۔ وہ بہت دھیان سے اپنا سارا کام کرتا تھا۔ تب اسکی اماں ہر روز اسکی مدد کرتی تھی۔ تب تو اماں باقی سب کی بھی بہت مدد کرتی تھی۔ دادی کی، جس کو کم دکھتا تھا۔ چھٹی والے دن قصبے سے مٹھوں کا بڑا تھیلا لاتے چاچا کی۔ اس کے چھوٹے بھائی کی۔ چھوٹا تب بہت چھوٹا تھا اور اس کی کتابیں پھاڑنے کو آتا تھا۔



لیکن اب اسے چھوٹے سے اپنی کتابیں چھپانی آگئی تھیں۔ وہ ابھی تیسری جماعت میں آیا تھا۔ لیکن بابا کہتے تھے اب وہ بڑا اور سمجھدار ہوگیا ہے۔ وہ جانتا تھا کیوں۔ اسکی آستین اب اسکے ہاتھوں میں نہیں پھنستی تھی۔ دوڑتے ہوئے اسکے پاؤں بار بار جوتے سے نہیں نکلتے تھے۔ اور وہ سٹینڈ پر کھڑی سائیکل ہر اچک کر چڑھ جاتا تھا۔ اور اس کو بابا کی باتیں بھی بہت مشکل نہیں لگتی تھیں۔



بابا ہی اسے بتاتے تھے دنیا بہت بڑی ہے۔ بس ایک بڑے گاؤں کی طرح۔ بابا نے بتایا تھا دنیا میں ابھی بہت کام باقی تھا۔ اور اسے وہ کام کرنا تھا۔ اس کے حصے کا کام۔ تب بابا اس کو ہر روز بہت ساری باتیں بتاتے۔ دھیان سے اچھی پڑھائی کرنے کی باتیں۔ اور کامیابی کی باتیں ۔ اور اخبار میں چھپنے والی فوٹو کی باتیں۔ دنیا کی باتیں جسے اس کی بہت ضرورت تھی۔



تب جب وہ رات میں سارے اچھے کام کر لیتا۔ بابا کے پاؤں دباتا۔ پھر بابا اس کو اپنے ساتھ لٹا لیتے۔ بابا کی چارپائی بہت بڑی تھی۔ بڑے بڑے پایوں والی۔ سفید کھیسوں والی۔ جو شام سے پڑے پڑے بہت ٹھنڈے ہو جاتے۔ رات کی رانی کی خوشبو ساری رات آتی رہتی۔ ستارے اپنی اپنی جگہ نکلتے اور چمکتے رہتے۔ اور چاند اگر اسکے بستر کے دوسری طرف جانے میں دیر کرتا تو صبح سورج کو جلدی جلدی خداحافظ کہتا۔



جب وہ سونے سے پہلے اپنی ساری کتابیں دل میں دھرا لیتا، اپنے کلمے اور پہاڑے۔ تو دنیا کو اچھا بنانے کے بہت سارے طریقے سوچتا۔ کبھی کبھی وہ بابا سے پوچھتا۔


اپنے قصبے جیسا اچھا؟


نہیں اس سے بھی اچھا۔ بابا ہمیشہ کہتے۔


لیکن اسے تو اپنا قصبہ ہی سب سے اچھا لگتا تھا۔ گھر کے باہر اینٹوں والی گلی۔ پھر تھوڑا آگے چوک کے بیچ تنور والی اماں۔ آگے مدرسہ، پھر سکول اور بڑی سڑک کا بازار۔



تب وہ ہر روز اپنے جوتے چمکاتا جو آگے سے تھوڑا ادھڑے تھے۔ کپڑے بدلتا۔ بستہ اٹھاتا اور سکول جاتا۔ اسکی استانی بہت اچھی تھی۔ صرف اسکی استانی جی کو یہ پتہ تھاکہ وہ اپنے بابا اور اماں کے لیے سب سے اچھا بچہ بننا چاہتا ہے۔ صرف اسکو پتا تھا کہ وہ ہر روز اپنا کام پورا ختم کرتا ہے تاکہ جب سب لوگ اسکی فوٹو بنانے آئیں تو کوئی اس کی شکایت نہ لگائے۔ استانی جی تو بالکل بھی نہیں۔



سکول سے آتے آتے وہ روز اپنا لال گولا لیتا۔ بہت ٹھنڈا ۔ بہت میٹھا۔ اور جب برف سے سارا میٹھا ختم ہوجاتا تو گولے والا اور رنگ ڈال دیتا۔ اس لال شربت کا ذائقہ اسے بہت یاد آتا تھا۔ اور اسکے حافظ جی کی اونچی آواز۔ وہ سیپارے کی غلطی برداشت نہیں کرتے تھے۔


اللہ کا کلام ہے، ٹھیک سے پڑھو سارے۔


وہ بہت زور لگا لر بولتے۔ اوروہ ڈر کو اور دھیان لگاتا۔



اور چوک میں سارے کوکلا چھپاکی کھیلتے۔ اور بہت ہنستے۔ اور بہت دوڑتے۔ اور کتنی دیر وہ تنور سے اڑنے والی چنگاریوں کو دیکھتا رہتا۔ وہ ٹوٹ ٹوٹ کر ادھر ادھرگرتی رہتیں۔ اور اسے اپنا سکول کا کام یاد آتا تھا۔ اور اس کی تختی۔ جو اماں اس کو روز تازہ دھو کر دیتی تھی۔ اور وہ بانس کے ترچھے قلم سے سیاہی میں ڈبو ڈبو کر لکھتا۔ کالے کالے، سیدھے اور گول لفظ۔



پھر جب بابا نے بتایا تھا انہیں جلدی جلدی جانا تھا۔ وہ سب جلدی جلدی اٹھے تھے۔ اس نے اپنا بستہ اٹھایا تھا۔ بابا کے پاس بھی ایک بستہ تھا۔ اماں بہت چیزیں اٹھا رہی تھی۔ نئی چادریں۔ انکے بسترے۔ عید کے جوڑے۔لیکن بابا نے منع کیا تھا۔ تب اسے لگا تھا وہ سمجھتا ہے۔ چھوٹا ان کو خراب کر سکتا ہے۔ بابا سب چیزوں کو گھر میں سنبھالنا چاہتے تھے۔ اور بابا نے بتایا تھا انکو دور جانا تھا۔ سامان اٹھا کر دور نہیں جاسکتے۔وہ سمجھتا تھا۔



پھر وہ بہت دور آگئے۔ وہا بہت لوگ تھے۔ دنیا کے سارے لوگ وہاں پر تھے۔ لیکن وہاں اور کچھ بھی نہیں تھا۔ اسے لگا بابا ٹھیک کہتے تھے۔ دنیا میں بہت کام باقی تھا۔ اسے لگا اس نے غلطی کی تھی۔ اسے بستے کے ساتھ اپنا سکول، اپنا مدرسہ، اپنا چوک اور اپنا بازار بھی لانا تھا۔ اسے لگا اسے اپنا تنور، اپنا گھربھی ساتھ لانا تھا۔ اسے لگا بابا کی باتیں ابھی بھی مشکل تھیں۔



بابااس دن کام کرنے گئے تھے۔ اور کھانا لینے۔ جب بہت سارے لوگ آکر انہیں خیمہ دے کر گئے تھے۔ بابا نے آکر دیکھا تو انہیں اچھا نہیں لگا۔ پر اماں نے کچھ کہا۔ بابا نے اسکو اور چھوٹے کو دیکھا۔ اور آسماں کی طرف دیکھا۔ پھر کچھ نہیں کہا۔ اسے پتہ تھا بابا کو کیا برا لگا تھا۔ خیمہ میں ستارے نظر آنا مشکل تھے۔ اوررات کی رانی کی خوشبو۔ جو اماں نے چھوٹی کیاری میں لگائی تھی۔ برا اسے بھی لگا تھا۔ بابا کی چارپائی اس خیمے سے کتنی بڑی لگتی تھی۔



اس نے اپنی ساری کتابیں پڑھ لیں تھی۔ اپنی کاپیوں کے سارے صفحوں کی ساری سطریں بھردیں تھی۔ سیپارے کے سارے سبق یاد کرلیے تھے۔ وہ سارا دن انتظارکرتاجب بابا آئیں گے تو وہ روٹی کھائیں گے۔ بابا بہت دور دور جاتے تھے۔ انکے پاؤں دکھتے ہی رہتے۔ لیکن وہ اسکو دبانے نہیں دیتے تھے۔ بس ماں سے کچھ باتیں کرکے سوجاتے۔ اسے بابا کی ساری باتیں یاد آتی تھیں۔ اسکو کام کے بارے میں بابا سے بات کرنی تھی۔ لیکن اسے پتہ تھا اچھے بچے بابا کو نیند سے نہیں اٹھاتے۔



جب بابا کام کے لیے نکلتے تو اماں دادی کو تیل ملتی تھی۔ دادی اب بہت کھانستی تھی۔ وہ بہت روتی تھی۔ا ماں اسکے ہاتھ پکڑ کر بیٹھتی۔ اسکو اماں اب بہت دھندلی دھندلی لگتی۔ وہ چھوٹے کو پکڑ کر بیٹھتا تھا۔ اسکو بابا کی ساری باتیں بتاتا تھا۔ اب بابا کے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔ پر اب وہ بڑا ہوگیا تھا۔ اسکی آستینیں اسکے ہاتھ میں نہیں آتی تھیں۔ اسے چھوٹا بھی اب بڑا لگتا تھا۔ لیکن چھوٹے کو دنیا اور قصبے کا نہیں پتا تھا۔ دنیا کو قصبے جیسا بنانے کے لیے بہت سارے اچھے بچوں کی ضرورت تھی۔



کتنے سارے لوگ اتنی ساری چیزیں لے کر آتے تھے۔ لیکن بابا نے اسے بتایا تھا جب وہ کام سے آئیں گے تو وہ کھانا کھائیں گے۔ اسے وہاں بیٹھ کر انکا انتظار کرنا تھا۔ اس کو کبھی کسی نے بلایا بھی نہیں تھا۔ پر اس دن اس پتلون قمیض والے نے بھی اس کا راز جان لیا تھا۔



تم یہاں کیوں بیٹھے ہو۔


میرے بابا نے کہا ہے


تم نے روٹی نہیں لینی


بابا روٹی لائیں گے کام کے بعد


تمہارے بابا جب تک نہیںآتے، تم یہیں بیٹھے رہتے ہو


ہاں


تم تو بہت اچھے بچے ہو۔ کیا میں تمھاری فوٹو لے لوں؟



وہ اس آدمی کو دیکھتا رہا۔ جس کے کپڑے صاف تھے۔ اسکے جوتے بہت چمکدار تھے۔ اسکے پاس کیمرہ بھی تھا۔ کیمرا سیدھا ہونے تک وہ چپ بیٹھا تھا۔ اسے لگتا تھا اس نے ٹھیک نہیں سنا۔



اسے اپنے گھر کے اوپر چمکتے ستاروں کی چمک یاد آئی۔ اور رات کی رانی کی خوشبو۔ اتنے سارے دن اس کو یقین تھا ک وہ دن آئے گا جب سب کو پتا چل جائے گا کہ وہ سب سے اچھا بچہ ہے۔ پر وہ دن کسی اور طرح سے آنا تھا۔ عید کے نئے کلف والے جوڑے میں جس کی آستینیں انگلیوں تک آتی ہوں۔ نئے چمکدار کھلے کھلے کالے بوٹوں میں۔ بابا کا ہاتھ پکڑ کر۔ استانی جی کے سامنے۔ سکول کے بڑے صحن میں ، جھنڈیوں کے نیچے، سب کے ساتھ قصبے میں۔



اسے پتا تھا بابا کو اچھا نہیں لگے گا ایسے فوٹو بنانا۔ اتنے گندے کپڑوں میں۔ اماں کی بڑی سی پرانی چپل پہنے۔ ناک بہتے چھوٹے کو بابا کی باتیں بتاتے۔ اور اسکا منہ دھلا ہوا نہیں تھا۔ اس کو بہت بھوک بھی لگی تھی۔ پھر جانے کیسے اس کی خشک زباں پر لال شربت کا ذائقہ جاگا اور جانے کیسے اس کا سر ہاں میں ہل گیا۔ وہ اس دن کی خبر تھا۔



****




”سب سے اچھا بچہ“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے


آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Sehar Azad
15-10-2010, 09:31 PM
تحریر بہت ہی اچھی ہے۔ مرکزی خیال تو نہایت شاندار ہے۔افسانے کے تمام لواز مات موجود تھے۔

مگر

ون اردو رائٹر کی مشترکہ پرابلم

افسانہ مختصر تھا۔

کردار نگاری میں مزید کام کرنے کی ضروت اس افسانے کےمرکزی کردار کے علاوہ دو کردار انتہائی مضبوط ہیں جنہیں میری نظر میں مناسب اسپیس نہیں دی گئی۔ مرکزی کردار کے والدین پر مزید روشنی ہو نا چاہیے تھی۔
جاری ہے

Sehar Azad
15-10-2010, 09:34 PM
منظر نگاری۔آپ نے ایک ہی لائن میں پورے قصبے کی تصور کشی کی اچھی کوشش کی ہے ۔، جس کو مزید نکھارا جا سکتا ہے۔ منظر نگاری بھی کچھ چیزیں پر مشتمل ہوتی ہے۔

جمادات
حیوانات
نباتات
موسم
اورایک یا چند انسان

جاری ہے

Aqsa
17-10-2010, 11:18 PM
احسان بھائی جب کسی سبجیکٹ کو فوکس کرتے ہیں کیمرے میں تو ایسے زوم کرتے ہیں کہ باقی سب بیک گراؤنڈ بلری ہو جاتا ہے۔
جاری ہے

روشنی
18-10-2010, 06:39 AM
بہت اچھا لکھا ہے رافعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سادہ سے الفاظ میں اتنی گہری باتیں ۔۔۔۔۔۔متاثرکن ۔۔۔۔۔۔۔آخری پیرا سب سے زیادہ جاندار لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آخری لائن بالکل افسانوی رنگ لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قاری کو کھوج پر مجبور کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

HarfeDua
18-10-2010, 07:08 AM
بہت اچھا لکھا ہے رافعہ۔

Smiling Eyes
18-10-2010, 07:40 AM
ہممم بہت اچھا لکھا ہے رافعہ سس۔۔۔۔اسپیشلی اختتامی پارٹ۔۔۔

Trueman
18-10-2010, 08:01 AM
بہت اچھی تحریر ہے رافعہ آپی جی ۔ ۔ ۔

Kainat
18-10-2010, 12:55 PM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے رافعہ جی،
فیلنگز، احساسات کی بہت اچھی اور سچی عکاسی آپ نے کی ہے۔ آپ تو نظم اور نثر دونوں جگہ جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ اب آپ تعارف کی بالکل محتاج نہیں رہیں۔:)

Durre Nayab
18-10-2010, 01:10 PM
بہت عمدہ، ایک معصوم بچے کی نظر سے اپنے اطراف اور دنیا کی بہت اچھی تصویر کشی کی۔

Meem
18-10-2010, 01:17 PM
بہت اچھی اور بےحد حساس تحریر۔

Sabih
18-10-2010, 01:37 PM
بہت خوبصورت افسانہ ہے رافعہ سس
ایک بچے کے جذبات احساسات اور مشاہدے کو عمدگی سے بیان کیا۔

fatima201
18-10-2010, 01:43 PM
very nice

Aqsa
18-10-2010, 03:03 PM
بہت اچھا لکھا ہے رافعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سادہ سے الفاظ میں اتنی گہری باتیں ۔۔۔۔۔۔متاثرکن ۔۔۔۔۔۔۔آخری پیرا سب سے زیادہ جاندار لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور آخری لائن بالکل افسانوی رنگ لئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قاری کو کھوج پر مجبور کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
پسندیدگی کا بہت شکریہ روشنی۔

Aqsa
18-10-2010, 03:04 PM
بہت اچھا لکھا ہے رافعہ۔
آمد کا اور پسندیدگی کا بہت شکریہ دعا

Aqsa
18-10-2010, 03:15 PM
ہممم بہت اچھا لکھا ہے رافعہ سس۔۔۔۔اسپیشلی اختتامی پارٹ۔۔۔
آمد کا اور پسندیدگی کا بہت شکریہ سس

Samia Ali
18-10-2010, 03:53 PM
بہت اچھا لکھا ہے رافعہ سس سادہ اور بہت ہی جاندار ویل ڈن

Aqsa
18-10-2010, 05:33 PM
بہت اچھی تحریر ہے رافعہ آپی جی ۔ ۔ ۔


بہت شکریہ بھائی

سمر
18-10-2010, 05:46 PM
بہت عمدہ تحریر ھے
آغاز سے آخر تک پڑھنے والے کو اپنی طرف متوجہ رکھنے والی تحریر ھے

Hira Qureshi
18-10-2010, 10:20 PM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے رافعہ سس۔ مختصر ہے مگر آپ نے بہت خوبصورتی سے احساسات بیان کیے ہیں۔

Noor-ul-Ain Sahira
19-10-2010, 12:06 AM
جانے اس میں کیا راز ہے رافعہ جی مگر ایسا تین بار ہو چکا ہے۔۔لمبا سارا تبصرہ لکھ کر جب بھی پوسٹ کرنا چاہا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر بار سرور بزی کے پیغام کے ساتھ وہ ویسٹ ہو گیا:mad::(۔

اب کا بھی کچھ علم نہیں پوسٹ ہو گا کہ نہیں اس لئے چھوٹا ہی کر دیتی ہوں تبصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔???۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر لٹس ٹرائی۔۔ بہت اچھا افسانہ ہے نئے اور خوبصورت زاویے کے ساتھ۔۔:)۔۔۔۔

Aqsa
19-10-2010, 04:24 AM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے رافعہ جی،
فیلنگز، احساسات کی بہت اچھی اور سچی عکاسی آپ نے کی ہے۔ آپ تو نظم اور نثر دونوں جگہ جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ اب آپ تعارف کی بالکل محتاج نہیں رہیں۔:)
بہت شکریہ کائینات، آپ کا حسن نظر ہے

Aqsa
19-10-2010, 04:33 AM
بہت عمدہ، ایک معصوم بچے کی نظر سے اپنے اطراف اور دنیا کی بہت اچھی تصویر کشی کی۔
پسندیدگی کا بہت شکریہ نایاب

Aqsa
19-10-2010, 04:35 AM
بہت اچھی اور بےحد حساس تحریر۔

بہت شکریہ مونا جی

Aqsa
19-10-2010, 04:37 AM
بہت خوبصورت افسانہ ہے رافعہ سس
ایک بچے کے جذبات احساسات اور مشاہدے کو عمدگی سے بیان کیا۔
بہت شکریہ صبیح

Aqsa
19-10-2010, 04:39 AM
very nice
پسندیدگی کا بہت شکریہ فاطمہ سس

Ahmed Lone
19-10-2010, 04:40 AM
اس اچھے افسانے کے لیے بہت بہت شکریہ

Aqsa
19-10-2010, 04:41 AM
بہت اچھا لکھا ہے رافعہ سس سادہ اور بہت ہی جاندار ویل ڈن
آمد اور پسندیدگی کا بہت شکریہ سائرہ

Aqsa
19-10-2010, 04:43 AM
بہت عمدہ تحریر ھے
آغاز سے آخر تک پڑھنے والے کو اپنی طرف متوجہ رکھنے والی تحریر ھے
پسندیدگی کا بہت شکریہ بھائی۔

فریدون
19-10-2010, 04:49 AM
بہت عمدہ جی، بہترین تحریر ہے۔ جذبات کا موثر اظہار اور اصراف سے ممکنہ حد تک بچاؤ۔ اور دوستوں سے گزارش ہے کہ اسے افسانہ سمجھ کر ہی پڑھیں۔ جس کا اصل حسن اس کے اختصار اور کنایوں میں ہے۔ اگر منظر کشی اور کرداروں وغیرہ کو وقت دیا جائے تو شاید اس کا حسن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس طرح تو یہ افسانے کی صنف سے ہی خارج ہو جائے گا۔

Aqsa
19-10-2010, 05:52 AM
فریدوں جی آپکی آمد اور پسندیدگی کا بہت بہت بہت شکریہ۔ افسانہ کے لیے آپکی حوصلہ افزائی اور بہتر لکھنے میں مددگار ہوگی۔

Aqsa
19-10-2010, 05:50 PM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے رافعہ سس۔ مختصر ہے مگر آپ نے بہت خوبصورتی سے احساسات بیان کیے ہیں۔
پسندیدگی کا بہت شکریہ حرا

Ibrahim
19-10-2010, 06:37 PM
بہت اچھا لگا ...سس...شاندار ..

Aqsa
19-10-2010, 07:23 PM
جانے اس میں کیا راز ہے رافعہ جی مگر ایسا تین بار ہو چکا ہے۔۔لمبا سارا تبصرہ لکھ کر جب بھی پوسٹ کرنا چاہا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر بار سرور بزی کے پیغام کے ساتھ وہ ویسٹ ہو گیا:mad::(۔

اب کا بھی کچھ علم نہیں پوسٹ ہو گا کہ نہیں اس لئے چھوٹا ہی کر دیتی ہوں تبصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔???۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر لٹس ٹرائی۔۔ بہت اچھا افسانہ ہے نئے اور خوبصورت زاویے کے ساتھ۔۔:)۔۔۔۔

راز تو مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہا، لیکن اب سرور کی من مانیوں کے آگے کیا چلے گی۔ مجھے آپکا نہ پوسٹ ہو سکا تبصرہ پڑھنے کا اشتیاق رہے گا۔
اور اس پوسٹ شدہ تبصرہ کے لیے بہت بہت شکریہ۔

ویسے ایک ٹپ ہے۔ کسی بھی فارم فلنگ میں اگر میں ایک لائن سے زیادہ ٹائپ کریں تو پوسٹ کلک سے پہلے رائٹ ماؤس کلک کاپی کر لیں۔۔ بچت ہو جاتی ہے۔

Aqsa
19-10-2010, 07:24 PM
اس اچھے افسانے کے لیے بہت بہت شکریہ

آمد اور پسندیدگی کا بہت شکریہ احمد بھائی

Lubna Ali
20-10-2010, 07:29 PM
بہت ہی زبردست رافعہ جی ۔۔چھوٹے چھوٹے جملوں پر مشتمل آخر تک قاری اپنے حصارمیں رکھنے والی تحریر تھی ۔۔الفاظ سادہ تھے لیکن بہت کچھ اپنے اندر سموئے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔۔۔

رمیصا
21-10-2010, 01:23 AM
الفاظ کا استعمال اور جملوں کی بناوٹ بہت اچھی لگی۔مجموعی طور پہ ایک مضبوط تحریر رہی۔لکھتی رہیے۔

Zainab
21-10-2010, 01:33 AM
بہت اچھا لکھا ہے رافعہ

بنت احمد
22-10-2010, 10:51 PM
بہت زبردست افسانہ ہے سس، ماشاءاللہ

سب سے اچھی بات یہ کہ افسانہ ہے بھی اور لگ بھی رہا ہے۔

وش یو گڈ لک ,اسی طرح اچھا اچھا لکھتیں رہیں۔

Aqsa
24-10-2010, 10:29 PM
بہت اچھا لگا ...سس...شاندار ..
پسندیدگی بہت کا شکریہ

Sajda Sehr
25-10-2010, 03:31 PM
بہت اچھا لکھا ہے
مجھے تو مختصر افسانے ہی زیادہ اچھے لگتے ہیں

ہائے دل اداس ہو گیا دل کیا کہ اس بچے کو افسانے سے باہر نکالوں نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنا کر اس کی تصوریں بناؤں

Aqsa
27-10-2010, 06:33 AM
بہت ہی زبردست رافعہ جی ۔۔چھوٹے چھوٹے جملوں پر مشتمل آخر تک قاری اپنے حصارمیں رکھنے والی تحریر تھی ۔۔الفاظ سادہ تھے لیکن بہت کچھ اپنے اندر سموئے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔۔۔
بہت شکریہ لبنی جی۔ خوشی ہوئی سن کر





الفاظ کا استعمال اور جملوں کی بناوٹ بہت اچھی لگی۔مجموعی طور پہ ایک مضبوط تحریر رہی۔لکھتی رہیے۔

شکریہ رمیصا۔ ضرور انشاءاللہ


بہت زبردست افسانہ ہے سس، ماشاءاللہ

سب سے اچھی بات یہ کہ افسانہ ہے بھی اور لگ بھی رہا ہے۔

وش یو گڈ لک ,اسی طرح اچھا اچھا لکھتیں رہیں۔

شکریہ سس۔ کوشش تو ہے، دیکھیں اگر سلسلہ چلتا رہے۔



بہت اچھا لکھا ہے
مجھے تو مختصر افسانے ہی زیادہ اچھے لگتے ہیں

ہائے دل اداس ہو گیا دل کیا کہ اس بچے کو افسانے سے باہر نکالوں نہلا دھلا کر نئے کپڑے پہنا کر اس کی تصوریں بناؤں

پسندیدگی کا شکریہ سس۔
بس جی مسئلہ یہی ہے کہ ایسا کوئی ایک نہیں۔
اور یہ ایک خواب ہے۔۔۔ جو کئی آنکھوں میں ٹوٹ کر چبھ رہا ہوگا۔