PDA

View Full Version : جو تھم گئے تو کچھ نہیں از نور العین ساحرہ



Aqsa
14-10-2010, 10:11 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/noor/b.gif

Aqsa
14-10-2010, 10:17 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/noor/2.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/noor/3.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/noor/4.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/noor/5.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/noor/6.gif





جو تھم گئے تو کچھ نہیں
از نورالعین ساحرہ




اس نے ایک بہت اونچے پہاڑ سے چھلانگ لگانے سے پہلے آخری بار اپنے ارد گرد پھیلی سنسان وادی کی چنگھاڑتی خاموشی کو محسوس کیا۔ ہر طرف موت کا بھیانک سناٹا پھیلا ہوا تھا۔ ۔۔ ہوائیں بھی بین کرتی محسوس ہو رہی تھیں ۔ اسکے بائیں طرف ایک جنگلی سیب کا درخت تھا جو اپنے پھلوں کے بوجھ سے خود ہی گرا جاتا تھا ہر سیب اسکی دسترس میں تھا۔۔۔ وہ چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر سارے سیب توڑ لیتا۔۔۔مگر اس وقت یہ خیال بھی اس کے ذہن میں نہیں آیا بلکہ اس درخت پر لگا ہر لال رنگ کا سیب اس وقت کسی ٹائم بم کی طرح خطرناک نظر آ رہا تھا جو چند لمحوں بعد اس کی زندگی جلا کر راکھ کرنے والا ہو۔۔ اردگرد کی ہر چیز سے اداسی ایسے ٹپک رہی تھی جیسے کسی میونسپلٹی کے نلکے سے قطرہ قطرہ پانی ناامیدی کا پیغام بن کر ٹپکا کرتا ہے۔ ہوائیں بالکل ساکن تھیں اور تمام حسین نظارے سانس روکے ایک مسجود ملائک کا بھیانک اور عبرت ناک انجام دیکھنے کو آنکھیں پھاڑے دہشت زدہ سےلگ رہے تھے ۔ ارد گرد کھلے ہوئے ہزاروں جنگلی پھول ایسے ہی بدصورت ہو گئے تھے جیسے کسی فلم میں ایسے ہی خودکشی کے سین میں دیکھائی دیتے ہیں۔ فرق تھا تو صرف اتنا کہ اسکے گرد کوئی کیمرہ نہیں تھا جو اس موقعے کی جھوٹی تصویریں بنا رہا ہو، نہ ہی کوئی سٹنٹ مین ہی موجود تھا جو اسکی جگہ ہوا سے بھرے فوم پر چھلانگ لگا کر خودکشی کا سین بہت اوریجنل طریقے سے شوٹ کروا کے ڈھیروں داد سمیٹ سکتا۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر کلمہ پڑھنے لگا۔۔۔۔۔۔مگر ایسا کرتے ہی اسے ایک جھٹکا سا لگا اور خیال آیا کہ وہ ایک گناہ کبیرہ کرتے ہوئے کلمہ نہیں پڑھ سکتا۔ خودکشی کی صورت میں جس عذاب عظیم کا مرتکب ہونے جا رہا ہے اس کی رو سے اب ہمیشہ جان کنی کی اسی اذیت سے بار بار گزرتے رہنا ہے ازل سے ابد تک ۔ جسکی کوئی پہلی یا آخری حد نہیں تھی۔ جسکی کوئی انتہاء بھی نہیں تھی۔ اس کے نامہ اعمال ابھی تک کوئی ایک بھی ایسی نیکی نہیں تھی جسکو سفارش کے طور پر پیش کر کے سزا کم کروانے کی کوئی کوشش کر سکتا۔ اس نے انیس سال کی عمر تک کوئی ایک بھی ایک ایسا قابل فخر کام نہیں کیا تھا جو اسکے یا اسکے والدین کی نجات کا باعث بن سکتا البتہ چھوٹے موٹے لاکھوں گناہوں والا نامہ اعمال جانے کیوں اسکا الٹا ہاتھ بہت بھاری ہو جانے کا احساس دلا رہا تھا ۔
مرنے کے بعد خدا کو کیا منہ دیکھائے گا؟ کس بنیاد پر خود کو مسلمان ثابت کرے گا؟ موت کے فرشتے اور انکی خوفناک شکلیں اور قبر کا عذاب سوچ کر خوف کے مارے اس کو جھرجری آ گئی اور اس نے موت سے پہلے تصور میں خود کو ان نوکیلے پتھروں پر گھسٹتے ہوئے سیدھا جہنم کی دہکتی آگ میں گرتے دیکھا جو اس کی ہڈیوں کو گوشت سے جدا کر دینے والی تھی اور ایک لامتناہی مدت تک اس عمل کو مسلسل بار بار دہرایا جانے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ایسی تکلیف نہیں اٹھا سکوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔ " اس کے گوشت پوسٹ سے بنے نرم و نازک جسم نے اس کے خود غرض اور انا پرست دماغ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے جسم اور ذہن کے درمیان خوفناک جنگ چھڑ گئی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

وہ دونوں چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو ان حالات کے لئے موردالزام ٹہرانے لگے۔ ہر دو کے دلائل ایک دوسرے سے زیادہ مضبوط تھے۔۔ انکا شور اتنا زیادہ بڑھ گیا کہ چند سیکنڈ کے لئے وہ ہوش وحواس سے بیگانہ ہو کر جیسے خلا میں معلق ہو گیا اور یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہو رہا کہ وہ کون ہےاور یہاں کیا کرنے آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ پھر اچانک ان تمام آوازوں کے ہجوم میں ایک فلم کی ہیروئن کی دو بڑی بڑی لہو رنگ آنکھیں ابھرنے لگیں اور دیکھتے دیکھتے پورے آسمان کی وسعتوں میں پھیل گئیں اور وہ مکمل طور پر دو سال پہلے کی ایک رات میں کھو گیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سترہ سالہ فرہاد جو سوات کے ایک دور افتادہ گاؤں میں رہائش پذیر تھا اور کیبل کے علاوہ انٹرنٹ جیسی جدید سہولیات سے فائدہ اٹھانے سے یکسر قاصر تھا۔ فرہاد گھر والوں سے چوری اپنے دوستوں علی اور ایاز کے ساتھ چھپ کر وی سی آر کرائے پر لا کر فلم دیکھ رہا تھا۔ ایاز کے گھر والے کسی قریبی فوتگی میں گئے تھے اور تین دن سے پہلے وآپس آنے والے نہیں تھے۔ ان تینوں کے گھر میں ٹی وی دیکھنے پر اتنی پابندی تھی کہ وہ فلمیں دیکھنے کا تو تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔
تینوں کالج میں پڑھتے تھے تھے اور بہت اداس رہتے تھے جب سب دوست مختلف فلموں کی باتیں کرتے اور اداکاروں کے قصے سناتے۔۔۔ایسے میں یہ لوگ بالکل خود کو احمق محسوس کرتے کیونکہ ان کے پاس سنانے کو ئی اسٹوری ہی نہیں تھی۔۔۔۔ اسی لئے بات بات میں وہ باقی سب کے مذاق کا نشانہ بنتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
انکے پاس کمپیوٹر بھی نہیں تھے کہ وہاں فلمیں دیکھ لیتے نہ ہی انکے گھر میں ڈش وغیرہ تھی کہ وہیں کچھ شوق پورا ہو جاتا۔ لے دے کہ پرانے زمانے کی ایک گھسی پٹی ویڈیو شاپ باقی رہ گئی تھی جہاں سے کبھی کبھا چوری چھپے وی سی آر لا کر دیکھ لیتے تھے۔
علی بھی بار بار اپنے دوستوں سے یہی کہتا تھا
""ہمارے والدین کو یہ پرواہ ہی کب ہے ۔ انکے لئے ان کے بچوں کی عزت نفس کی کوئی اہمیت نہیں تھی نا انکے شوق اور اس عمر کے تقاضوں کا کوئی احساس تھا۔۔۔۔۔۔۔ اگر پرواہ ہے تو صرف اور صرف اپنی نیک نامی کی اور اس بڑھک کی کہ وہ فخر سے بتا سکیں ہمارے گھر میں تو ٹی وی بھی نہیں ہے۔ ہمارے بچے غیر معمولی شریف ہیں جن پر بےجا فخر کر کے وہ دوسروں کا سر نیچا کر سکتے ہیں۔۔
کاش ہمارے والدین کو اپنے بچوں کے دل کی حالت کا بھی کوئی احساس ہوتا---- کہ اس عمر کے کچے جذبات کسی خود رو پودے کی طرح بڑھتے ہیں۔ ان کی مناسب کانٹ چھانٹ بہت ضروری ہے۔ انکے ذہنوں کو خود کوشش سے ایسا بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنا اچھا یا برا۔۔۔ گناہ یا ثواب کا احساس خود سے کر سکیں۔ " ثواب" تو خود سوچ سمجھ کر حاصل کرنے کی چیز ہے ، کسی کولہو کے بیل کی آنکھوں پر باندھنے والا کھوپا تو نہیں کہ زبردستی کسی کی آنکھوں پر باندھ دیا جائے اور وہ چپ چاپ اپنے ہی محور پر چکر لگانے پر مجبور رہے کیونکہ ہم کوئی بیل تھوڑا ہی ہیں ۔ ہماری بھی کچھ اپنی خواہشات ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔جب وہ پوری نہ ہو سکیں تو منفی رویہ کی طرف آسانی سے مڑ سکتی ہیں"
فرہاد بھی حسرت سے بولا
""کتنا اچھا ہوتا اگر ہمارے والدین اپنی موجودگی میں کبھی کبھار ہمیں صاف ستھری فلمیں اور ٹی وی دیکھنے دیں تاکہ بچے کے اندر یہ سب کسی طلسماتی سر زمین کی کہانیاں نہ بن جائیں جنہیں چوری چھپے کھوجنا ان کی زندگی کا واحد مقصد رہ جائے۔ ہم پر اتنے بند نہ باندھیں جائیں کہ رسی تڑوا کر بغاوت کرنے پر مجبور ہو جائیں اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں جو اس وقت ہو رہا ہے۔ اپنی موجودگی میں بچوں کو اعتماد میں لے کر کچھ تھوڑا تھوڑا سا علم ہونے دیں تاکہ وہ اسے ایک نارمل بات سمجھ کر اگنور کر سکیں نہ کہ اس کو آئیڈلائز کر کے معاشرے میں بگاڑ کی وجہ نہ بن جائیں۔ اپنے بچوں کو اچھے اور برے کا فرق بتانا انکا فرض ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر آخری فیصلہ ہم پر چھوڑ دیں۔۔ ہمارا ہر فیصلہ انکی تربیت کے حساب سے ہی سامنے آ جائے گا"

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہیروئن کے نا مناسب کپڑے اور ہیرو کی واہیات حرکات ان کے معصوم اور کچے ذہنوں میں شدید جذباتی ہیجان کا باعث بن رہی تھیں۔۔۔۔ ایک بہت نیا سا احساس پیدا ہو رہا تھا، دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ کچھ بہت انوکھی اور عجیب سی لذت۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید کسی ان جانی اور ان دیکھی طلسماتی دنیا کا در وا ہونے کو تھا
فرہاد نے بے چینی سے پہلو بدلا اور ٹی وی سے نظر ہٹائے بغیر اٹھ کر فریج سے پانی کی تیسری بوتل نکال لایا۔ پیاس تھی کہ کسی صورت بجھتی ہی نہ تھی۔
کچھ دیر وہ دیکھتا رہا پھر تصور کے گھوڑے پر سوار ہو کر ہیرو کی جگہ اس نے لے لی اور اس کے بعد جیسے سارا ذہن ہی الٹ گیا۔ کب فلم ختم ہوئی کب وہ سونے کے لئے لیٹے۔اسے کوئی احساس نہیں تھا۔ پوری رات وہ عجیب بے چینی کا شکار رہا۔۔۔۔۔۔۔۔سوتے جاگتے میں کئی بار اسی ہیروئن کے ساتھ باغوں میں جھوم جھوم کر گانے گاتا رہا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آج اسے اپنے گھر آئے تین دن ہو چکے تھے مگر کسی کام میں دل نہیں لگتا تھا۔ اسکا سارا دھیان اسی فلم کے ساتھ کرایہ کی مد میں ریحان ویڈیو سینٹر میں وآپس چلا گیا تھا۔ اب تو بھی وہ دل سے اپنے کسی قریبی عزیز کی موت کا خواہاں تھا تاکہ گھر والوں کے وہاں جانے کی صورت میں وہ دوبارہ فلمیں دیکھ سکے۔ خیالی فلمی ہیروئن کے ساتھ گانے گا کر وہ اکتا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے دن میں جذباتی ہیجان نے تیزی سے ترقی کی منزل طے کر کے خیالی کی بجائے اصلی ہیروئن کا تقاضا کرنا شروع کر دیا تھا اور الجھن یہ تھی کہ اسکے قریب و جوار میں ہیروئن تو کیا مونث کے نام پر کوئی بھینس تک موجود نہیں تھی۔ آخر کس کو اپنی ہیروئن بنا سکتا ہے؟ اس نے دل ہی دل میں اپنے محلے کے ایک کونے سے دوسرے کونے والے گھر تک لڑکیوں کو چیک کرنا شروع کیا ۔۔۔تو اچانک بجلی کا کوندا سا لپکا اور ایک خوبصورت شبیہ ذہن کے پردے پر ابھر آئی۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شمع آپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! کونے کے گھر میں رہنے والی بہت پیاری سی بہتے جھرنوں جیسی ٹھنڈی میٹھی لڑکی اس کے تصور میں چھم سے آ کودی اور اس کی ہیروئن کے خانے میں کھٹاک سے فٹ ہو گئی۔۔ جسکے گھر کا وہ سودا سلف اکثر لا دیا کرتا تھا کیونکہ وہ اپنی بیوہ ماں کی اکلوتی اولاد تھی۔ گھر میں کوئی مرد نہ ہونے کی وجہ سے وہ دونوں ماں بیٹی اکثر محلے کے لڑکوں سے ہی سودا سلف منگوایا کرتی تھیں۔
"ہاں ہاں شمع آپا بالکل ٹھیک رہیں گی"۔ دل نے لہک کر اس دریافت پر خود کو شاباشی دی۔
"مگر وہ تو آپا ہیں" اس کے ضمیر نے حیران ہو کر اپنی ہی دہائی دینا چاہی ۔۔۔۔ ------۔
"نہیں نہیں آپا نہیں کہوں گا اب ۔۔۔۔ لاحول والاقوت۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں وہ صرف شمع ہے۔ کیا ہوا جو مجھے سے دو ڈھائی سال بڑی ہے۔"
تازہ ترین دیکھی ہوئی فلم یاد آئی جس میں ہیروئن اپنے ہیرو سے پورے سات سال بڑی تھی۔ ہاں ہاں میں اب کبھی اس کو آپا نہیں کہوں گا۔ وہ اپنے آپ کو سمجھانے لگا۔۔۔۔۔۔ ڈھائی سال کا فرق زیادہ تو نہیں ہوتا۔ بس وہ ہی میری ہیروئن ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلی شام کو خاص طور پر بن سنور کر انکے گھر پہنچا اور دستک دے کر بولا۔۔۔۔۔۔ "میں ہوں جی فرہاد ۔ کوئی چیز بازار سے لانی ہے تو بتائیں"
دروازہ ایک جھٹکے سے پورا کھل گیا۔
"""نئی کار جیسی چمکتی ہوئی زیرو پوائینٹ شمع نے فرہاد کی آواز سنی تو حیرت کے مارے دروازہ پورا کھول دیا۔۔۔۔۔ اور اتنا زیادہ سامنے آ گئی کہ جتنا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے کبھی بھی اتنی ساری شمع ایک ساتھ نہیں دیکھی تھی۔۔۔۔پہلے تو کبھی ایک لہراتا آنچل یا پیر تو کبھی ہاتھ ہی دکھائی دیتا تھا جو اسکے ہاتھ میں کچھ پیسے اور ایک لسٹ پکڑا دیا کرتا تھا۔
مگر اس وقت وہ اچانک پوری کی پوری شمع کے دیدار کی تاب نہ لا سکا اور نظریں چراتے ہوئے گھبرا کر بولا
" ""مگر اب سے میں روز خود آیا کروں گا شمع" آپ۔۔ا۔۔۔۔۔۔۔۔۔" آدھا لفظ زبان پر اٹک کر رہ گیا اور وہ لفظ "آپا" کو پورا نہیں بول پایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا وہ اسے کون سی دکان سے کیا لانے کو کہ رہی تھی۔۔۔ وہ تو بس جھکی جھکی نظروں سے تصور میں ہی شمع کو اپنی ہیروئن کے سانچے میں ڈھالنے میں لگا ہوا تھا ۔
اب تو دن میں کئی چکر ان کے گھر کے لگانے لگا۔ ہنستی مسکراتی، شرارتی سی شمع اسے بہت اچھی لگتی تھی ۔۔خود اپنے آپ سے بھی زیادہ اچھی۔۔۔۔۔۔۔۔ تمام سوچوں کا محور ایک اس کی ہی ذات بن گئی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اسے پہلے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ شمع کی منگنی ہو چکی ہے۔ ایک دن اسے ایک اچھی اور یہ والی بری خبر ایک ساتھ ملی تھی اس لئے وہ چاہ کر بھی اداس نہیں ہو پایا۔۔ اور نہ ہی خوش۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کس جذبے کا اظہار کرے کیونکہ اسے اچانک ہی معلوم ہوا تھا کہ شمع کی جو کبھی منگنی ہو چکی تھی وہ اب ٹوٹ گئی ہے۔۔
اسے شمع کی تکلیف سے تکلیف تو تھی مگر اپنے لئے بہت خوشی ہو رہی تھی کیونکہ اب شمع مکمل طور پر صرف اسکی ہو سکتی تھی۔

اب تو شمع کے گھر اسکا آنا جانا بھی بہت بڑھ گیا اور انکے گھر کا کام کرنے کے بہانے اب انکا دل بہلانے میں بدلتے چلے گئے۔۔۔۔۔۔چونکہ شمع بھی اپنی منگنی ٹوٹ جانے پر شدید ذہنی اذیت کا شکار تھی اور شاید وہ بھی رونے کے لئے ایک کندھا ڈھونڈ رہی تھی اس لئے نا چاہتے ہوئے بھی اسکے کافی قریب آ گئی اور اکثر اسکے پاس بیٹھ کر اپنے دکھ رونے کے ساتھ ساتھ اب کچھ کچھ باتوں پر دونوں ساتھ مل کر ہنسنے بھی لگے تھے ۔۔
وہ بہت خوش تھا اور پوری طرح شمع کی محبت میں گرفتار بھی۔۔۔۔کہ اچانک اسکی دنیا ہی لٹ گئی۔ شمع کی منگنی کسی غلط فہمی کی بنا پر ٹوٹی تھی جسکا احساس ہوتے ہی نا صرف سسرال والے آ کر معافی تلافی کر گئے بلکہ ٹھیک ایک مہینے بعد شادی اور رخصتی کی تاریخ بھی رکھ گئے تھے اور شمع بہت خوشی خوشی فرہاد کو یہ سب بتاتے ہوئے ساتھ ساتھ شادی کا سارا انتظام کرنے کا وعدہ بھی لے رہی تھی۔ ۔۔۔۔ یہ دیکھے،سوچے اور سمجھے بغیر کہ فرہاد کی دنیا کتنی اندھیر ہو گئی ہے اور وہ کسی بھی بات کا جواب کیوں نہیں دے پا رہا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یہی وہ وجہ تھی جس نے فرہاد کو دنیا سے دور خودکشی کرنے کے لئے اس خوبصورت منظر میں بت بنا کر لا کر کھڑا کیا تھا۔۔۔۔۔ وہ شمع سے تو کچھ نہیں کہ سکتا تھا مگر خود مر تو سکتا تھا نا۔۔۔۔۔ اسی لئے یہاں چلا آیا تھا۔۔۔۔ وہ آخری بار چھلانگ لگانے سے پہلے خود اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔صرف ایک لڑکی کی محبت نے ماں باپ بہن بھائی دوستوں کی محبت کو پیچھے کیوں چھوڑ دیا ہے ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حتی کہ جینے کی امنگ بھی چھین لی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا محبت واقعی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ اسکے سامنے انسان خود اپنے آپ کو ہارنے پر مجبور ہو جائے؟۔ فرہاد نے ہزار بار اپنے آپ سے یہ سوال پوچھا مگر ہر بار یہی جواب ملتا رہا کہ ہاں۔۔۔۔"مر جاؤ۔ مر جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر زندگی میں ۔شمع نہیں تو کچھ بھی نہیں کیونکہ اس نے ابھی تک دیکھی جانے والی تمام فلموں، ناول ، افسانوں سے یہی سبق تو سیکھا تھا۔"
ماں باپ سے چوری چھپ کر ایسی غلط سلط فلمیں دیکھ کر اور ایسا ہی گھٹیا ادب پڑھنے کے بعد وہ ابھی تک یہی سمجھ رہا تھا کہ اب شاید اسکو مرنا ہی پڑے گا۔ کہ یہی محبت کی معراج ہے۔"

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک لڑکی کی محبت کے سامنے ماں باپ ، بہن بھائی، دوست احباب سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی عجیب بات ہے۔۔۔۔ ہم کبھی اپنی ماں کے مرنے پر خودکشی نہیں کرتے،اپنے باپ کے مرنے پر خود پر جینا حرام نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ایک غیر لڑکی اور ایک غیر لڑکے کہ محبت کے ہاتھوں اتنا مجبور ہو جاتے ہیں کہ اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ جان نہ بھی لیں تب بھی پوری زندگی ایک ناسور بن کر رہ جاتی ہے۔۔۔۔۔کیوں کیوں آ خر کیوں؟ یہ کیسا تضاد ہے؟ اپنے پیارے رشتوں کی نسبت چند غیر رشتے اتنے عزیز کیوں ہو جاتے ہیں۔ یہ کیسا فتور ہے جو سارے ذہنوں میں بھر جاتا ہے؟ کس نے بنائے ہیں یہ اصول۔۔۔۔۔۔ کیوں کسی غیر محرم کی محبت کو اتنا فنٹیسائز کر کے دیکھایا جاتا ہے فلموں میں کہ زندگی کے ہر رخ میں ہر کوئی خود کو فرہاد یا شیریں سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ " اور نارسائی کی صورت میں پھر مرنا ضروری سمجھنے لگتا ہے۔
وہ بار بار اپنے آپ سے یہ سب سوال پوچھ رہا تھا؟ اپنے ماں باپ کی شکلیں ذہن میں آ کر اس کو تڑپا رہی تھیں۔ اسکے غم اور دکھ کی کوئی حد نہیں تھی۔۔۔۔ ذہن و دل میں شدید کشمکش جاری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موت اسے اپنی طرف آوازیں دے رہی تھی اور زندگی اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فرہاد نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔۔۔۔۔جس میں دھماکے سے ہو رہے تھے۔ "کیا میں دنیا میں صرف اسی لئے آیا تھا ایک لڑکی کی خاطر ساری دنیا کی نعمتیں ٹھکرا دوں؟ اس لڑکی کے لئے جو اپنے نئے گھر میں بہت خوش رہنے والی ہے اور اپنی محبت کے ساتھ پوری زندگی گزارنے والی ہے؟"

""نہیں نہیں میری زندگی اتنی بے وقعت نہیں ہو سکتی"، اس کے دماغ نے دہائی دی۔۔۔۔ "میں کیوں خدا کی دی ہوئی نعمت کی نا شکری کروں؟ میں زندگی میں اس سے زیادہ بہت کچھ کر سکتا ہوں۔ میں اتنا بے کار اور ناکارہ نہیں ہوں۔۔۔۔ میرے کرنے کے بہت سے کام باقی ہیں۔ میں دنیا میں بہت سے انقلاب لا سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔میں""

ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ اسکے کانوں میں ایک باریک سی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی۔
"بھائی جان پلیز کچھ سیب توڑ کر نیچے بھی پھینک دیں گے ہم سے کبھی توڑے نہیں جاتے"

فرہاد نے چونک کر اپنی آنکھیں کھول دیں۔۔حیران ہو کر نیچے دیکھا تو دو چھوٹے چھوٹے بچے اسکول بیگ کندھے پر ڈالے منہ اوپر اٹھائے بڑی امید سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔
وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ شاید یہاں سیب توڑنے کے لئے کھڑا ہے۔
وہ ایکدم سے معصوم بچوں کی فرمائش پر حیران رہ گیا۔۔۔۔۔اسے بھول گیا کہ وہ وہاں خودکشی کرنے کے ارادے سے کھڑا تھا۔ بڑی خاموشی سے سیب توڑ توڑ کر نیچے پھینکنے لگا۔ سیب اٹھا کر وہ بچے بہت خوش تھے اور اپنے بستے میں بھرتے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بار بار اسکو شکریہ بول رہے تھے۔
"آپ دنیا میں سب سے اچھے بھیا ہیں" ایک بچہ خوشی سے چیخ کر بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم یہ سیب روز دیکھتے ہیں مگر کھبی نہیں توڑ سکتے تھے۔ جب ہم بڑے ہو جائیں گے پھر ہم بھی آپکی طرح وہاں تک پہنچ سکیں گے اور پھر ہم بھی خود ہی توڑ لیں گے"۔
""نہیں نہیں خدا نہ کرے تم کبھی میری طرح بڑے ہو کر یہاں" پہنچو۔۔۔۔۔۔" وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا اور ایک سیب توڑ کر خود بھی کھانے لگا۔۔۔کتنا میٹھا سیب تھا اور کتنا زندگی سے بھرپور۔۔۔۔ بالکل ان بچوں کے چہرے پر پھوٹنے والی خوشی کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہلکا پھلکا ہو کر مسکرا دیا اور سیب ہاتھ میں لے کر نئی امیدوں اور امنگوں بھرے وآپسی کے راستے پر چل پڑا۔۔۔۔ اس نے سمجھ لیا تھا کہ زندگی اتنی بےکار نہیں تھی جو یوں ہی ظائع کر دیتا۔ اس کے دماغ نے اس کے دل کو پچھاڑ دیا تھا۔۔۔۔۔
زندگی بزدلی کا نام نہیں ہو سکتی۔۔صرف کسی ایک رشتے کا نام نہیں ہو سکتی اور بھی بہت خوبصورت رشتے ہوتے ہیں جنکی محبتوں کا قرض چکانا ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے راستے خود بنانے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی جس کو فرشتوں نے سجدہ کیا ہو اور وہ اشرف المخلوقات کے رتبے پر فائز ہو اسے اتنا کم ہمت ہونا زیب نہیں دیتا کہ یہ انسانیت کی توہین ہے۔۔ ہر انسان کو سر اٹھا کر جینا ہو گا کہ یہی اس قیمتی خدائی تحفے کا بدلہ ہے جو زندگی کی صورت ہمیں ملا اس پر آگے ہی آگے فتح مندی کے جھنڈے گاڑتے بڑھتے ہی جانا ہوتا ہے، ایسے میں جو تھم گئے تو کچھ نہیں اور فرہاد نے کامیابی کی طرف اپنے قدم بڑھا کر خود کو اشرف المخلوقات ثابت کر دیا تھا۔





”جو تھم گئے تو کچھ نہیں“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے

آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Sabih
19-10-2010, 11:10 PM
ساحرہ آپی
بہت ہی عمدہ افسانہ ہے۔ ۔ ۔
کہانی کا فلو بہت عمدہ رہا۔ ۔ ۔
لیکن پتہ نہیں کیوں اسے پڑھتے ہی ہلکی ہلکی ہنسی بھی آ گئی۔ ۔ ۔;)
ویری ویل رٹن۔

Noor-ul-Ain Sahira
19-10-2010, 11:17 PM
ساحرہ آپی
بہت ہی عمدہ افسانہ ہے۔ ۔ ۔
کہانی کا فلو بہت عمدہ رہا۔ ۔ ۔
لیکن پتہ نہیں کیوں اسے پڑھتے ہی ہلکی ہلکی ہنسی بھی آ گئی۔ ۔ ۔;)
ویری ویل رٹن۔



شکریہ;d بھائی
حالانکہ افسانہ تو اداسی کے بعد امید لانے والا ہے:(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا صبیح؟ کہیں چوٹ تو نہیں لگی سر میں جسکی وجہ سے ایسا فیل ہو رہا ہے خدا نا کرے;d۔

Sabih
19-10-2010, 11:25 PM
شکریہ;d بھائی
حالانکہ افسانہ تو رونے والا ہے:(۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوا بھائی؟ کہیں چوٹ تو نہیں لگی سر میں جسکی وجہ سے ایسا فیل ہو رہا ہے خدا نا کرے;d۔

افسانہ کہاں ہے رونے والا اتنا اچھا اینڈ تو ہے نا۔ ۔ ۔

Skyla
19-10-2010, 11:52 PM
ساحرہ کافی اچھا لکھا ھے تم نے - بامقصد بھی ھے اور گھمبیر بھی نہیں - مجھے تمھارے انداز تحریر میں ھلکا پھلکا پن بہت بھاتا ھے - لائٹ سے موڈ میں بڑی بات کہہ دینا - ویل ڈن - اس تحریر میں کوئی ایسی خامی نہیں بلکہ ھیپی اینڈینگ مجھے اچھا لگا، مثبت پیغام کے ساتھ-
لیکن سچ بتاؤں مجھے تمھارے وہ سارے افسانے بہتتتتت اچھے لگتے ھیں جن میں بیک گراؤنڈ امریکہ کا ھوتا ھے کیونکہ ایسی کہانہوں میں بہت کچھ نیا پڑھنے کو ملتا ھے تمھاری پرسنل اوبزرویشن کی بنا پر - کافی الگ سا لگتا ھے -
دعا ھے کہ تمھارا قلم روز بہ روز ترقی کرے -

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 02:33 AM
افسانہ کہاں ہے رونے والا اتنا اچھا اینڈ تو ہے نا۔ ۔ ۔


آہمممممممممممممم
آہم
سو تو ہے:)۔

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 02:35 AM
ساحرہ کافی اچھا لکھا ھے تم نے - بامقصد بھی ھے اور گھمبیر بھی نہیں - مجھے تمھارے انداز تحریر میں ھلکا پھلکا پن بہت بھاتا ھے - لائٹ سے موڈ میں بڑی بات کہہ دینا - ویل ڈن - اس تحریر میں کوئی ایسی خامی نہیں بلکہ ھیپی اینڈینگ مجھے اچھا لگا، مثبت پیغام کے ساتھ-
لیکن سچ بتاؤں مجھے تمھارے وہ سارے افسانے بہتتتتت اچھے لگتے ھیں جن میں بیک گراؤنڈ امریکہ کا ھوتا ھے کیونکہ ایسی کہانہوں میں بہت کچھ نیا پڑھنے کو ملتا ھے تمھاری پرسنل اوبزرویشن کی بنا پر - کافی الگ سا لگتا ھے -
دعا ھے کہ تمھارا قلم روز بہ روز ترقی کرے -


بہت بہت شکریہ پیاری بہنا
مجھے بھی امریکہ والے لکھنے میں زیادہ اچھا لگتا ہے۔بہت اوریجنل ہوتے ہیں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اردو پوائینٹ پر اکثر لوگ شکایت کرنے لگے تھے کہ آپ پاکستانی بیک گراؤئینڈ والے افسانے بھی تو لکھا کریں ناں۔۔۔۔ صرف امریکہ والے نہیں لکھا کریں۔۔۔۔۔
اس لئے اب دونوں ہی پر لکھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
۔

Ahmed Lone
20-10-2010, 03:33 AM
بہت خوب

بہت شکریہ اس افسانے کے لیے

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 04:51 AM
بہت خوب

بہت شکریہ اس افسانے کے لیے


جی بہت شکریہ
ویسے جانے کیوں یہ "بہت خوب" بہت مشکوک سا لگ رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے افسانہ پڑھے بغیر بس رسمی کاروائی پوری کر ڈالی ہے:(۔

Ahmed Lone
20-10-2010, 05:08 AM
ارے:o


واللہ ایسا نہیں ہے

یہ والا بہت خوب نوجوانوں کی فلموں و فحاشی جیسی لت میں پڑ جانے پر لکھنے پر کہا

ابھی دل سے کہہ رہا ہوں سچی والا کہہ رہا ہوں

آپ کے موضوع کے انتخاب پر بہت خوب کہا



میں اتنی جلدی قسم نہیں کھاتا

اب اگر یقین آگیا ہےتو مسکراتی ہوئی سمائیل والا شکریہ بھی ادا کریں

وہ اوپر گرین والی سمائیلی کچھ بھی اچھی نہیں لگ رہی

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 05:12 AM
ارے:o


واللہ ایسا نہیں ہے
اب اگر یقین آگیا ہےتو مسکراتی ہوئی سمائیل والا شکریہ بھی ادا کریں

وہ اوپر گرین والی سمائیلی کچھ بھی اچھی نہیں لگ رہی

بہت شکریہ
چلیں جی اب اتنے اصرار سے کہ رہے ہیں تو سچ مان ہی لیتے ہیں:);)۔

میمونہ
20-10-2010, 05:17 AM
زبردست:)۔
مجھے تو شاباش دینی بھی نہیں آتی ڈھنگ سے۔بہت اچھا لکھا شکر ہے ہیپی اینڈنگ تھی۔۔:)

روشنی
20-10-2010, 05:41 AM
بہت اچھا لکھتی ہیں آپ ساحرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح یہ افسانہ بھی خوب لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

anadil
20-10-2010, 06:09 AM
اسلام و علیک
بہت ہی اچھا افسانہ اور سبق آموز افسانہ تھا۔

Star
20-10-2010, 06:29 AM
بہت اچھا ہے لکھا ہے ہمیشہ کی طرح۔ ہلکا پھلکا سا سبق آموز۔
میری ناقص سمجھ میں آگیا سب۔۔سر کے اوپر سے نہیں گزرا۔

HarfeDua
20-10-2010, 07:03 AM
بہت اچھا افسانہ ہے ساحرہ۔۔۔۔ ویسے آپ کے افسانے کا ہیرو بڑا ہی سیدھا سادھا تھا بچارا۔۔۔۔ بچوں کو سیب توڑ توڑ کر دیتا رہا ۔ ۔ ۔دیتا رہا۔ ۔ ۔ یہ دیکھیں میں وہاں سے گزر رہی تھی تو سوچا آپ کے لیے پکچر کھینچ لوں۔

http://superbabyfaith.com/wp-content/uploads/2010/09/daddyfaitheckerts-e1283653594727-225x300.jpg

مزاق کررہی ہوں بھئی امید ہے مائنڈ نہیں کریں گی۔۔۔;) ویسے افسانہ ہے اچھا اور میسج بھی بہت اچھا ہے۔

سلمان سلّو
20-10-2010, 07:34 AM
السلام علیکم ۔۔۔ھمم اچھا افسانہ ہے لیکن ''آج کا افسانہ '' کے لئے میں اسکو کچھ زیادہ اچھا نہیں کہہ سکتا ایسا معلوم ہوتا ہے بہت جلدبازی میں اسکو تحریر کیا گیا ہوں پلاٹ بھی کچھ پرانا سا ہے۔۔۔۔ڈیزائننگ بھی کوئی خاص نہیں ۔۔۔۔اور افسانے کا نام بھی کچھ زیادہ باوزن نہیں۔۔~۔۔ہاں آخر میں یہ چھوٹے بچوں کو سیب کھلانے والی بات کچھ دلچسپ لگی۔۔:)۔۔

جیا آپی
20-10-2010, 12:30 PM
مجھے بہت ہی اچھا لگا ،، کافی ۔۔آسان لفظوں میں بات سمجھانے کی کوشش کی ہے، کیپ اٹ اپ۔۔ اور مجھے بھی تمہارے امریک پس منظر میں بیان کرنے والے افسانے،ناول بہت پسند ہیں۔اللہ کرے تم ایسا ہی لکھتی رہو آمین۔

Kainat
20-10-2010, 05:57 PM
بہت اچھا لکھا ساحرہ،
بہت مزہ آیا ۔۔۔ وہ سیب کا درخت ۔۔۔۔۔ اس کا بھی خاصا رول رہا ۔۔۔ لکھنا آپ کے لیے اب کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔ آپ نے اچھا کیا اب اپنی تحاریر میں امریکہ کی جگہ بیک گراونڈ چینج کیا۔ اس لیے نیو لک بھی لگی۔ کیپ گڈ ورک

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:42 PM
زبردست:)۔
مجھے تو شاباش دینی بھی نہیں آتی ڈھنگ سے۔بہت اچھا لکھا شکر ہے ہیپی اینڈنگ تھی۔۔:)


اوہ مومی:mad:تمھیں کوئی بھی کام ڈھنگ سے کرنا کیوں نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ آئے یا نہیں کم سے کم یہ تو سیکھ لو;d۔

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:43 PM
بہت اچھا لکھتی ہیں آپ ساحرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح یہ افسانہ بھی خوب لکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ


شکریہ روشنی
ویسے تم کہاں گم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب نظر کیوں نہیں آتی ہو بہنا:(؟

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:44 PM
اسلام و علیک
بہت ہی اچھا افسانہ اور سبق آموز افسانہ تھا۔


افسانہ پڑھنے اور پسند کرنے کے لئے بہت بہت شکریہ :)بہنا

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:46 PM
بہت اچھا ہے لکھا ہے ہمیشہ کی طرح۔ ہلکا پھلکا سا سبق آموز۔
میری ناقص سمجھ میں آگیا سب۔۔سر کے اوپر سے نہیں گزرا۔


شکریہ سٹار بچے:)۔
بہت بہت دن بعد نہ آیا کرو۔ اکثر آتی جاتی رہا کرو اپنے سیکشن سے باہر بھی دیکھو ایک دنیا آباد ہے۔
یہ تو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ہمیشہ کوشش کرتی ہوں کہ میرا افسانہ بہت سادہ ہو اور ہر پڑھنے والے کو ضرور سمجھ میں آ جائے

Meem
20-10-2010, 06:47 PM
بہت اچھی اور فکر انگیز تحریر، کل ایک بڑا تبصرہ نیٹ کی روں روں کی نظر ہوگیا اس لیے اب چھوٹے سے گزارہ کرو۔

Sabih
20-10-2010, 06:49 PM
شکریہ روشنی
ویسے تم کہاں گم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب نظر کیوں نہیں آتی ہو بہنا:(؟
لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔:cool:

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:49 PM
السلام علیکم ۔۔۔ھمم اچھا افسانہ ہے لیکن ''آج کا افسانہ '' کے لئے میں اسکو کچھ زیادہ اچھا نہیں کہہ سکتا ایسا معلوم ہوتا ہے بہت جلدبازی میں اسکو تحریر کیا گیا ہوں پلاٹ بھی کچھ پرانا سا ہے۔۔۔۔ڈیزائننگ بھی کوئی خاص نہیں ۔۔۔۔اور افسانے کا نام بھی کچھ زیادہ باوزن نہیں۔۔~۔۔ہاں آخر میں یہ چھوٹے بچوں کو سیب کھلانے والی بات کچھ دلچسپ لگی۔۔:)۔۔




ارے ارے:o:(کیا ہو گیا سلمان بھائی۔آپ نے تو میرا دل ہی دہلا دیا۔۔۔۔جی نہیں جلدی میں تو نہیں لکھا بالکل بھی۔۔۔۔مجھے افسوس ہے آپکے معیار پر پورا نہیں اترا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیکسٹ ٹائم ڈیزئینگ تو ُآ نے ہی کرنی ھے اب تاکہ کم سے کم ایک الزام تو کم ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے موضوع پرانا والا تو بہت بڑا الزام ہے۔باقی سارے لے لوں گی مگر یہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ ابھی تک یہ موضوع میرے اپنے بنائے گئے تھریڈ کے علاوہ کبھی میری نظر سے نہیں گزرا کم سے کم~۔

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:50 PM
مجھے بہت ہی اچھا لگا ،، کافی ۔۔آسان لفظوں میں بات سمجھانے کی کوشش کی ہے، کیپ اٹ اپ۔۔ اور مجھے بھی تمہارے امریک پس منظر میں بیان کرنے والے افسانے،ناول بہت پسند ہیں۔اللہ کرے تم ایسا ہی لکھتی رہو آمین۔


شکریہ جیا
ہاں میں کوشش کروں گی دونوں بیک گراؤئینڈ ساتھ ساتھ چلتے رہیں تاکہ دونوں قاری خوش رہیں:)۔

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:52 PM
بہت اچھا لکھا ساحرہ،
بہت مزہ آیا ۔۔۔ وہ سیب کا درخت ۔۔۔۔۔ اس کا بھی خاصا رول رہا ۔۔۔ لکھنا آپ کے لیے اب کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔ آپ نے اچھا کیا اب اپنی تحاریر میں امریکہ کی جگہ بیک گراونڈ چینج کیا۔ اس لیے نیو لک بھی لگی۔ کیپ گڈ ورک


ہاہاہاہا
ہاں ہاں صبیح کی ہنسی اور سیب کے درخت کا راز بھی کسی دن ضرور ڈسکلوز کر دیا جائے گا میرے بلاگ میں مگر بہـــــــــــــــــــــــ ت دن بعد۔ابھی نہیں۔۔۔۔۔
پسند کا شکریہ

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:53 PM
بہت اچھی اور فکر انگیز تحریر، کل ایک بڑا تبصرہ نیٹ کی روں روں کی نظر ہوگیا اس لیے اب چھوٹے سے گزارہ کرو۔



اوں ہوں:( سو سیڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اچھا چلو اب اسی پر گزارا کرنا پڑے گا نا۔۔۔مجبوری ہے

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:55 PM
لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔:cool:

ارے ہاں یہ تو سوچا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اففففففف صبیح اگر آپ نا ہو تو میں کیسے سروائیو کر سکوں گی;d;d۔ مجھے اتنی اہم معلومات اور کون دے سکتا ہے بھلا;d؟۔

Lubna Ali
20-10-2010, 06:57 PM
گڈ جی ۔۔۔۔!!!

پتا نہیں کیوں ایک ہنسی سی آجاتی ہے جب بھی اس افسانے کے بارے میں سوچو تو۔۔بڑی میٹھی میٹھی اور "سیبی سیبی " یادیں جو جڑ گئیں ہیں۔۔۔ہاہاہاہا

مذاق بر طرف ایک اچھے پیغام کے ساتھ یہ ایک اچھی کاوش تھی ۔۔۔


لیکن پھر بھی میرا وہی سوال ۔۔۔۔بچوں نے سیب ہی کیوں مانگے وہ تو گھر پر بھِی مل جاتے ہیں بچے تو ایسے چیزوں کے لئے للچاتے ہیں جو ان کی پہنچ سے دور رہے جیسے جنگلی بیر۔۔۔ املیاں۔۔۔۔ جنگل جلیبی۔۔۔ان سب کے بارے میں بھی تو سوچنا تھا ناں ،،اور اگر اسکول کے راستے میں پڑتا تھا وہ سیب کا درخت تو ویسے بھی اس میں سیب ہوتے نہیں بڑے جو توڑ پھوڑ لیتے ۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا یا جو امی باوا لینے آتے ہونگے وہ ہی لے جاتے ہونگے اگر نہیں لے جاتے اس کا مطلب ہوگا وہ لوگ سیب کھا کھا کر تھک چکے ہیں اور اس طرح تو بچے بھِی سیب نہیں کھانا چاہیں گے۔۔۔ ورنہ پاکستان میں ایسی مہنگائی کے دور میں سیب کے درخت کا پھلوں سے ایسا لد پھندا رہنا اور وہ بھی کسی اسکول کے راستےمیں ذرا سا مشکل ہی لگتا ہے۔۔۔۔یا یہ الگ بات ہو سکتی ہے کسی نے اس کو آسیبی مشہور کر دیا ہو۔۔۔۔۔ اس ڈر سے وہ لوگ اس درخت کے پاس نہیں جاتے ہونگے ۔۔۔اور اور اور


ابھی بال نوچنے والی حالت نہیں ہو رہی ہو تو مزید کچھ کہنے کی جرات کروں؟؟؟؟

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 06:57 PM
بہت اچھا افسانہ ہے ساحرہ۔۔۔۔ ویسے آپ کے افسانے کا ہیرو بڑا ہی سیدھا سادھا تھا بچارا۔۔۔۔ بچوں کو سیب توڑ توڑ کر دیتا رہا ۔ ۔ ۔دیتا رہا۔ ۔ ۔ یہ دیکھیں میں وہاں سے گزر رہی تھی تو سوچا آپ کے لیے پکچر کھینچ لوں۔

http://superbabyfaith.com/wp-content/uploads/2010/09/daddyfaitheckerts-e1283653594727-225x300.jpg

مزاق کررہی ہوں بھئی امید ہے مائنڈ نہیں کریں گی۔۔۔;) ویسے افسانہ ہے اچھا اور میسج بھی بہت اچھا ہے۔



ہاہاہاہاہا
سو کیوٹ اینڈ پرفیکٹ تبصرہ دعا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برا کیوں مانوں گی بھلااور تصویر تو اتنی کمال کی ہے کہ حد نہیں۔۔۔۔لگتا ھے لفظوں نے یہ روپ دھار لیا ہے;d اور ہاں ایسے موقعے کی صرف دور دور سے تصویر نہیں کھینچتے۔یہ تو زرد صحافت میں آ جائے گا;)۔ اسکی ہیلپ بھی تو کرنی تھی نا;d۔۔

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 07:01 PM
گڈ جی ۔۔۔۔!!!

پتا نہیں کیوں ایک ہنسی سی آجاتی ہے جب بھی اس افسانے کے بارے میں سوچو تو۔۔بڑی میٹھی میٹھی اور "سیبی سیبی " یادیں جو جڑ گئیں ہیں۔۔۔ہاہاہاہا

مذاق بر طرف ایک اچھے پیغام کے ساتھ یہ ایک اچھی کاوش تھی ۔۔۔


لیکن پھر بھی میرا وہی سوال ۔۔۔۔بچوں نے سیب ہی کیوں مانگے وہ تو گھر پر بھِی مل جاتے ہیں بچے تو ایسے چیزوں کے لئے للچاتے ہیں جو ان کی پہنچ سے دور رہے جیسے جنگلی بیر۔۔۔ املیاں۔۔۔۔ جنگل جلیبی۔۔۔ان سب کے بارے میں بھی تو سوچنا تھا ناں ،،اور اگر اسکول کے راستے میں پڑتا تھا وہ سیب کا درخت تو ویسے بھی اس میں سیب ہوتے نہیں بڑے جو توڑ پھوڑ لیتے ۔۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا یا جو امی باوا لینے آتے ہونگے وہ ہی لے جاتے ہونگے اگر نہیں لے جاتے اس کا مطلب ہوگا وہ لوگ سیب کھا کھا کر تھک چکے ہیں اور اس طرح تو بچے بھِی سیب نہیں کھانا چاہیں گے۔۔۔ ورنہ پاکستان میں ایسی مہنگائی کے دور میں سیب کے درخت کا پھلوں سے ایسا لد پھندا رہنا اور وہ بھی کسی اسکول کے راستےمیں ذرا سا مشکل ہی لگتا ہے۔۔۔۔یا یہ الگ بات ہو سکتی ہے کسی نے اس کو آسیبی مشہور کر دیا ہو۔۔۔۔۔ اس ڈر سے وہ لوگ اس درخت کے پاس نہیں جاتے ہونگے ۔۔۔اور اور اور


ابھی بال نوچنے والی حالت نہیں ہو رہی ہو تو مزید کچھ کہنے کی جرات کروں؟؟؟؟


ھمممممممممممممم
نہیں تمھارے سارے سوالوں کے جواب میرے بلاگ میں دئے جائیں گے
ویٹ کرو ۔۔۔ابھی نہیں۔۔۔۔;d۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے وہ درخت بہت چوٹی پر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عام لوگ وہاں نہیں پہنچ سکتے۔۔۔۔اور بچے تو کسی صورت نہیں۔۔۔۔اور وہاں یہی ایک سیب کا درخت تھا۔۔۔۔۔۔۔ انکے گھر میں نہیں آتے تھے سیب وہ بہت غریب تھے ۔ باقی چیزیوں کی بھی مہنگائی بہت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔;d۔۔۔

Lubna Ali
20-10-2010, 07:02 PM
ھمممممممممممممم
نہیں تمھارے سارے سوالوں کے جواب میرے بلاگ میں دئے جائیں گے
ویٹ کرو ۔۔۔ابھی نہیں۔۔۔۔;d۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے وہ درخت بہت چوٹی پر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عام لوگ وہاں نہیں پہنچ سکتے۔۔۔۔اور بچے تو کسی صورت نہیں۔۔۔۔اور وہاں یہی ایک سیب کا درخت تھا۔۔۔۔۔۔۔ انکے گھر میں نہیں آتے تھے سیب وہ بہت غریب تھے ۔ باقی چیزیوں کی بھی مہنگائی بہت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔;d۔۔۔

تو کیا ہیرو ماونٹین کلائمبر بھی تھا؟۔۔۔۔ اور اتنی چوٹی سے بچوں کو سیب نظر کیسے آگئے چوٹی سے تو آدمی بھی مشکل سے نظر آتا ہے۔۔؟

Sabih
20-10-2010, 07:04 PM
تو کیا ہیرو ماونٹین کلائمبر بھی تھا؟
نہ جی اسے تو ہیلی کاپٹر چوٹی پر اتار کر آیا تھا۔ ۔ ۔ ۔
;d

Aqsa
20-10-2010, 07:07 PM
بہت اچھا لکھا ہے ساحرہ جی آپ نے۔ اپنے مثبت پیغام کے ساتھ ہلکے پھلکے انداز میں ایک بڑی معاشرتی برائی اور اسکے نتائج پر روشنی ڈالی ہے۔ آپ کی اور تحریروں کا انتظار رہے گا۔

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 07:29 PM
بہت اچھا لکھا ہے ساحرہ جی آپ نے۔ اپنے مثبت پیغام کے ساتھ ہلکے پھلکے انداز میں ایک بڑی معاشرتی برائی اور اسکے نتائج پر روشنی ڈالی ہے۔ آپ کی اور تحریروں کا انتظار رہے گا۔


بہت بہت شکریہ رافعہ جی۔۔۔۔۔۔ان شااللہ کوشش یہی رہے گی کہ جلدی دوبارہ لکھا جا سکے کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔

Moona Ahmad
20-10-2010, 07:52 PM
بہت خوب لکھا اپیا۔۔
موضوع بھی بہت اچھا تھا بالکل آج کل کے حالات کے مطابق۔۔

Nida Sulaiman
20-10-2010, 07:58 PM
ساحرہ واقع بہت عمدہ لکھا آپنے۔ ۔ ہر گناہ کے ارتکاب سے پہلے اگر ہم انسان یہ سوچ لیں کہ اس کی آخرت میں کیا بھیانک سزا ملے گی تو پھر یقینن سب کے اعمال نامے نیکیوں سے بھرنے شروع ہوجائیں گے۔
بہت خوب۔

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 09:30 PM
بہت خوب لکھا اپیا۔۔
موضوع بھی بہت اچھا تھا بالکل آج کل کے حالات کے مطابق۔۔


شکریہ مونا:) کوشش تو یہی ہے کہ نئی نسل کو کچھ بتایا جا سکے۔۔

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 09:33 PM
ساحرہ واقعی بہت عمدہ لکھا آپ نے۔ ۔ ہر گناہ کے ارتکاب سے پہلے اگر ہم انسان یہ سوچ لیں کہ اس کی آخرت میں کیا بھیانک سزا ملے گی تو پھر یقیناً سب کے اعمال نامے نیکیوں سے بھرنے شروع ہوجائیں گے۔


بہت خوب۔



شکریہ بہنا۔۔۔ بس مقصد تو یہی ہے۔ کاش کہ مجھ سمیت ہم سب اس بات کا خاص خیال رکھ سکیں تو معاشرے میں برائیاں کافی کم ہو سکتی ہیں:)۔

Sehar Azad
20-10-2010, 10:33 PM
تیار رہیں کسی بھی وقت گولہ باری ہو سکتی ہے>:D

Noor-ul-Ain Sahira
20-10-2010, 10:57 PM
تیار رہیں کسی بھی وقت گولہ باری ہو سکتی ہے>:D

ہاہاہاہا
اگر گولہ باری کرو گے تو میں آپکی سوسائٹی والی تعریفی پوسٹ اٹھا کر یہاں پوسٹ کر دوں گی۔۔۔۔۔۔۔ پھر لوگوں سے کہوں گی
دیکھو سحر آزاد پر اعتبار مت کرنا
پل میں تولہ
پل میں ماشہ، یہ تو بہت بےاعتبار شخص ہے;d;d۔

bluebird
20-10-2010, 11:40 PM
ماشاءاللہ ساحرہ سس بہت اچھا لکھا آپ نے۔ہلکی پھلکی اور ایک مثبت پیغام دیتی تحریر ہے۔ وش یو آل دی بیسٹ

Hira Qureshi
21-10-2010, 12:15 AM
اچھی تحریر ہے ساحرہ اور اس دفعہ موضوع بھی آپ کے پچھلے افسانوں سے کچھ مختلف تھا تو اچھا لگا۔

Durre Nayab
21-10-2010, 12:36 AM
بہت اچھا لکھا ہے آپی۔ ۔ ۔اچھا ہلکا پھلکا اور سبق آموز۔ ۔ آپ کی عام تحریر عورت سے ہٹ کر لکھی اور بہت اچھی لگی۔

رمیصا
21-10-2010, 01:18 AM
ہاہاہا۔۔۔۔!!
افسانہ تو بہت اچھا ہے مطلب پیغام۔۔۔!!
اور انداز بھی۔۔۔!!
اور لکھا ہوا بھی۔۔۔!!
اور ہاہاہا بس ایسے ہی۔۔۔!!

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 01:27 AM
ہاہاہا۔۔۔۔!!



افسانہ تو بہت اچھا ہے مطلب پیغام۔۔۔!!
اور انداز بھی۔۔۔!!
اور لکھا ہوا بھی۔۔۔!!


اور ہاہاہا بس ایسے ہی۔۔۔!!



اور اسکے ساتھ ہی میری طرف سے ایک چٹاخ بھی آنے والا ہے بس ایسے ہی;d;d;d۔

رمیصا
21-10-2010, 01:38 AM
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔لیں جی اب بتا کر نہیں ہنسوں گی۔
ویسے ہما آپی نے سیٹ خالی چھوڑ دی ہے کیا؟

fatima201
21-10-2010, 01:41 AM
bohat hi acha likha sahira :)

Zainab
21-10-2010, 02:04 AM
ساحرہ ہمشہ کیطرح بہت اچھا لکھا تم نے

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 03:47 AM
ماشاءاللہ ساحرہ سس بہت اچھا لکھا آپ نے۔ہلکی پھلکی اور ایک مثبت پیغام دیتی تحریر ہے۔ وش یو آل دی بیسٹ

بہت بہت شکریہ بلیو برڈ۔ آپ بھی خوش رہو:)۔

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 03:54 AM
اچھی تحریر ہے ساحرہ اور اس دفعہ موضوع بھی آپ کے پچھلے افسانوں سے کچھ مختلف تھا تو اچھا لگا۔


بہت اچھا لکھا ہے آپی۔ ۔ ۔اچھا ہلکا پھلکا اور سبق آموز۔ ۔ آپ کی عام تحریر عورت سے ہٹ کر لکھی اور بہت اچھی لگی۔



شکریہ حرا اور دری
ہاں میں بھی کوشش تو کرتی ہوں کہ عورت کے دکھ سے باہر نکلوں۔۔اور بھی غم ہیں زمانے میں عورت کے سوا???۔۔۔۔۔۔۔ مگر جانے کیوں ہر بار کوئی نا کوئی دکھی عورت نا چاہتے بھی میرے افسانے کا موضوع بن جاتی ہے:(۔
ویسے اگر یاد کرو تو بہنا تیری ذات کا حوالہ بنا میری پہچان اور یہ وہ پاکستان تو نہیں اور پچھلے میگزین میں بلاعنوان (میراث) بھی تو عورت پر نہیں تھےنا;)۔

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 04:01 AM
ہاہاہاہا۔۔۔۔۔لیں جی اب بتا کر نہیں ہنسوں گی۔


ویسے ہما آپی نے سیٹ خالی چھوڑ دی ہے کیا؟



ہاہاہا نہیں مجھے زبردستی ادھار لینا پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت ضرورت لگ رہی تھی;);d۔

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 04:02 AM
bohat hi acha likha sahira :)


بہت بہت شکریہ فاطمہ جی:)۔آنے کا اور پڑھنے کا اور پسند کرنے کا بھی:)۔

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 04:03 AM
ساحرہ ہمشہ کیطرح بہت اچھا لکھا تم نے


بہت بہت شکریہ زینب جو تم نے وقت نکال کر:) پڑھا۔:)

imported_Sad Prince
21-10-2010, 04:11 AM
بہت خوب جی۔

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 04:26 AM
بہت خوب جی۔


بہت بہت شکریہ اور سخت حیرانگی کے ساتھ خوشی والی اسمائیلی:)۔آپ کو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا نا ایسے باتیں کرتے۔۔۔۔۔۔;)۔

رمیصا
21-10-2010, 04:34 AM
بہت بہت شکریہ اور سخت حیرانگی کے ساتھ خوشی والی اسمائیلی:)۔آپ کو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا نا ایسے باتیں کرتے۔۔۔۔۔۔;)۔



یہ حضرت ایسی باتیں پڑھتے ہیں بس کرتے نہیں ہیں۔۔۔۔
اور سچ میں اب سیرسلی یہ ایک یادگار افسانہ ہو گیا ہے اور جہاں تک موضوع کا تعلق ہے تو میرا پسندیدہ ترین موضوع۔۔۔۔۔بات تو پھر وہی ہو گئی کہ بزرگوں والے خالص خیالات،بہرحال ہماری آجکل کی نسل کو بگاڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ موبائل فونز کے پیکجز اور ان گھٹیا فلموں کا ہے،ستم یہ کہ روکنے والا بھی کوئی نہیں،یا اگر ہے تو اسے خبر ہی نہیں ۔اور سونے پہ سہاگا فضول قسم کی ڈائجسٹی کہانیاں۔۔۔!!
بہت بہت اچھا موضوع ہے۔


ہاہاہا۔۔۔۔اب ادھار واپس کر دیں۔

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 04:41 AM
یہ حضرت ایسی باتیں پڑھتے ہیں بس کرتے نہیں ہیں۔۔۔۔
اور سچ میں اب سیرسلی یہ ایک یادگار افسانہ ہو گیا ہے اور جہاں تک موضوع کا تعلق ہے تو میرا پسندیدہ ترین موضوع۔۔۔۔۔بات تو پھر وہی ہو گئی کہ بزرگوں والے خالص خیالات،بہرحال ہماری آجکل کی نسل کو بگاڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ موبائل فونز کے پیکجز اور ان گھٹیا فلموں کا ہے،ستم یہ کہ روکنے والا بھی کوئی نہیں،یا اگر ہے تو اسے خبر ہی نہیں ۔اور سونے پہ سہاگا فضول قسم کی ڈائجسٹی کہانیاں۔۔۔!!
بہت بہت اچھا موضوع ہے۔




ہاہاہا۔۔۔۔اب ادھار واپس کر دیں۔


ہاہاہاہا وہی تو۔۔ سیڈ پرنس نے تو مجھے شدید حیراتی جھٹکا دیا ہے بہت بڑا۔۔۔اس سے ثابت ہوتا ہے افسانہ بہت ہی خاص ہے::)۔
اور ہاں تمکی اس ہی ہی ہی ہاہاہاہا کا بھی انتظام ہو جائے گا کچھ عرصے بعد فکر ناٹ;d۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس ابھی کیا نہیں جا سکتا نا مجبوری ہے۔۔۔۔۔۔ ویٹنا تو پڑے گا۔

روشنی
21-10-2010, 06:34 AM
شکریہ روشنی
ویسے تم کہاں گم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب نظر کیوں نہیں آتی ہو بہنا:(؟

گم ہو گئی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ مین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نظر کیسے آؤں۔۔۔۔۔۔۔۔

[QUOTE=Sabih;1597799]لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نا۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔:cool:[

موڈی لوڈ شیڈنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sehar Azad
21-10-2010, 06:48 AM
ہاہاہاہا
اگر گولہ باری کرو گے تو میں آپکی سوسائٹی والی تعریفی پوسٹ اٹھا کر یہاں پوسٹ کر دوں گی۔۔۔۔۔۔۔ پھر لوگوں سے کہوں گی
دیکھو سحر آزاد پر اعتبار مت کرنا
پل میں تولہ
پل میں ماشہ، یہ تو بہت بےاعتبار شخص ہے;d;d۔
مروت بھی کوئی شئے ہےاس کوچے میں سحر
سوسائٹی والوں کے لیے جو پائی جاتی فقط~

Faaizaa
21-10-2010, 08:07 AM
محترمہ نورالعین ساحرہ صاحبہ
آپکا افسانہ پڑھا،اچھا تھا مگر میں اس سائٹ پہ نی ھوں تو اس سے پھلے آپکا لکھا ھوا کچھ بھی پڑھنے سے محروم رھی۔۔۔۔موضوع اچھا چنا آپنے ،مگر سٹارٹ میں غیر ضروری بوجھل پن محسوس ھوا (شائد سیچویشن ایسی تھی کہ اس کو لگا )،ھلکاپھلکا سا رھتا تو اور بھی اچھا لگتا(متفق ھونا ضروری نھی )،البتہ والدین کی زمہداریوں کےحوالے سے اچھا لکھا وہ پورشن اچھا لگا،مجموعی طور پہ اچھا تھا،

Ibrahim
21-10-2010, 09:48 AM
اچھا لگا ...موضوع بھی ذرا ہٹ کے... تھا..اور انداز تحریر تو ہے ہی اچھا ...ذرا سی طوالت محسوس ہوی بس .مجموعی...طور پر بہت اچھا رہا

IN Khan
21-10-2010, 10:50 AM
لو جی چھوٹی بہنا۔۔
ہم بھی آ گئے اپنے بےلاگ تبصرے کے ساتھ۔۔۔
اب اگر اچھا لگے یا برا لگے تو برداشت کر لینا۔۔۔۔
تمہیں تو ہمارا پتہ ہی ہے نا۔۔۔۔
تو جنابہ بغیر لگی لپٹی رکھے شروع ہو جاتے ہیں۔۔:)


سب سے پہلے تو موضوع کی بات کرتے ہیں۔۔
گھروں میں ٹی وی یا کسی بھی قسم کا میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے جو دبا دبا ماحول پا کر نئی نسل پروان چڑھتی ہے۔۔ اس پر پہلے بھی ایک دو افسانے نظر سے گزرے ہیں۔۔ جن میں گھروں سے تو لڑکیاں کالج کے لئے برقع میں ملبوس نکلتی ہیں اور کالج جاتے ہی میں کہاں تو کہاں۔۔۔ والی بات۔۔
اس موضوع کو گرچہ پرانا کہہ بھی لیں تو ہمہ وقت دہرانے کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے تاکہ وقتآ فوقتآ ہمارے معاشرے کو نئی نسل سے ایک خاص قسم کا فاصلہ یا زمانے کی ہوا سے بچا کر رکھنے کی کوشش میں انہیں کنوئیں کے مینڈک بنا دینے والی سوچ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

ہاں البتہ پرانے موضوع کو ٹریٹمنٹ نئی دینا ہر مصنف کا اپنا انداز ہوتا ہے۔۔
اور اس موضوع کو پھر سے سامنے لانے کے لیے شکریہ۔

افسانے کا آغاز اس قدر رنجیدہ و سنجیدہ تھا کہ واقعی میں لگ رہا تھا کہ پتا نہیں کیا ہو گیا یا ہونے جا رہا ہے۔۔۔
دوسرے پیراگراف میں جب پتا چلا کہ ہیرو موصوف ابھی صرف ٹین ایجر ہیں تو پھر کچھ تسلی ہوئی کہ ایسے خیالات ایک ٹین ایجر کے ذہن میں ہی آ سکتے ہیں۔۔

انداز تحریر میں روانی رہی۔۔ لیکن وہی صبیح والی بات کہ بعض جملوں پر اداسی کی بجائے ایک دم سے ہنسی چھوٹ جاتی رہی۔۔ بالکل پاکستانی فلموں کے ٹریجڈی سینز کی طرح جن میں پرفارمنس کے مارجن کو مد نظر رکھ کر رلانے کی کوششیں ہو رہی ہوتی ہیں اور ان کی پرفارمنس پر ہنسی آ رہی ہوتی ہے۔۔ بہرحال خود کو ڈانٹ کر دوبارہ موڈ سنجیدہ بنایا اور اینڈ تک پڑھا۔۔
ان جملوں پر بےحد مزہ آیا۔

اردگرد کی ہر چیز سے اداسی ایسے ٹپک رہی تھی جیسے کسی میونسپلٹی کے نلکے سے قطرہ قطرہ پانی ناامیدی کا پیغام بن کر ٹپکا کرتا ہے۔

"خیالی کی بجائے اصلی ہیروئن کا تقاضا کرنا شروع کر دیا تھا اور الجھن یہ تھی کہ اسکے قریب و جوار میں ہیروئن تو کیا مونث کے نام پر کوئی بھینس تک موجود نہیں تھی۔ آخر کس کو اپنی ہیروئن بنا سکتا ہے؟"


خیر جی پڑھتے چلے گئے۔۔ اور ایسا لگا جیسے سب کچھ جلدی جلدی ہو رہا ہے۔۔ شمع آ۔۔۔۔ پا سے ملنا، دوستی، منگنی ٹوٹنا، پھر دوبارہ سے ہو جانا۔۔ واقعی سب جلدی جلدی ہو گیا۔۔

اچھا ہے نا کم وقت(کم خرچ) بالا نشین۔۔:)

اختتام اچھا لگا۔۔ شکر ہے کہ اس ٹین ایجر کو بروقت احساس دلا دیا۔ ورنہ یہ عمر ہوتی تو نہیں کچھ سمجھنے سمجھانے یا سوچنے ووچنے کی۔۔۔

مجموعی طور پر ایک ہلکا پھلکا افسانہ۔۔ اچھے موضوع پر
رائٹر کی طرف سے سنجیدگی سے بھرپور۔۔۔
لیکن قارئیں کے لئے ہلکا پھلکا بھی۔۔

خوش رہو۔۔ اور خدا کے لئے لائٹلی لینا اس تبصرے کو۔۔ یہ یاد رکھ لینا کہ تمہارے ہر افسانے پر میرا ہر تبصرہ ڈفرنٹ ہوتا ہے۔ ہے نا:)

فیصل نواز
21-10-2010, 11:02 AM
السلام علیکم ساحرہ سس اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ تبصرہ ھو جائے ویسے تو عمران بھائی نے ہی کافی کچھ بتا دیا ھے

فیصل نواز
21-10-2010, 11:15 AM
نمبر ون آپ کے پیراگراف یا سین جو بھی کہیں ایک دودو مکمل لائنز کے برابر ہیں جیسے ایک تھرلر اسٹوری چل رہی ھو ایک طرف سے قاتل دروازے کے پیچھے منتظر ھوتا ھے اور پھر دوسری طرف کسی کردار کو اندر آتےدکھایا جا رھا ھو
ھوائیں بین کرتی بھی محسوس ھو رہی تھیں جب کہ دو لائنیں آگے وہ خوموش بھی تھیں
اور ساتھ دوسری ہی لائن میں یہ بھی کہ وہ خود کشی کے ارادے سے آیا تھا یہ باقی ماحول کو ڈسکرائب کرنے کے بعد بتایا جاتا تو شاید بہتر ھوتا
ایک وقت کافی ساری مشابہتیں اور استعارے اکٹھے کر دیئے اور اچانک رائٹر ناصح کا روپ دھار لیتی ہیں ڈائریکٹ ھی

ابھی اتنا ھی
ایڈوانس میں معزرت اگر برا لگے تو

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 11:15 PM
نمبر ون آپ کے پیراگراف یا سین جو بھی کہیں ایک دودو مکمل لائنز کے برابر ہیں جیسے ایک تھرلر اسٹوری چل رہی ھو ایک طرف سے قاتل دروازے کے پیچھے منتظر ھوتا ھے اور پھر دوسری طرف کسی کردار کو اندر آتےدکھایا جا رھا ھو
ھوائیں بین کرتی بھی محسوس ھو رہی تھیں جب کہ دو لائنیں آگے وہ خوموش بھی تھیں
اور ساتھ دوسری ہی لائن میں یہ بھی کہ وہ خود کشی کے ارادے سے آیا تھا یہ باقی ماحول کو ڈسکرائب کرنے کے بعد بتایا جاتا تو شاید بہتر ھوتا
ایک وقت کافی ساری مشابہتیں اور استعارے اکٹھے کر دیئے اور اچانک رائٹر ناصح کا روپ دھار لیتی ہیں ڈائریکٹ ھی

ابھی اتنا ھی
ایڈوانس میں معزرت اگر برا لگے تو

فیصل بھائی یقین کریں بالکل برا نہیں مانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو خوش ہوں کم سے کم میرے افسانے کو اتنے سارے بھائی لوگ پڑھنے تو آئے۔۔۔ پوائینٹ نوٹ کر رہی ہوں۔اگلے آفسانے میں کام آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پلیز اور بھی بتائیں نا۔ میں منتظر ہوں۔۔۔ اور ہاں یہ پورا افسانہ لکھا ہی نصیحیتں کرنے کے لئے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔~۔افسانے کا نام تو بس بہانہ ہے;d۔

Sabih
21-10-2010, 11:19 PM
فیصل بھائی یقین کریں بالکل برا نہیں مانا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں تو خوش ہوں کم سے کم میرے افسانے کو اتنے سارے بھائی لوگ پڑھنے تو آئے۔۔۔ پوئینٹ نوٹ کر رہی ہوں۔اگلے آفسانے میں کام آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آُ پلیز اور بھو باتئیں نا۔ میں متظر ہوں۔۔۔۔
What's this????????

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 11:48 PM
What's this????????


سوری جی ٹھیک کر دیا ہے;d۔

Noor-ul-Ain Sahira
21-10-2010, 11:52 PM
محترمہ نورالعین ساحرہ صاحبہ
آپکا افسانہ پڑھا،اچھا تھا مگر میں اس سائٹ پہ نی ھوں تو اس سے پھلے آپکا لکھا ھوا کچھ بھی پڑھنے سے محروم رھی۔۔۔۔موضوع اچھا چنا آپنے ،مگر سٹارٹ میں غیر ضروری بوجھل پن محسوس ھوا (شائد سیچویشن ایسی تھی کہ اس کو لگا )،ھلکاپھلکا سا رھتا تو اور بھی اچھا لگتا(متفق ھونا ضروری نھی )،البتہ والدین کی زمہداریوں کےحوالے سے اچھا لکھا وہ پورشن اچھا لگا،مجموعی طور پہ اچھا تھا،

کری

بہت بہت شکریہ فائزہ جی ۔آپکو نہیں لگا بلکہ جہاں بھی کہیں خودکشی ہو رہی ہو گی وہاں یہ سین اتنا ہی خوفناک اور بوجھل بوجھل ہو گا۔
پسند کے لئے بہت بہت شکریہ۔

Noor-ul-Ain Sahira
22-10-2010, 12:00 AM
لو جی چھوٹی بہنا۔۔

افسانے کا آغاز اس قدر رنجیدہ و سنجیدہ تھا کہ واقعی میں لگ رہا تھا کہ پتا نہیں کیا ہو گیا یا ہونے جا رہا ہے۔۔۔
دوسرے پیراگراف میں جب پتا چلا کہ ہیرو موصوف ابھی صرف ٹین ایجر ہیں تو پھر کچھ تسلی ہوئی کہ ایسے خیالات ایک ٹین ایجر کے ذہن میں ہی آ سکتے ہیں۔۔

انداز تحریر میں روانی رہی۔۔ لیکن وہی صبیح والی بات کہ بعض جملوں پر اداسی کی بجائے ایک دم سے ہنسی چھوٹ جاتی رہی۔۔
ان جملوں پر بےحد مزہ آیا۔

اردگرد کی ہر چیز سے اداسی ایسے ٹپک رہی تھی جیسے کسی میونسپلٹی کے نلکے سے قطرہ قطرہ پانی ناامیدی کا پیغام بن کر ٹپکا کرتا ہے۔

"خیالی کی بجائے اصلی ہیروئن کا تقاضا کرنا شروع کر دیا تھا اور الجھن یہ تھی کہ اسکے قریب و جوار میں ہیروئن تو کیا مونث کے نام پر کوئی بھینس تک موجود نہیں تھی۔ آخر کس کو اپنی ہیروئن بنا سکتا ہے؟"


خیر جی پڑھتے چلے گئے۔۔ اور ایسا لگا جیسے سب کچھ جلدی جلدی ہو رہا ہے۔۔ شمع آ۔۔۔۔ پا سے ملنا، دوستی، منگنی ٹوٹنا، پھر دوبارہ سے ہو جانا۔۔ واقعی سب جلدی جلدی ہو گیا۔۔

اچھا ہے نا کم وقت(کم خرچ) بالا نشین۔۔:)

اختتام اچھا لگا۔۔ شکر ہے کہ اس ٹین ایجر کو بروقت احساس دلا دیا۔ ورنہ یہ عمر ہوتی تو نہیں کچھ سمجھنے سمجھانے یا سوچنے ووچنے کی۔۔۔

مجموعی طور پر ایک ہلکا پھلکا افسانہ۔۔ اچھے موضوع پر
رائٹر کی طرف سے سنجیدگی سے بھرپور۔۔۔
لیکن قارئیں کے لئے ہلکا پھلکا بھی۔۔



میرے پیارے بڑے بھیا جی
آپ کچھ کہیں او میں برا مانوں۔۔۔فلحال ایسا لگتا تو نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے اللہ جانے~۔
بھیا ابھی میں نے سب کچھ فاسٹ فارورڈ میں دیکھایا پھر بھی آپکو جلدی لگا حلانکہ کچھ دوستوں نے ابھی بھی اسکے لمبا ہونے کا شکوہ کیا ہے۔۔۔۔سوچیں اگر اور ذرا بھی اور دیر کرتی تو کیا ہوتا;d؟

بھیا ان سب بچوں کے ہنسنے کی وجہ اور کوئی ہے(سیب کا درخت ہے۔ کیونکہ جب سوسائٹی میں لکھا تھا تو سب سمجھے تھے وہ شاید سیب کے درخت سے کود کر خودکشی کر رہا ہے ۔۔اس لئے ہنستے ہیں سب;d) وہ میں بعد میں بلاگ میں لکھوں گی ان تمام تبصروں سمیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ابھی یہاں لکھ دیتی تو سنجیدہ تبصرے ہو ہی نہیں سکتے تھے۔۔۔۔سب نے ہنسی مذاق میں ہی لگ جانا تھا۔۔۔۔۔ میں نے ان لوگوں کو روکا بھی تھا مگر یہ سب شریر بچے باز نہیں آئے اور کہیں نا کہیں یہاں بھی ہنسنے کا ذکر ضرور کیا جسکی وجہ سے لوگ اتنے سنجیدہ افسانے کو پڑھ کر ہنسنے پر مجبور ہونے لگے:mad:۔

Sabih
22-10-2010, 12:02 AM
Noor ul Ain Sahira Sis
You have done a really good job.
I liked the flow of the story.
And you explained the scenery really well.
Keep writing.

Noor-ul-Ain Sahira
22-10-2010, 12:06 AM
اچھا لگا ...موضوع بھی ذرا ہٹ کے... تھا..اور انداز تحریر تو ہے ہی اچھا ...ذرا سی طوالت محسوس ہوی بس .مجموعی...طور پر بہت اچھا رہا


بہت بہت شکریہ ابراہیم بھائی پڑھنے اور پسند کرنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی تھوڑا لمبا تو مجھے بھی لگ رہا تھا ویسے آپس کی بات ہے کسی کو بتائے گا نہیں۔ مگر پیغام اچھے سے پہنچ گیا۔ویری نائس۔یہی مقصد تو پورا کرنا تھا نا۔

Noor-ul-Ain Sahira
22-10-2010, 12:18 AM
Noor ul Ain Sahira Sis
You have done a really good job.
I liked the flow of the story.
And you explained the scenery really well.
Keep writing.



ھممممممممممممم
بہت بہت شکریہ بھائی پسند کرنے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا اصل مقصد فلمیں بالکل نہیں تھا بلکہ نوجوانوں کا خودکشی کی طرف رحجان دیکھانا تھا وہ بھی فضولیات میں پڑنے کے بعد اور اسی بات سے روکنا بھی مقصود تھا۔

niuslyguy
22-10-2010, 01:55 AM
موضوع بہت اچھا تھا افسانے کااور اس کو لکھا بھی بہت اچھے سے آپ نے اینڈ بھی بہت اچھا تھا

niuslyguy
22-10-2010, 01:59 AM
مجھے ایںڈ میں تھوڑی کنفیوژن ہوگئی تھی کہ وہ تو چوٹی سے گر کر خودکشی کر رہا تھا جب بچوں نے اس سے سیب مانگے تو مٰں سمجھی کی وہ سیب کے درخت سے گر کر خودکشی کر رہا ہے ہاہاہاہہاہا لیکن جب آپ نے لبنی وضاحت کی تو کنفیوژن دور ہو گئی

niuslyguy
22-10-2010, 02:05 AM
;d؟

بھیا ان سب بچوں کے ہنسنے کی وجہ اور کوئی ہے(سیب کا درخت ہے۔ کیونکہ جب سوسائٹی میں لکھا تھا تو سب سمجھے تھے وہ شاید سیب کے درخت سے کود کر خودکشی کر رہا ہے ۔۔اس لئے ہنستے ہیں سب;d) وہ میں بعد میں بلاگ میں لکھوں گی ان تمام تبصروں سمیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ابھی یہاں لکھ دیتی تو سنجیدہ تبصرے ہو ہی نہیں سکتے تھے۔۔۔۔سب نے ہنسی مذاق میں ہی لگ جانا تھا۔۔۔۔۔ میں نے ان لوگوں کو روکا بھی تھا مگر یہ سب شریر بچے باز نہیں آئے اور کہیں نا کہیں یہاں بھی ہنسنے کا ذکر ضرور کیا جسکی وجہ سے لوگ اتنے سنجیدہ افسانے کو پڑھ کر ہنسنے پر مجبور ہونے لگے:mad:۔

اوہ ساحرہ میں نے اپنی پوسٹ کے بعد آپ کی یہ پوسٹ پڑھی تو اتنی ہنسی آئی
مجھے یہ بات بالکل بھی نہیں معلوم تھی سچی میں

Wish
22-10-2010, 02:26 AM
ویری نائس ساحرہ سس۔ ۔ ۔
ہمیشہ کی طرح ہمارے ارد گرد پھیلے مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔ ۔ ۔ مثبت انجام نے کہانی کے حسن کو مزید دوبالا کر دیا۔ ۔ ۔
سیب کا کانسیپٹ اچھا رہا۔ ۔ ۔
کیپ رائٹنگ سس۔ ۔ ۔:)

Fozan
22-10-2010, 08:29 AM
السلام علیکم

ساحرہ تاخیر کی معذرت مگر وقت ہی نہیں مل پا رہا تھا تفصیلی تبصرے کیلئے۔۔۔۔

کہاںی جہاں آجکل کے حالات اور واقعات کی صحیح عکاسی کر رہی ہے وہیں ایک ایسے موضوع کا احاطہ بھی کر رہی ہے جس کی زد میں بہت سے نوجوان لاعلمی یا کم علمی کی وجہ سے آ جاتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر اپنے بچوں کی ذہنی نشو و نما پر توجہ نہیں دیتے اور یہی سمجھتے ہیں کہ یہ بچے ہیں اور جیسے ہم اس دور سے نکل آئے ، یہ بھی نکل جائیں گے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ بہت تبدیلی ا چکی ہے۔۔۔۔

آج کے بچے کو راہنمائی کی ہر وقت ضرورت ہے۔ چند ہی ہوتے ہین جو خود سے صحیح راستہ چن لیتے ہیں۔۔۔اکثر ہی گم کردہ راہوں کے مسافر بن جاتے ہیں بغیر راہنمائی کے۔۔۔۔

ویسے مجھے سیب کے درخت پر کوئی اعتراض نہیں ۔ سوات کی طرف ایسی بے ڈھنگی جگہوں پر بہتیرے درخت ہو تے ہیں جہاں آرام سے خود کشی بھی ہو سکتی ہے۔;d۔۔

ہمیشہ کی طرح ایک حساس اور اہم موضوع پر لکھا اور بہت اچھا لکھا
خوش رہو، آباد رہو

Hina Rizwan
24-10-2010, 09:34 AM
بہت اچھا لکھا ہے ساحرہ آپی
موضوع بھی بہت اچھا لگا، آپ کے پیچلے افسانوں سے ہٹ کر کوئی روتی دھوتی ہیروئن نظر نہیں آئی
ہیرو کے خودکشی اور آخرت میں اس کے نتائج پر بہت اچھے سے روشنی ڈالی آپ نے
اچھا ۔ ۔ ۔ تو یہ تھا وہ سیب کا درخت جس کا اتنا تذکرہ سنا مختلف تھریڈز میں
ویسے آپ نے لکھا تو تھا کہ اس کے ایک طرف(پتا نہیں کس طرف) سیب کا درخت تھا پھر سب یہ کیوں سمجھے کہ وہ سیب کے درخت سے خودکشی کر رہا ہے:o بندر سمجھا تھا کیا;d~

Sajjad Rao
24-10-2010, 02:30 PM
زندگی بزدلی کا نام نہیں ہو سکتی۔۔صرف کسی ایک رشتے کا نام نہیں ہو سکتی اور بھی بہت خوبصورت رشتے ہوتے ہیں جنکی محبتوں کا قرض چکانا ضروری ہوتا ہے۔

بہت ہی زبردست میں تو افسانے پڑھتا ہی نہیں تھا اب لگتا ہیں وقت نکال کر سب افسانے پڑھنے پڑے گے ۔

شکریہ

Sabih
24-10-2010, 02:54 PM
بہت اچھا لکھا ہے ساحرہ آپی
موضوع بھی بہت اچھا لگا، آپ کے پیچلے افسانوں سے ہٹ کر کوئی روتی دھوتی ہیروئن نظر نہیں آئی
ہیرو کے خودکشی اور آخرت میں اس کے نتائج پر بہت اچھے سے روشنی ڈالی آپ نے
اچھا ۔ ۔ ۔ تو یہ تھا وہ سیب کا درخت جس کا اتنا تذکرہ سنا مختلف تھریڈز میں
ویسے آپ نے لکھا تو تھا کہ اس کے ایک طرف(پتا نہیں کس طرف) سیب کا درخت تھا پھر سب یہ کیوں سمجھے کہ وہ سیب کے درخت سے خودکشی کر رہا ہے:o بندر سمجھا تھا کیا;d~
;d;d
ہاہاہاہاہا

Madiha
24-10-2010, 11:08 PM
ساحرہ سس افسانہ بہت اچھا لگا آسان لفظوں میں سمجا بھی دیا اور مثبت پیغام بھی مل گیا کہانی پڑھتے ہوئے فرہاد کے خیالات پڑھ کر پنسی بھی آئی شمع آپا ;d گریٹ جاب ایسا ہی لکھتی رہیں

Noor-ul-Ain Sahira
25-10-2010, 02:04 AM
موضوع بہت اچھا تھا افسانے کااور اس کو لکھا بھی بہت اچھے سے آپ نے اینڈ بھی بہت اچھا تھا

پسند کے لئے بہت بہت شکریہ گل جی۔۔۔۔۔۔۔:)۔۔

Noor-ul-Ain Sahira
25-10-2010, 02:07 AM
ویری نائس ساحرہ سس۔ ۔ ۔
ہمیشہ کی طرح ہمارے ارد گرد پھیلے مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔ ۔ ۔ مثبت انجام نے کہانی کے حسن کو مزید دوبالا کر دیا۔ ۔ ۔
سیب کا کانسیپٹ اچھا رہا۔ ۔ ۔
کیپ رائٹنگ سس۔ ۔ ۔:)


بہت بہت شکریہ وش۔
ہاہاہا سیب کا ہی تو رونا ہے سارا۔۔۔۔۔ اگر سیب نا ہوتے تو خودکشی کر چکا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسی کو قدر ہی نہیں سیب کے درخت کی۔۔8)۔۔

Noor-ul-Ain Sahira
25-10-2010, 02:10 AM
السلام علیکم

ساحرہ تاخیر کی معذرت مگر وقت ہی نہیں مل پا رہا تھا تفصیلی تبصرے کیلئے۔۔۔۔

کہاںی جہاں آجکل کے حالات اور واقعات کی صحیح عکاسی کر رہی ہے وہیں ایک ایسے موضوع کا احاطہ بھی کر رہی ہے جس کی زد میں بہت سے نوجوان لاعلمی یا کم علمی کی وجہ سے آ جاتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر اپنے بچوں کی ذہنی نشو و نما پر توجہ نہیں دیتے اور یہی سمجھتے ہیں کہ یہ بچے ہیں اور جیسے ہم اس دور سے نکل آئے ، یہ بھی نکل جائیں گے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ بہت تبدیلی ا چکی ہے۔۔۔۔

آج کے بچے کو راہنمائی کی ہر وقت ضرورت ہے۔ چند ہی ہوتے ہین جو خود سے صحیح راستہ چن لیتے ہیں۔۔۔اکثر ہی گم کردہ راہوں کے مسافر بن جاتے ہیں بغیر راہنمائی کے۔۔۔۔

ویسے مجھے سیب کے درخت پر کوئی اعتراض نہیں ۔ سوات کی طرف ایسی بے ڈھنگی جگہوں پر بہتیرے درخت ہو تے ہیں جہاں آرام سے خود کشی بھی ہو سکتی ہے۔;d۔۔

ہمیشہ کی طرح ایک حساس اور اہم موضوع پر لکھا اور بہت اچھا لکھا
خوش رہو، آباد رہو


اتنی ساری اچھی دعاؤں اور ہمت افزائی کا بہت بہت شکریہ مس جی:)۔۔

Noor-ul-Ain Sahira
25-10-2010, 02:13 AM
بہت اچھا لکھا ہے ساحرہ آپی
موضوع بھی بہت اچھا لگا، آپ کے پیچلے افسانوں سے ہٹ کر کوئی روتی دھوتی ہیروئن نظر نہیں آئی
ہیرو کے خودکشی اور آخرت میں اس کے نتائج پر بہت اچھے سے روشنی ڈالی آپ نے
اچھا ۔ ۔ ۔ تو یہ تھا وہ سیب کا درخت جس کا اتنا تذکرہ سنا مختلف تھریڈز میں
ویسے آپ نے لکھا تو تھا کہ اس کے ایک طرف(پتا نہیں کس طرف) سیب کا درخت تھا پھر سب یہ کیوں سمجھے کہ وہ سیب کے درخت سے خودکشی کر رہا ہے:o بندر سمجھا تھا کیا;d~


ہاہاہاہا
ہاں یہ وہی سیب کا مشہور زمانہ درخت ہے جسکا بہت "رولا" پڑا ہوا ہے سارے زمانے کو وخت میں ڈال دیا۔"

Noor-ul-Ain Sahira
25-10-2010, 02:20 AM
زندگی بزدلی کا نام نہیں ہو سکتی۔۔صرف کسی ایک رشتے کا نام نہیں ہو سکتی اور بھی بہت خوبصورت رشتے ہوتے ہیں جنکی محبتوں کا قرض چکانا ضروری ہوتا ہے۔

بہت ہی زبردست میں تو افسانے پڑھتا ہی نہیں تھا اب لگتا ہیں وقت نکال کر سب افسانے پڑھنے پڑے گے ۔

شکریہ

بہت ہی اچھا لگا آپکو افسانہ سیکشن میں دیکھ کر سجاد بھائی:)۔ پڑھنے، پسند کرنے اور کمنٹ کرنے کے لئے بہت بہت شکریہ۔
امید ہے، اب آپ باقی افسانے بھی وقت نکال کر ضرور پڑھا کریں گے;)۔
ہم لوگ ڈائجسٹ جسے افسانے نہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور کوئی نا کوئی اچھا سا پیغام دینے کی کوشش بھی ضرور کرتے ہیں ہر افسانے میں تاکہ لوگوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں شاید کچھ اپنے مسائل کے حل مل سکیں۔

Noor-ul-Ain Sahira
25-10-2010, 02:27 AM
ساحرہ سس افسانہ بہت اچھا لگا آسان لفظوں میں سمجا بھی دیا اور مثبت پیغام بھی مل گیا کہانی پڑھتے ہوئے فرہاد کے خیالات پڑھ کر پنسی بھی آئی شمع آپا ;d گریٹ جاب ایسا ہی لکھتی رہیں


افسانہ پسند کرنے کے لئے بہت بہت شکریہ مدیحہ ڈئیر۔۔۔۔۔۔ بہت خوشی ہوئی کہ آپکو آسانی سے سمجھ میں آگیا۔
اور فرہاد ٹین ایجر تھا نا۔ تو ٹین ایجرز تو ایسا ہی دیکھتے سوچتے اور سمجھتے ہیں ۔ انکو ابھی اتنی عقل نہیں ہوتی نا۔۔۔;d۔۔۔۔۔۔

NaimaAsif
25-10-2010, 03:00 PM
بہت خوب ساحرہ۔

ناول کے آغاز میں تو یوں لگا تم زبردستی منوا رہی ہو کہ وہ خود کشی کرنے کی نیت سے وہاں آیا تھا۔;d
حالانکہ نیک گراونڈ بتانا ہی کافی تھا۔ بہرحال اچھا آغاز رہا۔

اور یہ سبق تو بالکل ٹھیک دیا فلمیں اور کیبل ہی نئی نسل کو برباد کرنے کی اصل وجہ ہے۔ جس گھر مین لگوا کر نہ دیا جائے وہاں کے بچے حیلے بہانوں سے اس تک رسائی حاصل کر ہی لیتے ہیں۔


کتنی عجیب بات ہے۔۔۔۔ ہم کبھی اپنی ماں کے مرنے پر خودکشی نہیں کرتے،اپنے باپ کے مرنے پر خود پر جینا حرام نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ایک غیر لڑکی اور ایک غیر لڑکے کہ محبت کے ہاتھوں اتنا مجبور ہو جاتے ہیں کہ اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لینے پر تیار ہو جاتے ہیں

یہ لائنز مجھے بے حد اچھی لگیں۔


زندگی بزدلی کا نام نہیں ہو سکتی۔۔صرف کسی ایک رشتے کا نام نہیں ہو سکتی اور بھی بہت خوبصورت رشتے ہوتے ہیں جنکی محبتوں کا قرض چکانا ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے راستے خود بنانے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی جس کو فرشتوں نے سجدہ کیا ہو اور وہ اشرف المخلوقات کے رتبے پر فائز ہو اسے اتنا کم ہمت ہونا زیب نہیں دیتا کہ یہ انسانیت کی توہین ہے۔۔ ہر انسان کو سر اٹھا کر جینا ہو گا کہ یہی اس قیمتی خدائی تحفے کا بدلہ ہے جو زندگی کی صورت ہمیں ملا اس پر آگے ہی آگے فتح مندی کے جھنڈے گاڑتے بڑھتے ہی جانا ہوتا ہے، ایسے میں جو تھم گئے تو کچھ نہیں اور فرہاد نے کامیابی کی طرف اپنے قدم بڑھا کر خود کو اشرف المخلوقات ثابت کر دیا تھا۔


اور یہ آخری پیرا گراف بھی بہت ہی خوب لگا۔


لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آئی وہ پہاڑ پر کھڑا تھا اور ظاہر ہے کہ پہاڑ بہت بلند ہی ہوا کرتا ہے تو نیچے جانے والے بچوں کی باتیں وہ کیسے سن پایا؟~ وہ بھی اتنی کلیئر~

پہاڑ پر چڑھ کر تو سڑکیں بھی بہت چھوٹی معلوم ہوتی ہیں اور کجا وہ ان بچوں کی تمام بات چیت سن رہا تھا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ کسی ٹیلے سے کود کر خود کشی کی کوشش کر رہا تھا۔;d

ضحٰی
25-10-2010, 05:00 PM
ساحرہ آپی جی۔۔ پہلے تو معذرت کہ اتنی دیر سے پڑھا ہے آپ کا افسانہ۔۔
پر آج جیسے ہی کوئی افسانہ پڑھنے کا سوچا آپ ہی کا خیال آیا اور پڑھ ڈالا۔

اب تھوڑا سا تبصرہ۔
افسانے کا موضوع بہت با مقصد اور سنجیدہ ہے، معاشرے کا ایک المناک پہلو۔ اور آپ نے اسے ہر قدم پہ جس طرح باریک بینی کے ساتھ بیان کیا وہ واقعی قابل تعریف ہے۔
انداز بیاں نہایت ہی مدلل اور سادہ بھی۔
مختصر یہ کہ بہت خوبصورت۔۔۔:)

اب ایک آخری بات۔ یہ لاسٹ میں سیب کے درخت نے جو اینٹری دی نا اس سے میرے مائنڈ میں ایک کنفیوژن سا پھیل گیا کہ وہ سٹارٹ والا جو سین بنا تھا ذہن میں اس کے مطابق تو یہ درخت بہت سائیڈ پہ کہیں پیچھے تھے۔ پر لاسٹ میں جب اچانک بچوں نے سیب کی فرمائش کی تو وہ چوٹی ایک دم دھڑام سے نیچے آگئی اور چوٹی کی جگہ سیب کا باغ لگنے لگ گئی۔۔ اور پتا ہے وہ لڑکا نا۔۔۔ درخت کی شاخ پہ بیٹھا نظر آیا;d۔۔ شاید میرے امیجنییشن کی غلطی ہے۔~
بہرحال اینڈ خوشگوار ہے اور یہ بھی ایک پلس پوائنٹ ہے افسانے کا کیونکہ وہ ایک اچھا تاثر چھوڑ رہا ہے۔

Noor-ul-Ain Sahira
26-10-2010, 04:14 AM
بہت خوب ساحرہ۔

ناول
اور یہ سبق تو بالکل ٹھیک دیا فلمیں اور کیبل ہی نئی نسل کو برباد کرنے کی اصل وجہ ہے۔ جس گھر مین لگوا کر نہ دیا جائے وہاں کے بچے حیلے بہانوں سے اس تک رسائی حاصل کر ہی لیتے ہیں۔


یہ لائنز مجھے بے حد اچھی لگیں۔



اور یہ آخری پیرا گراف بھی بہت ہی خوب لگا۔


لیکن ایک بات کی سمجھ نہیں آئی وہ پہاڑ پر کھڑا تھا اور ظاہر ہے کہ پہاڑ بہت بلند ہی ہوا کرتا ہے تو نیچے جانے والے بچوں کی باتیں وہ کیسے سن پایا؟~ وہ بھی اتنی کلیئر


اقتباسات پسند کرنے کا شکریہ پیاری ناعمہ۔۔۔۔۔ یارا یہ ایسے والے پہاڑ ہیں ناں جنکے اندر اوپر اور دائیں بائیں لوگ رہتے ہیں۔ اور پاس پاس کچے راستے بنے ہوئے ہیں;)۔
مجھے ایسا لگ رہا ہے پاکستان میں سب سے زیادہ پہاڑ دیکھنے کا تجربہ میرا ہی ہے ویسے ابھی تک۔ چلو اس خوشی میں مجھے سب لوگ کچھ پوائینٹس دو اب::)۔;d،

Noor-ul-Ain Sahira
26-10-2010, 04:20 AM
ساحرہ آپی جی۔۔ پہلے تو معذرت کہ اتنی دیر سے پڑھا ہے آپ کا افسانہ۔۔
پر آج جیسے ہی کوئی افسانہ پڑھنے کا سوچا آپ ہی کا خیال آیا اور پڑھ ڈالا۔

اب تھوڑا سا تبصرہ۔
افسانے کا موضوع بہت با مقصد اور سنجیدہ ہے، معاشرے کا ایک المناک پہلو۔ اور آپ نے اسے ہر قدم پہ جس طرح باریک بینی کے ساتھ بیان کیا وہ واقعی قابل تعریف ہے۔
انداز بیاں نہایت ہی مدلل اور سادہ بھی۔
مختصر یہ کہ بہت خوبصورت۔۔۔:)

اب ایک آخری بات۔ یہ لاسٹ میں سیب کے درخت نے جو اینٹری دی نا اس سے میرے مائنڈ میں ایک کنفیوژن سا پھیل گیا کہ وہ سٹارٹ والا جو سین بنا تھا ذہن میں اس کے مطابق تو یہ درخت بہت سائیڈ پہ کہیں پیچھے تھے۔ پر لاسٹ میں جب اچانک بچوں نے سیب کی فرمائش کی تو وہ چوٹی ایک دم دھڑام سے نیچے آگئی اور چوٹی کی جگہ سیب کا باغ لگنے لگ گئی۔۔ اور پتا ہے وہ لڑکا نا۔۔۔ درخت کی شاخ پہ بیٹھا نظر آیا۔۔ شاید میرے امیجنییشن کی غلطی ہے۔
بہرحال اینڈ خوشگوار ہے اور یہ بھی ایک پلس پوائنٹ ہے افسانے کا کیونکہ وہ ایک اچھا تاثر چھوڑ رہا ہے۔



افسانہ پسند کرنے کا بہت شکریہ۔

ہاہاہا ضحیٰ
سیب کا درخت پہلے اسکے قدموں کے نیچے تھا جہاں چوٹی پر وہ خودکشی کرنے کھڑا تھا اسکے تھوڑا سا نیچے اگا ہوا تھا ۔۔مگر جب سب لوگوں چوٹی کے بدلے سمجھے کہ وہ شاید سیب کے درخت پر چڑھ کر خودکشی کر رہا ہے تو میں نے احتیاطً سیب کا درخت اسکے قدموں سے ہٹا کر تھوڑا بائیں طرف سرکا دیا;d۔ مگر آپ نے تو حد ہی کر دی;dاسکے بائیں سے بھی اٹھا کر بالکل پیچھے کہیں دور لے گئیں:(۔ یہ تو زیادتی ھے۔ اب وہ کیسے سیب توڑے گا اور کیسے دے گا بچوں کو;d۔

NaimaAsif
26-10-2010, 04:36 AM
اقتباسات پسند کرنے کا شکریہ پیاری ناعمہ۔۔۔۔۔ یارا یہ ایسے والے پہاڑ ہیں ناں جنکے اندر اوپر اور دائیں بائیں لوگ رہتے ہیں۔ اور پاس پاس کچے راستے بنے ہوئے ہیں;)۔
مجھے ایسا لگ رہا ہے پاکستان میں سب سے زیادہ پہاڑ دیکھنے کا تجربہ میرا ہی ہے ویسے ابھی تک۔ چلو اس خوشی میں مجھے سب لوگ کچھ پوائینٹس دو اب::)۔;d،


ایسی بھی بات نہیں ڈئیر ۔ پہاڑ تو میں نے بھی بہت دیکھ رکھے ہیں پاکستان میں۔
لیکن کیا ہے کہ خود کشی کسی چوٹی سے کی جا رہی ہے اور پہاڑ کی چوٹی پر عام طور پر گھر نہیں ہوتے۔ ذرا نیچے کو ہوتے ہیں۔ اور ویسے جن پہاڑوں پر گھر ہوتے ہیں ان سے کود کر بندہ کھائی میں نہیں گر سکتا۔ کیونکہ یہ پہاڑ تھوڑے ترچھے ہوتے ہیں۔ اور جن پہاڑوں سے خود کشی کی جاتی ہے وہاں دوسری طرف سیدھا سیدھا دریا یا کھائی ہوتی ہے مگر ان پر گھر تو نہیں البتہ سڑکیں ہو سکتی ہیں۔ ترچھے یا آبادی والے پہاڑوں کی بات کرنا غلط نہیں لیکن اس سے پھر خود کشی کا امپریشن نہیں ٹھیک رہتا۔ اب کیا وہ ایسے پہاڑ سے سر پٹختا ہوا دامن میں آتا اور مرتا؟

ہاں کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں ریزورٹ بنائے جاتے ہیں پہاڑوں پر جہاں سے کھائی صاف دکھتی ہے مگر اس صورت میں اس کی تفصیل بتانی ضروری ہے۔

یا کچھ پہاڑ ایسے جن کو کاٹ کر سڑکیں ، راستے بنائے جاتے ہیں۔ جیسے پہاڑ کی منظر کشی تم نے اپنے افسانے میں کی اس کو پڑھ کر ایسا احساس ہوتا ہے کہ جیسے وہ ایسے ہی کسی بلند پہاڑ کی چوٹی پر تھا جہاں سے نیچے کھائی تھی۔اور آس پاس کوئی ذی روح نہیں تھا اور اسی وجہ سے بچوں کا اس سے گفتگو کرنے کا پورشن اپنا اصلی رنگ نہیں جما سکا۔

مقصد تمہارے افسانے پر تنقید کا یہ نہیں کہ اس کو مزاح کا نشانہ بنایا جائے۔ مقصد صرف اتنا ہے کہ ایسی باتیں جو مبہم ہوں وہ افسانہ میں تنقیدی رجحان پیدا کر دیتی ہیں اس لیے افسانہ اپنی اصلی کشش و خوبصورتی میں ماند پڑ جاتا ہے۔

امید ہے برا نہیں محسوس کرو گی۔ مگر ایسے پہلوؤں پر گرفت مضبوط کرو جو پکڑ میں آئیں۔

Hina Rizwan
26-10-2010, 04:39 AM
ارے بھئی وہ ٹین ایجر لڑکا تھا اس کو نہیں پتا تھا کہ کونسا پہاڑ خودکشی کے لیے صحیح ہے اور کونسا نہیں
اس کو تو بس جو پہاڑ نظر آیا وہ اس پر چڑھ گیا یہ سوچے بناء کہ یہاں سے گر کر وہ مرے گا بھی یا صرف ہڈیاں ہی ٹوٹیں گی

;d

Noor-ul-Ain Sahira
26-10-2010, 04:48 AM
بالکل ٹھیک بات ہے یہ ناعمہ ۔ واقعی میں ہمیں لکھتے ہوئے صرف اپنے نہیں بلکہ قاری کے ذہن سے زیادہ سوچنا ہوتا ہے۔ ہر اس بات کا دھیان رکھنا پڑتا ھے کہ وہ کس نظر سے دیکھے گا اور کیا سوچے گا اور کیا سمجھے گا۔۔۔ بہت چھوٹی چھوٹی باتوں کو دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ذرا بھی بھول چوک معاف نہیں ہو سکتی۔ اور جب اتنے سارے دوست بتانے والے بھی ہوں تو اسکے بعد کوئی مسئلہ ہی نہیں اور ہاں حنا،،،،،، یہ تو ہے۔۔۔ میں اس نیکسٹ ٹائم خودکشی کسی اور طریقے سے کروانے کی کوشش کروں گی:);)۔

NaimaAsif
26-10-2010, 04:54 AM
ہاں بھئی دوست تو ہوتے ہی حوصلہ افزائی،پذیرائی اور اصلاح کے لیے ہیں۔ اور پھر صرف اچھا اچھا کہنے سے کام نہیں چلتا ناں جہاں جو بات محسوس ہو وہ ضرور کہنی چاہیے کہ ایک بار کی کہی بات سے آگے ڈھیروں افسانے میں لکھنے والے کو فائدہ ہو گا۔ :cool:

ویسے میں تو خوش ہوں کہ تم نے وہ بزدل لڑکی پر افسانہ لکھنے کے بجائے ایک لڑکے اور اچھے موضوع کا انتخاب کیا۔ مگر سچی وہ روایتی روتی دھوتی ہیروئن کو بھی بہت مس کر رہی ہوں جسے دیکھ پڑھ کر دل پکار اٹھتا ہے کہ ہو نہ ہو اس افسانے کی رائٹر ساحرہ ہی ہو گی۔;) کم ہی سہی مگر ویسے افسانے لکھنا چھوڑ مت دینا۔ کیونکہ معاشرے کے قریب قریب جتنے بھی حساس ٹاپکس ہیں ان میں خواتین کے کردار ایسے ہی ہوتے ہیں۔

سو گڈ لک اینڈ کیپ رائٹنگ سس:)

Noor-ul-Ain Sahira
26-10-2010, 05:07 AM
ہاں بھئی دوست تو ہوتے ہی حوصلہ افزائی،پذیرائی اور اصلاح کے لیے ہیں۔ اور پھر صرف اچھا اچھا کہنے سے کام نہیں چلتا ناں جہاں جو بات محسوس ہو وہ ضرور کہنی چاہیے کہ ایک بار کی کہی بات سے آگے ڈھیروں افسانے میں لکھنے والے کو فائدہ ہو گا۔ :cool:

ویسے میں تو خوش ہوں کہ تم نے وہ بزدل لڑکی پر افسانہ لکھنے کے بجائے ایک لڑکے اور اچھے موضوع کا انتخاب کیا۔ مگر سچی وہ روایتی روتی دھوتی ہیروئن کو بھی بہت مس کر رہی ہوں جسے دیکھ پڑھ کر دل پکار اٹھتا ہے کہ ہو نہ ہو اس افسانے کی رائٹر ساحرہ ہی ہو گی۔;) کم ہی سہی مگر ویسے افسانے لکھنا چھوڑ مت دینا۔ کیونکہ معاشرے کے قریب قریب جتنے بھی حساس ٹاپکس ہیں ان میں خواتین کے کردار ایسے ہی ہوتے ہیں۔

سو گڈ لک اینڈ کیپ رائٹنگ سس:)

ہاہاہاہا شکریہ ناعمہ ڈئیر
ویسے سب تو شکر کر رہے ہیں کہ روتی دھوتی لڑکی پر نہیں لکھا اس بار۔۔۔۔ اب تم پھر مجھے وآپس اس طرف لا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے اپنےذمے لو سبکا اعتراض۔۔۔۔۔
معلوم ہے؟
مجھے سب سے زیادہ اچھا افسانہ وہی لگتا ہے جس میں کسی مظلوم عورت کا درد سامنے لا سکوں۔۔۔ایسی مظلوم عورتیں جو قدم قدم پر موجود ہیں مگر کوئی انکی کئیر ہی نہیں کرتا۔۔۔۔۔ اور چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے گھومتی رہتی ہیں۔۔۔۔۔
ویسے صرف ساری عورتیں ہی مظلوم نہیں ہوتی۔۔۔???۔۔۔۔۔۔کسی کسی جگہ بچارے مرد بھی کبھی کبھار بہت دکھی نظر آ جاتے ہیں۔ ان پر بھی لکھوں گی افسانہ کسی دن اب ان شاءاللہ۔

NaimaAsif
26-10-2010, 05:16 AM
ہاہاہاہا شکریہ ناعمہ ڈئیر
ویسے سب تو شکر کر رہے ہیں کہ روتی دھوتی لڑکی پر نہیں لکھا اس بار۔۔۔۔ اب تم پھر مجھے وآپس اس طرف لا رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے اپنے زمے لو سبکا اعتراض۔۔۔۔۔
معلوم ہے؟
مجھے سب سے زیادہ اچھا افسانہ وہی لگتا ہے جس میں کسی مظلوم عورت کا درد سامنے لا سکوں۔۔۔ایسی مظلوم عورتیں جو قدم قدم پر موجود ہیں مگر کوئی انکی کئیر ہی نہیں کرتا۔۔۔۔۔ اور چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے گھومتی رہتی ہیں۔۔۔۔۔
ویسے صرف ساری عورتیں ہی مظلوم نہیں ہوتی۔۔۔???۔۔۔۔۔۔کسی کسی جگہ بچارے مرد بھی کبھی کبھار بہت دکھی نظر آ جاتے ہیں۔ ان پر بھر لکھوں گی افسانہ کسی دن اب ان شاءاللہ۔


ہاہاہاہا بھئی منہ کا ذائقہ بدلنے کو کہا ہے ناں۔ اور جب تعریف کے ٹوکرے تم وصولتی ہو تو اعتراض کے ٹوکرے بھی تم ہی وصولو جی۔:p ہم تو بس قاری ہیں جو لکھا جائے گا پڑھ لیں گے۔;)

ہاں واقعی کبھی کبھی عورتوں کی عیاری مردوں کو آٹھ آٹھ آنسو رلاتی ہے۔ اس سلسلے پر بھی افسانہ لکھو۔ بلکہ ہر موضوع پر۔ وش یو گڈ لک ونس اگین۔ اور اب میری طرف سے خدا حافظ۔:)

ضحٰی
26-10-2010, 08:16 PM
افسانہ پسند کرنے کا بہت شکریہ۔

ہاہاہا ضحیٰ
سیب کا درخت پہلے اسکے قدموں کے نیچے تھا جہاں چوٹی پر وہ خودکشی کرنے کھڑا تھا اسکے تھوڑا سا نیچے اگا ہوا تھا ۔۔مگر جب سب لوگوں چوٹی کے بدلے سمجھے کہ وہ شاید سیب کے درخت پر چڑھ کر خودکشی کر رہا ہے تو میں نے احتیاطً سیب کا درخت اسکے قدموں سے ہٹا کر تھوڑا بائیں طرف سرکا دیا۔ مگر آپ نے تو حد ہی کر دی;dاسکے بائیں سے بھی اٹھا کر بالکل پیچھے کہیں دور لے گئیں۔ یہ تو زیادتی ھے۔ اب وہ کیسے سیب توڑے گا اور کیسے دے گا بچوں کو;d۔
وہ ساحرہ آپی خود کشی والی جگہ پر سیب کا درخت فٹ نہیں ہو رہا تھا تو میں نے بائیں سے مراد بہت دور بائیں لے لیا جگہ کو ذرا دہشتناک امیجن کرنے کیلیے۔۔۔۔۔ اور پھر لاسٹ میں جب فٹ کرنا پڑا تو کچھ اور ہی بن گیا۔۔ کیا بنا وہ آپ کو پتا ہے۔;)
بہرحال۔۔ سو بات کی ایک بات افسانہ بہت پسند آیا آپ کا۔:)

Noor-ul-Ain Sahira
21-04-2011, 01:27 AM
ہاہاہاہا یہ ھے وہ مایہ ناز افسانہ جس نے سیب کے درخت کو یہ عزت دی:);d۔

Sabih
21-04-2011, 01:33 AM
سیب کے درخت کو گھوم پھر کر چاروں طرف سے دیکھنے والی سمائیلی
;d

Noor-ul-Ain Sahira
21-04-2011, 01:34 AM
سیب کے درخت کو گھوم پھر کر چاروں طرف سے دیکھنے والی سمائیلی
;d


ہاہاہاہ فارس کے بچے چھوڑوں گی نہیں تمکو;d;d۔

جگنو
21-04-2011, 02:01 AM
ھمممممممم

ساحرہ آپا افسانہ تو بہت اچھا ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سیب کا درخت ;d

میرے خیال میں تو سیب کے درخت کو سرے سے نکال ہی دیں مجھے تو اس کی کوتک نہیں لگی ۔دوسرا افسانے میں محاورے بہت بے تکے انداز میں شامل کیے گئے ہیں ۔جیسے وہ میونسپلٹی والا نلکا ۔ ارے بھئی وہ خود کشی کررہا ہے کوئی گھومنے پھرنے تو نہیں گیا ہوا جو اپنے ارد گرد کے ماحول کی ہر چیز کا بغور جائزہ بھی لے رہا

Noor-ul-Ain Sahira
21-04-2011, 02:14 AM
اففففففففففففففف
سر پیٹنے والی اسمائیلی
خدایا رحم
پڑھنے والے کیسے کیسے آ گئے ہیں مارکیٹ میں;d;d۔ میرے بھیا وہ محاورہ نہیں ہے صرف شدت سے فیلینگ کا اظہار ہے رائٹر کی طرف سے نا کہ خودکشی کرنے والا یہ سب جائزے لے رہا ہے۔

جگنو
21-04-2011, 02:22 AM
اففففففففففففففف
سر پیٹنے والی اسمائیلی
خدایا رحم
پڑھنے والے کیسے کیسے آ گئے ہیں مارکیٹ میں;d;d۔ میرے بھیا وہ محاورہ نہیں ہے صرف شدت سے فیلینگ کا اظہار ہے رائٹر کی طرف سے نا کہ خودکشی کرنے والا یہ سب جائزے لے رہا ہے۔



??????

وہ بےچارا تو پہلے ہی غموں سے نجات پانے کےلیے سیب کے درخت کے اوپر سے قلابازی کھا رہا تھا اور اوپر اس بےچارے کو بے وقت کے محاوروں سے ٹارچر بھی کیا جارہا تھاکچھ زیادہ زیادتی نہیں ہوگئی بے چارے ہیرو کے ساتھ

کوثر بیگ
21-04-2011, 11:20 AM
بہت خوب ساحرہ نا جانے یہ میری آنکھوں سے بچ کیسے گیا تھا ،چلو اب تو نطر آہی گیا ہے توپڑھا بہت اچھا پیغام ہے آپ کے فرہاد کا انجام سوچ اور کم عمری کا بھولا پن سبکو ہی اچھے سے مرتب کیا بہت اچھا لکھا بہنا آپنے

Lubna Khan
21-04-2011, 11:28 AM
ںبہت مزا ایا پڑھ ککر۔اب تو یہ بھول کر بھی خود کشی کا نہیں سوچے گا

Haram
21-04-2011, 01:33 PM
ںبہت مزا ایا پڑھ ککر۔اب تو یہ بھول کر بھی خود کشی کا نہیں سوچے گا



kon????? ?? ?? ??


mere khyal say to wo saib ka darkht aaj bhee balke abhi bhee khudkushi k bary mein soch raha ho ga
ha na sahira;);d;d;d