PDA

View Full Version : قاتل تریاق از روشنی



Aqsa
14-10-2010, 09:41 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/b.gif

http://i972.photobucket.com/albums/ae206/seharazad/KT1.jpg

http://i972.photobucket.com/albums/ae206/seharazad/KT2.jpg

http://i972.photobucket.com/albums/ae206/seharazad/KT3.jpg


قاتل تریاق از روشنی

افق کے اس پار سے سورج ایک نئے دن کے ساتھ جلوہ افروز ہو چکا تھا۔ اس کی کرنیں حرارت اور روشنی کا توشہ لئے زمین و آسمان پر زندگی کو سہارا دے رہی تھیں۔ اور نیلی چھتری کے نیچے ایک حسین وادی میں بہار اپنی رنگینی دکھا رہی تھی۔ رنگ برنگے پھول ہوا کے دوش پر دائیں بائیں لہرا رہے تھے۔ اور وہیں ایک سات سالہ معصوم سا بچہ ساجد بھی موجود تھا۔ سرخ واسپید چہرہے اور پھولے پھولے گال لئے وہ بھی ایک پھول کی مانند حسین لگ رہا تھا۔ اس کی موٹی موٹی سبز آنکھوں میں اک ست رنگی تتلی کا عکس ہلکورے لے رہا تھا

تتلیاں خوبصورت ہوتی ہیں۔ وہ جانتا تھا۔ لیکن ست رنگی تتلی اتنی حسین ہو گی۔ اس کے گمان میں بھی نہ تھا۔ اس کی نظروں کے سامنے ست رنگی تتلی کبھی گلاب اور گل لالہ پر جا بیٹھتی اور جب وہ اس کاتعاقب کرتے وہاں پہنچتا تو وہ اپنی اڑان کا نیا سفر شروع کر کے گل داؤدی اور نرگس میں جا پناہ لیتی۔ وہ اس کے پیچھے بھاگتے ہانپنے لگتا۔ اس کے گھنگھریالے بال دھوپ میں چمکتے ہوئے سنہری لگتے۔ اس کے کشادہ ماتھے پر پسینے کے قطروں سے قوس قزح سی پھوٹ پڑتی۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پسینہ پونچھتا اور نئی امنگ کے ساتھ ، تتلی کو پکڑنے چل پڑتا۔ باد صبا اس کی طلب کا مزہ لیتے ہوئے تتلی کو یہاں سے وہاں اڑائے لے جاتی، پھول اسے پنکھڑیوں میں چھپا لیتے اور اسے یہ سارا منظر حسین ہونے کے باوجود زہر لگتا کیونکہ وہ تہی داماں اور خالی ہاتھ تھا۔

ابھی وہ ست رنگی تتلی کو پکڑنے کو پر تول ہی رہا تھا کہ اک مانوس سی مہک اس کی ناک سے ٹکرائی اور یہ مہک رفتہ رفتہ اتنی تیز ہو گئی کہ اسے حال میں لے آئی۔ سارے منظر گڈمڈ ہوتے گئے۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو دھوپ کو اپنے اوپر رینگتا محسوس کیا۔ نظارہ بدل چکا تھا۔ اس کے اوپر ٹین کی چادر کی بوسیدہ سی چھت تھی۔ اور نیچے جھلنگا چارپائی۔ وہ آنکھیں ملتے اٹھ بیٹھا۔ اس کے حواس کام کرنے لگے تھے۔ آج عید کا دن تھا۔ اماں کو صبح جلدی کام پر جانا تھا۔ سارا کمرا سائیں سائیں کر رہا تھا۔ جابجا ٹوٹے ہوئے پلستر سے آویزاں دیواریں ،خالی برتن اور اس کی یتیمی کا احساس محرومی اس کی عید کا ساتھی تھے۔ وہ چارپائی سے اٹھا ۔ دیوار پر لگی کھونٹی سے قمیض اتاری اور اپنی پھٹی ہوئی بنیان کو ڈھانپ لیا۔ کمرے میں موجود واحد بالٹی سے ایک گلاس پانی پیا اور باقی ماندہ پانی سے منہ دھو لیا۔


گھر کے دوسرے حصے سے امڈنے والی اشتہا انگیز خوشبوؤں کی بارات اس کی بھوک چمکانے کو کافی تھی۔ کمرے میں بھوک کا کوئی حل نہ پا کر وہ مجبورا” اماں کی نصیحیتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے ،چاچے کے حصے کی طرف آ گیا۔ اسے روبی اور صابر کی کچھ کھاتے ہوئے جھلک دکھلائی دے گئی۔ جب چاچی نے اسے دیکھ کر دروازہ بند کر دیا اورچٹخنی چڑھا دی۔


وہ پیلے زنگ آلود لوہے کے دروازے کے پاس کھڑا ہو کر دروازہ بجانے لگا ۔

چاچی! بھوک لگی ہے۔ کچھ کھانے کو دے نا۔
اس نے دروازے کی جھری سے جھانکتے ہوئے صدا لگائی


بھوک لگی ہےتو جا کے ‘کھاؤ خصموں کو ‘ میراگوشت نوچنے کیوں آ جاتے ہو، ماں تو منہ اندھیرے اٹھ کر جانے کدھر چلی جاتی ہے اور مفت کا عذاب میرے سر چھوڑ جاتی ہے۔
چاچی بلا تکان بولتی رہی پر مجال ہے جو دروازے کے قریب بھی پھٹکی۔


وہ بڑی دیر آس لگا کر وہاں کھڑا رہا ،شاید چاچی کو رحم آ جائے لیکن پھر تھک ہار کر گھر سے باہر نکل آیا۔

یہ اگست کا مہینہ تھا۔ اور صبح سے ہی ہوا نہایت گرم تھی۔ اس نے اک بے اختیار سی نگاہسورج پر ڈالی۔ گول سورج اور گول گول روٹی ۔ اسے خیال آیا اور وہ زیر لب بڑبڑایا۔


میرے مقدر کی روٹی بھی اس سورج کی طرح آسمان پر ایستادہ ہے، میری پہنچ سے بہت دور ۔


وہ دھیمے دھیمے قدموں سے چلتا قریبی میدان‘ جہاں ایک عارضی میلہ لگا ہوا تھا۔ چلا آیا۔ سامنے جھولے والا گول پہیے والے جھولے میں بچوں کو جھولا جھلا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ایک لڑکا غبارے بیچ رہا تھا۔ بچے نئے نئے خوش رنگ کپڑوں میں ملبوس ، مٹھی میں عیدی کے پیسے دبائے ، اپنی عید سے خوشیاں کشید کر رہے تھے۔


وہ آنکھوں میں حسرتوں کا اک جہان لئے اس منظر کو اپنے اندر اتارتا رہا کہ اچانک اس کے پاس سے گزرتے ایک چھوٹے سے بچے نے ہاتھ ہلا کر اسے "عید مبارک "کہا۔


عید مبارک، اس کے لئے کیسے نا مانوس سے الفاظ تھے۔ اس کی پلکوں پر نمی سی جھلملائی تھی۔


یتیم کی بھی عید ہوتی ہے، خالی پیٹ، پیوند لگا لباس، پھٹے ہوئے جوتے اور حسرتوں کا انبار۔۔۔۔۔
اس کی خیالی رو پھر بھٹک رہی تھی
اوئے چھوٹو! چل ہٹ ادھر سے، میں نے اپنی ریڑھی یہاں لگانی ہے۔ دھندے کا وقت نہ برباد کر۔
سموسے والے نے اسے ڈپٹتے ہوئے کہا اور اس کو کندھے سے پکڑ کر آگے سے ہٹا دیا۔


وہ ٹینٹ کی چھاؤں سے ، کھلے آسمان تلے، زیر ِ دھوپ آگیا۔ وہ وہاں مزید کھڑارہتا اگر سموسوں کی مہک اس کی بھوک کو اور دوآتشہ نہ کردیتی۔



اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں میدان کے دوسرے سرے پہ واقع، بازار کا راستہ ناپا اور قدم بڑھا دئیے۔

بازار کی گہما گہمی عروج پر تھی۔ گاہکوں کا ایک سیلاب سا تھا۔ جو مکھیوں کی طرح کھانے پینے کی چیزوں پر بھنبھنا رہا تھا۔ دکاندار بھی مصنوعی خوش اخلاقی کا نقاب اوڑھے ، اپنی اپنی دکان چمکا رہے تھے۔ وہ ایک سجی ہوئی مٹھائی کی دکان کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ شیشے کی الماریوں میں رنگ برنگی مٹھائیاں اور کیک اس کا منہ چڑا رہے تھے۔ اس کے منہ میں پانی آگیا۔ پیٹ میں آنتیں جڑ کر فریاد کئے جا رہی تھی ۔ وہ اپنی ہمتوں کو مجتمع کرکے حلوائی سے بولا

چاچا! تھوڑی سی مٹھائی ملے گی؟

پیسے ہیں تمہارے پاس؟
حلوائی نے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہا

پیسے تو نہیں ہیں۔۔۔۔
وہ منمنایا

چلو، نکلو یہاں سے، باپ کا مال سمجھا ہوا ہے۔ منہ اٹھا کے آ جاتے ہیں۔ بھیک منگے کہیں کے۔

حلوائی نے غصے سےکہا ۔ اس کے منہ سے کف اڑنے لگی
اس کا اخلاق اڑن چھو ہو گیا ۔

ساجد سسکیاں دباتے ادھر سے آگے ایک تندور کے آگے کھڑاہو گیا ۔ شاید کسی کو مجھ بھوکے کاخیال آ ہی جائے۔


تندوروالا کن اکھیوں سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کے چہرے پر رقم بے چینی کو محسوس بھی کیا لیکن ابھی اس کے پاس ڈیڑھ سو نان بنانے کا آرڈر تھا ،اور کل کا باسی مال بھی ٹھکانے لگ چکا تھا۔ اس نے خود کو گھرکا صدقہ، خیرات کے لئے تو سارا سال پڑا ہے۔ آج تو بکری کا دن ہے۔ اس نے نظرکو پھیرا ۔ ہمدردی کے چڑھے بخار پر لالچ کی سرد چادر تان دی۔ اور اپنے کام میں مشغول ہو گیا


ساجد تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہر دکان کے سامنے کھڑا ہوتا رہا۔ چہرے کی زردی کشکول تھامے کھڑی رہی۔ اس کی غربت بھکاری پن کا نظارہ پیش کرتی رہی۔ آنکھیں صدا لگاتی رہیں۔ اس کا حلیہ چیخ چیخ کراسکی فاقہ کشی کی داستان سناتا رہا لیکن رحم کی ہلکی سی رمق بھی اس کے حصے میں نہ آئی۔ اسکے قدم من من کے ہو گئے۔ شام ڈھلنے لگی ۔ ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھ کر اسے لگا جیسے عید کے دن اسکے نصیب کی روٹی بھی ڈوب گئی ہو۔


قدم گھر کے رستے کو اٹھ گئے۔ رستے میں میلے کے نشان نظر آئے۔ کہیں کہیں کچرے کےساتھ، رزق بھی روندا ہوا زمین پر دکھا۔ اس نے بے تابی سے ان چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو جمع کرنا شروع کیا اور وہیں پڑے اخبار میں ڈال کر گھر لے آیا۔ اماں ابھی تک گھر نہ لوٹی تھی۔ اس نے نیم تاریک کمرے میں آکر اخبار کو کھولا اور اس میں سے بھوک مٹانے کو پہلا لقمہ لیا۔ ذائقے کے اجنبی ہونے کا احساس ،بھوک پر حاوی ہو گیا۔ وہ جسے تریاق سمجھ کر اپنی بھوک کا زہر مٹاتا رہا۔ وہی اس کا قاتل ثابت ہوا۔ اس رزق میں اس کی موت کا سامان کئے کوئی ایسا زہریلا کیڑا چھپا بیٹھا تھا ،جو اپنے ساتھ اسے بھی سانسوں کی زنجیر کی قید سے آزاد کر گیا۔ موت نے اسے اپنے پروں میں چھپا لیا اورملائکہ نے اس کی مفلسی کی بناء پر متمول گھرانوں کو ملنے والے رزق کا حساب بند کردیا۔

اس کا خاموش جسم اکڑا ہوا ،اپنے نئے لباس اور گھر کا راستہ تکنے لگا۔ اس کے ہاتھوں میں مڑے تڑے اخبار کا ٹکڑا ،یہ سرخی لئے مسکرارہا تھا

" حکومت ،عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان ،آسانی کےساتھ فراہم کرے گی"

تم زہر کو روتے ہو، ڈس لیتا ہے پل بھر میں
میری بستی میں تریاق بھی قاتل ہوا کرتا ہے

ختم شد



”قاتل تریاق“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Rubab
14-10-2010, 09:50 PM
بہت ایموشنل افسانہ ہے روشنی، بہت ہی افسوسناک واقعہ ہے اور معاشرے کے ہر شخص کی بے حسی کو دکھاتا ہوا۔ آپ نے بہت اچھے سے لکھا ہے۔ پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔

*HURD*
14-10-2010, 11:36 PM
السلام علیکم

یہ میرا آج کا تیسرا افسانہ ھے جو ون اردو رائٹرز سوسائٹی کی طرف سے پڑھنے کو ملا ھے۔ اور آج میں مزید کوئی اور افسانہ نہیں پڑھوں گی کیونکہ ابھی مجھے ساجد کی بےبسی پہ رونا اور اس کے اردگرد کے لوگوں کی بےحسی پہ غصہ آ رھا ھے۔

یہ لکھتے ھوئے مجھے کوئی ہچکچاھٹ نہیں کہ ون اردو رائٹرز ماشاء اللہ بہہہت اچھا لکھ رھے ھیں۔ بلکہ بہہہہہت سے وہ رائٹرز جو ڈائجسٹس میں آج کل لکھ رھے ھیں ان سے کہیں اچھا۔

روشنی اس افسانے کی تعریف کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ھیں سوائے اس دعا کے کہ
اللہ کریں زورِ قلم اور زیادہ۔

Kainat
15-10-2010, 12:03 AM
بہت اداس اور دکھی کر دیا اس تحریر نے ۔۔۔۔
پر اس اک سچائی ہے،
ایک تلخ حقیقت مگر بہت کڑوی۔۔۔۔ جس پر آپ نے قلم اٹھایا۔ ماشأاللہ روشنی جی آپ زندگی کے مختلف پہلووں پر بہت اچھی طرح لکھ سکتی ہیں۔ آلویز کیپ گڈ ورک اینڈ وش یو آل دی بیسٹ،

Noor-ul-Ain Sahira
15-10-2010, 01:20 AM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے روشنی اور بہت بہت دکھی کر دینے والا بھی۔۔۔۔اور آجکل تو سیلاب کے بعد ہزاروں ساجد ہمارے اردگرد موجود ہیں۔ انکے دکھ کو اتنے اچھے طریقے سے محسوس کر کے ہم تک اس گہرائی سے پہچانے کا بہت بہت شکریہ۔ بہت اچھا اور پیارا مگر اداس کرنے والا افسانہ ہے۔

Ahmed Lone
15-10-2010, 01:32 AM
بہت اچھا لکھا ہے آپ نے

معاشرے کا تلخ پہلو دیکھایا





ویسے جیو کیا کم تھا ایسے دکھ دیکھانے کو

ون اردو بھی جیو ہو گیا ;d

یہ افسانہ اتنا تلخ ہے کہ میں اگلے افسانے سوچ سمجھ کر ہی پڑھوں گا

پہلے ہی بہت دکھ ہیں وہ نہیں سمٹ رہے
:(

رائٹر کو میری طرف سے خراج تحسین کہ اتنا کچھ ایک افسانے کے ذریعے مجھے محسوس کروایا

اس افسانے کے لیے بہت بہت شکریہ

مقروض
15-10-2010, 01:55 AM
بہت ہی اچھا لکھا ہے
پڑھ کر دکھی ہو نا قدرتی سی بات ہے ۔ اتنی مختصر تحریر ہونے کے باوجود اتنی مفصل اور مکمل لگی کہ کہیں سے نہیں لگا کہ کچھ رہ گیا ہو بیانہ پہ آپ کی گرفت انتہائی مضبوط تھی لگا کہ سسپنس یا جوسوسی کے کسی رائٹر کی تحریر پڑھ رہے ہیں۔ مجھے تو بہت ہی اچھا لگا۔


یہ اگست کا مہینہ تھا۔ اور صبح سے ہی ہوا نہایت گرم تھی۔ اس نے اک بے اختیار سی نگاہسورج پر ڈالی۔ گول سورج اور گول گول روٹی ۔ اسے خیال آیا اور وہ زیر لب بڑبڑایا۔


میرے مقدر کی روٹی بھی اس سورج کی طرح آسمان پر ایستادہ ہے، میری پہنچ سے بہت دور ۔




وہ آنکھوں میں حسرتوں کا اک جہان لئے اس منظر کو اپنے اندر اتارتا رہا کہ اچانک اس کے پاس سے گزرتے ایک چھوٹے سے بچے نے ہاتھ ہلا کر اسے "عید مبارک "کہا۔


عید مبارک، اس کے لئے کیسے نا مانوس سے الفاظ تھے۔ اس کی پلکوں پر نمی سی جھلملائی تھی۔


یتیم کی بھی عید ہوتی ہے، خالی پیٹ، پیوند لگا لباس، پھٹے ہوئے جوتے اور حسرتوں کا انبار۔۔۔۔۔
اس کی خیالی رو پھر بھٹک رہی تھی
اوئے چھوٹو! چل ہٹ ادھر سے، میں نے اپنی ریڑھی یہاں لگانی ہے۔ دھندے کا وقت نہ برباد کر۔
سموسے والے نے اسے ڈپٹتے ہوئے کہا اور اس کو کندھے سے پکڑ کر آگے سے ہٹا دیا۔

تندوروالا کن اکھیوں سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کے چہرے پر رقم بے چینی کو محسوس بھی کیا لیکن ابھی اس کے پاس ڈیڑھ سو نان بنانے کا آرڈر تھا ،اور کل کا باسی مال بھی ٹھکانے لگ چکا تھا۔ اس نے خود کو گھرکا صدقہ، خیرات کے لئے تو سارا سال پڑا ہے۔ آج تو بکری کا دن ہے۔ اس نے نظرکو پھیرا ۔ ہمدردی کے چڑھے بخار پر لالچ کی سرد چادر تان دی۔ اور اپنے کام میں مشغول ہو گیا

موت نے اسے اپنے پروں میں چھپا لیا اورملائکہ نے اس کی مفلسی کی بناء پر متمول گھرانوں کو ملنے والے رزق کا حساب بند کردیا۔

اس کا خاموش جسم اکڑا ہوا ،اپنے نئے لباس اور گھر کا راستہ تکنے لگا۔ اس کے ہاتھوں میں مڑے تڑے اخبار کا ٹکڑا ،یہ سرخی لئے مسکرارہا تھا

" حکومت ،عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان ،آسانی کےساتھ فراہم کرے گی

اس نے آنکھیں کھولیں تو دھوپ کو اپنے اوپر رینگتا محسوس کیا۔ نظارہ بدل چکا تھا۔ اس کے اوپر ٹین کی چادر کی بوسیدہ سی چھت تھی۔ اور نیچے جھلنگا چارپائی۔ وہ آنکھیں ملتے اٹھ بیٹھا۔ اس کے حواس کام کرنے لگے تھے۔ آج عید کا دن تھا۔ اماں کو صبح جلدی کام پر جانا تھا۔ سارا کمرا سائیں سائیں کر رہا تھا۔ جابجا ٹوٹے ہوئے پلستر سے آویزاں دیواریں ،خالی برتن اور اس کی یتیمی کا احساس محرومی اس کی عید کا ساتھی تھے۔ وہ چارپائی سے اٹھا ۔ دیوار پر لگی کھونٹی سے قمیض اتاری اور اپنی پھٹی ہوئی بنیان کو ڈھانپ لیا۔ کمرے میں موجود واحد بالٹی سے ایک گلاس پانی پیا اور باقی ماندہ پانی سے منہ دھو لیا۔



بہت ہی خوب لکھتی رہیں خدا کرے زور قلم اور زیادہ

Samia Ali
15-10-2010, 08:08 AM
بہت اچھا لکھا روشنی سس اور بہت زیادہ افسردہ کر دیا اللہ پاک ہم سب پر رحم فرمائے آمین

Parishay
15-10-2010, 09:52 AM
روشنی سس۔ آتے ہی افسانہ پڑھا اور رو پڑی۔ بہت تلخ حقیقت کو بیان کیا ہے۔ معاشرے کی بے حسی واقعی اپنے عروج پر ہے۔


اللہ ہم سب پر رحم فرماے


بہت زبردست لکھا ہے

Durre Nayab
15-10-2010, 02:16 PM
دل کو چھو لینے والی تحریر۔ ۔ یہ پڑھ کر اپنے آپ کو گلٹی فیل کر رہی ہوں۔ شاید ہم لوگ اپنے آس پاس اچھے سے نگاہ رکھا کریں اور اپنے دلوں کو کشادہ کرلیں تو ایک روٹی کے لئے اس طرح بچے سڑکوں کو نہ مر جائیں۔
پہلے بھی یہ افسانہ پڑھ چکی تھی مگر پھر سے پڑھ کر آپ کے قلم کی مضبوطی کا پھر یقین آگیا۔
ویری ویل ڈن۔

Ayeshah
15-10-2010, 03:05 PM
گڈ اچھا لکھا لیکن تلخ اور دکھی کرنے والا پڑھتے ھوئے دل چاھا کہ کاش یہ بچہ میرے سامنے آجائے ،اور اسکو میں کھانا کھلا دوں لیکن پھر اگلے ھی لمحے خیال آیا کہ پیٹ بھرا ھو تو کسی کی بھوک کی شدت کا اندازہ نہیں ھوتا اللہ تعالیٰ سب پر رحم کریں اور کسی کو بھی بھوک کا عذاب نہ ملے اور افسانہ بہت بہت اچھا تھا،پہلے بھی آپکی تحریریں پڑھی ،کبھی مجھے تو کسی قسم کی کمی نظر نہیں آتی باقی کافی سیانے بیانے لوگ ھیں یہاں تو وہ بہتر جج کر سکتے ھیں میری طرف سے تو "ویلڈن "تھا

Sabih
15-10-2010, 03:20 PM
بہت اچھا اور سیڈ افسانہ لکھا روشنی سس
زندگی واقعی کچھ لوگوں کے لیے ایک کڑے امتحان کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ لوگوں کی بے حسی کو بھی اچھی طرح اجاگر کیا۔

Sehar Azad
15-10-2010, 08:52 PM
اس افسانے کو پڑھ کر مجھے بہت ہی زیادہ خوشی ہوئی۔ خوشی اس بات کی اگر کچھ لوگوں ساجد جیسے بچوں کو اگنور کر دیتے ہیں تو بہت سےایسے بھی ہیں جو کہ بنا دیکھے اس بچے کے درد کے ساتھی ہیں۔ باقی رہی زندگی اور موت کی بات تو وہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بس ہمارا فرض ہمارا حساب بنے گا۔ اور رائٹر نے جس دلگیر اور سچے جذبات سے اس افسانے میں ہمارے فرائض کو ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ بے شک رائٹر نے اپنا فرائض باخوبی نبایا۔

اللہ تعالیٰ تمام رائٹرز کو اپنا فرض نبھانے کی طاقت عطا فرمائے۔

Aqsa
15-10-2010, 09:24 PM
بہت دل کو چھونے والی تحریر ہے روشنی۔ زندگی میں ہر روز ملنے والے اس ایک کردار کی لاچاری اور بےبسی کی مدد سے بہت سے سیاسی و سماجی بڑبولوں کے معاشرے کے دلوں کی سختی کو بہت سچائی سے آشکار کیا ہے۔ اور عید کا دن اسے اور بھی معنی خیز بنا گیا ہے. امید ہے آپ کی اور تحریریں بھی پڑھنے کو ملتی رہیں گی۔

بنت احمد
16-10-2010, 04:26 AM
بہت دکھی کردینے والا افسانہ ہے،

Meem
16-10-2010, 12:23 PM
بہت عمدہ لکھا ہے روشنی سس۔ لکھتی رہیے۔

رمیصا
16-10-2010, 03:22 PM
بہت ہی دکھی کر دینے والا افسانہ ہے اور آپ نے لکھا بھی بہت اچھا ہے۔
ایک بات تھوڑی سی فیل ہوئی کہ ساجد کی سوچ کے جملے ذرا میچور لگے اسکی عمر کے حساب سے۔یہی جملے اگر ذرا سے اور بچگانہ انداز میں ہوتے ۔۔۔!!

کیپ رائٹنگ۔۔۔!!

رمیصا
16-10-2010, 03:36 PM
صحیح کہ رہیں ہیں آپ روشنی۔۔۔۔اور آپ نے اپنے اس دکھ کو افسانے میں ظاہر بھی کیا ہے۔اسے پڑھ کر ہم میں سے ہی جو اس طرح کے بچوں کو دیکھ کر ان دیکھا کر دیتے ہیں یقینا” کہین تو رکیں گے۔
اب پلیز اس پہ زیادہ مت سوچیں۔۔۔۔۔!!
اور اچاھ اچھا لکھتی رہیے۔

Nesma
16-10-2010, 03:44 PM
:(:(:(
میں اتنے دنوں سے اسکو پڑھ نہیں رہی تھی جانتی تھی بہت سیڈ ہے
ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچ سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے
پلیز روشنی سس یہ جو آپکا لاسٹ کمنٹ ہے رمیصا کے رپلائی میں پلیز پلیز پلیز اسے ڈیلیٹ کر دیں

جیا آپی
16-10-2010, 11:42 PM
دکھی کردیا روشنی مگر حقیقت سے بالکل قریب۔۔۔نائس ورک

Wish
19-10-2010, 12:25 AM
اوہ۔ ۔ ۔ روشنی سس۔ ۔ ۔:(

دکھی کر دیا افسانے نے۔ ۔ ۔ ویری نائس۔ بہت ہی خوب۔
لوگ بھی کتنے سنگ دل ہو گئے ہیں نا آج کے زمانے میں۔ ۔ ۔:(

آہا۔ ۔ ۔

بہت اچھا لکھا آپ نے۔ مظبوط پلاٹ اور پر اثر تحریر

Hina Rizwan
23-10-2010, 09:46 AM
رولا دینے والا لکھا ہے روشنی سس
بہت تلخ حقیقت بیان کی ہے:(
لیکن آپ نے لکھا بہت اچھے سے ویل ڈن