PDA

View Full Version : خواہشوں کے دیپ از لبنیٰ علی



Aqsa
13-10-2010, 09:58 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep0.gif

Aqsa
13-10-2010, 10:01 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep1.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep2.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep3.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep4.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep5.gif

Aqsa
13-10-2010, 10:03 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep6.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep7.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep8.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep9.gif

http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep10.gif

Aqsa
13-10-2010, 10:04 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/LUBNA%20ALI/khwahishonkdeep11.gif

************************************************** ***********

خواہشوں کے دیپ
از لبنیٰ علی


2004ء

چکن تکہ : 12 درھم
بریانی : 18 درھم
سیخ کباب : 18 درھم
یہاں تک پڑھ کر جمیل احمد رک گئے اور سر اٹھا کر بیوی کو دیکھنے لگے۔ اس وقت وہ اور انکی مختصر فیملی دبئی کے علاقے کرامہ میں واقع ایک پاکستانی ریسٹیورنٹ میں ڈنر کرنے کے غرض سے آئے تھے۔ آج نے بیٹے کی سالگرہ تھی اور اس کی فرمائش پر کہ کہیں باہر جاکر کھانا کھایا جائے، تو یہ سوچ کر یہاں آئے تھے کہ یہاں کھانوں کی قیمتیں دوسرے علاقوں کے ریسٹیورنٹ کے بنسبت کم ہونگی۔ متوسط قسم کا ریسٹیورنٹ ہونے کی باوجود بھی ان کھانوں کے ریٹ ان کے مطابق بہت زیادہ تھے۔ حسب عادت جس طرح ہر چیز کے قیمت کا اندازہ وہ لوگ باکستانی روپوں کے حساب سے لگاتے تھے۔ سو وہ اس وقت اسی حساب کتاب میں مشغول تھے۔

"غضب خدا کا ! کتنی مہنگی ہیں ہر چیز۔ اس سے کم قیمت میں یہی سب گھر میں اس سے زیادہ مقدار میں بن جائیں گی۔ لیکن تم لوگوں کو شوق تھا نا باہر جاکر کچھ کھانے کا ۔ گھر میں بھی تو یہی سب کھا سکتے تھے۔" جمیل احمد نے دھیمی آواز میں بیوی کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی گھرکا۔ کیونکہ یہاں آنے کی سفارش بیوی نے ہی کی تھی کہ بچے خوش ہوجائیں گے۔
"اسی لیے تو میں کہہ رہی تھی چائنیز یا تھائی ریسٹیورنٹ چلتے ہیں۔ بریانی وغیرہ تو گھر میں بھی بنتے رہتے ہیں ، اور میں نے تو ویسے بھی آج تک کبھی تھائی کھانے نہیں کھائے ہیں۔ ساجدہ باجی بتا رہی تھیں بہت مزے کے اور چٹ پٹے تیز مرچوں والے ہوتے ہیں ۔" جمیل احمد کی بیوی آسیہ نے اپنی پڑوسن کا ذکر کرتے ہوئے اپنی خواہش ظاہر کی ۔
"ہونہہ ! چانییز تھائی کھانے ۔۔ ۔ " جمیل صاحب کو غصہ آگیا ۔ " کچھ اندازہ بھی ہے ان چانیز اور تھائی ریسٹیورنٹ کے ریٹ کا؟۔ ۔ ۔ ۔ میں جاچکا ہوں ایک بار اپنے ایک کولیگ کے ساتھ ۔ ۔ ۔ ایک، ایک ڈش کی قیمت اتنی ہوتی ہے جتنی میں ہم یہاں سب لوگ جی بھر کر کھالیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔" جمیل صاحب نے دھیمی آواز میں بیوی سے مخاطب ہوئے کیونکہ سامنے ویٹر کھڑا ان کے آڈر کا منتظر تھا۔

پھر انہوں نے بچوں کے لئے چکن تکہ منگوایا اور ایک بریانی منگوائی جو دونوں میاں بیوی نے برابر تقسیم کر کے کھانا شروع کیا۔

ببلو نے جلدی سے اپنا تکہ ختم کرکے بریانی بھی کھانے کی خواہش ظاہر کی تو جمیل صاحب نے اسکو ڈپٹ دیا۔
"اتنا بڑا تکہ کھا چکے ہو۔ مزید اور کچھ کھاو گے تو پیٹ خراب ہو جائے گا۔ ویسے بھی جب سے یہاں آئے تو کافی وزن بڑھ گیا ہے تمہارا۔ اس لیے احتیاط کیا کرو کھانے میں ۔ اعتدال سے کھانا کھانا تمہارے لیے بے حد ضروری ہے اب ۔ ۔ ۔" ان کے غصے کو دیکھ کر ماں کی پلیٹ کی طرف بڑھتا ہوا اسماء کا ہاتھ بھی رک گیا۔
جمیل صاحب نے آدھی پلیٹ بریانی کھانے کے بعد باقی پیٹ ریسٹیورنٹ کے طرف سے دیے گئے مفت سلاد اور رائتے سے بھرا۔ بل ادا کرنے کے بعد ٹپ کے طور پر بچے کو ہوئے سکے دل مسوس کر ویٹر کو دیئے اور باہر آگئے۔

بیوی بچے تھوڑا پیدل چلنے کے بعد روڈ کے کنارے کھڑے ہوگئے ۔ ان کے رکنے پر جمیل صاحب نے استفہامیہ نظروں سے بیوی کے جانب دیکھا۔

"وہ ٹیکسی!۔ ۔ ۔ ۔ یہاں سے ٹیکسی ملتی ہے نا؟۔" بیوی نے ان کے غصیلی نگاہوں کو محسوس کر کے اٹک اٹک کر کہا۔


" نہیں ! ابھی تھورا پیدل چلنا چاہیئے اتنا سب کچھ کھایا ہے وہ ہضم ہوجائے گا۔ ویسے بھی دن بھر تو تم گھر میں ہوتی ہو نہ کہیں آنا نہ کہیں جانا اسی بہانے تمہاری واک بھی ہوجائے گی اور ٹیکسی کا کرایہ بھی بچ جائے گا۔" جمیل صاحب نے سمجھانے کے انداز میں بیوی ہو کہا تو وہ سر ہلا کر بچوں کا ہاتھ پکڑ کر پیدل چلنے پر راضی ہوگئیں۔


اسی طرح ان لوگوں نے آدھا رستہ پیدل اور باقی کا رستہ ٹیکسی کے ذریعے طے کیا اور اس طرح کرنے سے آج جمیل صاحب ٹیکسی کا آدھا کرایہ بچانے میں کامیاب ہوگئے۔


جمیل صاحب کی فیملی کو یہاں آئے ہوئے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے ۔ ان دنوں دبئی میں کنسٹرکشن کا کام اپنے عروج پر تھا۔ اسی وجہ سے دبئی ہزاروں لوگوں کے روزی روٹی کا مرکز بن گیا تھا۔ ہر روز ایک نئے منصوبے کا اعلان ہوتا۔ اور اسی مناسبت سے مزدور انجینئرز اور کاریگر بھی دوسرے ممالک سے منگوائے جاتے۔ اور آنے والے اپنے آپ کو کسی خوش قسمت سے کم نہیں سمجھتے۔ ان کے رشتے دار بھی ان کے قسمت کے یوں کھل جانے پر رشک و حسد میں مبتلا ہوجاتے۔


جمیل کا احمد کا شمار بھی انہی خوش قسمت لوگوں میں تھا ۔ وہ پاکستان میں ایک متوسط قسم کے نجی ادارے میں کام کیا کرتے تھے لیکن ہمیشہ ان کی یہ خواہش رہی تھی کہ وہ بھی باہر ملک جا کر کما سکیں۔ اور گن گن کر خرچ کرنے سے ان کو نجات مل جائے ۔ اور جب قسمت نے ان کے در پر دستک دی تو انہوں نے کھولنے میں دیر نہیں لگائی۔ وہاں آنے کے کچھ ماہ بعد بعد وہ اپنی فیملی کو بھی لانے میں کامیاب ہوگئے۔ گو کہ اب بھی ان کی تنخواہ اتنی زیادہ نہیں تھی لیکن جب پاکستانی روپوں میں اسکو تبدیل کرتے تو بظاہر بہت زیادہ لگا کرتی تھی۔
*********

آج آسیہ بچوں کے اسکول گئی تھی جہاں ببلو کی ٹیچر نے اس بہت ساری شکایات کی تھیں۔ کہ وہ وہاں بچوں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہو رہا۔ کلاس ورک بھی مقررہ وقت پر سبمٹ نہیں کراتا۔ اور باقی کلاس کے بچوں کے مقابلے میں ٹیچر کے سوالوں کا تسلی بخش جواب بھی نہیں دیتا۔ ساتھ ان کو ڈھیر ساری نصیحتیں بھی سننے کو ملی تھی کہ گھر میں اسکو توجہ سے پڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس پر آسیہ بہت جز بز ہوئی تھیں ۔ ان کو ویسے بھی خود بچوں کو پڑھانےکی عادت نہیں تھی ۔ پاکستان میں تو ٹیوشن بھیج دیا کرتی تھیں۔
یہاں آنے کے بعد بھی انہوں نے یہی کرنا چاہا۔ کچھ انڈین لیڈیز اپنے گھروں میں بچوں کو ٹیوشن دیا کرتی تھی تو یہ سن کر وہ بھی وہاں دوڑی دوڑی گئیں۔ لیکن جب وہاں جاکر ان کے فیس اور ٹائمنگ کے بارے میں پتہ چلا کہ گھنٹوں کے حساب سے چارج کیا جاتا ہے اور وہ بھی ہفتےمیں تین دن اور ہر سبجیکٹ کے الگ الگ چارجز تھے۔ تو مایوس ہوکر الٹے پیر واپس آگئیں ۔ کیونکہ وہ اتنی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں تھے ٹیوشن تو اسکول سے بھی زیادہ مہنگے پڑ رہے تھے ۔


یہ سب دیکھ کر انہوں نے خود پڑھانے کی ٹھان لی لیکن یہ سب کرنا ان سے بہت ساری قربانیاں مانگ رہا تھا۔ وہ جو روز شام کے وقت گھنٹوں ٹی وی کے آگے بیٹھ کر ساس بہو کے ڈرانے دیکھنے کی عادی تھی اس وقت ان کو بچوں کو لیکر بیٹھنا پڑتا تھا۔ اور بچے بھی ایک گھنٹہ ٹییوشن پڑھنے کے بعد شام کے وقت ماں کے ساتھ وہ ڈرامے دیکھنے کے عادی تھے۔ اب جب آسیہ بچوں کو لیکر بیٹھتی تو کبھی کبھار دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر ٹی وی بھی ساتھ ساتھ کھول کر بیٹھ جاتی بچوں کو سبق یاد کرنے کا کہہ کر خود ٹی وی کے ساتھ مشغول ہوجاتیں ۔ بچے بھی کتاب سامنے رکھ کر چپکے چپکے سے ٹی وی دیکھتے ، اور آسیہ یہ سمجھتی کے بچے پڑھ رہے ہیں ۔ اسی طرح یہ آنکھ مچولی تین ماہ جاری رہی اور اس کا نتیجہ آج اسکے سامنے تھا۔ اور اپنی غفلت کو قبول کرنے کے بجائے انہوں نے سارا الزام اسکول والوں کے کندھوں میں ڈال کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ۔

جمیل صاحب بھی بیٹے کی رپورٹ کارڈ دیکھ کر بہت ناراض ہوئے ۔ بیٹے کو بلا کر اسکو ڈانٹنے لگے۔

" اتنا پیسہ میں اس لئے برباد کر رہا ہوں کہ تم اس طرح کے نمبر لاؤ ۔ ان پیسوں میں تو پاکستان میں پانچ بچے آرام سے کسی پرائیویٹ اسکول میں پڑھ سکتے ہیں اور تمہیں کوئی احساس ہی نہیں ۔" حسب عادت انہوں نے پیسوں کا حساب کتاب پاکستانی کرنسی میں کرتے ہوئے بیٹے کو ڈانٹا۔

"ارے ! اسکو کیوں ڈانٹ رہے ہیں اس میں اسکا کیا قصور۔ یہ اسکول ہی بے کار ہے۔ جب وہ ہی اچھی طرح سے نہیں پڑھائیں گے تو بچے کو کیا خاک سمجھ میں آئے گا میں تو دن رات ان لوگوں کے ساتھ لگی رہی تب کہیں جاکر یہ نمبر آئیں ہیں ۔ ورنہ اسکول میں تو بس کام کرایا جاتا ہے ۔ وہ پڑوس کے ساجدہ کے بیٹے کو دیکھا ہے؟۔ ۔ ۔ کیا فر فر انگلش بولتا ہے ابھی صرف پہلی جماعت میں ۔ ۔ ۔ ایک ان کا اسکول ہے ان لوگوں کو اس اسکول میں تین ماہ ہوگئیے ہیں ۔ ایک جملہ بھی انگلش کا صحیح سے نہیں بول پاتے۔" آسیہ بیٹے کا دفاع کرتے ہوئے بولی ۔


"بیگم ! ہیرا کوئلے کے درمیان میں ہونے کے باجود بھی ہیرا ہی رہتا ہے اور کوئلے کو جتنا بھی گھس لو وہ کوئلہ ہی رہتا ہے۔ ۔ ۔ کیا سرکاری پیلے اسکولوں میں ہم نے نہیں پڑھا۔ ۔ ۔ ۔ جنکو پڑھنا ہوتا ہے اور آگے بڑھنا ہوتا ہے وہ کہیں بھی پڑھ لیتے ہیں اسکے لئے ضروری نہیں مہنگے اسکول میں ڈالے جائیں اور بھاری فیسیں ادا کی جائے تو وہاں کے بچے کامیاب ہوں گے۔" جمیل صاحب اپنی بیوی کو سمجھاتے ہوئے بولے ۔

ماں باپ کی باتیں سنتا ببلو نے نے یہی نتیجہ اخذ کیا کہ اس کے کم نمبر آنے میں اس کا نہیں اسکول والوں کا قصور ہے ۔ اور یہ سوچ کر وہ چپ چاپ اس نے باپ کا موبائل لیا اور اپنے کمرے میں جاکر گیم کھلینے لگا۔

************

2005ء
اس وقت جمیل صاحب شارجہ میں موجود سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کے مارکیٹ میں موجود تھے ۔ ان کے آنے کا مقصد ایک گاڑی کا لینا تھا ۔ انکو یہاں آئے ہو ایک سال ہوگیا تھا اور یہ ایک سال انہوں نے بغیر گاڑی کے بہت مشکل سے گزارا تھا۔ وجہ تھی لائسینس کا نہ ہونا۔ ان کو ڈرائیونگ سیکھتے سیکھتے بھی سال گزر گیا۔ تب جاکر ان کو لائسینس ملا ۔ اسکے باوجود کافی لوگ ان کو خوش قسمت کہہ رہے تھے کیونکہ یہاں کافی لوگ ایسے بھی تھے جن کو تین تین سال ہوچکے تھے لیکن اب بھی وہ ٹیسٹ پاس نہیں کر پائے تھے۔

وہ مختلف گاڑیاں دیکھتے اور انکے بابت پوچھتے جا رہے تھا انکو ایسی گاڑی چاہیئے تھے جو سستی ہو، اسکی مینٹینس بھی زیادہ مہنگی نہ ہو اسکے علاوہ پیٹرول بھی کم خرچ کرتی ہو۔ ان کے ڈیمانڈ کے مطابق سیلز مین اسی مناسبت سے گاڑیاں دکھا رہا تھا۔ لیکن انکو کسی کی قیمت زیادہ لگتی تو کسی کی ظاہری حالت دیکھ کر سیلز مین کے باتوں پر شبہ ہونے لگتا۔

اتنے میں ایک گاڑی ان کو نظر آئی جس کی ظاہری حالت کافی اچھی لگ رہی تھی۔ انہوں نے اسکے بارے میں پوچھا تو سیلز میں نے انکو بتایا کہ وہ ذرا پرانے ماڈل کی گاڑی ہے جس پر ان کو انشورنس آدھی ملے گی یعنی اگر وہ ایکسیڈنٹ کریں گے تو جس گاڑی کو وہ نقصان پہنچائیں گے اس کے نقصان کو انشورنس کمپنی والے ادا کردیں گے۔ لیکن انکو اپنی گاڑی کی مرمت کرنے کا خرچہ اپنے جیب سے دینا ہوگا۔ یہ آدھی انشورنس کہلاتی ہے۔

انہوں نے یہ سوچ کر کہ "میں اگر گاڑی احتیاط سے چلاوں گا تو کوئی مسلہ نہیں ہوگا باقی اللہ مالک" ۔ یہ سوچ کر انہوں نے آٹھ ہزار درھم گاڑی کے مالک کو پکڑائے اور پرانے 1998 ماڈل کی "نسان سنی" لیکر خوشی خوشی گھر آگئے۔

گھر آئے تو دیکھا بیٹی بستر میں لیٹی ہے اور ماں اسکے ماتھے پر پٹیاں لگا رہی تھی ۔
"کیا ہوا ؟"۔ انہوں نے پریشان ہو کر بیٹی کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔

"آج اسکول سے جب گھر لوٹی اس وقت ہلکا ہلکا بخار تھا۔ ۔ ۔ اب تو کافی تیز ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مجھے لگتا ہے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے گا۔" آسیہ نے فکر مندی سے شوہر سے کہا۔

"ہممممم۔۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ۔شاید اس کا ہیلتھ کارڈ ایکسپائر ہوچکا ہے ناں ؟۔ جمیل صاحب نے بیوی سے سرکاری اسپتال کے کارڈ کے بارے میں پوچھا۔ جس کو دکھا کر سرکاری ہسپتال میں پرائیویٹ اسپتالوں کے بنسبت سستا علاج ہوجاتا تھا۔

"نہیں ایک ماہ باقی تو ہے لیکن سرکاری لے جاو یا پرائیویٹ فرق کیا پڑتا ہے مشکل سے دس بیس درھم کا ہی فرق ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کونسا وہ لوگ پاکستانی سرکاری اسپتالوں کی طرح چیک اپ کے ساتھ ساتھ دوائیاں بھی دیں گے وہ تو ہمیں ہی خریدنی پڑے گی ۔ اب دس پندرہ درھم بچانے کے لئے کون اتنی لمبی لائن میں بیٹھ کر باری کا انتظار کرے ۔ اور اب اتنے پیسے دے کر دوبارہ ہیلتھ کارڈ بنوانے کی ضرورت بھی نہیں پرائیویٹ جاؤ یا سرکاری پیسے اتنے ہی لگتے ہیں خواہ مخواہ ہیلتھ کارڈ بنوانے پر بھی اتنے درھم خرچ کردیئے"۔ آسیہ یہاں کے اسپتالوں سے سخت نالاں لگ رہی تھی۔

"ایسا کرتے ہیں پرائیویٹ کلینک چلتے ہیں ۔ ساجدہ بھابھی جہاں جاتی ہیں وہ ڈاکٹر بہت اچھا ہے ۔ اور وہاں ڈینٹسٹ بھی بیٹھتا ہے میرے دانت میں کب درد ہے میں وہاں اپنے دانتوں کا بھی چیک اپ کروالونگی۔۔" آسیہ جمیل صاحب کو خاموش دیکھ کر گویا ہوئی۔

" آں ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ نہیں میں سوچ رہا تھا اسماء کو بس بخار ہی ہے ناں تو میں فارمیسی سے دوائی لیکر آجاتا ہو ڈاکٹر کے پاس جائیں گے تو وہ بھی بس یہ بخار کی دوائی ہی دے گا۔ تو یہ دوائی تو ہم خود بھی خرید سکتے ہیں ۔ جہاں تک تمہارے دانتوں کے چیک اپ کی بات ہےاسکے لئے ایسا کرتے ہیں کہ ابھی بچوں کے اسکول کی چھٹیوں میں تم پاکستانی جانے والی ہو تو وہاں اپنے دانتوں کا چیک اپ بھی کروالینا۔ یہاں تو دانتوں کا علاج بہت مہنگا ہے۔" جمیل صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے بیگم سے کہا۔

"اچھا ٹھیک ہے تو پھر ذرا جلدی سے جایئے اور دوائی لے آئیں ۔ ۔ اس کا بخار بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مجھے فکر ہو رہی ہے۔ ۔ ۔ ویسے اب تو آپ کے پاس گاڑی بھی آگئی ہے تو اب تو کوئی مسلہ نہیں جلدی کچھ لانے میں ۔" آسیہ نے میاں سے مسکراتے ہوئے کہا۔

"اوہو فارمیسی کتنا دور ہے مشکل سے پانچ منٹ پیدل ہی چلنا پڑے گا اب اس کے لئے کیا گاڑی نکالنا۔ ۔ ۔ خواہ مخواہ پیٹرول کا ضیاع ہے ۔۔ ۔ ۔ میں جب تک دوائی لیکر آتا ہو تم اسکو کھانا کھلا دو خالی پیٹ دوائی کھانا ٹھیک نہیں۔" یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنا والٹ اٹھایا ببلو کو بھی ساتھ لیا اور باہر کے طرف چل دیئے۔
* * * * ******************
2006
سال کا پہلا دن تھا ۔ دبئی کے ایک معروف ریسٹیورنٹ میں جمیل احمد اپنی فیملی کے ساتھ کمپنی والوں کی طرف سے مدعو تھے۔ یہ پہلی بار تھا جب وہ اپنی فیملی کو کمپنی کے طرف سے دیئے گئے کسی بھی پارٹی میں لیکر آئے تھے پچھلے سال کی پارٹی میں جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے کولیگ بھی اپنی فیملی کو ساتھ لیکر آئے ہیں تو اس بار وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ آج یہاں موجود تھے۔ ریسٹیورنٹ میں بوفے سسٹم کا اہتمام کیا گیا تھا۔ سب اپنی اپنی پسند سے اپنی پلیٹوں میں کھانا بھر رہے تھے۔ آسیہ اور بچوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا لیں اور کیا نہ لیں ، کھانوں کی اتنی ورائیٹی دیکھ کر وہ لوگ کنفیوز ہوگئے تھے۔ آسیہ نے وہاں موجود جمیل کے احمد کے کولیگ کی بیوی کی پلیٹ کو دیکھ کر اپنی پلیٹ میں بھی تھوڑا تھورا سا سلاد اور ایک چھوٹے سے باول میں سوپ لے لیا تھا ۔ بچے بھی ماں کی دیکھا دیکھی وہی سب لیکر اپنے ٹیبل میں آکر بیٹھ گئے۔ جمیل احمد اپنی پلیٹ میں ایک چھوٹی سی پہاڑی اکھٹا کئے جب اپنے ٹیبل میں پہنچے تو دیکھا بچے اور ماں سوپ پی رہے ہیں اور ساتھ میں سلاد کو نگلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے آج سے پہلے اس قسم کے سلاد نہیں کھائے تھے ۔ نئی چیز ہونے کے باوجود وہ وہ سوپ اور سلاد ان کے من پسند ذائقے سے میل نہیں کھا رہی تھی۔ آسیہ کو تو یوں لگ رہا تھا کہ وہ کوئی پتلی سی دال پی رہی ہوں اور بچے سلاد میں سے چن چن کر کھیرے کھا رہے تھے۔

" یہ کیا الا بلا تم لوگ اٹھا لائے ہو ۔ ۔ ۔ اگر یہی سب کھانا تھا تو یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی۔ ۔ ۔ یہ سب تو ہم لوگ گھر میں بھی کھاتے ہیں۔" جمیل صاحب نے دھیمے آواز میں غراتے ہوئے بیوی بچوں سے کہا۔

"وہ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا لیں ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے دیکھا سب سلاد اور سوپ لے رہیں ہیں تو میں بھی یہی کچھ لیکر آگئی۔" آسیہ سے آہستگی سے منمنائی ۔

" اگر یہ سب شروع میں کھا لو گی تو باقی سب کھانے کے لیے پیٹ میں گنجائیش رہے گی؟" وہ تنک کر بولے۔

"لیکن ابو ! وہاں تو ان کے اوپر لکھا تھا اسٹارٹر ۔ ۔ ۔ ۔ یہی سب سے پہلے کھانا پڑتا ہے شاید۔" اسماء مدبر بنی باپ کو سمجھانے لگی۔

"تو اسٹارٹر میں تم لوگ کو یہی چیزیں نطر آئیں تھی۔ ۔ ۔ ۔ اور بھی تو کافی چیزیں ہیں ادھر ۔ ۔ ۔ ایسا کوئی سخت اصول نہیں لاگو ہوا تم لوگوں پر کہ یہی سب پہلے لو۔ ۔ ۔ جاؤ جاکر کوئی ڈھنگ کی چیز کھانے کے لیے لیکر آؤ۔" جمیل صاحب تنگ آکر ان لوگوں کو ڈپٹا وہ لوگ اپنی اپنی پلیٹ اٹھانے لگے دوبارہ کچھ لانے کے لیے تو جمیل صاحب ماتھا پیٹتے پیٹتے رہ گئے۔

"اففف خدایا ! یہ یہیں رہنے دو وہاں سے دوسری پلیٹ لے لینا۔" کسی طرح سے اپنے غصے کو روکتے ہوئے وہ بولے۔

بچے اور ماں دوبارہ وہاں گئے۔ آسیہ نے اپنی پلیٹ میں بریانی لی اور ساتھ میں ایک فش فرائی کا پیس اٹھا لیا۔ پلیٹ کے طرف تھائی کری ڈالا۔ انکو بریانی میں تھائی کری ڈالتا دیکھ کر ایک عورت حیران ہوکر اپنی پلیٹ میں رکھے سادے ابلے جیسمین چالوں میں وہی تھائی کری ڈال کر وہاں سے چلی گئی۔ آسیہ اس عورت کے حیران نطروں کو سوچتی اپنے ٹیبل میں آگئی تھی اس وقت تک جمیل صاحب اپنے پلیٹ میں مشغول تھے۔ انہوں نے کافی کچھ ضائع بھی کیا ہوا تھا۔ وہ ہر کھانا کافی مقدار میں لیکر آگئے تھے ۔ ان میں کافی کچھ انکو پسند نہیں آیا تھا وہ وہ بس چکھنے کے بعد ایسے ہی چھوڑ دیا تھا انہوں نے ۔ ان کے اطراف دو تین پلیٹوں میں کھانوں کی چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں سی بنی ہوئی تھیں۔ اتنے میں ببلو ایک پلیٹ میں چکن تکے کا پیس اور تھوڑے سے نوڈلز لیکر وہاں آگیا۔ اور یہی حال اسماء کا بھی تھا۔ وہ بھی بس ایک دو فرائیڈ چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں لائی تھی۔

" یہ اتنا کم کھانا کیوں لیکر آئے ہو تم دونوں ۔ ۔ ۔ ۔ ارے بھئی یہاں جتنا مرضی کھا سکتے ہو۔ ۔ ۔ ۔ چاہے ایک پلیٹ کھاو یا دس پلیٹ پیسہ اتنا ہی لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور ویسے بھی کونسا ہمیں دینا ہے۔" جمیل صاحب کا موڈ کھانا کھا کر کافی حوشگوار ہو گیا تھا اسی وجہ سے وہ حسب عادت غصہ کرنے کے بجائے مسکراتے ہوئے بولے۔

ببلو اور اسماء جن کو باپ کے فرمودات ازبر تھے زیادہ کھانا کھانے کے بارے میں اسی وجہ سے باپ کے ڈر سے ان لوگوں نے اپنی پلیٹوں میں زیادہ کھانا نہیں بھرا تھا۔ باپ کی بات سن کر گویا ان لوگوں کو اجازت ہی مل گئی تھی۔ دونوں خوش ہوتے ہوئے دوبارہ جانے لگے تو جمیل صاحب بولے۔

" میں بھی چلتا ہوں ساتھ تم لوگوں کے مجھے بھی کچھ اور لینا ہے ۔ اتنی کھانوں کی ورائیٹی ہے تھوڑا تھوڑا سب چکھنا تو پڑے گا۔"

بچے بھی خوشی خوشی باپ کے ساتھ ہو لیے۔ پھر جمیل صاحب نے بچوں کو خود کھانا ڈال کر دیا بچے ایک مانگتے تو وہ دو تین ڈال دیتے بچے نہ نہ کرتے رہ جاتے کچھ تو ایسی بھی چیزیں ڈال دیں جو بچوں سرے سے کھانا ہی نہیں چاہ رہے تھے ، تو انہوں نے بس یہ کہہ کر ڈال دیا "بس چکھ کر دیکھ لو ۔ ۔ ۔ کیا پتہ اچھا لگ جائے ۔ ۔ " لیکن وہ چکھنے والی چیز کی مقدار بھی کافی زیادہ تھی۔ اسی طرح انہوں نے بچوں کی پلیٹوں میں بھی پہاڑیاں بنا ڈالیں۔

اس طرح اس رات جمیل صاحب کی فیملی نے کھانا کھایا اور خوب کھایا اور اس سے زیادہ ضائع بھی خوب کیا یہی سوچ کر جو رزق وہ ضائع کر رہے ہیں کہ ان پر ان کے پیسے خرچ نہیں ہونگے۔

اس رات ڈنر کے اختتام پر کمپنی والوں نے پچھلے سال کی کامیابی کی خوشی میں اپنے سارے ورکرز کو اضافی بونس دینے کا اعلان کیا اور ساتھ میں وہ ورکر جن کو پہلے میڈیکل اور کنوینس کی سہولت نہیں دی گئی تھی۔ اب ان کی فیملی کو کمپنی کی طرف سے فری میٍڈیکل انشورنس دی جائے گی۔ اسکے علاوہ اب کمپنی کی گاڑی ان کو پک اینڈ ڈراپ کیا کرے گی یا جن کے پاس پہلے سے گاڑی موجود ہے ان لوگوں کی گاڑیوں کے پیٹرول کے خرچے کمپنی برداشت کرے گی۔ ان مراعات کو پانے والے خوش نصیبوں میں جمیل
احمد بھی شامل تھے۔
***************
کمپنی کی دعوت سے فارغ ہوکر وہ گھر آرہے تھے اس وقت جمیل احمد کا موڈ کافی خوشگوار ہوتا انکی عادت کے بر خلاف کیونکہ دبئی کی ٹریفک سے وہ بے حد نالاں رہا کرتے تھے ہر دوسرے موڑ میں ٹریفک جام ملتا اور گاڑی رک رک کر چلنے کی وجہ سے ایندھن بھی زیادہ استعمال کرتا، لیکن آج وہ اس ٹینشن سے آزاد ہوچکے تھے کمپنی کی طرف سے جو نئی مراعات ملی تھیں اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کا سوچ رہے تھے ۔۔۔ڈرائیونگ کے دوران ہی امارات کے دور دراز کے علاقے دوبارہ دیکھنے کا پروگرام دل ہی دل میں بنانے لگے ۔۔۔

آسیہ بھی اپنے شوہر کا خوشگوار موڈ دیکھ کر خوش ہو رہی تھی۔۔۔کیونکہ خلاف توقع میاں جی آس پاس کے ڈرائیوروں سے اشارے کنائے سے لڑنے میں مصروف نہیں تھے۔۔اور نا ہی ٹریفک کو کوسنے میںً مصروف تھے ۔ورنہ ہمیشہ ایسا ہوتا تھا وہ گاڑی میں بیوی بچوں پر برستے رہتے ان کو گاڑی میں اس طرح بیٹھنا پڑتا گویا گاڑی میں جمیل صاحب کے علاوہ کوئی اور موجود ہی نہ ہو۔بالکل صمم بکمم۔

گھر پہچنے کے بعد جیسے وہ انہوں نے اپنے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا ایک ٹھنڈی ہوا کے جھونکے نے ان کا استقبال کیا۔۔۔ جمیل صاحب کے چہرے کے تاثرات یک دم تبدیل ہوگئے۔۔۔ انہوں نے خشمگیں نظروں سے بیوی کو دیکھا تو وہ نظریں چرا کر بچوں کو دیکھنے لگی۔

جب گھر میں داخل ہوئے تو سارے کمرے چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ بچوں کے کمرے کا اے سی بند ہی نہیں کیا گیا تھا۔۔۔ کچھ پلوں پہلے پہنا ہوا خوش مزاجی کا چولہ جمیل صاحب نے فورا” اتار دیا اور حسب عادت سب پر برسنے لگے۔ احسان گنوانے لگے کہ کیا کیا ان کو یہاں دیکھنا نصیب ہوا ۔۔۔ پھر بھی جو مل رہا ہے ان پر کوئی شکر نہیں، لاپرواہی حد سے زیادہ برتی جاتی ہے ، ان کی محنت سے کمائے گئے پیسوں کا کوئی خیال نہیں جن سے بل بھرا جاتا ہے۔۔۔ اور بیوی بچے سر جھکائے مجرموں کی طرح سننتے رہے اور وہ گرج برس کر واش روم میں بند ہوگئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن دفتر سے لوٹنے کے بعد اپنی کار پارک کر کے جب اپنے اپارٹمنٹ کے دروازے میں کھڑے ہوئے تو ان کو اپنے گھر کے اندر سے بیٹی کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ اور ساتھ میں بیوی بھی کچھ تیز آواز میں کسی کو ڈانٹ کر کچھ سمجھانے کی کوشش کررہی تھی۔ وہ ڈور بیل بجانے کے بجائے خود چابی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئے۔۔ دیکھا آسیہ بیگم ایک چھوٹے سے کپ ہاتھ میں پکڑے اسماء کو لٹائے کچھ کہہ رہی تھیں۔ اور اسماء نہیں نہیں کی گردان کر رہی تھی۔۔
"یہ کیا ہو رہا ہے؟" جمیل صاحب نے پوچھا۔
"اسکے کان میں ویکس جمع ہوگیا ہے۔ کافی دنوں سے جب بھی نہاتی ہے اس کے بعد ایک ہی شکایت کہ کان میں درد ہورہا۔ ظاہر ہے اتنا ویکس جمع ہوگیا ہے تو پانی پڑنے سے تو درد ہوگا ہی۔" آسیہ نے جلدی جلدی جیمل صاحب کو بتایا۔
" تو اب یہ منع کس چیز کے لئے کر رہی ہے؟" جمیل صاحب نے ماتھے کی تیوریاں چڑھا کر پوچھا۔
"وہ۔۔۔۔۔۔وہ میں یہ تیل ڈالنا چاہ رہی تھی تاکہ ویکس نرم ہوجائے تاکہ میں روئی ڈال کر نکال سکوں ۔۔۔۔۔لیکن یہ کرنے نہیں دے رہے۔" آسیہ ممنا کر جواب دیا۔
"اوہ میرے خدا ! عقلمند عورت ۔۔۔۔۔۔۔ کان خراب کروگی بچی کا۔ اگر کوئی انفیکشن ہوگیا تو تیل ڈالنے سے۔ تمہیں اتنی بھی عقل نہیں۔" انہوں نے مزید خود کو کچھ اور کہنے کی خواہش ہوتے ہوئے بھی روکا۔
"میں تو ہمیشہ ایسے ہی کرتی ہوں۔۔۔۔ تو اس سے تو ٹھیک ہوجاتا ہے ۔ دیکھیں اسی وجہ سے اسکو بخار بھی ہورہا ہے۔" آسیہ بیگم نے اسماء کے ماتھے مین ہاتھ رکھ کر دوبارہ بخار چیک کیا۔
"چلو اسکو تیار کرو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔ اور چائے بنا دو کھانا واپس آکر کھاوں گا۔" جمیل صاحب نے بیٹی کے پاس بیٹھتے ہوئے آسیہ سے کہا۔
" اتنی چھوٹی سی وجہ کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔ ۔ ۔ آپ کسی فارمیسیی سے کوئی درد اور بخار والی دوا لے آئیں۔ اس سے ہی آرام ملا جائے گا۔ خواموخواہ ڈاکٹر کا خرچہ۔" آسیہ بیگم نے اس انداز میں بولا جیسے جمیل صاحب کا بہت خیال ہو انہیں۔ ایک طرح سے ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کے حسب منشا ان کے طرح ہی باتیں کرنے لگیں۔
" اف خدایا ! کس عقلمند عورت سے پالا پڑا ہے۔۔۔ اچھا جاو اسکو تیار کرو۔" جمیل صاحب نے مزید کچھ کہنا بیکار سمجھا۔

آسیہ بیگم لنگڑاتی ہوئی اٹھیں اور بیٹی کے کپڑے لینے الماری کی طرف بمشکل گئیں پھر اسی طرح کپڑے لیکر لنگڑاتی ہوئی پھر بیٹی کے پاس آئیں۔

"اب تمہیں کیا ہوا؟" جمیل صاحب نے چڑ کر پوچھا۔

" وہ شاید موچ سی آگئی ہے پیروں میں۔ ایسے ہی صبح جلدی میں بستر سے اٹھ رہی تھی کہ پاوں مڑ گیا۔" آسیہ نے آواز کو درد بھرا بنا کر جواب دیا۔ لیکن شاید جو وہ چاہتی تھیں اس کا اثر جمیل صاحب پر ہوتا نظر نہیں آیا انہوں نے بس یہی کہنے پر اکتفا کیا۔

"چلو تمہیں بھی ڈاکٹر کو دکھا دیں گے۔" اور آسیہ بیگم ڈاکٹروں سے پرخاش رکھنے والے اپنے شوہر کو حیرت سے دیکھنے لگی جو اتنے چھوٹے سے مسئلے کے لئے، جو ان کی نظر میں پہلے معمولی ہوا کرتے تھے لیکن اب اتنی سنجیدگی سے ڈاکٹر پاس لے جانے راضی تھے گویا کافی پیچیدہ اور نازک مسئلہ ہو۔

اب جلدی کرو، میڈیکل سنیٹر بند ہوجائے گا۔ جہاں ہمیں جانا ہے۔" جمیل صاحب نے حیرت زدہ سی ہوئی آسیہ کو ٹوکا۔ تو وہ جلدی جلدی بچوں کو اور خود کا حلیہ درست کر کے جمیل صاحب کے ساتھ گھر سے نکل گیئں۔ پھر جب جمیل صاحب کی کار دبئی کے ایک غیر ملکی معروف سے اسپتال میں داخل ہوئی تو آسیہ بیگم کی حیرانی کا گراف اور بلند ہوگیا۔۔ اور ناسمجھی کے عالم میں اپنے شوہر کو دیکھنے لگیں۔

" یہ تو بہت مہنگا اسپتال ہے۔ یہاں تو معمولی سے بخار کے لئے بھی کافی چارج کیا جاتا ہے۔" آسیہ بیگم نے گاڑی سے اتر کر اسپتال کی بلڈنگ کی طرف ستائشی انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔

" تمہیں کس نے بتایا؟" جمیل صاحب نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا۔

"ساجدہ باجی نے بتایا تھا۔۔ وہ اپنے پپو کا علاج یہیں سے کرواتی ہیں۔ جب بھی اس کی طبیعت وغیرہ خراب ہوتی ہئ تو۔" جمیل صاحب اپنے پڑوس میں رہنے والی کا تذکرہ اکثر اپنے بیوی کے زبانی بہت ستائشی انداز میں سنا کر کرتے تھے۔اور کافی چڑا بھی کرتے تھے۔

"تمہاری ساجدہ باجی کوئی موقع ہاتھ سے جانے دیتی ہے شو آف کرنے کا مجھے نہیں معلوم کی کتنی حیثیت ہے ان کی۔ بڑے آئے یہاں علاج کروانے والے۔ ہونہہ۔" جمیل صاحب نے سر جھٹک کر بیوی کو جواب دیا اور بلڈنگ کے اندر داخل ہوگئے۔ آسیہ جو ساجدہ کے بارے میں جب بھی تذکرہ کرنے پر جمیل صاحب سے اسکے میاں کی ان سے زیادہ تنخواہ ہونے کے بارے میں سنا کرتی تھی آج کا فرمان سن کر مزید حیرانی کی دریا میں غرق ہوگئی۔
اندر جاکر جیمل صاحب نے ای این ٹی اور آرتھو پیڈک ڈاکٹر کو دکھانے کے لئے پرچی کٹوائی اور آسیہ یہ سب خاموشی سے دیکھتی رہیں۔
اسماء کو ڈاکٹر نے کچھ پین کلر اور ساتھ میں ڈراپس تجویز کی اور ہفتے بعد دوبارہ آنے کو کہا تاکہ اس کے ویکس نکالا جا سکے۔۔۔۔آسیہ کے پیر کو دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے ایکسرے کرنے اور ساتھ میں کچھ ٹیسٹ بھی کرنے کو کہا۔۔۔۔ اس پر جمیل صاحب کو ذرا سا اجھنبا سا ہوا۔ کیونکہ ان کو بھی اندازہ تھا آسیہ بیگم کا مسئلہ ویسا نہیں تھا جس کے لئے ٹیسٹ تجویز کیے گئے تھے۔۔۔
یہ بات انہوں نے پیمنٹ سیکشن کے کیشئر سے کہی تو اس نے یہ کہا کونسا ان کی جیب سے یہ سب فیس ادا کی جانی ہے وہ تو کمپنی کے انشورنس والے ہی برداشت کریں گے تو اس کے لئے اتنی فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ یہ بات سب کر جمیل صاحب کو بھی اپنے کچھ نادیدہ بیماریاں یاد آنے لگیں اور پھر کبھی آنے کا سوچ کر وہاں سے نکل گئے۔
گھر لوٹتے ہوئے جمیل صاحب نے آسیہ کو کہا اسماء کو اسکول نا بھیجے تو اسکول کا ذکر آنے پر پھر سے اسکول کے دکھڑے رونے لگیں۔۔۔ جیمل صاحب کو بھی اب احساس ہونے لگا تھا جس معیار کی تعلیم ان کے آس پاس کے دوسروں بچوں کو مل رہیں تھیں ان کے مقابلے میں انکو اپنے بچے پیچھے محسوس ہونے لگے تھے۔۔۔ لیکن وہ اچھے اسکول کی فیس ادا کرنے کے متحمل بھی نہیں تھے۔۔ بس صبر کئے بیٹھے تھے۔ کافی عرصے سے دوسری بہتر تنخواہ والی جاب کی تلاش میں تھے۔۔۔ ایک دو جگہ کچھ امید بندھی تھی تو بیوی سے اس کا ذکر کرکے دعا کرنے کو کہنے لگے۔۔۔
۔................................................ ..........

سال کا آخری مہینہ عید کے خوشیوں کے ساتھ ساتھ یہ ماہ جمیل صاحب کی فیملی کے لئے دوہری خوشیاں لیکر آیا۔۔۔ جمیل صاحب کو ایک اور فرم میں موجودہ جاب سے بھی بہترین جاب مل گئی تھی۔۔۔ جس میں بہت ساری مراعات شامل تھیں ۔۔۔۔ اور انکو اپنی ساری حسرتیں اور خواہشات پوری ہوتی نظر آ رہی تھیں۔۔۔۔ نوکری تبدیل کرنے کے سلسلے میں ان کو ان آوٹ کرنا تھا خوش قسمتی سے بچوں کے اسکول کی چھٹیاں بھی تھی جنوری کے شروع میں بقر عید، اسی موقع سے فائدہ اٹھا کر یہاں آنے کے بعد پہلی بار پاکستان میں انکو عید منانے کا موقع بھی مل گیا۔۔۔۔ اور ان کے ویزہ تبدیل کرنے کا پراسس بھی پورا ہوگیا۔۔۔
*****************


2007

سال نواں مہینہ تھا موسم سرما کی آمد آمد تھی۔ آج جمیل صاحب نے اپنے گھر میں اپنے تمام جاننے والوں مدعو کیا تھا اپنے بیٹے کی سالگرہ منانے ۔۔۔ ان نو ماہ میں جیمل صاحب اور ان کی فیملی کا لائف اسٹائل اور نظریات جس تیزی تبدیل ہوئے تھے آج کی پارٹی اسی کا ہی نتیجہ تھی۔۔۔
بچے کیا بڑے سب اپنی اپنی ایکٹویٹیز میں مصروف اسماء اور ببلو بچوں کو اپنے کھلونے دکھا کر خوش ہو رہے تھے۔ مرد حضرات حالت حاضرہ پر بحث کر رہے تھے عورتیں گھریلو امور پر بحث کم ایک دوسرے پر اپنی امارت کو دکھانے میں زیادہ مصروف نظر آرہی تھیں۔۔
باتوں باتوں میں ہر چیز کے بارے میں قیمت سمیت اس طرح بتایا جاتا گویا ان کے لئے بہت معمولی بات ہو۔
"واہ آسیہ ! تم تو ابھی پاکستان میں چھٹیاں منا کر آئی ہو لیکن تمہارے پودے ابھی تک کتنے فریش ہیں۔۔راز کیا ہے ہم تو جب بھی کہیں جاتے ہیں ہمارے سارے پودے مر جاتے ہیں۔۔۔کیا آتے ہی نئے پودے خریدنے چلی گئی تھی۔۔۔۔!" آسیہ کی پرانی پڑوسن ساجدہ بیگم نے پوچھا۔۔۔
"نہیں بھابھی ۔۔۔۔۔۔! ایسی بات نہیں دراصل میں نے اب کہیں بھی جاتی ہوں تو اپنے گھر کا اے سی کھلا رکھ کر جاتی ہوں۔ پاکستان جانے سے پہلے بھی میں یاد سے اے سی آن کر کے گئی تھی۔۔۔۔ آپ کو تو پتا ہے ناں ! ۔۔۔۔۔۔ یہاں کی گرمی کا۔ دو دن نہ دیکھو تو پودے کیسے مرجھا جاتے ہیں گرمی کی وجہ سے۔ اے سی کھلا رہنے کی وجہ سے پودے فریش رہتے ہیں۔ اور کئی دن بھی بنا پانی کے ان کی حالت صحیح رہتی ہے ویسے بھی ان ڈور پلانٹس کو روز پانی دینے کی ضرورت بھی تو نہیں ہوتی۔" آسیہ بیگم نے اپنے ساڑھی کے پلو کو ٹھیک کرتے ہو تفصیل سے جواب دیا۔

"کیا ۔ ۔ ۔ ۔!!! پندرہ بیس تک آپ کا اے سی ایسے ہی چلتا رہا۔۔۔۔۔ گھر میں کسی کے نہ ہونے کے باوجود ۔۔" ساجدہ بیگم حیرانی اور افسوس سے ملے جلے لہجے میں بولیں۔۔۔
"میں تو ویسے بھی بہت کم بند کرتی ہوں۔ کہیں سے آتے ہی گھر میں داخل ہوتے ہیں کیسی گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ اگر اے سی بند ہو تو۔مجھ سے تو برداشت ہی نہیں ہوتی۔" " آسیہ بیگم کے لہجے میں کافی لاپرواہی تھی۔۔
"بل تو کافی زیادہ آتا ہوگا۔" ساجدہ بیگم مزید گویا ہوئیں۔
"ہاں آتا تو ہے لیکن کونسا ہمیں دینا پڑتا ہے۔ یہ سب کمپنی برداشت کرتی ہے گھر کا کرایہ بجلی کا بل ، میڈیکل انشورنس اور بچوں کے اسکول کی فیس وغیرہ۔۔۔ ۔ " آسیہ بیگم فخر سے بولیں۔۔۔
" بچوں کے اسکول کا خرچہ بھی برداشت کرتی ہے۔۔۔۔ واہ بھابھی !. . . بہت اچھی قسمت پائی ہے بھائی صاحب نے۔۔۔ میں بھی ان سے کہتی ہوں ویسی ہی نوکری ڈھونڈیں لیکن ان کے اندر تو نمک خواری کا بھوت سوار ہے ۔۔۔ کہ اتنے سالوں سے جس جگہ نوکری کر رہے ہیں وہ لوگ بہت اچھے ہیں ۔۔۔کیسے ایسے وقت میں وہاں کی نوکری چھوڑ دیں جنہوں نے ہر مشکل میں ان کا ساتھ دیا۔۔" ساجدہ منہ بگاڑ کر اپنے شوہر کے خیالات بتانے لگی۔

"کرنا پڑتا ہے بھابھی۔۔۔ کوشش جاری رکھنی چاہیئے ترقی کی طرف قدم بڑھاتے ہی رہنا چاہیئے ۔ ۔ ۔ ۔ آخر یہ ہماری ذمہ داری کے ہم اپنے بچوں کو اچھا کھلائیں پلائیں اور اچھی تعلیم دیں۔ ۔ ۔ ہم لوگ بھی بچوں کے اسکول کی وجہ سے کافی پریشان تھے۔۔۔۔ ان کے پرانے اسکول میں وہی بابا آدم کے زمانے کے طریقے تھے پڑھانے کے۔۔۔ کتابیں رٹ لو اور پاس ہوجاو۔۔۔ کوئی ایکٹیویٹی نہیں بچوں کو ایک بوجھ کی طرح لگا کرتا تھا اسکول جانا۔۔۔۔ لیکن اب کتنے خوشی خوشی جاتے ہیں۔۔بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشونما دونوں کا خیال ان اچھے اسکولوں میں رکھا جاتا ہے۔۔۔ میں کتی ہوں آپ بھی اپنے بیٹے کو ڈال دو اسماء لوگوں کے اسکول میں۔" آسیہ بیگم نے تقریر کرنے کے ساتھ ساتھ مشورہ بھی دے ڈالا۔

"ہاں میں ان سے کہتی تو ہوں پر یہ مانتے نہیں ۔۔۔۔ کہتے ہیں ویسے بھی حالات کافی خراب چل رہے ہیں ۔۔۔سنا ہے دنیا میں مالیاتی بحران آنے والا ہے اگلے سال تک کافی لوگوں پر اس کا اثر پڑے گا۔۔۔ اس وجہ سے یہ کچھ کرنے سے ڈرتے ہیں۔۔" ساجدہ بیگم مایوسی سے گویا ہوئیں۔

"ارے ! ۔۔ ۔ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں کچھ نہیں ہونے والا ۔۔۔" آسیہ بیگم نے گویا ناک میں سے مکھی اڑائی۔۔۔ "ہر کوئی آجکل یہی ذکر لے کر بیٹھا ہے ۔۔اگر اتنا ہی بحران آنے والا ہے تو دن رات جو یہ بلڈنگیں بنی شروع ہو رہی ہیں کیا ان کو اس بات کی خبر نہیں ۔۔۔آئے روز کسی نا کسی پراجیکٹ کا اعلان یہاں دبئی میں ہوتا ہے۔۔کیا وہ لوگ بے خبر ہیں۔" آسیہ بیگم کی خوش فہمی کی کوئی حد نہیں تھی۔۔۔

"ہاں ۔ ۔ ۔ یہ بات بھی ہے۔" ساجدہ لاجواب ہوکر خاموش ہوگئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2008
جون جولائی کی گرمیوں کی چھٹیاں پاکستان میں گزار کر جب جمیل صاحب دبئی لوٹے تو ایک خبر ان کی منتظر تھی کہ ان کے کمپنی کے حالات خراب چل رہے ہیں۔ جو جو نئے ورکر ہیں ان کی تنخواہ میں کٹوتی کر دی گئی ہے۔۔۔ اور یہ امکان بھی موجود ہے کہ ان میں سے چند ایک کو فارغ کردیا جائے گا۔۔۔ اور یہ بات جمیل صاحب کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا ہوجائے گا۔ کچھ عرصے سے جس بات کو وہ افواہ سمجھ کر ٹال رہے تھے وہ ایک بھیانک حقیقت کے روپ میں ان کے سامنے کھڑی تھی جس سے نظر چرانا ان کے لئے ناممکن لگ رہا تھا۔۔۔

تنخواہ میں کٹوتی کے باعث ان کو سب سے پہلے اپنے عالشان لگژری اپارٹمنٹ سے محروم ہونا پڑا۔ ابھی وہ لوگ مزید آنے والے مشکلات سے خود ہو نبر آزما کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہی کر رہے تھے کہ ایک اور دھچکہ ان کو لگا۔۔۔ جمیل صاحب کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ چونکہ ان کو اس کمپنی میں کچھ عرصہ ہی ہوا تھا۔ اب ان کو ایسا لگ رہا تھا جیسے سائے سے اچانک ان کو تپتی ہوئی دھوپ میں کھڑا کر دیا گیا ہو۔۔ایسے وقت میں ان کو اپنے پرانے پڑوسی یاد آئے جو ان کے کولیگ بھی تھے۔۔۔
"ارے آسیہ ! تم ۔ ۔ ۔ کیسے آنا ہوا اندر آو۔۔" کافی دنوں کے سوچ بچار کے بعد جمیل اور آسیہ آج اپنے پرانے پڑوسی سے ملنے آئے کہ شاید وہ لوگ کچھ مدد کرپائیں۔۔
"وہ دراصل زاہد بھائی سے ملنا تھا ان کو۔" آسیہ نے جمیل صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔

"اوہ اچھا! ابھی تو وہ آفس میں ہونگے آپ لوگ بیٹھیں وہ تھوڑی دیر میں لوٹے گیں۔"ساجدہ بھابھی نے انہیں بٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔

وہ لوگ شش پنج کی حالت میں بیٹھ گئے ساجدہ کولڈ ڈرنک لیکر ان ساتھ دوبارہ بیٹھ گئی۔۔

"اور کیسے ہیں آپ لوگ? اور کیا خیر خبر ہے بچوں کو نہیں لائے۔" ساجدہ نے خوشگوار لہجے میں کہا۔۔

"ہاں بس بچے سو رہے تھے تو ان کو اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔" آسیہ کچھ کہتے کہتے رک کر دوسری بات کرنے لگی۔۔اس کو شرم سی آنے لگی کہ کس منہ سے جمیل صاحب کی نوکری کے چلے جانے کا ذکر کرے۔

اتنے میں زاہد صاحب بھی گھر میں داخل ہوئے اور جمیل صاحب اور آسیہ کو دیکھ کر حیران ہوئے پھر مسکراتے ہوئے ان کو سلام کیا۔۔

"کیسے ہیں آپ لوگ ؟ ۔ ۔ آج اچانک ہمارے غریب خانے میں آپ لوگ۔۔ ؟ زاہد نے مذاقا” ان سے کہا لیکن یہ بات ان کے دلوں میں تیر کی طرح لگی۔۔

"آہ ۔ ۔ ۔ غریب۔ ۔ ۔ " جمیل صاحب نے لمبی سانس کھینچی۔ " غریب تو ہم لوگ ہو گئے ہیں۔" جمیل صاحب نے سر جھکاتے ہوئے کہا۔

"کیوں۔ ۔ ۔ کیا ہوا۔" زاہد صاحب نے جمیل صاحب کے قریب بیٹھ کر ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
"یار ۔ ۔ ۔! مجھے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ اور اب کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کیا کروں۔ اتنے پیسے نہیں کہ چند ماہ بھی بغیر نوکری کے یہاں وہ کر نوکری کی تلاش کر سکوں گھر کا کرایہ بچوں کی فیس۔ بل وغیرہ۔۔۔ کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔"جمیل صاحب مایوسی کی عالم میں بولے۔

"یہ تو ہونا ہی تھا۔ ۔ ۔ میں نے تمہیں پہلے ہی خبردار کیا تھا۔۔جس نوکری میں تم پچھلے پانچ سال سے ہو ایسے حالات ہیں تم مت چھوڑو اتنی پرانی نوکری ۔ لیکن تم نے تو میری بات نہ مانی۔دیکھا ذرا لحاظ نہیں کیا ان لوگوں نے نکالنے میں جبکہ پرانے ملازموں کے ساتھ کچھ رعایت برتی جا رہی ہوگی نا وہاں بھی؟" زاہد صاحب نے پوچھا۔

"ہاں یار۔" جمیل صاحب نے سر جھکا کر اقرار کیا۔

" یار حالات واقعی بہت خراب ہیں آجکل ۔ ۔ ۔ نئی نوکری بھی بہت مشکلوں سے ملے گی۔" زاہد صاحب افسوس سے گویا ہوئے۔

"یار کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم اپنی کمپنی میں دوبارہ بات کرو میں نے وہاں اتنے عرصے کام کیا ہے ۔
میرے کام سے مطمئن بھی تو کافی تھے وہ لوگ، کیا پتا وہ دوبارہ رکھنے پر راضی ہوجائیں؟" جمیل صاحب نے بہت پر امید ہوکر پوچھا۔

زاہد صاحب نے جمیل صاحب کی امید کو توڑنا مناسب نہیں سمجھا اور بات کرنے کا وعدہ کرلیا۔ گوکہ ان کی خود کی امید صفر تھی کہ کچھ ہوسکتا ہے۔
*****
دو دن بعد جب جمیل صاحب تھکے ہارے گھر لوٹے تو آسیہ نے بتایا کہ زاہد صاحب نے ان کو فون کرنے کہا ہے۔ وہ پر امید ہوکر ان کو نمبر ملانے لگے اور ساتھ میں لبوں پر یہ دعا کہ شاید کچھ آسرا بن جائے۔۔۔
"ہیلو۔ ۔ ۔ ہاں میں بول رہا ہوں۔" جمیل صاحب نے بڑی بے تابی سے کہا۔

پھر جو فون میں انہوں نے بات سنی تو ان کی بولتی بند ہوگئی۔ ساتھ آٹھ منٹ تک وہ خاموشی سے زاہد صاحب کی بات سنتے رہے اور پھر گم صم ہوکر فون بند کردیا۔۔
"کیا ہوا؟"۔ ۔ ۔ آسیہ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔

جمیل صاحب گم صم ہوکر انہیں دیکھنے لگے۔

"آخر ہوا کیا ہے بتائیں تو۔۔۔"

" مجھے نوکری مل گئی ہے ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ ۔ !!!
**************
2010
"ہیلو ۔ ۔ ۔ السلام علیکم۔ ۔ ۔ جی ٹھیک ہوں آپ سنائیں۔ ۔ آپ کیسے ہیں۔" آسیہ بیگم نے بچوں کو اشارہ کر کے بلایا۔۔۔
"یہ لیں بچوں سے بات کریں۔

"ابو ۔ ۔ آپ کب آئیں گے۔۔۔ ہمیں یہاں بالکل اچھا نہیں لگ رہا بہت گرمی ہے۔ اسکول میں بھی سب بچے بہت مارتے ہیں۔ سب اپنے ابو کو بلاتے ہیں شکایت کرنے کے لئے آپ آئیں گے تو میں بھی آپکو اسکول لے جاوں گا۔۔" ببلو نے فون پکڑتے ہین شکایتوں کی پٹاری کھول دی۔۔۔

آسیہ بیگم نے دوبارہ فون لے لیا۔" اس بار آرہے ہیں یا نہیں دو سال ہونے والے ہیں۔ ۔ ۔ بچے سب بہت یاد کر رہے ہیں آپ کو۔" آسیہ بیگم کی آواز رندھ گئی۔
" نہیں میں نہیں آسکتا۔ ۔ ۔ آوں گا تو آنے کا خرچہ الگ پھر وہاں سب کے لئے تحفے خریدنے کا خرچہ۔۔ یہاں رہوں گا تو چھٹیوں کی تنخواہ اور کام کرنے کی تنخواہ الگ ملے گی۔ اس طرح ڈبل تنخواہ سے تم کمرے کی چھت کی مرمت کروالینا۔ پچھلے برسات میں بہت ٹپک رہی تھی نا۔۔۔۔۔۔۔"جمیل صاحب نے ایک دیپ روشن کیا خواہشوں کے بجائے اپنی امیدوں کا۔۔۔
ختم شد۔۔


”خواہشوں کے دیپ“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

bluebird
13-10-2010, 11:10 PM
بہت زبردست لبنی سس.بہت خوبصورتی کے ساتھ آپ نے تمام حالات اور لوگوں کے خیالات کا تجزیہ کیا اور بیان کیا.سُپر تحریر.بیسٹ آف لک

NaimaAsif
13-10-2010, 11:37 PM
واہ بھئی لبنٰی بہت ہی شاندار افسانہ لکھا ہے۔ میں نے تو ایک ہی نشست میں پڑھا۔ مزا آیا۔ شروع سے بہت جاندار افسانہ رہا اور مزا آخر تک برقرار رہا۔
اور آخر تو بہت ہی اچھا لگا۔ حقیقت سے قریب تر۔
ویسے تمہارے افسانے اب نکھرتے جا رہے ہیں پہلے سے بہت پختگی محسوس ہوئی اور پورے افسانے میں ایک ربط سا قائم رہا۔ ویری ویل ڈن۔ کیپ رائٹنگ۔:):)

Noor-ul-Ain Sahira
14-10-2010, 12:13 AM
بہت بہت سادہ، بہت ہی سچا اور بہت معنویت سے پر افسانہ ہے لبنی۔۔۔۔۔ سیدھا دل پر اثر ہو گیا۔ ایسا کچھ ہوتے ہم روز دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔بلکہ خود بھی اسکا شکار ہوئے اس لئے اس درد کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

niuslyguy
14-10-2010, 12:15 AM
وو اوووووو لبنی بہت اچھا افسانہ تھا شروع سے آخر تک زبردست تسلسسل تھا مین نے بھی ایک ہی نشت مین ختم کیا خقیقت کے قریب تر

Ahmed Lone
14-10-2010, 01:26 AM
بہت اچھا لکھا لبنی بہن

بہت افسوس سے کہہ رہا ہوں

یہاں بہت سے لوگ ایسے ہی ہیں

بہت اچھے سے حالات کی بھی ترجمانی کی


اتنے اچھے افسانے پر بہت بہت شکریہ

Rubab
14-10-2010, 02:54 AM
امریکہ، پاکستان اور افریقہ کے بعد اب دبئی کے افسانہ نگار میدان میں۔۔۔

خوش آمدید لبنیٰ جی۔۔

بہت اچھا اور سادہ الفاظ میں لکھا ہے، بغیر کسی پیچ و خم کے، تمام کہانی سیدھی سیدھی چلی ہے اور آخر میں قاری کو ایک سوچ میں ڈال کر ختم ہو جاتی ہے۔

مزید افسانوں کا انتظار رہے گا۔

Sabih
14-10-2010, 03:28 AM
لبنیٰ سس
بہت عمدہ افسانہ لکھا۔ حقیقت سے کافی قریب تر لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کہانی کی روانی بھی اچھی رہی۔
زبان کی سادگی بھی بہت پسند آئی۔ ۔
خوش رہیں۔
:)

Sabih
14-10-2010, 03:30 AM
امریکہ، پاکستان اور افریقہ کے بعد اب دبئی کے افسانہ نگار میدان میں۔۔۔

خوش آمدید لبنیٰ جی۔۔

بہت اچھا اور سادہ الفاظ میں لکھا ہے، بغیر کسی پیچ و خم کے، تمام کہانی سیدھی سیدھی چلی ہے اور آخر میں قاری کو ایک سوچ میں ڈال کر ختم ہو جاتی ہے۔

مزید افسانوں کا انتظار رہے گا۔
ہیں جی۔ ۔ ۔
سمارا سس یہ افریقی ٹارزن کون ہے؟؟

Ayeshah
14-10-2010, 10:59 AM
واوووووووو بہت اچھا لکھا زبردست عام طور پر مجھے افسانے اچھے نہیں لگتے عجیب سے ھوتے ھیں گھمن گھیریوں والے لیکن یہ ایک سادہ اور سچائی پر مبنی لگا،الفاظ کا چناؤ بھی سادہ خیال بھی سادہ لیکن پراثر شاباش مجھے اور پڑھنے کا اشتیاق ھو رھا ھے کیپ رائٹنگ
ھاھا ایک بات بولوں کیا اپنی رئیل لائف میں سے بھی کچھ لیا تھا ،جیسے اے سی یا تھائی رائس ،بریانی وغیرہ

اور نام بھی بہت اچھا لگا ۔

Parishay
14-10-2010, 11:36 AM
بہت زبردست۔ لبنی سس بہت اچھا لکھا آپنے۔

Ameera
14-10-2010, 12:17 PM
بہت اچھا لکھا۔حقیقت سے قریب۔سب سےا چھی بات یہ لگی کہ شروع سے اینڈ تک کہانی کا تسلسل اور دلچسپی برقرار رہی۔

Ifzaan
14-10-2010, 12:36 PM
aoa bohat acha afsana tha zindagi ke bohat hi qareeb good luck:)

Kainat
14-10-2010, 01:51 PM
بہت اچھا حقیقت کے قریب افسانہ ۔۔۔۔۔ بلکہ حقیقت ہی لگ رہی تھی ایک بار جو پڑھنا شروع کیا تو ختم کر کے ہی دم لیا۔ سال بہ سال جس طرح آپ نے لکھا اسے پیش کیا، بہت اچھا لگا۔ کیپ گڈ ورک لبنی سس،

جیا آپی
14-10-2010, 04:58 PM
بہت اچھا اور سہل انداز میں لکھا ہے ،تمہاری تحریر نے دماغ پر بوجھ نہیں ڈالا لبنیٰ اور میں نے ایک ہی نشست میں پڑھا ہے،ایسے ہی لکھتی رہو۔

Meem
14-10-2010, 06:26 PM
بہت بہت بہت عمدہ لکھا بہت سادگی کے ساتھ حقیقت بیان کی کہ کیسے وقت کے ساتھ لوگوں کے انداز بدل جاتے ہیں۔
آگے بھی اور تحاریر کے منتظر رہیں گے۔
اچھا ہاں جس نے بھی ڈیزائن کیا ہے بہت عمدہ کیا ہے۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:33 PM
بہت زبردست لبنی سس.بہت خوبصورتی کے ساتھ آپ نے تمام حالات اور لوگوں کے خیالات کا تجزیہ کیا اور بیان کیا.سُپر تحریر.بیسٹ آف لک

بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔۔ آپ آئیں اور آپ نے اسکو پڑھا۔۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:35 PM
واہ بھئی لبنٰی بہت ہی شاندار افسانہ لکھا ہے۔ میں نے تو ایک ہی نشست میں پڑھا۔ مزا آیا۔ شروع سے بہت جاندار افسانہ رہا اور مزا آخر تک برقرار رہا۔
اور آخر تو بہت ہی اچھا لگا۔ حقیقت سے قریب تر۔
ویسے تمہارے افسانے اب نکھرتے جا رہے ہیں پہلے سے بہت پختگی محسوس ہوئی اور پورے افسانے میں ایک ربط سا قائم رہا۔ ویری ویل ڈن۔ کیپ رائٹنگ۔:):)

بہت بہت شکریہ ناعمہ ۔۔۔تم تو ماشاءاللہ ہر جگہ سب سے آگے ہوتی سب کی حوصلہ افزائی کے لئے سچ میں سب کی یہ حوصلہ افزائی رائیٹر لوگوں کے لئے پیٹرول کی طرح ہی ثابت ہوتے ہیں جس سے وہ مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ کر پاتے ہیں۔۔آنے اور سراہنے کے لئے شکریہ۔۔۔کوئی خامی کوئی غلطی نظر آئی ہو تو وہ بھی پلیز ضرور بتانا۔۔۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:37 PM
بہت بہت سادہ، بہت ہی سچا اور بہت معنویت سے پر افسانہ ہے لبنی۔۔۔۔۔ سیدھا دل پر اثر ہو گیا۔ ایسا کچھ ہوتے ہم روز دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔بلکہ خود بھی اسکا شکار ہوئے اس لئے اس درد کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

شکریہ شکریہ ۔۔۔سادہ اس وجہ سے کیونکہ مجھے سادہ ہی لکھنا آتا ہے۔۔۔ خیر کوشش کر رہی تم لوگوں سے جیسا کچھ لکھ پاوں۔۔۔۔
ہاں جی ارد گرد کے حالات دیکھ کر ہی لکھا ہے ۔

جزاک اللہ خیر ۔۔۔پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:38 PM
وو اوووووو لبنی بہت اچھا افسانہ تھا شروع سے آخر تک زبردست تسلسسل تھا مین نے بھی ایک ہی نشت مین ختم کیا خقیقت کے قریب تر

شکریہ شکریہ ۔۔۔عین نوازش۔۔۔۔ بہت خوشی ہوئی گل کے تم آئیں افسانہ پڑھا اور کمنٹ بھی کیا۔۔۔۔۔۔
جزاک اللہ خیر پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:41 PM
بہت اچھا لکھا لبنی بہن

بہت افسوس سے کہہ رہا ہوں

یہاں بہت سے لوگ ایسے ہی ہیں

بہت اچھے سے حالات کی بھی ترجمانی کی


اتنے اچھے افسانے پر بہت بہت شکریہ


واووووووووووووووووو۔۔۔۔۔ی عنی بھائی لوگ ۔۔۔وہ کوئی شعر ہوتا ہے نا ایسے موقعوں پر۔۔۔۔
بہت بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے کچھ تڑ تڑ تڑ دھڑ دھڑ کے علاوہ بھِی پڑھنے کی زحمت کی۔۔۔۔ہاں جی یہی کے حالات دیکھ کر ہی لکھا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ کیسے بدلتی ہے۔۔
اسی میں ان کے قول و فعل کا تضاد نظر آجاتا ہے کہ پہلے ان کے نظریات کیسے تھے بعد میں وقت پڑنے پر کیسے ہوگئے۔۔۔۔
جزاک اللہ خیر ۔۔آپ آئے اتنا وقت دے کر میرا افسانہ پڑھا اور سراہا بھی۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:43 PM
امریکہ، پاکستان اور افریقہ کے بعد اب دبئی کے افسانہ نگار میدان میں۔۔۔

خوش آمدید لبنیٰ جی۔۔

بہت اچھا اور سادہ الفاظ میں لکھا ہے، بغیر کسی پیچ و خم کے، تمام کہانی سیدھی سیدھی چلی ہے اور آخر میں قاری کو ایک سوچ میں ڈال کر ختم ہو جاتی ہے۔

مزید افسانوں کا انتظار رہے گا۔

پہلے لفظ سے تو لگا کسی کھیل کے میدان میں کشتی لڑنے آئے ہوں ۔۔۔ہاہاہاہا

جی وعلیکم خوش آمدید۔۔۔۔
ہاہاہاہااا۔۔۔۔۔پیچ و خم اس وجہ سے ہیں کیونکہ پیچ و خم کس طرح سے ڈالنے ہوتے ہیں وہ بس اب تک سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں جب آجائیگا تب ڈال بھی لونگی۔۔۔۔

کس سوچ میں ڈال گئی ہے اس پر روشنی یا ٹارچ تو مارو؟

جزاک اللہ خیر ۔۔پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:45 PM
لبنیٰ سس
بہت عمدہ افسانہ لکھا۔ حقیقت سے کافی قریب تر لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کہانی کی روانی بھی اچھی رہی۔
زبان کی سادگی بھی بہت پسند آئی۔ ۔
خوش رہیں۔
:)


شکریہ شکریہ ڈاکٹر بھائی ۔۔۔۔
ہک ہاااااااااااااااااااااا۔۔ ۔یہ سادگی ہی مجھے لے ڈوبے گی۔۔۔۔ہاہاہاہا

جزاک اللہ خیر ۔۔پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔




ہیں جی۔ ۔ ۔
سمارا سس یہ افریقی ٹارزن کون ہے؟؟


اوہو یہ در نایاب کی بات کر رہی ہے۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:49 PM
واوووووووو بہت اچھا لکھا زبردست عام طور پر مجھے افسانے اچھے نہیں لگتے عجیب سے ھوتے ھیں گھمن گھیریوں والے لیکن یہ ایک سادہ اور سچائی پر مبنی لگا،الفاظ کا چناؤ بھی سادہ خیال بھی سادہ لیکن پراثر شاباش مجھے اور پڑھنے کا اشتیاق ھو رھا ھے کیپ رائٹنگ
ھاھا ایک بات بولوں کیا اپنی رئیل لائف میں سے بھی کچھ لیا تھا ،جیسے اے سی یا تھائی رائس ،بریانی وغیرہ

اور نام بھی بہت اچھا لگا ۔

شکریہ شکریہ ۔۔۔۔اچھا پر اثر لگے ۔۔کونسی والی بات تاکہ میں بھی دیکھو مجھ پر بھی اثر کر رہے ہیں یا نہیں؟؟؟

ہاں جی رئیل لائف میں وہ اے سی کھول کر چھٹیوں میں جانے والی بات ایک خاتون سے سنی تھی۔۔تو بہت افسوس ہوا تھا کہ کس طرح کمپنی کی طرف سے دیئے گئے مراعات کا لوگ ناجائز فائدہ اٹھا تے ہیں بس وہی بات دماغ میں رہ گئی تھی۔۔۔
ہاہاہاہاہا تھائی رائس ۔۔۔۔۔۔۔بس ریسٹیورنٹ میں جاو تو ایسے مناظر کبھی کبھار نظر آ ہی جاتے ہیں نااااااااااااااااااا۔۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:52 PM
بہت زبردست۔ لبنی سس بہت اچھا لکھا آپنے۔


بہت بہت شکریہ ٹیچر جی۔۔۔۔
سچ میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی آپ کو۔۔۔باقی کے افسانے بھی پڑھے ہیں آپ نے اگر نہیں تو ضرور پڑھیں ۔۔ہمارے مصنیفین نے بڑے دل لگا کر لکھے ہیں سارے افسانے۔۔۔


بہت اچھا لکھا۔حقیقت سے قریب۔سب سےا چھی بات یہ لگی کہ شروع سے اینڈ تک کہانی کا تسلسل اور دلچسپی برقرار رہی۔


شکریہ شکریہ ۔۔۔بس میری محنت وصول ہوگئی آپکی اس بات سے کہ آپ نے افسانہ پڑھ کر انجوائے کیا۔۔۔۔

جزاک اللہ خیر پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔۔



aoa bohat acha afsana tha zindagi ke bohat hi qareeb good luck:)

میں نوٹ کر رہی ہو افران آپ بھی ماشاءاللہ سے ہر افسانے کو پڑھ رہی ہیں اور سب کی حوصلہ افزاءی کر رہی ہیں ۔۔۔ بے شک ایک جملہ کیوں نہ ہو لیکن یہ رائیٹرز کے لئے بہت معنی رکھتی ہیں۔۔۔

جزاک اللہ خیر پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:55 PM
بہت اچھا حقیقت کے قریب افسانہ ۔۔۔۔۔ بلکہ حقیقت ہی لگ رہی تھی ایک بار جو پڑھنا شروع کیا تو ختم کر کے ہی دم لیا۔ سال بہ سال جس طرح آپ نے لکھا اسے پیش کیا، بہت اچھا لگا۔ کیپ گڈ ورک لبنی سس،


شکریہ شکری کائنات۔۔۔ ہاہاہا پتا ہے میں بہت ڈر رہی تھی کہ میرا افسانہ حد سے زیادہ طویل ہے لوگ اسی کی صحت کو دیکھ کر پڑھنے سے اجتناب کریں گے۔۔۔۔ لیکن شکر ہے جس جس نے ہمت کی اس کو پسند آہی گیا۔۔۔۔لیکن کیا کسی کو کوئی خامی کوئی تنقید نہیں کرنی ؟؟؟
کیوں بھی کوئی غلطی کیوں نہیں بتا رہا اسپیلنگ کے مسٹیک کے علاوہ کہ کیا خامی کیا کمزوری ہے افسانوں میں؟

جزاک اللہ خیر پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 06:57 PM
بہت اچھا اور سہل انداز میں لکھا ہے ،تمہاری تحریر نے دماغ پر بوجھ نہیں ڈالا لبنیٰ اور میں نے ایک ہی نشست میں پڑھا ہے،ایسے ہی لکھتی رہو۔


بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔

ہاہاہاہا مجھے تو لگا تھا میرا افسانہ سب سے زیادہ بھاری ہے کافی صحتمند ہے اس وجہ سے سب پر بوجھ بن جائے گا۔۔۔شکر ہے دیکھنے میں بڑا لیکن وزن میں ہلکا نکلا۔۔۔۔۔

ان شاءاللہ تم لوگوں کی دعائیں ساتھ ہوں تو مزید کوششیں جاری رہیں گی۔۔۔

جزاک اللہ خیر پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔۔

Lubna Ali
14-10-2010, 07:00 PM
بہت بہت بہت عمدہ لکھا بہت سادگی کے ساتھ حقیقت بیان کی کہ کیسے وقت کے ساتھ لوگوں کے انداز بدل جاتے ہیں۔
آگے بھی اور تحاریر کے منتظر رہیں گے۔
اچھا ہاں جس نے بھی ڈیزائن کیا ہے بہت عمدہ کیا ہے۔


بہت بہت شکریہ مدیرہ جی ۔۔۔تمہاری تعریف سن کر تو سیروں خون بڑھ گیا،،جاکر وزن چیک کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔
ہاں جی بس وہی سب بتانے کی کوشش کی کے وقت کے ساتھ جو جو تبدیلی آتی ہے ہم لوگوں میں وہ ہمارے نظریے پر بھی اثر کرتی ہے یا نہیں۔۔۔ جس کو ہم ماضی میں فالو کر رہے تھے۔۔۔

ڈیزائین رمیصا نے کیا ہے ماشاءاللہ سے واقعی بہت اچھا ڈیزائین کیا ہے۔۔۔

جزاک اللہ خیر پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔۔

Sajidcompk
14-10-2010, 07:07 PM
Excellent.

keep it up.

Lubna Ali
14-10-2010, 07:18 PM
Excellent.

keep it up.


شکریہ شکریہ۔۔۔۔

جزاک اللہ خیر آپ آئے اپنا اتنا قیمتی وقت اس افسانے کو دیا۔۔۔
شکریہ بہت بہت پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔

Durre Nayab
14-10-2010, 07:21 PM
لبنی آپی بہت سادگی سے بہت سوں کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔
بہت خوب ایسے ہی لکھتی رہیں۔

Lubna Ali
14-10-2010, 07:26 PM
لبنی آپی بہت سادگی سے بہت سوں کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔
بہت خوب ایسے ہی لکھتی رہیں۔

ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ان سب کو پتا چل گیا نا تو انہوں نے میری پٹائی کر دینی ہے کہ کیا اول جلول لکھا جا رہا ہے۔۔۔۔ہاہاہاہاااااااااااا ااا۔۔۔۔۔
ویسے میں نے یہاں اس طرح بہت دیکھا ہے۔۔لوگ اپنا علاج کروانے میں سستی سے زیادہ پیسوں کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں لیکن انشورنس ملنے کے بعد تو بس ذرا سی چھینک آنے پر بھی بڑے بڑے اسپتال کی طرف دوڑیں لگ جاتی ہیں۔۔۔ بس حیرت ہوتی ہے۔۔۔۔

بہت بہت شکریہ اتنا وقت دیا میرے افسانے کو کافی لمبا تھا ناااااااااا؟

Aqsa
14-10-2010, 09:06 PM
ہت اچھا افسانہ ہے لبنیٰ جی۔ پلاٹ اچھا ہے اور آپ کا بیان بھی۔ زندگی کے مختلف ادوار میں معاشی حالات سے جڑے انسان کے خیالات کس طرح بدلتےہیں اور اسکا تعلق کیسے اسکی خواہشات اور احساسات کو مخصوص شکل میں ڈھالتا ہے۔ یہ آپ نے اس افسانے میں بہت سبھاؤ سے بیان کیا ہے۔
امید ہے آپ کی طرف سے مزید اچھے اچھے افسانے پڑھنے کو ملیں گے۔

Haram
14-10-2010, 09:22 PM
ما شا اللہ بہت خوب لکھا ھے لبنٰی اللہ پاک تمھارے قلم میں مزید زور اور برکت عطا کریں آمین

SmyleAgain
14-10-2010, 09:37 PM
ماشاءاللہ بہت ہی اچھا لکھا۔۔۔۔افسانے کے حساب سے تھوڑا لمبا لگا لیکن کہانی، آئڈیا، اور لکھنے کا انداز سب بہت ہی زبردست۔۔

Zainab
14-10-2010, 10:32 PM
بہت اچھا لکھا ہے لبنٰی

*HURD*
14-10-2010, 11:20 PM
السلام علیکم

بہہہت خوب لبنیٰ
بہہہت اچھا لکھا۔ بدلتے حالات اور ان کے مطابق لوگوں کے بدلتے نظریات کو سادہ جملوں میں لکھنے کا انداز بہہہت خوبصورت تھا۔
افسانہ طویل تو تھا لیکن تسلسل لئے ھوئے تھا اس لئے بالکل بھی بوریت نہیں ھوئی پڑھتے ھوئے۔

Sajda Sehr
14-10-2010, 11:57 PM
گڈ ورک لبنی آپی
سارا ایک ہی بار مین پڑھ لیا
دن بدن رائیٹر ہوتی جارہی ہیں اپ بھی
کیپ اٹ اپ

Durre Nayab
15-10-2010, 12:58 AM
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ان سب کو پتا چل گیا نا تو انہوں نے میری پٹائی کر دینی ہے کہ کیا اول جلول لکھا جا رہا ہے۔۔۔۔ہاہاہاہاااااااااااا ااا۔۔۔۔۔
ویسے میں نے یہاں اس طرح بہت دیکھا ہے۔۔لوگ اپنا علاج کروانے میں سستی سے زیادہ پیسوں کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں لیکن انشورنس ملنے کے بعد تو بس ذرا سی چھینک آنے پر بھی بڑے بڑے اسپتال کی طرف دوڑیں لگ جاتی ہیں۔۔۔ بس حیرت ہوتی ہے۔۔۔۔

بہت بہت شکریہ اتنا وقت دیا میرے افسانے کو کافی لمبا تھا ناااااااااا؟

لمبا تھا مگر انٹرسٹنگ بھی تھا۔ ویسے سچی بات بھی ہے وہاں پر میڈیکل اور ڈنٹسٹری بہت بہت ایکسپنسیو ہیں۔ اور مفت کا کھانا دیکھ کر کھانے کی اس طرح بے حرمتی بھی بہت عام بات ہے اور اکثر پاکستان میں بھی شادی بیاہ پر ایسا دیکھنے میں آتا ہے۔

Meem
15-10-2010, 02:27 AM
بہت بہت شکریہ مدیرہ جی ۔۔۔تمہاری تعریف سن کر تو سیروں خون بڑھ گیا،،جاکر وزن چیک کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔
ہاں جی بس وہی سب بتانے کی کوشش کی کے وقت کے ساتھ جو جو تبدیلی آتی ہے ہم لوگوں میں وہ ہمارے نظریے پر بھی اثر کرتی ہے یا نہیں۔۔۔ جس کو ہم ماضی میں فالو کر رہے تھے۔۔۔

ڈیزائین رمیصا نے کیا ہے ماشاءاللہ سے واقعی بہت اچھا ڈیزائین کیا ہے۔۔۔

جزاک اللہ خیر پڑھنے اور سراہنے کے لئے۔۔۔
اوہو۔ اب تو چیک کر ہی لو۔
ہاں بالکل ایسے لوگ ہوتے ہیں ہمارے یہاں بھی کافی ہے دبئی گزیدہ اس لیے اور انجوائے کیا پڑھ کر۔
سب سے اچھی بات تھی کہ بندہ پڑھتا چلا جائے اور یہ کسی بھی تحریر کی خوبی ہوتی ہے اور ہاں اپنا اسٹائل سیم رکھنا کبھی نہیں بدلنا۔ تم ایسے ہی اچھا لکھتی ہو۔
اور یہ کیا "عہدہ" کی عزت:(

سلمان خان
15-10-2010, 04:20 AM
کیا بات ہے بہت عمدہ مجھے تو کسی مصنف کی تحریر معلوم ہوئی۔ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا آپ اتنا اچھا لکھ لیتی ہو ۔ اوپر سے اسٹارٹ کیا تھا نیچے جب لوگوں کے ریپلائے دیکھے تو پتا چلا کے آپ نے لکھا ہے میں سمجھا شاید کہیں سے کاپی کیا ہے ۔

بنت احمد
16-10-2010, 04:01 AM
ویری نائس لبنی سس،

اچھا لکھا ہے،

روشنی
16-10-2010, 11:15 AM
بہت اچھا لکھا لبنٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویری نائس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ڈیزائئننگ بھی بہت اچھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

رمیصا
16-10-2010, 03:26 PM
بہت اچھا لکھا ہے لبنی آپی۔
اور سال بہ سال بیان تو کمال کا کیا ہے۔کس طرح سے لوگ بدلتے ہیں،وقت اور حالت کیسے انسان کو پالش کرتے ہین،خوب بیان کیا۔
کیپ رائٹنگ۔۔۔!!

Taaliah
17-10-2010, 03:39 AM
اچھا افسانہ تھا لبنی'۔
اس طرح کے واقعات اکثر ان ملکوں میں ہوتے نظر آتے ہیں۔ جن کے پاس تو عقل ہوتی ہے وہ تو وقت پر سنبھل جاتے ہیں لیکن جو لوگ اپنی عقل نہیں استعمال کرتے ان کا حال پھر ایسا ہی ہوتا ہے جیسے آپ نے بیان کیا ہے۔
لکھتی رہیں۔

Wish
19-10-2010, 12:05 AM
آہا لُبنیٰ سس ۔ ۔ یہ افسانہ ایک عرصہ پہلے پڑھنا شروع کیا تھا، اب مکمل کیا۔

بہت ہی حساس موضوع ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ایسے بہت سے کرداروں سے میں بھی اپنی زندگی میں کہیں نہ کہیں مل چکی ہوں۔ ۔ ۔
کفایت شعاری اچھی بات ہوتی ہے لیکن ایک حد سے زیادہ ہو تو کنجوسی کے زمرے میں آ جاتی ہے۔

اس افسانے میں اچھی بات یہ ہے کہ ایک مثبت تبدلی اور پیغام کے ساتھ اس کو ختم کیا گیا ہے۔ ۔ ۔

ویری ویل ڈن جناب۔ مزید کا انتظار ہے۔
:)

Hina Rizwan
19-10-2010, 11:23 AM
بہت اچھا لکھا ہے لبنی آپی
بالکل حقیقت سے قریب تر ایسا ہی ہوتا ہے اکثر
افسانے کا مسیج بہت اچھا لگا
جیسے آپ نے بدلتے حالات کے ساتھ ان کے خیالات میں تبدیلی دکھائی
ویل ڈن اینڈ کیپ رائٹنگ:)

Madiha
19-10-2010, 06:44 PM
افسانہ حقیقت سے قریب تر تھا بہت اچھا پیغام دیا آپ نے کیپ اٹ اپ

Hira Qureshi
19-10-2010, 07:19 PM
بہت اچھا لکھا ہے لبنٰی۔ حقیقت پر مبنی اور مجھے عنوان بھی بہت پسند آیا۔
لکھتی رہیے۔

Nesma
20-10-2010, 12:11 AM
زبردست جی
بہت خوب لکھا ہے
حقیقت سے قریب

Lubna Ali
20-10-2010, 12:31 AM
ہت اچھا افسانہ ہے لبنیٰ جی۔ پلاٹ اچھا ہے اور آپ کا بیان بھی۔ زندگی کے مختلف ادوار میں معاشی حالات سے جڑے انسان کے خیالات کس طرح بدلتےہیں اور اسکا تعلق کیسے اسکی خواہشات اور احساسات کو مخصوص شکل میں ڈھالتا ہے۔ یہ آپ نے اس افسانے میں بہت سبھاؤ سے بیان کیا ہے۔
امید ہے آپ کی طرف سے مزید اچھے اچھے افسانے پڑھنے کو ملیں گے۔


بہت بہت شکریہ جناب صدر۔۔۔یہ آپ ہی تھی جن کے فائنل کال نے مجھے جگا دیا ورنہ میں تو بس سوتی ہی رہتی اور یہ افسانہ ۔۔ہاہاہاہا کبھِی مکمل ہی نہیں پو پاتا۔۔۔

شکریہ بہت بہت۔۔۔

ما شا اللہ بہت خوب لکھا ھے لبنٰی اللہ پاک تمھارے قلم میں مزید زور اور برکت عطا کریں آمین


بہت بہت شکریہ حرم۔۔۔۔



ماشاءاللہ بہت ہی اچھا لکھا۔۔۔۔افسانے کے حساب سے تھوڑا لمبا لگا لیکن کہانی، آئڈیا، اور لکھنے کا انداز سب بہت ہی زبردست۔۔


ہاں جی سب سے طویل افسانہ میرا ہی ہوگیا ۔۔۔حالانکہ کافی کچھ کاَٹ پیٹ کر اس کو اتنا بنایا لیکن پھر بھی طویل ہوگیا کیا کروں۔۔۔


بہت اچھا لکھا ہے لبنٰی


شکریہ میری مستقبل کی ڈاکٹریٹ بہن۔۔اپنے اتنے ٹف شیڈول سے تم نے وقت نکال کر اس کو پڑھا ۔۔۔بہت بہت شکریہ



السلام علیکم

بہہہت خوب لبنیٰ
بہہہت اچھا لکھا۔ بدلتے حالات اور ان کے مطابق لوگوں کے بدلتے نظریات کو سادہ جملوں میں لکھنے کا انداز بہہہت خوبصورت تھا۔
افسانہ طویل تو تھا لیکن تسلسل لئے ھوئے تھا اس لئے بالکل بھی بوریت نہیں ھوئی پڑھتے ھوئے۔


آہہہہہہ شکر ہے بور نہیں ہوئی طویل افسانے کی وجہ سے مجھے پہلا ڈر یہی تھا "بوریت " کا ۔۔۔۔

بہت بہت شکریہ ۔۔۔

Lubna Ali
20-10-2010, 12:34 AM
گڈ ورک لبنی آپی
سارا ایک ہی بار مین پڑھ لیا
دن بدن رائیٹر ہوتی جارہی ہیں اپ بھی
کیپ اٹ اپ


واقعی سارا ایک بار میں پڑھا ہے۔۔۔۔ "حیران اسمائیلی"

کیا بات ہے دل خوش کردیا ۔۔میں اور رائیٹر۔۔ہاہاہاہا

شکریہ شکریہ ۔۔۔۔تمہارا افسانہ کدھر ہے؟



لمبا تھا مگر انٹرسٹنگ بھی تھا۔ ویسے سچی بات بھی ہے وہاں پر میڈیکل اور ڈنٹسٹری بہت بہت ایکسپنسیو ہیں۔ اور مفت کا کھانا دیکھ کر کھانے کی اس طرح بے حرمتی بھی بہت عام بات ہے اور اکثر پاکستان میں بھی شادی بیاہ پر ایسا دیکھنے میں آتا ہے۔


ہاں جی بس وہی دیکھ کر کڑھتی ہوں اور قلم نے بھی وہی کچھ لکھنے پر مجبور کر دیا۔۔۔


اوہو۔ اب تو چیک کر ہی لو۔
ہاں بالکل ایسے لوگ ہوتے ہیں ہمارے یہاں بھی کافی ہے دبئی گزیدہ اس لیے اور انجوائے کیا پڑھ کر۔
سب سے اچھی بات تھی کہ بندہ پڑھتا چلا جائے اور یہ کسی بھی تحریر کی خوبی ہوتی ہے اور ہاں اپنا اسٹائل سیم رکھنا کبھی نہیں بدلنا۔ تم ایسے ہی اچھا لکھتی ہو۔
اور یہ کیا "عہدہ" کی عزت:(


اوکے بباس اسٹائیل یہی رہے گا کیونکہ دوسرا اسٹائیل اپنا جو نہیں پا رہی ۔۔۔
ہاہاہاہا نہیں جی عہدے کی عزت نہیں جی ۔۔۔بس جو خود بہت اچھا لکھتا ہو اس سے تعریف سننا اچھا لگتا ہے۔۔۔

Lubna Ali
20-10-2010, 12:38 AM
کیا بات ہے بہت عمدہ مجھے تو کسی مصنف کی تحریر معلوم ہوئی۔ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا آپ اتنا اچھا لکھ لیتی ہو ۔ اوپر سے اسٹارٹ کیا تھا نیچے جب لوگوں کے ریپلائے دیکھے تو پتا چلا کے آپ نے لکھا ہے میں سمجھا شاید کہیں سے کاپی کیا ہے ۔



"؛حیران اسمائیلی"

کیا واقعی ۔۔۔ہاہاہاہاہا

بہت بہت شکریہ بہت خوشی ہوئی آپ نے میرے افسانے کو پڑھا اور کمنٹ بھی کیا۔۔۔


ویری نائس لبنی سس،

اچھا لکھا ہے،


شکریہ شکریہ ۔۔۔۔۔کیا اچھا لگا "بنتو" یہ بھی تو بتانا تھا۔۔۔کنجوس کہیں کی۔۔۔



بہت اچھا لکھا لبنٰی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویری نائس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ڈیزائئننگ بھی بہت اچھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔


بہت بہیت شکریہ روشنی جی ۔۔۔۔کیسی ہیں آپ اتنےےےےےےےے دنوں سے نطر نہیں آرہی ۔۔
ہاں ڈیزائننگ رمیصا نے کی ہے ۔۔۔داد اسکو ملنی چاہییئے۔۔۔





بہت اچھا لکھا ہے لبنی آپی۔

اور سال بہ سال بیان تو کمال کا کیا ہے۔کس طرح سے لوگ بدلتے ہیں،وقت اور حالت کیسے انسان کو پالش کرتے ہین،خوب بیان کیا۔

کیپ رائٹنگ۔۔۔!!


کمال ہوا شمال نہیں ؟۔۔۔۔۔ہاہاہاہا
کچھ لوگوں کو وقت کے ساتھ اتنا بدلتے دیکھا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔۔۔ تو بس کچھ مشاہدے سے اخذ کر کے لکھنے کی کوشش کی ہے۔۔۔

Lubna Ali
20-10-2010, 12:41 AM
اچھا افسانہ تھا لبنی'۔
اس طرح کے واقعات اکثر ان ملکوں میں ہوتے نظر آتے ہیں۔ جن کے پاس تو عقل ہوتی ہے وہ تو وقت پر سنبھل جاتے ہیں لیکن جو لوگ اپنی عقل نہیں استعمال کرتے ان کا حال پھر ایسا ہی ہوتا ہے جیسے آپ نے بیان کیا ہے۔
لکھتی رہیں۔


ہاں بس ۔۔۔۔یہی دنیا کی بے ثباتی ہے۔۔۔

پسندیدگی کے لئے شکریہ ۔۔۔۔



آہا لُبنیٰ سس ۔ ۔ یہ افسانہ ایک عرصہ پہلے پڑھنا شروع کیا تھا، اب مکمل کیا۔

بہت ہی حساس موضوع ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ایسے بہت سے کرداروں سے میں بھی اپنی زندگی میں کہیں نہ کہیں مل چکی ہوں۔ ۔ ۔
کفایت شعاری اچھی بات ہوتی ہے لیکن ایک حد سے زیادہ ہو تو کنجوسی کے زمرے میں آ جاتی ہے۔

اس افسانے میں اچھی بات یہ ہے کہ ایک مثبت تبدلی اور پیغام کے ساتھ اس کو ختم کیا گیا ہے۔ ۔ ۔

ویری ویل ڈن جناب۔ مزید کا انتظار ہے۔
:)


میں نے بھی رافعہ جی کے ڈر سے ہی ایک عرصےےےےےےےےےے بعد ہی اسکو مکمل کیا ہے۔۔ہاہاہاہا

ہاں بھئی ایسی کنجوسی تو حد سے زیادہ نظر آتی ہے سمجھ میں نہیں آتا کیا لکھیں کیا نہیں۔۔۔ہاہاہاہا
شکریہ بہت بہت ۔۔۔



بہت اچھا لکھا ہے لبنی آپی
بالکل حقیقت سے قریب تر ایسا ہی ہوتا ہے اکثر
افسانے کا مسیج بہت اچھا لگا
جیسے آپ نے بدلتے حالات کے ساتھ ان کے خیالات میں تبدیلی دکھائی
ویل ڈن اینڈ کیپ رائٹنگ:)

بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔۔ شاید اس کو پڑھ کر بہت سے لوگ کچھ سوچنا شروع کردیں کہ وہ کون سی اسٹیج ہے جب ہمارے قول فعل میں تضاد شروع ہوجاتا ہے۔۔۔۔

Lubna Ali
20-10-2010, 12:46 AM
افسانہ حقیقت سے قریب تر تھا بہت اچھا پیغام دیا آپ نے کیپ اٹ اپ


ہاہاہاہا۔۔۔ہائے یہ حقیقت بھی نا۔۔۔۔۔ اچھا کیا یہ والی حقیقت (http://www.oneurdu.com/forums/showthread.php?t=70537) تو نہیں تھی ۔۔۔


بہت اچھا لکھا ہے لبنٰی۔ حقیقت پر مبنی اور مجھے عنوان بھی بہت پسند آیا۔
لکھتی رہیے۔


بہت بہت شکریہ ۔۔
عنوان ایک نظم سے لی تھی اب پتا نہیں شاعر کون ہے۔۔۔
مجھے بس یاد رہ گئی وہ نظم تو اس سے لے لی۔۔۔




زبردست جی
بہت خوب لکھا ہے
حقیقت سے قریب



بہت بہت شکریہ ۔۔۔کونسے حقیقت سے قریب جو میں نے اوپر بتائی ہے کیا وہ والی؟؟؟؟

???

Nesma
20-10-2010, 02:03 AM
ہاہاہاہا۔۔۔ہائے یہ حقیقت بھی نا۔۔۔۔۔ اچھا کیا یہ والی حقیقت (http://www.oneurdu.com/forums/showthread.php?t=70537) تو نہیں تھی ۔۔۔




بہت بہت شکریہ ۔۔
عنوان ایک نظم سے لی تھی اب پتا نہیں شاعر کون ہے۔۔۔
مجھے بس یاد رہ گئی وہ نظم تو اس سے لے لی۔۔۔






بہت بہت شکریہ ۔۔۔کونسے حقیقت سے قریب جو میں نے اوپر بتائی ہے کیا وہ والی؟؟؟؟

???


نہیں جو آپ نے بہت اوپر بتائی ہے وہ والی;)

HarfeDua
20-10-2010, 07:05 AM
ارے واہ۔۔۔ آپ نے تو کسی ڈائجسٹ کی اسٹوری جیسا لکھا ہے۔ آئم امپریسڈ۔ شاباش۔ :)