PDA

View Full Version : بے آواز گلی کوچوں میں از حرا قریشی



Aqsa
12-10-2010, 10:24 PM
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/bay-awaz-gali-kochon-main/Bay-awaz-gali-kochon-main-designedtitlepage.jpg


http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/bay-awaz-gali-kochon-main/Bay-awaz-gali-kochon-main-designed1.jpg


http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/bay-awaz-gali-kochon-main/Bay-awaz-gali-kochon-main-designed2.jpg

*************************************




بے آواز گلی کوچوں میں



ہر طرف سناٹا چھایا تھا ،گلیاں سنسان تھیں۔ لگتا ہی نہیں تھا یہاں کوئی بستا بھی ہے۔ اس نے بے بسی سے ایک نظر اپنی بھری ہوئی سبزیوں کی ریڑھی پر ڈالی اور دوسری ہر طرف پھیلتے اندھیرے پر۔



"آج تو شاید افطار میں سوکھی روٹی کے لیے بھی پیسے نہیں ہوں گے۔" اس کی بڑبڑاہٹ کو بھی اندھیرا نگل گیا تھا۔



"اب سکینہ کو کیا بتاؤں گا۔ آج کی کمائی تو شام میں ہی بھتے میں چھن گئی۔" عبداللہ نے ماتھے پر آیا پسینہ آستین سے پونچھتے ہوئے ایک دفعہ پھر بند دروازوں کے کونوں سے جھانکتی روشنی کی طرف دیکھا اور ایک بار پھر آواز لگانے کا سوچا مگر شاید ٹانگوں کے ساتھ دماغ بھی شل ہوگیا تھا۔ اس کی آواز گلے میں ہی گھٹ کر رہ گئی۔ قطار میں کھڑے عالی شان مکان اس کی بے بسی پر ہنس دیےتھے۔



٭ - - - ٭ - - - ٭



"ابا میرا عید کا جوڑا لائے؟" اس نے جیسے ہی اندر قدم رکھازینب بھاگتی ہوئی آئی تھی۔



"اندر تو آنے دو۔" سکینہ نے شوہر کے چہرے سے جھلکتی پریشانی دیکھتے ہوئے بیٹی کو ٹوکا تھا۔



"ابا جلدی بتاؤ نا لائے ہو نا؟ کل وعدہ کیا تھا۔" اس نے ماں کی بات پر منہ پھلاتے ہوئے اپنے ابا کی طرف دیکھا۔



"آج دیر ہوگئی تھی زینو کل لاؤں گا اِن شاءاللہ۔" اس نے جواب دیتے ہوئے بیٹی کو اپنے ساتھ لگالیا تھا۔ زینب کے چہرے پر ایک دم مایوسی چھاگئی تھی۔ وہ ایک طرف جاکر بیٹھ گئی۔ عبداللہ نے بے بسی سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو شاید خود بھی یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ وہ آج ضرور زینو کے لیے عید کا جوڑا لے آئے گا۔ اس کے جواب پر سکینہ کے چہرے پر بھی سایہ سا لہرا گیا تھا۔



"میں ضرور لاتا سکینہ، مگر۔ ۔ شام میں آج پھر بھتہ لینے آگئے تھے۔ پیسے تھے ہی کتنے ۔ ۔ مگر میں کیا کرتا؟ میں نے کہا بھی کہ بھائی کچھ تو رحم کرو میرےچھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ ۔ ۔مگر ان لوگوں کو رحم کب آتا ہے۔" عبداللہ نے ٹھنڈی سانس بھری اور قریب ہی چارپائی پر بیٹھ گیا تھا۔


"اللہ سمجھے گا انہیں۔ میں کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔ افطاری میں کچھ کھایا بھی تھا یا بھوکے پیاسے گھومتے رہے؟" اندھیرے کو چیرنے میں ناکام ہوتی ہوئی بلب کی پیلی روشنی میں بھی عبداللہ کو سکینہ کی کپکپاتی آواز سے اس کے رنج کا اندازہ ہوگیا تھا اور جواب میں وہ صرف "ہوں" ہی کہہ سکا۔ کیا کہتا؟ سوائے ایک گلاس پانی کے اس کے حلق سے ایک کھیل تک نہیں اتری تھی۔





٭ - - - ٭ - - - ٭



پورا دن چل چل کر وہ تھک چکا تھا۔ آگ برساتے سورج نے پیاس کا احساس مزید بڑھا دیا تھا۔ روزہ کھلنے میں تھوڑی ہی دیر رہتی تھی عبداللہ کچھ دیر سستانے کو اپنی ریڑھی ایک بوگن ویلیا کے درخت کے قریب کھڑی کرکے خود درخت کے نیچے بیٹھ گیا تھا۔ مگر کچھ ہی دیر میں اس کا سب کچھ ختم ہوگیا۔ کچھ لوگوں نے اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے غریبوں کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔ مشتعل افراد نے پاس کھڑی کچھ گاڑیوں کوآگ لگائی اور پھر عبداللہ کی ریڑھی کو ایک جھٹکے سے الٹ دیا تھا۔ وہ ان کی منتیں ہی کرتا رہ گیا لیکن چند منٹوں میں اس کی ریڑھی بھی آگ کی لپیٹ میں تھی ۔وہ سمجھ نہیں سکا ملک کے حالات میں اس کاقصور کہاں تھا؟ ایک غریب، سبزی بیچنے والا کس طرح نقصان دہ ہوسکتا تھا؟روز بروز ہونے والی اسٹرائیکس سے تو وہ خود فاقوں تک پہنچ چکے تھے پھر وہ کیسے قصوروار ہوسکتاتھا؟ اسے کس بات کی سزا دی جارہی تھی؟ اور اس جیسے لوگوں کو نقصان پہنچاکر کیا ملک کے حالات سنورجائیں گے؟ اس زیادتی پر عبداللہ نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر شاید وہ انسانیت کے جذبے سے ہی عاری تھے۔ ریڑھی کی طرح اسے بھی ایک دھکے سے زمین پرگرادیا گیا۔ فضا میں گونجے والی گولیوں کی آواز نے عبداللہ کے جڑے ہاتھوں اور ہکلاتی زبان کو بھی خاموش کرادیا تھا۔



ایک دفعہ پھر ہر طرف خاموشی چھاگئی۔ طوفان سے پہلے کی خاموشی یا بعد کی؟ وہ سمجھ نہ سکا۔ ۔ ۔ اس کے گرد بکھرے بوگن ویلیا کے گلابی پھول سرخ ہوتے جارہے تھے۔



"آج نہ جاؤ حالات بہت خراب ہیں۔" اس کے کانوں میں سکینہ کی آواز گونجی تھی ۔



"حالات تو ایسے ہی رہتے ہیں سکینہ گزارا کیسے ہوگا؟" پھر اپنی آواز۔



"ابا آج میرا جوڑا یاد سے لے آنا۔ کل عید ہے میں کیا پچھلی دفعہ کی طرح پرانے کپڑے پہنوں گی؟" دروازے سے نکلتے ہوئے زینو نے ناراضگی سے کہا تھا۔



"نہیں میری بیٹی اس بار نیا جوڑا پہنے گی۔ بس سو مت جانا میں اِن شاءاللہ ضرور لاؤں گا۔ جوڑا بھی اور چوڑیاں بھی۔" عبداللہ نے اس کے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا تھا۔ "وعدہ؟ اور مہندی بھی لانا" زینو نے مزید فرمائش کی تھی۔



اس نے بند ہوتی آنکھوں سے بند دروازوں سے جھانکتی روشنی کو دیکھنے کی کوشش کی۔ "جوڑا، چوڑیاں، مہندی۔ ۔ ۔ اس کے کانوں میں اب تک سکینہ اور زینب کی آوازیں گونج رہی تھیں مگر ارد گرد وہی خاموشی پھیلی تھی ۔ عبداللہ نے کرب سے آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش چھوڑ دی تھی شاید آج وہ زیادہ ہی تھک گیا تھا۔ اور بے آواز گلی کوچوں میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا۔

ختم شد



”بے آواز گلی کوچوں میں“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Rubab
12-10-2010, 10:36 PM
بہت عمدہ حرا سس۔

بہت اچھا اور حساس لکھا ہے آپ نے۔ غریبوں کی تکلیف اور مشکلات کو اجاگر کرتی ہوئی بہترین تحریر۔۔۔ معاشرے کے غصے کا شکار بنے ایک شخص کی دل کو چھوتی ہوئی کہانی۔

یہ پیرا گراف بہت اچھا لگا۔


کچھ لوگوں نے اپنے غصے کا اظہار کرنے کے لیے غریبوں کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔ مشتعل افراد نے پاس کھڑی کچھ گاڑیوں کوآگ لگائی اور پھر عبداللہ کی ریڑھی کو ایک جھٹکے سے الٹ دیا تھا۔ وہ ان کی منتیں ہی کرتا رہ گیا لیکن چند منٹوں میں اس کی ریڑھی بھی آگ کی لپیٹ میں تھی ۔وہ سمجھ نہیں سکا ملک کے حالات میں اس کاقصور کہاں تھا؟ ایک غریب، سبزی بیچنے والا کس طرح نقصان دہ ہوسکتا تھا؟روز بروز ہونے والی اسٹرائیکس سے تو وہ خود فاقوں تک پہنچ چکے تھے پھر وہ کیسے قصوروار ہوسکتاتھا؟ اسے کس بات کی سزا دی جارہی تھی؟ اور اس جیسے لوگوں کو نقصان پہنچاکر کیا ملک کے حالات سنورجائیں گے؟ اس زیادتی پر عبداللہ نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر شاید وہ انسانیت کے جذبے سے ہی عاری تھے۔ ریڑھی کی طرح اسے بھی ایک دھکے سے زمین پرگرادیا گیا۔ فضا میں گونجے والی گولیوں کی آواز نے عبداللہ کے جڑے ہاتھوں اور ہکلاتی زبان کو بھی خاموش کرادیا تھا۔

Samia Ali
13-10-2010, 12:22 AM
بہت اچھا لکھا حرا سس میں بہت افسردہ ہو گئی

مقروض
13-10-2010, 12:30 AM
مختصر مگر۔۔۔۔
ایسی تحریر کہ جو آپ کو ختم ہونے کہ بعد بھی جکڑے رکھے۔
بہت اچھا لکھا ہے۔

Sabih
13-10-2010, 12:49 AM
حرا سس
بہت اچھا افسانہ لکھا۔ ۔ ۔ بہت زبردست طریقے سے احساسات کو بیان کیا۔
اینڈ بھی بہت زبردست لگا۔ ۔

Zainab
13-10-2010, 01:07 AM
بہت اچھا لکھا حرا ، آپ کی تحریر مجھے ہمشہ اچھی لگتیں ہیں
افسردہ تھا پر سچ سے بہت قریب تھا

Durre Nayab
13-10-2010, 01:20 AM
مختصر مگر جامع ان دو صفحوں میں سارے احساسات بیان کردیئے۔ حرا سس مجھے آپ کی سب ہی تحریریں اچھی لگتی ہیں کیونکہ آپ انہیں دل سے لکھتی ہیں اور اپنے احساسات بہت خوبصورت طریقے سے لفظوں میں ڈھالتی ہیں۔
آخری پیرا بہت اچھا لگا۔

رفعت
13-10-2010, 04:33 AM
حرا بہت اچھا لکھا آپ نے
کاش ان احساسات کا ان کے دلوں پر بھی اثر ہو جو یہ سب ظلم کرتے ہیں

Smiling Eyes
13-10-2010, 04:51 AM
السلام علیکم ۔۔

ہمم حرا سس بہت ہی حساس موضوع پر قلم اٹھایا۔۔۔بہت اچھا لکھا ہے۔۔۔۔ اداس ۔۔۔۔ لیکن آج کا تلخ سچ۔۔۔ !

اس نے بند ہوتی آنکھوں سے بند دروازوں سے جھانکتی روشنی کو دیکھنے کی کوشش کی۔ "جوڑا، چوڑیاں، مہندی۔ ۔ ۔ اس کے کانوں میں اب تک سکینہ اور زینب کی آوازیں گونج رہی تھیں مگر ارد گرد وہی خاموشی پھیلی تھی ۔ عبداللہ نے کرب سے آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش چھوڑ دی تھی شاید آج وہ زیادہ ہی تھک گیا تھا۔ اور بے آواز گلی کوچوں میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا۔

Fozan
13-10-2010, 04:58 AM
حرا آپ کا افسانہ سادہ اتنا کہ اپنی دل کی آواز لگا۔۔۔۔پر اثر اتنا کہ سوچا کہ میں نے کیوں نہ ایسا کچھ لکھا۔۔۔۔!

بہت آسانی سے آپ حالات کو آئینے کی طرح سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔۔۔۔۔ہر قلم میں اتنی جان نہیں ہوتی کہ وہ عام بندے کے درد کو اتنے کم الفاظ میں سمو سکے۔۔۔۔۔بہت عمدہ!

Nida Sulaiman
13-10-2010, 05:37 AM
بہت عمدہ۔ بہت بہترین انداز سے ایک تلخ سچ کو الفاظ کا روپ دیا ہے۔ آپ کی تحریر دل کو چھو گئی۔

روشنی
13-10-2010, 06:30 AM
بہت اچھا لکھا حرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معاشرے کی بےحسی اور ایک غریب کی بے بسی کی سچی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکھتی رہئے ۔۔۔۔۔۔

Trueman
13-10-2010, 07:14 AM
آپی جی بہت زبردست اور بہت "سچا" لکھا ۔ ۔ ۔سوچ کا ایک نیا در وا کرتی تحریر بہت ہی پختہ اور "ہماری سچائی " پر مبنی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

Parishay
13-10-2010, 11:58 AM
زبردست۔ حرا سس معاشرے کی تلخیوں کو بہت اچھے طریقے سے بیان کیا ہے۔ ماشااللہ

Kainat
13-10-2010, 12:39 PM
بہت اچھے سے حرا آپ نے وہ سب کچھ بیان کیا جو مجبوری، بےبسی اور بےکسی کے احساسات سے عبارت ہے۔ مگر یہ بھی زندگی کا ایک پہلو ہے۔ تحریر پڑھ کر دل افسردہ ہوا۔

جیا آپی
13-10-2010, 04:00 PM
مجھے اچھا لگا،بس سیڈ تھا۔ اور حقیقت سے قریب

Hira Qureshi
13-10-2010, 07:02 PM
بہت عمدہ حرا سس۔

بہت اچھا اور حساس لکھا ہے آپ نے۔ غریبوں کی تکلیف اور مشکلات کو اجاگر کرتی ہوئی بہترین تحریر۔۔۔ معاشرے کے غصے کا شکار بنے ایک شخص کی دل کو چھوتی ہوئی کہانی۔

یہ پیرا گراف بہت اچھا لگا۔
بہت شکریہ سمارا۔


بہت اچھا لکھا حرا سس میں بہت افسردہ ہو گئی
ارے افسردہ ہوگئیں سوری بھئی ~۔ اب آپ کو خوش کرنے کا بندوبست بھی کرنا پڑے گا۔
شکریہ۔


مختصر مگر۔۔۔۔
ایسی تحریر کہ جو آپ کو ختم ہونے کہ بعد بھی جکڑے رکھے۔
بہت اچھا لکھا ہے۔
پسند کرنے کا بہت شکریہ بھائی۔

Hira Qureshi
13-10-2010, 07:08 PM
حرا سس
بہت اچھا افسانہ لکھا۔ ۔ ۔ بہت زبردست طریقے سے احساسات کو بیان کیا۔
اینڈ بھی بہت زبردست لگا۔ ۔
شکریہ


بہت اچھا لکھا حرا ، آپ کی تحریر مجھے ہمشہ اچھی لگتیں ہیں
افسردہ تھا پر سچ سے بہت قریب تھا
اور مجھے آپ کے تبصرے کا ہمیشہ انتظار رہتا ہے۔ پسند کرنے کا بہت شکریہ زینب۔


مختصر مگر جامع ان دو صفحوں میں سارے احساسات بیان کردیئے۔ حرا سس مجھے آپ کی سب ہی تحریریں اچھی لگتی ہیں کیونکہ آپ انہیں دل سے لکھتی ہیں اور اپنے احساسات بہت خوبصورت طریقے سے لفظوں میں ڈھالتی ہیں۔
آخری پیرا بہت اچھا لگا۔
بہت شکریہ نایاب۔ بس کوشش کرتی ہوں کچھ ڈھنگ کا لکھ لوں۔ باقی کریڈٹ رائٹرز سوسائٹی کو جاتا ہے۔


حرا بہت اچھا لکھا آپ نے
کاش ان احساسات کا ان کے دلوں پر بھی اثر ہو جو یہ سب ظلم کرتے ہیں

اگر ایسا ہوجائے تب نا۔ ۔ ۔ ظلم کرنے والوں کے دل پر اتنی آسانی سے اثر نہیں ہوتا۔
پسند کرنے کا شکریہ۔


السلام علیکم ۔۔

ہمم حرا سس بہت ہی حساس موضوع پر قلم اٹھایا۔۔۔بہت اچھا لکھا ہے۔۔۔۔ اداس ۔۔۔۔ لیکن آج کا تلخ سچ۔۔۔ !
وعلیکم السلام
شکریہ جی۔


حرا آپ کا افسانہ سادہ اتنا کہ اپنی دل کی آواز لگا۔۔۔۔پر اثر اتنا کہ سوچا کہ میں نے کیوں نہ ایسا کچھ لکھا۔۔۔۔!

بہت آسانی سے آپ حالات کو آئینے کی طرح سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔۔۔۔۔ہر قلم میں اتنی جان نہیں ہوتی کہ وہ عام بندے کے درد کو اتنے کم الفاظ میں سمو سکے۔۔۔۔۔بہت عمدہ!
آپ نے ایسا اس لیے نہیں لکھا کہ آپ اس سے بہتر لکھ سکتی ہیں ;)۔
آپ کا تبصرہ میں پرنٹ کرکے رکھ لیتی ہوں بار بار پڑھ لوں گی ;)۔ حوصلہ افزائی کا شکریہ۔

Hira Qureshi
13-10-2010, 07:12 PM
بہت عمدہ۔ بہت بہترین انداز سے ایک تلخ سچ کو الفاظ کا روپ دیا ہے۔ آپ کی تحریر دل کو چھو گئی۔

شکریہ سلیمان۔


بہت اچھا لکھا حرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معاشرے کی بےحسی اور ایک غریب کی بے بسی کی سچی تصویر۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکھتی رہئے ۔۔۔۔۔۔
پسند کرنے کا شکریہ روشنی سس۔


آپی جی بہت زبردست اور بہت "سچا" لکھا ۔ ۔ ۔سوچ کا ایک نیا در وا کرتی تحریر بہت ہی پختہ اور "ہماری سچائی " پر مبنی تھی ۔ ۔ ۔ ۔

بہت شکریہ۔




زبردست۔ حرا سس معاشرے کی تلخیوں کو بہت اچھے طریقے سے بیان کیا ہے۔ ماشااللہ

بہت شکریہ پریشے۔


بہت اچھے سے حرا آپ نے وہ سب کچھ بیان کیا جو مجبوری، بےبسی اور بےکسی کے احساسات سے عبارت ہے۔ مگر یہ بھی زندگی کا ایک پہلو ہے۔ تحریر پڑھ کر دل افسردہ ہوا۔
شکریہ کائنات۔ اب آپ ایک اور افسانہ لکھ کر سب افسردہ لوگوں کا موڈ اچھا کریں۔ میں انتظار کروں گی۔


مجھے اچھا لگا،بس سیڈ تھا۔ اور حقیقت سے قریب
اوہ میں نے تو سب کو "سیڈ" کردیا۔ ~

پسند کرنے کا شکریہ۔

کوثر بیگ
13-10-2010, 07:31 PM
حرا بہن پہلے بھی میں آپ کے افسانے پڑھی ہوں آپ ہمیشہ اپنے افسانے کا مرکزی کردار عام اور غریب کو رکھتی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بہت مہربان رحمد ل شخضیت ہیں ۔ اور آپ کی کہانی میں غور کرنے اور انسانیت جگانےکی دعوت بھی رہتی ہے ۔ بہت اچھی رائیڑ ہیں آپ ماشاء اللہ

بنت احمد
13-10-2010, 08:45 PM
بہت مختصر مگر بہت اہم پہلو دکھاتی تحریر

Aqsa
13-10-2010, 09:31 PM
بہت اچھی تحریر ہے حرا آپکی۔ گلی گلی بکھرے اس سچ سے آنکھیں چرائے ہر شخص ہر روز زندہ ہے۔ آپ نے بہت سادگی اور دوٹوک انداز میں ان کلیشے بن جانے والی حقیقتوں میں سے ایک کو دوبارہ سامنے رکھ دیا ہے۔ ہمارے انہی موضوعات پر بار بار لکھتے رہنے سے شائد کسی روز بے حسی کا وہ خول چٹخ جائے جو زندگی ہمارے گرد بن چکی ہے۔ آپ کی مزید تحاریر کا انتظار رہے گا۔

Meem
14-10-2010, 06:42 PM
عمدہ مگر متاثر کن تحریر۔

اسماء
14-10-2010, 07:31 PM
:(:(
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

NaimaAsif
14-10-2010, 10:06 PM
بہت تلخ حقیقت کو کہانی کی صورت دینا اور ایسے دینا کا سب جذبات کا مکمل اظہار ہو بہت کمال ہے حرا سس۔ واقعی ایک بہت خوبصورت افسانہ تھا۔ افسوس ناک درد ناک اینڈ مگر حقیقت۔ کیپ رائٹنگ۔

Mohsina
14-10-2010, 10:10 PM
بہت مختصر اور بے حد عمدہ۔ ۔مگر افسردہ۔ ۔ ۔

HJaved
17-10-2010, 03:44 AM
مختصر مگر پر اثر تحریر ہے۔ لکھتی رہیں۔

Noor-ul-Ain Sahira
17-10-2010, 04:18 AM
حرا ڈئیر
بہت حقیقت سے قریب لکھا اور بہت پیارے لفظوں کے ساتھ لکھا ۔۔۔سیدھا دل میں اترنے والاافسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچا اور دل کو اداس کرنے والا۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے اسکا دکھ دل میں اتر گیا ہے:(۔

Wish
18-10-2010, 11:48 PM
بہت خوب حرا۔ ۔ ۔
اتنے چھوٹے سے افسانے میں ہمارے معاشرے کے سامنے آئینہ رکھ دیا۔ ۔
ویل ڈن۔ لیکن کاش ایسے لوگوں کے دلوں تک بھی غریبوں کا درد پہنچا کرے۔ آمین
بہت اداس اور مختصر افسانہ۔
تھینکس

Ahmed Lone
19-10-2010, 04:59 AM
اس دکھی افسانے کے لیے بہت بہت شکریہ

:(

معزرت اگر برا لگا ہو تو

دکھی افسانے پڑھ کر سب سے پہلے جو بات دماغ میں آتی ہے وہ یہی کہ اتنے دکھ؟

Hira Qureshi
19-10-2010, 07:34 PM
حرا بہن پہلے بھی میں آپ کے افسانے پڑھی ہوں آپ ہمیشہ اپنے افسانے کا مرکزی کردار عام اور غریب کو رکھتی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بہت مہربان رحمد ل شخضیت ہیں ۔ اور آپ کی کہانی میں غور کرنے اور انسانیت جگانےکی دعوت بھی رہتی ہے ۔ بہت اچھی رائیڑ ہیں آپ ماشاء اللہ
شکریہ بہنا۔ بس معمولی سی کوشش ہے شاید کسی کے دل پر اثر کرجائے۔


بہت مختصر مگر بہت اہم پہلو دکھاتی تحریر
شکریہ بنت احمد۔

بہت اچھی تحریر ہے حرا آپکی۔ گلی گلی بکھرے اس سچ سے آنکھیں چرائے ہر شخص ہر روز زندہ ہے۔ آپ نے بہت سادگی اور دوٹوک انداز میں ان کلیشے بن جانے والی حقیقتوں میں سے ایک کو دوبارہ سامنے رکھ دیا ہے۔ ہمارے انہی موضوعات پر بار بار لکھتے رہنے سے شائد کسی روز بے حسی کا وہ خول چٹخ جائے جو زندگی ہمارے گرد بن چکی ہے۔ آپ کی مزید تحاریر کا انتظار رہے گا۔
شکریہ رافعہ۔ جی شاید۔ ۔ ۔ امید پہ دنیا قائم ہے۔
:)

عمدہ مگر متاثر کن تحریر۔

شکریہ مونا۔


:(:(
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
~

بہت تلخ حقیقت کو کہانی کی صورت دینا اور ایسے دینا کا سب جذبات کا مکمل اظہار ہو بہت کمال ہے حرا سس۔ واقعی ایک بہت خوبصورت افسانہ تھا۔ افسوس ناک درد ناک اینڈ مگر حقیقت۔ کیپ رائٹنگ۔
آپ نے پڑھا اور تبصرہ بھی کیا، بہت شکریہ ناعمہ۔


بہت مختصر اور بے حد عمدہ۔ ۔مگر افسردہ۔ ۔ ۔
شکریہ محسنہ۔


مختصر مگر پر اثر تحریر ہے۔ لکھتی رہیں۔
بہت شکریہ ہما۔


حرا ڈئیر
بہت حقیقت سے قریب لکھا اور بہت پیارے لفظوں کے ساتھ لکھا ۔۔۔سیدھا دل میں اترنے والاافسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچا اور دل کو اداس کرنے والا۔۔۔۔۔۔۔ لگتا ہے اسکا دکھ دل میں اتر گیا ہے۔
پسند کرنے کا شکریہ ساحرہ اور افسردہ کردینے پر معذرت۔


بہت خوب حرا۔ ۔ ۔
اتنے چھوٹے سے افسانے میں ہمارے معاشرے کے سامنے آئینہ رکھ دیا۔ ۔
ویل ڈن۔ لیکن کاش ایسے لوگوں کے دلوں تک بھی غریبوں کا درد پہنچا کرے۔ آمین
بہت اداس اور مختصر افسانہ۔
تھینکس

آمین۔
پسند کرنے کا شکریہ وش۔


اس دکھی افسانے کے لیے بہت بہت شکریہ

:(

معزرت اگر برا لگا ہو تو

دکھی افسانے پڑھ کر سب سے پہلے جو بات دماغ میں آتی ہے وہ یہی کہ اتنے دکھ؟

معذرت کی تو کوئی بات نہیں۔ آپ نے وقت نکال کر پڑھا اس کے لیے شکریہ۔

Hina Rizwan
23-10-2010, 09:52 AM
بہت اچھا لکھا ہے حرا سس
بہت تلخ حقیقت

ابھی میں نے روشنی سس کا افسانہ پڑھا اور اب یہ آپ کا
میں رونے لگی ہوں:(:(

Hira Qureshi
26-10-2010, 08:39 PM
بہت اچھا لکھا ہے حرا سس
بہت تلخ حقیقت

ابھی میں نے روشنی سس کا افسانہ پڑھا اور اب یہ آپ کا
میں رونے لگی ہوں:(:(
روئیں تو نہیں ~ اب میں آئندہ ایسا کچھ نہیں لکھوں گی ۔ ۔ ۔ سب کو رلاکر کتنا گناہ ملتا ہوگا۔

پسند کرنے کا شکریہ حنا۔