PDA

View Full Version : پھر چٹھی آئی ہے از رمیصا



Aqsa
10-10-2010, 10:14 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/AFSANE/P1.gif


http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/AFSANE/P2.gif


http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/AFSANE/P3.gif


http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/AFSANE/P4.gif


**************************************




’’پھر چٹھی آئی ہے‘‘



کالا، نیلا ، پیلا ، سبز، سرخ، گلابی، سفید۔۔۔!!

کتنے ڈھیروں ڈھیر لفافے اور ہر لفافے میں ایک چٹھی۔۔۔!!

کس کے نام۔۔۔؟

ہر چٹھی کے اوپر لکھا ہے میرے نام، عجیب بات ہے یا تو یہ لکھنے والے نے خود کو لکھی ہے یا پھر یہ پڑھنے والے کے اپنے لیے ہے۔

ہاں تو میرے نام کے نیچے لکھا ہے چٹھی کا عنوان۔ چٹھی کے عنوان بھی ہوتے ہیں؟ عجیب و غریب سی چٹھیاں ہیں۔ چلیں پڑھتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ گلابی لفافے والی پڑھتے ہیں۔



’’میرے نام۔۔۔!!‘‘

’’مہکتی خوشبو، مسکراتی شام۔۔۔!!‘‘

’’باغ میں چاروں جانب پھول کھلے ہیں، یوں لگتا ہے بہار اپنے جوبن پہ ہے۔ طرح طرح کے پھول اٹھلاتے لہراتے۔

پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار

اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن۔

ہوا چلتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی خوبصورت سی طرح دار کنیز اک ادا سے مسکرائی ہو۔ نئے نئے نکلے ، چھوٹے چھوٹے سے سبز پتے ۔ آنکھوں کو تراوٹ بخشتے، خوشیوں اور سب اچھا کا پیغام دیتے۔ دل کو کامیابی، سرشاری، فتح یابی کا احساس دلاتے۔ مجھے چاہیے میں قدم احتیاط سے رکھوں۔ یہ خوبصورت پھول ، یہ خوبصورت پتے کہیں میرے پائوں کے نیچے آ کر مسلے نہ جائیں۔ بہت احتیاط سے ان سرسبز درختوں کی چھائوں میں اک پر سکون نیند سو جائوں۔ ‘‘





اور یہ چٹھی تو ختم ہو گئی۔ بغیر کسی لکھنے والے کے نام کے۔ اچھا اگلی چٹھی دیکھتے ہیں۔ شاید ا س میں ہو نام۔۔۔!! امم۔۔۔یہ پیلا لفافہ۔



’’میرے نام۔۔۔!!‘‘

’’ٹھہری خوشبو، خاموش شام۔۔۔!!‘‘

’’باغ میں ابھی بھی پھول کھلے ہیں، اسی طرح ہر پودا، ہر پتا، ہر پھول، ہر ڈالی۔ ویسے ہی رنگوں میں سجے کھڑے ہیں۔ لیکن ہر رنگ ذرا خاموش سا ہے۔ تھوڑا چپ چپ۔ یوں جیسے ان کی شوخی تھوڑی ماند پڑ گئی ہو۔ کسی نے انکے چہروں پہ زردی مل دی ہو۔ کہیں یہ میری غلطی تو نہیں ہے؟ لیکن میری کیسے ہو سکتی ہے۔ میں نے تو بس ہلکا سا آرام کیا ہے۔ کہیں اس باغ کو پانی کی ضرورت تو نہیں؟ لیکن نہیں، میرے آ نے سے پہلے بھی تو اسے پانی مل رہا تھا۔ یہ میری غلطی نہیں ہے۔ باغ ہرا ہے ۔ یہ میرا وہم ہے کہ باغ اداس ہے۔ بھلا باغ کیسے اداس ہو سکتا ہے۔؟‘‘



اور چٹھی ختم۔۔۔!! ایک دفعہ پھر بھیجنے والے کے نام کے بغیر۔ خیر اگلی چٹھی، یہ سرخ والی۔



’’میرے نام۔۔۔!! ‘‘

’’بلا خوشبو، اداس شام۔۔۔!!‘‘

’’یہ کیا ہو گیا ہے باغ کو۔۔۔؟ سارے پتے ، سارے پھول، سارے پودے مرجھا گئے ہیں۔ یوں ادھر ادھر گرے ہوئے ہیں جیسے کسی نے انکے خوبصورت رنگوں کو چھین کر انہیں قتل کر دیا ہو۔ کتنی سوگواری اور خاموشی چھائی ہے ہر پھول پہ ، ہر پتے پہ۔ باغ کی ہریالی کا نام و نشان نہیں ہے۔ آخر باغ کے نگران مالی کہاں ہیں۔؟ اتنے خوبصورت باغ کو یوں چھوڑ دیا ہے۔؟ یہ جگہ جگہ ٹوٹے بکھرے اداس پودے۔ میں تو ذمہ دار نہیں ہوں انکے لیے۔۔۔!! میری تو غلطی نہیں ہے۔۔۔!! تو مجھے کیوں یہ احساس ہو رہا ہے عجیب سا؟۔ ۔جیسے ۔۔جیسے ۔۔میری غلطی ہو۔۔۔!!

جیسے یہ میرا قصور ہو۔ نہیں۔۔۔!!میں نے تو سکون کی تلاش میں اس باغ کو اپنایا ہے ۔ آرا م کے لیے۔ اتنی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ ابھی باغبان آ جائیں گے۔ وہ باغ کو دوبارہ سے پانی دیں گے۔ اسے سورج کی دھوپ سے بچائیں گے اور باغ پھر ہرا بھرا ہو جائے گا۔ ہاں ایسا ہی ہو گا۔ مجھے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے آرام کرنا چاہیے۔ یہ اتنی پریشانی والی بات نہیں ہے۔‘‘



اور یہ چٹھی بھی ختم۔ پچھلی چٹھیوں سی ذرا لمبی تھی لیکن بغیر کسی لکھاری کے نام کے۔ اور اب یہ سیاہ چٹھی۔۔۔!!



’’میرے نام۔۔۔!!‘‘

’’گمشدہ خوشبو، کالی شام۔۔۔!!‘‘

باغ سار تباہ ہو گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہاں باقاعدہ کوئی جنگ ہوئی ہو۔ سورج، قحط، خشک سالی ایک طرف ہوں اور باغ ایک طرف۔ اور بالآخر باغ ہار گیا ہو۔ وہ زمین جو سبز قالین سے ڈھکی رہتی تھی اسے سورج نے برہنہ کر دیا ہے۔ اسکا قالین جل گیا ہے اور خشک سالی نے اپنے نشتر سے اسے کاٹ دیا ہے۔ اب ان حسین سبز تختوں کی جگہ کٹی پھٹی، بے لباس اجڑی زمین ہے۔ غم کی شدت سے جسکا دل پھٹ چکا ہے ۔ آنسو بہ چکے ہیں اتنے کہ اب اس پہ کسی ریگستان کا گمان ہوتا ہے۔ کسی صحرا کی سی صورت لیے وہ اداس ، اجڑی دو شیزہ۔۔۔ جسکے نگہبانوں نے اسکی حفاظت کیے بنائ اسے چھوڑ دیا۔ اور درخت اور پودے ، اور پتے اور وہ سبز ٹہنیاں۔۔۔وہ کنیزوں کی سی ادائیں لیے سبزہ، کچھ بھی تو نہیں بچا۔ اب تو سوکھے پیڑ، جلے پودے، اجڑی ٹہنیاں بکھری پتیاں اور مسلا ہوا سبزہ ہی ہے چار سو۔

اور آسمان ۔۔۔!!آسمان بھی دھوئیں سے سیاہ ہے یوں جیسے یہاں ابھی ابھی آگ لگی ہو۔ اور اس آگ کا دھواں آ سمان پہ اکٹھا ہو گیا ہو۔

آہ۔۔۔بے چارہ حسین ۔۔ خوبصورت باغ۔۔۔اپنے باغبانوں کا انتظار ہی کرتا رہ گیا۔ کتنی آفتیں اس اکیلے پہ ٹوٹ پڑیں جب اسے بچانے والا بھی کوئی نہ تھا۔ کاش ۔۔اے کاش۔۔۔اپنے آرام میں سے تھوڑا وقت نکال کر میں نے اس سبزے کو بچانے کی کوشش کی ہوتی۔ کاش ۔۔۔اے کاش باغبانوں کا انتطار کرنے کی بجائے میں نے خود کچھ کیا ہوتا۔ اے کاش۔۔۔!!‘‘



آہ۔۔۔کتنی اداس چٹھی ہے۔ کتنا خوبصورت باغ اجڑ گیا۔۔۔چہ،چہ،چہ۔

ارے یہ ایک اور چٹھی بھی ہے۔ نیلے رنگ کی۔ بھلا اب کیا بچ گیا ہے لکھنے لائق۔؟



’’میرے نام۔۔۔!!‘‘

’’نویدِ خوشبو، نئی شام۔۔۔!!‘‘

’’کتنی مایوسی پھیلی ہے چار سو۔ اداسی، وحشت، سناٹا۔ لیکن آج کچھ نیا ہے۔ کیا نیا ہے بھلا؟ اک احساس ہے۔ اتنے دن گزر چکنے کے باوجود کوئی اس باغ کی خبر لینے کیوں نہیں آیا؟کہیں ایسا تو نہیں کہ اسکا کوئی باغبان ہی نہ ہو۔۔۔؟ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ بھلا باغ ، باغبان کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے۔ کہیں۔۔۔کہیں۔۔۔اسکی ذمہ داری میری تو نہیں تھی؟ کہیں اسکی حفاظت مجھے تو نہیں کرنا تھی؟ کہیں یہ میرا باغ تو نہین تھا؟

شاید۔۔۔شاید ایسا ہی ہو۔ لیکن افسوس ۔۔۔میں نے اپنے ہاتھوں اپنا باغ گنوا دیا۔ اب کیا ہو سکتا ہے۔۔۔؟

نہیں، شاید کچھ ہو سکتا ہے۔ یہ میرا باغ ہے۔ مجھے کوشش کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے اس اجڑی زمین کے نیچے زندگی منتظر ہو کہ اسے دریافت کروں۔۔۔؟ ہو سکتا ہے سبزہ پانی کی چند بوندوں کا منتظر ہو۔۔۔!!ہو سکتا ہے درخت ، پودے ، پھول ، پتے میرے ہی انتظار میں ہوں کہ میں آئوں ، اور انکی واپسی کی مشکل راہیں آ سان کروں۔۔۔؟

پر شروع کہاں سے کروں۔۔۔؟میرے ارد گرد تو سار اباغ اجڑ گیا ہے؟ پہلی اینٹ کہاں رکھوں؟ پہلا قدم کس طرف اٹھائوں؟

وہاں ۔۔۔وہاں جہاں میں نے آرام میں وقت گنوا دیا۔ہاں میں اس جگہ کے ارد گرد پھولوں سے ، پتوں سے ، ٹہنیوں سے بخوبی واقف ہوں۔ اس زمین کی ضرورتوں سے ، اس جگہ کی مشکلوں سے۔ مجھے وہیں سے شروع کرنا چاہیے۔ وہیں سے شروع کر کے باقی باغ کو بھی پہلے جیسا کرنا ممکن ہے۔ آہ۔۔۔یہ ہوائوں میں کیا ہے؟

شاید خوشبو۔۔۔پھولوںکی خوشبو۔۔۔جو چند قدم کے فاصلے پہ کھڑے ہیں۔ ذرا سی محنت کے منتظر۔ میرے باغ کے وہی رنگا رنگ پھول۔۔۔میرے باغ کا وہی سبزہ۔۔۔میرا باغ۔۔۔

اور میں اس باغ کے لیے باغبان۔



باغبان۔۔۔!!


”پھر چٹھی آئی ہے“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Sabih
11-10-2010, 02:39 AM
واہ۔ ۔ ۔ ۔ بہت عمدہ افسانہ لکھا رمیصا سس
چٹھیوں کے رنگ اور باغ کی صورتحال کو بہت عمدگی سے بیان کیا۔
اور میرے نام والا پوائنٹ بھی بہت اچھا لگا۔

Noor-ul-Ain Sahira
11-10-2010, 03:21 AM
کیوٹ۔۔۔۔ رمیصا ڈئیر۔۔۔
بہت اچھا علامتی ٹائپ افسانہ ہے اور ساری فیلینگز کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
ویسے میرا خیال ہے تم ایک چھوٹی سی پیاری سی بچی ہو مگر جانے کیوں افسانہ پڑھکر لگتا ہےکہ ۔۔۔ ہم سب کی نانی اماں ہو~۔ بہت پختہ خیالات ہیں بزرگوں جیسے اور بہت اچھے سے لکھتی بھی ہو۔ خوش رہو

Dr.Anam
11-10-2010, 03:40 AM
ساحرہ سس ۔۔ چھوٹی بھی ہے اور کیوٹ بھی مگر قد میں بھت لمبی ہے;)

اور لکھنے لکھانے میں ماشاءاللہ آپکے سامنے ہے:)

ویل ڈن رمیصہ

روشنی
11-10-2010, 05:33 AM
بہت اچھا لکھا رمیصا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باغبانی سے بھی شغف رکھتی ہیں ۔۔۔۔موسموں،رنگوں،ہریالی پہ اتنی سوچ بچار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واقعی کوئی باریک بین مصنف ہی کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکھتی رہئے۔۔۔۔۔۔۔

fkhalil
11-10-2010, 08:04 AM
WELL DONE
WELL SAID AND WELL COMPOSED

Parishay
11-10-2010, 11:28 AM
رمیصا سس رنگوں کے امتزاج کو بہت اچھا پیان کیا ہے۔ ماشااللہ۔

Kainat
11-10-2010, 11:30 AM
ویلڈن رمیصا،
بہت ہی خوبصورت افسانہ، ایک عمدہ تحریر

اسی سے آپ کی حساسیت، دور بینی اور زور قلم کا پتہ چلتا ہے۔
محبت کا ایک روپ یہ بھی ہوتا ہے۔ اور جسے سمجھنے کے لیے پڑھنے والے کا بھی اتنا ہی حساس ہونا ضروری ہے۔ تبھی تحریر دل کو چھو پاتی ہے۔
بس میں امید کر رہی تھی کہ ڈیزائننگ میں بھی اک باغ کا منظر ہوتا اور مختلف رنگوں کے پھول کھلے نظر آتے تو افسانے کی خوبصورتی کو اور بھی بڑھا دیتے۔:)
بہر حال یہ تو ایک ثانوی، ظاہری سی بات ہے۔ آلویزکیپ گڈ ورک،

Ifzaan
11-10-2010, 04:17 PM
aoa achi story hi wish you good luck:)

جیا آپی
11-10-2010, 04:19 PM
بہت ہی اعلیٰ پائے کا لکھا پے

Sabih
11-10-2010, 04:24 PM
بہت ہی اعلیٰ پائے کا لکھا پے
نہ جانے کیوں آپ کی پوسٹ پڑھ کر فضل حق کے سری پائے یاد آ گئے۔ ۔ ۔::)::)

مقروض
11-10-2010, 04:58 PM
بہت اچھا لکھا ہے


باغ کو علامت کے طور لینا بہت خوب اور پھر مختلف رنگ کی چھٹیوں

کے زریعے اپنے محسوسات، اپنے دکھ، کو بہت اچھے پیرائے میں بیاں کیا ہےاور آخری سیاہ چھٹی گو کہ اندازہ ہو

جاتا ہے کہ کچھ اور دکھ سمیٹے ہو گی مگر اس کا بیاں بھی بہت اچھا ہےکہ اس کہ آخر میں ایک اشارہ کہ شاید شاید۔۔۔

اور آخر میں امیددلاتی اور تنبیہ کرتی نیلے رنگ کی چھٹی بہت بہت خوب۔
خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔ ۔ ۔

Wish
11-10-2010, 05:17 PM
ویری نائس رمیصا۔ ۔ ۔

بہت اچھا افسانہ لکھ اہے تم نے۔ ۔ ۔ مختصر لیکن پر سوچ۔ ۔
اور پڑھنے کے بعد ایک تازگی و شگفتگی کا احساس ہونے لگ گیا۔ ۔ ۔ یوں لگ رہا ہے چار سو رنگ پھیلے ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ پھولوں کے رنگ، امید کے رنگ۔ ۔ ۔

کیپ رائٹنگ ڈیئر۔ ۔ ۔

KishTaj
11-10-2010, 05:46 PM
السلامُ علیکم
بہت بہت اچھا لکھا رمیصا سس آپ نے۔ ۔ یہ رنگین افسانہ مجھے بہتتت پسند آیا۔ ویری ویلڈن۔ ۔
اللہ آپکو کامیاب فرمائے۔ آمین۔۔ ثم آمین

Rubab
11-10-2010, 06:46 PM
بہت عمدہ رمیصہ!

آپ ان چند لکھنے والوں میں سے ہیں جن کے کام پر میں بہت اچھے کے علاوہ کمنٹ نہیں کر پاتی، لیکن یہ ٹرخاؤ کمنٹ نہیں، بلکہ آپ لکھتی ہی بہت اچھا ہیں۔ اس کا ثبوت آپ کا یہ افسانہ بھی ہے۔ علامتی انداز میں رنگ برنگی چھٹیوں کی صورت میں جس طرح آپ نے یہ افسانہ پیش کیا ہے وہ آپ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

لیکن اس بات سے میں بھی متفق ہوں کہ اتنی کلر فل تحریر کی ڈیزائننگ اتنی بلیک اینڈ وائٹ سی۔

Aqsa
11-10-2010, 11:53 PM
رمیصا بہت اچھا افسانہ ہے۔ علامتی خطوط اور ابتدائیہ جس طرح موسموں کو موجودہ حالات پر منطبق کرتا ہے وہ بہت ہی اچھوتا اور دل کو چھونے والا ہے۔ اور پھر آخر میں نئی امید ۔ ۔ یعنی بہار کی امید اور دعوت عمل ہی ان حالات کا صحیح پیغام ہو سکتا ہے۔ امید ہے اور اچھا پڑھنے کو ملے گا

NaimaAsif
12-10-2010, 12:38 AM
واہ بھئی یہ افسانہ تو اب پڑھنا ہوا۔ بہت اچھا افسانہ ہے رمیصا۔ گڈ ورک۔ مجھے امید سے بھرپور آخری چٹھی سب سے اچھی لگی۔ کیپ رائٹنگ۔:)

ڈیزائننگ کی وجہ سے افسانے کا جو تاثر ہونا چاہیے تھا وہ نہیں رہا اس کا بیک گراونڈ تو پھولوں والا ہونا چاہیے تھا یا کم از کم کلر فُل۔

Lubna Ali
12-10-2010, 12:46 AM
ویسے علامتی قسم کے افسانے میرے سر سے ہی گزر جاتے ہیں جیسا کہ اکثر سمارا کے ہوتے ہیں ۔۔۔لیکن شکر ہے شاید اب میں انہیں سمجھنے لگی ہوں ۔۔پتا نہیں کیوں رمیصہ تمہاری تحریرں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ تم کافی عرصے سے لکھتی رہی ہو۔۔لکھنے کے انداز میں کافی روانی ہے۔۔۔
کہانی ایک باغ کی مجھے پڑھ کر پہلا خیال اپنے ملک کا ہی آیا جن کے حالات اس چھٹی میں بیان کیے گئے اجڑے باغ کی طرح ہی ہو گئی ہیں۔۔اور صحیح کہا ہم ہی اس کے باغبان ہیں ہمیں ہی اس کو سنوارنا ہے۔۔
بہت خوب۔۔۔
خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔ ۔ ۔ لکھتی رہو ۔۔۔

Rubab
12-10-2010, 12:50 AM
ہاہاہہا۔۔۔۔ ایسے بے سر و پا افسانے پڑھوا کر آپ کی اتنی پریکٹس جو کروا دی ہے، اب بھی نا سمجھ آئی تو پھر تو ہماری ٹریننگ مشکوک ہو جائے گی۔

ویسے مذاق بر طرف، آپ ایسے ہی کہتی ہیں، آپ کے اکثر تبصرے مجھے حیران کرتے ہیں کافی گہرائی میں مطالعہ کرتی ہیں آپ۔ اب دیکھ لیں وہی سیبوں والی بات۔ ونک۔

رمیصا
12-10-2010, 12:53 AM
ویسے علامتی قسم کے افسانے میرے سر سے ہی گزر جاتے ہیں جیسا کہ اکثر سمارا کے ہوتے ہیں ۔۔۔لیکن شکر ہے شاید اب میں انہیں سمجھنے لگی ہوں ۔۔پتا نہیں کیوں رمیصہ تمہاری تحریرں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ تم کافی عرصے سے لکھتی رہی ہو۔۔لکھنے کے انداز میں کافی روانی ہے۔۔۔
کہانی ایک باغ کی مجھے پڑھ کر پہلا خیال اپنے ملک کا ہی آیا جن کے حالات اس چھٹی میں بیان کیے گئے اجڑے باغ کی طرح ہی ہو گئی ہیں۔۔اور صحیح کہا ہم ہی اس کے باغبان ہیں ہمیں ہی اس کو سنوارنا ہے۔۔
بہت خوب۔۔۔
خدا کرے زور قلم اور زیادہ۔ ۔ ۔ لکھتی رہو ۔۔۔





شکریہ لبنی آپی۔افسانے کو پڑھ کر ریڈر بات سمجھ لے،یہی تو چاہیے ہوتا ہے۔اور آپکے خیال کو اوپن راز رہنے دیتے ہیں۔

رمیصا
12-10-2010, 12:55 AM
ہاہاہہا۔۔۔۔ ایسے بے سر و پا افسانے پڑھوا کر آپ کی اتنی پریکٹس جو کروا دی ہے، اب بھی نا سمجھ آئی تو پھر تو ہماری ٹریننگ مشکوک ہو جائے گی۔

ویسے مذاق بر طرف، آپ ایسے ہی کہتی ہیں، آپ کے اکثر تبصرے مجھے حیران کرتے ہیں کافی گہرائی میں مطالعہ کرتی ہیں آپ۔ اب دیکھ لیں وہی سیبوں والی بات۔ ونک۔

وہی نا۔۔۔اب مجھے بھی سمجھ نہین آ رہی تھی کہ کیا کہوں۔میں آپکے ساتھ ہوں۔لبنی آپی یہ ہے صحیح والا ریپلائی۔۔۔ہاہاہا۔

Rubab
12-10-2010, 12:57 AM
وہی نا۔۔۔اب مجھے بھی سمجھ نہین آ رہی تھی کہ کیا کہوں۔میں آپکے ساتھ ہوں۔لبنی آپی یہ ہے صحیح والا ریپلائی۔۔۔ہاہاہا۔
ہاہاہاہا۔۔۔ تو آپ موجود ہیں، میں نے سوچا پتہ نہیں میزبان کہاں غائب ہیں، میں ہی ذرا کچھ جواب دے کر اپنا دل ہلکا کر لوں۔

رمیصا
12-10-2010, 12:57 AM
واہ بھئی یہ افسانہ تو اب پڑھنا ہوا۔ بہت اچھا افسانہ ہے رمیصا۔ گڈ ورک۔ مجھے امید سے بھرپور آخری چٹھی سب سے اچھی لگی۔ کیپ رائٹنگ۔:)

ڈیزائننگ کی وجہ سے افسانے کا جو تاثر ہونا چاہیے تھا وہ نہیں رہا اس کا بیک گراونڈ تو پھولوں والا ہونا چاہیے تھا یا کم از کم کلر فُل۔

ڈیزائنگ ۔۔۔۔بس یونہی ایسے کردی۔مجھے لگا سمپل سمپل سا رکھ لوں لیکن اب سب کے ریپلائز سے اندازہ ہو رہا ہے کہ کلر فل ہوتی تھوڑی۔بہت شکریہ پسند کرنے کا افسانہ۔

رمیصا
12-10-2010, 12:59 AM
رمیصا بہت اچھا افسانہ ہے۔ علامتی خطوط اور ابتدائیہ جس طرح موسموں کو موجودہ حالات پر منطبق کرتا ہے وہ بہت ہی اچھوتا اور دل کو چھونے والا ہے۔ اور پھر آخر میں نئی امید ۔ ۔ یعنی بہار کی امید اور دعوت عمل ہی ان حالات کا صحیح پیغام ہو سکتا ہے۔ امید ہے اور اچھا پڑھنے کو ملے گا



جی ضرور ۔۔۔۔۔انشاءاللہ۔بہت شکریہ ریپلائی کا۔

رمیصا
12-10-2010, 01:02 AM
ہاہاہاہا۔۔۔ تو آپ موجود ہیں، میں نے سوچا پتہ نہیں میزبان کہاں غائب ہیں، میں ہی ذرا کچھ جواب دے کر اپنا دل ہلکا کر لوں۔

میزبان ہونا آسان کام تھوڑا ہے۔۔۔آپکو تو تجربہ ہو گیا ہے اور مجھے آج۔

بنت احمد
12-10-2010, 01:02 AM
ویری نائس رمیصا سس،

مجھے علامتی افسانے اتنے پسند نہیں ہیں، سر پر بوجھ پڑتا ہے۔ مگر یہ اچھا ہے۔

ڈیزائننگ کلر کومبینیشن مجھے تو بہت اچھا لگا۔ ہر پیج میں سیم سٹائل مگر کلر ڈفرنٹ ہوتا تو بھی اچھا لگتا۔ اور افسانے کے مطابق بھی ہوجاتا۔

Lubna Ali
12-10-2010, 01:04 AM
ہاہاہہا۔۔۔۔ ایسے بے سر و پا افسانے پڑھوا کر آپ کی اتنی پریکٹس جو کروا دی ہے، اب بھی نا سمجھ آئی تو پھر تو ہماری ٹریننگ مشکوک ہو جائے گی۔

ویسے مذاق بر طرف، آپ ایسے ہی کہتی ہیں، آپ کے اکثر تبصرے مجھے حیران کرتے ہیں کافی گہرائی میں مطالعہ کرتی ہیں آپ۔ اب دیکھ لیں وہی سیبوں والی بات۔ ونک۔


ہک ہاااااااااااااااااا۔۔۔۔۔ا ب میں کیا جواب میں تعریف کروں ۔"نہیں نہیں سمارا آپ کے افسانے بے سر و پیر نہیں بہت اچھے ہوتے ہیں جو قاری کو مصحور کر دیتے ہیں۔۔۔"

ہائے کن سیبوں کا ذکر کر دتا ہے ۔۔۔بس آنے دو اس افسانے کو دیکھتے ہیں کتنوں کو وہ سیب کا درخت پریشان کرتا ہے۔۔۔
ویسے رمیصا نے ڈیزائننگ خوب کی ہے کسی لطیفے سے کم نہیں لگا تھا مجھے وہ ڈیزائین۔۔۔











شکریہ لبنی آپی۔افسانے کو پڑھ کر ریڈر بات سمجھ لے،یہی تو چاہیے ہوتا ہے۔اور آپکے خیال کو اوپن راز رہنے دیتے ہیں۔



اچھاااااااااااااااااااااا اااا۔۔۔۔۔ ویسے مجھے اپنے شک پر پورا یقین ہے۔۔۔



ہاہاہاہا۔۔۔ تو آپ موجود ہیں، میں نے سوچا پتہ نہیں میزبان کہاں غائب ہیں، میں ہی ذرا کچھ جواب دے کر اپنا دل ہلکا کر لوں۔

تعریف کر لی ہے سر کو ذرا اونچا کر کے دیکھ لینا ۔۔۔اب تو ٹھنڈ پے گئی ہوگی نا۔۔۔۔
ویسے مجھے انتظار رہے گا تمہاری طرف سے چٹپٹا مصالحے والا افسانہ پڑھنے کو۔۔۔۔ جس میں ہیروئین غریب ہو لیکن اس کی خوبصورتی سب کو حیران کر دینے والی ہو اور ہیرو دنیا کا سب سے امیر آدمی ہو۔۔

رمیصا
12-10-2010, 01:05 AM
ویری نائس رمیصا سس،

مجھے علامتی افسانے اتنے پسند نہیں ہیں، سر پر بوجھ پڑتا ہے۔ مگر یہ اچھا ہے۔

ڈیزائننگ کلر کومبینیشن مجھے تو بہت اچھا لگا۔ ہر پیج میں سیم سٹائل مگر کلر ڈفرنٹ ہوتا تو بھی اچھا لگتا۔ اور افسانے کے مطابق بھی ہوجاتا۔

بہت۔۔۔۔شکریہ بنت احمد۔آپکا ریپلائی بہت کم کم ہوتا ہے اس لیے اچھا لگا۔اور ڈیزائنگ پسندکرنےکے لیے بھی شکریہ۔

بنت احمد
12-10-2010, 01:08 AM
بہت۔۔۔۔شکریہ بنت احمد۔آپکا ریپلائی بہت کم کم ہوتا ہے اس لیے اچھا لگا۔اور ڈیزائنگ پسندکرنےکے لیے بھی شکریہ۔
دوسرے میمبرز بھی دیکھ لیں سب، قدر کھو دیتا ہے ہمیشہ ریپلائی کرنا

Lubna Ali
12-10-2010, 01:10 AM
دوسرے میمبرز بھی دیکھ لیں سب، قدر کھو دیتا ہے ہمیشہ ریپلائی کرنا

میں تو کبھی اپنی پوسٹ میں تمہارا تھینک دیکھ لوں تو خوشی کے مارے جھومتے جھومتے رہ جاتی ہوں۔۔تمہارے تھینکس بھِی تو بہت نایاب قسم کے ہوتے ہیں۔۔۔

ویسے یہ بات سب کو نہیں کہہ رہی سب جی بھر کر تھینکس کیا کریں۔۔۔سب کنجوسی کریں گے تو ہم جیسوں کو دل کون رکھے گا۔۔آئی مین شکریہ ٹیب سے بھی کافی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔۔۔

رمیصا
12-10-2010, 01:11 AM
ہک ہاااااااااااااااااا۔۔۔۔۔ا ب میں کیا جواب میں تعریف کروں ۔"نہیں نہیں سمارا آپ کے افسانے بے سر و پیر نہیں بہت اچھے ہوتے ہیں جو قاری کو مصحور کر دیتے ہیں۔۔۔"

ہائے کن سیبوں کا ذکر کر دتا ہے ۔۔۔بس آنے دو اس افسانے کو دیکھتے ہیں کتنوں کو وہ سیب کا درخت پریشان کرتا ہے۔۔۔
ویسے رمیصا نے ڈیزائننگ خوب کی ہے کسی لطیفے سے کم نہیں لگا تھا مجھے وہ ڈیزائین۔۔۔


صرف آپکو۔۔۔۔ہاہاہا۔
بہت مار پڑنے والی ہے ہاہاہا۔





اچھاااااااااااااااااااااا اااا۔۔۔۔۔ ویسے مجھے اپنے شک پر پورا یقین ہے۔۔۔


چلیں ایسے ہی صحیح۔




تعریف کر لی ہے سر کو ذرا اونچا کر کے دیکھ لینا ۔۔۔اب تو ٹھنڈ پے گئی ہوگی نا۔۔۔۔
ویسے مجھے انتظار رہے گا تمہاری طرف سے چٹپٹا مصالحے والا افسانہ پڑھنے کو۔۔۔۔ جس میں ہیروئین غریب ہو لیکن اس کی خوبصورتی سب کو حیران کر دینے والی ہو اور ہیرو دنیا کا سب سے امیر آدمی ہو۔۔





ہیں سمارا آپی سے ایسی امید۔۔۔۔؟

ہاہاہاہا۔۔۔ہاہاہا۔

رمیصا
12-10-2010, 01:15 AM
دوسرے میمبرز بھی دیکھ لیں سب، قدر کھو دیتا ہے ہمیشہ ریپلائی کرنا

صرف آپکے لیے کہا ہے کیونکہ آپکا تو تھینکس بھی کم ہی ملتا ہے۔

اور خبر دار جو کسی نے قدر والے فارمولے پہ عمل کیا۔ویسے ٹکٹ ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا۔پچھلے پہ تبصرہ کرین اگلا افسانہ پڑھیں۔۔۔۔!!

بنت احمد
12-10-2010, 01:18 AM
میں تو کبھی اپنی پوسٹ میں تمہارا تھینک دیکھ لوں تو خوشی کے مارے جھومتے جھومتے رہ جاتی ہوں۔۔تمہارے تھینکس بھِی تو بہت نایاب قسم کے ہوتے ہیں۔۔۔

ویسے یہ بات سب کو نہیں کہہ رہی سب جی بھر کر تھینکس کیا کریں۔۔۔سب کنجوسی کریں گے تو ہم جیسوں کو دل کون رکھے گا۔۔آئی مین شکریہ ٹیب سے بھی کافی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔۔۔
اپنے تھینکس اور کمنٹ کی قدر اپنے ہاتھ ہے *cool*

رمیصا
12-10-2010, 01:24 AM
کیوٹ۔۔۔۔ رمیصا ڈئیر۔۔۔
بہت اچھا علامتی ٹائپ افسانہ ہے اور ساری فیلینگز کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
ویسے میرا خیال ہے تم ایک چھوٹی سی پیاری سی بچی ہو مگر جانے کیوں افسانہ پڑھکر لگتا ہےکہ ۔۔۔ ہم سب کی نانی اماں ہو~۔ بہت پختہ خیالات ہیں بزرگوں جیسے اور بہت اچھے سے لکھتی بھی ہو۔ خوش رہو




بہت شکریہ ساحرہ آپی۔۔اور باقی تو انعم نے بتا ہی دیا ہے۔۔

رمیصا
12-10-2010, 01:25 AM
ساحرہ سس ۔۔ چھوٹی بھی ہے اور کیوٹ بھی مگر قد میں بھت لمبی ہے;)

اور لکھنے لکھانے میں ماشاءاللہ آپکے سامنے ہے:)

ویل ڈن رمیصہ

ہیں انعم۔۔۔۔؟
سچ مچ؟
اب بھولنا مت۔۔۔پہلے والی لائن۔

Durre Nayab
12-10-2010, 01:54 AM
بہت خوب رمیصا سس، اس افسانے پر میں نے کمنٹ کیا ہے لیکن اب نظر نہیں آرہا۔
شاید کسی اور تھریڈ میں چلا گیا ہے۔

Hira Qureshi
13-10-2010, 06:36 PM
بہت خوب رمیصا! آپ کا امید کا پیغام دیتا افسانہ مجھے بہت پسند آیا۔ اور چٹھیوں میں "میرے نام۔ ۔ ۔" لکھنا بھی بہت اچھا اور ڈفرینٹ آئڈیا تھا۔

Hina Rizwan
14-10-2010, 11:39 AM
بہت خوب رمیصا سس
بہت ہی اچھا رنگ برنگی چٹھیوں اور اُمید کا پیغام دیتا افسانہ بہت ہی اچھا لگا

Meem
14-10-2010, 06:41 PM
بہت عمدہ لکھا رمیصا خاص کر جو علامتی انداز ہے وہ بہت متاثر کن ہے۔ لکھتی رہیے۔

Fozan
16-10-2010, 11:28 AM
السلام علیکم

رمیصا سس دیر سے تبصرے پر معذرت۔۔۔۔بہت خوبصورت اور سبک تحریر ہے، قلم اور خیالات کا بہاؤ بھی بہترین رہا۔۔۔۔آپ اپنی بات پہچانے میں بھی کامیاب رہیں۔۔۔۔۔بس ایک چھوٹا سا مگر ہے جو میرے ذہن میں اٹک گیا ہے ، خاص طور پر آپکے میگ میں چھپے افسانے پر ایک نظرڈالنے کے بعد۔۔۔۔اگر آپکی اجازت ہوئی تو پھر اگلی پوسٹ میں اس پر بات ہو گی۔۔۔۔

رمیصا
16-10-2010, 03:15 PM
السلام علیکم

رمیصا سس دیر سے تبصرے پر معذرت۔۔۔۔بہت خوبصورت اور سبک تحریر ہے، قلم اور خیالات کا بہاؤ بھی بہترین رہا۔۔۔۔آپ اپنی بات پہچانے میں بھی کامیاب رہیں۔۔۔۔۔بس ایک چھوٹا سا مگر ہے جو میرے ذہن میں اٹک گیا ہے ، خاص طور پر آپکے میگ میں چھپے افسانے پر ایک نظرڈالنے کے بعد۔۔۔۔اگر آپکی اجازت ہوئی تو پھر اگلی پوسٹ میں اس پر بات ہو گی۔۔۔۔



اف۔۔۔۔خوفناک والا مگر تو نہیں ہے؟

اجازت ہی اجازت ہے ، آپکے سامنے تحریر آتی ہی مگر کے لیے ہے،ضرور پوچھیے۔میں منتظر ہوں۔

Nesma
16-10-2010, 03:32 PM
ماشاءاللہ رمیصا بہت اچھا لکھا ہے
ایک امید دلاتی اور اپنی زمہ داری محسوس کرانے والی اخری چھٹی
بہت خوب رہی

Fozan
17-10-2010, 02:33 AM
بڑے ادیبوں سے ڈرتے ڈرتے اور رمیصا سس کی اجازت سے عرض ہے۔۔۔۔۔

انگریزی اور فارسی/عربی کی ایک صنف ہے پیرابل/حکایت ۔۔۔۔ اردو میں شاید اس پر اتنا کام نہیں ہوا۔۔آپ کی دونوں تحاریر مجھے افسانے سے زیادہ حکایت سے قریب محسوس ہوئی ہیں۔

کیا کہتی ہیں آپ؟ میں کیونکہ اردو پر کچھ ایسا خاص عبور نہیں رکھتی تو کسی اور سے بھی رائے لے لیں۔۔۔۔یا شاید اردو میں حکایت افسانے میں ضم ہو گئی ہے!

یہ بس میری رائے ہے تنقید نہیں۔۔۔۔اگر یہ واقعی حکایت سے قریب ہے تو پھر شاید آپ اردو ادب میں ایک منفرد مقام بنا لیں۔۔۔۔۔۔

Taaliah
17-10-2010, 03:26 AM
اچھی تحریرتھی قاری کو ایک پیغام دیتی ہوئی۔
آج کل ہم نے یہ کیا ہوا ہے کہ ہم نے اپنے حقوق یاد رکھے ہوئے اور دوسروں کے فرائض جبکہ تھوڑا سا اس کے برعکس ہونا چاہیے۔

لکھتی رہیں۔

Ahmed Lone
17-10-2010, 04:57 PM
بہت منفرد افسانہ ہے

اس کےلیے بہت شکریہ