PDA

View Full Version : قافلہ جانے کے بعد از دانیہ



Aqsa
09-10-2010, 10:20 PM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/dania/1.jpg


http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/dania/2.jpg


http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/dania/3.jpg


http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/aaj%20ka%20afsana/dania/4.jpg


***************************


قافلہ جانے کے بعد
از دانیہ



اکتوبر کی تیز و خنک ہوا میں جو کہ خزاں کے آنے کا پتا دے رہی تھی سڑک پر چلتے چلتے اچانک مجھے اکتاہٹ سی ہونے لگی ۔ جیسے کسی بے چینی نے میرا احاطہ کر لیا ہو۔۔


میں نے ادھر ادھر دیکھا۔۔روڈ پر اکّا دکّا ٹریفک تھی اور چند پیدل چلتے ہوئے لوگ۔۔مجھے کسی گرم کپڑے کی عدم موجودگی کا احساس ہوا۔ گھر سے نکلتے وقت بھی نفیسہ نے مجھے سوئٹر پہننے پر مجبور کرنا چاہا تھا لیکن میں اپنی خود ساختہ جوانی کے زعم میں ایسے ہی باہر نکل آیا۔ بیویاں بھی اللہ نے کیا نعمت دی ہیں بنا کہے دل کا حال جان لینے والی اور خاوند کے باہر نکلنے پر آسمان دیکھ کر موسم کا حال بتا دینے والی۔


میں اسے سوچ کر ہنس دیا۔۔نفیسہ میری بیوی جو گذشتہ پینتیس سالوں سے مری ہمسفر ہے اور شانہ بشانہ میرا ساتھ دئے جا رہی ہے ۔۔زندگی کے اس سفر میں کئی بار اسے میرے ساتھ چلنے کے لئے دوڑنا بھی پڑا ہے لیکن میں نے اسے کبھی ہانپتے نہیں دیکھا ۔ میں ابھی اسے ہی سوچ رہا تھا کہ اچانک ہوا میں اور تیزی آ گئی۔۔ میں نے اپنے قدم تیز کر دئے ۔۔


گھر پہنچ کر ابھی بیل دینے کے لئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ نفیسہ نے دروازہ کھول دیا۔ میں اسے دیکھ کر مسکرایا اور بولا


"کیا دروازے ہی سے لگی کھڑی تھیں۔۔ پینتیس برس ہو گئے ۔۔تماری روٹین چینج نہ ہوئی"
" اور آپ کا یہ ڈائلاگ بھی نہیں بدلا۔۔"نفیسہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔"اب کچن میں آ جائے بہو اور بچے چائے پر انتظار کر رہے ہیں"
مجھے یہ اطلاع دیتیے ہوئے وہ خؤد بھی لونگ روم سے ملحق کچن کی جانب بڑھ گئی ۔ میں بھی فریش ہو کر چائے پینے چلا گیا۔


"آج ہوا کچھ زایدہ تیز ہو گئی تھی۔۔"
میں نے بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا
"جی ابا جی اکتوبر تو بس ایسے ہی گذر جاتا ہے ۔۔"میری بہو مجھے چائے پیش کرتے ہوئے بولی۔
"ہاں اور ساتھ اداس بھی اور اب اس اداس موسم میں ہمارا گذارا نہیں۔۔نفیسہ بیگم بوریا بستر لپیٹئے ۔۔
اس شہر میں اپنا گذارا نہیں"
میں نے پہلا جملہ بہو کو اور دوسرا نفیسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
اور گرم چائے کا کپ ہونٹوں سے لگا لیا۔۔
میں یہ بھی نہ دیکھ پایا کہ کتنی ہی قندیلیں تھیں نفیسہ کی آنکھوں میں جو ایک دم بجھ سی گئیں تھیں۔
اسی شام جب بیٹا جاب سے واپس آیا تو میرے جانے کا سن کر کمرے میں چلا آیا اور مجھے رکنے پر مجبور کرنے لگا۔۔ میں نے اسے اپنے دل نہ لگنے کا سبب کیا بتاتا کہ مجھے میرے وطن ، اتنی محنت سے بنائے گھر کی یاد ستانے لگی ہے ۔۔بس اسے یہ کہہ کر ٹالا کہ یار دوستوں اور بیٹیوں کی یاد آ رہی ہے ۔ اور پھر جلد آنے کا وعدہ کیا۔۔نفیسہ ہم دونوں کی اس بات چیت کے درمیان خاموشی سے پیکنگ کرتی رہی۔۔اس ہفتے ہی ہماری فلائٹ تھی اور کچھ گفٹس وغیرہ کی شاپنگ جلد از جلد کرنی تھی۔۔۔


نیو یارک ائرپورٹ پر بہو بچے سب ہمیں چھوڑنے آئے ۔ بچے خاص کر کافی اداس تھے نفیسہ کی آنکھوں سے آنسو نہں رک رہے تھے ۔ وہ بچوں کو لپٹائے پیار کی جا رہی تھی۔۔جب میں نے اسے دیر ہونے کا مژدہ سنایا تو اُس نے آنسو صا ف کئے بہو کو گلے لگ ا کر پیار کیا اور بیٹے ے ماتھے پر بوسہ دے کر الگ ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔۔میں نے سب کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔۔بیٹے کی نم آنکھوں کو صاف کیا ۔۔اور اس کو پاکستان آنے کا کہہ کر ٹرالی دھکیلتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔۔


نفیسہ راستے بھر آنسو پونچھتی رہی۔۔جب جہاز میں بیٹھ کر بھی اس نے یہ شغل جاری رکھا تو میں نے اسے تھوڑا ہنسانے کے لئے کہا
"بھئی ہمیں تو رخصتی یاد آ گئی ۔۔اس دن بھی تم سارے راستے سڑ سڑ کرتی آئی تھیں"
"آپ بھی ناں"
نفیسہ روتے روتے ہنس پڑی۔"
کیا تھا جو کچھ دن اور رک جاتے ۔۔بچے کتنے پیار سے روک رہے تھے"
نفیسہ بولی
"ہاں لیکن میرا دل وہاں نہیں لگ رہا تھا۔۔مجھے گھر کی یاد آ رہی تھی ۔ وہ گھر جس کو میں نے اتنی محنت سے بنایا ایک ایک اینٹ خود اپنے سامنے بنوائیی۔ خود کھڑے ہو کر تعمیر کروائی۔ سوچا تھا کہ دونوں بیٹوں کے ساتھ بڑھاپا مزے سے گذرے گا۔۔مگر دونوں ہی باہر سیٹل ہو گئے ۔ مجھے اس گھر کو آبا د کرنا ہے "
"لیکن گھر انسانوں سے آباد ہوتے ہیں"
نفیسہ آہستگی سے بولی
"ہاں تو ہم کریں گے نہ آباد"
میں نے اسے جواب دیا ۔۔سیٹ پیچھے کی ۔۔آنکھوں پر آئی پیک لگائے اور بلینکٹ کو سینے تک پھیلا لیا۔۔میرے مذید بات نہ کرنے کے موڈ کو دیکھتے ہوئے نفیسہ نے بھی سیٹ کی بیک سے سر لگا کر آنکھیں موند لیں۔



کراچی پہنچ کر نفیسہ کچھ اپ سیٹ سی لگ رہی تھی۔۔میں تو گھر پہنچ کر سیدھا لان میں اپنے ہاتھوں سے لگائے پھلوں کے درخت اور پھولوں کو دیکھنے پہنچ گیا، نفیسہ نوکروں سے سامان اندر رکھواتی رہی.
وہ کافی خاموش سی ہو گئی تھی۔۔میں ہی اسے بات کرنے پر اکساتا تو بات کرتی ورنہ خاموشی کو ترجیح دیتی ۔
مجھے اس کی شکل کر دیکھ کر تھوڑا ترس تو آیا کہ کیا تھا کچھ دن اور رک جاتا مگر گھر کی یاد نے کچھ اس طرح بے قرار کیا تھا کہ مجھے ایک پل بھی وہاں گذارنا مشکل لگنے لگا تھا۔
پھر بیٹیوں کی آمد نے اس ماحول مں ارتعاش پیدا کیا اور نوااسے نواسیوں کی چہل پہل میں نفیسہ بہل گئی۔ میں نے بھی مطمئن ہو کر اپنی پرانی مصروفیات میں دل لگا لیا۔۔


خواجہ کے ہاں شطرنج کی پارٹی پھر گپیں, سیاست پر لمبی بحثیں پھر رات گئے گھر واپسی ۔ گھر واپس آتا تو نفیسہ کی خفگی بھری ڈانٹ ۔۔زندگی رواں دواں ہو گئی تھی۔۔بچوں کے فون بھی تواتر سے آتے ۔۔نفیسہ اپنا دل بچوں سے باتیں کر کے اور پھر ان کو یاد کر کے بہلاتی رہتی۔۔


کئی دن کے بعد میں نے اسے اداس دیکھ کر اس کی بے سبب اداسی کا سبب پوچھنا چاہا تو یہ کہ کر اندر چلی گئی کہ "آپ بھی تو امریکہ میں اداس رہتے تھے میں یہاں اداس ہوں"


میں ہنس دیا"پگلی! زندگی تو یہاں ہے بھاگتی دوڑتی۔ ہر پل ہر روز ایک نئی خبر۔وہاں کیا تھا وہی صبح شام بے رنگینی۔۔بچے اپنی پڑھائوں میں مصروف، بہو بہت اچھی ہے لیکن اپنی جاب میں بزی رہتی ھر گھر آ کر گھر کے کام اور بچے اسے مصروف رکھتے ۔۔بیٹا آٹھ گھنٹے جاب کر کے آتا تو تھکا ہارا رہتا میں اسے خود ہی اپنے پاس بیٹھنے باتیں کرنے پر مجبور نہیں کرتا تھا ۔ ہاں ویک اینڈ میں ہم اکٹھے بیٹھتے کسی جاننے والے کے گھر جاتے گپ لگاتے لیکن اس ویک اینڈ کے انتظار میں پورا ہفتہ گذارنا میرے لئے بہت مشکل ہو جاتا۔۔یہاں یار دوست پڑوسی گھر کی دیکھ بھال میں وقت ایسے گذرتا کہ معلوم ہی نہ ہوتا"۔


ہمیں نیویارک سے آئے چار پانچ ماہ ہی ہوئے تھے کہ نفیسہ نے مجھ سے واپس جانے کی بات کی ۔میں نے اسے سوچیں گے کہہ کر ٹال دیا۔ پھر ایک دو ہفتے بعد وہ بولی تو میں نے کہا اچھا۔۔اس سے اگلے ہفتے وہ بیمار پڑ گئی ۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو رپورٹس آنے پر میں خود سکتے میں رہ گیا۔ کینسر جیسے موذی مرض کو وہ جانے کب سے اپنے اندر سینچ رہی تھی۔ میں نے فوری طور پر اس کا علاج شروع کروا دیا ۔ ایک دن بیٹھا اس سے باتوں میں کہا کہ امریکہ چلنا ہے تو بولو۔میری یہ بات سن کر ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی۔
"اب کیا ہے چند دن ہیں یہیں کاٹ لیں گے"
میں اس کی بات سن کر سن سا رہ گیا۔اپنے طور پر امریکہ جانے کی تیاری شروع کر دی۔ جانے سے ایک رات پہلے اس کی طبیعت کافی بگڑ گئی۔ میں ساری رات اس کے سرہانے بیٹھا رہا۔ کہا "بچوں کو یہیں بلا ہوں اس نے منع کر دیا "
کہنے لگی
"جب صحتمندی تھی بچوں کے پاس نہیں رکے ۔ اب کیا انہیں پریشان کرنا"
پھر کچھ وقفے سے بولی
"میں ہمیشہ آپ کے ساتھ دیتی رہی ہمیشہ آپ کی خوشی کو فوقیت دی آپ میرے دل کی خوشی جان ہی نہ سکے "
لیکن نفیسہ میں تو سمجھا تم یہاں خوش ہو
میں نے اس کی بات کا مافی الضمیر سمجھ کر کہا
"خوشی تو اولاد سے ہوتی ہے ۔ اولاد کی اولاد سے ہوتی ہے ۔ یہی تو زندگی کا اصل رنگ ہے ۔ ہم تو خوش قسمت تھے کہ اولاد اس عمر میں پوچھ رہی ہے ہمیں ۔ آپ نے اس کو ہی ٹھکرا دیا ۔ میرے دل کی خوشی آپ کے اور ان کے ساتھ تھی۔۔۔میرے دل کے تو مجھے لگتا ہے ٹکڑے سے ہو گئے ایک حصّہ آپ کے پاس ایک بچوں کے ...."
اس سے آگے وہ بول ہی نہ سکی میں نے فورا" گذرتی نرس کو آواز دی ۔۔ڈاکٹرز دوڑے آئے اسے آکسیجن لگا دی ۔ میں وہاں کھڑا نفیسہ کو اپنے سے دور جاتا دیکھتا رہا ۔ اور وہ چلی گئی۔
اب وہ گھر ہے جس کو میں نے اپنے سامنے کھڑے ہو کر بنوایا تھا۔۔ایک ایک اینٹ اپنے سمانے بنوا کر چنوائی تھی ۔ چوکیدار کے نہ ہونے پر خود راتوں کو چوکیداری کی تھی۔ جس کی چاہ میں بچوں کو چھوڑ یہاں آیا تھا اب وہی گھر ۔کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے ۔۔دوست یاروں کی محفل سے دل اچاٹ ہونے لگا ہے ۔۔ان کے فون آتے ہیں میں گھنٹی کی آواز سن کر بھی بہرہ بن جاتا ہوں۔ ایک نفیسہ کے نہ ہونے سے زندگی اتنی مشکل ہو گئی کے سوچا نہ تھا۔


زندگی کے یہ رنگ اسی کے دم سے تھے ۔ میں سمجھ ہی نہ سکا۔ ساری عمر اس کو جان لینے کا دعویٰ کرتا رہا لیکن ایک ماں کے دل کی آواز ہی نہ سن پایا ..اب بھی بچے اپنے پاس بہت بلاتے ہیں دل کرتا ہے اڑ کر چلا جاؤں۔۔لیکن وہ خوشی جو میں نے نفیسہ کو نہیں دی اسے اپنے لئے کیسے جائز سمجھ لوں۔اب صرف خاموشی میرے ارد گرد ہے ۔ ویسی ہی خاموشی جیسے کسی قافلے کے گذر جانے کے بعد ہوتی ہے



**************************************




"قافلہ جانے کے بعد" کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Kainat
09-10-2010, 11:04 PM
دانیہ سس، اتنا اچھا افسانہ لکھنے پر بہت بہت مبارک ہو۔

انداز بیاں بہت خوب لگا۔ افسانے کے تمام لوازمات موجود تھے۔
آپ نے بظاہر ایک چھوٹے سے مسئلے، بات کو لے کر بہت سے دلوں پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔
یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے ۔۔ جس میں تقریبا سب کو گزرنا پڑتا ہے۔
اور کبھی بھی دوسرے انسان کو پورا سمجھنے کا دعوی کر ہی نہیں سکتے۔
زندگی میں سب کچھ ہونے کے باوجود بھی بعض دفعہ دل اک چھوٹی سی خواہش کے لیے تڑپتا ہے۔
اور عنوان مجھے بہت بہت پسند آیا۔ افسانے کی مناسبت سے بہت جچا۔

ویلڈن، آلویز کیپ گڈ ورک

Samia Ali
10-10-2010, 12:47 AM
بہت اچھا لکھا دانیہ سس بہت خوب

fiza_chillimilli
10-10-2010, 01:06 AM
السلام علیکم
بہت اچھا افسانہ ہے اور حقیقت کے قریب بھی
اکثر ہی ایسا ہوتا کہ کہ وقت گزرنے کے بعد ہی انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔
ایک فقرہ بہت اچھا اور سچا لگا۔
بیویاں بھی اللہ نے کیا نعمت دی ہیں بنا کہے دل کا حال جان لینے والی اور خاوند کے باہر نکلنے پر آسمان دیکھ کر موسم کا حال بتا دینے والی۔

Meem
10-10-2010, 01:27 AM
بہت بہت بہت متاثر کن تحریر۔ بہت اچھا لگا پڑھ کر آنکھوں میں نمی لیے جو تحریر پڑھی جائے اس کو ہم کبھی نہیں بھلا پاتے۔
اتنی اچھی تحریر ہمارے لیے لکھنے کا بےحد شکریہ۔

Zainab
10-10-2010, 01:54 AM
دانیہ بہت اچھا اور حساس افسانہ لکھا ، بہت مبارک ہو
اس طرح کے افسانے اور بھی پڑھے ہیں ، پر اُن میں اولاد کی ماں باپ کے لیے بے حسی ہوتی ہے ، تم نے اُس احساس کو اور ماں کے جذبات تو بہت اچھی طرح بیان کیا ہے

HJaved
10-10-2010, 02:40 AM
ہمیشہ کی طرح ایک خوبصورت اور پر اثر تحریر۔
پتا نہیں کیوں اینڈ پر مجھے کچھ تشنگی سی محسوس ہوئی۔

پوائنٹی شاباش۔

Fozan
10-10-2010, 03:27 AM
دانیہ سس زندگی کی ایک ایسی حقیقت پر آپ نے لکھا ہے جس کا آج نہیں تو کل ہمیں سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔ کہانی کی خوبصورتی یہ تھی کہ آپ نے روائتی رویے نہیں دیکھائے جہاں اولاد ماں باپ کو چھوڑ دیتی ہے بلکہ بزرگوں کی انا پرستی کو لیکر بات کی ہے۔۔۔۔کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیاں، اپنی روزمرہ کی مصروفیات اسقدر عزیز ہوتی ہیں کہ ہم خود کو بدل نہیں پاتے اور تنہا رہ جاتے ہیں۔ معاشرتی رویوں پر ایک عمدہ کہانی۔۔۔۔

niuslyguy
10-10-2010, 03:44 AM
بہت بہت عمدہ لکھا آپ نے دانیہ
اور بالکل سچا بھی کہ شروع کی کہانی بالکل میری ساسو کی کہانی ہے وہ جب یہاں آتی ہیں تو پاکستان میں اپنی بیٹی ،نواسی ،بلیوں ،پودوں ، گھر کو یاد کر کے اداس ہوتی ہیں اور جب ان کا یہاں دل لگ جاتا ہے تو پھر یہاں سے جانے کے بعد ہر فون کال پر ہمارے لیئے اداس ہوتی ہیں
بہت سے والدین جن کے بچے باہر رہتے ہین اسی احساسات سے گزرتے ہیں ،اینڈ بہت اداس سا تھا لیکن کہانی کے لحاظ سے صیح تھا

NaimaAsif
10-10-2010, 03:58 AM
بہت اچھا افسانہ تھا دانیہ سس۔ اچھا لگا اسی زندگی اور معاشرے کی کہانی کو ذرا بدلی ہوئی نظر سے دیکھنا۔ بنا فلسفے کے سادہ سا انداز لیے افسانہ مجھے تو اچھا لگا۔

ہاں ایک درخواست ڈیزائننگ سے الگ جو افسانہ پوسٹ کیا گیا ہے پلیز اس کا سائز تھوڑا بڑا رکھا کریں اتنا چھوٹا پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے آنکھوں پر زور پڑتا ہے۔ ڈیزائیننگ والے میں کم پڑھتی ہوں اس لیے سادہ فونٹ سائز کے لیے کہہ رہی ہوں۔ شکریہ۔

Noor-ul-Ain Sahira
10-10-2010, 04:29 AM
دانیہ
بہت نائس افسانہ ہے۔ بعض اوقات میاں بیوی یونہی سمجھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں مگر حقیقت میں اسا ہوتا نہیں۔
فیملی لائف میں اکثر اسے مقام آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ سمجھ کر سمجھنے کی بات ہوتی ہے مگر زیادہ تر لوگ یہ کوشش نہیں کرتے۔
بس سادہ سی بات ہے اور خوب پیارے اور اچھے طریقے سے تم نے بیان کیا ہے۔ گڈ ورک
کیپ اٹ اپ:)۔

Dr.Anam
10-10-2010, 05:13 AM
بہت اچھا لکھا دانیہ سس بہت خوب

بنت احمد
10-10-2010, 06:55 AM
ویری نائس دانیہ سس،

مجھے اس طرح کا لکھا ہوا بہت پسند ہے، سمپل ، باتوں باتوں میں بات

بس ایک بات ڈیزائینگ کے حوالے سے کہتی ہوں، ٹائٹل کے نیچے آپ کا نام اس طرح ٹائٹل کا حصہ معلوم ہورہا ہے۔
کچھ اور نیچے اور سائز کم ہو یا "از" ایڈ کرلیں تو صحیح لگے گا۔

Skyla
10-10-2010, 07:18 AM
دانیہ بہت اچھا لکھا ھے - میں جب بھی تمھاری کوئی تحریر پڑھتی ھوں مجھے اسکی روانی اور عام فہم ھونا بہہہت اچھا لگتا ھے - اور اس موضوع پر جب بھی پڑھو اداسی ھی سامنے آتی ھے کیونکہ والدین اور اولاد کے بیچ غم دوراں کی یہ جو خلیج حائل ھو جاتی ھے اسکو عبور کرنا آسان نہیں ھوتا کہ والدین اولاد سے محبت کے ھاتھوں مجبور اور اولاد اچھے مستقبل کی کوشش میں پردیس چھاننے میں مصروف-
ویسے یہ افسانہ تھوڑا سا مزید بھی لکھا جا سکتا تھا-یعنی امریکا والے بیٹے کا پاکستان میں چھٹیاں گزارانا - ایسے میں ماں کی خوشی وغیرہ وغیرہ -
دعا ھے کہ تم ھمیشہ ایسا ھی اچھا لکھتی رھو-

Parishay
10-10-2010, 10:10 AM
بہت اچھا لگا دانیہ سس

مگر میں بھی بنت احمد سس سے متفق ہوں کہ آپ کا نام ٹایٹل کا حصہ معلوم ہو رہا ہے۔

مگر افسانہ بہت اچھا لکھا ہے

IbneRushd
10-10-2010, 10:53 AM
بہت عمدہ تحریر ہے

Ifzaan
10-10-2010, 11:15 AM
aoa bohat achi story thi husband kabhi bi wife ko ander se nahi jaan sakta kyunk woh tu already hod ko husband ki khossi ke lye change karnye me lagi rahti hi aur us ki khossi me khoss rahti hi apni khossi ke barye me sochanye aur kahnye ka tu us ko sari life hi time nahi milta life kabhi bhi hamesha eik jasi nahi guzarti just as us ki wife ne sari life us ki her terha se care ki per jatye jatye us ko asi pashmaini me chor gai ke woh hod ko muaf na ker sakye

روشنی
10-10-2010, 12:15 PM
بہت عمدہ لکھا ہے دانیہ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لکھتی رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیا آپی
10-10-2010, 12:39 PM
بہت ہی اچھا لکھا ہے دانیہ ، اتنا اچھا افسانہ لکھنے پر میری طرف سے آپکے لئے بہت بہت مبارکباد۔۔۔

Rubab
10-10-2010, 02:42 PM
یہ افسانہ میں پہلے بھی پڑھ چکی ہوں لیکن تب اتنا زیادہ احساس نہیں ہوا تھا، آج دوبارہ سے پڑھا تو لگا کہ پہلے پڑھنے میں کچھ مس کر دیا تھا، شاید پریزینٹیشن سے بھی فرق پڑتا ہے۔ بہت ہی ہارٹ ٹچنگ افسانہ لکھا ہے اور بہت اچھے انداز سے لکھا ہے۔

ویری نائس دانیہ سس!

آپ کم کم لکھتی ہیں لیکن بہت اچھا لکھتی ہیں، مزید افسانوں کی منتظر۔

Sabih
10-10-2010, 03:07 PM
دانیہ سس
بہت اچھا افسانہ لکھا۔ ۔ ۔ بعض اوقات برسوں کے شناسا بھی دل کی بات نہیں جان پاتے یا اس کو اہمیت نہیں دیتے۔ ۔ ۔ ماں اور باپ دونوں کے احساسات کو بہت اچھے سے بیان کیا۔ ۔ ۔
کہانی کا فلو بھی اچھا رہا۔

Trueman
10-10-2010, 03:49 PM
آپی بہت ہی زبردست تحریر ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے شروع کی تو مختلف خیالات کے تانے بانے بنتا رہا لیکن کہانی کے اختتام پر یک دم دم بخود کر گیا ۔ ۔ ۔ ۔ بہت ہی مضبوط نکتے پر پختہ تحریر ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

رائٹرز سوسائٹی کا یہ سلسلہ بہت زبردست ہے اور اپنے پڑھنے والوں کو ایک نئے رخ سے آشنا کررہا ہے ۔ ۔ ۔

ہر تحریر کو میں باقاعدگی سے پڑھتا ہوں لیکن اپنی کم علمی کے باعث کمنٹس کرنے سے گھبراتا ہوں لیکن دل میں ایک چھبن رہتی ہے جیسے کچھ ناانصافی کرررہا ہوں ۔اس لیے اپنے خیالات کو الفاظ کے روپ میں آخر کار لکھنے میں کامیاب ہوہی گیا ہوں ۔ ۔

امید ہے مزید خوب سے خوب تحاریر پڑھنے کو ملیں گی ۔

رمیصا
10-10-2010, 06:06 PM
بہت اچھا افسانہ ہے دانیہ سس۔۔۔!!
ایک عورت کے احساسات اور ماں اور بیوی کے احسات،جزبات اور فرائض کیسے ایک وجود کو دو حصوں میں منقسم کرتے ہیں؟ بہت عمدگی سے بیان کیا آپ نے۔

Nesma
10-10-2010, 09:05 PM
بہت اچھا لکھا ہے دانیہ

بیچارے ایسے ماں باپ دو حصوں میں بٹے ہوتے ہیں
وطن میں رہ کر بچے یاد آتے ہیں
اور جب بچوں کے پاس آتے ہیں تو ملک کی یاد ستاتی ہے

Aqsa
10-10-2010, 10:12 PM
بہت اچھا لکھا ہے دانیہ آپ نے۔ افسانہ کہاں ختم ہوا اور حقیقت کہاں شروع، پتا ہی نہیں لگا۔ انسان قریب رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے دل کی مشکل ہی سے سمجھتا ہے۔ آپکا عنوان بھی بہت معنی خیز ہے۔۔ لکھتی رہیے

Wish
11-10-2010, 05:34 PM
یہ پہلے بھی پڑھا تھا اب بھی اس کو پڑھ کو دل۔ ۔ ۔
آہ۔ ۔ ۔

بہت ہی سچ، لگتا ہے ایسی کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ ۔ ۔ کبھی اولاد والدین سے دور بھاگتی ہے تو کبھی انسان کو ماضی، اس کی پرانی یادیں اور چیزیں ہی اسے اپنوں سے دور کر دیتی ہیں ۔ ۔ ۔
اداس کُن۔ ۔ لیکن حقیقت سے بالکل قریب تر افسانہ۔ ۔ ۔
تھینکس فار شیئرنگ۔ ۔ ۔

Durre Nayab
11-10-2010, 05:57 PM
یہ افسانہ پہلے بھی پڑھ چکی تھی تب بھی اس کی گرفت میں تھی اور اب پھر سے پڑھنے کے بعد بھی یہ دل کو چھوتا ہوا سا لگتا ہے۔ بہت رواں انداز سے افسانے میں بیان حقیقت واقعی رافعہ سس سے متفق ہوں۔ کہاں افسانہ ختم اور کہاں حقیقت شروع۔
بہت کم مگر بہت اچھا لکھتی ہیں آپ۔

Hira Qureshi
13-10-2010, 06:28 PM
بہت اچھی تحریر ہے دانیہ۔
واقعی گھر تو لوگوں سے بنتے ہیں جب وہی نہ رہیں تو ایسے گھروں کا فائدہ؟
موضوع کچھ مختلف تھا اور آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔

کوثر بیگ
13-10-2010, 06:59 PM
دانیہ بہن مجھے یہ افسانہ بالکل لگا ہی نہیں یہ تو بس سچ ہی سچ لگا ایسا معلوم ہوتا ہے کسی اصلی کردار پر لکھا ہو ۔ ایک مزہ کی بات بتاؤ ،میں بھی آج کل بیٹے کے گھر ہوں اور کچھ اسی سچویسن میں بھی ہوں د یکھے آپ کی اس کہانی کو پڑھنے کے بعد پہلی بار دل اپنے آپ کی خواہش کا گلا دبانے سے انکار کر رہا ہے ۔خیر
بہت اچھا لکھا اور بھی آپ اچھا لکھ سکتی ہو ۔

Sony
13-10-2010, 07:04 PM
بہت اچھا لکھا دانیہ سس

Lubna Ali
14-10-2010, 07:22 PM
بہت بہت اچھا لکھا ہے دانیہ ۔۔۔تمہارے اس افسانے میں اسس قدر حقیقت چھپی ہے نا کہ میرے خود آنکھوں دیکھا حال ہے۔۔میرے ساس سسر بھی کچھ ایسے ہی ہیں۔۔۔یہاں آتے ہیں پر رہنا نہیں چاہتے۔۔۔ امی جان کو پھر بھی یہاں اچھا لگتا ہے لیکن میرے سسر۔۔۔ بس ان کی وجہ سے نہیں رہ پاتی ۔۔بالکل یہی حال ہے۔۔۔ بس تمہارے اس افسانے کو پڑھ کر تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ ان کی کہانی لکھ دی گئی ہے۔۔۔

بہت خوب ۔۔خدا کرے زور قلم ہو اور زیادہ۔۔۔۔

Hina Rizwan
16-10-2010, 05:50 AM
بہت ہی اچھا لکھا ہے دانیہ آپی بالکل حقیقت سے قریب تر یا حقیقت ہی۔
بہت سادہ، آسان اور عام فہم بغیر کسی فلسفے کے اور
ان روایتی کہانیوں سے ہٹ کر جو اس ٹاپک پر پہلے سے پڑھتے آ رہے ہیں

تھینکس فار شیئرنگ

Taaliah
17-10-2010, 03:12 AM
بہت حقیقی مسئلہ بیان کیا ہے آپ نے۔ لیکن یہ شاید اسی طرح چلتا رہے گا کیونکہ انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔
ایک اور بات بھی ہے کہ بعض بزرگ ہر جگہ اپنے لیے مصروفیات ڈھونڈ لیتے ہیں یا یوں کہہ کہ وہ کمپرومائز کر لیتے ہیں لیکن ہر ایک کے لیے ویسے مشکل ہوتا ہے۔
اچھی کاوش تھی۔
لکھتی رہیں۔

Ahmed Lone
17-10-2010, 05:06 PM
دیس پردیس

بہت ہی خوب لکھا

بہت شکریہ اس افسانے کے لیے