PDA

View Full Version : میں ایک تہمت بھری غزل ہوں از مونا سید



Aqsa
08-10-2010, 06:34 AM
http://i741.photobucket.com/albums/xx58/Cosenfew/TBG-MS/TBG_0001.jpg
http://i741.photobucket.com/albums/xx58/Cosenfew/TBG-MS/TBG_0002.jpg
http://i741.photobucket.com/albums/xx58/Cosenfew/TBG-MS/TBG_0003.jpg
http://i741.photobucket.com/albums/xx58/Cosenfew/TBG-MS/TBG_0004.jpg




میں ایک تہمت بھری غزل ہوں از مونا سید



خوش ادا، خوش شکل، سرو قد،قاتل ابرو، انتہائی خوش کن آنکھیں۔۔۔ اس نے ناز سے ابرو چڑھائے تو پرس میں رکھے آئینے پر ایک تنقیدی نگاہ دوڑائی۔۔ اس نے ایک گہری سانس لے کر سوچا ۔۔ " کیا نہیں ہے مجھ میں۔ جب ہی تو بڑے بڑے امیر، وزیر میرے آگے پیچھے گھومتے ہیں۔۔۔۔ ہائے!!"۔
یہ "ہائے" سن کر اس لمبی چوڑی گاڑی میں جس کا نام تک اس کے لیے نامعلوم تھا اس کے ساتھ بیٹھی عالیہ نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔ جیسے پوچھ رہی ہو کیا بات ہے۔۔۔
" کچھ نہیں۔۔" اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔ خاص ذوق رکھنے والے ایک وزیر کے گھر آج اس کا جلوہ تھا۔ تعلیم کی کمی کبھی آڑے نہیں آئی، حسن ایسا کہ دھار کی طرح کاٹ دیا کرتا تھا، اور اسی کی مہربانی نے اس کو برائے فروخت بنا دیا تھا۔
" برائے فروخت!" گاڑی ایک دھچکے سے رکی تھی۔ سگنل بند ہوا تھا شاید اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔


" ایسے ہی ایک سگنل تھا جس نے اس کو سپنا بنا دیا، شہر کے کچھ چوراہے ایسے بھی ہوتے ہیں جہاں زندہ گوشت کی خرید و فروخت ہوتی ہے ، گوشت جس کی زندگی پیٹ کے گرد گھومتی ہے، پیٹ بھرنے سے پیٹ ہونے تک چلتا ہے۔ سانس بھی آئے تو پیٹ سے ہو کر ہی نکلتی ہے۔



" "گاڑی کا شیشہ چڑھا لے ری نہیں تو گند آئے گی۔۔۔۔" عالیہ نے کہا تھا یہ۔ اس نے سر گھمایا نظر ایک بوڑھی فقیرنی پہ پڑی.
" یہ بھی ہماری ہی لائن کی نکلی۔۔۔ فرق صرف مانگنے کے طریقے کا ہے۔۔" سوچیں، لاتعداد سوچیں اب ان کے سوا اور تھا بھی کیا زندگی میں۔


" اللہ کے نام پہ دے دو بیٹا!"


" بیٹا!" اس کی ہستی میں "ایولانچ" پیدا ہوا، جو اس کی ذات پر جمائی تہہ در تہہ پرتوں کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ مگر وہ عورت۔ ۔ ۔ ۔ اس نے غور کیا۔ ۔ ۔ کچھ کچھ مانوس کیوں ہے۔۔


" ہاں! یہ بالکل میری ماں جیسی ہے۔۔" ویسی ہی مدقوق شکل، انتہائی کمزور جسم اور کچھڑی بال۔۔۔" اس نے اس کے ہاتھ میں پورا پچاس کا نوٹ رکھا۔۔


" ہائے ری یہ کیا اتنے کیوں دیے۔۔۔" عالیہ کو پھر اعتراض ہوا۔۔
تو چپ کرری۔ " اس نے ہاتھ جھٹکا۔ " ابھی اپن لوگ بھی ہائی اسٹینڈرڈ میں آئے ہیں یہ باتیں نظر انداز کیا کر۔۔ شودی نہ ہو تو۔" آخر جملہ اس نے منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا۔


گاڑی سگنل سے آگے بڑھ گئی مگر اس کا دھیان اس عورت میں اٹکا رہ گیا۔۔ اس کی ماں بھی تو ایسی ہی تھی اپنا پیٹ کاٹتی تھی اور اس کا کبھی خالی نہ رہنے دیا تھا۔ وہ اس کے بڑھاپے کی اولاد تھی۔۔۔ نہ جانے کتنے مزاروں پر منتیں اور چڑھاوے چڑھائے گئے تھے۔۔ جب کہیں جا کر اس نے جنم لیا تھا۔ مگر کیا اس کا جنم ہوا تھا یا بدنامی نے گھنگرو چھنکائے تھے۔


اچانک گاڑی نے جھٹکا لیا۔ اس کے منہ سے آہ نکل گئی۔۔ عالیہ ہنوز اس کی طرف سے لاتعلق اے سی میں مزے سے بیٹھی اپنے خیالوں میں محو تھی۔ جب سے ان کے دن بدلے تھے عالیہ کے بھی حالات نے کروٹ لی تھی اچھے کی طرف۔۔ ابھی بھی شاید اس نے آئی پوڈ لگا رکھا ہے اور پروگرام کے لیے ریہرسل کر رہی ہے شاید۔۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔


اس نے یادوں کے دریچے میں پھر جھانکا۔ صرف اس کی ماں تھی جس کے چہرے پر رونق کی وجہ وہی تھی۔۔ پورے سات سال اس نے اس کو سب سے چھپا کر رکھا۔ اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنے۔۔۔ نہیں تو بہتتتتتت پڑھے۔۔۔ اس کو مبہم سا یاد تھا شاید بچپن میں جو چیز بار بار دہرائی جائے وہ ذہن کی سلیٹ پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہے۔۔۔ اگر وہ پڑھ لیتی تو حالات۔۔۔۔ مگر اسکے تو باپ نے بھی ایکدن اس سے اپنا نام چھین لیا تھا۔ شاید ایک مرد تھا۔ ادھیڑ عمر میں آنے والی اولاد کی سب سے بڑی غلطی حسین ہونا ہوتی ہے۔ اور اگر ماں باپ دونوں قبول صورت ہوں تو باپ کے بیٹی کو "سپنا" بنا ڈالنا آسان ہو جاتا ہے۔ لاوارث چھوڑ دو۔ ہر روز نیا وارث ڈھونڈھ لے گی، خود رو بیل کی طرح


کیا کہا تھا استانی نے۔۔۔ اس نے یاداشت پر زور ڈالا۔ " ہاں۔۔۔۔ یہ تو بہت پیاری بچی ہے۔۔۔ مگر اس کا نام۔۔۔" استانی بھی ششدر رہ گئی تھی مگر داخلہ نہیں دیا گیا تھا۔
" دیکھو ماں میں چٹی ان پڑھ ہوں۔۔۔ تم نے تو جانے کیا کیا سوچا تھا۔۔" اس نے نزاکت سے آنکھ میں آیے آنسو صاف کیے تھے۔


وزیر صاحب شوقین آدمی ہیں ایسا نہ ہو کہ میرا ڈل فیس دیکھ کر ان کا موڈ چوپٹ ہو جائے اور آج کے پروگرام کی کامیابی بہت ضروری ہے۔۔" وہ جیسے واپس ماضی سے حال میں آئی تھی اور اپنے پرس میں سے پھر آئینہ نکال کر جتن کرنے لگی کہ فریش لگے۔۔


" میک اپ کی تو میں بڑی ماہر ہوں۔۔ کیا ہی ریما، میرا کرتی ہوں گی۔۔۔۔۔۔" آسودگی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔ اس نے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگا لی۔۔ اور آنکھیں موند لیں۔ آنکھیں بند کرتے ہیں ہی یادوں کا سیل رواں پھر سے جاری ہو گیا۔


" ماں کے گزر جانے کے بعد دوسری ماں اس کا گرو ثابت ہوا، جس نے گھربدر کیے جانے کے بعد اس کا ماں کی طرح خیال رکھا۔۔ وہ شروع میں تو بس روتی رہتی تھی۔۔۔۔ مگر گرو کبھی پیار سے بسکٹ کھلاتا تو کبھی ٹافی اور پھر ہاں ماں کی طرح چمٹاتا بھی تو تھا۔۔ شروع میں اس نے گلیوں میں ناچنا شروع کیا تھا یہ گرو ہی تو تھا جس نے کہا تھا۔


" ان گندی گلیوں میں رہوگی تو یہاں کا ہی رزق ہو جاؤ گی اپنی قدر کرانا سیکھو۔۔ تم بہت خوبصورت ہو اپنی قیمت آپ طے کرو، یہاں آنے والے تماش بین تمہارے قابل نہیں ہیں۔۔"


یہ اس کی پہلی پرفارمنس کے بعد کی بات ہے وہ چپ چاپ بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔ اس سے لوگوں کی گندی نظریں برداشت نہیں ہوئی تھیں۔۔ بات غلیظ نظروں تک رہتی تو وہ شاید نظر انداز کر دیتی مگر گندے فقروں کے ساتھ اس کے کپڑے کھینچنا، سینے پر ہاتھ مارنا اور چٹکیاں لینا۔ یہ اس سے بالکل برداشت نہیں ہوا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا۔ کہ وہ یہ کام نہیں کرے گی۔۔


" گرو میں یہ کام نہیں کروں گی بھیک مانگ لوں گی۔۔۔۔" تب ہی اس کے گرو نے اس کو سمجھایا تھا۔ "یہ ہمارا مقدر ہے اگر بکنا ہی ٹھہرا تو انمول کیوں نہ ہوجائیں۔۔"


" ہاں میں انمول ہوں۔۔۔۔ بہت بڑی قیمت لگتی ہے میری۔۔۔" اس نے ہنکارہ لیا اور گاڑی سے باہر دیکھنے لگی۔ وزیر صاحب کا گھر اب قریب ہی تھا۔


دل ہی دل میں وہ گنگنائی تھی۔
" میں ایک تمہت بھری غزل ہوں۔۔" یہ اس کی خود کی کہی گئی نظم تھی۔ لکھی یوں نہیں گئی تھی کبھی کہ اس کو لکھنا نہیں آتا تھا۔ ماں نے کچھ سکھایا تو تھا مگر اب وہ سارے حروف تک یاداشت سے مٹ چکے تھے۔۔۔


" ری عالیہ! اٹھ کیا سو سو کر بتائے گی آنے والا ہے گھر اب۔۔"
"
ایں گھر۔۔۔۔۔۔!" گانے سنتے سنتے سو گئی عالیہ کی آنکھ کھلی پھر بات سمجھ پر آنے پر ہوشیار ہوگئی۔" گھر بھی بھلا ہم لوگ کے مقدر ہوا کرتے ہیں۔۔۔ اس نے سوچا تھا۔


گاڑی گیٹ پر رک چکی تھی اور باہر کھڑے وزیر صاحب کے سیکریٹری کی موجودگی بتاتی تھی کہ کتنی بےتابی سے اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔


" آئیے آئیے سپنا جی آپ کا ہی انتظار ہو رہا ہے۔۔۔۔" سیکریٹری صاحب نے بانچھیں چیری تھیں۔


اس نے نزاکت سے اپنا پاؤں باہر نکالا تھا پنک شیفون کی ساڑھی اس پر خوب جچ رہی تھی۔۔" کم عالیہ بھی نہیں مگر اس میں ہے کچھ خاص۔۔۔"


" اے سیکریٹری ! سب ایک دم فٹ سیٹ ہے نا۔۔۔۔" عالیہ کی کلاس بدلی تھی مگر ٹھٹھے کرنے کی عادت نہیں جاتی تھی۔۔ وہ تھی بھی منہ پھٹ کہ سامنے والے کو عزت بچانی مشکل ہوجائے۔


سیکریٹری منہ بنا کر رہ گیا۔۔ اس کو خوب احساس تھا کہ اس کی کوئی عزت نہیں۔ یہ دوکوڑی کے لوگ بھی ایسے مخاطب کر سکتے ہیں۔


" جی سب سیٹ ہے آپ اندر آئیے۔۔ وہ دونوں سیکریٹری کی ہمراہی میں خراماں خراماں اندر داخل ہوئیں۔ اندر پارٹی عروج پر تھی۔ ڈیک کا نظام نہایت عمدہ تھا۔ایسا لگ رہا تھا چاروں طرف ایک ہی گانا گونج رہا ہو۔


" اوہ سپنا ڈارلنگ! " وزیر صاحب کا موڈ اچھا تھا لگتا تھا کافی تیاری کی ہوئی تھی۔
"
بس اب شروع ہو جاؤ اب مزید انتظار نہیں ہوتا۔ آج موڈ بنا دو بس پھر دبئی چلیں گے۔۔۔۔" عالیہ کا چہرہ دبئی سن کر کھل گیا۔ سپنا نے ایک ادا سے گردن گھما کر دیکھا۔۔ ابھی تو اس کو یورپ بھی دیکھنا تھا۔
گانا منسٹر صاحب کا پسندیدہ تھا وہ اکثر اس پر سپنا کو محو رقص دیکھنا پسند کرتے تھے۔


دھن شروع ہو چکی تھی۔۔ ایک دھن سپنا کے اندر بھی چھڑی تھی۔۔۔ مگر جسم تو باہر کے دھن پر لے لینے لگا تھا۔


سیاں ہے ویوپاری
چلیں ہیں پردیس
صورتیاں نہاروں
جیارہ بھاری ہووےے۔
سسرال گیندہ پھول


اس پر ایک شور و غوغا بلند ہوا۔۔ " واقعی سپنا کا جواب نہیں۔۔" سسری آج تو ساڑھی میں اور غضب ڈھا رہی ہے۔۔" یکے بعد دیگرے اس کی سماعت سے ٹکرائی تھیں یہ آوازیں۔ اس کا جسم تال پر لہرا رہا تھا۔۔ ایک رقص اس کے اندر بھی چل رہا تھا


ساس گاڑی دیوے
دیور سمجھا لیوے
سسرال گیندا پھول


" کیا ہم جیسوں کے نصیب میں ہوتا ہے سسرال۔۔۔" سپنا نے نرت کا ایک اور انداز اپنایا تھا جس پر شور وغوغا ہوا تھا۔۔
سیاں چھیڑ دیوے
نند چٹکی لیوے
سسرال گیندا پھول


اس کے نوچنے کھسوٹنے کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ مہذب لوگ اپنے مکوٹھے اتار چکے تھے بھیڑے کھال سے باہر آ گئے تھے۔۔ اس کے جسم پر لگے زخموں کا شمار کیا جاسکتا تھا دریدہ روح کا نہیں۔ باہر گانا چل رہا تھا۔
چھورا بابل کا انگنا
سسرال گیندا پھول
اندر درد تھا اور بہت درد تھا ہاں وہ ایسی کیوں بنائی گئی تھی۔۔ اس کا کیا قصور تھا۔


میں ایک تہمت بھری غزل ہوں
نہ بابل کی پیاری
نہ کسی کی دلاری
نہ میں مذکر، نہ میں مؤنث ہوں
میں بس ایک مخنث ہوں۔


آج نجانے کیوں اس کے رقص میں ایک وحشیانہ پن تھا۔



*********************


"میں ایک تہمت بھری غزل ہوں" کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Rubab
08-10-2010, 06:02 PM
بہت خوب مونا جی۔ بڑا مشکل ٹاپک چنا ہے، اور انصاف بھی خوب ہی کیا ہے۔
احساسات ک ترجمانی بہت اچھی کی ہے۔۔۔ اور ڈائلاگز بھی بہت عمدہ ہیں جیسے


"بیٹا" اس کی ہستی میں "ایوالانچ" پیدا ہوا جو اس کی ذات پر جمائی تہہ در تہہ پرتوں کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔


ابھی اپن لوگ بھی ہائی اسٹینڈرڈ میں آئے ہیں یہ باتیں نظر انداز کیا کر--شودی نہ ہو تو۔آج کے افسانے کے تحت بڑے پرفیکٹ افسانے سامنے آ رہے ہیں اور لگ رہا ہے کہ کسی پروفیشنل لکھنے والے نے لکھے ہیں۔ اتنے بہترین کام کے لئے رائٹرز سوسائٹی کا بےحد شکریہ۔

Kainat
08-10-2010, 06:49 PM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے مونا سس۔
ایک بہت مشکل ٹاپک ۔۔۔ جس پر شائد ہر کوئی قلم نہیں اٹھا سکتا۔
ایک کرکٹر کی طرح ایک قدم آگے آ کر آپ نے بال کھیلی۔
بولڈ ہو کر آپ نے تحریر لکھی۔ ورنہ سنگ باری کےخدشے سے رائیٹر کا قلم یہاں رک جاتا ہے۔
مگر میم کا کمال ہے کہ وہ کھل کر لکھ سکتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک جری اور نڈر رائیٹر ہیں۔
معاشرے کا ناسور ۔۔۔۔۔
انسانوں کے چھپے روپ، رویے اور خودغرضی کے چہروں سے خوب نقاب اتارے۔

HarfeDua
08-10-2010, 06:57 PM
بہتتتتت اچھا لکھا ہے مونا جی۔ اور بہتتت سیڈ ٹوپک پر۔ اور ٹائٹل بھی بڑا زبردست ہے افسانے کا۔
گڈ جاب!۔

Samia Ali
08-10-2010, 07:30 PM
ویل ڈن مونا سس بہت اچھا لکھا حالانکہ میں چار دفعہ پڑھ چکی تھی پر میں نے پانچویں دفعہ بھی پڑھ ہی لیا اور ایسا میں کم کم ہی کرتی ہوں کیونکہ بہت کم ہی کچھ پسند آتا ہے
اگین ویل ڈن آپ کے لئے کچھ پوائنٹس پر ان سے تو کم ہی ہیں جو آپ مجھے دیتی رہی ہیں ہاہاہا

اسماء
08-10-2010, 07:35 PM
ہائے بیچاری سپنا۔۔۔۔:(
آپ نے بہتتت اچھا لکھا مونا باجی۔۔۔جملے اتنی خوبصورتی سے لکھے۔۔ ٹاپک بھی بڑا ڈفرنٹ تھا بہتت اچھے سے انصاف کیا آپ نے۔۔
ویسے یہ بڑے لوگ بھی، ایک چہرے کے پیچھے کتنے چہرے چھپا لیتے ہیں اور خود پھر اشرافیہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔۔۔

ڈیزائننگ بھی نہتت اچھی ہے ماشاءاللہ
آج کا افسانہ بھی بہتت شاندار ہے۔۔

bluebird
08-10-2010, 07:45 PM
مونا سس واقعی کمال کا لکھا ہے.مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کن الفاظ میں تعریف کروں.وش یو آل دی بیسٹ آلویز

Saira Ali
08-10-2010, 08:14 PM
v.well done Mona its a gr8 effort:) .first time when i read this (u know when:) ) i thought its an 'iqtabas'from some story its really a mature piece of writng on such a sensitive topic.KEEP UP THE GUD WORK ."ALLAH kray zor-e-qalem aur zayada.:)

Mrs Shah
08-10-2010, 08:17 PM
bohot acha afsana hai, bohot sensitive topic par kafi khobsorti say detail main jaye bagair kafi achi tarhan insan kay andar ki feelings ko bayan kara hai.

Sabih
08-10-2010, 08:19 PM
مونا سس بہت ہی عمدہ رائٹر ہیں۔ ۔ ۔ ایسے منفرد اور نازک ایشو پر قلم اٹھانا ہی بہت بڑی بات ہوتی ہے اور اس کو نبھا جانا تو کمال ہی ہوتا ہے۔ ۔ ۔
لیکن مونا سس نے اس افسانے کو بطریق احسن نبھایا۔ الفاظ کا چناؤ بہت خوبصورت تھا۔ ۔ ۔احساسات کو بھی بہت اچھے سے بیان کیا۔
ویری ویری ویل رٹن۔ ۔ ۔ ۔

Noor-ul-Ain Sahira
08-10-2010, 08:20 PM
مونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم جیسے انداز سے افسانہ لکھتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جیسے موضوعات بنا ڈرے تختہ مشق بناتی ہو تو تمھاری ہمت کی داد نہ دینا زیادتی ہے۔۔۔۔۔۔ ہر موضوع پر بہت پر اعتماد ہو کر لکھتی ہو اور بہت ہی اچھے سے لکھتی ہو۔۔ بہت ڈیپ فیلینگز کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے تم مستقبل کی عصمت چغتائی بننے جا رہی ہو;)۔

Wish
08-10-2010, 10:05 PM
ایسے لوگوں کے بارے میں میں بہت سوچتی ہوں۔ ۔
کہ کیسی زندگی جیتے ہوں گے۔ ۔ ایک آدھ بار نیوز میں دیکھا۔ وہ وہاں رو رو کر بتا رہے تھے ۔۔۔
یہ وہ ٹاپک ہے جس نے ہمیشہ مجھے اداس ہی کیا۔۔ ۔ ۔

لیکن افسانہ میں نے یہ پہلا ہی پڑھا ہے ان لوگوں پہ۔ ۔ اور جیسا تم نے اینڈ کیا نا۔ ۔ ۔
آہ۔ ۔ ۔

جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو میرے پاس تو وہی باتیں ہیں سب کہنے کے لیے کہ تمہارا انداز بہت میچور ہے۔ ۔ ٹاپک کی سلیکشن ہمیشہ بہت احتیاط سے کرتی ہو۔ ۔ ۔

اچھی بات ہے۔ ۔ ۔
بہت امپریسو افسانہ ہے۔ ۔ ۔ یونہی لکھتی رہو۔

fiza_chillimilli
08-10-2010, 11:20 PM
زبردست
انتہائی نازک موضوع پہ نہایت عمدگی سے لکھا۔
ٹائٹل سمپل اور بہت خوبصورت لگا۔

Madiha
08-10-2010, 11:36 PM
کافی گہری تحریر تھی ایسے لوگ اپنے اندر کتنے چہرے چھپائے ہوئے بیٹھے ہوتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے تو جینا بھی بہت مشکل ہوتا ہوگا مونا سس بیسٹ آف لک

سعد
09-10-2010, 12:39 AM
ویسے تو افسانہ اچھا ہے لیکن منسٹر صاحب کا پسندیدہ گانا مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔

فائزہ صدف
09-10-2010, 12:43 AM
ایک مقابلہ ہوا تھا افسانوں کا جس میں رائٹرز کے نام بھی بوجھے گئے تھے جس میں سب سے آخر میں لڑکی کو اپنے پیچھے آواز سنائی دیتی ہے اور وہیں افسانے کا اینڈ ہو جاتا ہے سب کا خیال تھا کہ وہ ضمیر کی یا پھر اس کے بچے کی آواز تھی اس میں بھی بڑا حساس موضوع لیا تھا آپ نے اور اتنے ہی اچھے طریقے سے بیان کیا تھا آپکا انداز بہت امپریسو ہوتا ہے ہو زور قلم اور زیادہ

Meem
09-10-2010, 01:18 AM
بہت خوب مونا جی۔ بڑا مشکل ٹاپک چنا ہے، اور انصاف بھی خوب ہی کیا ہے۔
احساسات ک ترجمانی بہت اچھی کی ہے۔۔۔ اور ڈائلاگز بھی بہت عمدہ ہیں جیسے

آج کے افسانے کے تحت بڑے پرفیکٹ افسانے سامنے آ رہے ہیں اور لگ رہا ہے کہ کسی پروفیشنل لکھنے والے نے لکھے ہیں۔ اتنے بہترین کام کے لئے رائٹرز سوسائٹی کا بےحد شکریہ۔

بہت شکریہ، اپنی پسند کی رائٹر کے منہ سے اپنی تعریف سن کر بہت خوشی ہوتی ہے۔
واقعی سارے رائٹرز سوسائٹی کے جیولز ہیں۔ آہم آہم۔ میں خود بھی۔

Meem
09-10-2010, 01:19 AM
بہت اچھا افسانہ لکھا ہے مونا سس۔
ایک بہت مشکل ٹاپک ۔۔۔ جس پر شائد ہر کوئی قلم نہیں اٹھا سکتا۔
ایک کرکٹر کی طرح ایک قدم آگے آ کر آپ نے بال کھیلی۔
بولڈ ہو کر آپ نے تحریر لکھی۔ ورنہ سنگ باری کےخدشے سے رائیٹر کا قلم یہاں رک جاتا ہے۔
مگر میم کا کمال ہے کہ وہ کھل کر لکھ سکتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ایک جری اور نڈر رائیٹر ہیں۔
معاشرے کا ناسور ۔۔۔۔۔
انسانوں کے چھپے روپ، رویے اور خودغرضی کے چہروں سے خوب نقاب اتارے۔
بہت شکریہ، آپ خود ایک منفرد لکھنے والی ہیں اور ہم قلم کی تعریف کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔

Meem
09-10-2010, 01:21 AM
بہتتتتت اچھا لکھا ہے مونا جی۔ اور بہتتت سیڈ ٹوپک پر۔ اور ٹائٹل بھی بڑا زبردست ہے افسانے کا۔
گڈ جاب!۔
بہت شکریہ دعا۔


ویل ڈن مونا سس بہت اچھا لکھا حالانکہ میں چار دفعہ پڑھ چکی تھی پر میں نے پانچویں دفعہ بھی پڑھ ہی لیا اور ایسا میں کم کم ہی کرتی ہوں کیونکہ بہت کم ہی کچھ پسند آتا ہے
اگین ویل ڈن آپ کے لئے کچھ پوائنٹس پر ان سے تو کم ہی ہیں جو آپ مجھے دیتی رہی ہیں ہاہاہا

ہاہاہا میرے نزدیک آپ کی تعریف کے ساتھ آپ کی والدہ محترمہ کی تعریف کی اہمیت زیادہ ہے کہ وہ دعا کے حیثیت رکھتی ہے۔ بہت شکریہ۔ اتنا پیارا ڈیزاین کرنے کے لیے

Meem
09-10-2010, 01:25 AM
ہائے بیچاری سپنا۔۔۔۔:(
آپ نے بہتتت اچھا لکھا مونا باجی۔۔۔جملے اتنی خوبصورتی سے لکھے۔۔ ٹاپک بھی بڑا ڈفرنٹ تھا بہتت اچھے سے انصاف کیا آپ نے۔۔
ویسے یہ بڑے لوگ بھی، ایک چہرے کے پیچھے کتنے چہرے چھپا لیتے ہیں اور خود پھر اشرافیہ میں شامل ہو جاتے ہیں۔۔۔

ڈیزائننگ بھی نہتت اچھی ہے ماشاءاللہ
آج کا افسانہ بھی بہتت شاندار ہے۔۔
آہم آہم آہم۔ موڈ اچھا ہوا کچھ پڑھ کر۔


مونا سس واقعی کمال کا لکھا ہے.مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ کن الفاظ میں تعریف کروں.وش یو آل دی بیسٹ آلویز
بہت شکریہ۔ ویسے اچھے الفاظ میں کمنٹ کرنے کے لیے سلور پوائنٹس کا انعام ہے۔


v.well done Mona its a gr8 effort:) .first time when i read this (u know when:) ) i thought its an 'iqtabas'from some story its really a mature piece of writng on such a sensitive topic.KEEP UP THE GUD WORK ."ALLAH kray zor-e-qalem aur zayada.:)

بہت بہت بہت شکریہ۔ ویسے وہ ایک غلطی آپ کو ایک اچھی رائٹر سے ملا گئی۔
مزاق کر رہی ہوں۔ آمد کا شکریہ۔ دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔

Meem
09-10-2010, 01:27 AM
bohot acha afsana hai, bohot sensitive topic par kafi khobsorti say detail main jaye bagair kafi achi tarhan insan kay andar ki feelings ko bayan kara hai.
بہت شکریہ۔
زیادہ تفصیل اس لیے نہیں دی کہ مجھے خود الجھن ہوتی ہے۔ مگر آپ نے بات سمجھ لی یہ کامیابی ہے۔


مونا سس بہت ہی عمدہ رائٹر ہیں۔ ۔ ۔ ایسے منفرد اور نازک ایشو پر قلم اٹھانا ہی بہت بڑی بات ہوتی ہے اور اس کو نبھا جانا تو کمال ہی ہوتا ہے۔ ۔ ۔
لیکن مونا سس نے اس افسانے کو بطریق احسن نبھایا۔ الفاظ کا چناؤ بہت خوبصورت تھا۔ ۔ ۔احساسات کو بھی بہت اچھے سے بیان کیا۔
ویری ویری ویل رٹن۔ ۔ ۔ ۔


آہم آہم۔ اتنا سیریس تبصرہ۔
بہت شکریہ صبیح بھائی اتنے اچھے طریقے سے تبصرہ کرنے کے لیے۔

Meem
09-10-2010, 01:29 AM
مونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم جیسے انداز سے افسانہ لکھتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جیسے موضوعات بنا ڈرے تختہ مشق بناتی ہو تو تمھاری ہمت کی داد نہ دینا زیادتی ہے۔۔۔۔۔۔ ہر موضوع پر بہت پر اعتماد ہو کر لکھتی ہو اور بہت ہی اچھے سے لکھتی ہو۔۔ بہت ڈیپ فیلینگز کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے تم مستقبل کی عصمت چغتائی بننے جا رہی ہو;)۔
یہاں بقول تمہارے بےہوش ہونے والی اسمائلی۔ مجھے گھر سے نکال دیں گے اگر سن لیا عصمت چغتائی اسٹائل۔
تم خود بہت اچھا لکھتی ہو ماشاءاللہ اس لیے تمہاری تعریف کی بات ہی الگ ہے۔

Lubna Ali
09-10-2010, 01:31 AM
بہت اچھا لکھا مونا۔۔ ۔ ۔ اس صنف کے لوگوں کو دیکھ کر میں بھی اکثر سوچ میں پڑ جاتی ہوں ۔۔جب کہیں راہ چلتے ان پر نظر پڑجاتی ہے تو بس یہی سوچتی ہوں ان کی بھی کیا زندگی ہے۔۔۔ بہت اچھی طرح سے اس موضوع کو ہینڈل کیا ہے میرے لئے تو کم از بہت مشکل ہوگا اگر میں اس طرح کا کچھ لکھنا چاہوں۔
اچھا یہ جو نظم ہے سسرال گیندا پھول یہ بھِی تم نے خود لکھی ہے؟

Meem
09-10-2010, 01:32 AM
ایسے لوگوں کے بارے میں میں بہت سوچتی ہوں۔ ۔
کہ کیسی زندگی جیتے ہوں گے۔ ۔ ایک آدھ بار نیوز میں دیکھا۔ وہ وہاں رو رو کر بتا رہے تھے ۔۔۔
یہ وہ ٹاپک ہے جس نے ہمیشہ مجھے اداس ہی کیا۔۔ ۔ ۔

لیکن افسانہ میں نے یہ پہلا ہی پڑھا ہے ان لوگوں پہ۔ ۔ اور جیسا تم نے اینڈ کیا نا۔ ۔ ۔
آہ۔ ۔ ۔

جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو میرے پاس تو وہی باتیں ہیں سب کہنے کے لیے کہ تمہارا انداز بہت میچور ہے۔ ۔ ٹاپک کی سلیکشن ہمیشہ بہت احتیاط سے کرتی ہو۔ ۔ ۔

اچھی بات ہے۔ ۔ ۔
بہت امپریسو افسانہ ہے۔ ۔ ۔ یونہی لکھتی رہو۔





ان کی جیسی زندگی ہوتی ہے نا وش میں نے تو لکھا ہی نہیں وہ۔ کسی کو بتانا مت ہمارے گھر ایک آتی ہے اس سے کافی دوستی ہے میری۔ تو کافی کچھ جو گھر میں جہاں پیدا ہوتے ہیں یہ جیسا سلوک ہوتا ہے۔ مت پوچھو۔
وہ لکھنے کے لیے بہت حوصلہ چاہیے۔
اور آمد کا بےحد شکریہ۔

Meem
09-10-2010, 01:36 AM
زبردست
انتہائی نازک موضوع پہ نہایت عمدگی سے لکھا۔
ٹائٹل سمپل اور بہت خوبصورت لگا۔

بہت شکریہ آپ کی آمد کا اور پسند کرنے کے لیے بھی۔


کافی گہری تحریر تھی ایسے لوگ اپنے اندر کتنے چہرے چھپائے ہوئے بیٹھے ہوتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے تو جینا بھی بہت مشکل ہوتا ہوگا مونا سس بیسٹ آف لک
بہت شکریہ دعا کے لیے۔ آپ نے بالکل بجا فرمایا واقعی ان کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے تب ہی اللہ کے پیارے ہوتے ہیں شاید۔


ویسے تو افسانہ اچھا ہے لیکن منسٹر صاحب کا پسندیدہ گانا مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔
~ بھلا وہ کیوں خلیفہ جی۔


ایک مقابلہ ہوا تھا افسانوں کا جس میں رائٹرز کے نام بھی بوجھے گئے تھے جس میں سب سے آخر میں لڑکی کو اپنے پیچھے آواز سنائی دیتی ہے اور وہیں افسانے کا اینڈ ہو جاتا ہے سب کا خیال تھا کہ وہ ضمیر کی یا پھر اس کے بچے کی آواز تھی اس میں بھی بڑا حساس موضوع لیا تھا آپ نے اور اتنے ہی اچھے طریقے سے بیان کیا تھا آپکا انداز بہت امپریسو ہوتا ہے ہو زور قلم اور زیادہ

کیااااااااا نہیںںں:o اس کے بعد تم نے کچھ نہیں پڑھا۔ تم محروم رہ گئیں کچھ تحاریر سے۔
آمد کا بےحد شکریہ۔ اوپر مزاق کرر ہی تھی۔

Meem
09-10-2010, 01:38 AM
بہت اچھا لکھا مونا۔۔ ۔ ۔ اس صنف کے لوگوں کو دیکھ کر میں بھی اکثر سوچ میں پڑ جاتی ہوں ۔۔جب کہیں راہ چلتے ان پر نظر پڑجاتی ہے تو بس یہی سوچتی ہوں ان کی بھی کیا زندگی ہے۔۔۔ بہت اچھی طرح سے اس موضوع کو ہینڈل کیا ہے میرے لئے تو کم از بہت مشکل ہوگا اگر میں اس طرح کا کچھ لکھنا چاہوں۔
اچھا یہ جو نظم ہے سسرال گیندا پھول یہ بھِی تم نے خود لکھی ہے؟


کیوں نہیں کر سکتی آپ خود بہت اچھا لکھتی ہیں ماشاء اللہ۔
کوشش کریں تو کچھ نہ کچھ نکل ہی آتا ہے اور ان کی زندگی واقعی قابل رحم ہوتی ہے۔
اور یہ ایک گانا ہے جو کہ پرسن جوشی کا ہے۔ میرا نہیں۔~

Lubna Ali
09-10-2010, 01:39 AM
کیوں نہیں کر سکتی آپ خود بہت اچھا لکھتی ہیں ماشاء اللہ۔
کوشش کریں تو کچھ نہ کچھ نکل ہی آتا ہے اور ان کی زندگی واقعی قابل رحم ہوتی ہے۔
اور یہ ایک گانا ہے جو کہ پرسن جوشی کا ہے۔ میرا نہیں۔~
پرسون جوشی کون؟

Mahnoor Khan
09-10-2010, 01:41 AM
مونا جی بہت اچھا لکھا ہے۔ مجھے بہت اچھا لگا۔

Mohsina
09-10-2010, 01:51 AM
بڑا ہی عمدہ لکھا۔ ۔ مونا جی!۔ ۔
اور ڈیزائننگ بھی خوب ہے!۔ ۔ ۔

Meem
09-10-2010, 01:58 AM
پرسون جوشی کون؟
~ گانے کے شاعر۔ کیا پتا یہ نام بھی الٹا لکھا ہو میں نے کیونکہ ان کے نام مشکل ہوتے ہیں۔ مجھے رمشاء نے یہی بتایا تھا کہ آج کل یہ گانا بہت ہٹ ہے تو اسپر ہی ڈانس ہوتا ہے۔


مونا جی بہت اچھا لکھا ہے۔ مجھے بہت اچھا لگا۔
بہت شکریہ ماہ نور۔


بڑا ہی عمدہ لکھا۔ ۔ مونا جی!۔ ۔
اور ڈیزائننگ بھی خوب ہے!۔ ۔ ۔

بہت شکریہ محسنہ جی۔ ڈیزائنر تو اب ہماری ماشاء اللہ ایکسپرٹ ہوگئی ہیں۔

NaimaAsif
09-10-2010, 02:14 AM
بہتتتتتتتتتتتتتتتت ہی خوب مونا جی۔:)

سب سے پہلے تو مجھے ٹائٹل بے حد پسند آیا۔ آپ کے ٹائٹلز کمال کے ہوتے ہیں۔ *سیاہ آنسو* والا بھی یونیک اور کمال تھا۔ یہ بھی امپریسیو۔

ڈیزائننگ بہت اچھی کی ہے ،شاباش، جس نے بھی کی۔

افسانہ بہت زبردست لگا مزا آ گیا پڑھ کر۔ روٹین کے ٹاپکس سے ہٹ کر ایک بہت حساس موضوع۔ اور جتنا بھی بیان کیا بہت سچ بیان کیا۔ مجھے افسانے کا اختتام بے حد اچھا لگا۔ اتنے اچھے انداز میں یقیناً آپ ہی لکھ سکتی تھیں۔ مجھے تو ابھی تک وہ *سیاہ آنسو* نہیں بھولتا کیا کمال کا لکھا تھا ویری امپریسیو۔ اور یہ بھی بلا شبہ بہترین ہے۔ تھینکس۔:)

Meem
09-10-2010, 02:29 AM
بہتتتتتتتتتتتتتتتت ہی خوب مونا جی۔:)

سب سے پہلے تو مجھے ٹائٹل بے حد پسند آیا۔ آپ کے ٹائٹلز کمال کے ہوتے ہیں۔ *سیاہ آنسو* والا بھی یونیک اور کمال تھا۔ یہ بھی امپریسیو۔

ڈیزائننگ بہت اچھی کی ہے ،شاباش، جس نے بھی کی۔

افسانہ بہت زبردست لگا مزا آ گیا پڑھ کر۔ روٹین کے ٹاپکس سے ہٹ کر ایک بہت حساس موضوع۔ اور جتنا بھی بیان کیا بہت سچ بیان کیا۔ مجھے افسانے کا اختتام بے حد اچھا لگا۔ اتنے اچھے انداز میں یقیناً آپ ہی لکھ سکتی تھیں۔ مجھے تو ابھی تک وہ *سیاہ آنسو* نہیں بھولتا کیا کمال کا لکھا تھا ویری امپریسیو۔ اور یہ بھی بلا شبہ بہترین ہے۔ تھینکس۔:)

ڈیزائنر سائرہ علی ہیں اس کی۔ جن کی اتنیی محنت اور محبت سے یہ افسانہ آپ تک اس شکل میں پہنچا۔
اور بہت شکریہ۔ اصل میں آپ اتنے اچھے طریقے سے تعریف کرتی ہیں کہ لکھنے والا اس لیے کوشش کر کے اچھا لکھتا ہے کہ اس کی محنت وصول ہوگی۔ جزاک اللہ اور آمد کا بےحد شکریہ۔

Rubab
09-10-2010, 03:36 AM
بہت شکریہ، اپنی پسند کی رائٹر کے منہ سے اپنی تعریف سن کر بہت خوشی ہوتی ہے۔
واقعی سارے رائٹرز سوسائٹی کے جیولز ہیں۔ آہم آہم۔ میں خود بھی۔
بہت شکریہ مونا جی۔ اچھا تو آپ لکھتی ہیں میں تو بس ایسے ہی اٹکل پچو وغیرہ چلاتی رہتی ہوں۔

Rubab
09-10-2010, 03:37 AM
مونا جی بہت اچھا لکھا ہے۔ مجھے بہت اچھا لگا۔


ویسے تو افسانہ اچھا ہے لیکن منسٹر صاحب کا پسندیدہ گانا مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگا۔

ان دونوں پوسٹس کو میرا گرون ہے۔

میرا افسانہ کیوں نہیں پڑھا۔۔ ناراض ہونے والی سمائلی۔

Abeeha
09-10-2010, 03:43 AM
good effort

niuslyguy
09-10-2010, 04:16 AM
مونا بہت بہت بہت اچھا لکھا موضوع بھی بہت اچھا تھااور اسے نبھایا بھی آپ نے بہت اچھے سے

niuslyguy
09-10-2010, 04:19 AM
کل میں نے کائنات سس کا افسانہ پڑھا تھااب نہیں مل رہا کسی کو پتہ ہے یہ جو ڈیلی افسانے آ رہے ہیں ان کو ہم کہاں پڑھ سکتے ہین کیونکہ سمارا سس کا تو میں نے نہین پڑھا

Fozan
09-10-2010, 04:49 AM
اگرچہ یہ موضوع پرانا ہے مگر ہمیشہ لکھاری اور قاری کیلئے ایک جاذبیت اور کشش رکھتا ہے۔ ایسے کرداروں میں اندر کا کنفلیکٹ بھی اکثر ایسے ہی دیکھایا جاتا ہے مگر مونا سس آپ کی تحریر کی خوبی اسکا مختصر ہونا اور اس میں غزل کا اضافہ ہے جو اسے باقی سے منفرد بنا رہا ہے۔

Hira Qureshi
09-10-2010, 06:57 AM
ہمیشہ کی طرح بہترین! مونا آپ بولڈ موضوعات پر لکھتی ہیں لیکن بہت اچھا لکھتی ہیں۔ عام طور پر لوگ ایسے موضوعات پر لکھتے ہوئے گھبراتے ہیں لیکن آپ بہت آسانی سے اپنا پیغام قارئین تک پہنچادیتی ہیں۔
یہ افسانہ بھی بہت زبردست لکھا ہے بلکہ میرا خیال ہے کہ افسانہ نگاری کے مقابلے کے لیے لکھتیں تو اس پر پوزیشن ضرور آنی تھی۔

Skyla
09-10-2010, 07:13 AM
مونا آپکی تحریر پڑھ کر کسی ادیب کی کہی بات یاد آگئ کہ ایک کثیر المطالعہ شخص اچھا رائٹر ضرور بنے گا بشرطیکہ اس میں لکھنے کی صلاحیت ھو - ماشاللہ آپ نے آپ بہت خوب لکھا ھے - کہانی کے دو پہلوؤں پر آپکی گرفت بہت مظبوط ھے ایک تو سسپنس اور دوسرے مختصر نویسی - یعنی short and precise کی تعریف پر پورا اترتا ھے یہ افسانہ -
گانے کے بول بھی بہت برمحل لگے اور اس میں آپ مجھے کلاسیک رائٹرز سے متاثر نظر آیئں - ایسے ھی جیسے قرہ العین حیدر نے ، "اگلے جنم موھے بٹیا نا کیجو" اور "مائی ری میں تو لیور میو مول" جسے پرانے پوربی اور بنگالی گیت استمعال کیئے ھیں -
اگر چند لایئنیں سپنا کے والدین اور پس منظر پر مزید ھوجاتیں تو کوئی ھرج نہیں تھا اسکے علاوہ مجھے کوئی ایسی خامی نظر نہیں آئی- - برجستہ ڈایئلاگ ،برمحل جملے اور گردو پیش کو ساتھ لیکر چلتی ھوئی یہ ایک عمدہ تحریر ھے - لکھتی رھیئے - آپکے قلم میں اور نکھار پیدا ھوگا - انشاءاللہ-

روشنی
09-10-2010, 09:34 AM
دل کو چھو جانے والی تحریر۔۔۔۔عنوان بھی زبردست رہا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔بہت اچھا لکھا مونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔آپ کی تحاریر میں کافی میچورٹی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بھی آپ کے بہترین افسانوں میں ایک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکھ تی رہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Hina Rizwan
09-10-2010, 11:02 AM
بہت ہی اچھا لکھا ہے آپ نے مونا باجی
بہت حساس مضوع، آپ ہمیشہ ہی ایسا افسانہ لکھتی جو کسی نہ کسی طرح یاد رہ جاتا ہے
پہلے وہ سیاہ آنسو اور اب یہ
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بہترین لکھا ہے آپ نے

نویدظفرکیانی
09-10-2010, 11:11 AM
ماشاء اللہ
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

رفعت
09-10-2010, 11:54 AM
بہت اچھا لکھا مونا
کوئی تحریر ایسی ہوتی ہے جس کو پڑھتے ہوئے ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
یہ واقعی اتنی پراثر تحریر لگی
لکھتی رہو

Arain
09-10-2010, 12:22 PM
بہت ہی اچھا لکھا ہے مونا سس ۔

ٹائیٹل بہت ہی اچھا تھا۔ بہت ہی پراثر تحریر تھی۔ معاشرے کے بہت سے کرداروں میں سے ایک کردار کی کہانی، اور احساسات جو وہ اپنے اندر سموئے رکھتے ہیں:(۔

لکھتی رہیے ۔

شکریہ

Durre Nayab
09-10-2010, 12:34 PM
اس موضوع پر بہت ہی کم قلم اٹھایا گیا ہے۔ اگر کچھ لکھا بھی گیا ہے تو یا تو ان کی تضحیک کا سامان بنایا گیا یا ان پر طنزومزاح لکھا گیا بلکہ زیادہ ترتو انہیں معاشرے میں پھیلتی برائیوں کی جڑ اور ایک برا کیریکٹر بتایا گیا۔ کسی نے ان کے دل میں جھانک کر ان کی روح کے زخم دکھانے کی کوشش نہیں کی۔ بس ان کے ارد گرد سے کہانیاں لے کر لکھی گئیں۔ آپ کی انوکھے موضوع اور انداز بیان ہمیشہ سے ہی قابل تحسین رہا ہے مگر ہر دوسری کہانی پہلی سے بھی زیادہ اسٹرونگ ہوتی ہے۔ ویری ویل ریٹن۔ اورمان گئے استانی جی۔ ایسے ہی لکھتی رہا کریں۔

سعد
09-10-2010, 12:40 PM
ان دونوں پوسٹس کو میرا گرون ہے۔
میرا افسانہ کیوں نہیں پڑھا۔ ناراض ہونے والی سمائلی۔

اوہو! مارے گئے۔
ناراضی نہیں چلے گی داروغہ جی! آپ کا افسانہ میں نے پڑھا تھا لیکن پڑھنے کے بعد مجھے الفاظ نہیں مل سکے۔

IN Khan
09-10-2010, 12:48 PM
بہت ہی اعلٰی مونا جی
میں گرچہ افسانے کم کم ہی پڑھتا ہوں۔۔ مگر عنوان نے اپنی طرف کھینچا۔
پڑھنا شروع کیا تو سانس روکے بس پڑھتا چلا گیا۔۔

کیا انداز تحریر ہے کہ قاری کو پوری طرح سے گرفت میں لے لیتا ہے۔
حساس موضوع پر بےلاگ اور بلا جھجک تحریر۔۔۔
بس دل چھو لیا۔۔

جیتی رہیئے اور ایسی اچھی تحریروں سے ہمیں نوازتی رہیئے۔

Meem
09-10-2010, 01:04 PM
بہت شکریہ مونا جی۔ اچھا تو آپ لکھتی ہیں میں تو بس ایسے ہی اٹکل پچو وغیرہ چلاتی رہتی ہوں۔
چلیں جی مت مانیں مجھے وہی اٹکل پچو پسند ہیں۔


ان دونوں پوسٹس کو میرا گرون ہے۔


میرا افسانہ کیوں نہیں پڑھا۔۔ ناراض ہونے والی سمائلی۔
نہیں چلے گا گرون، دونوں اچھے بچے ہیں۔

good effort
بےحد شکریہ پسندیدگی کا اور آپ کی آمد کا۔


مونا بہت بہت بہت اچھا لکھا موضوع بھی بہت اچھا تھااور اسے نبھایا بھی آپ نے بہت اچھے سے


کل میں نے کائنات سس کا افسانہ پڑھا تھااب نہیں مل رہا کسی کو پتہ ہے یہ جو ڈیلی افسانے آ رہے ہیں ان کو ہم کہاں پڑھ سکتے ہین کیونکہ سمارا سس کا تو میں نے نہین پڑھا
بےحد شکریہ آپ کی آمد اور پسندیدگی کا بھی۔ آج کا افسانہ میں کوئی ایک ہی افسانہ ہوگا جو کہ بس 24 گھنٹے تک میسر رہے گا۔ اگلے دن کسی اور کی کاوش میسر آئے گی۔ تو روز نظر رکھنا از حد ضروری ہے۔

Meem
09-10-2010, 01:08 PM
اگرچہ یہ موضوع پرانا ہے مگر ہمیشہ لکھاری اور قاری کیلئے ایک جاذبیت اور کشش رکھتا ہے۔ ایسے کرداروں میں اندر کا کنفلیکٹ بھی اکثر ایسے ہی دیکھایا جاتا ہے مگر مونا سس آپ کی تحریر کی خوبی اسکا مختصر ہونا اور اس میں غزل کا اضافہ ہے جو اسے باقی سے منفرد بنا رہا ہے۔

بہت شکریہ، آمنہ جی آپ کی آمد کا اور تحریر پسند کرنے کے لیے بھی۔ یہ لوگ ہمیشہ سے ہی ہیں اور لوگوں کو الگ دکھتے ہیں تو متاثر بھی کرتے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح بہترین! مونا آپ بولڈ موضوعات پر لکھتی ہیں لیکن بہت اچھا لکھتی ہیں۔ عام طور پر لوگ ایسے موضوعات پر لکھتے ہوئے گھبراتے ہیں لیکن آپ بہت آسانی سے اپنا پیغام قارئین تک پہنچادیتی ہیں۔
یہ افسانہ بھی بہت زبردست لکھا ہے بلکہ میرا خیال ہے کہ افسانہ نگاری کے مقابلے کے لیے لکھتیں تو اس پر پوزیشن ضرور آنی تھی۔

بہت شکریہ حرا،ٌپسند کرنے کے لیے بھی اور آمد کے لیے بھی۔ جو میرے دل کو لگتا ہے وہ دوسرے کے دل تک پہنچ جائے بس یہ کوشش ہوتی ہے۔ اور رہی پوزیشن کی بات تو نیک گمان کے لیے شکریہ۔

Meem
09-10-2010, 01:11 PM
آپ کی آمد اور تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ۔ آپ دوسری ہیں جس نے قرۃ العین حیدر سے میرا لکھنے کا طریقہ ملایا ہے۔ ~اور اتنے اچھے کمنٹ پر جزاک اللہ۔



مونا آپکی تحریر پڑھ کر کسی ادیب کی کہی بات یاد آگئ کہ ایک کثیر المطالعہ شخص اچھا رائٹر ضرور بنے گا بشرطیکہ اس میں لکھنے کی صلاحیت ھو - ماشاللہ آپ نے آپ بہت خوب لکھا ھے - کہانی کے دو پہلوؤں پر آپکی گرفت بہت مظبوط ھے ایک تو سسپنس اور دوسرے مختصر نویسی - یعنی short and precise کی تعریف پر پورا اترتا ھے یہ افسانہ -
گانے کے بول بھی بہت برمحل لگے اور اس میں آپ مجھے کلاسیک رائٹرز سے متاثر نظر آیئں - ایسے ھی جیسے قرہ العین حیدر نے ، "اگلے جنم موھے بٹیا نا کیجو" اور "مائی ری میں تو لیور میو مول" جسے پرانے پوربی اور بنگالی گیت استمعال کیئے ھیں -
اگر چند لایئنیں سپنا کے والدین اور پس منظر پر مزید ھوجاتیں تو کوئی ھرج نہیں تھا اسکے علاوہ مجھے کوئی ایسی خامی نظر نہیں آئی- - برجستہ ڈایئلاگ ،برمحل جملے اور گردو پیش کو ساتھ لیکر چلتی ھوئی یہ ایک عمدہ تحریر ھے - لکھتی رھیئے - آپکے قلم میں اور نکھار پیدا ھوگا - انشاءاللہ-

Meem
09-10-2010, 01:15 PM
دل کو چھو جانے والی تحریر۔۔۔۔عنوان بھی زبردست رہا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔بہت اچھا لکھا مونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔آپ کی تحاریر میں کافی میچورٹی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بھی آپ کے بہترین افسانوں میں ایک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لکھ تی رہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمد اور تحریر کی پسندیدگی کا بےحد شکریہ۔


بہت ہی اچھا لکھا ہے آپ نے مونا باجی
بہت حساس مضوع، آپ ہمیشہ ہی ایسا افسانہ لکھتی جو کسی نہ کسی طرح یاد رہ جاتا ہے
پہلے وہ سیاہ آنسو اور اب یہ
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بہترین لکھا ہے آپ نے
بہت شکریہ حنا، تحریر پسند کرنے کے لیے اور آمد کا بھی۔

ماشاء اللہ
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
جزاک اللہ خیراً کثیراً۔ ظفر بھائی۔ دعا کے لیے اور آمد کا بےحد شکریہ۔


بہت اچھا لکھا مونا
کوئی تحریر ایسی ہوتی ہے جس کو پڑھتے ہوئے ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
یہ واقعی اتنی پراثر تحریر لگی
لکھتی رہو
ہاں بس سمجھو اس دن کچھ دیکھا تھا ایسا کہ رات کو نیند بھی غائب ہوگئی اور پھر اٹھ کر اس کو لکھا تھا۔ اس میں کافی غلطیاں بھی تھیں جو درست کرائی گئی ہیں۔



بہت ہی اچھا لکھا ہے مونا سس ۔

ٹائیٹل بہت ہی اچھا تھا۔ بہت ہی پراثر تحریر تھی۔ معاشرے کے بہت سے کرداروں میں سے ایک کردار کی کہانی، اور احساسات جو وہ اپنے اندر سموئے رکھتے ہیں:(۔

لکھتی رہیے ۔

شکریہ




بےحد شکریہ آمد کا، اشرف بھائی۔ جی ہاں یہ لوگ ہمارے معاشرے کا ہی ایک حصہ ہیں جن کو کاٹ کر پھینک دینے کی کوشش کی جاتی ہے بجائے ایک کار آمد شہری بنانے کے۔

Meem
09-10-2010, 01:17 PM
اس موضوع پر بہت ہی کم قلم اٹھایا گیا ہے۔ اگر کچھ لکھا بھی گیا ہے تو یا تو ان کی تضحیک کا سامان بنایا گیا یا ان پر طنزومزاح لکھا گیا بلکہ زیادہ ترتو انہیں معاشرے میں پھیلتی برائیوں کی جڑ اور ایک برا کیریکٹر بتایا گیا۔ کسی نے ان کے دل میں جھانک کر ان کی روح کے زخم دکھانے کی کوشش نہیں کی۔ بس ان کے ارد گرد سے کہانیاں لے کر لکھی گئیں۔ آپ کی انوکھے موضوع اور انداز بیان ہمیشہ سے ہی قابل تحسین رہا ہے مگر ہر دوسری کہانی پہلی سے بھی زیادہ اسٹرونگ ہوتی ہے۔ ویری ویل ریٹن۔ اورمان گئے استانی جی۔ ایسے ہی لکھتی رہا کریں۔

متفق دری۔ آپ لوگ کی حوصلہ افزائی ایسے ہی رہی تو یقیناً لکھتی رہوں گی۔ اور آمد کا اور تحریر کی پسندیدگی کا بےحد شکریہ۔

Meem
09-10-2010, 01:20 PM
بہت ہی اعلٰی مونا جی
میں گرچہ افسانے کم کم ہی پڑھتا ہوں۔۔ مگر عنوان نے اپنی طرف کھینچا۔
پڑھنا شروع کیا تو سانس روکے بس پڑھتا چلا گیا۔۔

کیا انداز تحریر ہے کہ قاری کو پوری طرح سے گرفت میں لے لیتا ہے۔
حساس موضوع پر بےلاگ اور بلا جھجک تحریر۔۔۔
بس دل چھو لیا۔۔

جیتی رہیئے اور ایسی اچھی تحریروں سے ہمیں نوازتی رہیئے۔

آمد کا بےحد شکریہ۔ عنوان کے لیے تو اردو بھائی سب کو ہی سکھاتے ہیں کہ عمدہ ہونا چاہیے بس ان کی صلاح پر ایک کوشش تھی یہ۔
اور آپ کے تبصرہ کا بھی بےحد شکریہ یہ ہی حوصلہ افزائی آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔

پرنس
09-10-2010, 01:24 PM
اچھا لکھا ہے آپ نے۔مشکل موضوع پر ایک بہت منفرد اور اچھی تحریر ۔۔مزید بہتر بھی ہوسکتی تھی اگر آخر میں کوئی ایسا جملہ ہوتا جو اس کے درد کی وجہ بننے والے رشتے کا بیان کرتا۔۔۔اختتامی جملے کے حوالے سے تھوڑی سی تشنگی ہے کہ اس سے بہتر ہوسکتا تھا لیکن پھر بھی بہت کمال کی ہے۔ایسا ہی اچھا لکھتی رہئے
:)

fatima201
09-10-2010, 01:29 PM
MA bohat bohat acha likha :) perh ker maz aya ...meri taraf say 500 points ap kye lia :)

کوثر بیگ
09-10-2010, 02:18 PM
بہت بہت حساس تحریر ہے عورت کےاس پہلو پر لکھنا تو درکنار بولنا اور سوچنا تک پسند نہیں کرتے ہم،۔حالات سے مجبور بھی ہوسکتے ہیں ان کو بھی اس گندی زندگی سے نفرت ہوسکتی ہے اس طرح سے جینے والوں کو بھی اپنی مرضی سے جینا چاھیے انکو بھی گھر اور عزت چاھیے ۔ یہ سب سوچنےپر اس افسانہ نے دعوت دی ہے ۔ بہت عمدہ تحریر ہے ہر جملہ نے متاثر کیاا للہ کرے اسی طرح افسانے آ ب کے پڑھنے کو ملتے رہیے ۔

Faaizaa
09-10-2010, 03:01 PM
بھت خوب بھیجا تو آپ نے زبردستی ھے مگر واقعی نہ پڑھتی تو محروم رھتی ،،مجھے دکھی کچھ بھی نی اچھا لگتا بس کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے زندگی کی خوبصورتی کو محسوس کرنا پسند ھیے دکھی کر دیا،،،ھقیقت دکھا کہ،،گڈ جاب لکھا تو جو لکھا ھی مگر ٹاپک چننا ھی بھادری ھے ،،،لوگ عام طور پہ نھی پسند کرتے بھیانک چھرہ معاشرے کے ٹھیکیداروں کا،،بھت مبارک کہ آپکی محنت رنگ لائ

KishTaj
09-10-2010, 03:15 PM
السلامُ علیکم
جتنا عمدہ افسانہ پہے اتنا ہی عمدہ ٹائٹل بھی منتخب کیا ہے۔
امپریسوو۔۔۔ ویری نائس۔۔۔ اللہ پاک آپ کو لکھنے کی مزید صلاحیت اور قلم میں روانگی عطا فرمائے۔
آمین۔ ثم آمین

Zainab
09-10-2010, 03:23 PM
مونا ، بہت اچھا لکھا ہے آپ نے
میں نے بھی تین بار پڑھا

Meem
09-10-2010, 04:28 PM
MA bohat bohat acha likha :) perh ker maz aya ...meri taraf say 500 points ap kye lia :)
ہی ہی ہی۔ پہلے تو ناول پوسٹنے پر ملتے تھے پوائنٹس اب خود لکھنے پر بھی ملنے لگے۔
آمد کا بےحد شکریہ۔


بہت بہت حساس تحریر ہے عورت کےاس پہلو پر لکھنا تو درکنار بولنا اور سوچنا تک پسند نہیں کرتے ہم،۔حالات سے مجبور بھی ہوسکتے ہیں ان کو بھی اس گندی زندگی سے نفرت ہوسکتی ہے اس طرح سے جینے والوں کو بھی اپنی مرضی سے جینا چاھیے انکو بھی گھر اور عزت چاھیے ۔ یہ سب سوچنےپر اس افسانہ نے دعوت دی ہے ۔ بہت عمدہ تحریر ہے ہر جملہ نے متاثر کیاا للہ کرے اسی طرح افسانے آ ب کے پڑھنے کو ملتے رہیے ۔
آمد کا بےحد شکریہ۔ کوثر آپی۔


السلامُ علیکم
جتنا عمدہ افسانہ پہے اتنا ہی عمدہ ٹائٹل بھی منتخب کیا ہے۔
امپریسوو۔۔۔ ویری نائس۔۔۔ اللہ پاک آپ کو لکھنے کی مزید صلاحیت اور قلم میں روانگی عطا فرمائے۔
آمین۔ ثم آمین

وعلیکم السلام،
آمد کا اور تحریر پسند کرنے کے لیے بےحد شکریہ۔

مونا ، بہت اچھا لکھا ہے آپ نے
میں نے بھی تین بار پڑھا
جزاک اللہ خیراً کثیراً۔
آمد کا بےحد شکریہ۔

Meem
09-10-2010, 04:31 PM
بھت خوب بھیجا تو آپ نے زبردستی ھے مگر واقعی نہ پڑھتی تو محروم رھتی ،،مجھے دکھی کچھ بھی نی اچھا لگتا بس کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے زندگی کی خوبصورتی کو محسوس کرنا پسند ھیے دکھی کر دیا،،،ھقیقت دکھا کہ،،گڈ جاب لکھا تو جو لکھا ھی مگر ٹاپک چننا ھی بھادری ھے ،،،لوگ عام طور پہ نھی پسند کرتے بھیانک چھرہ معاشرے کے ٹھیکیداروں کا،،بھت مبارک کہ آپکی محنت رنگ لائ
وہی تو لوگ ہل ہی نہیں رہے کہ پڑھ لیں۔ اب روز ایک افسانہ اور روز آپ کا ایک کمنٹ پکا ہے نا!!!
آمد کا اور پسند کرنے کا بےحد شکریہ۔

Rubab
09-10-2010, 07:05 PM
اس موضوع پر بہت ہی کم قلم اٹھایا گیا ہے۔ اگر کچھ لکھا بھی گیا ہے تو یا تو ان کی تضحیک کا سامان بنایا گیا یا ان پر طنزومزاح لکھا گیا بلکہ زیادہ ترتو انہیں معاشرے میں پھیلتی برائیوں کی جڑ اور ایک برا کیریکٹر بتایا گیا۔ کسی نے ان کے دل میں جھانک کر ان کی روح کے زخم دکھانے کی کوشش نہیں کی۔ بس ان کے ارد گرد سے کہانیاں لے کر لکھی گئیں۔ آپ کی انوکھے موضوع اور انداز بیان ہمیشہ سے ہی قابل تحسین رہا ہے مگر ہر دوسری کہانی پہلی سے بھی زیادہ اسٹرونگ ہوتی ہے۔ ویری ویل ریٹن۔ اورمان گئے استانی جی۔ ایسے ہی لکھتی رہا کریں۔
بقول میری امی ایسے لوگوں کا کبھی مذاق نہیں اڑانا چاہئے، اور ان کی بددعا سے بچنا چاہئے، ان کا دل پہلے ہی بہت دکھا ہوتا ہے تو اس کو مزید دکھی نہیں کرنا چاہئے۔

میں عموماً فقیروں کو کم ہی پیسے دیتی ہوں کہ زیادہ تر پیشہ ور ہوتے ہیں، لیکن اگر کبھی ان میں سے کوئی سامنے آ جائے تو ضرور دیتی ہوں کہ ان کے ساتھ تو پہلے ہی بہت ظلم ہو چکا ہے۔ لیکن آج کل بہت سارے لوگ ویسے بھی میک اپ کرکے آ جاتے ہیں اور جھوٹا ڈھونگ رچاتے ہیں۔۔۔ اس بات سے مجھے خیال آیا کہ ایک افسانہ ایسے لوگوں پر بھی تو لکھا جا سکتا ہے جو ایسا ہونے کا ناٹک کرتے ہوں۔۔۔ تو پھر کون کر رہا ہے ہمت۔۔۔

Saahil
09-10-2010, 08:21 PM
:)بہت ہی اچھا لکھا مونا جی ۔۔۔۔
بہت سی جگہوں پر لگا کہ کسی بڑے رائٹر کی تحریر ھو ۔۔۔۔۔
:pمدیرہ اعلٰی ھونے کا خوب حق ادا کیاا۔۔۔۔۔

گوکہ میرا کمنٹس کرنا ضروری نہیں تھا
لیکن نہ کرتا تو شاید رائٹر کے ساتھ ناانصافی کرنے والی بات :pھوجاتی ۔۔۔۔۔
:)کیپ رائٹنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sehar Azad
09-10-2010, 08:38 PM
السلام علیکم!

یہ ایک بہت ہی پیاری تحریر ہے جو کہ ہمیں اس صنف کے احساسات‘ خاص طور پر ان کے درد کے بہت قریب لے کر آ جاتا ہے۔ اور یہی اس تحریر کے مصنف کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

میرا مصنف کے لیے ایک مشورہ ہے کہ وہ افسانے کو یک پہلو سے نکال کر دو طرفہ بناتے تو کیا ہی بات ہوتی۔

رمیصا
09-10-2010, 08:39 PM
سوسائٹی کی طرف سے ایک سے ایک بڑھ کر ایک افسانے سامنے آرہے ہیں اور یہ بھی بہترین افسانوں کی کیٹیگری میں کھڑا ہوتا ہے۔
گو موضوع پرانا ہے لیکن۔۔۔!!
احساسات کی زبردست اور صحیح ترجمانی اور لفظوں کے خوبصورت چناؤ نے اسے ایک مضبوط تحریر بنا دیا ہے۔ہر سظر مصنفہ کی محنت کا ثبوت ہے۔کیپ رائٹنگ۔۔۔!!

Nesma
09-10-2010, 08:53 PM
زبردست مونا
ہمیشہ کی طر ح بہت اچھا لکھا ہے
ویسے آپکی تعریف کرنا تو سورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف ہے

Sabih
09-10-2010, 09:00 PM
http://images.clipartof.com/thumbnails/15202-Orange-Person-Announcing-Through-A-Megaphone-Clipart-Illustration-Image.jpg

حاضرین و ناظرین و قارئین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
افسانے کا وقت ختم ہونے میں ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت بچا ہے لہٰذا پہلے آئیے پہلے پڑھیے۔ ۔ ۔ ۔ بلکہ باقیوں کو بھی کھینچ کھینچ کر لائیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ افسانہ کیا پتہ کل ہو نہ ہو۔ ۔ ۔ ۔بلکہ ایک گھنٹے بعد ہی ہو نہ ہو۔ ۔ ۔
وقت نکل جانے کے بعد کسی کی کمپلینٹ قابل قبول نہیں ہو گی۔
افسانہ پڑھ کر مزا نہ آئے تو میم سس کو ڈھونڈیے ۔ ۔ ۔ ۔ پسند آئے یا نہ آئے یہاں کمنٹنا آپ کا فرض بنتا ہے۔ ۔ ۔

imported_Dilpasand
09-10-2010, 10:05 PM
بہت عمدہ
استانی جی آپ نے کمال کردیا ہے ۔
افسانہ پڑھ کرایسا لگا جیسے کسی منجھے ہوئے رائٹر کا افسانہ پڑھ رہا ہوں ویری ویلڈن شروع سے لے کر اینڈ افسانے میں دلچسپی برقرار رہی

Aqsa
09-10-2010, 10:12 PM
مونا آپ کا افسانہ بہت زبردست ہے، چھپے ہوئے انسانی رویوں کی تصویر کشی تو آپ نے خوب کی ہی ہے۔ مجھے آپ کا کہانی بیاں کرنے کا طریقہ اچھا گا ہے۔ خیالات کی رو کیسے حال اور ماضی کو آپس میں باندھے رکھتی ہے یہ حقیقی زندگی میں تو ہمیں نظر آتا ہی ہے لیکن اس کو بیان کرنے کے لیے کافی مہارت چاہیے۔ آپ نے اس کا بخوبی مظائرہ کیا ہے۔ اور پھر جس طرح آپنے ایک زبان زد عام، خوشی کے موقع سے وابستہ گانے کو ایک دوسری حقیقت سے جوڑا ہے۔ وہ بھی بہت ایک کچوکہ بن گیا ہے۔
آپکا انداز اور بیاں بلاشبہ بہت پختہ اور گہرا ہے۔ امید ہے اچھا کام پڑھنے کو ملتا رہے گا۔

Meem
10-10-2010, 01:46 AM
:)بہت ہی اچھا لکھا مونا جی ۔۔۔۔
بہت سی جگہوں پر لگا کہ کسی بڑے رائٹر کی تحریر ھو ۔۔۔۔۔
:pمدیرہ اعلٰی ھونے کا خوب حق ادا کیاا۔۔۔۔۔

گوکہ میرا کمنٹس کرنا ضروری نہیں تھا
لیکن نہ کرتا تو شاید رائٹر کے ساتھ ناانصافی کرنے والی بات :pھوجاتی ۔۔۔۔۔
:)کیپ رائٹنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ آمد کا۔
آمد اور کمنٹ کرنے کا اعزاز دینے کے لیے جزاک اللہ خیراً کثیراً۔
اب بچہ کچھ کچھ بڑا لگ رہا ہے۔ ایسے ہی سب افسانوں پر روز ایک کمنٹ چیکوں گی۔

Meem
10-10-2010, 01:50 AM
السلام علیکم!

یہ ایک بہت ہی پیاری تحریر ہے جو کہ ہمیں اس صنف کے احساسات‘ خاص طور پر ان کے درد کے بہت قریب لے کر آ جاتا ہے۔ اور یہی اس تحریر کے مصنف کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

میرا مصنف کے لیے ایک مشورہ ہے کہ وہ افسانے کو یک پہلو سے نکال کر دو طرفہ بناتے تو کیا ہی بات ہوتی۔

وعلیکم السلام،
بہت شکریہ آمد اور تحریر کی پسندیدگی کے لیے۔
دوسرا پہلو؟
شاید میری معلومات کم ہیں اس پر۔~

Meem
10-10-2010, 01:56 AM
بہت عمدہ
استانی جی آپ نے کمال کردیا ہے ۔
افسانہ پڑھ کرایسا لگا جیسے کسی منجھے ہوئے رائٹر کا افسانہ پڑھ رہا ہوں ویری ویلڈن شروع سے لے کر اینڈ افسانے میں دلچسپی برقرار رہی
بہت شکریہ بھائی آمد کا اور تحریر کی پسندیدگی کا بھی۔


مونا آپ کا افسانہ بہت زبردست ہے، چھپے ہوئے انسانی رویوں کی تصویر کشی تو آپ نے خوب کی ہی ہے۔ مجھے آپ کا کہانی بیاں کرنے کا طریقہ اچھا گا ہے۔ خیالات کی رو کیسے حال اور ماضی کو آپس میں باندھے رکھتی ہے یہ حقیقی زندگی میں تو ہمیں نظر آتا ہی ہے لیکن اس کو بیان کرنے کے لیے کافی مہارت چاہیے۔ آپ نے اس کا بخوبی مظائرہ کیا ہے۔ اور پھر جس طرح آپنے ایک زبان زد عام، خوشی کے موقع سے وابستہ گانے کو ایک دوسری حقیقت سے جوڑا ہے۔ وہ بھی بہت ایک کچوکہ بن گیا ہے۔
آپکا انداز اور بیاں بلاشبہ بہت پختہ اور گہرا ہے۔ امید ہے اچھا کام پڑھنے کو ملتا رہے گا۔
بہت شکریہ رافعہ سس۔ آپ کی حوصلہ افزائی ایسے ہی رہی تو لکھنے کی صلاحیت مہمیز ہوتی رہے گی۔

Dr.Anam
10-10-2010, 05:23 AM
Really very nice
well done dear .............

بنت احمد
11-10-2010, 12:37 AM
افسانہ،
ڈیزائننگ،
ٹائٹل
اور ٹائٹل سے نیچے "مونا سید"

سب ایک سے بڑھ کر ایک،

آپ کے افسانوی مجموعے "سیاہ آنسو" کا انتظار ہے سس، گڈ لک۔

Meem
11-10-2010, 01:38 AM
Really very nice
well done dear .............

بہت بہت شکریہ۔


افسانہ،
ڈیزائننگ،
ٹائٹل
اور ٹائٹل سے نیچے "مونا سید"

سب ایک سے بڑھ کر ایک،

آپ کے افسانوی مجموعے "سیاہ آنسو" کا انتظار ہے سس، گڈ لک۔
بہت شکریہ۔

~
ویسے اس کو میں ایک دعا کے طور پر لے رہی ہوں۔ آمین ثم آمین۔

Mrs Sam
11-10-2010, 10:58 AM
بہہت اچھا لکھا مونا۔۔۔۔۔۔آج کل با قائدگی سے آتی ہوں لیکن ون اردو میں کہیں بھی کچھ لکھ نہیں پا رہی۔۔۔۔۔میں نے ابھی تک ایک دو افسانے ہی پڑھے ہیں لیکن کمنٹ نہیں کر پائی۔۔۔۔لیکن آپ کا افسانہ اس کا موضو‏ ع دیکھ کر شروع کیا۔۔۔۔واقعی آپ نے بہت عمدگی سے لکھا۔۔۔۔۔ویری ویل۔۔۔۔۔۔۔

Ifzaan
11-10-2010, 04:10 PM
aoa bohat achi story thi good luck :)

جیا آپی
12-10-2010, 08:36 PM
بہت ہی المیہ کہانی ہے اور مھے بہت اچھی لکھی مونا،تھنیکس،بہت اچھا لکھا ہے۔۔۔

Meem
14-10-2010, 06:44 PM
بہہت اچھا لکھا مونا۔۔۔۔۔۔آج کل با قائدگی سے آتی ہوں لیکن ون اردو میں کہیں بھی کچھ لکھ نہیں پا رہی۔۔۔۔۔میں نے ابھی تک ایک دو افسانے ہی پڑھے ہیں لیکن کمنٹ نہیں کر پائی۔۔۔۔لیکن آپ کا افسانہ اس کا موضو‏ ع دیکھ کر شروع کیا۔۔۔۔واقعی آپ نے بہت عمدگی سے لکھا۔۔۔۔۔ویری ویل۔۔۔۔۔۔۔
بہت شکریہ مریم آپ کی آمد ہی باعث اعزاز ہے۔


aoa bohat achi story thi good luck :)
آمد، دعا اور پسندیدگی کے لیے شکریہ۔


بہت ہی المیہ کہانی ہے اور مھے بہت اچھی لکھی مونا،تھنیکس،بہت اچھا لکھا ہے۔۔۔

بہت شکریہ آپ کا کہ آپ کی تشریف آوری باعث حوصلہ افزائی ہے۔

Taaliah
17-10-2010, 02:43 AM
بہت اچھا لکھا ہے مونا جی۔
اس موضوع پر پہلے بھی کافی کچھ پڑھ چکی ہوں۔ کچھ رائٹرز کی تحریریں پڑھ کر ایسے لوگوں کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے لیکن آپ کی تحریر سے یہ تاثر نہیں ملتا بلکہ قاری کو ایک نئی سوچ ملتی ہے۔
لکھتی رہیں۔

Meem
17-10-2010, 11:14 AM
بہت اچھا لکھا ہے مونا جی۔
اس موضوع پر پہلے بھی کافی کچھ پڑھ چکی ہوں۔ کچھ رائٹرز کی تحریریں پڑھ کر ایسے لوگوں کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے لیکن آپ کی تحریر سے یہ تاثر نہیں ملتا بلکہ قاری کو ایک نئی سوچ ملتی ہے۔
لکھتی رہیں۔

بہت شکریہ آمد اور پسندیدگی کے لیے، جو دیکھا اور محسوس کیا وہی لکھ دیا۔

Smiling Eyes
17-10-2010, 11:45 PM
ھممم مونا آپی۔۔۔بہت اچھا لکھا۔۔۔۔ ان فیکٹ آ ویری سینسیٹو ٹوپک۔۔۔اور آپ نے اس کے خوب انصاف کیا۔۔۔ اینڈ پڑھ کر تو بے اختیار آنکھیں بھگ گئیں۔۔۔۔ !
لکھتی رہیں۔۔۔

Meem
17-10-2010, 11:48 PM
ھممم مونا آپی۔۔۔بہت اچھا لکھا۔۔۔۔ ان فیکٹ آ ویری سینسیٹو ٹوپک۔۔۔اور آپ نے اس کے خوب انصاف کیا۔۔۔ اینڈ پڑھ کر تو بے اختیار آنکھیں بھگ گئیں۔۔۔۔ !
لکھتی رہیں۔۔۔

بہت شکریہ ایمان، آنے کے لیے، تحریر پڑھنے اور اس کو سمجھے کے لیے اور تحریر کو پسند کرنے کے لیے بھی۔

Ahmed Lone
19-10-2010, 05:21 AM
لو جی میں آگیا

یہ جتنے افسانے ہیں میں نے صرف آپ کے افسانے کو پڑھ کر ہی پڑھنا شروع کیے تھے

اور کمنٹ جو دیے وہ بھی آپ کے افسانے کو پڑھ کر شروع کیا

آپ کا افسانہ بہت اچھا ہے

اتنا اچھا کہ مجھے کچھ کہنے پر مجبور کر گیا

بہت بہت شکریہ اس افسانے کے لیے

Meem
19-10-2010, 01:17 PM
بہت شکریہ احمد بھائی، آنے کے لیے تحریر پسند کرنے کے لیے ، اتنی عزت دینے کے لیے اور کمنٹ کرنے کے لیے بھی۔


لو جی میں آگیا

یہ جتنے افسانے ہیں میں نے صرف آپ کے افسانے کو پڑھ کر ہی پڑھنا شروع کیے تھے

اور کمنٹ جو دیے وہ بھی آپ کے افسانے کو پڑھ کر شروع کیا

آپ کا افسانہ بہت اچھا ہے

اتنا اچھا کہ مجھے کچھ کہنے پر مجبور کر گیا

بہت بہت شکریہ اس افسانے کے لیے