PDA

View Full Version : بادلوں کا سفر



1US-Writers
06-10-2010, 07:26 AM
http://i972.photobucket.com/albums/ae206/seharazad/BKS1.jpg


http://i972.photobucket.com/albums/ae206/seharazad/BKS2.jpg


http://i972.photobucket.com/albums/ae206/seharazad/BKS3.jpg


http://i972.photobucket.com/albums/ae206/seharazad/BKS4.jpg
******************************


افسانے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

1US-Writers
06-10-2010, 03:25 PM
بادلوں کا سفر



سمندر سے نزدیکی کی وجہ سے ہوا میں نمی کی مقدار زیادہ تھی۔ درجہ حرات اگرچہ زیادہ نہیں تھا لیکن نمی کی وجہ سے حبس کا احساس تھا۔ بدلیاں آسمان پر اڑتی پھرتی تھیں۔ وہ کبھی سورج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتیں اور کبھی چاند کے ساتھ اٹھکیلیوں میں مشغول ہو جاتیں۔ ہوا کے جھونکے انہیں جھولا جھلاتے ہوئے کہیں سے کہیں پہنچا دیتے۔ وہ اپنی شوخیوں اور دھن میں اس قدر مگن تھیں کہ انہیں ایک لمحے کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ ذرا رک کر نیچے زمین پہ بھی جھانک کر دیکھ لیں، جہاں شہر کے باسی ان پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، اس آس میں کہ کھل کر نہ سہی، پھوار کی طرح ہی ان کے جھلسے ہوئے جسموں پر یہ بادل برس جائیں۔
------------
شہر سے دور ساحل سمندر پہ الگ ہی نظارہ تھا۔ شہر کے لوگ جہاں اپنے جھلسے ہوئے جسموں کے لئے پانی کی بوندیں برسنے کے منتظر تھے۔ وہیں کچھ لوگ تانبے جیسے بدن کے حصول کے لئے خود کو جھلسا رہے تھے۔ ساحل پر قطار در قطار کرسیاں لگی ہوئی تھیں، جن پر بلا تخصیص جنس لیٹے ہوئے لوگ غسل آفتابی میں مشغول تھے۔ مختصر ترین لباس میں ملبوس مرد و زن سمندر، لہروں، سورج، ہواؤں سب کو شرمندہ کئے دے رہے تھے، ماسوائے انسانوں کے۔۔۔۔
یہ بیچ عام رسائی سے دور تھی اور صرف غیر ملکیوں اور طبقہ امراء کے لئے مخصوص تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں دوسرے ساحلوں کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک رش کم تھا۔ اس جگہ پہ حکومت کے ساتھ ساتھ انسانیت کے قوانین بھی لاگو نہیں تھے۔
کچھ دور ایک میوزیکل گروپ آرکسٹرا بجا رہا تھا۔ ساحل پہ دعوتِ خاص جاری تھی۔ سیٹھ ہمدان نے دوسرے سرمایہ کاروں کو وہاں مدعو کیا ہوا تھا۔ سمندر پار سے بھی مہمان مدعو تھے۔ ملکی اور غیرملکی مہمانوں کا جمگھٹا تھا۔ یہ دعوت ان کے کاروبار کے لئے بہت اہم تھی۔ ان کے سرمائے میں برکت کا دارومدار شرکاء دعوت کی خوشنودی پہ تھا، انہوں نے خاطر داری میں کوئی کمی نہ چھوڑی تھی۔ مہمانوں کی تواضع کے لئے ایک طرف باربی کیو ہو رہا تھا۔ دوسری طرف اوپن ایئر بار میں ہر طرح کے مشروبات مہیا کئے جا رہے تھے۔ رنگ برنگے ملبوسات میں خوبصورت عورتوں کے ساتھ برکت کے حصول کے لئے تمام لوازمات پورے تھے۔
مہمان بھی پارٹی سے بھر پور حظ اٹھا رہے تھے۔ قہقہوں اور باتوں کا ایک طوفان برپا تھا۔ اس شور میں آرکسٹرا کی آواز کبھی دب جاتی اور کبھی ابھر آتی۔ دیسی مہمان چھتریوں کے سائے میں پارٹی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ جبکہ غیر ملکی مہمان پانی میں جا کر سمندر سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ سیٹھ ہمدان کی اپنے عملے کو خصوصی ہدایت تھی کہ مہمانوں کی تواضع میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ ہونے پائے۔ ان کا عملہ بھاگ بھاگ کر مہمانوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔ وہ خود بھی وقتاً فوقتاً انتظامات دیکھ رہے تھے۔
فائزہ نے حال ہی میں سیٹھ ہمدان کی فرم میں نوکری شروع کی تھی۔ ایسی کسی پارٹی میں شرکت کا اس کا یہ پہلا موقع تھا۔ وہ پارٹی کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر انگشت بدنداں تھی۔ اگرچہ اس کا تعلق کسی مذہبی گھرانے سے نہیں تھا، لیکن وہ اتنی آزاد خیال نہیں تھی کہ حرام اور حلال کا فرق ہی بھول جاتی اور گناہ ثواب کے فلسفے کو نظر انداز کر دیتی۔ وہ دل ہی دل میں کراہیت محسوس کر ر ہی تھی اور پارٹی کے ماحول سے حتی الامکان لاتعلق رہنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ وہ پہلی دفعہ دیکھ رہی تھی کہ کاروباری ڈیلز کس طرح طے ہوتی ہیں۔ اسے سیٹھ ہمدان کی بات یاد آئی، "کسی کانٹریکٹ کو لینے کے لئے فیزیبیلٹی کا درست ہونا اہم نہیں بلکہ برکت ہونا ضروری ہے۔" اور یہ برکت کس طرح حاصل کی جاتی تھی، اس کا مظاہرہ یہاں اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ اس کے ساتھی برکت کے حصول میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ وہ اس کو ایسے مہروں کی طرح لگ رہے تھے جن کی چال کسی اور کے ہاتھوں میں تھی، اس میں اور دیگر میں فرق بس اتنا تھا کہ وہ ایک ہلکے سے اشارے پر پٹنے کو تیار تھے اور وہ خود، ایک ایسے اڑیل مہرے کی طرح تھی جو حکم ملنے پر بھی اپنی جگہ نہ چھوڑے۔
"کیا بات ہے فائزہ۔؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔؟" اس کی عدم دلچسپی اس کے ایک ساتھی نے بھی محسوس کر لی تھی۔
"جی میں ٹھیک ہوں۔" اس نے تیز ہوا سے اڑتے ہوئے بالوں کو پکڑتے ہوئے جواب دیا۔
"آپ انجوائے نہیں کر رہیں۔ تھک گئی ہیں کیا۔؟"
"یہاں انجوائے کرنے کے لئے ہے ہی کیا۔؟" وہ غیر محسوس طور پہ تلخ ہو گئی ۔
"کیا مطلب۔ ؟" اس کے کولیگ نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے محتاط انداز میں پوچھا۔
"جانے دیں۔" فائزہ نے بات ختم کرتے ہوئے کہا اور خود بھی دوسری سمت بڑھ گئی۔


سورج کا اپنے ٹھکانے کی طرف سفر جاری تھا، لیکن ابھی اس کی منزل آنے میں کچھ گھنٹے باقی تھے۔
دعوتِ خاص اپنے عروج پہ تھی۔ زیادہ ترمہمان آرکسٹرا کی دھن پر رقص میں مصروف تھے، جب تھک جاتے تو واپس آ کر مے نوشی میں مصروف ہو جاتے۔ سمندراور صنفِ مخالف کی قربت مدہوشی کو اور بھی بڑھا رہی تھی۔
"ہیلو،! بیوٹی فل ینگ لیڈی۔۔" پینتالیس سالہ مارک نے فائزہ کے پاس بیٹھتے ہوئے انگریزی میں کہا۔ وہ اس کمپنی کا مینیجنگ ڈائریکٹر تھا، جس سے ٹھیکہ لینے کے لئے سیٹھ ہمدان نے یہ پارٹی رکھی تھی۔ اس حساب سے وہ اس پارٹی کا مہمان خصوصی تھا۔
" ہیلو ۔" فائزہ نے ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے مختصر جواب دیا۔
تم سب سے مختلف ہو۔۔۔۔یہاں کوئی بھی عورت تمہاری طرح نہیں ہے۔۔۔۔۔" فائزہ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
"تمہاری یہی ادا تو مجھے بھا گئی ہے سویٹ ہارٹ ۔ یہاں ساری عورتیں میری جھولی میں گرنے کے لئے تیار ہیں، اور تم دوسری طرف منہ کئے بیٹھی ہو۔" مارک نشے میں بول رہا تھا۔
فائزہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی ۔ اور دوسری طرف جانے لگی، لیکن مارک نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
فائزہ اپنی جگہ سن ہو گئی، وہ سارا وقت پارٹی کے ماحول سے الگ تھلگ رہی تھی، اور اب مارک کی حرکت اس کی برداشت سے باہر تھی۔ وہ اس بے تکلفی کی اجازت کسی صورت نہیں دے سکتی تھی۔ اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔ لیکن نشے میں بھی مارک کی گرفت بہت مضبوط تھی۔
"چھوڑو مجھے۔" اس کے اعصاب چٹخ گئے تھے ۔ اڑیل مہرے نے پٹنے سے انکار کر دیا تھا۔موسیقی اور قہقہوں کے طوفان میں اس کی آواز کسی انسان کے کان تک نہیں پہنچ سکی۔
------------
چھوڑو مجھے۔۔۔۔ لیکن یہ آواز ہواؤں کے دوش پہ آسمان پر اڑتی بدلیوں تک ضرور جا پہنچی ۔ لاپرواہی سے گھومتے ہوئے بادل یہ سن کر رک گئے۔ انہوں نے نیچے جھانک کر دیکھا۔۔۔ساحل پہ ابلیسی محفل جاری تھی۔۔۔۔۔ہر طرف ابلیسی پسند کی کالک چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ اللہ کا خلیفہ، اپنے کھلے دشمن کے اشاروں پہ محو رقص تھا اور اپنی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ان کے غیض و غضب کی حد نہ رہی۔ آسمان پر اٹھلاتی ہوئی بدلیاں ایک ایک کرکے اکھٹی ہونے لگیں۔ گھنگور گھٹا ہر طرف چھا گئی۔ سارے دن کے شرمندہ سورج نے موقع ملتے ہی بدلیوں کے پیچھے اپنا منہ چھپا لیا۔ ایک بجلی کوندی، اور ساتھ ہی ایک زور دار چنگھاڑ سنائی دی۔ ساحل والوں نے سر اٹھا کر حیرت سے آسمان کی طرف دیکھا۔ موسم کی پیش گوئی کے مطابق بارش کا کوئی امکان نہیں تھا۔ وہ پھر سے مشغول ہو گئے۔ یہ ڈھٹائی دیکھ کر ہوائیں بھی جوش میں آ گئیں۔ سمندر بھی اپنا دبا ہوا غصہ نکالنے لگا۔ لہریں جوار بھاٹے میں بدلنے لگیں۔ لوگ سمندر سے نکل کر باہر آنے لگے۔ ہواؤں کے زور سے چھتریاں اکھڑ رہی تھیں۔ کرسیاں اڑ کر دور دور گر رہی تھیں۔ کاغذی گلاس اور پلیٹیں ہر طرف بکھر رہے تھے۔ غضبناک بادلوں میں سے مسلسل بجلیاں کوند رہی تھیں۔


ٹپ ٹپ ٹپ۔۔۔۔ بوندیں برسیں، پھر تو جیسے تانتا بندھ گیا۔ شہر والوں نے خلاف توقع زور دار گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش کو اچھنبے سے دیکھا۔ لوگ اپنے جھلسے ہوئے بدنوں کے ساتھ گھروں سے باہر نکل آئے۔ ساحل پہ اب بھی الگ نظارہ تھا۔ وہاں موجود لوگ موسم کی اچانک تبدیلی پر نالاں تھے۔ ان کے خیال میں محکمہ موسمیات اتنا نااہل تھا کہ وہ بارش کے ہونے یا نہ ہونے کا صحیح حساب بھی نہیں لگا سکتا تھا۔ سارا دن سورج کی تیز شعاعوں کا سامنا کرنے کے بعد وہ اب اپنے آپ کو بارش کے قطروں سے بچانے کے لئے ڈھانپ رہے تھے۔ انسانیت اپنے جامے میں واپس آ رہی تھی۔ بارش سے سب کا نشہ اتر رہا تھا ۔۔۔۔۔بادلوں کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا۔ ان کی گرج چمک مسلسل جاری تھی۔۔۔۔ ہواؤں کی تندی سے بارش اور سمندر طوفانی انداز اختیار کر رہے تھے۔ اونچی اونچی لہریں بے لگام ہو رہی تھیں۔ ابلیسی دعوت کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا تھا۔ کیسی دعوت، کونسا کانٹریکٹ، کہاں کی برکت، اور کیسی موسم کی پیش گوئی۔ شرکاء دعوت سب بھول کر اب وہاں سے بخیریت نکلنے کی فکر میں تھے۔ فائزہ حیرت اور خوشی سے تائیدِ غیبی کو دیکھ رہی تھی۔
ابلیسی کھیل کےختم ہونے پہ بادلوں کا غصہ کچھ کم ہوا۔ ہوا بھی سست پڑ گئی، سورج نے پھر سے منہ باہر نکال لیا۔ بادلوں نے ساحل سے توجہ ہٹائی اور دوسرے علاقوں میں جھانکنا شروع کیا۔
------------
صحرا میں آج کھل کے مینہ برسا تھا۔ ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے۔ ہر طرف سے ہنسی اور خوشی کی آوازیں آ رہی تھیں۔
گاؤں سے گزرتی ہوئی واحد سڑک، جس پر برائے نام ٹریفک گزرتا تھا، پہ سالوں سے مرمت نہ ہونے کی وجہ سے جا بجا گڑھے بنے ہوئے تھے۔ جب کوئی گاڑی ان کے اوپر سےگزرتی تو جھٹکوں کی وجہ سے صحرا میں سفر کی اذیت دو چند ہو جاتی۔ مسافروں کے منہ سے نا چاہتے ہوئے بھی مغلظات نکل جاتیں، گویا تمام اذیتوں اور تکلیفوں کا باعث یہ خستہ حال سڑک اور گڑھے ہی ہوں۔ یہی گڑھے آج پانی سے بھرے ہوئے تھے۔ بارش کا پانی صحرا کی ریتلی اور پیاسی زمین میں جذب ہو چکا تھا۔ اب صرف انہی گڑھوں میں بارش کا کچھ پانی موجود تھا۔
"اری او بسنتی! کیا کر رہی ہے، جلدی کر لے۔ کچھ ہی دیر میں سارا پانی خشک ہو جائے گا۔ پھر بیٹھی رہنا مہینوں انہی میلے کپڑوں میں" ماسی نے بسنتی کو ٹوکتے ہوئے کہا، وہ خود بھی ایک نسبتاً گہرے گڑھے کے پاس بیٹھی تھی۔ اور شڑاپ شڑاپ کپڑے دھوئے جا رہی تھی۔ مہینوں بعد اسے اپنے کپڑے دھونے کے لئے وافر پانی ملا تھا۔
" پانی بہت ہے آج ماسی ! سارے کپڑے دھل جائیں گے" بسنتی نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ بارش کی خوشی میں بسنتی کو ماسی کی سخت بات بھی ٹھنڈے پانی کی پھوار جیسی لگ رہی تھی۔
"بہت بہت کرتی رہ جائے گی۔۔۔۔ جب پانی ختم ہو جائے گا تب پوچھوں گی تجھ سے۔" ماسی نے اسے کہا۔ اس کی بڑبڑاہٹ پر بسنتی غصہ ہونے کی بجائے کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اور پھر لہرا لہرا کر دھلے ہوئے کپڑے سڑک کے کنارے اگی جھاڑیوں پر پھیلانے میں لگ گئی ۔ خوشی اس کے انگ انگ سے ظاہر تھی۔ ماسی نے ایک نظر اس کو حیرت سے دیکھا اور پھر خود بھی اس کے ساتھ ہنسنے لگ گئی۔ بسنتی کا دو سالہ بیٹا ایک نزدیکی گڑھے میں چھپ چھپ کر رہا تھا۔ ماسی نے مڑ کر دیکھا گاؤں کی دوسری عورتیں بھی اپنے ان دھلے کپڑوں کی گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے چلی آتی تھیں۔ وہ ان کی طرف متوجہ ہوگئی، "اری او کیسے سستی سے چل رہی ہے ، جلدی جلدی چل، پانی خشک ہو گیا تو بیٹھی رہے گی انہی میلے کپڑوں میں۔"
بادلوں کا ملال صحرا میں زندگی کی نوید دیکھ کر ختم ہو گیا۔ ساحل پہ ان کی بپا کی ہوئی زحمت صحرا کے باسیوں کے لئے خوشی اور رحمت کا پیغام لے کر آئی تھی۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کھل کے مسکرا دئے۔ ہوا انہیں اڑا کر دور لے گئی۔

Wish
06-10-2010, 06:23 PM
wahhhh g aaj ka afsana shuru ho gya... V nice g aur afsana b bohattttttt hi niceee hy... Pc se aa k inshallah detailed comment kru gi... Abi bs congrats... :) ab dear forum members parhin ar apni raye din.... :)

HarfeDua
06-10-2010, 06:33 PM
ہمیشہ کی طرح superb۔۔۔ افسانہ اور اس کا میسج تو اچھا ہے ہی لیکن ٹائٹل بھی بہت اچھا ہے۔ اور ڈیزائننگ بھی۔

رفعت
06-10-2010, 06:42 PM
بہت اچھا ہے سمارا
چھوٹی سی بات کو جس طرح لفظوں میں سمویا ہے بہت اثر رکھتا ہے
کیا روز نیا افسانہ پڑھنے کو ملے گا؟

Wish
06-10-2010, 07:00 PM
بہت اچھا ہے سمارا
چھوٹی سی بات کو جس طرح لفظوں میں سمویا ہے بہت اثر رکھتا ہے
کیا روز نیا افسانہ پڑھنے کو ملے گا؟

Yessss janab... tyar rahin ar roz aik naye tabsary k liye.... :)

HarfeDua
06-10-2010, 07:03 PM
Yessss janab... tyar rahin ar roz aik naye tabsary k liye.... :)
چلیں اچھا ہے۔ روز ایک ڈوز ملے گی تو ہمیں تبصرہ کرنا آجائے گا۔
گڈ آئڈیا۔ :)

Wish
06-10-2010, 07:09 PM
چلیں اچھا ہے۔ روز ایک ڈوز ملے گی تو ہمیں تبصرہ کرنا آجائے گا۔
گڈ آئڈیا۔ :)

Han na... Dekha roz kuch na naya :) ar baki behnin kaha hin yar.... Me time dekh k heran hu subahhhhh ka post hua hy kisi ne comment nai kiya? Abi aa k sb ko pms krti hu..... :( itna bara dhoka apny writers k sath... :(

Wish
06-10-2010, 07:50 PM
السلام علیکم! سب سے پہلے تو میری طرف سے رائٹرز سوسائٹی والوں کو آج کا افسانہ شروع کرنے کے لیے مبارک باد۔ ۔ ۔

ون اردو رائٹرز کی ایک بڑی کاوش آپ کے سامنے سلسلے کی صُورت میں پیش کی جا رہی ہے۔ ۔ ۔ تمام فورم ممبران سے گزارش ہے کہ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت اس کوشش کو دیں۔ ۔ ۔ اور تھوڑی سی ہمت بھی۔ ۔ ۔ کمنٹ کرنے کے لیے۔ ۔ ۔

شکریہ

اب افسانے پر میرا کمنٹ یہ ہے کہ یہ سمارا کی ایک بہترین تحریر ہے۔ ۔ ۔ علامتی افسانے اور گہری باتیں۔ ۔ ۔ میری تو شروع سے ہی پسندیدہ رہی ہیں۔ ۔ ۔ اور الفاظ پر گرفت۔ ۔ ۔ سچویشنز کا بنانا سب ہی بہتتت عمدہ رہا۔ ۔ ۔



"
چھوڑو مجھے۔" اس کے اعصاب چٹخ گئے تھے ۔ موسیقی اور قہقہوں کے طوفان میں اس کی آواز کسی انسان کے کان تک نہیں پہنچ سکی۔

-------

چھوڑو مجھے۔۔۔۔ ہواؤں کے دوش پہ یہ آواز آسمان پر اڑتی بدلیوں تک بھی جا پہنچی۔




یہ پورشن بھی امپریسو ہے۔ ۔ اچھا لگا۔۔ کہ بات جہاں جیسے ختم ہوئی اسی کا سلسلہ آگے سے رہا۔ ۔

اور یہ والا پیرا جس میں برسنے کا سین لکھا ہے۔۔ یہ بھی مجھے بہت اچھا لگا۔ خوبصور بیان رہا۔ ۔ کہانی بالکل مزے میں چلی ہے۔ بالکل آپ کی توجہ کو پکڑے ہوئے۔۔

افسانے میں علامتی افسانے کو ساتھ ساتھ چلانا۔۔ میرا فیورٹ ہے۔ ۔ نہ صرف مجھے یہ سب پڑھنے میں بہت اچھا لگتا ہے بلکہ میں اسے اڈاپٹ کرنے کی بھی بہت کوشش کرتی ہوں۔۔ اور تم نے بھی یہ کام بہت اچھے سے کیا ہے۔۔ لیکن اس کو ابھی مزید لکھو میرا تو یہی خیال ہے۔۔ اپنے دل کے بعد باقیوں کا بھی دیکھو کہ کیا کہتے ہیں۔

Hira Qureshi
06-10-2010, 08:41 PM
بہت اچھا لکھا ہے سمارا۔ مجھے آپ کے لکھنے کا انداز بہت پسند ہے۔ ہمیشہ کوئی یونیک موضوع ہوتا ہے اور آپ امیجری بھی بہت اچھی طرح استعمال کرتی ہیں۔ پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہیں موجود ہیں۔

آخر کی یہ لائنز بہت پسند آئیں۔


بادلوں کا ملال صحرا میں زندگی کی نوید دیکھ کر ختم ہو گیا۔ ساحل پہ ان کی بپا کی ہوئی زحمت صحرا کے باسیوں کے لئے خوشی اور رحمت کا پیغام لے کر آئی تھی۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کھل کے مسکرا دئے۔ ہوا انہیں اڑا کر دور لے گئی۔

Kainat
06-10-2010, 08:46 PM
رائیٹر سوسائیٹی کو یہ سلسلہ شروع کرنے پر بہت مبارک ہو،
ایک نیا قدم ، اچھوتا آئیڈیا یقینا سب کو پسند آئے گا۔

بادلوں کا سفر۔۔۔
سمارا جی کی بہتریں کاوش، ان کے افسانہ ۔۔۔ پارس ۔۔۔ کے بعد ایک اور بہترین تحریر پڑھنے کو ملی۔
اور انھوں نے اپنے لکھنے کا بہترین تسلسل اس افسانے میں بھی برقرار رکھا ہے۔
افسانے میں تمام لوازمات ہیں جو اس کی خوبصورتی کو نمایاں کیے ہوئے ہے۔
خاص طور پر منظر نگاری کمال کی ہے۔ اور اسی میں پوری کہانی موتیوں کی طرح پروئی گئی ہے۔
اور صحرا میں بارش کو جس طرح ایک نعمت اور بطور خوشی پیش کیا گیا ہے۔ بہت خوب

Sabih
06-10-2010, 09:18 PM
السلام علیکم
آج کا افسانہ شروع ہو گیا۔ اس سلسلے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمام سوسائٹی کو مبارکباد۔ ۔

سمارا آپی ایک بہت ہی اچھی اور منفرد رائٹر ہیں اور یہ افسانہ ان کے اس امیج کو اور مضبوط کرتا ہے۔
معاشرے کے تاریک پہلوؤں کو اجاگر بہت اچھی طرح اجاگر کیا۔ اور ساتھ ہی بارش کو ایک جانب قہر کی صورت دی جبکہ دوسری طرف اسے زندگی کی نوید بھی دکھایا۔
افسانے میں کہانی کا فلو اور ردھم بھی بہت اچھا رہا۔
اور یہ آخری سطور بہت اچھی لگیں۔ ۔

بادلوں کا ملال صحرا میں زندگی کی نوید دیکھ کر ختم ہو گیا۔ ساحل پہ ان کی بپا کی ہوئی زحمت صحرا کے باسیوں کے لئے خوشی اور رحمت کا پیغام لے کر آئی تھی۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور کھل کے مسکرا دئے۔ ہوا انہیں اڑا کر دور لے گئی۔

ویلڈن سمارا آپی۔

Nesma
06-10-2010, 09:45 PM
بہترین

بہت اچھا لکھا ہے سمارا

Wish
06-10-2010, 10:25 PM
بہترین

بہت اچھا لکھا ہے سمارا



نیسمہ کسی ایسی بات کی نشاندہی بھی کریں نا جو خاص طور پر اچھی لگی ہو۔ ۔ ۔ ۔؟

Wish
06-10-2010, 10:27 PM
ویسے میں سوچ رہی آج کے افسانوں کا پرنٹ نکال کر اسکول کے نوٹس بورڈ پر بھی لگا دوں۔ ۔ ۔ یا کلاس میں بچوں کو دے دوں کے انگریزی ٹرانسلیشن کریں۔ ۔ ۔

اسی بہانے پڑھیں گے تو نا۔ ۔ ۔ ۔

ویسے وہاں کچھ ٹیچرز ہیں جو بڑی دلچسپی رکھتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ چلیں کروں گی ایک کوشش۔ ۔ ۔ کل سمارا کے افسانے کے پرنٹ بانٹوں گی۔ ۔ ۔ پھر یہاں کمنٹ بتاؤں گی ان کے۔ ۔ ۔

کیسا۔۔ ۔ ۔؟

Noor-ul-Ain Sahira
06-10-2010, 11:13 PM
آج کا افسانہ بہت ہی اچھا سلسلہ ہے اور امید ہے اس بہانے روزانہ نئے اور اچھے افسانے پڑھنے کو ملیں گے۔
سمارا بہت نائس افسانہ لکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے حیرت ہوتی ہے جانے کہاں کہاں سے بالکل الگ اور منفرد سے اچھوتے موضوعات ڈھونڈ لاتی ہو۔۔۔۔
گڈ جاب لائک آلویز:)۔

Lubna Ali
06-10-2010, 11:14 PM
السلام علیکم ۔۔۔

رائیٹر سوسائیٹی کو آج کا افسانہ شروع کرنے پر بہت بہت مبارک باد ہو۔۔۔

سمارا کی تحریر کی خاص پہچان۔۔۔ "علامتی افسانہ" جو کہ اپنے اندر کافی معنی چھپائے رکھتی ہیں۔۔۔ پڑھ کر فوراً جو بات ذہن میں آتی ہے وہ ہے بادلوں کا باعث رحمت ہونا۔۔۔۔ بادلوں کا یہ سفر کسی کے لئے رحمت بنا تو کسی کے خوشی کا باعث بنا۔۔۔

پڑھ کر اچھا لگا ۔۔امید ہے مزید اچھے افسانے پڑھنے کو ملیں گے۔۔۔

NaimaAsif
07-10-2010, 12:30 AM
السلام علیکم

بہت ہی شاندار ابتداء ہے۔ میری طرف سے بہت مبارک ہو۔:)

افسانہ بھی بہت خوب رہا سمارا۔ سب سے اچھا مجھے اس میں الفاظ کا چناو لگا۔ تشبیہات استعارات سب نے مل کر بہت اچھا تاثر دیا۔
جس سلیقے سے مشرقی روایات کا تذکرہ اور مغرب سے کلچر کا موازنہ کیا گیا یہ بھی ایک پہلو تھا۔


سورج کا اپنے ٹھکانے کی طرف سفر جاری تھا، لیکن ابھی اس کی منزل آنے میں کچھ گھنٹے باقی تھے۔

یہ جملہ مجھے بہت اچھا لگا۔ بظاہر بہت سادہ سا جملہ ہے مگر اس کا مفہوم جس طرح ان لفظوں اور اس جملے میں سمیٹا گیا وہ انداز اچھا لگا۔


ٹپ ٹپ ٹپ۔۔۔۔ بوندیں برسیں، پھر تو جیسے تانتا بندھ گیا۔ شہر والوں نے خلاف توقع زور دار گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش کو اچھنبے سے دیکھا۔ لوگ اپنے جھلسے ہوئے بدنوں کے ساتھ گھروں سے باہر نکل آئے۔ ساحل پہ اب بھی الگ نظارہ تھا۔ وہاں موجود لوگ موسم کی اچانک تبدیلی پر نالاں تھے۔ ان کے خیال میں محکمہ موسمیات اتنا نااہل تھا کہ وہ بارش کے ہونے یا نہ ہونے کا صحیح حساب بھی نہیں لگا سکتا تھا۔ سارا دن سورج کی تیز شعاعوں کا سامنا کرنے کے بعد وہ اب اپنے آپ کو بارش کے قطروں سے بچانے کے لئے ڈھانپ رہے تھے۔ انسانیت اپنے جامے میں واپس آ رہی تھی۔ بارش سے سب کا نشہ اتر رہا تھا ۔۔۔۔۔بادلوں کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا۔ ان کی گرج چمک مسلسل جاری تھی۔۔۔۔ ہواؤں کی تندی سے بارش اور سمندر طوفانی انداز اختیار کر رہے تھے۔ اونچی اونچی لہریں بے لگام ہو رہی تھیں۔ ابلیسی دعوت کے رنگ میں بھنگ پڑ گیا تھا۔ کیسی دعوت، کونسا کانٹریکٹ، کہاں کی برکت، اور کیسی موسم کی پیش گوئی۔ شرکاء دعوت سب بھول کر اب وہاں سے بخیریت نکلنے کی فکر میں تھے۔ فائزہ حیرت اور خوشی سے تائیدِ غیبی کو دیکھ رہی تھی۔
ابلیسی کھیل کےختم ہونے پہ بادلوں کا غصہ کچھ کم ہوا۔ ہوا بھی سست پڑ گئی، سورج نے پھر سے منہ باہر نکال لیا۔ بادلوں نے ساحل سے توجہ ہٹائی اور دوسرے علاقوں میں جھانکنا شروع کیا۔
------------

اس پیراگراف میں ہر لائن خوبصورت ہے اب خاص الخاص کس کا تذکرہ کروں۔ یہ کہا جائے کہ یہاں علامتی افسانہ اپنے جوبن پر تھا تو بے جا نہ ہو گا۔

اور آخر بھی بہت خوبصورت تھا۔ اوور آل بہترین۔ آغاز تو خوب رہا امید ہے آگے بھی خوب ہی چلے گا سلسلہ۔:)

اس افسانے کے لیے ویل ڈن اور آگے والے افسانوں کے لیے گڈ لک۔:)
تھینکس۔:)

Rubab
07-10-2010, 02:00 AM
آپ سب ساتھیوں کی تشریف آوری اور پسندیدگی کا بہت شکریہ۔

وش! تم ضرور اپنے اسکول میں اس کے پرنٹس دینا، میں منتظر رہوں گی کہ وہاں سے کیسے تبصرے آتے ہیں۔

Nashan
07-10-2010, 02:20 AM
A very good afsana.an usual event has been described in a very beautiful way as though the words areclourful flowers in a beautiful bouquet.

Fozan
07-10-2010, 06:15 AM
السلام علیکم

بہت اچھا سلسلہ اور بہترین افسانے سے ابتدا۔۔۔۔

سمارا آپکی تحریر ہمیشہ کی طرح منفرد رہی۔۔۔۔علامتی افسانے کے تمام خصوصیات تو موجود ہی تھیں مگر جیسے آپ نے دو مختلف دنیا کے لوگوں کا موازنہ کیا ہے وہ احساس دلاتا ہے کہ کیسے ایک ہی زمین پر بسنے والے، ایک ہی آسمان کے تلے رہنے والے، اپنی ضروریات اور حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر کیسی زندگی گزارتے ہیں۔ مگر اس سے برطرف آسمان ہر ایک پر مہربان ہے۔۔۔۔وہ ہر ایک پر نظر کیے ہوئے ہیں۔۔۔۔وہ اس زمین پر رہنے والوں کو تنہا نہیں چھوڑتا تھے۔

ویسے حالیہ سیلاب کے تناظر میں دیکھیں تو مزید سوچ کے در وا ہوتے ہیں۔۔۔۔۔

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!

Aqsa
07-10-2010, 06:19 AM
رائیٹرز ساسائیٹی نے "آج کا افسانہ" کا بہت زبردست سلسلہ شروع کیا ہے۔ اسکے لیے تمام مصنفین اور سوسائیٹی مبارک باد کی مستحق ہے۔ اس سے جہاں قارئین ہر روز ایک تازہ افسانہ پڑھنے کو ملے گا وہیں مصنفیں کو بھی اپنے پڑھنے والوں کے خیالات جاننے کا موقع ملے گا۔

آج کا افسانہ "بادلوں کا سفر" سمارا کا بہت شاندار افسانہ ہے جس میں انہوں نے ایک ہی آسمان تلے بسنے والے مختلف لوگوں کے نقطہءنظر سے باران رحمت کی توجیح کی ہے۔ بادل ایک طرف انسانی رویوں کی شفاف پرت سے انسیت کا اظہار کرتے ہیں تو دوسری طرف اسی انسان کے اندر چھپے شیطان پر برس پڑتے ہیں۔ ایسا ہونا حقیقتا کتنا ممکن ہے کی بحث میں پڑنے کی بجائے مصنفہ اپنے کینوس پر پھیلی مختلف زندگیوں پر بادلوں کے ذریعے رنگ بکھیرتی ہیں۔

ان کا رواں اور شستہ اسلوب کہانی کو کہیں بھی پیچیدہ نہیں ہونے دیتا۔ اور پڑھنے والے کو بہت پرکاری سے ایک پرپیچ شخصی و قلبی واردات سے گزار کر آسماں کی وسعتوں میں آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ اور قاری بیچارہ سوچتا رہ جاتا ہے ۔۔
ہم قفّس سے نِکل کر کِدھر جائیں گے۔ ۔ ۔
یعنی سمارا جی مزید افسانوں کا انتظار رہے گا۔

رمیصا
07-10-2010, 09:16 AM
ہمیشہ کی طرح ایک بہترین کاوش،اس پیغام کے ساتھ کہ ایک چیز کسی کے لیے اگر باعث زحمت ہے تو وہی چیز کسی اور کے لیے باعث رحمت بھی ہو سکتی ہے۔

"سارے دن کے شرمندہ سورج نے موقع ملتے ہی بدلیوں کے پیچھے اپنا منہ چھپا لیا"

خوبصورت الفاظ اور تشبیہات کا استعمال۔
مختصر طور پر ایک بہترین افسانہ ہے اور مصنفہ یقینا” مبارکباد کی مستحق ہیں اس کاوش پہ۔

جیا آپی
07-10-2010, 10:55 AM
بہت ہی زبردست لکھا ہے، سمارا نے الفاظ کا چناؤ بہت عمدگی سے کرتے ہوئے اپنے جذبات کو سمودیا ہے، پڑھنے والے کو افسانے کی ابتدا سے لیکر انتہا تک اپنی گرفت میں رکھا ہے، ایسا ہی لکھتی رہیے۔۔

جیا آپی
07-10-2010, 10:56 AM
اور اس بہترین کاوش پر رائٹر سوسائٹی کو بہت بہت مارکباد۔

روشنی
07-10-2010, 11:54 AM
بہت اچھا لکھا ہے سمارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بادلو ں کے ساتھ اڑان میں
بہت مزہ آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کا انداز تحریر بہت اچھا ہے ۔۔۔۔

کیپ رائٹننگ
۔۔۔۔۔

imported_Dilpasand
07-10-2010, 11:57 AM
بہت اچھا افسانہ ہے
ویری ویلڈن سمارا جی اچھا لکھا ہے تڑکا لگا کے

سمر
07-10-2010, 12:04 PM
بہت شاندار افسانہ ھے
رائٹر سوسائٹی مبارکباد کی مستحق ھے کہ افسانہ نگاری پر بھرپور کام کر رھی ھے_
سمارا سس کو بھی اتنا اچھا افسانہ لکھنے پر مبارک ھو

Meem
07-10-2010, 01:02 PM
السلام علیکم،
سب کو "آج کا افسانہ" جیسی شاندار کاوش پیش کرنے کے لیے مبارک باد۔

اب رہی افسانے کی بات تو "سمارا" ہمیشہ سے منفرد لکھتی رہی ہیں عام ڈگر سے ہٹا ہوا۔ ساس بہو کے جھمیلوں سے چھٹا ہوا۔

زندگی کے ہر بار نئے پہلو متعارف کراتی رہی ہیں۔ اس افسانے میں بھی ہمہ جہت زندگی کے دو رخ ہیں، ایک انتہائی بلندی اور انتہائی پستی کا، بلندی پر رہنے والے پست ذہینت والے لوگ اور زمین سے لگے خوش امید لوگ۔

بہت بہت اچھا لکھا خاص کر یہ سب بادلوں کے سفر کے ساتھ بہت عمدہ رہا بلندی سے آپ کا وژن کچھ اور ہوتا ہے جو کہ بخوبی دکھایا گیا۔

لکھتی رہیے کہ ہم منتظر رہیں گے۔

Durre Nayab
07-10-2010, 02:22 PM
رائٹرز سوسائٹی کو آج کا افسانہ شروع کرنے پر مبارکباد۔ بادلوں کا سفر سمارا کی ایک اور بہترین علامتی تحریر ہے۔ وہ کم لکھتی ہیں مگر خوب لکھتی ہیں۔ پہلے سے آخر تک قاری کو افسانے کی گرفت میں رکھتی ہیں۔ بادلوں کو جس طرح کچھ انسانوں کے لئے رحمت اور کچھ کے لئے زحمت، اسی طرح زمین میں ایک طرف اشرف المخلوق کو شیطان کا خلیفہ بن کر دیکھنا بادلوں سے گوارا نہ ہوا اور وہ برس پڑے مگر صحرا میں اسی برسنے سے نوید زندگی دیکھ کر جھوم اٹھے۔ یہ ہی کہانی کی جان تھا۔
بہت خوبصورت الفاظ میں خوب صورت افسانہ
ویل ڈن کیپ رائٹنگ
کوئی ایک پیرا کوٹ نہیں کررہی کیونکہ یہ ایک مکمل اور لاجواب افسانہ ہے۔

KishTaj
10-10-2010, 09:18 AM
السلامُ علیکم
لو جی میرا کمنٹ تو رہ ہی گیا۔۔۔ میں نے پہلے ہی دن یہ افسانہ پڑھا تھا ۔۔ بہتتتتت ہی پسند آیا تھا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح اس کی تعریف کروں ۔ ۔ ۔ خاص طور پر اتنے خوبصورت الفاظ اور اسکی منظر کشی نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔
ماشااللہ سے بہت ہی خوبصورت لکھا ہے ،ٹائٹل اور تھیم بھی بہت کمال کی ہے۔ اللہ پاک آپ کو کامیاب فرمائے۔
آمین۔ ثم آمین

Rubab
10-10-2010, 02:51 PM
وعلیکم السلام

تشریف آوری اور پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ۔ یہ حوصلہ افزائی ہمارے لئے بہت اہم ہوتی ہے۔

مونا جی سوچ رہی ہوں اب ساس بہو کے روایتی قصے بھی لکھ ہی ڈالوں۔۔یا پھر نند بھابھی کی لڑائیاں وغیرہ ۔۔۔

Meem
10-10-2010, 05:28 PM
وعلیکم السلام

تشریف آوری اور پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ۔ یہ حوصلہ افزائی ہمارے لئے بہت اہم ہوتی ہے۔

مونا جی سوچ رہی ہوں اب ساس بہو کے روایتی قصے بھی لکھ ہی ڈالوں۔۔یا پھر نند بھابھی کی لڑائیاں وغیرہ ۔۔۔
:o ہیں بھلا وہ کیوں؟
جیسا اور جو لکھتی ہو بہت عمدہ لکھتی ہو۔ اس لیے کیپ رائٹنگ۔

Rubab
10-10-2010, 09:34 PM
تھینکس۔

بس ویسے ہی منہ کا ذائقہ بدلنے کو۔

KishTaj
10-10-2010, 10:24 PM
وعلیکم السلام

تشریف آوری اور پسندیدگی کے لئے بہت شکریہ۔ یہ حوصلہ افزائی ہمارے لئے بہت اہم ہوتی ہے۔

مونا جی سوچ رہی ہوں اب ساس بہو کے روایتی قصے بھی لکھ ہی ڈالوں۔۔یا پھر نند بھابھی کی لڑائیاں وغیرہ ۔۔۔
ہی ہی ہی;d۔
اگر انداز منفرد ہو لکھنے کا تو اسے بھی عمدہ لکھا جاسکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کہانی حقیقت کے قریب تر ہو تو ۔ ۔ ۔ ۔ ~
تو منہ کا ذائقہ صرف تجرباتی طور پر بدلنے میں حرج بھی نہیں آپی ۔ ۔ ۔۔~۔

بنت احمد
11-10-2010, 12:09 AM
ابھی تک کے افسانوں مِیں یہ ایک ہی افسانہ ہے جس پر کل تک رائٹر نیم نہیں تھا۔

سمارا سس! مبارک ہو، ریڈرز آپ کا لکھا ہوا پہچان لیتے ہیں۔

مجھے پہلا ورژن زیادہ اچھا لگا تھا۔ پر یہ بھی اچھا ہے۔

niuslyguy
11-10-2010, 12:13 AM
واووووووو سمارہ اتنا خوب لکھا ہے آپ نے ماشا اللہ منظر نگاری اتنی زبردست تھی مجھے یہ افسانہ بہت بہت بہت پسند آیا

Zainab
11-10-2010, 01:14 AM
مبارک ہو ، بہت بہترین لکھا ہے سمارا

Taaliah
11-10-2010, 10:14 AM
بہت اچھا لکھا سمارا سس۔ خاص طور پر دو طبقوں کے بارے میں ایک اچھا افسانہ تھا۔ منظر کشی بھی خوب کی گئی۔ بارش کے بعد دونوں کے تاثرات بھی حقیقت سے قریب ترین تھے۔
لکھتی رہیں۔

وعلیکم السلام
مونا جی سوچ رہی ہوں اب ساس بہو کے روایتی قصے بھی لکھ ہی ڈالوں۔۔یا پھر نند بھابھی کی لڑائیاں وغیرہ ۔۔۔

نہیں پلیز۔ یہ پہلے ہی بہت پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ بس آپ ذرا اپنے آس پاس نظریں دوڑائيں۔

اسماء
11-10-2010, 10:31 AM
بہتتتتتتتتتت ہی زیادہ خوبصورت افسانہ۔۔۔۔۔۔۔سمارا آپی آپ نے کتناااا اچھا سوچا۔۔ امیزنگ۔۔ایک دم دل کو ٹھا کر کے لگ گیا۔۔۔
اتنااا خوبصورت کونسیپٹ اور کچھ جملے تو ایسے تھے کہ ناول مزید سج گیا۔۔۔
گریٹ جاب۔۔۔
بہتتتتتتت اچھا لگا پڑھ کر۔۔

Samia Ali
11-10-2010, 09:26 PM
بہت اچھا لکھا سمارا سس ذبردست

Rubab
12-10-2010, 12:44 AM
پسندیدگی کے لئے بے حد شکریہ۔

Rubab
12-10-2010, 12:47 AM
ہی ہی ہی;d۔
اگر انداز منفرد ہو لکھنے کا تو اسے بھی عمدہ لکھا جاسکتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور کہانی حقیقت کے قریب تر ہو تو ۔ ۔ ۔ ۔ ~
تو منہ کا ذائقہ صرف تجرباتی طور پر بدلنے میں حرج بھی نہیں آپی ۔ ۔ ۔۔~۔

بس ویسے ہی آج کل ذہن میں ایک خیال کلبلا رہا ہے، دیکھو شاید لکھ ہی لوں۔ کم از کم تم تو پڑھ ہی لو گی نا۔۔ ونک۔۔



ابھی تک کے افسانوں مِیں یہ ایک ہی افسانہ ہے جس پر کل تک رائٹر نیم نہیں تھا۔

سمارا سس! مبارک ہو، ریڈرز آپ کا لکھا ہوا پہچان لیتے ہیں۔

مجھے پہلا ورژن زیادہ اچھا لگا تھا۔ پر یہ بھی اچھا ہے۔


یہ تو بڑی خوشی کی بات بتائی آپ نے بنت احمد سس۔ اسی خوشی میں پوائنٹی مٹھائی ہو جائے آپ کی طرف سے۔

بنت احمد
12-10-2010, 12:54 AM
یہ تو بڑی خوشی کی بات بتائی آپ نے بنت احمد سس۔ اسی خوشی میں پوائنٹی مٹھائی ہو جائے آپ کی طرف سے۔
آپ پہلے خیر مبارک کی مٹھائی تو بھیجیں۔

Rubab
12-10-2010, 12:55 AM
ایسا کریں مٹھائی آپ کی طرف سے، چائے پانی ہماری طرف سے ہو جائے گا۔

بنت احمد
12-10-2010, 12:59 AM
پھر پہلے پانی پلادیں، مٹھائی والی بات حلق میں اٹکی ہے۔

Rubab
12-10-2010, 09:50 PM
بہت شکریہ سس۔

Mohsina
12-10-2010, 11:08 PM
بڑی منفرد۔ ۔ اور شاندار تحریر ہے۔ ۔سمارا جی!۔ ۔

Rubab
14-10-2010, 02:54 AM
بہت شکریہ محسنہ جی۔

Hina Rizwan
14-10-2010, 11:24 AM
بہت ہی زبردست افسانہ لکھا ہے سمارا سس
الفاظ کا چناؤ ،تشبیہات، استعارات سب بےحد خوبصورت ہے
بعض جملے تو اتنے اچھے تھے کہ دل کیا زبانی یاد کر لوں
ویل ڈن اینڈ کیپ اٹ اپ

Rubab
15-10-2010, 12:46 AM
بہت شکریہ حنا۔

Ahmed Lone
17-10-2010, 05:08 PM
بہت اچھا لکھا سمارا بہن

بہت شکریہ