PDA

View Full Version : زاد راہ از کائنات



1US-Writers
07-10-2010, 06:40 AM
http://i51.tinypic.com/2iqd9vl.jpg
http://i54.tinypic.com/2lwwrps.jpg
http://i51.tinypic.com/214d35w.jpg
”زاد راہ“ کے بارے میں اپنی رائے دینا نہ بھولیے
آپ کی تعریف، تنقید اور حوصلہ افزائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

Kainat
22-10-2010, 07:27 PM
زاد راہ



پلیٹ فورم پر بہت رش تھا۔ اک افراتفری مچی ہوئی تھی۔ ایک ٹرین ابھی آئی تھی اور دوسری جانے کو تیار کھڑی تھی۔ سو اک بھاگم بھاگ اور ان دیکھی دوڑ کا ماحول تھا۔ کچھ قلی مسافروں کا سامان لے کر آگے بھاگے جارہے تھے اور گھر والے قلی اور ٹرین چھوٹنے کی فکر میں اس کے پیچھے، اور کہیں مسافر آگے آگے اور قلی سامان کے نیچے دبتا گھسٹتا ہوا پیچھے۔ فراز بھی اس ماحول کا حصہ بنا ہوا تھا۔ شکر ہے اس کا سامان زیادہ نہیں تھا کہ اسے پہلے قلی کرنا پڑتا اور پھر قلی کے پیچھے بھاگنا پڑتا۔ ویسے تو وقت پر آ گیا تھا اور ایک کپ کافی بھی پی چکا تھا اور اپنے آپ کو سفر کے لیے بالکل تیار کر لیا تھا۔

سفر کے دوران بوریت سے بچنے کے لیے اس نے ایک اخبار اور مستنصر حسین تارڑ کا سفر نامہ ۔۔۔ سنو لیک۔۔۔ خرید لیا تھا۔ ایک نظر اپنے ہاتھوں میں تھامے بریف کیس اور بیگ پر ڈالی اور اس بھیڑ کا حصہ بن گیا جو ٹرین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ زیادہ ڈبے دیکھنے کی اس نے کھوج نہیں کی، اور جو ڈبہ سامنے آیا اس میں چڑھ گیا۔ ویسے بھی اکیلا ہی تو تھا۔ پر قسمت سے وہ اچھے کمپارٹمنٹ میں چڑھ گیا۔ شکر ہے جگہ بھی کھڑکی کے پاس مل گئی، اب سارا رستہ فطرت اور دنیا کے کموں کاروں سے بھی لطف اندوز ہو سکوں گا۔

سفری بیگ رکھنے کے لیے اسے تھوڑا سوچنا پڑا کہ سامنے والی سیٹ کے نیچے رکھوں یا اوپروالی برتھ پر، اس کا دھیان رکھنے کے لیے اوپر دیکھنا ٹھیک رہے گا یا نیچے ؟ پھر اوپر والی برتھ پر رکھ دیا۔ بریف کیس کو پہلے نیچے قدموں کے پاس رکھا لیکن تسلی نہیں ہوئی، تو اٹھا کر اپنے بازو کے ساتھ رکھ لیا۔ اور کمپارٹمنٹ کا جائزہ لینے لگا۔ کافی مسافر نظر آ رہے تھے، جو اپنے بیگز، سوٹ کیس سیٹوں کے نیچے اور بچوں کو سیٹوں پر جمانے میں لگے ہوئے تھے۔ اب تو وہ ڈبے کے اندر تھے مگر شور اس طرح مچا رہے تھے، جیسے ابھی بھی ان کی ٹرین چھوٹنے والی ہو۔

ویسے اس ٹرین کی مسافت پشاور سے کراچی تک تھی۔ اور وہ لاہور سے اس میں شامل ہوا تھا۔ اس کا تو دس بارہ گھنٹے کا سفر تھا اور یہ لوگ اتنے سازو سامان کے ساتھ اس کے ہم سفر بننے جا رہے تھے۔

اف خدایا، لوگوں کا سامان دیکھ کر اسے کوفت ہو رہی تھی، اتنا زیادہ جیسے کئی ماہ کے لیے دوسرے کے گھر رہنے جا رہے ہیں، انھیں مہمان تو بالکل نہیں کہنا چائیے، بلکہ کن بچاروں کے گھر دھاوا بولنے جا رہے ہیں یا بول کر آ رہے ہیں۔ سامان میں ناشتہ دان، پاندان، اگالدان اور لوٹے تک نظر آ رہے تھے۔ چاہے ٹرین کی لیٹرین میں انھیں پانی ملے نہ ملے۔ اور یہی ہوا پانی ندارد، بعد میں کسی اسٹیشن پر لوگ سامنے نل نظر آنے پر گزرتے کسی آدمی سے ایک گلاس پانی کھڑکی سے منگوا رہے ہوتے اور ساتھ ہی ان کی آواز بھی ابھر رہی ہوتی۔
" بھیا، ذرا اس میں بھی پانی لا دیجیو۔"
اور بھیا جیسے ہی مڑ کر دیکھتا، اسے گلاس کی جگہ لوٹا نظر آتا، تو اس کا اپنا گراف یکدم نیچے آ جاتا۔ ابھی وہ سوچ میں ہی ہوتا کہ لوٹا پکڑوں یا نہ پکڑوں، اس خاص لانے لیجانے میں میری اپنی گاڑی نہ چمپت ہو جائے۔ اتنے میں پھر آواز آتی۔
" اے بھیا، پانی پلانا تو ثواب کا کام ہے۔ "
اور بھیا کو مروت میں لوٹا پکڑنا ہی پڑتا۔ اور نلکے کی طرف دوڑ لگانا پڑتی۔ جہاں پہلے ہی اور کتنے گلاس، صراحیاں موجود ہوتے، پھر لوٹے کو بھی لائن میں لگنا پڑتا۔

سفرتو فراز کا صادق آباد تک تھا۔ کراچی، پشاور والوں جتنا تو نہ تھا، جو دو تین دن ریلوے والوں کا مہمان بنے رہتے تھے۔ ایسے لمبے سفروں میں زیادہ کراچی کی غرارے پہننے والی عورتیں یا چوڑی دار پاجامے والی عورتیں شامل ہوتی تھیں، جو راستے میں پنجاب سے چڑھنے والی مسافرنیوں کو اردو کی خالص مار دیتی تھیں۔ منہ میں پان کی گلوری دبی ہوتی۔ خود کسی نئی چڑھنے والی سواری کو جگہ بھی نہ دیتیں،
" ہماری سیٹیں ریزرو ہیں۔ "
کہہ کر منہ پھیر لیتیں۔ یا اسی سیٹ پر اور پھیل کر رعب سے بیٹھ جاتیں۔ اور اپنی لڑکی کو مخاطب کرنے لگتیں۔
" اے لونڈیا، کیا بھائی کا کتھئے رنگ کا سوٹ رکھ لیا تھا نا ؟"
" جی اماں "
لڑکی جو رسالے میں غرق تھی مختصرا سا جواب دیتی۔
لیکن انھیں لڑکی کا یہ مختصر جواب تسلی نہ دیتا، وہ پھر پوچھتیں
" اے چھوکری، رسالے میں منہ پھر دیجیئو، یاد کرو ابا کے کرتے اورپان کے پتے رکھ دئیے تھے ؟ "

" جی اماں، کاہے کو فکر کرتی ہو۔ "
وہ پہلے سے ذرا لمبا جواب دیتی۔ لیکن دھیان ہیرو، ہیروئین پر ہی مرکوز رہتا۔

ابھی ادھر سے وہ فارغ نہ ہوتیں کہ ساتھ ہی اپنے آٹھ سالہ لڑکے کی کمر پردھموکا جڑتیں جو ان کے پاندان سے چھیڑ چھاڑ کرتے اسے گرانے لگا تھا۔ ماں سے مار کھا کے وہ اپنا غصہ آرام سے بیٹھی منی کے چٹکی کاٹ کر لیتا، پھر منی کی چیخ و پکار شروع ہو جاتی اور تب ماں کو اگالدان اور جوتی دونوں کی ضرورت محسوس ہوتی۔ اور وہ نیچے جھک کر دائیں بائیں دیکھنے لگتی۔

واہ باہر دیکھنے کی کیا ضرورت، ڈبے میں ہی اتنی رونق لگی ہوئی ہے۔

اچانک ہی تو سفر آن پڑا تھا۔
صادق آباد والی پھوپھو کا فون آیا تھا۔ ان کا لاہور والا پلاٹ بک گیا تھا، اس رقم کی ضرورت انھیں آن پڑی تھی۔ بنک کے ذریعے بھیجنے میں تو کچھ دن لگتے، سو اسے اس رقم کو پہنچانے سلسلے جانا پڑا۔ درحقیقت یہ رقم ہی اس کا زاد راہ تھی۔

آفس سے تین روز کی چھٹی لے کروہ جا رہا تھا۔ ابھی اسی سوچ میں تھا کہ ٹرین میں ناشتہ کھل گیا۔ ایک آدھ فرد نے بچوں کے بار بار تقاضے پر جھجھک کر جو ٹفن کھولا تو باقی ناشتہ دان بھی جلدی جلدی باجماعت کھلنے لگے اور سامان کے پٹارے سے نکلنے لگے، اور ان خاص ناشتہ دانوں سے انواع و اقسام کے کھانے برآمد ہونے لگے۔ ڈبے میں کھانے کی خوشبوئیں پھیلنے لگیں۔ بھنا قیمہ، انڈے کا خاگینہ، کباب، پراٹھے، آملیٹ، حلوہ، سینڈوچ اور جانے کیا کیا۔ تب پتہ چلا مسافروں کا اصل سامان تو یہ ہے۔

فراز کو لگا یہ لوگ سفرپر نہیں ، پکنک سپاٹ پر آئے ہیں۔ اب اک کھانے کا ہنگامہ برپا تھا۔ بچوں کی چیخ و پکار، چھینا جھپٹی اور ساتھ ساتھ ماؤں کی بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ اور کھانے پہ تبصرہ، وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔ اسے بھی دو تین مسافروں سے کھانے کی آفر ہوئی۔ جسے اس نے شکریہ کہتے آرام سے منع کر دیا۔ اور اخبار پڑھنے لگا۔ ابھی ناشتہ کئے زیادہ دیر تو ویسے بھی نہ ہوئی تھی۔

سفر لمبا ضرور تھا مگر اسے بوریت بالکل نہیں ہوئی۔ گاڑی وقت سے ہی منزل مقصود پر پہنچ گئی تھی۔ صادق آباد سٹیشن پراسے وسیم لینے آیا ہوا تھا۔ دن کی روشنی اب مدھم ہوتی جا رہی تھی اور اندھیرا پھیلنا شروع ہو رہا تھا۔ سٹیشن کی حدود سے جیسے ہی نکل کر وہ باہر آئے۔ تو سڑکیں، بازار اسے پررونق اور روشنیوں سے جگمگ کرتے نظر آئے۔

" وسیم یہاں تو لوڈ شیڈنگ کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔" اس نے پوچھ ہی لیا۔

" لوڈ شیڈنگ دو تین گھنٹے کے لیے ہوتی ہے فراز بھائی، پراتنی زیادہ نہیں۔ جتنا بڑے شہروں کے لیے سننے میں آتا ہے۔"

پہلے جب کبھی لاہور جیسے بڑے شہر سے کسی چھوٹے شہر یا دور دراز علاقے میں جانا ہوتا تو فورا اک فرق سا واضح ہو جاتا۔ بلکہ کبھی کبھی تو لاہور جیسے بڑے شہر میں رہنے پر اسے ایک فخراور اطمینان سا بھی محسوس ہوتا۔ اور اس بات پر وہ دل میں ابا، اماں کا شکر گزار بھی تھا۔ کہ جن کی بدولت اس نے اپنے آپ کو لاہور جیسے شہر کا باسی پایا۔ وگرنہ وہ ہوش سنبھالتے اپنے آپ کو چیچو کی ملیاں میں پاتا، تو اس نے کیا کر لینا تھا۔ اور جب کبھی دوردراز ایریاز میں رشتہ داروں کے جانا پڑتا۔ تو اس نے نوٹ کیا کہ ان سب کو ایک خاص وی آئی پی ٹریٹمنٹ ملتی۔ اور یہ بات بھی اس کے لیے تفاخر کا باعث بنتی۔

گھر پہنچ کر اور پھوپھو کی امانت ان کے سپرد کر کے وہ بڑا ریلیکس ہو گیا۔ اللہ کا شکر کہ وہ اک بڑی ذمہ داری پوری کر پایا۔ جلدی میں یہ پروگرام بنا اور اسے اک رسک لے کر اس طرح آنا پڑا۔ ورنہ ملک کے حالات اتنے خیر خواہ تو لگتے نہیں تھے۔ آتے ہی اس نے فون کر کے اماں کواپنے بخریت پہنچنے کی اطلاع دے دی۔

عام حالات میں تو پتہ نہیں وہ اتنی جلدی یہ سفر پلان کر پاتا یا نہیں، دراصل اس کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی تھے۔ بظاہر ایک چھپی خبر اس تک کسی طرح پہنچ گئی تھی۔ گھر والے اس کی شادی کے لیے لڑکی دیکھنے کا سلسلہ شروع کر رہے تھے، جس میں خاندان کی لڑکیوں سے ابتدا کی جا رہی تھی۔ اور پھوپھو کی بیٹی نعیمہ بھی زیر غور تھی۔

نعیمہ اس کی کزن۔۔۔۔ اس کی پھپھو زاد۔۔۔

جس کے بارے اس نے اس نظریے سے کبھی سوچا نہیں تھا۔ بلکہ کسی کے بارے بھی نہیں۔۔۔۔ ابھی زندگی کے اس رخ کی طرف اس کا دھیان تھا ہی نہیں۔ پورا وقت پڑھنے اور اپنا کیریئر بنانے میں متوجہ رہا۔ اور ابھی تو وہ فارغ ہوا تھا۔ اور گھروالے جلدی اسے شادی کی ذمہ داری میں ڈال کر اپنی ذمہ داری پورا کرنا چاہ رہے تھے۔

سو اس نے سوچا اس سے پہلے کہ گھر والے اس پر یہ سنہرا جال پھینکیں۔ وہ خود ہی اس پنچھی کا جائزہ لے لے۔ تا کہ پھر خوشی خوشی اپنی پسند کے پنچھی کے ساتھ اس جال میں رہ لے۔

نعیمہ، آج سفر کے دوران کئی بار چھم سے اس کی آنکھوں میں اتر آئی۔ سو اسے گھر پہنچنے کی جلدی محسوس ہو رہی تھی۔ دل میں خوابیدہ جذبات جو جاگ اٹھے تھے۔ من کی بانسری پر دل خوبصورت گیت الاپنے لگا تھا۔ اوراب ان خوش کن گھڑیوں کا انتظارتھا، جب وہ نعیمہ کو اس زاویے سے دیکھے گا۔ اس کے دل میں پھلجڑیاں سی چھوٹ رہی تھی۔

اونہوں ۔۔۔ اسے پتہ بھی نہیں چلے گا اوروہ دو تین دن اس کی نظروں کے حصار میں رہے گی۔
ویسے ابھی سے اس کے من میں جو جذبات پیدا ہو رہے تھے اس سے لگتا ہے کہ وہ اس کے لاشعور میں پہلے ہی جگہ بنا چکی۔ اب تو بس اسے شعور میں بسانا ہے۔

آج سفر میں بظاہر اک اچھی خاصی بڑی رقم اس کے ساتھ تھی۔ مگر درحقیقت نعیمہ کو دیکھنے کی چاہ اور اسے اپنے لیے ہم سفر چننے کی سوچ اس کا اصل زاد راہ تھی۔



*********

Sabih
24-10-2010, 02:52 PM
بہت عمدہ افسانہ لکھا کائنات سس
پڑھ کر مزہ آیا۔ ۔ ۔ زادراہ کی بھی اچھی وضاحت کی۔ ۔ ۔
لکھتی رہئیے۔

Kainat
24-10-2010, 07:58 PM
شکریہ صبیح بھائی،

جیا آپی
24-10-2010, 08:27 PM
ویری نائس، مجھے اچھا لگا،،کائنات شکریہ اتنا اچھا لکھنے پر۔۔۔

Kainat
24-10-2010, 10:12 PM
ویری نائس، مجھے اچھا لگا،،کائنات شکریہ اتنا اچھا لکھنے پر۔۔۔
بہت شکریہ جیا سس کہ آپ کو اچھا لگا۔

Star
24-10-2010, 10:36 PM
بہت اچھا لگا کائنات سس۔ ایسے ہی لکھتی رہیں۔

Kainat
24-10-2010, 10:50 PM
بہت اچھا لگا کائنات سس۔ ایسے ہی لکھتی رہیں۔

پسندیدگی کے لیے بہت شکریہ سس،

Hina Rizwan
25-10-2010, 10:07 AM
بہت اچھا لکھا ہے کائنات سس
ویل ڈن

Trueman
25-10-2010, 10:17 AM
بہت عمدہ لکھا آپی جی ۔ ۔ بہت خوب ۔ ۔ ۔

Kainat
25-10-2010, 02:03 PM
بہت اچھا لکھا ہے کائنات سس
ویل ڈن

پسندیدگی کے لیے بہت شکریہ حنا سس،

Kainat
25-10-2010, 02:04 PM
بہت عمدہ لکھا آپی جی ۔ ۔ بہت خوب ۔ ۔ ۔


بس افسانہ لکھنے کی اک کوشش تھی توقیر بھائی،:)

Hira Qureshi
26-10-2010, 08:17 PM
بہت اچھا افسانہ ہے کائنات۔ آپ نے ٹرین کا سفر بھی کروادیا۔۔۔ اچھا لگا پڑھ کر۔

Kainat
26-10-2010, 08:42 PM
بہت اچھا افسانہ ہے کائنات۔ آپ نے ٹرین کا سفر بھی کروادیا۔۔۔ اچھا لگا پڑھ کر۔
بہت شکریہ حرا سس،
یہ کوشش پسند کرنے کے لیے،

روشنی
27-10-2010, 10:19 AM
بات سے بات نکالنے کا فن کوئی کائنات سے سیکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویری ویل ریٹن ۔۔۔۔۔

Kainat
27-10-2010, 03:46 PM
بہت شکریہ روشنی جی،

اسی بدولت تو میں نے کوشش کی ورنہ میں اور افسانہ ۔۔۔:)

sami942
27-10-2010, 04:25 PM
انداز بیاں بہت اچھا ہے۔

Kainat
27-10-2010, 04:49 PM
تھینکس سمیع بھائی،یہ تحریر پسند کرنے کے لیے