PDA

View Full Version : اس طرح تو ہوتا ہے



1US-Writers
06-10-2010, 07:12 AM
http://i752.photobucket.com/albums/xx170/rameesa/b.gif

http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-title.jpg

1US-Writers
06-10-2010, 07:19 AM
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-1.jpg
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-2.jpg
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-3.jpg
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-4.jpg
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-5.jpg

1US-Writers
06-10-2010, 07:21 AM
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-6-1.jpg
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-7.jpg
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-8.jpg
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-9.jpg
http://i896.photobucket.com/albums/ac164/hiraqureshi/Is-Tarhan-Tou-Hota-Hai/is-tarhan-tou-hota-hai-10.jpg

Hira Qureshi
26-10-2010, 09:28 PM
اس طرح تو ہوتا ہے

"کیا!!! یہ نہیں ہوسکتا۔ وہ بمع اہل وعیال دو ہفتے پہلے ہی آرہے ہیں؟" مناہل کی سوال نما چیخ، خبر بن کر جنگل کی آگ کی طرح پورے گھر میں پھیل چکی تھی۔ جس نے سنا اس کامنہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
"اللہ رحم کرے۔۔ ۔ اب وہ رنگ میں بھنگ ڈالیں گے۔" احمر نے سرد آہ بھری تھی۔
"اب حقیقتاً پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑے گا کہ کہیں وہ دیکھ لیں اوراعتراضات شروع۔" عنبر نے ساتھ بیٹھی علینہ کی طرف دیکھتے ہوئے پھونک مارتے ہوئےدکھڑا رویا۔
"میرے منہ پرکیوں پھونکیں مار رہی ہو۔" علینہ نے چڑتے ہوئے اسے پرےدھکیلا۔
"کچھ نہیں ہوتا۔ اب وہ زمانے گئے جب ہماری ان کی وجہ سے شامت آیا کرتی تھی۔" علینہ نے ان سب کو منہ لٹکائے دیکھ کر تسلی دی۔
"تم انہیں کان پر سے مکھی کی طرح نہ اڑاؤ۔ جب وہ ہر بات پر اعتراض اور شکایتوں کے بلکہ رائی کے پہاڑ کھڑے کردیں گے تب پتا چلے گا۔" عنبر نے اس کے انداز پر کہاتھا۔
"ایک تو تمہاری ہر بات میں دو تین محاورے ضرور ہوتے ہیں۔ کبھی تو کوئی بات اپنے الفاظ میں کرلیا کرو۔ اور جو ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ اس لیے کوئی اوٹ پٹانگ پلان بناکر دادا کے غصے کو ہوا نہ دو۔" علینہ نے ان سب کو سر جوڑے بیٹھے دیکھ کر کہا تھا۔
"بی بی آپ تومایوں بیٹھی ہوں گی۔ اس محاذ پر اب ہمیں اکیلے ہی لڑنا ہے۔" منصور نے پُرسوچ اندازمیں کہا۔
"آخر کو ہمارے خاندان کی دوسری دوسری شادی ہے اور اسے ہم پہلی کی طرح ان کی دہشت کے نظر نہیں ہونے دیں گے" احمر کو اپنی شادی میں ان کی شرکت اب تک یادتھی۔
"میں اب ان کے لیے دعاگو ہوں۔ تم لوگوں کے ارادے کافی "نیک" لگتے ہیں۔" مناہل نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا تھا۔

٭ - - - ٭ - - - ٭

علینہ اور عدیل کی شادی کا کارڈ ملتے ہی ساجد نے اپنی فیملی کے ساتھ دو ہفتے پہلے ہی آنے کی اطلاع دی تھی۔ یہ سننا تھا اور ہر کوئی گھبرایا ہوا پھر رہا تھا۔ ایک سال پہلے احمر اورعمارہ کی شادی پر بھی وہ کچھ ہفتے پہلے ہی آگئے تھے اور ہر بات پر روٹھ کر بیٹھ جاتے تھے۔ شروع شروع میں سب نے بہت خیال رکھا مگر پھر ان کی اس عادت سے سب ہی چڑگئے تھے لیکن کچھ کہہ نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ دادا کے چھوٹے بھائی کے اکلوتے بیٹےتھے اور بھائی، بھاوج کے انتقال کے بعد انہیں دادا نے ہی پالا تھا اس لیے وہ ہمیشہ سے دادا کے چہیتے رہے تھے۔ شروع سے ہی اتنی اہمیت دی گئی تھی کہ وہ اب ہر بات میں بولنا اپنا فرض بلکہ حق سمجھتے تھے۔ یہاں تک بھی ٹھیک تھا مگر احمر کی شادی کے ہرفنکشن میں انہوں نے کوئی نہ کوئی بدمزگی ضرور کی تھی۔ اسی لیے گھر کا بچہ بچہ ان سےپریشان تھا۔ اس دفعہ دلہا دلہن دونوں خاندان کے ہی تھے، علینہ عدیل کے چچا کی بیٹی تھی۔ اس لیے سسرالیوں کی طرف سے کوئی پریشانی نہیں تھی مگر پھر بھی ساجد اور ان کی بیگم شبانہ کا منہ پھٹ انداز کسی کو بھی کسی کے بھی سامنے شرمندہ کرواسکتا تھا۔

٭ - - - ٭ - - - ٭

"اسٹیشن پر پورے آدھے گھنٹے انتظار کروایا ہے منصور نے۔" گھر آتے ہی سب سے پہلی شکایت منصور کی ہوگئی تھی۔ جو اس گرم دوپہر میں ساجد بھائی اور ان کی فیملی کو اسٹیشن سے لینے گیا تھا۔ اوپر سے ان کا ڈھیر سامان۔ لگتا تھا شبانہ بھابھی نےپورے سال کا سامان ہی پیک کرلیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح ساجد بھائی نے کسی چیز کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ منصور بیچارے کو ہی سب گاڑی میں رکھناپڑا۔
"میں نے کہا بھی تھا کہ تین بجے تک پہنچ جانا۔ بچے اتنا لمبا سفر کرکےآرہے ہیں۔ اب اس گرمی میں اسٹیشن پر کھڑے رہے۔" دادا نے منصور کو خشمگیں نظروں سےگھورا تھا اور منصور نے "بچے" کو۔
"دادا میں تو پونے تین بجے ہی اسٹیشن پر پہنچ چکا تھا یہساجد بھائی ہی دوسری طرف سے باہر نکل چکے تھے۔ انہیں ڈھونڈنے میں تھوڑا ٹائم لگ گیامگر تب بھی ٹرین آئے مشکل سے پندرہ منٹ گزرے ہوں گے۔" منصور اپنی شکایت سن کر تلملاکر رہ گیا۔
"جانے دیں بڑے ابا۔ یہ نہیں سدھر سکتے۔ وہ ہم ہی ہیں جو بڑوں کے پہلےحکم پر دوڑ پڑتے تھے۔" ساجد بھائی نے دادا کو تسلی دیتے ہوئے ہمیشہ کی طرح اپنی تعریف کی تھی۔
"اپنے منہ میاں مٹھو۔ اپنی تعریف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔بلکہ زبردستی کوئی نہ کوئی موقع تلاش کرلیتے ہیں۔" منصور نے کمرے میں آتے ہی بھڑاس نکالی تھی۔
"یار احمر تمہاری شادی والا سین نہ ہو۔ ہر بات پر پھڈا۔ کچھ مجھ غریب پر رحم کرو۔ مجھ میں تم جتنی برداشت نہیں ہے۔" عدیل کو اپنی ہی فکر لگی ہوئی تھی۔
"آپ فضول میں پریشان ہورہے ہیں عدیل بھائی ورنہ علینہ تو کافی پرسکون ہے۔" عنبر نے تپے ہوئے انداز میں کہتے ہوئے اپنی بہن علینہ کو گھوراتھا۔
"تم کہاں سے جلی بھنی آرہی ہو؟" عمارہ بھابی نے عنبر کو غصے میں آتادیکھ کر پوچھا تھا۔
"میں نے سوچا وہ لوگ گرمی میں آئے ہیں تو انہیں کولڈرنکس پیش کی جائیں۔جھٹ پٹ کوک گلاسوں میں نکالی اور لے کر پہنچ گئی۔ اس پر شبانہ بھابی نے فوراً ہی اعتراض کردیا کہ کھانے کا پوچھنے کے بجائے کوک تھمادی۔ ناراض بھی ہوگئیں اور ایک ہی سانس میں پورا گلاس بھی خالی کرگئیں۔ اسے ہی کہتے ہیں ہاتھی کے دانت کھانے کے اوردکھانے کے اور" عنبر بھی وہیں بیٹھ گئی تھی۔
"ہاتھی کے نہیں ہتھنی کے۔" منصور نےتصحیح کرنا ضروری سمجھا۔
"پچھلی دفعہ یاد ہے کتنا واویلا کیا تھا کہ اتنی سردی میں آئے ہیں کسی نے چائے کو پوچھنے کے بجائے زبردستی کھانا ٹھنسوادیا۔ اب کوئی پوچھے کہ کھانا سامنے رکھا تھا ٹھونسا تو آپ نے اپنی مرضی سے ہے۔ اور پھر کھانے کے بعد چائےبھی بنی تھی مگر ساجد بھائی اسی بات پر ناراض رہے کے وہ کھانے کے بعد چائے نہیں پی سکتے ان سے پہلے پوچھنا چاہیے تھا۔" مناہل نے احمر کی شادی کی بات یاد دلا دی تو وہسب ہی شروع ہوگئے۔
"بری بات ہے۔اگر کسی بڑے نے تم لوگوں کی یہ باتیں سن لیں نا تو طوفان ہی آجائے گا۔ کوئی ہتھنی کہہ رہا ہے تو کوئی کھانا ٹھنسوارہا ہے۔" عمارہ نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے ان لوگوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
"ارے ہاں، احمر تمہیں یاد ہے شادی والے دن ساجد بھائی اوران کی فیملی اسٹیج پر جم ہی گئی تھی۔ انہوں نے پورے آدھے گھنٹے مووی بنوائی تھی اورمستقل تمہیں ہدایتیں بھی دیے جارہے تھے کے دولہا ادھر ادھر دیکھتا اچھا نہیں لگتا۔شریفوں کی طرح بیٹھو۔" عدیل کی پریشانی سب سے سواتھی۔
"ہاں جس پر میں نے کہا تھا کہ آپ گھونگھٹ کا بندوبست کردیں میں وہ نکال کر بیٹھ جاتا ہوں۔" احمراپنی بات یاد کرکے خود ہی محظوظ ہوا تھا۔
"یار اب ہمارے ساتھ بھی ویسا ہی نہ ہو۔انہیں اسٹیج سے دور ہی رکھنا تو بہتر ہے۔ ایک دفعہ بیٹھ گئے تو آسانی سے نہیں اٹھنےوالے۔" عدیل نے پریشانی سے کہا۔
"اور وہ شبانہ بھابھی نے مہندی کے فنکشن میں میری دوستوں کے سامنے مجھے کہا تھا کہ تم ہلکی آواز میں گانے گانا تمہاری آواز اچھی نہیں ہے اورپھر پورے فنکشن میں اپنی آواز کا "جادو" بلکہ باجا بجایا تھا۔ میری اچھی خاصی آوازکی برائی کرکے خود کو ملکہ ترنم سمجھ رہی تھیں۔" مناہل کو اس دن کی شرمندگی اب تک یاد تھی۔
"وہ نہیں یاد؟ عمارہ بھابی کی کزنز کے سامنے ہی میرے سوٹ کو کہہ دیا کہ 'پرانے اسٹائل کا ہے۔ ۔ ۔ انہوں نے تو اپنا آرڈر پر بنوایا ہے مگر ہر کوئی افورڈنہیں کرسکتا' میرے اتنے مہنگے سوٹ کی شان میں اتنی بڑی گستاخی۔ ۔ ۔ اور میں لحاظ میں چپ رہ گئی تھی۔" عنبر کو ایک اور بات یاد آگئی تھی۔
"اگرمیں نہ ہوتا تو اس قوم کا کیا ہوتا۔" منصور نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے ان سب کودیکھا تھا۔
"تم نے ہوتے ہوئے کونسے تیر مار لیے ہیں۔ بلکہ سب سے پہلے شکار تو تمہی ہوئے ہو۔ آتے ہی سب سے پہلے تمہاری شکایت ہوگئی۔" عنبر نے اس کا صاف مزاق اڑایاتھا۔


"اب دیکھنا میںکیسے تیر مارتا ہوں۔ ساجد بھائی نادانستگی میں بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈال بیٹھےہیں۔" منصور کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر سب کا دل دھک سے رہ گیا تھا کیونکہ وہ کم ہیکوئی ماسٹر پلان بناتا تھا مگر جب بھی بناتا تھا دوسرے کی درگت دیدنی ہوتی تھی۔
"ہمتمہارے ساتھ ہیں میرے بھائی۔" عدیل کے سر سے سارا بوجھ ہی اتر گیا تھا اس نے پرجوشانداز میں منصور کو تھپکی دی تھی۔

٭ - - - ٭ - - - ٭

"امی اور دادی ذرا ایک سیکنڈ سکون سےبیٹھ کر میری بات سن لیں۔" کمرے میں علینہ کا سامان پھیلائے بیٹھی اپنی امی اوردادی کو منصور بڑی مشکلوں سے اپنی طرف متوجہ کرپایاتھا۔
"کیا بات ہے جلدی کہو ابھی مجھے بہت کام کرنے ہیں۔" دادی نے تنگ آکرہاتھ میں پکڑا سامان اپنی بہو کو پکڑایا اور اس کی طرف دیکھا۔
"دادی وہ ساجد بھائی کہہ رہے تھے کہ انہیں دلی صدمہ پہنچا ہے کہ اب بزرگوں نے سر پر ہاتھرکھ کر دعائیں دینا چھوڑ دیا ہے۔ ورنہ پہلے سب بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیںدیا کرتے تھے۔ بہت افسوس کررہے تھے کہ بچے تو بچے بزرگ بھی پرانی قدریں بھلاتےجارہے ہیں۔" منصور نے اپنے لہجے میں دکھ سموتے ہوئے بتایا اور دادی کسی سوچ میں گمہوگئیں۔
"کہتا تو ٹھیک ہے۔ مگر اس میں بزرگوں کی کوتاہی نہیں ہے۔ یہ نئی نسل ہیہے جو سر پر ہاتھ رکھنے سے بھی بدکتی ہے کہ جیل لگا کر کھڑے کیے بال بیٹھ جائیں گے۔" دادی نے منصور کو گھورا کیونکہ ایسے اعتراضات وہی کیا کرتا تھا۔
"یہی تو میں کہہ رہا ہوں دادی کے اگر ہم غلطی پر ہوتے ہیں تو آپ لوگ کیوں ہماری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ آپ لوگوں کو پرانی اور خاندانی قدروں کو مضبوطی سے تھام کر رکھناچاہیے۔ اسی لیے میں نے سوچا ہے کہ آج سے صبح شام ہم سب بڑوں سے سر پر ہاتھ رکھواکردعائیں لیا کریں گے۔ پورا خاندان جمع ہے سب کو پتا چلنا چاہیے کے آپ اور دادا نےاپنے بچوں کی کیسی تربیت کی ہے۔ بس آپ سب بڑوں کو کہہ دیں کہ بچوں کو سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دینی ہے۔ خاص کر ساجد بھائی کو۔ انہوں نے تو یہ بات دل پر ہی لے لی ہے۔" منصور نے سعادت مندی کی انتہا کردی تھی۔ ورنہ اپنے اتنی محنت سے سیٹ کیے گئے بالوں پر دادا کا وزنی ہاتھ رکھنا، اسے سوچ کر ہی جھرجھری آگئی تھی۔ لیکن یہ کڑوا گھونٹ تو پینا ہی تھا۔ مگر اس کی امی منصور کو ہی گھور رہی تھیں۔ وہ اپنے بیٹے کو اچھی طرح جانتی تھیں وہ اتنا سیدھا تو نہیں تھا جتنا بن رہا تھا۔ منصور نے گھبرا کر دادیکی طرف دیکھا جو بہت محبت پاش نظروں سے اپنے سعادت مند پوتے کو دیکھ رہی تھیں۔

٭ - - - ٭ - - - ٭

مہندی والے دن صبح سے ہی گہماگہمی تھی۔ ساجد بھائی نے پورے دن باہر کی تیاریوں پر اتنی تنقید کی تھی کہ اب وہ جدھر آتے تھے سب لڑکے ادھر ادھر نکل جاتےتھے۔ دوسری طرف شبانہ بھابھی بھی کچھ کم نہیں تھیں۔ لڑکیوں کی تیاری میں ہر بات پوچھ پوچھ کر انہیں پریشان کردیا تھا ابھی بھی مناہل کے پیچھے لگی ہوئی تھیں کہ وہی لپ اسٹک استعمال کریں گی جو اس نے کی ہے مگر وہ مناہل ہی کیا جو کسی کو اپنا "اسٹائل" کاپی کرنے دے۔
"تم پر یہ رنگ زیادہ سوٹ نہیں کررہا تم میری براؤن شیڈوالی یوز کرلو نا" شبانہ بھابھی نے ایک اور حربہ آزمایا۔
"ابھی عمارہ بھابھی تو تعریف کرکے گئی ہیں اور میں ان پنک کپڑوں کے ساتھ براؤن لپ اسٹک لگاؤں؟" مناہل نے ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی دوسری پنک آئی شیڈز پر اور تیسری شبانہ بھابھی کے ہاتھ میں پکڑی ڈارک براؤن لپ اسٹک پر۔
"ہاں تو کیاہوا۔ اچھی لگے گی۔ ذرا دکھانا یہ پنک والی۔ اور تم نے مسکارا کون سا یوز کیا ہے۔ یانقلی پلکیں لگائی ہیں؟ آج کل تو بھئی لڑکیاں گھر میں ہی لگا لیتی ہیں میری تو شکرویسے ہی اتنی گھنیری ہیں کہ ضرورت ہی نہیں ہے۔" شبانہ بھابھی نے اس کے ہاتھ سے لپاسٹک لینے کی کوشش کی جو شاید مناہل نے نہ دینے کی قسم کھا رکھی تھی اور ساتھ ہی اپنی تعریف کرنا نہیں بھولی تھیں۔
"جی واقعی آپ کی پلکیں بہت "گھنیری" ہیں مگر آپ کوشش کیجیے گا کہ آنکھیں کم جھپکیں ورنہ یہ اپنی جگہ سے ہل بھی جاتی ہیں۔" مناہل نےانہیں تھوڑی دیر پہلے بیوٹیشن سے پلکیں لگواتے دیکھا تھا۔ اپنی چیزیں سمیٹتے ہوئےمناہل نے عنبر کو اشارہ کیا جس نے بامشکل اپنی ہنسی روکی تھی۔
"بھابھی بیوٹیشن سے گلیو لے لیجیے گا اگر ہل ول جائیں تو میں دوبارہ چپکادوں گی۔" عنبر نے ان کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھے تو مناہل کا ہاتھ پکڑ کر باہرنکلنے میں ہی عافیت جانی تھی۔
"یار آج اگر انہوں نے میری آواز کو کچھ کہا نا تو میں انکا نکلی پلکوں والا پول سب کے سامنے کھول دوں گی۔" مناہل نے تپے ہوئے انداز میںکہا۔
"انہیں کیا فرق پڑے گا۔ تم رہنے دو بس منصور سے کہہ دو وہ دیکھ لے گا۔دیکھا نہیں عدیل بھائی سب اس پر ڈال کر کتنے پرسکون ہوگئے ہیں۔" عنبر کی بات ابھی بیچ میں ہی تھی کہ منصور بھی وہیں آگیا تھا۔
"کسی نے میرا نام لیا؟" اس نے ان دونوںکو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
"ہاں شیطان کا نام لیا اور وہ حاضر۔" عنبر جو ابھی تھوڑیدیر پہلے اس کی تعریف کررہی تھی اب چڑانے سے باز نہیں آئی۔
"لگتا ہے تم باقی سب کی طرح پرسکون نہیں رہنا چاہتیں۔ اب میرے پاس اپنا کوئی مسئلہ لے کر متآنا۔ اور مناہل میری اچھی بہن تمہیں پریشان ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ آج شبانہ بھابھی گانے ہی نہیں گائیں گی۔ تم سکون سے انجوائے کرنا۔" منصور نے اپنی بہن کوبالکل ایسے تسلی دی جیسے پتا نہیں کتنا گھمبیر مسئلہ ہو۔
"بھائی یہ اپنے سارے مسئلے آپ کے پاس نہ بھی لائے تو بڑوں نے یہ سب سےبڑا مسئلہ آپ کے سر ہی ڈال دیا ہے اس لیے اگر آپ کو پرسکون رہنا ہے تو اسے پرسکونرکھنے کی پوری کوشش کریئے گا ورنہ یہ آپ کو بھی پرسکون نہیں رہنے دے گی۔" مناہل نےعنبر کی گھوری کی پروا کیے بغیر کہا تھا اور آگے بڑھ گئی۔
"مجھے اپنے مسئلے خود سلجھانے آتے ہیں آپ کی ضرورت نہیں ہے۔" عنبر نےمنصور کو مسکراتے دیکھا تو خود بھی مناہل کے پیچھے باہر نکل گئی۔

٭ - - - ٭ - - - ٭

"مہندی کا فنکشن گھر کے لان میں تھا۔ سارا لان پورے دن کی محنت کے بعدجگ مگ کررہا تھا۔ سب مہمان باتوں میں مصروف تھے۔ پھولوں سے سجے جھولے پر عدیل اورعلینہ کو بٹھا کر رسمیں کی جارہی تھیں۔ لیکن عدیل کی نظریں مستقل ساجد بھائی پرتھیں اور کان تھے کہ ان کی گوہر افشانیوں کی تاب نہیں لاپارہےتھے۔
منصور یار ان کا کچھ کرو بعد میں ہمارا ہی مزاق اڑے گا۔ مستقل پتا نہیں کیا کیا بتائے جارہے ہیں۔ یہ بچپن کے قصے سنانے کا کونسا وقت ہے۔" عدیل پتا نہیں کبسے بھرا بیٹھا تھا۔ اس کے توجہ دلانے پر منصور نے اسے تسلی دی اور ساجد کی طرف بڑھگیا۔
"ساجد بھائی ادھر آئیے گا ذرا۔" ساجد کو اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا دیکھ کر منصور نے ایک طرف بلالیا تھا۔
"کیا آفت ہے جو اس طرح بلارہے ہو؟ تمیز نہیں ہے کہ بڑےبات کررہے ہوں تو بیچ میں ان کی بات نہیں کاٹتے۔" انہوں نے اسے گھورتے ہوئے کہاتھا۔
"ساجد بھائی بات ہی ایسی ہے۔ دیکھیں مجھے اندازہ ہے یہ آپ کے لیے کافیحساس موضوع ہے مگر آپ کی عزت ہماری عزت ہے۔ اب اگر کوئی آپ کی مزاق اڑائے تو ہمارےدل پر تو چھریاں چلیں گی ہی۔" منصور نے ان کے تیز لہجے کو برداشت کرتے ہوئے بھرپورایکٹنگ کی تھی۔
"کیا اول فول بک رہے ہو؟ کیا بات ہے کھل کر کہو۔" ساجد میں برداشت کی ہمیشہ سے کمی تھی۔ اب بھی فوراً بھڑک اٹھے تھے۔
"بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو اندازہہوگیا ہے کہ آپ نے وگ پہنی ہوئی ہے۔ اس لیے آپ اسٹیج سے دور ہی رہیے گا۔ یہ موویوالے بہت تیز ہوتے ہیں۔ ذرا جو انہیں اندازہ ہوگیا آپ گنجے ہیں تو بار بار آپ کےبالوں پر فوکس کریں گے۔" منصور نے رازدارانہ اندازاپنایا۔
"کیا فضول باتیں ہیں! میں کوئی وگ نہیں پہنتا۔ خبردار جو تم نے کسی سےیہ بکواس کی۔" منصور نے ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تو وہ تلملا ہی گئے۔
"نیکی کا زمانہ ہی نہیں ہے۔ ٹھیک ہے بھائی جیسے آپ کی مرضی میں نے تو بھائی سمجھ کر کہہ دیا تھا۔" منصور نے انہیں ترحم بھری نظروں سے دیکھا تھا۔ اس کی بات اگنور کرتے ہوئے وہ بڑےابا کی طرف بڑھ گئے تھے۔
"ساجد بیٹا تم ادھر کھڑے ہو وہاں کھانا لگ چکا ہے کچھ لونا۔" دادا ابا نے پیار سے کہتے ہوئے ان کے سر پر ہاتھ رکھا تھا مگر اب ان کی برداشت کی حد ختم ہوچکی تھی۔
"میں کھا چکا ہوں بڑے ابا شکریہ۔" بے مروت لہجے میں کہتےہوئے وہ کونے والی میز کے قریب پڑی کرسیوں میں سے ایک پر جاکر بیٹھ گئے تھے۔ داداکو پہلی دفعہ ان کا انداز برا لگا تھا۔
"یہ بچے اتنا بھی غلط نہیں کہتے۔ ساجدکا مزاج کچھ زیادہ ہی تیز ہے۔" ان کی بڑبڑاہٹ پاس کھڑے احمر نے سن لی تھی اور منصورکو اس کے پلان کی کامیابی کی خوشخبری دینے کے لیے اس کی تلاش میں نظریں دوڑانےلگا۔
"آخر مسئلہ کیا ہے؟ سب نے میری چڑ بنالی ہے۔ جسے سلام کرو یا بات ہیکرو فوراً پاس بلاکر میرے بال خراب کردیتے ہیں۔ یہ سر پر ہاتھ رکھنے کی کیا تک بنتی ہے۔" اب ساجد کی برداشت کی حد ہوچکی تھی۔ شام سے کوئی بچاسویں دفعہ اس کے سلام کرنےپر بڑوں نے سر پر ہاتھ رکھ کر دعائیں دی تھیں اور ساجد کی جان پر بن آئی تھی۔ اگرجو وگ اپنی جگہ سے لڑھک جاتی تو جو ان کا حشر ہوتا یہ وہ اچھی طرح جانتے تھے۔بڑبڑاتے ہوئے ساتھ بیٹھی شبانہ کی طرف دیکھا جو اپنے ہی خیالوں میں گمتھیں۔
"تمہیں کیا ہوا ہے؟ ویسے تو پورے دن اپنی سریلی آواز میں گنگنا گنگناکر میرے سر میں درد کر دیتی ہو۔ اب لڑکیاں بیٹھی گانے گارہی ہیں تو تم ادھر آکرکیوں بیٹھ گئیں؟" انہوں نے حیرت سے اپنی بیگم کی طرف دیکھاتھا۔
"ارے میں ان کی طرح بے وقوف تھوڑی ہوں جو آج ہی گا کر اپنی آواز خرابکرلوں۔ کل کے فنکشن میں ابرار الحق انوائٹڈ ہیں اور ان کو اپنے ساتھ گانے کے لیےکسی سریلی آواز والی لڑکی کی ضرورت ہے۔ میں تو کل ہی گاؤں گی اور یہ سب جیلس ہوںگی۔" وہ آج ہی کل کے خیالوں میں گم تھیں۔
"تمہیں یہ کس نے بتادیا؟" ساجد بھائینے بامشکل ان کی بات پر یقین کیا تھا۔
"منصور نے اور کس نے۔ بڑا اچھا لڑکا ہےبھئی۔ ان سب میں ایک وہی معقول لگا۔ میں تو اپنی کرن کے لیے سوچ رہی ہوں۔ کتنا جچےگا اس کے ساتھ۔ آپ بات کریں نا بڑے ابا سے۔" شبانہ نے سامنے کھڑے منصور کو دیکھتےہوئے کہا اور ان کے قریب، اپنی دوستوں کو کھانے کا پوچھتی عنبر کے تو پتنگے لگ گئےتھے۔ وہ تیر کی طرح منصور کے پاس پہنچی تھی۔
"منصور یہ شبانہ بھابھی کے زیادہ آگے پیچھے پھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اصل مسئلہ ساجد بھائی ہیںشبانہ بھابھی سے ہم خود نمٹ سکتے ہیں۔ ان سے دور ہی رہو تو بہتر ہے۔ اور کل ان کی بہن بھی آئے گی خبردار جو مسکرا مسکرا کر ان سے باتیں کیں" اس نے اپنا غصہ کنٹرولکرتے ہوئے کہا تھا۔
"تمہیں کیا فرق پڑ رہا ہے میرے مسکرانے سے۔ ویسے بھی میرے مسکرانے پرلوگ پٹ پٹ گرتے ہیں۔" منصور نے فرضی کالر اکڑائے۔
"تمہیں مسکراتے ہوئے دیکھتے ہیں تومچھر دہشت سے پٹ پٹ گرتے ہیں کیونکہ بہرحال انسان پٹ پٹ نہیں گرا کرتے دھڑ دھڑ گرتےہیں۔ اور وہ شبانہ بھابھی کی کرن گرے گی اگر میں نے اسے زیادہ فری ہوتے دیکھ لیاتو۔" عنبر نے اسے اپنی بات مزاق میں ٹالتے ہوئے دیکھا تو اور غصہ آگیا۔
"آخر ہوا کیا ہے جو تم اس کی جان کو آگئی ہو؟" منصور نے اس کے غصے سےلال ہوتے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔
"ہونا کیا ہے شبانہ بھابھی کو آپ اپنی لاڈلی بہن کے لیےبہت پسند آگئے ہیں۔ اور آگے پیچھے پھریں۔ شبانہ بھابھی کھانا لیں نا۔ شبانہ بھابھیآپ کی آواز بہت اچھی ہے کل ابرا الحق آپ کے ساتھ ہی گانا پسند کرے گا۔ شبانہ بھابھی ساجد بھائی کو وگ کا خیال رکھنے کو کہیں ورنہ آپ کا ہی مزاق اڑے گا، کہاں آپ اتنی نفیس "لڑکی" کہاں وگ پہنے ساجد بھائی۔" عنبر نے اس کے انداز کی نقل اتاری تھی اورمنصور کا قہقہہ چھوٹ گیا تھا۔
"اب خود ہی غورکرلو ان میں سے کون سی ایسی بات ہے جس سے لگے میں ان کی لاڈلی کی وجہ سے دیوانہ ہواجارہا ہوں۔ ہر بات اپنے پلان کو کامیاب کرنے کے لیے کہی ہے۔ اور تم زیادہ نہ تپومیں انہیں بتادوں گا کہ مجھے زبردستی تمہارا منگیتر ہونے کی ذمہ داری دی جاچکی ہے۔" منصور نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا اور عنبر پاؤں پٹختی وہاں سے چلی گئی تھی۔

٭ - - - ٭ - - - ٭

حیرت انگیز طور ہر شادی کا فنکشن مہندی سے بھی زیادہ پرسکون رہا تھا۔میرج ہال میں ہر طرف گہماگہمی تھی۔ چھوارے بانٹتے منصور اور احمر کے چہروں پر سجی مسکراہٹ ان کے پلان کے ہٹ ہوجانے کی گواہی دے رہی تھی۔ اسٹیج پر بیٹھے عدیل نے بھی سکون کا سانس لیا کہ اس کی شادی میں احمر جیسی بدمزگی نہیں ہوئی۔ نہ ہی ساجد بھائینے زیادہ نکتہ چینی کی۔ وہ اور ان کی بیگم ایک طرف بیٹھے سب ہوتا دیکھتے رہے۔ دادانے بھی اس دن والی بات کے بعد انہیں زیادہ لفٹ نہیں کروائی تھی۔ ایک طرف ساجد بھائی اپنی وگ اور مووی میکر سے پریشان تھے جو مستقل انہیں دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا (منصور کی ہدایت جو تھی) اور ہر تھوڑی دیر بعد کوئی بچہ آکر ان سے کہہ جاتا تھا "انکل آپ کے بال اچھے لگ رہے ہیں۔" اور ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ اسے ایک زور دارتھپڑ رسید کردیں۔
دوسری طرف شبانہ بھابھی کو رہ رہ کر منصور کے جھوٹ پر غصہ آرہا تھا کہابرار الحق مدعو ہے۔ مہندی کے دوسرے فنکشن میں وہ کتنا دل لگا کر تیار ہوئی تھیں مگر فنکشن ختم بھی ہوگیا اور ابرار الحق کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ ان کےپوچھنے پر منصور نے حیرت سے کہا تھا "ارے وہ تو مزاق کررہا تھا۔ ابرار الحق کو ہمبلا بھی لیتے تو وہ کونسا دوڑے چلے آتے۔" اس سے پہلے کے شبانہ بھابھی اس جھوٹ پراسے کچھ کہتیں وہ ایک دفعہ پھر لوگوں کے ہجوم میں گم ہوچکاتھا۔
خالی یہی نہیں وہ عنبر اور منصور کی باقاعدہ انگیجمنٹ پر مزید برا مان گئی تھیں۔ انہی کے کہنے پر ساجد نے بڑے ابا سے بات کی تھی اور انہوں نے عدیل کےولیمے والے دن ہی عنبر اور منصور کی جھٹ پٹ منگنی کروادی۔

٭ - - - ٭ - - - ٭

"مزہ آگیا یار۔" احمر نے منصور کو اندر آتے دیکھ کر کہاتھا۔ آج ولیمے کا فنکشن بھی ہوگیا تھا اور اب وہ سارے کزنز احمر بھائی اور عمارہبھابھی کے کمرے میں بیٹھے تبصرے کررہے تھے۔
"میں نے کہا تھا نا میں نہ ہوتا تو اسقوم کا کیا ہوتا۔" منصور اپنی تعریف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتاتھا۔
"مان گئے آپ کواور خالی ہم ہی کیا بہت سے لوگ مان گئے جدھر جاؤ منصور کی تعریفیں سننے کو مل رہی ہیں خاص کر شبانہ بھابھی۔ کل تک بڑی تعریفیں کررہی تھیں تمہاری تبھی تو اپنی بہن کےلیے کہلوایا تھا۔ اپنی عنبر تو بہت غصے میں تھی" عمارہ بھابھی نے مسکراتے ہوئے کہااور عنبر کی طرف دیکھا تھا جو اب بڑی پرسکون بیٹھی تھی۔
"اس میں غصہ کرنے کی بات سمجھ نہیں آئی۔ جہاں بیر ہو وہاں پتھریاں توآتی ہی ہیں۔ اور بیر بھی مجھ جیسا ہینڈسم۔" منصور نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اتراتےہوئے کہا۔


"جہاں بیری ہووہاں پتھر آتے ہیں۔ یہ ہے اصل محاورہ اور یہ لڑکیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے لڑکوں کے لیے نہیں۔" عنبر جو بہت شرمیلی بنی بیٹھی تھی منصور کی بات پر ایک دفعہ پھر اپنےازلی موڈ میں واپس آچکی تھی۔



"اچھا! آئے تو کوئی پتھر۔ میں پتھر کا جواب اینٹ سے دوںگا۔" منصور نے مصنوعی غصہ دکھایا۔



"اف! پتھر کا جواب اینٹ سے نہیں اینٹ کا جواب پتھر سے دیاجاتا ہے۔" محاوروں کا یہ حشر ہوتے دیکھ کر عنبر کا دل چاہا کہ سر پیٹ دے، اپنا نہیں منصور کا۔



"چلو تم فکر نہ کرو اینٹ پتھروں دونوں سے دے دوں گا۔" منصور نے اسےتسلی دی۔



"میں اپنی بات کب کررہی تھی؟" عنبر نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا تھا اورباقی سب ہنس دیئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اصل مسئلہ تو حل ہوچکا تھا۔ شاید ساجدبھائی اور شبانہ بھابھی جیسے لوگوں کو روکنے کے لیے منصور جیسے شیطانی دماغ کی ہیضرورت ہوتی ہے ورنہ ایسے لوگوں کو جب تک برداشت کرتے رہو وہ دوسروں کے احساسات کاخیال کیے بغیر اپنی اہمیت جتانا نہیں بھولتے۔ منصور نے بہت چالاکی سے ساجد بھائیاور شبانہ بھابھی کو اپنے خاندان کی دوسری شادی میں ٹینشن پھیلانے سے روک دیا تھابلکہ ایک تیر سے دوشکار کیے تھے۔ ایک طرف ان دونوں کو ہر بات میں مداخلت کرنے سےروکا تھا اور دوسری طرف اپنی منگنی بھی کروالی تھی اور اب ان دونوں کی نوک جھونک یونہی چلتی رہنی تھی۔



ختم شد



٭ - - - ٭ - - - ٭

اسماء
27-10-2010, 11:19 PM
واہ حرا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاندار لکھا ہے۔۔۔۔۔۔ بعد میں تفصیلی کمنٹ کرتی ہوں، پڑھ کر۔۔۔;d

jangda
28-10-2010, 11:06 AM
بہت اچھی کہانی ہے

Hina Rizwan
28-10-2010, 11:33 AM
زبردست حرا سس
بہت ہی اچھی ہلکی پھلکی سی سٹوری لکھی ہے آپ نے

Trueman
28-10-2010, 11:43 AM
بہت ہی زبردست تحریر لکھی آپی جی ۔ ۔

سمر
28-10-2010, 12:20 PM
بہت ھی عمدہ تحریر لکھی ھے

Hira Qureshi
28-10-2010, 10:54 PM
واہ حرا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاندار لکھا ہے۔۔۔۔۔۔ بعد میں تفصیلی کمنٹ کرتی ہوں، پڑھ کر۔۔۔;d
یعنی یہ بغیر پڑھے کمنٹ کیا ہے؟ ;d
بہت صاف گو ہیں آپ۔ اچھی بات ہے۔
پسند کرنے کا شکریہ اسماء :)۔


بہت اچھی کہانی ہے
پسند کرنے کا شکریہ۔

Hira Qureshi
28-10-2010, 10:56 PM
زبردست حرا سس
بہت ہی اچھی ہلکی پھلکی سی سٹوری لکھی ہے آپ نے
بہت شکریہ حنا۔ پہلے والی پڑھ کر لوگ افسردہ ہوگئے تھے تو میں نے سوچا موڈ ٹھیک کرنا بھی میرا ہی فرض ہے ;)۔


بہت ہی زبردست تحریر لکھی آپی جی ۔ ۔

شکریہ بھائی۔


بہت ھی عمدہ تحریر لکھی ھے
پسند کرنے کا اور کمنٹ کرنے کا شکریہ بھائی۔